میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

اور سابق وزیر اعلیٰ پنجاب کے خطاب پر ایک نظر

پنجاب کے وزیر اعلیٰ میاں محمد شہباز شریف اپنے غیرمعمولی ترقیاتی کاموں کی بدولت پاکستان کے موجودہ حکمرانوں کی صف میں ممتاز حیثیت اختیار کر گئے ہیں۔ لاہور میں میٹرو بس اور شاہراہوں کی تعمیر، امن وامان کی دیگر صوبوں کے مقابلے میں معیاری صورتحال، ڈینگی وائرس کے خاتمہ کی کامیاب جدوجہد، دانش سکولز،میرٹ سکالر شپس اور طلبہ میں لیپ ٹاپس کی اہلیت کی بنا پر تقسیم اُن کے قابل ذکر کارنامے ہیں۔

6 مارچ 2013ء کا دن اس لحاظ سے اہم تھا کہ اس دن لاہور کے عالی شان 'ایوانِ اقبال' میں پانچوں وفاق ہائے مدارسِ دینیہ سے منسلک دینی مدارس کے طلبہ میں چار ہزار لیپ ٹاپ کمپیوٹر تقسیم کرنے کی تقریب منعقد ہوئی۔ اس موقع پر وفاق المدارس العربیہ(دیوبندی) سے ملحق مدارس میں 1200، تنظیم المدارس اہل سنّت (بریلوی) سے ملحق مدارس میں 1000، جبکہ وفاق المدارس السّلفیہ، وفاق المدارس الشیعہ اور رابطۃ المدارس الاسلامیہ (جماعتِ اسلامی) کے طلبۂ مدارس میں 500، 500 کمپیوٹر لیپ ٹاپ کی تقسیم عمل میں آئی۔ اس مقصد کے لئے وفاقوں سے ملحقہ مدارس کے اُن طلبہ کو اس انعام کے لئے منتخب کیا گیا جنہوں نے وفاق کے آخری امتحان منعقدہ شعبان المعظم1433ھ میں 70 فیصد یا اس سے زائد نمبر حاصل کئے ہیں۔ ان طلبہ میں لیپ ٹاپس کے انتہائی جدید ماڈل تقسیم کئے گئے جو ماضی میں سرکاری یونیورسٹیوں میں دیے جانے والے لیپ ٹاپس سے بہتر مالیت وکارکردگی کے حامل ہیں۔

ایوانِ اقبال میں سجائی گئی اس باوقار تقریب میں پانچوں وفاق ہائے مدارس کے 200، 200 منتخب طلبہ وطالبات کو اس اعزاز سے نوازا گیا۔ تقریب کا انتظام وانصرام اور لیپ ٹاپ کمپیوٹرز کی تقسیم کی نگرانی وزارتِ اوقاف ومذہبی اُمور،صوبہ پنجاب کے ذمّے تھی، جنہوں نے تمام وفاقوں کو مساوی نمائندگی دینے کے علاوہ طالبات کو مکمل با پردہ اور یکسر علیحدہ انتظام کے تحت اس اِعزاز سے نوازا۔ تقریب کا انتظام وانصرام بھی بڑا مثالی تھا۔

یہ تقریب اس لحاظ سے بھی باعث ِخیر وبرکت تھی کہ عین نمازِ مغرب سے 15 منٹ قبل شروع ہونے والی اس تقریب میں تلاوتِ قرآن مجید اور نعتِ رسول مقبولﷺ کے فوراً بعد نمازِ مغرب کے لئے مکمّل وقفہ کردیا گیا اور تمام شرکا کے نماز ادا کرلینے کے بعد تقریب کی باضابطہ کاروائی شروع کی گئی۔ سرکاری تقریبات میں اس طرح نماز کا اہتمام ایک قابل اتباع رویہ ہے جس کا خیر مقدم اور پیروی کی جانی چاہئے۔ نمازِ مغرب کے فوراً بعدکمپیوٹر حاصل کرنے والے ممتاز طلبہ وطالبات کے اعزاز میں پنجاب پولیس کے دستے نے 'گارڈ آف آنر' بھی پیش کیا، اس موقع پر ہر وفاق سے ایک ایک نمائندہ شخصیت نے مختصر وقت میں اپنے اپنے تاثرات پیش کئے اور وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے اِن طلبہ وطالبات کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے اُن سے اپنا حالِ دل بھی بیان گیا۔ اپنی اُمیدیں، تمنائیں اور اپنے وِژن سے حاضرین کو آگاہ کرتے ہوئے جناب خادم اعلیٰ پنجاب نے بہت سی قابل ذکر باتیں کیں۔ یاد رہے کہ اس سے دو روز قبل لیپ ٹاپ تقسیم کرنے کی ایک تقریب ملتان کی بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی کے سیمینار ہال میں بھی منعقد ہوچکی تھی جس میں وزیر اعلیٰ کے معتمد ِخاص جناب ذو الفقار کھوسہ نے جنوبی پنجاب کے طلبۂ مدارس میں لیپ ٹاپ کمپیوٹر تقسیم کئے تھے۔

دینی مدارس میں لیپ ٹاپس کی یہ تقسیم اس لحاظ سے خوش آئند اور تاریخ ساز قرار دی جاسکتی ہے کہ اسلام کے نام پر حاصل کئے جانے والے وطن عزیز میں مدارسِ دینیہ کے طلبہ کی پذیرائی اور اُن پر حسن اعتماد کا یہ ایک قابل ذکر واقعہ ہے، بلکہ بعض حاضرین کے خیال میں اسے تاریخ پاکستان کا ایسا اوّلین قدم قرار دیا جاسکتا ہے جس میں طلبۂ مدارس کو سرکاری سطح پر اپنائیت اور اعتماد ومحبت دی گئی۔ لیپ ٹاپ کمپیوٹرز کی یہ تقسیم اس لحاظ سے بھی مبارک ہے کہ حکومتِ پنجاب کے اس اقدام کے ذریعے ان طلبہ کو سکول وکالج کے طلبہ کے مساوی طالبِ علم ہونے کی حیثیت کو تسلیم کیا گیا، اور علوم اسلامیہ کی تعلیم وتدریس میں حکومت اور معاشرے کی دلچسپی کو اُجاگر کیا گیا۔ حکومتِ پنجاب کا یہ اقدام اس لحاظ سے بھی غیرمعمولی معنویت رکھتا ہے کہ یہ اقدام ایسے وقت میں کیا گیا جب اَغیار کی سازشوں سے متاثر ہوتے اور اُن کے ہاتھوں میں کھیلتے ہوئے دینی مدارس اور علماے اسلام کو معاشرے کا ایک غیر مفید بلکہ مخالف عنصر قرار دینے کی سازشیں زوروں پر ہیں!!

دینی مدارس سے میڈیا کے اربابِ اختیار کی بدگمانی اور امتیازی رویّے کا یہ عالم ہے کہ اگلے روز کے اخبارات میں روزنامہ 'نوائے وقت' کی ایک مختصر خبر کے علاوہ، اس غیر معمولی واقعہ کی نمایاں خبر شائع کرنے یا کسی ٹی وی چینل پر نشر کرنے کی توفیق بھی کسی کو نصیب نہیں ہوئی۔ الغرض حکومت کے جن مشیران نے وزیر اعلیٰ کو اس طرف متوجہ کیا اور اُنہوں نے اس اقدام کو منظور کرکے خاص اہمیت دی، اُس پر ہمیں ان کا شکر گزار ہونا چاہئے۔

اس اعزاز کی اہمیت ومعنویت سے آگے بڑھتے ہوئے، یہاں یہ بات قابل توجہ ہے کہ مغربی تہذیب اپنے جلو میں جن مفاسد کو لے کر آرہی ہے، ان میں بے حیائی، فحاشی، رقص ومیوزک، مرد و زَن کے عشق وفسق پر مبنی آزادانہ تعلقات سرفہرست ہیں، ان خرابیوں پر مغربی تہذیب کے نظریاتی مغالطے: مرد وزَن کی مزعومہ مساوات، مادر پدرآزادی، انسانی حقوق کے من چاہے معیار، جمہوریت، مادیت، دنیوی افادیت اور دین بیزاری کے الحادی اور خانہ ساز نظریے مستزاد ہیں، اور اہل مغرب ان تمام عملی ونظریاتی حربوں کو دنیا بھر میں اپنے میڈیا کے ذریعے پھیلا رہے ہیں۔ فی الوقت کمپیوٹر کی سکرین سے زیادہ کوئی شے موزوں تر نہیں جس کے ذریعے یہ حیاباختہ اور الہٰیت بیزار تہذیب تقویت حاصل کرسکے۔ ایک وقت تھا کہ کسی گھر کے اوپر ڈش کی موجودگی، کسی شخص کے پاس انسانی تصاویر، کسی گھر میں ٹی وی اور وی سی آر وغیرہ کا وجود، اُس کے برے تعارف کے لئے کافی سمجھے جاتے تھے۔ آج تہذیبِ مغرب کا دباؤ اس حد تک جا پہنچا ہے کہ مذکورہ بالا تمام خرابیاں جن کے خاتمے کے لئے علما اور مدارس ومساجد نے برسہا برس بھرپور مہم چلائے رکھی اور مغربی تہذیب کو پنپنے سے روکے رکھا، آج ہر ایک کے ہاتھ میں ہیں، برائی کا احساس ہی مٹ چکا ، حتیٰ کہ انہی مدارس کے طلبہ واساتذہ کو اُسی کمپیوٹر کا تحفہ دیا جارہا ہے۔

موبائل فون کی سکرین، کیمرے، انٹرنیٹ، میوزک اور ایس ایم ایس کی سروسز اس وقت سنگین خرابیوں کی بنیاد بنتی جارہی ہیں۔ رنگین موبائل فونوں میں فحش مناظر کی فلمیں اور بے ہودہ گانے اس قدر معمول کی چیز بن گئے ہیں کہ ان مضرات کی بنا پر بہت سے دینی مدارس میں کیمرے یا میموری کارڈ والے موبائل فون استعمال کرنے پر پابندی ہے، حتیٰ کہ بعض اداروں میں تو ہر قسم کے موبائل فون کو رکھنا سرے سے ممنوع ہے کیونکہ طلبہ کے لئے ہمہ وقتی رابطہ کوئی ایسی سنگین ضرورت نہیں جس سے اُن کی روزمرہ تعلیم کا معیار متاثر ہوتا ہو۔ مدارس میں ماحول کو پاکیزہ رکھنے کی ان کوششوں کے تناظر میں طلبہ مدارس کے ہاتھ میں لیپ ٹاپ کا تھما دینا مغربی ثقافت کا ایک نیا چیلنج اور مہلک خرابی کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتا ہے۔

کمپیوٹر کا ایک مذموم استعمال تو وہ ہے جس کی طرف اوپر اشارہ کیا گیا اور اکثر وبیشتر کمپیوٹر انہی کاموں کے لئے استعمال کیا جاتا ہے، جس کی شہادت مختلف عوامی سروے دے چکے ہیں۔ تاہم کمپیوٹر کے مفید استعمالات بھی اتنے ہی زیادہ ہیں جن کی بنا پر اس کو شر ّمحض قرار نہیں دیا جاسکتا، لیکن اس کے لئے ضرورت اس بنیادی امر کی ہے کہ کمپیوٹر کو مفید مصرف کے لئے وہی شخص استعمال کرتا ہے جس کے پاس کوئی مفید مصروفیت اور مثبت ہدف و مقصد كا وجودہو۔ یہ بات بھی ہم بخوبی جانتے ہیں کہ اس وقت پاکستان کی نوجوان نسل مفید مصروفیتوں اور مثبت مقاصدپرکتنی توجہ دیتی ہے یا ہمارے تعلیمی ادارے طلبہ کو تعمیری کاموں میں کتنا کھپا رہے ہیں۔

یورپی ممالک میں ہر بالغ فرد پر اپنی مالی کفالت کی ذمہ داری ہونے کے سبب اسے کوئی مفید مصروفیت تلاش کئے بغير چارہ نہیں ہوتا،جس سے وہ اپنا روزہ مرہ خرچ چلائے۔ اسلام نے بھی اسی بنا پر بالغ لڑکوں کی کفالت کی ذمّہ داری والدین پر نہیں ڈالی، اس سے اُنہیں مفید شہری بننے اور باشعور حیات کے آغازسے ہی بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ تاہم پاکستان میں مشرق ومغرب کی جو ملغوبہ ثقافت ہم نے متعارف کرارکھی ہے، اس میں نوجوان نسل کی فارغ البالی، ماں باپ کے سر پر بوجھ بن کر بیٹھے رہنا اور اعلیٰ تعلیمی مراحل کے دوران اپنی عمر کے قیمتی سالوں کو ضائع کرنا ایک سنگین مسئلہ ہے۔ پاکستان میں وزیر اعلیٰ پنجاب نے طلبہ وطالبات کے ہاتھوں میں لیپ ٹاپ تھما کر دینی مدارس کے اساتذہ اور طلبہ کو ایک مشکل امتحان میں ڈال دیا ہے۔ ان کمپیوٹروں کے مفید استعمال اور نوجوانوں کو مشغول کرنے کی طرف توجہ نہ کی گئی تو یہ ایک خطرناک قومی المیہ بھی ثابت ہوسکتا ہے!!

ایک اسلامی تعلیمی ادارہ کے 'ناظم تعلیمات' ہونے کے ناطے میں یہ بات اپنے تجربے کی بنا پر کہہ سکتا ہوں کہ کمپیوٹر سائنس کے طلبہ کو چھوڑ کر، مضامین یا اسائنمنٹس کے سوا لیپ ٹاپ کا اعزاز دیے جانے والے ان نوجوانوں کے پاس ان کا کوئی مفید ایسا مصرف نہیں جو اس سے مثبت استفادہ کو پروان چڑھائے۔اور یہ تو تعلیم سے وابستہ ماہرین بخوبی جانتے ہیں کہ کتنے طلبہ مضامین یا اسائنمنٹس کی تیاری سنجیدگی سے کرتے ہیں۔ طلبہ کی تعلیم میں سنجیدگی کا یہ عالم ہے کہ کمپیوٹر کی مدد سے نئی تحقیق کی بجائے پرانے مضامین کو دوبارہ پیش کرنے کا رجحان روز افزوں ہے اور اس پر قابو پانا مشکل ہوتا جارہا ہے۔البتہ کمپیوٹر عملی تحقیق سے وابستہ، یا دعوت وتبلیغ میں مصروف اورکسی ملازمت پیشہ شخص کے لئے، دورانِ ملازمت اس کو ملنے والے کاموں کا بڑا اچھا معاون ثابت ہوسکتا ہے۔

مغرب کے نظریۂ تعلیم کی ایک خوبی یہ ہے کہ وہاں ثانوی تعلیم کے بعد پیشہ وارانہ مراحل میں تعلیم کے دوران صرف تھیوری یا نظریہ پر اکتفا نہیں کیا جاتا، بلکہ اس تعلیم کے دوران ان کا نصف سے زائد وقت ان طلبہ کو ان عملی مسائل کا سامنا کرنے کی تربیت بھی دینا ہے جس میں وہ تحصیل علم کے بعد اپنی صلاحیتیں کھپائیں گے۔ تعلیم کو عملی مراحل کے ذریعے مکمل کرنا ایک طرف اُن کے نظریات میں نکھار اور تجربہ وبصیرت پیدا کرتا ہے تو دوسری طرف ان نوجوانوں کی مالی مشکلات کا حل بھی ان جز وقتی ملازمتوں کے ذریعے موجود ہوتا ہے۔ اور جب یہ طلبہ اپنے کمائے گئے پیسے سے اپنے اساتذہ سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں اور عملی مسائل کا سامنا کرتے ہوئے تعلیمی مراحل طے کرتے ہیں، تو اُنہیں اس رہنمائی کی قدر وقیمت اور ان سے کامل استفادہ کی توفیق ارزاں ہوتی ہے اور بعداز تکمیل علم اُنہیں کئی سال ملازمت کے انتظار میں ضائع کرنے کی بجائے، فوراً بعد ہی مفید اور کارآمد مصروفیت وملازمت بھی میسّر آجاتی ہے۔ چنانچہ نوجوانوں کی غیرمعمولی صلاحیت کو مفید بنانے کے لئے جہاں ایک طرف اُنہیں والدین پر بے جا انحصار سے نکالنا ضروری ہے تو دوسری طرف اُن کے لئے جزوقتی ملازمتیں پیدا کرنے کی بھی اشد ضرورت ہے۔ ہم نے مغربی تعلیم کی بے انتہا تفصیلات تو گہرائی میں اُترے بغیر حاصل کرلی ہیں، لیکن ان کی پروفیشنل تعلیم کے اس پہلو کو سنجیدگی سے لینے کی طرف توجہ نہیں کی۔

یاد رہے کہ مغرب میں ایسی تعلیم جس پر بعد میں انسان کے معاش کا انحصار ہو، انتہائی مہنگی ہے اور حکومت صرف بنیادی تعلیم تک تعاون کرتی ہے، اس مرحلہ کو طالب علم کو اکیلے ہی عبور کرنا ہوتا ہے، جس کے لئے اسے آسان تعلیمی قرضے وغیرہ دینے کی سہولتیں موجود ہوتی ہیں۔ اس طرح طلبہ میں احساسِ ذمہ داری اور محنت ویکسوئی سے تعلیم حاصل کرنے کا رویہ پروان چڑھتا ہے۔ الغرض اگر ہمارے طلبہ تعلیم یا عملی زندگی کے بارے میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کرتے تو کمپیوٹر وانٹرنیٹ جیسے ہتھیار کے غلط اور مخربِ اخلاق نتائج ظاہر وباہر ہیں، کیونکہ ان کے غلط استعمال کیلئے بہر حال کسی انتظام وتدبیر کی ضرورت نہیں ہےاور اسکا داعیہ اس خطرناک عمر میں سب سے قوی ہوتا ہے، نفس امارہ اور شیطان کی ہردم ترغیب اس پر مستزاد ہے۔

کمپیوٹر وانٹر نیٹ کی مثال چھری اور چاقوکی سی ہے، اگر اس چھری سے کوئی مفید کام کرنے کی راہ اور داعیہ موجود ہو تو یہ ایک بہترین ہتھیار ہے، وگرنہ نادانوں کے ہاتھوں میں چھریاں چاقو تھما کر اُنہیں زخمی ہی کیا جاسکتا ہے۔ان آلاتِ ٹیکنالوجی کی اس مہلک تاثیر کو دیکھتے ہوئے بعض اہل نظر وزیر اعلیٰ کے اس اقدام کو 'منظم نسل کشی' سے بھی تعبیر کرتے ہیں، اگر ان کمپیوٹرز کے مثبت استعمال کےلئے کوئی منصوبہ بندی نہیں کی جاتی۔

ہم حکومتِ پنجاب کومتوجہ کرنا چاہتے ہیں کہ وہ نونہالانِ قوم کے لئے مفید و بامقصد مصروفیات پیدا کرنے کی طرف بھی کاروباری اور تعلیمی طبقوں کو توجہ دلائیں گے کیونکہ ان نوجوانوں کی شکل میں صنعتوں اور کاروباروں کو سستے داموں باہنر لوگ بھی حاصل ہوسکتے ہیں۔

اسی طرح دینی اداروں کے منتظمین اور مہتممین کو ہم یہ توجہ دلانا چاہیں گے کہ جن نوجوانوں کو بڑی محنت سے اُنہوں نے کالج ویونیورسٹی کے آزادانہ ماحول سے بچا کررکھا اور ان کو قلب ونظر کی پاکیزگی سکھانے کی کوشش کی ہے، وہ اس مرحلے پر اپنے نونہالوں کی سرپرستی کسی صورت ترک نہ کریں۔ علوم اسلامیہ اس لحاظ سے دینی ودنیوی ہر نوعیت کے علوم پر فوقیت رکھتے ہیں کہ ان میں کمپیوٹر کے اسلامی ودینی استعمالات کے بے حد وحساب مواقع موجود ہیں۔ یہی کمپیوٹر اسلامی تعلیم وتبلیغ کا ایک شاندار آلہ ہے۔ اُنہیں فوری طرح طور پر اپنے طلبہ کو عربی واُردو زبانوں میں کمپیوٹر کے استعمال کی تربیت دے کر، ہزاروں اسلامی کتب کے بیش بہا ذخیرے سے متعارف کرانا چاہئے، یہ طلبہ کمپیوٹر کے استعمال سے کس طرح گھنٹوں میں بہترین تقریر اور معیاری باحوالہ تحریر تیار کرسکتےہیں، اس میدان میں اُن کی بھر پور رہنمائی پر مشتمل باضابطہ کلاسیں شروع کرنا چاہئیں۔ تبھی وہ ان طلبہ کے ہاتھ تھمائے جانے والے اس خطرناک آلے کی حشر سامانی سے محفوظ رہ سکتے اور اس کے بہتر نتائج حاصل کرسکتے ہیں۔

جدید دور کا انسان انٹرنیٹ سے ہرلمحہ استفادہ کررہا ہے، اس بنا پر جہاں اس کا دائرۂ معلومات وسیع ہے، وہاں اس کے پیش کردہ کام کا معیار بھی بلند تر ہے۔ مدارس دینیہ سے وابستہ اہل علم کو بھی ان جدید ذرائع کو استعما ل کرنا ہوگا، وگرنہ وہ اسلام کی ترجمانی اور اس کو درپیش تحدیات کا شافی جواب نہیں دے سکیں گے۔ غیر مسلموں کے علاوہ، ملحد و دہریوں اور باطل نظریات رکھنے والے انٹرنیٹ پر اسلام کی صورت مسخ کرکے پیش کررہے ہیں، حتیٰ کہ انٹرنیٹ پر اسلام کی ترجمانی کرنے والی ویب سائٹس کفارومستشرقین یا قادیانیوں کی قائم کردہ ہیں جس سے علم وتحقیق کے میدان میں اسلامی تعلیمات کا حلیہ بگاڑا جارہا ہے، ان حالات میں اسلام کے دفاع کا تقاضا یہ ہے کہ ہمارے طلبہ اس میدان میں بھی اپنے آپ کو تیار کریں۔

علم کے تقاضے اس دور میں جہاں تیز رفتاری کے متقاضی ہیں ، وہیں ا س کے لئے بیش قیمت وسائل بھی درکا رہیں۔ علم دین سے وابستہ لوگوں کے پاس اتنا کثیر سرمایہ اور ایسے مالی وسائل موجود نہیں کہ وہ شریعتِ اسلامیہ او راسلام کی ترجمانی پر شائع ہونے والی قیمتی کتب ہرلمحہ اپنے پاس محفوظ ومرتب رکھ سکیں۔ ان حالات میں کمپیوٹر اسلامی سکالرز کے لئے ایک بیش قیمت تحفہ ہے جس کی مدد سے وہ ہزاروں بلکہ لاکھوں تحریریں اپنے پاس انتہائی سستے داموں محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ اسلام کے حوالے سے بہت سے ایسے انڈیکس، امدادی سافٹ ویئر اور تلاش وجستجو کے ایسے ذرائع کمپیوٹر کی سکرین پر دستیاب ہیں، جو روایتی ذرائع کتب وکیسٹ پر سرے سے موجودہی نہیں ہیں۔کمپیوٹر کے ذریعے اپنے پیغام چاہے وہ تحریری ہو، یا تقریری، تبلیغی ہو یا دعوتی، اس کو بہت وسیع پیمانے پر سستے داموں پھیلایا جاسکتا ہے، یوٹیوب پر چند ہزار روپے میں ٹی وی چینل چلایا جاسکتا ہے، ویب سائٹوں کے ذریعے درجنوں کتب میسّر کی جاسکتی اور پڑھی جاسکتی ہیں، آن لائن تدریسی ویب سائٹوں کے ذریعے درس وتدریس کے سلسلے کو زمان ومکان کی حدود سے نکال کر پوری دنیا تک وسیع کیا جاسکتا ہے، علمی و دینی موضوعات پر تبادلہ خیال کے انٹرنیٹ فورم موجو دہیں،قارئین وسامعین کے ایک بڑے حلقے تک چند روپوں میں اپنی بات پہنچائی جاسکتی ہے، فیس بک وٹوئٹر کے ذریعے سماجی تحریک پبا کی جاسکتی ہے۔مختصراً ان چیزوں کا اس لئے اشارہ کردیا گیا ہے تاکہ مدارس کے ذمہ داران اس آلۂ خیر وشر کو مفید سمت استعمال کرنے کی طرف اپنے طلبہ کی صلاحیتوں کو یکسو کریں، اس کے لئے اُنہیں تربیتی کورسز کرائیں تاکہ یہ طلبہ دین اسلام کے سفیر اور مؤثر داعی بن کر، اسلام کے پیغام اور موقف کو دنیا کے کونے کونے میں پہنچا دیں۔

میاں محمد شہباز شریف کے ارشادات

میاں محمد شہباز شریف نے اپنے خطاب میں بہت سی اچھی باتیں کہیں، اُن کی یہ خوبی ہے کہ وہ جو سمجھتے ہیں، برملا اس کا اظہار کرتے ہیں۔ راقم الحروف کو کئی اجلاسوں میں اُن کے اس رویے اور مزاج کا اِدراک ہوا ، تاہم اُن کے بہت سے خیالات ایسے ہیں جن سے اتفاق نہیں کیا جاسکتا۔ کسی حکمران کے لئے محض مقبول ومحنتی ہونے کے علاوہ نظریاتی طور پر بھی واضح اور دوٹوک ہونا اشد ضروری ہے، جس کے بغیر معاشرے کو درست سمت ترقی نہیں دی جاسکتی۔ ایسے حکمران جو واضح نظریات کے حامل تھے، اُنہی کے اقدامات کی تاثیر ہمیشہ دیرپا اور قائم ودائم رہتی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے طلبہ مدارس اور اساتذہ کرام سے بجا طور پر فرمایا کہ

1. فرقہ واریت ایک ناسور ہے، اور آج فرقہ واریت وتشدد نے ہمیں اس مقام پر پہنچایا ہے کہ کراچی تا خیبر ہرسو خون بہہ رہا ہے۔ مقتول بھی پاکستانی مسلمان ہے اور قاتل بھی۔ کیا پاکستان تمام مسالک کے پیروکاروں نے مل کرنہیں بنایا تھا، مینارِ پاکستان تلے تمام مکاتبِ فکر اکٹھے تھے۔ آج ہم فرقہ واریت کا شکار ہوکر اغیار کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں، ہم اُن کا کام اپنے ہاتھوں انجام دے رہے ہیں۔ اُن کو جھک کرسلام کرتے، ان کےمقاصد کو پورا کرتے اور آپس میں مل بیٹھنے کو بھی تیار نہیں۔ حرم پاک میں تو کوئی فرقہ واریت نہیں ہے، سب ایک امام کے پیچھے سکون ووقار سے نماز ادا کرتے ہیں، اور کوئی کسی کے خلاف فتویٰ بازی نہیں کرتا۔ فروعی مسائل کی بنا پر وہاں کوئی تلخی نہیں ہوتی۔ ہر ایک کو اپنا مسلک مبارک ہو لیکن ہم میں برداشت ہونی چاہئے۔ میں آپ کو الزام نہیں دے رہا ، حکومت کا فرض ہے کہ انتظامی طورپر معاملات کو ٹھیک کیا جائے اور مدارس کا فرض ہے کہ امن، بھائی چارہ اور محبت ورواداری کو پروان چڑھانے کی تلقین کریں۔ کیا کوئی اسلامی ملک ایک دوسرے کا گلا کاٹ کر زندہ رہ سکتا ہے، کوئی ملک کیا اس طرح پروان چڑھ سکتا ہے؟ ترکی میں آج مساجد بھر رہی ہیں، لوگ دین کی طرف رجوع کررہے ہیں، ایک طرف ان کے ہاں شراب پر سرکاری پابندی نہیں ہے، جو دراصل ہونی چاہئے لیکن اس ملک میں کوئی کسی کا گلا نہیں کاٹتا۔ امن، تحمل اور برداشت کا دور دورہ ہے اور ملک ترقی کررہا ہے۔ انتظامی اور سرکاری ذمہ داری سے میں صرفِ نظر نہیں کرتا لیکن لوگوں میں تحمل پیدا کرنا تو علماے کرام کا کام ہے۔میں پاکستان کو کمزور ہوتا اور ٹوٹتا دیکھ رہا ہوں۔ میں آپ سے التجا کرتا ہوں کہ اس فرقہ واریت اور قتل وتشددکے ناسور کا مل کرخاتمہ کریں۔ یہ اسلام اور پاکستان کا بہت برا تعارف ہے۔

2. اُنہوں نے طلبہ کو اپنا پیغام دیتے ہوئے کہا کہ مجھے کئی ایک ممالک میں جانے کا موقع ملا، وہاں میں نے دیکھا کہ ایک شخص بہترین تلاوتِ قرآنِ کریم کرنے کے بعد، انجنیئرنگ کے سیمینار میں بہترین 'پریزنٹیشن' پیش کررہا ہوتا ہے، کوئی ڈاکٹر خوبصورت نعتِ رسولﷺ سنانے کے ساتھ ساتھ اپنے میدان میں بھی پیشہ ورانہ مہارت کا حامل ہوتا ہے۔مسلم ممالک میں فزکس، ریاضی، سیاست، زراعت کے شعبوں کے مہارت کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم کی مہارت بھی بیک وقت پائی جاتی ہے۔ مراکش کے شہر کاسابلانکا (دارِ بیضا) سے ملائشیا کے کوالالمپور تک چلے جائیں تو ہمیں دینی علوم کے ماہرین ان تمام شعبوں میں کام کرتے دکھائی دیں گے، لیکن افسوس کہ ہمارے ملک میں ایسا بہت کم ہے۔آج لیپ ٹاپ کی تقسیم کے ذریعے ہم دینی مدارس کے طلبہ کو معاشرے کی تعمیر وترقی سے منسلک اورہم آہنگ کرنا چاہتے ہیں کہ وہ دین ودنیا کے جامع ہوں۔اسی سے پاکستان کی ترقی اور خوش حالی وابستہ ہے۔ان لیپ ٹاپس کے ذریعے انٹرنیٹ پر ملنے والے مضامین میں آپ دیکھیں گے کہ مسلمانوں نے کس طرح سائنس وٹیکنالوجی میں ترقی کی،مسلمانوں نے سائنسی علوم میں کس طرح نام پیدا کیا۔ اندلس اور ہندوستان میں کتنی صدیاں اسلامی ریاست پروان چڑھتی رہی، انٹرنیٹ کے ذریعے آپ کئی اُلجھے مسائل کی تحقیق کے قابل ہوسکیں گے۔ آج ہمارے مدارس میں سارا زور نظریہ اور تھیوری پر لگا دیا جاتا ہے اورعملی مسائل سے پوری طرح صرفِ نظر کیا جاتا ہے، مسلم معاشرے کے زندہ مسائل بھی ہمارا موضوع ہونے چاہئیں۔ہمارے مدارس کو چاہئے کہ ان ممالک کی اتباع میں اپنے مدارس میں جدید علوم اور ٹیکنالوجی کو فروغ وپروان چڑھائیں، مدارس کے طلبہ کا جدید علوم سے گریز اور معاشرتی ارتقا سے پیچھے رہنے کا رویہ فوری اصلاح اور مؤثر جدوجہد کا متقاضی ہے۔

3. وزیر اعلیٰ نے پاکستان کی پریشان کن صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہرسمت جل رہا ہے، ہم پر 60 ارب ڈالر کے قرضے ہیں، ہر پیدا ہونے والا بچہ سیکڑوں روپے کا مقروض ہے۔ ان پر ہمیں ہرسال کروڑوں روپے سود ادا کرنا ہوتا ہے، جو میں جانتا ہوں کہ غیراسلامی ہے لیکن کیا کریں، دنیاکےسارے مسلم ممالک میں سود کا ہی نظام چل رہا ہے۔ ہم کبھی غور نہیں کرتے کہ ہمارے تھانے کیوں ظلم کا گہوارا بنے ہوئے ہیں، عدالتیں کیوں انصاف نہیں دیتیں، ہمیں دنیا بھر سے کیوں ڈکٹیشن ملتی ہے اور اہل مغرب ہمارے خون میں ڈوبے ہوئے چند سکے ہماری طرف امداد کے نام پر پھینک کر ہماری خودمختاری سے کھیلتے ہیں۔ جب تک یہ کشکول کا یہ سلسلہ ختم نہیں ہوگا،پاکستان اپنی منزل پر نہیں چل سکتا۔

4. میں علما ے کرام اورطلبہ علومِ دینیہ کے اس باوقار اجتماع میں آپ کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ ہمیں یکسو اور متحد ہوکر غربت کے خاتمے کے لئے کوششیں کرنی چاہئیں اورمحراب ومنبر سے غربت کے خاتمے کی مؤثر جدوجہد ہونی چاہئے۔

5. اُنہوں نے آخر میں اپنا پیغام ان الفاظ میں طلبہ کو دیا کہ

''ہمیں پاکستان کو عظیم ترریاست بنانا ہے، سائنس کو اپنا زیور بنانا ہوگا،غربت وجہالت کی اتھاہ گہرائیوں سے پاکستان کو نکالنا ہے، ہمیں ان مقاصد کے حصول کے لئے متحد ہوجانا چاہئے۔''

تبصرہ

میاں محمد شہباز شریف کے مذکورہ بالا بہت سے خیالات قابل قدر ہیں، بالخصوص فرقہ واریت کے بارے میں ان کا تجزیہ اور شکوہ عین درست ہے۔ تاہم ان کے خطاب میں بعض اُمور قابل توجہ ہیں۔ تعلیم کے ضمن میں اربابِ مدارس کو ہی جدید علوم کی تلقین کافی نہیں اور اس پر اُن کا معاصر مسلم دنیا سےاستدلال بھی درست نہیں۔ مروّجہ دینی مدارس مسلم معاشرے میں علوم شریعت کے ماہرین اور تفقہ فی الدین کی صلاحیت رکھنے والے افرادِ کار تیار کرنے کے ادارے ہیں، جیسا کہ حرمین کی سرزمین، سعودی عرب کی اسلامی جامعات بھی انہی مخصوص مقاصد کےلئے سرگرم ہیں۔ ان دینی اداروں میں سماجی علوم کا تعارف بھی پڑھا پڑھایا جانا چاہئے لیکن جس ضرورت کی طرف جنابِ وزیر اعلیٰ نے اشارہ کیا ہے، وہ دراصل پورے مسلم معاشرے کے عوامُ الناس کو دی جانے والی معیاری اور وسیع تراسلامی تعلیم کا ثمرہ ہے۔ درحقیقت تفقہ فی الدین کے متخصص تیار کرنے کے علاوہ اسلام کا عامّۃ المسلمین سے بھی یہ لازمی شرعی تقاضا ہے کہ وہ دین کے معقول اور ضروری علم کے حامل ہوں۔ جناب وزیر اعلیٰ کو اپنے اس مبارک جذبہ کی تکمیل کے لئے صوبہ پنجاب اور ملک بھر کے سکول وکالج میں علوم اسلامیہ کی تربیت کو اس معیار پر پہنچانا چاہئے کہ وہاں سے نکلنے والے ڈاکٹر وسائنس دان تلاوت ونعتِ رسولؐ کے علاوہ کسی ایک موضوع پر گاہے اسلامی موقف کی بھی ترجمانی كی صلاحیت رکھتے ہوں۔ جس طرح فزکس وکیمسٹری کی مسلم معاشرے میں بصیرت ومہارت کی ضرورت ہے، اسی طرح اس معاشرے کی علومِ نبوت میں بھی مہارت اوّلین اور بنیادی تقاضا ہے،اور ان تما م شعبہ ہائے حیات میں باہمی ربط وارتباط بھی ہونا چاہئے۔ یہ درست ہے کہ مدارسِ دینیہ میں سماجی علوم کے تعارف اور عملی مسائل پر توجہ کو بڑھانا چاہئے لیکن اس سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ معاشرے کے 95 فیصد نظام تعلیم یعنی سکول وکالج میں اسلام کی تعلیم اس سے کہیں قوی اور وسیع تر ہونی چاہئے۔جب حکومت ان اداروں کو بیش بہا تعلیمی بجٹ دیتی اور اُن کی اسناد کو تسلیم کرکے، اُنہیں معاشرے میں واضح اور متعین کردار دیتی ہے تو معاشرے کے مادی ارتقا کی ذمہ داری بھی ان شعبہ ہائے حیات کے فضلا کو اُٹھانی چاہئے۔وزیر اعلیٰ کا مدارس سے مادی میدانوں کے ماہرین پیدا کرنے کا مطالبہ زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتااور دنیا بھر میں بھی ایسے ہی ہورہا ہے۔مدارسِ اسلامیہ الحمد للہ اپنا کام کررہے ہیں، ان میں اصلاح اور ارتقا اس نوعیت کا ہونا چاہئے جو ان کے مقصد ومنزل سے ہم آہنگ ہو، نہ کہ اصلاح وترقی کے نام پر انہیں ان کے مشن یعنی مسلمانوں کو دینی رہنمائی دینے اورمعاشرے کو درپیش مسائل میں اسلام کی ترجمانی کرنے سے محروم کردیا جائے۔ اگر ہماری حکومتیں مدارسِ اسلامیہ کو ان کے حقیقی مقاصد سے بہتر طورپر ہم کنار کرنے کے لئے اقدامات کرتی ہیں تو اس کا کھلے دل سے خیر مقدم کیا جائے گا۔

اسلامی علوم کو صرف مدارس تک محدود کردینے اور انہی سے ہر میدان کے ماہرین کے حصول کا مطالبہ سیکولرزم پر ایمان رکھنےکا شاخسانہ ہے جس نظا مِ الحاد میں دین کو ایک محدود خانے پر مقید کرکے، دنیا کے تمام دائرہ ہائے کار کو خالص انسانی خواہشات اور معلومات کی بنا پر پروان چڑھایا جاتا ہےاور انہی الٰہی رشد وہدایت سے محروم رکھا جاتا ہے۔ جبکہ پورے معاشرے میں اسلام کا علم عام کرنا اور تمام شعبہ ہائے حیات کے ماہرین کو اسلام کا ضروری علم دینا، اسلامی نظریۂ تعلیم کا تقاضا ہے جس کی رو سے مسلمانوں میں ایک طبقہ ایسا بھی ہونا چاہئے جو فزکس وکیمسٹری کی طرح صرف علومِ اسلامیہ میں تفقہ وبصیرت کے لئے یکسو ہو۔ سورة التوبۃ کی آیت نمبر 122 واضح طور پر بتاتی ہے کہ تم میں ایک جماعت دین وشریعت کے لئے پیغمبرانِ کرام اورائمۂ اسلاف کی طرح یکسو ہونی چاہئے جبکہ نبی کریم ﷺ نے واضح یہ اعلان کردیا تھا کہ ''تم اپنے دنیا کے معاملات کو مجھ سے زیادہ جانتے ہو۔'' اور دوسری طرف دین کا لازمی علم تمام مسلمانوں پر فرض قرار دیا گیا۔ ہمارے ارباب اختیار کو کم ازکم اسلام کے بنیادی نظریات سے آگاہ ہونا اور علماے کرام کی مجلس میں اِنہیں سیکولر نظریات پر مبنی دعوت سے گریز کرنا چاہئے۔

٭ وزیر اعلیٰ کا معاشرے میں توازن پیدا کرنے کا مطالبہ ، اس کو سائنسی ترقی سے ہم کنار کرنے کی خواہش اور غربت کے خلاف متحد ہوجانے کا عزم بھی قابل قدر ہے، لیکن ایک مسلم حکمران ہونے کے ناطے اللّٰہ تعالیٰ نے سب سے پہلے جس امر کی ذمہ داری اُن پر عائد کی ہے، وہ یہ نہیں کہ اس معاشرے میں کتنے سائنس دان پیدا ہوئے اور اُن کی رعایا نے دنیوی اسباب ووسائل حاصل وجمع کرنے میں کتنی کامیابی حاصل کی۔یہ مغربی اقوام کا میزانِ ترقی اور منشورِ حکومت ہے۔ قرآنِ کریم میں مسلم حاکم کا فریضہ اور رویّہ اللّٰہ تعالیٰ نے یہ قرار دیا ہے:

﴿الَّذينَ إِن مَكَّنّـٰهُم فِى الأَر‌ضِ أَقامُوا الصَّلو‌ٰةَ وَءاتَوُا الزَّكو‌ٰةَ وَأَمَر‌وا بِالمَعر‌وفِ وَنَهَوا عَنِ المُنكَرِ‌...٤١﴾... سورة الحج

''وہ لوگ، اگر زمین میں ہم اُنہیں حکومت وتمکین عطا کریں، تو وہ اقامتِ نماز، ایتاے زکوٰۃ اور امر بالمعروف ونہی عن المنکر کا قیام کریں گے۔ ''

اگر حکمران یہ فرائض پورے کریں تو قرآنِ کریم نے اُنہیں معاشرے میں امن وامان کی بیش بہا نعمت کا وعدہ دیا ہے۔ جس نظامِ سیاست نے دنیا میں انقلاب آفرین اثرات پیدا کئے اور جس کی تمنّا چودہ صدیاں گزرجانے کے بعد آج بھی ہر مسلمان رکھتا ہے، اُس کی ترجیحات اور لائحۂ عمل وہی تھا جو قرآنِ کریم نے بیان کیا۔ نبی کریمﷺ جو اپنی ہر حیثیت میں کسی اُمتی کے لئے اُسوہ اورقدوہ ہیں، چاہے وہ فرد کی حیثیت ہو، یا حاکم وقاضی اور سپہ سالار کی۔ آپؐ کے دورِ حکومت میں آپ کو اپنے صحابہ کی غربت سے زیادہ اللّٰہ تعالیٰ سے بے تعلقی اور دنیا سے رغبت کی فکر ستایا کرتی تھی۔ آپ ہر اسلام لانے والے فرد اور اپنے نمائندہ گورنر کو بھیجتے ہوئے اسے انہی احکام کی تلقین کرتے جو حدیثِ معاذ ودیگر میں موجو دہیں۔ کیا وجہ ہے کہ مدینہ منورہ میں سیاسی حکمرانی کے 10 برس گزار نے اور کامیاب ترین بلکہ قابل اتباع حکمرانی کرنے کے بعد، جب آپ دنیا سے تشریف لے جاتے ہیں تو مدنی معاشرہ میں كوئی سائنس دان پیدا نہیں ہوتا، مادی علوم اور شہری وتمدنی سہولیات میں کوئی قابل ذکر ارتقا نہیں ہوتا،وہاں غربت سے خاتمے کا کوئی ہنگامی پروگرام آپ نے جاری نہیں کیا ہوتا۔ اس سے مسلم حکمران پر عائد فرائض اور اس کی ترجیحات کا بخوبی علم ہوجاتا ہے۔ دورِ خلافت راشدہ میں بھی آپ کے خلفا کو اپنے دینی فرائض پورے ہونے کی فکر ہوتی تھی، جس میں اللّٰہ کے حقوق کے بعد ، اللّٰہ کے بندوں کے حقوق اور اُن میں شریعت کے مطابق عدل وانصاف کرنے کی فکر نمایاں ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ چند ہی برسوں میں ایسی مضبوط ومستحکم قوم تیار ہوئی جس نے ایک طرف اللّٰہ کے بندوں کو انسانوں کی غلامی سے نکال کر اللّٰہ کی بندگی میں لگادیا، اُن کی آخرت سنوری اور شریعتِ اسلامیہ کے متوازن احکامات پر عمل کے نتیجے میں اللّٰہ تعالیٰ نے اُن میں آخرکار غربت کا بھی اس طرح سے خاتمہ کردیا کہ ڈھونڈے سے بھی زکوٰۃ لینے والا نہیں ملتا تھا۔ آج کا انسان اپنی محیر العقول مادی ترقی اور غربت کے خلاف پرعزم جدوجہد کے باوجود غربت کو ختم کرلینے میں کامیاب نہیں ہوسکا لیکن چودہ صدیاں قبل چشم فلک ایسے مناظر دیکھ چکی ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ نے اُنہیں ایسا مثالی امن وامان عطا کیا کہ صنعا سے حضرموت سفر کرنے والی عورت کو زیورات اُچک لئے جانے کا ڈر باقی نہ رہا اور غربت کے خاتمے اور امن وامان کے قیام کی نبوی پیش گوئیاں پوری ہوکر رہیں۔ دنیا میں اُن کی ایسی ہیبت طاری ہوئی اور اللّٰہ کی بندگی کرنے والے دنیا پر اس طرح غالب ومتمکن ہوئے کہ تاریخ انسانی کا سب سے بڑا حکمران فاروقِ اعظمؓ اسی دور میں نصف دنیا پر اسلام کے یوں جھنڈے لہراتا ہے کہ آنے والی صدیوں میں آج تک وہ خطے اسلام کی برکات سے بہرہ مند ہورہے ہیں۔ مسلمان جب دیگر خطوں کی طرف پیش قدمی کرتے تو وہ فتوحات کے جھنڈے گاڑنے اور تسخیر کائنات کی بجائے اللّٰہ کی سرزمین میں اللّٰہ کے بندوں کو اُس کی بندگی کی گنجائش میسر کرنے کے لئےنکلتے تھے۔ پھر اللّٰہ کے اُن مطیع مسلمانوں نے دنیا میں رہنے سہنے کے اُصول وضوابط اور سرکاری ادارے بھی تشکیل دے لئے اور اسلام كے احکام پر عمل پیرا ہوتے ہوئے کائنات میں تفکر وتدبر کیا، اس کے نتیجے میں اللّٰہ کی بندگی میں مزید پختہ ہوئے ، اَمراض انسانی کے خلاف کامیابیاں حاصل کیں، جس دنیا میں انسان کو اللّٰہ نے بھیجا ہے، اور قرآن کی زبان میں ہر چیز اس انسان کے لئے پیدا اور مطیع فرمائی ہے، ان چیزوں کو اللّٰہ کی بتائی ہوئی حدود میں اُنہوں نے استعمال بھی کیا۔

یہ اللہ کی سرزمین ہے، آسمان وزمین اُس کی میراث ہیں اور کائنات اُسی کے حکم سے چلتی ہے، زمین پر کوئی پتہ بھی اس کے علم کے بغیرحرکت نہیں کرتا، جب اللّٰہ کی مخلوق بالخصوص مسلمان اس کے حکم پر عمل پیرا ہوتے ہیں تو وہ ربّ کریم اُن پر اپنے خزانے کھول دیتا ہے:

﴿وَلَو أَنَّ أَهلَ القُر‌ىٰ ءامَنوا وَاتَّقَوا لَفَتَحنا عَلَيهِم بَرَ‌كـٰتٍ مِنَ السَّماءِ وَالأَر‌ضِ وَلـٰكِن كَذَّبوا فَأَخَذنـٰهُم بِما كانوا يَكسِبونَ ﴿٩٦﴾... سورة الاعراف

''اگر یہ بستیوں والے ایمان لے آئیں، اللّٰہ کا تقویٰ اختیار کریں تو ہم ان پر آسمان وزمین کی برکات نازل کریں، لیکن اُنکی تکذیب کے سبب اُنہیں اپنا کیا بھگتنا پڑتا ہے۔''

حضرت نوح کی اپنی قوم کو یہ منادی دنیوی فلاح وکامرانی کا واضح اعلان کررہی ہے:

﴿فَقُلتُ استَغفِر‌وا رَ‌بَّكُم إِنَّهُ كانَ غَفّارً‌ا ١٠يُر‌سِلِ السَّماءَ عَلَيكُم مِدر‌ارً‌ا ١١ وَيُمدِدكُم بِأَمو‌ٰلٍ وَبَنينَ وَيَجعَل لَكُم جَنّـٰتٍ وَيَجعَل لَكُم أَنهـٰرً‌ا ١٢ ما لَكُم لا تَر‌جونَ لِلَّهِ وَقارً‌ا ١٣﴾... سورة نوح

''میں نے اُنہیں دعوت دی کہ اللّٰہ سے استغفار کی روش اختیار کرو، وہ بلاشبہ بڑا ہی بخشنہار ہے۔ وہ آسمان سے تم پر موسلا دھار بارشیں برسائے گا، وہ اُموال اور بیٹوں کے ذریعے تمہیں دنیا میں نعمتیں عطا کرے گا۔ تمہارے لئے باغات اور نہریں بہائے گا، تمہیں کیا ہوگیا کہ تم اللّٰہ سے (ان وعدوں کی تکمیل کا) یقین نہیں رکھتے۔''

یہی دعوت اللّٰہ تعالیٰ نے سابقہ اُمتوں کو بھی دی، قرآن کی زبانی...:

﴿وَلَو أَنَّهُم أَقامُوا التَّور‌ىٰةَ وَالإِنجيلَ وَما أُنزِلَ إِلَيهِم مِن رَ‌بِّهِم لَأَكَلوا مِن فَوقِهِم وَمِن تَحتِ أَر‌جُلِهِم...٦٦﴾... سورة المائدة

''اگر یہ بستیوں والے تورات وانجیل اور اللّٰہ کی طرف سے منزل شدہ وحی کو دنیا میں قائم ونافذ کردیں، تو یہ اُوپر سے بھی نعمتیں کھائیں اور نیچے سے بھی۔''

اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے پیارے نبی کو رزق کی فکر کرنے کی بجائے، اپنے دینی فرائض ادا کرنے کی تلقین وہدایت کی ہے اور اس کے نتیجے میں رزق کی فراوانی کا سامان اللّٰہ تعالیٰ خود کرتے ہیں:

﴿وَأمُر‌ أَهلَكَ بِالصَّلو‌ٰةِ وَاصطَبِر‌ عَلَيها ۖ لا نَسـَٔلُكَ رِ‌زقًا ۖ نَحنُ نَر‌زُقُكَ ۗ وَالعـٰقِبَةُ لِلتَّقوىٰ ١٣٢﴾... سورة طه

''اے نبی! اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دے اور اس پر استقامت اختیار کر۔ ہم تجھ سے کسی رزق کا مطالبہ نہیں کرتے۔ تیرے رزق کے ذمہ دار ہم خود ہیں۔ اور آخرت تو ہے ہی اہل تقویٰ کے لئے۔''

اسلام میں اللّٰہ کی بندگی کے ساتھ ساتھ، انسانوں کے مابین بہتر تعلقات کی وسیع وعریض ہدایات موجود ہیں، پھر معاشروں کے عد ل وانصاف اور امن وامان کے ان گنت احکامات اس میں پائے جاتے ہیں۔ جب کوئی حکمران یا ذمہ دار ؍مسئول اپنے پیرکاروں کو اسلام کا حکم دے گا، زکوٰۃ کے ذریعے مالی توازن پیدا کرنے کی کوشش کرے گا، اللّٰہ کی حدود کے قیام کے ذریعے معاشرے میں امن وامان قائم ہوگا تو لامحالہ وہ معاشرے زندگی کے ہرمیدان میں ترقی کریں گے۔معیشت وصنعت بھی پروان چڑھے گی، جب ہمارے مغربی تعلیم یافتہ اور مادہ پرست حکمران پوری قوم کو بگ ٹٹ سائنس اور مادیت کی تلقین کرتے نظرآتے ہیں تو لاریب یہ محسوس ہوتا ہے کہ اُن کا اللّٰہ تعالیٰ کے ان وعدوں اور تاریخ اسلامی کے زرّیں اَدوار کی زمینی اور عملی شہادت پر یقین نہیں ہے۔ اُن کی فکر ونظر کے زاویے مغرب سے مستعار ہیں اور مغرب کی مصنوعی ترقی نے اُن کی آنکھوں کو خیرہ کیا ہوا ہے جس کے بارے میں مغرب کے نباض ، علامہ اقبال پہلے ہی کہہ چکے ہیں: ؏

نظر کو خیرہ کرتی ہے چمک تہذیبِ حاضر کی یہ صناعی مگر جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہے

مسلمانوں کے حکمران دراصل نبی کریمﷺ کے سیاسی جانشین ہیں،اور مسلم حکمران انہی اہداف ومقاصد کے لئے کام کرتا ہے، جو اس کے رہبر ورہنماﷺ نے متعین کردیے ہیں۔ اسی بنا پر مسلمانوں پر اُن کی اطاعت کی شرعی ذمہ داری عائد ہوتی ہے، جس کی تلقین کئی ایک فرامین نبویؐہ میں موجود ہے۔ اسلام کا پیغام انسانیت کے نام اللّٰہ کی بندگی اور اطاعت وپیروی کا ہے، دنیا کو آخرت کی تیار ی کے لئے گزار کر، آخرت سنوارنے کا ہے۔ جو اس پر عمل پیرا ہوتا ہے اللّٰہ تعالیٰ اُس کی دنیا بھی سنوار دیتے ہیں۔

غور کیجئے کہ اگر اسلام کا پیغام بھی براہِ راست غربت کے خاتمے کا ہوتا تو زبانِ رسالتؐ یا قرآن کریم سے اُس کے تائید میں کوئی ایک کلمہ اورتلقین ضرور صادر ہوئی ہوتی۔اسلام کی تعلیم تو یہ ہے کہ تم میں سے کوئی اس وقت تک موت کا سامنا نہیں کرے گا جب تک اپنے مقدر میں لکھے رزق کا ایک ایک حصہ پا نہ لے ۔ یہ رزق اللّٰہ تعالیٰ تقسیم کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے کم یا زیادہ دیتا ہے۔ آپ کی زبانِ اقدس سے تو مال کی حشر سامانی اور فتنہ انگیزی کے تذکرے ملتے ہیں۔ اگر یہی مادیت اور آسائش کا حصول آپ کی دعوت کے بنیادی نکتے ہوتے تو مکہ مکرّمہ میں آپ پر ایمان لانے والے سابقون اوّلون، جو دنیوی حشم و جاہ میں نمایاں حیثیت رکھتے تھے، مثلاً سیدنا ابوبکر صدیق، سیدنا عثمان بن عفان، سیدہ خدیجۃ الکبریٰ، سیدنا عبد الرحمٰن بن عوف ، سیدنا حمزہ بن عبد المطلب، سیدنا عمربن خطاب وغیرہ...آپ کو جواباً کہتے کہ یہ نعمتیں تو ہمارے پاس پہلے سے ہی موجود ہیں، اگر یہی آپ کا پیغام ہے تو اس میں ہم آپ سے برتری رکھتے ہیں، ہمیں آپ کی اتباع ، قربانیوں کو برداشت کرنے اور اللّٰہ کی راہ میں ہجرت و جہاد جیسے شدائد برداشت کرنے کی کیا ضرورت...؟

اگر یہی اسلام کی دعوت ہے جو ہمارے مغربی تعلیم یافتہ اربابِ سیاست کا روزمرہ محاورہ ہے، تو پھر کبھی کوئی غنی مسلمان ، اپنے مال سے اللّٰہ کی راہ میں صدقہ کے لئے نہ نکالے، اللّٰہ کے دیے مال سے زکوٰۃ کی صورت میں غریبوں کو حصہ نہ ملے، اور معاشرے میں معاشی انصاف کبھی قائم نہ ہو۔مال سے بے پناہ محبت پر مبنی آج کی سرمایہ دارانہ تہذیب نے دنیا میں امیر وغریب کے باہمی فرق میں کئی گنا اضافہ کیا ہے، اس نظریۂ سرمایہ داریت پر عمل پیرا اربابِ اقتدارغربت کا خاتمہ تودرکنار ، بالواسطہ غربت پیدا کرنے کاسبب بن رہے ہیں۔ اس طرح غربت ختم ہونا ہوتی تو آج کے سرمایہ دار کرچکے ہوتے۔اللّٰہ تعالیٰ سے تعلق پختہ ہوتا ہے تو مال کو تقسیم کرنے اور غریب بھائیوں کو دے کر اس سے جنّت کمانے کی ریت پڑتی ہے۔اور تاریخ اس کی گواہی دیتی ہے کہ اس رویے سے معاشرے میں امیر وغریب کے مابین محبت واپنائیت اور ہمدردی وغم گساری پیدا ہوتی ہیں۔ اگر ہماری دعوت مال کے حصول کی ہو تو پھر ہرفرد زیادہ سے زیادہ مال جمع کرنے میں ہی لگا رہے اور دنیا کو جنّت بنانے میں مگن رہے، جو کبھی کسی کیلئے جنت نہیں بن سکی!!

اہل مغرب کے انسانی ہمدردی اور غم گساری کے نعرے کھوکھلے اورجھوٹے ہیں جو ایک طرف سرمایہ دارانہ نظام کے ذریعے دنیا بھر کی دولت سود وکرنسی کے ذریعے مالداروں کی جھولی میں ڈال رہے ہیں اور دوسری طرف اُن کی مالی ہوس کا شکار ہونے والے لوگوں کو جھوٹی مدد کے نام پر امداد کے چند سکے بانٹ چھوڑتے ہیں۔

الغرض ہمارے حکمرانوں کو اسلامی نظریۂ حیات کا شعو رہونا چاہئے اورمسلم حاکم کے فرائض منصبی کے مطابق ہی اُنہیں اپنی قوم کو پروان چڑھانا چاہئے۔ جناب وزیر اعلیٰ کو اپنے خطاب میں ان علما او رطلبہ کو مادیت کے لئے متحد ہو کر جدوجہد کی بجائے، ان کے کارِ خیر بلکہ شیوۂ پیمبری کو تقویت اورہرطرح سے اُن کی تائید کرنے کا عزم کرنا چاہئے تھا۔ یہ اہلِ دین ، خود جس طرح معاشرے کو اللّٰہ تعالیٰ کی طرف لانے کی جدوجہد کررہے ہیں، اس میں اُن کا ساتھی بننے کی خواہش کا اظہار کرنا چاہئے تھا،کیونکہ علماے کرام نبی آخر الزمانﷺ کے علم کے وارث ہیں اور مسلمان حکام نبی کاملؐ کی سیاسی حیثیت کے وارث ہیں۔ دونوں کا فرض ومنصب ایک ہی ہے، کہ لوگوں کو اللّٰہ کی بندگی کی طرف بلایا جائے، اور اللّٰہ کے دین کو اپنے اور دوسروں پر قائم کرنے کی جدوجہدکی جائے۔ اسلام میں دینی اور سیاسی قیادت دو جدا چیزیں نہیں رہیں، مسلمانوں کی نماز کا امام ہی نبی کا سیاسی جانشین ہوتا ہے، اور دونوں کو شریعت اسلامیہ کی اصطلاح میں 'امام ' ہی کہا جاتا ہے۔ افسوس کہ آج یہ خالص او رکھرے اسلامی نظریات اتنے اجنبی ہوچکے ہیں کہ ان کو حیرت سے سنا،پڑھا جاتا ہے۔

حکام کے کے اصل فرائض قرآن وسنّت کی زبان میں اوپر ذکر ہوےہیں۔اسلام کا وعدہ کرنے کے باوجود اللّٰہ کے حکموں سے روگردانی نے آج ہمیں اس ذلت ورسوائی میں ڈال دیا ہے کہ ہمارا سب سے گندا نظام 'سیاست' کا ہے، جو مغرب سے مستعار اور اُس کے دباؤ کے ذریعے ہم پر مسلط ہے۔ اس جمہوری نظامِ سیاست کا ہی کرشمہ ہے کہ عدالتوں میں انصاف نہیں ملتا، تھانوں میں شنوائی نہیں ہوتی، ہمارا میڈیا پاکستان اور اسلام کی دنیا بھر میں جگ ہنسائی کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا، حکمران ہاتھوں میں کاسئہ گدائی لے کر پھرتے اور پاکستان کا بچہ بچہ قرض کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ ملک بھر میں خون کی ہولی کھیلی جارہی ہے، امن وامان کی گراں مایہ نعمت (جواللّٰہ نے اپنے دین کے احکام پرعمل کرنے والوں کو انعام میں دینے کا وعدہ دیا ہے) سے محروم ہونےسے معاشی سرگرمیاں بھی معطل ہیں، کوئی یہاں کاروبار کرنے کو تیار نہیں اور ہر صاحب ثروت اپنا مال سمیٹ کر بیرونِ ملک ڈیرے لگا رہا ہے۔ ان حالات میں قوم کی معاشی ترقی بھی کیوں کر ممکن ہے؟

ہمارے حکمرانوں کے سامنے سود کا تذکرہ آئے یا غیروں سے امداد کے خوش نما نام پر بھیک اور گلے میں پڑنے والے طوقوں کا ، تو اسے وہ آرام سے اِسے دنیابھر میں 'چلی آنے والی روایت' کہہ کر اپنے فرض سے سبک دوش ہوجاتے ہیں، فرقہ واریت کی مذمت تو جا بجا کرتے ہیں لیکن اس کے خاتمے کی کوئی سنجیدہ جدوجہد کرنے کو تیار نہیں بلکہ اسے بالواسطہ طورپر پروان چڑھانے میں مگن ہیں۔ حکمرانوں کو اپنے فرائض سے آنکھیں بند کرنے کایہی رویہ مسائل کی جڑ ہے!!

ہم میاں شہباز شریف کی صورت میں ایک قدرے بہتر حکمران کی محنت وخلوص کی قدر کرتے ہیں، اُن کی خدمات کو سراہتے ہیں، اُن کے دردِ دل کو سلام پیش کرتے ہیں، لیکن ان کی تشخیص مرض کے سلسلے میں یہ نشاندہی کرنا چاہتے ہیں کہ وہ مسلم حکمران کے فرائض کو پہچانیں۔ اپنے تعلیمی فرائض، جن سے پوری قوم کی تشکیل وتعمیر ہوتی ہے، کو متوازن کریں۔ معاشرے کی تعمیر وترقی میں اپنی ترجیحات پر نظر ثانی کریں۔ مسلم حاکم کے اصل فرائض کو جانیں اور اس سلسلے میں اُسوۂ نبوی او راُسوہ خلفاے راشدین سےرہنمائی حاصل کریں۔ سائنسی ترقی اور غربت کا خاتمہ کوئی غیر اسلامی ہدف نہیں، لیکن اُن کے حصول کا اسلامی ماڈل اختیار کریں، جس کے نتیجے میں دیرپا تبدیلی اور غربت کا دائمی خاتمہ ممکن ہوسکے گا۔ تفکر وتدبر اور اپنی صلاحیتوں کو کام میں لانے کی اللّٰہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جابجا تلقین کی ہے، لیکن اس سے پہلے سائنس دان کو مسلمان تو بنا لیں، اللّٰہ کا پیروکار بندہ بن کر، وہ اللّٰہ کی نعمتوں سے جو جی میں آئے، استفادہ کرے۔ قرآن کی زبان میں یوں سمجھئے کہ

﴿قُل مَن حَرَّ‌مَ زينَةَ اللَّهِ الَّتى أَخرَ‌جَ لِعِبادِهِ وَالطَّيِّبـٰتِ مِنَ الرِّ‌زقِ ۚ قُل هِىَ لِلَّذينَ ءامَنوا فِى الحَيو‌ٰةِ الدُّنيا خالِصَةً يَومَ القِيـٰمَةِ...٣٢﴾... سورة الاعراف

''کون ہے وہ جو اللّٰہ کی نعمتوں اورزینتوں کو حرام قرار دینےوالا ہے، یہ ایمان والوں کے لئے ہیں دنیا میں ۔ اور یوم آخرت صرف ایمان والوں کا ہی نصیب ہوں گی۔''

تاہم قوم کی اصلاح کا لائحۂ عمل بناتے ہوئے حکمرانوں کو اُن کی دینی ودنیاوی ، دونوں صلاح وفلاح کو پیش نظررکھنا چاہئے، تبھی وہ اپنے فرائض منصبی سے عہدہ برا ہوسکتے ہیں اور اسی سے ملتِ اسلامیہ کی درست تشکیل وتعمیر ہوسکتی ہے۔ وما علینا إلا البلاغ
حوالہ جات

فرمانِ نبویؐ: «طلب العلم فریضة على كل مسلم» (سنن ابن ماجہ: 229)

وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ ... وَ لَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمْنًا١ؕ ... (سورة النور:55)

لَمَّا بَعَثَ مُعَاذًا عَلَى الْيَمَنِ قَالَ: «إِنَّكَ تَقْدَمُ عَلَى قَوْمٍ أَهْلِ كِتَابٍ فَلْيَكُنْ أَوَّلَ مَا تَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ عِبَادَةُ اللَّهِ فَإِذَا عَرَفُوا اللَّهَ فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ قَدْ فَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي يَوْمِهِمْ وَلَيْلَتِهِمْ فَإِذَا فَعَلُوا فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ فَرَضَ عَلَيْهِمْ زَكَاةً مِنْ أَمْوَالِهِمْ وَتُرَدُّ عَلَى فُقَرَائِهِمْ فَإِذَا أَطَاعُوا بِهَا فَخُذْ مِنْهُمْ...» (صحیح بخاری: 1395)

دیکھئے خلفاے راشدین کے خلیفہ مقرر ہونے کے بعد اوّلین خطبات کے متون... سیدنا عمر کے اسلامی معاشرے میں عدل اجتماعی کے قیام کی ذاتی اور ادارہ جاتی کوششیں

قولِ مغیرہؓ بن شعبہ :إخراج العباد من عبادة العباد إلىٰ عبادة رب العباد (تاریخ طبری: 2؍400)

عن جابر قال قال رسول الله ﷺ «إن أحدكم لن يموت حتى يستوفي رزقه فلا تستبطئوا الرزق واتقوا الله وأجملوا في الطلب خذوا ما حل ودعوا ما حرم» (المعجم الاوسط:3109)

اَللّٰهُ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَّشَآءُ وَ يَقْدِرُ١ؕ وَ فَرِحُوْا بِالْحَيٰوةِ الدُّنْيَا١ؕ وَ مَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا فِي الْاٰخِرَةِ اِلَّا مَتَاعٌؒ۰۰۲۶