نظامِ کائنات پر غور فرمائیے! آگ کی حدّت اور برف کی برودت، جھلسا دینے والی گرمی اور کپکپا دینے والی سردی، دن کی روشنی اور رات کی تاریکی، خزاں کی بے رونقی اور بہار کی بہاریں کانٹوں کا زہر اور پھولوں کی صباحت و ملاحت، پتھر کی ٹھوس اور سنگلاخ چٹانیں اور پانی کی روانی کفر و شرک کی آندھیاں اور اسلام کی رحمت آلود گھٹائیں غرض اضداد و اختلافات کا ایک سلسلہ جس پر دنیا کی بقاء کا انحصار ہے۔

اگر پانی آگ کو ٹھنڈا نہ کرے اور آگ پانی کو ہوا میں تحلیل نہ کرے، سردی کے بعد گرمی اور گرمی کے بعد سردی نہ آئے، روشنی کے بعد تاریکی اور تاریکی کے بد روشنی جنم نہ لے، اگر بہار کا انجام خزاں اور خزاں کا نتیجہ بہار نہ ہو، گل کے ساتھ کانٹا اور کانٹے کے ساتھ پھول نہ ہو اور اگر پتھر کی سنگینی کے مقابلے میں پانی کی روانی نہ ہو تو اس دنیا کا باقی رہنا مشکل ہے۔

بالکل اسی طرح اگر نیکی برائی سے بر سر پیکار نہ ہو اور برائی نیکی کے راستے میں حائل نہ ہو تو نیکی اور برائی دونوں کا وجود مٹ جائے، اگر کفر و شرک کی تیرہ و تاریک آندھیاں نہ چلیں تو توحید و وحدت کے سرچشمے کبھی نہ پھوٹیں۔ اور اگر کفر اسلام کے در پے آزار نہ ہو اور اسلام کفر کو نیست و نابود کرنے کے لئے شمشیر بکف نہ ہو تو کفر اور اسلام دونوں کا باقی رہنا محال ہے۔ چنانچہ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے جہاں سفر کی حالت کا نقشہ﴿يُر‌يدونَ لِيُطفِـٔوا نورَ‌ اللَّهِ بِأَفو‌ٰهِهِم﴾... سورة الصف" یعنی یہ لوگ اللہ کے نور کو اپنے منہ کہ پھونکوں سے بجھانا چاہتے ہیں، کے الفاظ سے کھینچا ہے۔ وہیں اسلام کی حمایت میں یہ بھی بیان فرما دیا ہے ﴿وَاللَّهُ مُتِمُّ نورِ‌هِ وَلَو كَرِ‌هَ الكـٰفِر‌ونَ ﴿٨﴾... سورة الصف" کہ اللہ اپنے نور کا حافظ و نگہبان ہے اگرچہ ہے اگرچہ کفار اسے کتنا کریں۔

غیر اسلامی نظریات رکھنے والے اسلام کے دشمن اسلام کو صفحۂ ہستی سے مٹانے کا تہیہ کئے ہوئے ہیں اور اس مقصد کے حصول کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگاتے چلے آرہے ہیں۔ لیکن اب تک اسلام کی مضبوط چٹان سے اپنا سر ٹکرا کر پاش پاش کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کر سکے۔ بلاشبہ اس بات کا سہرا قرون اولیٰ کے مسلمانوں کے سر پر ہے۔ جنہوں نے شجر اسلام کی آبیاری اپنے خون سے کر کے اسے پروان چڑھایا ہے۔

موجودہ دور کے مسلمانوں کی بد قسمتی یہ ہے کہ وہ علم دین اور اسلامی تعلیمات سے برگشتہ ہوتے چلے جا رہے ہیں اور جو لوگ اسلام سے وابستی رہنا چاہتے ہیں اور اس کی روایات کو اپنائے ہوئے ہیں، انہیں اپنے ہی لڑائی جھگڑوں سے مفر نہیں۔ تو اس صورت میں کیا ہمیں یہ سمجھ لینا چاہئے کہ اسلام مٹ جائے گا اور انوارِ الٰہی کو کفر و شرک کی آندھیاں اپنی لپیٹ میں لے لیں گی؟ ہرگز نہیں! اللہ تو خود اپنے دن کا محافظ ہے۔ البتہ یہ ضرور ہو گا کہ ہم مٹ جائیں گے۔ اگر ہم نے خود کو اسلام کے دفاع کے لئے تیار نہ کیا اور تعلیمات اسلامی جیسے مؤثر ہتھیار سے اپنے آپ کو لیس نہ کیا تو اسلام کو تو کچھ گزند نہ پہنچے گا۔ ہاں دنیا ہمارے وجود سے ضرور پاک ہو جائے گی اور پھر۔؟
ہماری داستاں تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں

یورپ کے مستشرقین اور غیر اسلامی نظریات کے مالک آج بھی اسلام کے در پے آزار ہیں اور اپنے فریب اور مکاریوں کے جال میں کم علم مسلمانوں کو پھانسنے کے لئے بے تاب نظر آتے ہیں۔ اس سے بڑھ کر کمینگی اور کیا ہو گی کہ وہ داعی اسلام ﷺ کی ذات اقدس پر بھی حملہ کرنے سے نہیں چوکتے۔ اور طرح طرح کے وسواس پھیلا کر سادہ لوح مسلمانوں کو ان کے دین، ان کے رسول اور ان کے خدا سے برگشتہ کرتے چلے جا رہے ہیں۔ مگر اس میں ان کا کیا قصور ہے وہ تو اپنا کام کر رہے ہیں قصور تو ہمارا ہے جو ان کی شاطرانہ چالوں سے واقف ہونا ہی نہیں چاہتے اور جنہیں اپنے فرائضِ منصبی کا احساس تک نہیں۔

آپ رسول اللہ ﷺ کی حیاتِ مبارکہ ہی کو لیجئے غیر مسلموں نے آپ کی ذاتِ اقدس پر کس قدر رکیک حملے کئے ہیں۔ اور اس کے مقابلے میں اپنی قوت دفاع کا اندازہ لگائیے کہ ہم کس قدر تہی دست اور خالی الذہن ہیں۔ مثلاً ایک سوال یہ کیا جاتا ہے کہ ''جب قرآن مجید میں چار سے زیادہ شادیوں کی ممانعت ہے تو رسول اللہ ﷺ نے بیک وقت نو بیویوں سے عقد کیوں فرمایا؟

اس ''سوال سے زیادہ اعتراض'' کا جواب دینے کے لئے آپ اپنے گرد و پیش نظر دوڑائیے اور ذہنِ رسا پر زور دے کر سوچئے کہ کتنے فی صد مسلمان ہم میں موجود ہیں جو اس کا کافی و وافی جواب دے سکیں گے؟ زیادہ سے زیادہ پانچ یا دس فی صد، ورنہ اکثر تو ہم میں ایسے ہوں گے کہ جنہیں اس اعتراض کے وجود کی ہی خبر نہ ہو گی۔ تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمارے عامۃ المسلمین تعلیمات اسلامیہ سے مستغنی کیوں رہنا چاہتے ہیں اور یا پھر ہمارے علماء دین ہی (إلا ماشا اللہ) ان مسائل میں دلچسپی کیوں نہیں لیتے؟ کیا وہ اس طرح اپنی حمیّتِ دینی اور یرتِ اسلامی کا جنازہ اُٹھتے دیکھ لیں گے؟ یا وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان باتوں سے دامن بچا لینے کے باوجود وہ ان کے تباہ کن اثرات سے محفوظ رہ سکیں گے؟ (واللہ الموفق)

ذیل میں اس اعتراض کا جواب مدلّل طور پر دیا جاتا ہے، تاکہ عامۃ المسلمین استفادہ فرما سکیں۔

مندرجہ بالا اعتراض کے الفاظ پر اگر غور کیا جائے تو اعتراض کی وجہ اور اس کا محرک سمجھنا کچھ مشکل نہ ہو گا۔ اکبر الٰہ آبادی فرماتے ہیں:
کہا منصور نے خدا ہوں میں       ڈارون بولا، بو زنا ہوں میں
ہنس کے کہنے لگے مرے اک ددوست        فکر ہر کس بقدرِ ہمت اوست


ایک اقدارِ روحانی کا حامل ذہن تو رسول اللہ ﷺ کی حیاتِ مبارکہ کے کسی پہلو کو بھی اسے فعلِ رسول کی حیثیت دیتے ہوئے قال تنقید و اعتراض نہیں سمجھتا۔ اس کے لئے تو با وثوق ذرائع سے یہ معلوم کر لینا ہی کافی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فلاں کام کیا۔ اور اس کے بعد وہ اس پر، ''آمنّا وصدّقنا'' کی مہر تصدیق ثبت کر دیتا ہے۔ اس وقت اس کے ذہن میں ''کیوں'' اور ''کیسے'' کے سوالات کی قطعاً گنجائش نہیں ہوتی کیونکہ وہ بخوبی سمجھتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا ہر قول اور ہر فعل اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ قرآن مجید اس کی شہادت یوں بیان فرماتا ہے:

﴿وَما يَنطِقُ عَنِ الهَوىٰ ٣ إِن هُوَ إِلّا وَحىٌ يوحىٰ ﴿٤﴾... سورة النجم

اسے ایک صحيح العقيده مسلمان كا عقيده سمجھ ليں يا اسے مسلمانوں كی كمزوری كا نام دیجئے کہ وه آپ ﷺ كے ہر فعل کی وجہ جواز كو نظر انداز كر ديتے ہيں۔ بہرحال یہی وه چيز ہے جس سے معاندينِ اسلام نے ناجائز فائده اُٹھايا اور آپ ﷺ كی ذاتِ اقدس کو ہدفِ تنقید بنانے کی ناپاک جسارت کی۔ چنانچہ ایک مادہ پرست ذہن جب آپ ﷺ کی سیرت و کردار کا جائز لیتا ہے۔ دریں حالیکہ اس نے اپنی آنکھوں پر تعصب کی عینک بھی چڑھا رکھی ہو تو وہ آپ ﷺ کے ہر ق۲قول اور فعل کو روحانیت اور مصلحت کی کسوٹی پر پرکھنے کی بجائے مادیت کے نقطۂ نگاہ سے دیکھتا ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے بیک وقت نو بیویوں سے عقد فرمانے میں ان مادہ پرستوں کی کوئی مصلحت جو کہ ظاہر و باہر ہے نظر نہ آئی اور انہوں نے اسے مقتضائے جسمانی کا سبب قرار دیا۔ کیوں نہ ہو، كُلُّ إِنَاءٍ يَتَوَشَّحُ بِمَا فِيْهِ !

اس نا انصافی اور صریح ظلم کا پول کھولنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی حیاتِ مبارکہ کا بغور جائزہ لیا جائے۔ اور ان مصالح سے واقفیت حاصل کی جائے، جو آپ ﷺ کے اس فعلِ حسنہ میں پوشیدہ تھیں۔

ہم دیکھتے ہیں کہ آپ ﷺ کی حیاتِ مبارکہ کے ۶۳ سال میں ابتدائی ۲۵ سال کمال تجردّ سے گذرتے ہیں۔ جس بزرگ نے ۲۵ سال تک عین عنفوانِ شباب اور جوشِ جوانی کا زمانہ کمال تقویٰ اور نہایت ورع کے ساتھ پورا کیا ہو اور جس کے حسنِ مردانہ کے کمال نے اعلیٰ سے اعلیٰ خواتین کو اس سے تزویج کا آرزومند کر دیا ہو، اس کے باوجود بھی ربع صدی تک اس کے تجردّ و تفردّ پر کوئی شے غالب نہ آئی ہو، اور جس نے اپنی سیرت و کردار کا ایک ایسا عملی نمونہ پیش کیا ہو کہ تمام دنیا کیلئے مشعل راہ بن جائے، ایسے شخص کی نسبت اعلیٰ رائے قائم کرنے میں کون سی چیز مانع ہے؟ جس مقدس ہستی نے ۲۵ سے ۵۰ سال تک کی عمر کا زمانہ ایک ایسی خاتون کے ساتھ بسر کیا ہو جو عمر میں ان سے ۱۵ سال بڑی اور ان سے پیشتر و شوہروں کی بیوہ رہ کر کئی بچوں کی ماں بن چکی ہو اور مغمر ہو چکی ہو اور پھر اس مدّتِ تزویج کے پورے زمانہ میں حضور ﷺ کی دل بستگی و محبت میں ذرا کمی نہ آئی ہو بلکہ اس خاتون کے دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد بھی حضور ﷺ نے ہمیشہ اس کی یاد کو تازہ رکھا ہو، کیا ایسی ہستی کی نسبت کوئی شخص کہہ سکا ہے کہ (حاکم بدہن) اس تزویج کی وجہ وہی تھی۔ جو عام طور پر پرستارانِ حسن کی شادیوں میں اکثر پائی جاتی ہے؟ اور یا جو دانایانِ فرنگ کی عقل کا ماتم کرتی ہوئی نظر آتی ہے؟

نبی ﷺ کی حیاتِ مبارکہ میں سے (۵۵ تا ۵۹ سال کی درمیانی مدت کا) پنج سالہ زمانہ ایسا ہے۔ جب ازواج مطہرات سے حجرات آباد ہوئے تھے اور ظاہر ہے یہ عمر شادی کے لئے کسی صورت موزوں نہیں سمجھی جاتی، خصوصاً جب کہ نبی ﷺ کی یہ حدیث بھی موجود ہے کہ «ما لي في النساء حاجةٌ» (مجھے عورتوں کی کوئی حاجت نہیں) تو اس صورت میں یہ سمجھنا کچھ مشکل نہ ہو گا کہ آنحضرت ﷺ نے جس قدر نکاح کئے ان کی بنیاد فوائدِ کثیرۂ دین، مصالح جمیلۂ ملک اور مقاصدِ حسنۂ قوم پر قائم تھی اور ان فوائد، مصالح اور مقاصد کا حصول اس قدیم ترین زمانہ اور عرب جیسے جمود پسند اور روایت پسند ملک میں تزویج کے بغیر ممکن ہی نہ تھا۔

اُمٌ المومنین حضرت صفیہؓ کے نکاح کا مقصدِ حسنہ:

ام المومنین حضرت صفیہؓ کے نکاح پر غور کیجئے، اس سے پیشتر جس قدر لڑائیاں مسلمانوں کے خلاف کفار نے لڑیں ان میں سرّاً یا علانیۃً یہود کا تعلق ضرور ہوتا تھا۔ لیکن چونکہ حضرت صفیہؓ کا نسب یہود ابن یعقوب تک منتہی ہوتا ہے۔ لہٰذا تزویجِ صفیہؓ کے بعد یہود مسلمانوں کے خلاف کسی جنگ میں شامل نہیں ہوئے۔ دیکھئے یہ نکاح کس قدر ضروری تھا۔ اور یہود کورام کرنے کا یہ کس قدر مؤثر اقدام تھا۔ بلاشہ یہود کی مخالفت مسلمانوں کے لئے دردِ سر بنی ہوئی تھی۔ اور آنحضرت ﷺ کو اس امر کا احساس تھا کہ اگر یہود اسلام کی راہ میں روڑے نہ اٹکائیں تو ترویج و ترقی اسلام میں بہت سی رکاوٹیں از خود دور ہو سکتی ہیں۔

تزویج اُمّ المؤمنین حضرت اُمّ حبیبہؓ اور اس کے فوائد:

اُمّ المومنین حضرت ام حبیبہؓ ابو سفیان کی بیٹی تھیں۔ جو عمائد قریش میں سے تھا اور قوم کا نشانِ جنگ اس کے گھر میں رکھا رہتا تھا۔ جب یہ نشان باہر کھڑا کیا جاتا تو تمام قوم پر آبائی ہدایات اور قومی روایات کے اتباع میں لازم ہو جاتا تھا کہ سب کے سب اس جھنڈے کے نیچے فوراً جمع ہو جائیں اور لڑنے مرنے کے لئے تیار ہو جائیں۔ احد، حمراء الاسد، بدر الاخریٰ اور احزاب وغیرہ کی لڑائیوں میں ابو سفیان ہی اس نشان کو لئے ہوئے قائدِ قریش بنا مسلمانوں کے خلاف صف بستہ نظر آتا ہے۔ لیکن جب رسول اللہ ﷺ نے اپنی دور اندیشی کی بنا پر حضرت ام حبیبہؓ سے نکاح فرمایا تو ابو سفیان نہ صرف مسلمانوں کے خلاف فوج کشی کرتا نظر نہیں آتا بلکہ تھوڑے ہی عرصہ کے بعد خود بھی اسلام کے جھنڈے تلے آ کر پناہ لیتا ہے۔ کیا اب بھی کوئی شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ نکا غیر ضروری اور دُور از مصلحت تھا۔

نکاح اُمّ المؤمنین جویریہؓ اور امنِ عامہ:

ام المؤمنین حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا کے نکاح میں جو مصلحت پوشیدہ ہے وہ یہ ہے کہ ان کا باپ مشہور رہزن ڈکیتی پیشہ ہونے کے ساتھ ساتھ مسلمانوں سے خاص دلی عداوت رکھتا تھا۔ بنو مصطلق کا مشہور طاقتور اور جنگ جُو قبیلہ، جو چند در چند شعوب پر محتوی تھا۔ اس کے اشارہ پر کام کرتا تھا اور یہی وجہ ہے کہ اس تزویج سے پیشتر ہر ایک جنگ میں جو مسلمانوں کے خلاف ہوئی، اس قبیلہ کی شرکت ضرور ہی پائی جاتی ہے۔ لیکن اس نکاح کے بعد یہ منافرتیں نابود ہو جاتی ہیں تمام قبیلہ قزاقی چھوڑ کر متمدن زندگی اختیار کر لیتا ہے اور پھر مسلمانوں کے خلاف کسی جنگ میں حصہ نہیں لیتا۔ ذرا غور کیجئے کہ یہ نکاح کس قدر ضروری اور لا بُدی تھا۔

تزویج اُمّ المؤمنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے فوائد:

اُمّ المؤمنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کی ایک بہن بخد کے سردار کے گھر میں تیں، یہ اہلِ بخد وہ تھے کہ جنہوں نے ستر واعظان دین کو دھوکہ سے اپنے ملک میں لے جا کر قتل کر دیا تھا۔ لیکن رسول اللہ ﷺ کی حکمتِ عملی اور دُور اندیشی ملاحظہ فرمائیے کہ انہوں نے حضرت میمونہؓ سے عقد فرما کر اہل بخد کے سردار سے اپنا رشتہ استوار کر لیا۔ اور آپ ﷺ کی توقع کے عین مطابق اس رشتہ کی وجہ سے اہل بخد نہ صرف صلح دامن سے آشنا ہوتے ہیں، بلکہ مشرف بہ اسلام بھی ہو جاتے ہیں۔ اور وہ اہل بخد جن سے اکثر نقضِ امن اور فساد انگیزی کے واقعات ظہور میں آچکے تھے، صلح و آتشی کا پیغام بن جاتے ہیں۔ چنانچہ ہر ایک شخص، جو امنِ عامہ اور فوائدِ اصلاحِ ملک کا منکر نہیں، اسے یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ یہ نکاح بھی اپنی جگہ بہت ضروری اور نہایت با برکت تھا۔

تزویج اُمّ المؤمنین حضرت زینب بنت حجشؓ اور تثلیث و تبنیت کی بُت شکنی:

یہاں ان وجوہات اور مصالح کا ذِکر ذرا تفصیل سے کیا جائے گا جو اُمّ المؤمنین حضرت زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا سے نکاح کا سبب بنیں۔

حضرت زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا رسول اکرم ﷺ کی پھوپھی زاد بہن تھیں۔ ان کا پہلا نکاح زیدؓ بن حارثہ کے ساتھ ہوا تھا۔

زید بن حارثہؓ اگرچہ حسب و نسب کے لحاظ سے نجیب الطرفین تھے تاہم لڑکپن میں ایک گروہ نے ان کو اُٹھا لیا اور سوقِ حباشہ میں ان کو فروخت کر دیا۔ حکیم بن حزام انہیں حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کی خدمت کے لئے خرید لائے، جب رسول اللہ ﷺ نے حضرت خدیجہؓ سے عقد فرمایا تو ان کے ساتھ حضرت زید بن حارثہؓ بھی حضور صلعم کی خدمت میں آگئے۔ کچھ عرصہ بعد حضرت زیدؓ کے والد اور چچا جو ان کی تلاش میں تھے ٹوہ لگاتے لگاتے مکہ معظمہ پہنچ گئے اور رسول اللہ ﷺ سے درخواست کی کہ زیدؓ کو واپس کر دیا جائے۔ لیکن رسول اللہ ﷺ کا سلوک اپنے اس غلام کے ساتھ اس قدر مشفقانہ تھا کہ حضرت زیدؓ نے خود ہی اپنے والدین کے ساتھ جانے پر رسول اللہ ﷺ کی خدمت کو ترجیح دی اور اس طرح حضرت زیدؓ مستقل طور پر دامنِ رسول ﷺ سے وابستہ ہو کر رہ گئے۔

مندرجہ بالا واقعات شاہد ہیں کہ دنیاوی رسوم کے مطابق حضرت زیدؓ بلاشبہ ایک غلام تھے۔ غلام۔ ایک تحقیر آمیز لفظ، دورِ جاہلیت کے ظلم و ستم کی ایک زندہ تصویر، آزاد ماں کے پیٹ سے آزاد پیدا ہونے والے شخص کی ذہنی، جسمانی اور عملی، آزاد صلاحیتوں کا جمود اور تعطّل!

لیکن دانایانِ فرنگ ہمہ تن گوش ہوں، اسلام کو ''آزادی کا دشمن'' اور غلامی کا موجد ، جیسے خطابات سے نوازنے والے دل تھام لیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنے پور کنبے کی مخالفت کے باوجود، زمانے کی ساری مخالف قوتوں سے ٹکرا کر، رسومِ جاہلیت کے بت کو پاش پاش کر کے اپنے اس غلام کی شادی، ایک آزاد عورت، وقت کے سبب سے معزز قبیلہ قریش کی معزز خاتون اور اپنی سگی پھوپھی زاد بہن حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے کر دیتے ہیں۔ خاندان کی آن کے محافظ چیختے ہیں۔ رسم و رواج، سماج اور معاشرہ بیک آواز ہو کر صدائے احتجاج بلند کرتے ہیں۔ کبر و نخوت کے دیو چنگھاڑتے ہیں، لیکن عزیمت و وقار کا یہ مجسم، صلح و آشتی کا یہ پیام بر، شفقت و رحمت کا یہ بحرِ ناپید کنار، اپنے ایک ہی ریلے میں ان تمام مخالف قوتوں کو اپنی آغوش میں سمیٹ کر غرق کر ڈالتا ہے۔

لیکن بات یہیں پر ختم نہیں ہو جاتی۔ ابھی ایک اور اس سے سخت آزمائش باقی ہے۔ حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی اپنے شوہر زید بن حارثہؓ سے نہیں بنتی، ہر طریقہ آزمایا جاتا ہے، ہر قوّتِ برداشت سے کام لیا جاتا ہے۔ لیکن میاں بیوی کے متفرق ذہن کوئی بات قبول نہیں کرتے اور بالآخر نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ زید بن حارثہؓ حضرت زینب بنت حجشؓ کو طلاق دے دیتے ہیں۔

اس طلاق کا نبی اکرم ﷺ کے قلبِ مبارک پر کیا اثر ہوا ہو گا۔ اوّل تو حضور ﷺ کی اس مصلحتِ دینیہ کو صدمہ پہنچا جس کے استحکام کی خاطر آپ ﷺ نے زمانے بھر سے ٹکر لی تھی، دوم زینبؓ اور ان کے خاندان والوں کی اطاعت اور اس اطاعت کے ضمن میں ان کے آماجِ مصیبت ہونے کا واقعہ بھی حضور اکرم ﷺ کے رحم پرور قلب کے لئے کچھ کم صبر آزما نہ تھا۔ ان حالات میں اللہ تعالیٰ بذریعہ وحی آسمانی رسول اکرم ﷺ کو ہدایت فرماتے ہیں کہ زینبؓ ک قلبِ محزون کو اطمینان اور تسلی صرف اسی صورت حاصل ہو سکتی ہے کہ حضور صلعم خود ان سے عقد فرما لیں۔

رسم و رواج کی زنجیریں دوبارہ کھڑکھڑاتی ہیں، تبنیت کا بت مجسمِ احتجاج بن جاتا ہے، سماج اور معاشرہ کی شوریدہ سر لہریں دوبارہ اس چٹان سے ٹکرانے لگتی ہیں لیکن خدا کا حکم پورا ہوتا ہے اور رسول اللہ ﷺ حضرت زینب رضی اللہ عنہا کو اُمّ المؤمنین ہونے کا شرف عنایت فرما دیتے ہیں۔ اللہ اکبر! مصالح دینی کا یہ مرقع، جس کے اس فعل حسنہ سے متبنیٰ گری کی جڑیں کٹ گئیں اور تبنیت و تثلیث کا بت چکنا چور ہو کر سمندر میں غرق ہو گیا اور ایک غلط معاشرہ کی پروردہ غلط رسم کا خاتمہ ہو گیا۔ اب اسلام نے عملاً یہ ثابت کر دکھایا کہ متبنّٰی (منہ بولا بیٹا) حقیقی بیٹے کی جگہ کسی صورت نہیں لے سکتا۔ نہ ہی وراثت میں حقیقی بیٹے کی طرح حصہ دار بنایا جا سکتا ہے۔ اور نہ ہی متبنّٰی کی مطلقہ بیوی، بیٹا بنانے والے پر حرام ہوتی ہے۔ ہاں حقیقی بیٹے کی بیوی باپ پر قطعاً حرام ہے۔ اور حضرت زیدؓ آنحضرت ﷺ کے متبنّٰی ہونے کے باوجود حقیقی بیٹے کی حیثیت نہیں رکھتے۔ لہٰذا رسول اللہ ﷺ کو حضرت زیدؓ کی مطلقہ بیوی سے نکاح کرنے میں کوئی جھجھک مانع نہ ہونی چاہئے۔ یہ تھی وہ مصلحتِ دینی جس کی خاطر رسول اللہ ﷺ نے حضرت زینبؓ سے عقد فرمایا۔ کیا کوئی بھی ذی ہوش اس شادی کی افادیت سے انکار کر سکتا ہے؟

قصہ تزویج حضرت اُم سلمؓہ اور اس کا بنیادی سبب:

حضرت اُمِّ سلمہؓ حضرت ابو سلمہؓ کی بیوی تھیں۔ ابو سلمہؓ قدیم الاسلام تھے۔ کفارِ مکہ کی سختیوں سے تنگ آکر انہوں نے ہجرتِ مدینہ کا قصد فرمایا۔ لیکن ابو سلمہؓ کے والدین نے، جو کافر تھے، ان سے ان کے بیٹے سلمہ کو چھین لیا کہ خود جہاں جی چاہے جاؤ ہم سلمہ کو تمہارے ساتھ نہیں بھیجیں گے۔ اسی طرح حضرت ام سلمہؓ کے والدین نے بھی اپنی بیٹی (اُم سلمہؓ) کو ان کے ساتھ بھیجنے سے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا کہ ایک مسلمان کے ساتھ ہم اپنی بیٹی کو نہیں بھیج سکتے۔ حضرت ابو سلمہؓ کے لئے بیٹے اور بیوی سے علیحدگی کا تصور بھی ہولناک تھا۔ لیکن صبر و استقامت کا یہ پیکر اللہ کے دین کی خاطر ان دونوں کو مکہ میں چھوڑ کر مدینہ کی طرف روانہ ہو گیا۔

اب حضرت اّم سلمہؓ مکہ میں اکیلی تھیں۔ وہ ہر روز شام کو اس مقام پر، جہاں سے ان کو ان کے شوہر اور بچہ سے جدا کیا گیا تھا، جا کر روتی رہیں۔ یہ سلسلہ ایک سال تک جاری رہا تب جا کر ان کے ظالم والدین کو ان کی حالت پر رحم آیا۔ اور انہوں نے حضرت اُم سلمہؓ کو مدینہ جانے کی اجازت دے دی۔ حضرت ام سلمہؓ اپنے بچے کو لے کر تن تنہا مدینہ کے لئے روانہ ہو گئیں۔ راستے میں انہیں عثمانؓ بن طلحۃ (کلید بردار خانہ کعبہ ملے) جو انہیں کمال شرافت و امانت کے ساتھ مدینہ تک چھوڑ آئے۔

حضرت ابو سلمہؓ جنگ بدر میں شریک ہوئے اور پھر جنگ احد میں شہادت کے مرتبہ پر فائز ہو کر ہی عالم بقا ہوئے۔

حضرت ام سلمہؓ نے ان کی شہادت کا بے حد اثر لیا اور انہوں نے ارادہ فرمایا کہ تازندگی اپنے شوہر کا سوگ منائیں گی کہ آئندہ اس کی مثال نہ مل سکے۔ آنحضرت ﷺ کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو آپ ﷺ نے ان سے اس کا سبب پوچھا۔ حضرت اُم سلمہؓ نے جواب دیا۔ یا رسول اللہ ﷺ! میں ابو سلمہؓ کو کیوں نہ روؤں کیا اس سے بہتر شخص مجھے کوئی مل سکتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کی ذہنی اذیت کا اندازہ لگاتے ہوئے فرمایا،

''کیوں نہیں؟ کیا میں ابو سلمہ سے بہتر نہیں؟''

چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے عقد فرما لیا اور اس طرح آپ ﷺ نے ان کے قلبِ محزون اور دل مضطر کی تسلی کا سامان کر دیا۔ ظاہر ہے اس شادی میں بھی رسول اللہ ﷺ کی اپنی خواہش کو کچھ دخل نہ تھا بلکہ اس واقعہ میں آپ کا جذبۂ ترحمّ، ہمدردی اور حد درجہ مہربانی کار فرما نظر آتی ہے۔

حضرت زینبؓ سےآپ کی یہ شادی حد درجہ نتیجہ خیز ثابت ہوئی، کیونکہ آپ بے حد ذہین و فطین تھیں۔ امورِ عامہ میں اکثر رسول اللہ ﷺ کے مشورے میں شریک ہوا کرتی تھیں۔ صلح حدیبیہ کے موقعہ پر جب رسول اللہ ﷺ نے کفار مکہ کی ''بظاہر'' حد درجہ کڑی شرائط تسلیم فرما لیں اور اس کے بد رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کو قربانی کا حکم دیا تو صل کی شرائط سے متاثر پریشان مسلمانوں نے تعمیلِ حکم میں پس و پیش سے کام لیا۔ تو وہ حضرت ام سلمہؓ ہی تھیں۔ جنہوں نے آنحضرت ﷺ کو یہ حکیمانہ مشورہ دیا کہ ''آپ خود اپنی قربانی ذبح کر دیں۔ آپ کی دیکھا دیکھی تمام مسلمان آپ ﷺ کے حکم کی تعمیل کریں گے'' واقعات شاہد ہیں کہ اُم سلمہؓ کا یہ اندازہ سو فیصدی درست ثابت ہوا۔

تزویج حضرت زینب بنت خزیمہؓ، حضرت حفصہؓ اور حضرت عائشہ صدیقہؓ:

اُمّ المساکین حضرت زینب بنت خزیمہؓ کی شادی میں بھی ہمیں وہی حالات کار فرما نظر آتے ہیں۔ جو حضرت اُم سلمہؓ کے عقد مبارک کا سبب بنے تھے۔

حضرت زینب بنت خزیمہؓ اس سے قبل تین دفعہ بیوہ ہو چکی تھیں اور ان کی تسلی و تشفی کی خاطر رسول اللہ ﷺ نے ان سے اقدامِ نکاح فرمایا۔ اس تزویج سے اشاعتِ اسلام میں کافی مدد ملی۔

حضرت عائشہؓ اور حضرت حفصہؓ کے نکاح نے بھی اتفاق قرآن و حفاظت کتاب اللہ اور نشرِ احادیث و تعلیم النساء کے بارے میں فوق العادۃ کام کئے اس بات کا اندازہ احادیث کے اِن اعداد و شمار سے ہو سکتا ہے، جو حضرت عائشہؓ سے مروی ہیں۔

صحیحین میں متفق علیہ حدیثیں : ۱۷۴

صرف صحیح بخاری میں : ۵۴

صرف صحیح مسلم میں : ۶۷

دیگر کتبِ معتبرہ میں : ۲۰۱۷

کل تعداد : ۲۳۱۲

حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہما کی زویج سے خلافتِ صدیق و عمر بن الخطاب (رضی اللہ عنہما) کو بھی کافی تقویت ملی۔ اور ان کو زیادہ سے زیادہ بابرکت اور پر منفعت بنانے کا سبب بنی اور یہ ایسے فوائد ہیں کہ ترویجِ اسلام، اشاعتِ دین اللہ اور آئینِ جہانبانی کے نقطۂ نظر سے رسول اللہ ﷺ کسی طرح بھی ان سے دست بردار نہ ہو سکتے تھے۔

مذکورہ بالا فوائد نمونہ ہیں۔ ان اغراض و مقاصدِ دینیہ کا جو نبی ﷺ کو ہر ایک نکاح سے مدِّ نظر تھے اور جن کا احصاء ہمارے لئے قریباً ناممکن ہے۔

یہاں یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ آپ ﷺ کی تمام ازواجِ مطہرات میں سے سوائے حضرت عائشہؓ کے تقریباً سبھی ایک یا دو دفعہ بیوہ ہو چکی تھیں۔ اور جب یہ حقیقت ہمارے پیش نظر ہے و یہ ظاہر ہے کہ تعدّد ازدواج سے نبی ﷺ کا مدّعائے اعلیٰ انبیائے سابقین کی سنت پر عمل کرنے کے علاوہ ضروریاتِ ملکی اور مصالحِ دینی پر بھی مشتمل تھا۔ تو ہر ایک شخص کو جو سر میں دماغ اور دماغ میں فہم کا صحیح مادہ رکھتا ہے، یہ اقرار کرنا پڑے ا کہ نبی صلعم کے لئے ایسا کرنا ہی شایانِ شان بلکہ لا بدی اور ضروری تھا۔ اور اگر آپ ﷺ ایسا نہ کرتے تو بہت سی مصلحتوں سے ملک و قوم اور اسلام کو محروم ہونا پڑتا اور یہ محرومی بلاشبہ اس مصلح قوم کی شان کے منافی ہوتی جسے خدا نے رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجا تھا۔

پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا!!

﴿وَاللَّهُ مُتِمُّ نورِ‌هِ وَلَو كَرِ‌هَ الكـٰفِر‌ونَ ٨ ﴾... سورة الصف

شوال

حج کے مہینوں میں سے یہ پہلا مہینہ ہے، اس میں عید کا دن ہے۔ جو مغفرتِ ذنوب کا دِن ہے، اس روز نماز عید ادا کرنا واجب ہے۔

عید کی نماز سنت نبوی ﷺ کے مطابق ادا کرنی چاہئے۔ ہم نے اس کے احکام کا تفصیلی بیان ’’موعظہ حسنہ‘‘ میں کیا ہے۔ اس نماز سے پہلے یا بعد میں کوئی سنت یا نفل ادا نہیں کئے جاتے۔یہ صرف دو رکعت پر مشتمل ہے۔ پہلی رکعت میں سات تکبیریں اور دوسری رکعت میں پانچ تکبیریں ہیں (حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے بھی انہی تکبیرات کو راجح قرار دیا ہے) اور نماز کے بعد دو خطبے ہیں۔ یہ دونوں خطبے مستحب ہیں۔ واجب نہیں، نماز سے پہلے یا بیٹھ کر خطبہ دینا بدعت ہے۔ (اتباع الحسنةفي جملةأیام السنة)


نوٹ

نپولین بونا پارٹ کی دوسری شادی پر غور فرمائیے جو خاص پوپ کی موجودگی میں صرف اس لئے ہوئی کہ بونا پارٹ کی نسل باقی رہے۔ اس شادی کو سارے یورپ نے تسلیم کیا۔ حالانکہ اس شادی کا مقصد ان مصالح کے مقابلے میں جو انبیائے خدا کی تزویج میں ہوتے ہیں' ذرۂ بے مقدار کی حیثیت بھی نہیں رکھتا۔

انہیں حضرت خدیجہؓ نے رسول اللہ ﷺ کو ہبہ کر دیا تھا۔ ۱۲ منہ۔

عنقریب اس موضوع پر بھی ایک مقالہ لکھا جائے گا۔ إن شاء اللہ تعالیٰ۔

کافروں کی رسم تنبیت کے ساتھ ساتھ تثلیث کا بت بھی پاش پاش ہو گیا۔ کیونکہ جب ثابت ہو گیا کہ ایک انسان کو دوسرے کا بیٹا کہنا ایسی حالت میں کہ دونوں کے درمیان خون کا رشتہ نہ ہو، بالکل جھوٹ اور کامل افترا و بہتان ہے و ظاہر ہے کہ ایک انسان کو خدا کا بیٹا کہنا بھی قطعاً اور حتماً باطل ہےاور دروغ بے فروغ۔ کیونکہ انسان کو خدا کے ساتھ ذرّہ برابر مشاہت نہیں ہے۔ یہ جسم اور روح سے مرکب انسان جو سینکڑوں حوائجِ جسمای کا محتاج ہے جو ایک دن پیدا ہوا ہے اور اس سے پہلے نہ تھا۔ جو ایک دن مر جائے گا اور لقمۂٔ اجل بنے گا۔ کیونکر اس ''الحي القیوم لا یموت'' کا فرزند ہو سکتا ہے۔ جس کی ذاتِ سرمدی ازل سے بھی اوّل اور ابد سے بھی آخر ہے، رحمةللعٰلمین: ج ۲