قاضی موصوف ریاست پٹیالہ میں جج تھے اور عدالتی ذمہ داریاں اس خوبی سے انجام دیں کہ لارڈ ہارڈنگ (Lord Harding) نے کہا کہ:۔

''قاضی موصوف عدالت ہائے پنجاب کے زیور ہیں۔''

مہاراجہ پٹیالہ کو قاضی صاحب کی رائے پر اس قدر اعتماد تھا کہ ان کے ریٹائر ہو جانے کے بعد بھی اہم معاملات میں ان سے مشورہ لیتا تھا۔

قاضی صاحب موصوف عدالتی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ اسلام کی تبلیغ میں سرگرم عمل رہے۔ کم و بیش بیس ۲۰ سال تک جامع اہلحدیث پٹیالہ میں خطبہ جمعہ دیتے رہے۔ اور جب کبھی فرقِ باطلہ کی طرف سے اسلام پر حملہ ہوا، قاضی صاحب قلم بدست میدان میں نکل آئے۔ مذاہبِ غیر میں سے عیسائیت کا اس قدر گہرا مطالعہ تھا کہ بڑے بڑے پادری صاحبان ان کی گفتگو سن کر حیران رہ جاتے تھے اور یارائے گفتگو نہ رکھتے تھے۔ قاضی صاحب نے براہِ راست عیسائیت کے مآخذوں کا مطالعہ کیا تھا۔ عبرانی زبان سے واقف تھے اور بائبل کی تفاسیر پر نظر تھی۔

غازی محمود دھرمپال اسلام سے منحرف ہو کر ۱۹۰۳ء میں آریہ سماجی ہو گیا۔ بعد ازاں قاضی محمد سلیمان منصور پوری کا ایک خط پڑھ کر ۱۹۱۴ء میں دوبارہ حلقۂ اسلام میں داخل ہو گیا۔ ازی صاحب جیسا نقاد اور عقلیت پرست رقمطراز ہے:۔

''میں حیران ہتا تھا کہ قاضی صاحب اسلامی معلومات کے بحرِ ذخار ہیں۔ وہ کتنی صحیح معلومات دیتے تھے کہ میرے جیسے نقاد کو جو اندھی تقلید کا قائل نہ تھا۔ کسی جگہ انگلی رکھنے کا موقع نہیں ملتا تھا۔ ان کی تقریر اس طرح مجھ میں جذب ہوتی جاتی تھی جس طرح کسی پیاسی زمین میں ہلکی ہلکی بارش جذب ہو جاتی ہے اور اس کا ایک قطرہ بھی ضائع نہیں ہوتا۔

قاضی صاحب کی جلالتِ علمی ''رحمۃ للعالمین'' اور ''الجمال والکمال'' (تفسیر سورہ یوسف) سے نمایاں ہے۔ ''رحمۃ للعالمین'' جو تین جلدوں میں نبی اکرم ﷺ کی سوانح ہے۔ اس میں قاضی صاحب موصوف نے ایسے اچھوتے انداز سے سیرتِ نبوی ﷺ کی عکاسی کی ہے کہ داد کے مستحق ہیں۔ ان کی زندگی میں پہلی دو جلدیں شائع ہوئیں تو دینی مدارس میں ان کو نصاب میں شامل کر لیا گیا۔ نبی اکرم ﷺ سے متعلق بائبل کی پیش گوئیوں پر سیر حاصل بحث کی ہے۔ نبی اکرم کے شجرہ نسب اور تاریخ پیدائش پر بے نظیر تحقیق پیش کی ہے۔

مولانا سید سلیمان ندوی ''رحمۃ للعالمین جلد سوم'' کے دیباچے میں لکھتے ہیں:

''رحمۃ للعالمین کی بڑی خصوصیت یہ ہے کہ مصنف کے ذوق کے مطابق سوانح اور واقعات کے ساتھ غیر مذاہب کے اعتراضات کے جوابات اور دوسرے صحفِ سماوی کے ساتھ موازنہ اور خصوصیت سے یہود و نصاریٰ کے دعاوی کا ابطال بھی اس میں جابجا ہے۔ مصنف مرحوم کو تورات اور انجیل پر کمال عبور حاصل تھا اور عیسائیوں کے مناظرانہ پہلوؤں سے اس کو پوری واقفیت تھی۔ اس بناء پر اس کی یہ کتاب ان معلومات کا پورا خزانہ ہے۔۔۔ مناظرانہ طریقِ تصنیف میں سنجیدگی اور متانت کا برقرار رکھنا سخت مشکل کام ہے۔ مگر جس طرح خود مصنف مرحوم اس وصف میں ممتاز تھے۔ اسی طرح ان کی یہ تصنیف بھی اس وصف میں امتیاز رکھتی ہے۔ پوری کتاب مناظرہ اور اعلائے حق کی رودادوں سے لبریز ہے تاہم کہیں تہذیب اور مذاقِ سلیم کو حرف گیری کا موقع نہیں مل سکتا۔ ''

قاضی صاحب موصوف کی تصانیف میں بدری صحابہؓ کے حالات، زندگی موسوم بہ ''اصحاب بدر'' قابلِ قدر تذکرہ ہے اور سفر نامہ حجاز بھی کام کی چیز ہے مگر ''مکاتیبِ سلمان'' اپنی نوعیت کے لحاظ سے ہمارے موضوع سے زیادہ قریب ہیں۔ ان مکاتیب کے مخاطبوں میں ہندو، مسلمان، عیسائی، آریہ سماجی اور دیانندی سب ہی شامل ہیں۔ ان مکاتیب میں وہ مکتوبِ ہدایت بھی شامل ہے جس نے دھرم پال کو غازی محمود میں بدل دیا۔

۱۹۰۶ء میں قاضی موصوف کو ایک خط ملا۔ مکتوب نگار نے لکھا تھا کہ:

''اگر مجھے تسلی بخش جواب نہ ملا تو میں عیسائی ہو جاؤں گا۔''

قاضی صاحب نے اس کا جواب آدھ گھنٹہ میں لکھ کر حوالۂ ڈاک کر دیا۔ جواب سے مکتوب نگار کو اطمینانِ قلب حاصل ہوا اور استقامت سے دینِ اسلام کی خدمت کرنے لگا۔

مکتوب نگار نے عیسائیت کی طرف مائل ہونے کے اسباب یہ بیان کئے تھے:

1. قرآن مجید میں بہت سی باتیں ایسی ہیں جنہیں عقل تسلیم نہیں کرتی۔ مثال کے طور پر حضرت ابراہیم کا آگ سے زندہ نکل آنا وغیرہ۔

2. محمد رسول اللہ ﷺ کی تعلیم خدا کی طرف سے نہ تھی، اپنی طرف سے تھی۔

3. مسلمان لڑتے جھگڑتے ہیں اور نماز کے مسئلوں کے لئے عدالت میں جاتے ہیں۔

4. قرآن نے مسیح کو روح اللہ کہا ہے۔ اس سے مسیح کا ابن خدا ہونا مراد ہے۔

5. عرب کے بدو جو اسلام کے پیروکار ہیں، جاہل اور غیر متمدن ہیں، لہٰذا اسلام سچا مذہب نہیں۔ وغیرہ۔

پہلے اعتراض کا جواب قاضی صاحب نے یوں لکھا:۔

''جناب من! اگر آپ عیسائیوں کے مندرجہ ذیل بیانات کو صحیح تسلیم کرتے ہیں:

٭ اسرائیل رات بھر خدا کے ساتھ کشتی کرتا رہا۔

٭ یوشعؑ نے چادر مار کر دریا کو پھاڑ دیا اور اس میں خشک نکل آیا۔

٭ یوشعؑ کے لئے آسمان سے آتشیں رتھ آیا اور وہ اس میں سوار ہو کر آسمان پر چڑھ گیا۔

٭ یونسؑ تین دن تک مچھلی کے پیٹ میں رہ کر زندہ نکل آئے۔

٭ مسیحؑ تین دن تک قبر میں مردہ رہ کر پھر زندہ ہوا اور حواریوں کی آنکھوں کے سامنے آسمان پر چڑھ گیا۔ وغیرہ۔

تو پھر تعجب ہے کہ حضرت ابراہیم کا جلتی آگ سے سلامت نکل جانا کیوں آپ کی ٹھوکر کا سب ہوا۔''

دوسرے اعتراض کا جواب قاضی صاحب نے یہ دیا ہے کہ:۔

''اگر نبی اکرم ﷺ کی تعلیمات اپنی طرف سے ہوتیں تو اس کا تقاضا یہ تھا کہ اس وقت موجودہ اقوام میں سے کسی ایک کو اپنے ساتھ ملاتے لیکن انہوں نے حضرت عیسیٰؑ کی ہستی اور ان کی تعلیمات کے بارے میں جو تعلیمات دیں۔ ان سے نہ تو یہودی خوش ہوئے اور نہ عیسائی ہی۔ ظاہر ہے کہ اگر یہ انسانی تعلیمات ہوتیں تو کسی ایک گروہ کو قریب لانے کے لئے ان کی تمام تعلیمات کو سچا کہہ دیا جاتا۔''

تیسرے اعتراض کا جواب یوں لکھا:۔

''نماز کے ارکان یہ ہیں۔ قیام، قرأت، قرآن مجید، رکوع، قومہ، سجدہ، جلسہ اور سلام۔ ان ارکان کے ارکان ہونے پر سب کو اتفاق ہے۔ لیکن اس کے برعکس عیسائیوں کی گروہ بندی کو سامنے رکھئے۔ نیز اگر عیسائیوں کی گروہ بندی عیسائیت کی تکذیب کی علامت نہیں تو اسلام کے بارے میں ایسا حکم کیوں کر لگایا جا سکتا ہے؟''

چوتھے اعتراض کا جواب قاضی صاحب کے الفاظ میں یہ ہے:۔

''قرآن مجید میں حضرت مسیح کی نسبت ہے ''وَرُوْحٌ مِّنْهُ'' لیکن اس سے حضرت مسیح کی الوہیت کیوں کر ثابت ہوئی یا وہ ابن خدا کیوں کر بن گئے۔ قرآن مجید نے حضرت مسیح کی جامع تعریف جو بیان فرمائی ہے وہ یہ ہے۔﴿إِن هُوَ إِلّا عَبدٌ أَنعَمنا عَلَيهِ﴾ مسیح ہمارا وہ بند ہے جس پر ہم نے اپنا انعام کیا۔ اب جو جو صفات ان کے بیان ہوئے ہیں وہ سب عبدیت کے تحت میں ہیں۔۔۔۔ اس فقرہ پر ور کرو جس کو مسلمان ہر روز پڑھتے ہیں«رَبُّنَا وَرَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوْحِ» خدا ہمارا، فرشتوں اور روح کا پالنے والا ہے۔ اس سے معلوم ہو جائے ا کہ روح بھی خدا کی مخلوق اور پیدا کردہ ہے۔ اس لئے حضرت مسیح ''رُوْحٌ مِّنْهُ'' کا خطاب پا کر بھی خدا کی مخلوق اور بندے ہی رہتے ہیں۔''

آخری سوال کا جواب قاضی صاحب نے الزامی رنگ میں لکھا ہے:۔

''جنابِ من! آپ نے جو نتیجہ نکالا ہے وہ ہرگز صحیح نتیجہ اس واقع کا نہیں ہے۔

٭ کیا آپ کو معلوم ہے کہ مسیح نے پطرس حواری کو شیطان کہا تھا ؟

٭ کیا آپ کو معلوم ہے کہ مسیح کو یہواہ اسکریوطی نے تیس روپیہ رشوت لے کر گرفتار کرا دیا تھا؟

٭ کیا آپ کو معلوم ہے کہ مسیح اپنے چیدہ شاگردوں کو کم اعتقاد کہہ کر مخاطب کیا کرتا تھا ؟

٭ کیا آپ کو معلوم ہے کہ مسیح نے حواریوں کو ان کی بے ایمانی جتلا کر یہ کہا کہ تم میں ایک رائی کے دانہ برابر ایمان ہوتا تو پہاڑ کو کہتے کہ یہاں سے وہاں چلا جا تو وہ چلا جاتا ۔

٭ کیا آپ کو معلوم ہے کہ پطرس نے مسیح کا انکار کر کے مسیح پر لعنت بھیجی تھی ۔''

۱۹۱۴ء میں کوئٹہ سے ایک پادری نے قاضی صاحب سے مندرجہ ذیل سوالات دریافت کیے:

1. ''تورات، صحفِ انبیاء، انجیل اور قرآنِ مجید آپس میں کیا نسبت رکھتے ہیں؟

2. حضرت موسیٰؑ، حضرت عیسیٰؑ اور حضرت محمد کے مدارج کیا ہیں؟

3. حضرت محمد کی زندگی کا برتاؤ کیسا تھا؟''

قاضی صاحب نے پادری کے ان سوالات کا جوا لکھا جو 'برہان' کے نام سے شائع ہوا ہے۔ اسی طرح ۱۹۱۸ء میں ایک عیسائی کے لکھے ہوئے کتابچے کا جواب ''ایک اعتراض کا جواب'' کے نام سے لکھا۔ (مزید آئندہ)

ذی قعدہ

قاضی اس ماہ کی فضیلت کے متعلق کوئی حدیث نہیں ملتی۔ ہاں یہ مہینہ اشہر حرم میں سے ہے اور یہی امر اس کی فضیلت کا باعث ہے۔ حاجی اس مہینہ میں حج یا عمرہ کا احرام باندھ سکتے ہیں۔ باقی لوگ عام معمول کے مطابق عبادات ادا کریں۔ (اتباع الحسنۃ فی جملۃ ایام السنۃ)
حوالہ جات

فی الحقیقت یہ رپورٹ مسٹر ایل ٹامکنس، انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب کی سفارش پر اپریل ۱۹۰۳ء کے گورنمنٹ گزٹ میں شائع ہوئی تھی۔

(That he is an element for the judiciary of the Punjab)

سیارہ ڈائجسٹ (فروری ۶۷ء)

دیباچہ رحمۃ للعالمین جلد دوم ص ۹

یوحنا۔ ۶: ۷۱

مئی ۱۴: ۱۳، ۱۶: ۸

متی، ۱۷: ۱۷

متی، ۲۷: ۶۹۔ ۷۵