قسط نمبر ۲

دیوانہ کہنے کے اسباب:

سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان اہلِ ہوش، اہلِ بصیرت اور عظیم ہستیو کو دنیا دیوانہ کہنا کیوں شروع کر دیتی ہے۔ اگر کسی بد نیت عیار نے بد نیتی سے یہ تہمت تراش لی ہوتی ہے تو دوسرے اسے کیوں باور کر لیتے ہیں۔ دراصل اس کے متعدد اسباب اور وجوہ ہیں:

1. جو غلط باتیں ان میں رواج پا کر مسلمات کا درجہ اختیار کر لیتی ہیں۔ ان کے خلاف جب کوئی مصلح آواز بلند کرتا ہے تو دنیا کو شبہ ہونے لگتا ہے کہ جس نے ساری دنیا سے الگ راہ اختیار کی ہے۔ ہو نہ ہو یہ فتورِ عقل کا نتیجہ نہ ہو۔

2. فوائدِ عاجلہ اور دنیاوی مفاد پر لات مار کر جو حق کی راہ پر پڑ جاتے ہیں تو دنیا کے نزدیک یہ بھی بے عقلی کی بات ہوتی ہے کیوں کہ دنیا کا دستور یہ ہے کہ دنیا بناؤ خواہ کسی طرح بنے۔

3. حصولِ مقصد کے سلسلہ میں انبیاءِ کرام علیہم السلام میں شدید قسم کا انہماک، مگن اور پیچ و تاب پایا جاتا ہے۔ جب دنیا ان کی اس وارفتگی اور سرمستی کا نظارہ کرتی ہے تو اس کو دھوکا ہونے لگتا ہے کہ شاید (العیاذ باللہ) ان کے ہوش ٹھکانے نہیں رہے۔

4. پاک نفوس، اہلِ دنیا کے کریہہ مشاغل اور آوارہ محفلوں سے بھی الگ تھلگ رہتے ہیں۔ اس لئے دنیا کو شبہ ہونے لگتا ہے کہ جو لوگ متداول قسم کی رنگینیوں سے لطف اندوز ہونے سے کتراتے ہیں، شاید وہ ذوق و شعور سے ہی محروم ہیں۔

5. عوام ہر بات کو آباء و اجداد کے موروثی تعامل کے پیمانوں سے لینے کے عادی ہوتے ہیں۔ جب کوئی مصلح ان سے بالاتر ہو کر انکی بے عقلی کی باتوں اور غلط رسومات پر تبصرے کرتا ہے تو وہ چِلّا اُٹھتے ہیں کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ سارے غلط راہ پر ہوں اور یہ تنہا آدمی ہوش میں ہو۔

6. ویسے بھی وہ طبقہ جو جاہ و حشمت اور مال و دولت کے لحاظ سے قوم میں کمزور ہوتا ہے۔ دنیا اس کو حقارت کی ہی نگاہ سے دیکھتی ہے اور ان کی باتوں کو کوئی اہمیت نہیں دیتی۔ ہاں اگر کوئی دھن دولت والا، بو الفضول بکواس ہی کر رہا ہو تو لوگ واہ واہ ہی کرتے ہیں۔

دل کے اندھے:

گو ان کے سروں میں آنکھوں کے گڑھے موجود تھے لیکن دل کی دنیا اس سے کلیۃً محروم تھی۔ وہ قوم بصیرت کھو چکی تھی، نابینا دلوں کی بہتات تھی۔ عناد، رسومات اور تقلیدِ آباء کے پردے ان کی آنکھوں پر چھا گئے تھے۔

﴿إِنَّهُم كانوا قَومًا عَمينَ ﴿٦٤﴾... سورة الاعراف" بیشک وہ لوگ دل کے اندھے تھے۔

﴿قالَ يـٰقَومِ أَرَ‌ءَيتُم إِن كُنتُ عَلىٰ بَيِّنَةٍ مِن رَ‌بّى وَءاتىٰنى رَ‌حمَةً مِن عِندِهِ فَعُمِّيَت عَلَيكُم أَنُلزِمُكُموها وَأَنتُم لَها كـٰرِ‌هونَ ﴿٢٨﴾... سورة هود

(حضرت) نوحؑ نے کہا کہ اے میری قوم! دیکھو تو سہی۔ اگر میں اپنے پروردگار کے کھلے رستے پر ہوں اور مجھ کو اس نے اپنی جناب سے نعمت (پیغمبری) عطا فرمائی ہے پھر وہ راستہ تم کو دکھائی نہیں دیتا تو کیا ہم اس کو زبردستی تمہارے گلے مڑھ رہے ہیں اور تم (ہو کہ) اس کو ناپسند کیے جاتے ہو۔

پیغمبرِ خدا سے مخول:

﴿كُلَّما مَرَّ‌ عَلَيهِ مَلَأٌ مِن قَومِهِ سَخِر‌وا مِنهُ...﴿٣٨﴾... سورة هود

جب کبھی ان کی قوم کے سر کردہ لوگ ان کے پاس سے گزرتے تو وہ ان کا تمسخر کرتے۔

یہ مکروہ مشغلہ عوام کا نہیں تھا بلکہ منتخب (ملاء) لوگوں کا تھا جس قوم کے منتخب لوگ ایسے ہوئے ان کے عوام کی پستی کا خود اندازہ فرما لیں۔

جس تمسخر اور مخول سے غرض کسی کی تحقیر اور تذلیل ہو۔ وہ ہرحال میں برا ہے۔ خواہ کسے باشد۔ اگر یہ صورت خدا اور اس کے رسول اور اس کی آیات کے سلسلہ میں بھی پیدا ہو جائے تو اس کی سنگینی کا اندازہ خود فرما لیجئے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿وَلَئِن سَأَلتَهُم لَيَقولُنَّ إِنَّما كُنّا نَخوضُ وَنَلعَبُ ۚ قُل أَبِاللَّهِ وَءايـٰتِهِ وَرَ‌سولِهِ كُنتُم تَستَهزِءونَ ٦٥﴾... سورة التوبة

اگر آپ ان سے پوچھیں (کہ یہ کیا حرکت تھی) تو وہ ضرور یہی جواب دیں گے کہ ہم تو یونہی ہنس کھیل کر رہے تھے (اے نبی!) ان سے کہہ دو کہ ہنس کھیل کرنی تھی تو خدا ہی کے ساتھ اور اس کی آیتوں اور اس کے رسول کے ساتھ؟ (اوفو!)

مکر و فریب:

قومِ نوح میں یہ مرض بھی جڑ پکڑ گیا تھا کہ وہ بہت بڑے مکار اور دغا باز تھے اور اس کے اتنے دھنی نکلے کہ خدا اور اس کے رسولوں سے فریب کرتے ہوئے بھی نہیں شرماتے تھے۔

﴿وَمَكَر‌وا مَكرً‌ا كُبّارً‌ا ٢٢﴾... سورة نوح" اور وہ (مکر و دغا کی) بڑی بڑی چالیں چلے۔

مکر و فریب دھوکا اور دغا ہمیشہ ان غلط کار افراد کا شیوہ ہوتا ہے جن کے ترکش حیات میں سچائی، اور خیر کا کوئی قابلِ کشش تیر نہیں ہوتا۔ وہ راست روی کے ذریعے عوام کا دل جیتنے اور حق لے کر برملا چلنے کا حوصلہ نہیں رکھتے۔ بس وہ میدانِ زندگی میں چور بن کر اترتے ہیں اور چوروں کا سا پارٹ ادا کر کے رفو چکر ہو جاتے ہیں۔ ظاہر ہے جس قوم کے ہونہار لوگوں کا یہ وطیرہ ہو گا، وہ ساحلِ عافیت سے کیسے ہمکنار ہو سکے گی؟ ایک اور مقام پر قرآنِ کریم نے اس ذہنیت کے لوگوں کا یوں ذِکر فرمایا ہے:

﴿يُخـٰدِعونَ اللَّهَ وَالَّذينَ ءامَنوا...٩﴾... سورة البقرة" وہ اللہ اور مسلمانوں کو دھوکا دیتے ہیں۔

الغرض جس قوم یا افراد کی فطرت میں یہ مرض نشہ بن کر رگ و پے میں سرایت کر جاتا ہے۔ وہ بد نصیب اس کی کمندیں خدا پر بھی ڈالتے ہوئے نہیں شرماتے۔

کٹ حجتی:

ان مکار اور دغا بازوں کی یہ کوشش بھی رہی کہ گلا پھاڑ پھاڑ، چلا چلا کر اور جھگڑ جھگڑ کر کسی طرح حق اور اہلِ حق کو ہراساں کیا جائے تاکہ وہ ان کے سامنے ہتھیار ڈال دیں۔ حق کی آواز کو دبا دیا جائے اور اوچھے ہتھکنڈوں کے ذریعے حق کی رونق اور بہار کو اس سے چھین لیا جائے۔ فرمایا:

﴿وَجـٰدَلوا بِالبـٰطِلِ لِيُدحِضوا بِهِ الحَقَّ...٥﴾... سورة غافر

اور جھوٹی باتوں سے (سند پکڑ کر پیغمبر سے) جھگڑے تاکہ اپنی کٹ حجتی سے حق کو (اپنی جگہ سے) لڑ کھڑا دیں۔

جھڑکیاں:

اللہ والوں کو جھڑکیاں اور دھمکیاں دینا عام دستور ہے تاکہ وہ حق کی بات کہنے سے باز رہیں۔ چنانچہ قوم نے حضرت نوح علیہ السلام سے بھی یہی معاملہ کیا تھا:

﴿فَكَذَّبوا عَبدَنا وَقالوا مَجنونٌ وَازدُجِرَ‌ ٩﴾... سورة القمر

(انہوں نے نوح کے بارے میں) کہا: (یہ) دیوانہ ہے اور انہوں نے ہمارے بندے کو جھٹلایا اور ان کو جھڑکیاں دی گئیں۔

سنگسار كرنے كی دھمکیاں:

وہ بولے، اے نوح! اگر تم باز نہ آؤ گے، تو سنگسار کر دیئے جاؤ گے۔

﴿قالوا لَئِن لَم تَنتَهِ يـٰنوحُ لَتَكونَنَّ مِنَ المَر‌جومينَ ١١٦﴾... سورة الشعراء

غور فرمائیے! جو خود مجرم ہیں اور کسی بڑی سے بڑی سزا کے لائق ہیں، وہ معصوم اور پاک لوگوں کو سنگسار کرنے کی دھمکیاں دیتے ہیں۔

اذیتیں دیں:

معاملہ صرف دھمکیوں تک محدود نہ رہا بلکہ ان ظالموں نے سچ مچ ان کو سخت اذیتیں بھی دیں۔

﴿وَلَنَصبِرَ‌نَّ عَلىٰ ما ءاذَيتُمونا...﴿١٢﴾... سورة ابراهيم" اور ہم صبر کریں گے ایذاء پر جو تم ہم کو دیتے ہو۔

ايك اور گستاخی:

حضرت نوح علیہ السلام ان کو حق کی تبلیغ کرتے ہیں، لیکن اشقیاء اُٹھتے ہیں اور آپ کا ہاتھ منہ پر رکھ دیتے ہیں تاکہ آواز نکلے ہی نہیں۔

﴿فَرَ‌دّوا أَيدِيَهُم فى أَفو‌ٰهِهِم...٩﴾... سورة ابراهيم" انہوں نے ان کے ہاتھ (پکڑ کر) ان کے منہ پر لوٹا دیئے۔

ارتداد یا جلا طنی:

ان ظالموں نے انبیاء کرام علیہم السلام سے کہا کہ:

''میاں جی! زیادہ بزرگی نہ جتاؤ۔ بس دو باتوں میں سے ایک پسند کر لو۔ ہمارے ساتھ گھل مل جاؤ ورنہ جلا وطنی کے لئے تیار ہو جاؤ۔''

﴿وَقالَ الَّذينَ كَفَر‌وا لِرُ‌سُلِهِم لَنُخرِ‌جَنَّكُم مِن أَر‌ضِنا أَو لَتَعودُنَّ فى مِلَّتِنا...﴿١٣﴾... سورة ابراهيم

اور منکروں نے اپنے پیغمبروں سے کہا کہ ہم تم کو اپنے ملک سے ضرور نکال باہر کریں گے یا تم پھر ہمارے مذہب میں آجاؤ گے۔

اقتدار اور جاہ طلبی کا الزام:

نیک لوگ، نیکی کی راہ اختیار کرنے کا درس دیں تو بد لوگ ان کو یہ طعنے دیتے ہیں کہ، یہ تو اقتدار چاہتے ہیں۔ لیکن ان سے یہ کوئی نہیں پوچھتا کہ بہ فرضِ محال ایسا ہو بھی تو کیا برا ہے۔ کیا آپ نہیں چاہتے کہ اقتدار نیک لوگوں کے ہاتھ میں ہو۔ بہرحال حضرت نوح علیہ السلام کو آپ کی قوم نے یہ طعنے بھی دیئے کہ:

﴿يُر‌يدُ أَن يَتَفَضَّلَ عَلَيكُم﴾ وہ (تو) تم پر برتری چاہتا ہے۔

یہی کچھ آج بھی ہو رہا ہے۔ یہ مرض جس قدر پرانا ہے اتنا عام بھی ہے۔ انا للہ

کمزوروں کی تحقیر:

کمزور قابلِ رحم ہتے ہیں، لائقِ تحقیر نہیں ہوتے مگر قوم نے حضرت نوح علیہ السلام کو اس امر کے طعنے دیئے کہ، آپ کے ساتھ تو معمولی قسم کے لوگ ہیں:

﴿وَما نَر‌ىٰكَ اتَّبَعَكَ إِلَّا الَّذينَ هُم أَر‌اذِلُنا بادِىَ الرَّ‌أىِ وَما نَر‌ىٰ لَكُم عَلَينا مِن فَضلٍ...٢٧﴾... سورة هود

اور ہمارے نزدیک صرف وہی لوگ تمہارے پیچھے چلے ہیں جو ادنیٰ درجے کے ہیں۔ ہم تو تم لوگوں میں اپنے سے کوئی برتری نہیں پاتے۔

﴿قالوا أَنُؤمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الأَر‌ذَلونَ ١١١﴾... سورة الشعراء

انہوں نے کہا کہ کیا ہم آپ پر ایمان لے آئیں حالانکہ صرف ادنیٰ درجے کے لوگوں نے آپ کا اتباع کیا ہے۔

چونکہ پیسے کے اعتبار سے یہ پاک نفوس کمزور تھے۔ اس لئے یہ قوم ان کو ادنیٰ درجے کے لوگ قرار دیتی تھی بلکہ ان کی حقیر کا یہ رنگ اس قدر تیز ہو گیا تھا کہ وہ یہ بھی کہنے لگے کہ اللہ میاں کی نگاہ میں بھی یہ حقیر لوگ ہیں۔ ورنہ ان کو بھوکا ننگا کیوں رکھتا۔ چنانچہ حضرت نوح علیہ السلام کو ان سے یہ کہنا پڑا کہ:

﴿وَلا أَقولُ لِلَّذينَ تَزدَر‌ى أَعيُنُكُم لَن يُؤتِيَهُمُ اللَّهُ خَيرً‌ا...٣١﴾... سورة هود

اور جو لوگ تمہاری نظروں میں حقیر ہیں میں ان کی نسبت یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ خدا ان پر (اپنا) فضل کرے گا ہی نہیں۔

کمزوروں کو دھکے دے کر نکالنا:

وہ چاہتے تھے کہ حضرت نوح علیہ السلام ان کو دھکے دے کر اپنے ہاں سے نکال دے۔ آپ نے فرمایا:

﴿يـٰقَومِ مَن يَنصُرُ‌نى مِنَ اللَّهِ إِن طَرَ‌دتُهُم...٣٠﴾... سورة هود

اے بھائیو! اگر میں ان (غریب اور کمزوروں کو) دھکے دے کر نکال بھی دوں تو اللہ کے مقابلے میں کون میری مدد کرے گا۔

میرے یہ دعوے نہیں:

خود میں بھی خدائی خزانوں کا ملک نہیں، نہ مجھے کل کا کچھ پتہ ہے کہ کیا بنے گا یا کیا ملے گا۔ نہ ہی یہ میرا کوئی دعویٰ ہے کہ میں فرشتہ اور نوری مخلوق ہوں۔ اس لئے ضروریاتِ زندگی کا محتاج نہیں ہوں۔ یا اپنے کو نوری سمجھ کر ان خامیوں سے دور ہوں۔

﴿وَلا أَقولُ لَكُم عِندى خَزائِنُ اللَّهِ وَلا أَعلَمُ الغَيبَ وَلا أَقولُ إِنّى مَلَكٌ...٣١﴾... سورة هود

اور میں تم سے دعویٰ نہیں کرتا کہ میرے پاس خدائی خزانے ہیں اور (نہ میں یہ دعویٰ کرتا ہوں کہ میں غائب جانتا ہوں اور نہ ہی میں (اپنی نسبت) کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں۔

یہ جھگڑالو ہے:

معقول جواب سے عاجز آکر ایسے لوگ عموماً یوں بولا کرتے ہیں کہ:

''یہ ملاں بڑا جھگڑا لو ہے۔'' یا کہیں گے۔ ''میاں! جا جا، جو سانپ نکالنا ہے نکال کر لے آ۔ تیری بزرگی کا ہمیں پتہ ہے۔''

﴿يـٰنوحُ قَد جـٰدَلتَنا فَأَكثَر‌تَ جِد‌ٰلَنا فَأتِنا بِما تَعِدُنا...٣٢﴾... سورة هود

اے نوح! تو ہم سے جھگڑا اور بہت ہی جھگڑ چکا، تو جس (عذاب) سے ہمیں ڈراتا ہے اس کو لے ہی آ۔

حضرت نوح علیہ السلام جب ان سے تنگ آگئے تو ان سے فرمایا:

﴿إِنَّما يَأتيكُم بِهِ اللَّهُ إِن شاءَ وَما أَنتُم بِمُعجِزينَ ٣٣ وَلا يَنفَعُكُم نُصحى إِن أَرَ‌دتُ أَن أَنصَحَ لَكُم إِن كانَ اللَّهُ يُر‌يدُ أَن يُغوِيَكُم...﴿٣٤﴾... سورة هود

خدا کو منظور ہو گا تو وہی عذاب کو بھی تم پر لا نازل کرے گا (پھر) تم (اسکو) ہرا (بھی) نہ سکو گے۔ اور میں تمہاری (کتنی ہی) خیر خواہی کرنی چاہوں، اگر خدا ہی کو تمہاری گمراہی منظور ہے تو میری نصیحت (کچھ بھی) تمہارے کام نہیں آسکتی۔

اس پر خدا نے بھی حضرت نوحؑ سے کہہ دیا کہ:

﴿أَنَّهُ لَن يُؤمِنَ مِن قَومِكَ إِلّا مَن قَد ءامَنَ فَلا تَبتَئِس بِما كانوا يَفعَلونَ ٣٦﴾... سورة هود

تمہاری قوم میں جو ایمان لا چکے ہیں۔ ان کے سوا اب ہرگز کوئی ایمان نہیں لائے گا۔ تو جیسی جیسی بد گرداریاں یہ لوگ کرتے رہے ہیں۔ آپ اس پر غم نہ کریں۔

پھر فرمایا:

﴿وَاصنَعِ الفُلكَ بِأَعيُنِنا وَوَحيِنا وَلا تُخـٰطِبنى فِى الَّذينَ ظَلَموا ۚ إِنَّهُم مُغرَ‌قونَ ٣٧﴾... سورة هود

(اب) آپ ہماری نگرانی میں اور ہمارے ایماء کے مطابق ایک کشتی بنا چلو اور ان ظالموں کے بارے میں ہم سے کچھ عرض معروض نہ کرنا یہ لوگ ضرور غرق ہونگے۔

اس کے بعد طوفانِ نوح کے وہ مراحل پیش آئے، جو کافی معروف و مشہور ہیں۔ بہرحال اس مختصر سے خاکے میں بہت سی باتیں ایسی ہیں جو اس وقت ہمارے اندر بھی ابھر رہی ہیں۔ اگر آپ لوگ ہوش میں نہ آئے اور ان کو کنٹرول نہ کیا تو پھر کون ہے جو اس قوم کو ان نتائجِ بد سے بچا سکے گا جو کارستانیوں کا قدرتی نتیجہ ہیں۔