قربانی کے متعلق علماء کا اختلاف ہے کہ یہ واجب ہے یا سنت؟ لیکن احادیث سے اتنا معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ جب تک مدینہ منورہ رہے قربانی کرتے رہے اور دوسرے مسلمان بھی قربانی کرتے رہے کسی حدیث سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ آپ ﷺ نے قربانی کے لئے وجوبًا حکم دیا ہو۔ چنانچہ عبد اللہ بن عمرؓ سے کسی نے دریافت کیا کہ کیا قربانی واجب ہے؟ آپ نے جواب دیا:

«ضَحّٰي رَسُوْلُ اللهِ ﷺ وَالْمُسْلِمُوْنَ »

کہ نبی کریم ﷺ نے قربانی دی اور مسلمان بھی قربانی دیا کرتے تھے۔

سائل نے جواب ناکافی سمجھ کر (وجوب وغیرہ کا لفظ نہ دیکھ کر) دوبارہ وہی سوال کیا۔ اس پر حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے فرمایا۔ ''تم سمجھتے نہیں؟ میں تم سے کہہ رہا ہوں کہ حضور ﷺ نے بھی قربانی دی اور عام مسلمان بھی قربانی دیا کرتے تھے۔'' مقصد عبد اللہ بن عمرؓ کا یہ تھا کہ کوئی حدیث ایسی نہیں، جس میں حکم دیا ہو۔ صرف آپ ﷺ کا عمل ثابت ہے کہ آپ ﷺ نے ہمیشہ قربانی دی۔ چنانچہ دوسری روایت میں فرماتے ہیں:

«أَقَامَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ بِالْمَدِيْنَةِ عَشْرَ سِنِيْنَ يُضَحِّيْ» (ترمذی)

کہ نبی کریم ﷺ مدینہ میں دس سال رہے اور ہمیشہ قربانی دیتے رہے۔

امام ترمذیؒ ابن عمرؓ کا قولِ اول نقل کر کے فرماتے ہیں:

«وَالْعَمَلُ عَلٰي ھٰذَا عِنْدَ أَھْلِ الْعِلْمِ أَنّ الْأضْحِيَّةَ لَيْسَتْ بِوَاجِبَةٍ وَلٰكِنَّھَا سُنَّةٌ مِّنْ سُنَنِ النَّبِيِّ ﷺ»

کہ اس پر اہل علم کا عمل ہے کہ قربانی واجب تو نہیں لیکن یہ نبی کریم ﷺ کی سنت ہے۔

ابن ماجہ کی ایک حدیث سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ قربانی واجب ہے کیونکہ اس کے الفاظ یہ ہیں:

«يٰاَيُّھَا النَّاسُ إِنَّ عَلٰي كُلِّ أَھْلِ بَيْتٍ فِيْ كُلِّ عَامٍ أُضْحِيَّةً» (لوگو ہر گھر پر ہر سال میں ایک قربانی ہے)

لیکن اس حدیث کے راویوں میں ''امر ابو رملہ'' مجہول راوی ہے اور اگر یہ حدیث صحیح بھی ہو تو اس سے مراد یہ ہو گی کہ ہر گھر کی طرف سے ایک قربانی کافی ہو گی، نہ یہ کہ ہر شخص کی طرف سے ایک قربانی۔ اس کی تائید ابو ایوب انصاریؓ کی روایت سے بھی ہوتی ہے جس میں ہے کہ عطا بن یسار نے حضرت ابو ایوب انصاریؓ سے دریافت کیا کہ آپ کے زمانہ میں قربانی کس طرح دی جاتی تھی؟ انہوں نے کہا کہ ایک شخص اپنی طرف سے اور اپنے گھر والوں کی طرف سے ایک بکری کی قربانی دیتا، وہ خود بھی کھاتے اور دوسروں کو بھی کھلاتے تا آنکہ لوگوں نے اس میں فخر و ریا شروع کر دی یعنی کثرت سے قربانی دینے لگ گئے۔ یہی قول امام احمدؒ، اسحاقؒ اور امام شافعیؒ کا ہے۔

امام شافعیؒ نے اس حدیث «إِذَا دَخَلَتِ الْعَشْرُ فَأَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يُّضَحِّيَ » سے بھی استدلال کیا ہے کہ قربانی واجب نہیں کیونکہ اس میں قربانی کو ارادے پر معلق کیا ہے اور وجوب ارادہ کے منافی ہوتا ہے۔ اسی طرح ابن ماجہ کی دوسری حدیث (جس میں عبد اللہ بن عیاش منکر الحدیث راوی ہے) بھی قابل استدلال نہیں۔ اس کے الفاظ یہ ہیں:

«مَنْ کَانَ لَه سَعَةٌ وَلَمْ يُضِحِّ فَلَا يَقْرَبَنَّ مُصَلّٰنَا»

کہ جس کو گنجائش ہو اور پھر قربانی نہ دے وہ ہمارے عید گاہ میں نہ آئے

عبد اللہ بن عیاش کو ابو داود اور نسائی نے ضعیف قرار دیا ہے۔ غالباً اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ منکر الحدیث اور غلط روایت کرنے والا ہے جیسا کہ علامہ سندھیؒ نے حاشیہ ابن ماجہ میں اور حافظ صاحب نے تقریب التہذیب میں لکھا ہے۔

امام مسلمؒ نے اس سے روایت متابعات اور شواہد میں کی ہے۔ اس لئے اس سے توثیق نہیں ہو سکتی، حافظ صاحبؒ نے فتح الباری میں اس روایت کے متعلق یہ بھی لکھا ہے کہ اکثر ائمہ حدیث کے نزدیک یہ مرفع ثابت نہیں بلکہ موقوف ہے اور صحابہ سے مختلف آثار اس مسئلہ میں مروی ہیں اور ابوبکرؓ، عمرؓ، ابو مسعودؓ اناری اور عبد اللہ بن عباسؓ سے بھی منقول ہے کہ قربانی سنت ہے۔ اس لئے اکثر محدثین کا اس مسئلہ میں یہی فتویٰ ہے کہ قربانی سنتِ مؤکدہ ہے۔ کیونکہ آپ نے ہمیشہ قربانی دی۔

قربانی کی فضیلت:

اس عمل کی محبوبیت اور فضیلت کا ذِکر کرتے وقت آپ نے یہ فرمایا:

«مَا عَمِلَ اٰدَمِيٌّ مِّنْ عَمَلِ يَوْمِ النَّحْرِ أَحَبُّ إِلَي اللهِ مِنْ إِھْرَاقِ الدَّمِ »

قربانی کے دن کوئی عمل، اللہ کے نزدیک خون گرانے سے زیادہ محبوب نہیں۔

اور جیسا کہ عام طور پر زبان زد عام ہے کہ قیامت کے دن پل صراط پر قربانی کے جانور سواری کا کام دیں گے اس لئے قربانی کے جانور خوب موٹے تازے ہونے چاہییں، بالکل غلط ہے۔ اس کا کسی حدیث سے ثبوت نہیں مل سکتا۔ حافظ ابن حجرؒ نے تلخیص میں اس مضمون کی ایک حدیث ذکر کر کے بحوالہ ابن صلاح لکھا ہے کہ یہ حدیث ہمیں تک ہمیں علم ہے ثابت نہیں اور اس کا کوئی اصل نہیں۔

بہترین قربانی:

اس میں شک نہیں کہ موٹی تازی اور عمدہ قربانی کو آپ پسند کرتے جیسا کہ حافظ نے تلخیص میں یہ مرفوع حدیث نقل کی ہے:

«أَحَبُّ الضَّحَا يَا إِلَي اللهِ أَعْلَاھَا وَأَسْمَنُھَا »

خدا کو سب سے زیادہ محبوب قربانی موٹی تازہ اور بلند قامت یا عمدہ قسم کی ہے۔

اور بعض علماء نے تو آیت وَمَنْ يُّعَظِّمْ شَعَآئِرَ اللهِ کی تفسیر میں یہ بھی لکھا ہے کہ ''قربانی موٹی اور عمدہ ہو۔'' امام بخاریؒ نے بھی ''البدن'' کی تفسیر میں ایسا ہی ایک قولِ مجاہد نقل کیا ہے۔ ایک حدیث ترمذی ابو داود میں بھی ہے کہ:

«خَيْرُ الْأضْحِيَّةِ الْكَبْشُ» بہترین قربانی دنبہ ہے۔

یہ حدیث اگرچہ ضعیف ہے لیکن آپ کا عمل یہی رہا جیسا کہ اکثر سنن نے حضرت انسؓ کی یہ حدیث نقل کی ہے کہ:

«ضَحّٰي رَسُوْلُ اللهِ ﷺ بِكَبْشَيْنِ أَقْرَنَيْنِ أَمْلَحَيْنِ ذَبَحَھُمَا بِيَدِه »

«وَسَمّٰي وَكَبَّرَ» آپ ﷺ نے دو دنبوں کی قربانی کی جو دو سینگ والے او چتکبرے تھے۔ دونوں کو اپنے ہاتھ سے ذبح کیا اور بسم اللہ اللہ اکبر پڑھا)

اور حضرت علیؓ سے ترمذی میں یہ روایت بھی ہے کہ آپؓ ہمیشہ و دنبوں کی قربانی کرتے تھے، ایک نبی ﷺ کی طرف سے اور ایک اپنے لئے۔ کسی کے سوال کے جواب میں آپ نے کہا مجھ کو نبی ﷺ نے یہ حکم دیا ہے، میں اس کو کبھی بھی نہیں چھوڑ سکتا۔ اور یہ بھی ثابت ہے کہ ابراہیم علیہ السلام نے جس جانور کی قربانی دی تھی وہ دنبہ ہی تھا۔ اس لئے اکثر علماء نے کہا ہے کہ بہترین قربانی دنبہ ہے۔

قربانی کے جانور:

رسول اللہ ﷺ نے قربانی، عقیقہ ہمیشہ انہی آٹھ قسم کے جانوروں میں سے کیا جن کی تفصیل سورۂ انعام میں موجود ہے۔ حافظ ابن قیمؒ نے زاد المعاد میں حضرت علیؓ کا یہ استنباط پیش کیا ہے جو انہوں نے مندرجہ ذیل آیات سے کیا ہے۔ سورۂ حج میں ایک جگہ فرمایا ہے:

﴿وَلِكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلنا مَنسَكًا لِيَذكُرُ‌وا اسمَ اللَّهِ عَلىٰ ما رَ‌زَقَهُم مِن بَهيمَةِ الأَنعـٰمِ...٣٤﴾... سورة الحج

کہ امت کے لئے ہم نے قربانی قرار دی ہے تاکہ خدا نے جو ان کو مویشی (چار پائے) دے رکھے ہیں، قربانی کرتے وقت ان پر خدا کا نام لیں۔

اس آیت سے یہ صاف معلوم ہوتا ہے کہ قربانی کے جانوروں کے لئے ''بھیمة الانعام'' بولا گیا ہے۔ اسی طرح اس سے پہلے سورۂ حج کے رکوع میں فرمایا:

﴿عَلىٰ ما رَ‌زَقَهُم مِن بَهيمَةِ الأَنعـٰمِ ۖ فَكُلوا مِنها وَأَطعِمُوا البائِسَ الفَقيرَ‌ ٢٨﴾... سورة الحج

کہ خدا کا نام لیں ان چار پاؤں مویشیوں پر جو خدا نے ان کو دے رکھے ہیں۔ لوگو! قربانی کے گوشت سے خود بھی کھاؤ اور مصیبت زدہ محتاجوں کو بھی کھلاؤ۔

اس آیت سے بکمال وضوح یہ ثابت ہوا کہ قربانی کے جانور وہی ہیں جن کے لئے قرآن میں ''بَھِیْمَةُ الانعام'' لفظ بولا جاتا ہے۔

اب قرآن مجید ہی سے اس لفظ کی تشریح تلاش کرتے ہیں تو سورۂ انعام رکوع ۱۷ سے اس کی تشریح یہ معلوم ہوتی ہے۔

﴿وَمِنَ الأَنعـٰمِ حَمولَةً وَفَر‌شًا ۚ كُلوا مِمّا رَ‌زَقَكُمُ اللَّهُ...﴿١٤٢﴾ (وقال) ﴿ثَمـٰنِيَةَ أَزو‌ٰجٍ ۖ مِنَ الضَّأنِ اثنَينِ وَمِنَ المَعزِ اثنَينِ...﴿١٤٣﴾ (وقال)﴿وَمِنَ الإِبِلِ اثنَينِ وَمِنَ البَقَرِ‌ اثنَينِ...﴿١٤٤﴾... سورة الانعام

خدا نے یہ چار پائے نرو مادہ آٹھ قسم کے پیدا کیے ہیں۔ (بعض اونٹ کی طرح) بوجھ اُٹھانے والے اور (بھیڑ بکری کی طرح) زمین سے لگے ہوئے۔ لوگو! خدا نے تمہیں جو روزی دی ہے اس میں سے بے تامل کھاؤ۔ پھر فرمایا خدا نے یہ چار پائے آٹھ قسم کے پیدا کئے ہیں اور بھیڑوں میں سے نر اور مادہ دو(۲) بکریوں میں سے نر اور مادہ، پھر فرمایا دو اونٹوں میں سے نر اور مادہ۔ دو گائے کی قسم میں سے نر مادہ۔

لفظ ''بھیمة الأنعام'' کی اس قرآنی تشریح کے بعد یہ مسئلہ واضح ہو گیا کہ قربانی انہی آٹھ قسم کے جانوروں سے دینی چاہئے۔ حضرت علیؓ کے اس استنباط اور اسی تفسیر کی بنا پر تفسیر کی بنا پر حافظ ابن قیمؒ (زاد المعاد) اور دوسرے محدثین نے یہ لکھا ہے کہ:

''وھي مختصة بالأزواج الثمانية المذکورة في الأنعام''

کہ قربانی وغیرہ انہی آٹھ قسم کے جانوروں کے ساتھ مخصوص ہے۔

اور رسول اللہ ﷺ سے بھی یہی ثابت ہے کہ آپ ﷺ نے اوٹ، گائے، بکری، دنبہ کی قربانی دی ہے۔ گائے کی قربانی اپنے ازواجِ مطہرات کی طرف سے دی تھی اور اونٹ بکری اور دنبہ کی قربانی آپ نے اپنی طرف سے مختلف اوقات میں کی۔ صحابۂ کرامؓ سے بھی انہی جانوروں کی قربانی ثابت ہے۔

قربانی میں شرکت:

متعدد حضرات اگر مشترکہ طور پر قربانی دینا چاہیں تو یہ جائز ہے اور متعدد صحیح احادیث سے ثابت ہے لیکن یہ مسئلہ کسی قدر تشریح طلب ہے۔ گائے اور اونٹ کے متعلق تو صریح احادیث سے ثابت ہے کہ متعدد اشخاص کی طرف سے قربانی دی جا سکتی ہے۔ ایک گائے میں سات شامل ہو سکتے ہیں اور اسی طرح اونٹ میں بھی۔ لیکن بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اونٹ میں دس شامل ہو سکتے ہیں۔

امام ترمذیؒ نے اونٹ کے متعلق دونوں حدیثیں ذکر کی ہیں۔ لیکن سات والی کو ترجیح دی ہے۔ ایک روایت ابن عباسؓ کی ہے جس میں وہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے کہ عید قرباں دورانِ سفر ہی میں آگئی تو ہم گائے میں سات اور اونٹ میں دس آدمی شریک ہو گئے۔ اس کو ترمذی نے حسن غریب یعنی نادر سند کی حدیث کہا ہے۔ دوسری حدیث جابرؓ کی ہے جس میں وہ فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حدیبیہ میں اونٹ اور گائے کی سات آدمیوں کی طرف سے قربانی دی۔ اس حدیث کو امام ترمذیؒ نے حسن اور صحیح کہا یعنی اعلیٰ پائے کی حدیث ہے اس حدیث کی تائید اور بھی بہت سی احادیث سے ہوتی ہے۔ مثلاً مسلم میں ہے:

«اِشْتَرَكْنَا مَعَ النَّبِيِّ ﷺ فِيْ الْحَجِّ وَالعمْرَةِ كُلُّ سَبْعَةٍ مِّنَّا فِيْ بَدَنَةٍ فَقَالَ رَجُلٌ لِّجَابِرٍ أيُشْتَرَكُ فِي الْبَقَرِ مَا يُشْتَرَكُ فِي الْجَزُوْرِ فَقَالَ مَا ھِيَ إِلَّا مِنَ الْبُدْنِ »

کہ حج کے موقع پر ہم نبی ﷺ کے ساتھ تھے اور ہم فی اونٹ سات آدمی شامل ہوئے ایک شخص نے جابرؓ سے دریافت کیا، کیا گائے میں بھی سات آدمی شریک ہو سکتے ہیں؟ تو جابرؓ نے کہا کہ گائے بھی اسی کے حکم میں ہے۔

تو صحیح یہی ہے کہ گائے اور اونٹ میں سات سات آدمی شریک ہو سکتے ہیں اور یہی مسلک جمہور محدثین کا ہے امام ترمذی نے بھی یہی لکھا ہے کہ صحابہ کرامؓ اور تابعینؒ کا بالعموم اور ائمہ دین مثلاً سفیان الثوریؒ، ابن المبارکؒ شافعیؒ، احمدؒ اور اسحاقؒ کا اسی پر عمل رہا اور اسی کی تائید مسلم شریف کی روایات سے ہوتی ہے۔

بکری کی قربانی میں ایک سے زائد شریک ہو سکتے ہیں یا ایک سے زیادہ کی طرف سے بکری کی قربانی دی جا سکتی ہے یا نہیں؟ اس مسئلہ میں حنفیہ اور محدثین کا اختلاف ہے۔ حنفیہ کے نزدیک بکری صرف ایک ہی شخص کی طرف سے قربانی کی جا سکتی ہے جس کے لئے حضرت عائشہؓ کی حدیث بہترین دلیل ہو سکتی ہے۔

اور داؤد میں ہے کہ آپ نے ایک دنبہ ذبح کیا اور لٹاتے ہوئے یہ کہا:۔

«اَللّٰھُمَّ تَقَبَّلْ مِنْ مُّحَمَّدٍ وَّاٰلِ مُّحَمَّدٍ»

یا اللہ تو اس کو محمد ﷺ اور آلِ محمد ﷺ کی طرف سے قبول فرما اور حافظ ذیلعی نے نصب الرایہ میں مستدرک حاکم سے ایک روایت نقل کی ہے کہ:

«كَانَ النَّبِيُّ ﷺ يُضَحِّيْ بِالشَّاةِ الْوَاحِدَةِ عَنْ جَمِيْعِ أَھْلِه »

کہ نبی اکرم ﷺ ایک بکری کی تمام گھر والوں کی طرف سے قربانی کرتے۔

اور دوسری روایت ابن ابی شیبہ سے روایت کی ہے کہ نبی ﷺ نے دو دنبے ذبح کیے:

«فَقَالَ عِنْدَ الْاَوَّلِ عَنْ مُّحَمَّدٍوَّاٰلِ مُّحَمَّدٍ وَّعِنْدَ الثَّانِيْ عَمَّنْ اٰمَنَ بِيْ فَصَدَّقَنِيْ عَنْ أُمَّتِيْ »

پہلے پر آپ ﷺ نے کہا یہ محمد ﷺ اور آلِ محمد ﷺ کی طرف سے ہے دوسرے پر کہا کہ یہ ہر اس شخص کی طرف سے ہے جو مجھ پر ایمان لایا اور میری تصدیق کی میری امت سے۔

مسند امام احمد میں ایک روژت ہے کہ ایک صحابی نے کہا کہ ہم سات آدمیوں کی ایک پارٹی تھی۔ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ ہم سب ایک ایک درہم ملا کر ایک بکری خرید لیں۔ چنانچہ اس طرح ہم نے سات درہم جمع کر کے ایک بکری خرید لی۔ پھر آپ کے فرمانے کے مطابق ایک شخص نے ایک پاؤں اور دوسرے شخص نے دوسرا پاؤں، ایک نے ایک ہاتھ اور دوسرے نے دوسرا ہاتھ، ایک نے ایک سینگ دوسرے نے دوسرا سینگ بکری کا پکڑ لیا اور ساتویں نے ذبح کیا اور ہم سب نے تکبیر پڑھی۔ اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں:

«اَبُو الْاَسَدِ الْاَسْلَمِيِّ عَنْ اَبِيْهِ عَنْ جَدِّه قَالَ كُنْتُ سَابِعَ سَبْعَةٍ مَّعَ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ قَالَ فَأَمَرَنَا نَجْمَعُ لِكُلِّ رَجُلٍ مِّنَّا دِرْھَمًا فَاشْتَرَيْنَا أُضْخِيَّةً بِسَبْعِ الدَّرَاھِم وَأَمَرَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ فَأَخَذَ رَجُلٌ بِرَجُلٍ إِلٰي قَوْلِه وَذَبَحَھَا السَّابِعُ وَكَبَّرْنَا عَلَيْھَا جَمِيْعًا» (مجمع الزوائد جلد ۴ ص ۲۱)

حافظ ابن قیمؒ نے بھی اعلام الموقعین کے آخر میں اس حدیث کو ذکر فرمایا اور لکھا ہے:

حافظ ابن قيمؒ نے بھی اعلام الموقعین کے آخر میں اس حدیث کو ذکر فرمایا اور لکھا ہے:

''نزل ھٰؤلاء النفر منزلة أھل البيت الواحد في أجزاء الشاة عنھم لأنھم كانوا رفقة واحدة''

اس جماعت کو آپ نے ایک گھر والوں کی طرح سمجھ کر فتویٰ دیا کہ ایک بکری ان سب کی طرف سے قربانی ہو سکتی ہے کیونکہ وہ سب رفیق اور ایک ساتھ رہنے والے ہیں۔

اور ایک حدیث ابو ایوب انصاری کی ہے کہ:

«كَانَ الرَّجُلُ يُضَحِّيْ بِالشَّاةِ عَنْهُ وَعَنْ أَھْلِ بَيْتِه »

کہ ایک شخص اپنی طرف سے اور اپنے گھر والوں کی طرف سے بکری قربانی کرتا۔

ان روايات كے ذكر كرنےسے مطلب یہ ہے کہ طحاویؒ نے حنفیت کی حمایت کرتے ہوئے جو یہ فرمایا ہے کہ ''یہ نبی ﷺ کا خاصا تھا یا منسوخ ہو گیا ہے۔'' کسی طرح بھی صحیح نہیں کیونکہ نبی ﷺ کے سوا اور صحابہؓ نے بھی ایسا کیا اور ابو ایوب انصاری کی روایت سے تو معلوم ہوتا ہے کہ دیر تک ایسا ہی ہوتا رہا کہ ایک شخص اپنے گھر والوں کی طرف سے اور اپنی طرف سے ایک قربانی کرتا حَتّٰي تَبَاھَي النَّاسُ پھر ایک یہ وقت آیا کہ لوگوں نے اس میں فخر شروع کر دیا اور جب اور صحابہ سے بھی ثابت ہے اور آپ کے بعد بھی لوگ اس پر عمل کرتے رہے، پھر یہ کہنا کہ یہ خاصہ نبی کریم ﷺ کا ہے یا یہ منسوخ ہو چکا ہے کیونکر صحیح ہو سکتا ہے لیکن طحاویؒ بھی مجبور بلکہ معذور ہیں کیونکہ تقلید کی وجہ سے حمایتِ مذہب کی جو ذمہ داریاں ان پر عائد ہوتی ہیں ان کے ہوتے ہوئے وہ یہی کر سکتے ہیں اور اس قسم کے مریضِ عشق کی تڑپ اور بے قراری کا مظاہرہ ایسا ہی ہو سکتا ہے۔ پس کتنی ہی حدیثیں ہیں جن کو خاصہ نبی کریم کہہ کر ٹال دیا جاتا ہے اور کتنی ہی حدیثیں ہیں جن کو خاصۂ نبی کہہ کر اپنے آپ کو بچا لیا جاتا ہے اور اس سلسلہ میں سب سے زیادہ پُر لطف وہی جگہ ہوتی ہے جہاں حدیث کے متعلق کہا جاتا ہے کہ منسوخ ہے، یہ بے چارگی اور سراسیمگی کا فی الحقیقت نہایت قابلِ رحم منظر ہوتا ہے۔ بہرحال اس مسئلہ میں صحیح اور مطابقِ حدیث نبوی اور تعاملِ صحابہ کے یہی ہے کہ ایک بکری کی قربانی تمام گھر والوں کی طرف سے کافی ہے سو وہ چاہے کتنے ہی ہوں۔

قربانی میت کی طرف سے:

حضرت علیؓ ہمیشہ دو دنبوں کی قربانی کیا کرتے تھے اور ایک سوال کے جواب میں آپ نے فرمایا:

«إِنَّ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ أَوْصَانِيْ أَنْ أُضَحِّيَ عَنهُ َأَنَا أُضَحِّيْ عَنْهُ »

کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے وصیت کی کہ میں آپ کی طرف سے قربانی کیا کروں سو اس کی تعمیل میں قربانی کرتا ہوں۔ (ترمذی، ابو داؤد)

چونکہ اس حدیث میں بعض راویوں پر جرح ہے، اس لئے بعض ائمہ نے اس مسئلہ میں اختلاف کیا ہے۔ جیسا کہ عبد اللہ بن مبارکؒ کا قول امام ترمذیؒ نے نقل کیا ہے کہ ان کے نزدیک قربانی تو میت کی طرف سے جائز نہیں لیکن صدقہ جائز ہے اور اگر قربانی کرے بھی تو خود اس میں سے کچھ نہ کھائے بلکہ سارے کا سارا صدقہ کر دے لیکن کسی حدیث سے ایسا ثابت نہیں۔ ترمذی کی حدیث میں اگرچہ ایک راوی پر جرح ہے۔ لیکن یہ صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ آپ ﷺ ایک قربانی تمام امت کی طرف سے دیتے جیسے کہ ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں، تو امت میں زندہ اور مردہ سب شامل ہیں جو آپ کے سامنے فوت ہو چکے ہیں وہ بھی اور جو ابھی پیدا نہیں ہوئے تھے وہ بھی اس میں شامل ہیں اور یہ حدیث مسلم، دارمی، ابو داؤد، ابن ماجہ، احمد اور حاکم وغیرہم سب نے روایت کی ہے اور متعدد صحابہ سے مروی ہے لیکن یہ کسی روایت سے ثابت نہیں ہوتا کہ جو قربانی آپ امت کی طرف سے دیتے وہ ساری کی ساری صدقہ کر دیتے تھے اور اس میں سے آپ یا آپ کے گھر والے کچھ نہیں کھاتے تھے۔ بلکہ مسندِ امام احمدؒ کے الفاظ تو بہت زیادہ واضح ہیں، اس میں تو یہ ہے:

«فَيُطْعِمُ مِنْھُمَا جَمِيْعًا الْمَسَاكِيْنَ وَيَاْكُلُ ھُوَ وَأَھْلَه مِنْھَا» (عن ابی رافع)

کہ آپ دونوں قربانیوں میں سے مساکین کو بھی کھلاتے اور آپ اور آپ کے گھر والے سب ان دونوں میں سے کھاتے۔

اس لئے صحیح قول یہی ہے کہ میت کی طرف سے قربانی دی جا سکتی ہے اور اس میں سے کچھ صدقہ کرنا اور کچھ کھا لینا جائز ہے۔

قربانی کا بیچنا اور تبادلہ کرنا:

قربانی کے لئے کسی جانور کو معین کرنے کے بعد اس کا فروخت کرنا یا ہبہ کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ نبی ﷺ نے گوشت بنانے والے قصاب کو قربانی کا گوشت اجرت میں دینا منع فرمایا۔ تو جب قربانی کا گوشت اجرت میں دینا منع ہے و اس کا فروخت کرنا بطریق اولیٰ منع ہو گا۔ اور مسند امام احمد میں ہے کہ عبد اللہ بن عمرؓ نے ایک نہایت عمدہ جانور بھیڑ بکری کی قسم سے مکہ مکرمہ قربانی کے لئے بھیجنے کا ارادہ کیا، اس کے بد انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا:

«فَقَالَ إِنِّيْ أَھْدَيْتُ نَجِيْبًا فَأَبِيْعُھَا وَأَشْتَرِيْ بِثَمَنِھَا بَدَنَةً قَالَ لَا انْحَرْھَا »

کہ میں اس کو بیچ کر اس کی قیمت سے اونٹ خرید لوں؟ آپ نے فرمایا نہیں، اسی کو ذبح کرو۔

تو معلوم ہوا کہ قربانی کا جانور ایک دفعہ معین کر لینے کے بعد فروخت کرنا جائز نہیں، اگرچہ اس فروخت کرنے سے اس کا مقصد اس سے بہتر جنس خرید کر قربانی کرنا ہی ہو کیونکہ جس جانور کو ایک دفعہ اللہ کے نام پر خرید لیا یا اللہ کے نام پر ذبح کرنے کا ارادہ کر لیا ہو۔ پھر اس نامزدگی سے اس کو محروم کرنا کسی حالت میں بھی جائز نہیں ہو سکتا۔ اور اس کی تائید میں حضرت عائشہؓ کی حدیث پیش کی جا سکتی ہے جس کو صاحبِ تلخیص نے لکھا ہے کہ حضرت عائشہؓ نے جانورقربانی کے لئے معین کیے لیکن وہ دونوں گم ہو گئے۔

«فَبَعَثَ ابْنُ الزُّبَيْرِ إِلَيْھَا بِھَدْيَيْنِ فنحرتھما ثُمَّ عَادَ الضَّالَّانِ فَنَحَرَتْھُمَا وَقَالَتْ ھٰذِه سُنّةُ الْھَدْيِ »

ابن الزبیر نے دو اور جانور قربانی کے لئے بھیج دیئے۔ حضرت عائشہ نے ان کو ذبح کر لیا تو گم شده مل گئے پھر انهوں نے وه بھي ذبح كر ديئے (اداره) اور فرمایا کہ یہی سنت قربانی کی ہے۔ تو معلوم ہوا کہ جب جانور كو قربانی كے لئے ایک دفعہ متعین کر دیا جائے تو کسی حالت میں بھی نیت زائل نہیں ہو سکتی تو پھر اس کی بیع کیونکر جائز ہو سکتی ہے۔ اسی بنا پر قربانی کے لئے متعین شدہ جانوروں کا تبادلہ بھی جائز نہیں جیسا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

«وَمَنْ عَيَّنَ أُضحِيَّةً فَلَا يَسْتَبْدِلْ بِھَا» جس نے اپنی قربانی کا جانور معین کر لیا پھر اس سے کسی کا تبادلہ نہ کرے۔

یہ روایت اگرچہ ان الفاظ میں بسند صحیح ثابت نہیں لیکن حافظ صاحب تلخیص میں فرماتے ہیں کہ اسی مضمون کی دوسری صحیح روایت ثابت ہے کہ حضرت علیؓ سے قربانی کے جانوروں کے تبادلے کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا:

«أَوَ عَيَّنْتُمُوْھَا لِلْأُضْحِيَّةِ فَقَالَ نَعَمْ فَكَرِھَه »

کیا تم نے اس جانور کو قربانی کے لئے متعین کر دیا ہے سائل نے کہا جی ہاں۔ پس آپ نے اس کو مکروہ سمجھا۔

قربانی کا وقت:

اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ قربانی کا وقت نماز عید کے بعد شروع ہوتا ہے اور اگر کوئی شخص نماز سے پہلے ذبح کر لے تو وہ قربانی شمار نہ ہو گی۔ براء بن عاذب فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:

«مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلٰوةِ فَإِنَّمَا يَذْبَحُ لِنَفْسِه وَمَنْ ذَبَحَ بَعْدَ الصَّلٰوةِ فَقَدْ تَمَّ نُسُكُه وَأَصَابَ سُنَّةَ الْمُسْلِمِيْنَ »

کہ جس نے نماز سے پہلے ذبح کیا اس نے اپنے (کھانے پینے کے) لئے ذبح کیا اور جس نے نماز کے بعد ذبح کیا۔ اس نے اپنی قربانی پورے طور پر ادا کی اور مسلمانو کے طریقے کے مطابق عمل پیرا ہوا۔

لیکن قربانی کے آخری وقت کے متعلق بہت سا اختلاف ہے۔ جمہور کے نزدیک عید کا روز اور تین روز اس کے بعد یعنی چار دن۔ امام مالک اور امام ابو حنیفہ اور امام احمد کے ایک قول میں قربانی کے تین دن ہیں۔ بعض کے نزدیک صرف ایک دن اور بعض کے نزدیک عید کے دن سے آخر مہینہ ذوالحجہ تک۔ ان چاروں اقوال میں سے تیسرا قول تو صریح آیت﴿يَذكُرُ‌وا اسمَ اللَّهِ فى أَيّامٍ مَعلومـٰتٍ عَلىٰ ما رَ‌زَقَهُم مِن بَهيمَةِ الأَنعـٰمِ...﴿٢٨﴾... سورة الحج" کے خلاف ہے اور کوئی آیت اس مضمون کی نہیں ہے کہ صرف عید کا دن قربانی کا دن ہے یا یہ کہ قربانی کا دن ایک ہی ہے چوتھا قول بھی صحیح ہے کیونکہ کوئی مرفوع اور صحیح حدیث نہیں ہے۔ مراسیل ابی داؤد میں ایک مرسل روایت ہے لیکن مرسل روایت محدثین کے نزدیک حجت نہیں ہے۔ بالخصوص ایسی حالت میں کہ مرفوع احادیث کے خلاف ہو۔ حافظ صاحبؒ فتح الباری ابو امامہ کی روایت امام احمد کے واسطے سے ذِکر کرتے ہیں۔

«كَانَ الْمُسْلِمُوْنَ يَشْتَرِيْ أَحَدُھُمُ الْأُضْحِيَّةَ فَيَسْمَنُھَا وَيَذْبَحَھُا فِيْ اٰخِرِ ذِيْ الْحَجَّةِ قَالَ أَحْمَدُ ھٰذَا الْحَدِيْثُ عَجِيْبٌ»

مسلمان قربانی کے جانور خرید لیتے اور اس کو خوب موٹا تازہ کرتے اور ذی الحجہ کے آخر میں اس کو ذبح کرتے۔ امام احمد فرماتے ہیں کہ یہ حدیث عجیب قسم کی ہے۔

بہرحال اس رووایت سے بھی مرسل ابی داؤد کی تائید نہیں ہوتی۔ کیونکہ یہ تو مرسل بھی نہیں ہے بلکہ یحییٰ بن سعید کا قول ہے۔

دوسرا قول صحیح حدیث کے مطابق ہے یعنی عید کے بعد تین دن اور قربانی کی جا سکتی ہے۔ یہی قول جمہور اہلِ علم کا ہے۔ حافظ صاحبؒ فتح الباری میں فرماتے ہیں:

«وَحُجَّةُ الْجُمْھُوْرِ حَدِيْثُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ رَّفَعَه حَجَّاجٌ وَفِيْ كُلِّ أَيَّامِ التَّشْرِيْقِ ذَبْحٌ أَخْرَجَه أَحْمَدُ لٰكِنْ فِيْ سَنَدِه انْقِطَاعٌ وَّ وَصَلَه الدَّارَ قُطْنِيُّ وَرِجَالُه ثِقَاتٌ» (فتح الباری)

جمہور کی دلیل جبیر بن مطعم کی مرفوع حدیث ہے کہ تمام ایام تشریق میں ذبح ہو سکا ہے۔ امام احمد نے اس کو روایت کیا ہے لیکن اس کی سند منقطع ہے۔ دار قطنی نے اس کو متصل بیان کیا ہے اور اس کے راوی سب ثقہ ہیں۔

ایام تشریق کے متعلق کسی کو اختلاف نہیں کہ وہ عید کے دِن تین دن تک ہیں۔ یعنی ۱۳ ذوالحجہ تک دار قطنی نے اس کو دو طریقوں سے متصلاً بیان کیا ہے۔ حافظ ابن حجرؒ نے دار قطنی کے راویوں کو ثقہ کہا ہے۔ اور علامہ ابن قیمؒ نے زاد المعاد میں جبیر بن مطعم کی حدیث کے علاوہ جابر سے بھی یہی حدیث اسامہ بن زیدؓکے واسطے سے نقل کی ہے جو ثقہ اور قابلِ اعتماد راوی ہیں اور اس کے علاوہ صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایامِ تشریق کو ایام ''اکل وشرب'' یعنی کھانے پینے کے دن فرمایا ہے اور اسی لئے ان ایام میں روزہ رکھنا حرام ہے اور جب عید کے بعد تین دن ان سب احکام میں ایک حیثیت رکھتے ہیں، یعنی یہی تین دِن ایامِ منیٰ، ایامِ رمی اور ایامِ تشریق ہیں۔ ان میں روزہ رکھنا حرام ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ ذبح قربانی کے لئے ایک دن (تیرہویں تاریخ) کو مستثنیٰ کر دیا جائے۔

علامہ ابن قیمؒ نے زاد المعاد میں اسی قول کو ترجیح دی ہے اور حضرت علیؓ کا ایک قول نقل کیا ہے:۔

«أَیَّامُ النَّحْرِ یَوْمُ الْأَضْحٰی وَثَلَاثَةُ أَيَّامٍ بَعْدَه» قربانی کے دن عید کے روز سے تین دن بعد تک ہیں۔

اس کے بعد فرماتے ہیں، یہی قول بصرہ کے امام حسنؒ کا اور امامِ اہلِ مکہ عطاء بن ابی رباحؒ اور امام اہلِ شام اوزاعیؒ امام فقہاء اہلِ حدیث شافعیؒ کا ہے۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ کتاب الاختیارات میں فرماتے ہیں:

«وآخر وقت ذبح الأضحية آخر أیام التشریق وھو مذھب شافعي وأحمد القولين في مذھب أحمد »

قربانی کا آخری وقت ایام تشریق کا آخری دن ہے اور یہی مذہب امام شافعی اور ایک روایت کے مطابق امام احمد کا بھی ہے۔

قاضی شوکانیؒ نے نیل الاوطار ص ۳۵۹ جلد ۴ میں اور حافظ ابن کثیر نے تفسیر کی دوسری جلد ص ۵۳ میں اسی مسلک کی تائید کی ہے اور اس کو تمام اقوال میں ارجح بتایا ہے۔ پہلا قول یعنی صرف تین دن قربانی جائز رکھنے والوں کی دلیل مؤطا امام مالکؒ کی روایت عبد اللہ بن عمر سے ہے، فرماتے ہیں:

«الأضحی یومان بعد یوم الأضحیٰ » کہ عید کے دن کے سوا و دن اور قربانی کے ہیں۔

چونکہ یہ مرفوع حدیث نہیں۔ اس لئے پہلی مرفوع اور صحیح حدیثوں کے مقابلے میں اس کو پیش نہیں کیا جا سکتا۔

رات کے وقت ذبح کرنا:

بعض اہل علم نے قرآن کے لفظ ''في أیام معلومات'' (معلوم و معین دنوں میں) سے یہ استدلال کیا ہے کہ رات کے وقت قربانی کرنا جائز نہیں لیکن یہ استدلال صحیح نہیں ہے کیونکہ قرآنِ حکیم نے ''ایام'' کا لفظ دن اور رات دونوں کے لئے آیا ہے جیسا کہ فرمایا،« فَتَمَتَّعُوْا فِيْ دَارِكُمْ ثَلٰثَةَ أَيَّامٍ» اس لئے سوائے امام مالکؒ کے اور اکثر ائمہ دین کے نزدیک رات کے وقت قربانی کرنا جائز ہے۔ ابن عباسؓ کی ایک روایت طبرانی میں ہے کہ رات کے وقت آپ نے ذبح کرنے سے منع فرمایا۔ لیکن یہ حدیث بہت ضعیف ہے۔ حافظ ابن حجرؒ نے تلخیص میں بیہقی کی ایک روایت نقل کی ہے کہ:۔

«نَھٰي عَنْ جُذَاذِ اللَّيْلِ وَحَصَادِ اللَّيْلِ وَالْأَضْحٰي بِاللَّيْلِ »

رات کے وقت کھیت کاٹنے اور کھجور کا درخت کاٹنے اور قربانی کرنے سے منع فرمایا۔

لیکن اس کا کچھ حال معلوم نہیں اور اگر صحیح بھی ہو تو حدیث کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ نہی تحریمی نہیں کیونکہ رات کے وقت کھیت کاٹنے سے اس لئے اغلباً منع کیا ہے کہ کہیں موذی جانور ایذا نہ دے اور کھجور رات کے وقت کاٹنے سے مساکین اور فقراء کے محروم رہ جانے کا خطرہ ہے اور ظاہر ہے کہ یہ اسباب محرمات نہیں ہو سکتے۔ زیادہ سے زیادہ نہی تنزیہی ہو گی۔

اپنے ہاتھ سے ذبح کرنا:

نبی کریم ﷺ مدینہ منورہ میں عام طور پر اپنے دست مبارک سے قربانی کے جانور خود ذبح کرتے اور حجۃ الوداع کے موقعہ پر آپ نے ۶۳ اونٹ خود ذبح کئے اور ۳۷ اونٹ حضرت علیؓ نے ذبح کیے کیونکہ آپ نے ۱۰۰ اونٹ کی قربانی دی تھی، تو معلوم ہوا کہ قربانی دینے والوں کو اپنے ہاتھ سے ذبح کرنا چاہئے اور یہی افضل ہے اور کسی کی طرف سے وکالتاً ذبح کرنا بھی جائز ہے جیسا کہ حضرت علیؓ نے کیا اور رسول اللہ ﷺ نے بھی اپنی عورتوں کی طرف سے گائے کی قربانی جمعۃ الوداع کے موقعہ پر دی تھی۔ اگر کوئی شخص خود اپنے ہاتھ سے ذبح نہیں کر سکتا تو اسے اس وقت حاضر رہنا چاہئے اور یہ مستحب ہے جیسا کہ فتح الباری میں حافظ صاحبؒ نے لکھا ہے اس میں حضرت عائشہ سے بھی ایک روایت ہے کہ آپ اپنی بیویوں کو حکم دیا کرتے تھے کہ وہ اپنی قربانی کے جانوروں کے ذبح کے وقت حاضر رہیں لیکن یہ صحیح نہیں ہے۔ ہاں! ابو موسیٰ اشعریؒ سے امام بخاریؒ نے تعلیقاً ذِکر کیا ہے:

«اَمَرَ أَبُوْ مُوْسٰي بَنَاتِه أَنْ يُضَحِّيْنَ بِأَيْدِيْھِنَّ» (ابو موسیٰ نے اپنی لڑکیوں کو حکم دیا کہ وہ خود اپنے ہاتھ سے ذبح کریں)

مسندِ حاکم کی ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے حضرت فاطمہؓ کو بھی حکم دیا تھا:

«قُوْمِيْ يَا فَاطِمَةُ إِلٰي أُضْحِيَّكِ فَاشْھَدِيْھَا »

اے فاطمۃؓ! اپنی قربانی کی طرف جا کر کھڑی ہو جا اور اس کے پاس حاضر رہو۔

ذیلعی نے تخریجِ ہدایہ میں اس روایت کو تین مسندوں سے ذکر کیا ہے۔ مسندِ بزاز کی حدیث کو سب پر ترجیح دی ہے۔ بہرحال ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ بہتر تو یہ ہے کہ خود اپنے ہاتھ سے ذبح کرے اور اگر دوسرے سے ذبح کرائے تو بہتر اور افضل ہے کہ خود پاس کھڑا ہو۔ ابو موسیٰ کی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ عورتیں بھی ذبح کر سکتی ہیں اور کوئی نص شرعی اس کے خلاف نہیں۔

اگر قربانی کا جانور خریدنے یا متعین کر لینے کے بعد بچہ جنے تو اس کو بھی ذبح کرنا ہو گا۔ تلخیص میں حضرت علیؓ کا ایک واقعہ ذِکر کیا گیا ہے کہ انہوں نے ایک شخص کو دیکھا کہ قربانی کی اونٹنی اور اس کا ایک بچہ لیے جا رہا ہے تو آپ نے فرمایا:

«لَا تَشْرَبْ مِنْ لَّبَنِھَا إِلَّا مَا فَضَل عَنْ وَّلَدِھَا» اس کا دودھ صرف اتنا ہی پی سکتے ہو جس قدر اس بچہ سے بچ جائے۔

اور مسند ابن ابی حاتم ميں یہ لفظ بھی ہیں، «فَإِذَا كَانَ يَوْمُ النَّحَرِ فَانْحَرْھَا ھِيَ وَوَلَدَھَا عَنْ سَبْعَةٍ» (قربانی کے دن اس کو اور اس کے بچہ کو سات آدمیوں کی طرف سے ذبح کرو۔ مگر ذبح کرنے کے بعد مردہ بچہ بر امد ہو، تب تو سوائے امام ابو حنیفہ کے اکثر صحابہ، تابعین اور ائمہ دین کے نزدیک بغیر ذبح کیے ہوئے حلال اور جائز ہے۔ کیونکہ صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ صحابہ نے آپ سے دریافت کیا کہ ہم بعض دفعہ گائے، اونٹنی یا بکری ذبح کرتے ہیں تو اس کے پیٹ سے بچہ نکلتا ہے کیا ہم اسے کھا لیا کریں یا پھینک دیں؟ آپ نے فرمایا:

«كُلُوْهُ اِنْ شِئْتُمْ فَإِنَّ ذَكَاتَه ذَكَاةُ أُمِّه» اگر جی چاہے تو بیشک کھاؤ، اس کی ماں کا ذبح کر لینا اس کے لئے بھی کافی ہے۔

ذیلعی نے تخریجِ ہدایہ جلد ۲ ص ۲۶۵ میں آٹھ دس کے قریب اسی مضمون کی حدیثیں نقل کی ہیں اور ان میں سے اگرچہ بعض پر جرح کی ہے، لیکن بعض صحیح بھی ہیں اور انہوں نے بھی اس مشکل کو محسوس کیا ہے کہ امام ابو حنیفہ کا قول اس مسئلہ میں صحیح احادیث کے خلاف ہے۔ اس لئے تمام احادیث کے آخر میں ابن المنذر کا قول نقل کر دیا ہے۔ کسی صحابی نہ کسی تابعی نہ کسی عالم کا یہ قول ہے کہ ذبح کے بعد پیٹ سے نکلا ہوا بچہ ذبح کیا جائے، سوائے ابو حنیفہؒ کے اور مجھے اُمید نہیں کہ ان کے شاگردوں نے ان سے اتفاق کیا ہو۔