ڈاونلوڈ

آن لائن مطالعہ

آن لائن مطالعہ
  • دسمبر
  • جنوری
1972
ادارہ
الحمد للہ ''محدث'' کا پہلا سال بخیر و خوبی ختم ہوا۔ اور زیر نظر شمارے سے بفضلہٖ تعالیٰ ہم دُوسرے سال میں قدم رکھ رہے ہیں۔ خدا کا شکر ہے کہ اس عرصہ میں ہمیں توقع سے بڑھ کر کامیابی حاصل ہوئی اور ''محدث''مقبولِ عام ہوا۔ یہ سب کچھ اللہ ارحم الراحمین کے رحم و کرم سے ہے جس نے ہمیں نامساعد حالات میں اپنے تبلیغی فریضہ کی ادائیگی کی توفیق دی اور مشکل اور کٹھن حالات میں اسے جاری رکھنے کی ہمت عطا فرمائی۔
  • دسمبر
  • جنوری
1972
اکرام اللہ ساجد
نظامِ کائنات پر غور فرمائیے! آگ کی حدّت اور برف کی برودت، جھلسا دینے والی گرمی اور کپکپا دینے والی سردی، دن کی روشنی اور رات کی تاریکی، خزاں کی بے رونقی اور بہار کی بہاریں کانٹوں کا زہر اور پھولوں کی صباحت و ملاحت، پتھر کی ٹھوس اور سنگلاخ چٹانیں اور پانی کی روانی کفر و شرک کی آندھیاں اور اسلام کی رحمت آلود گھٹائیں غرض اضداد و اختلافات کا ایک سلسلہ جس پر دنیا کی بقاء کا انحصار ہے۔
  • دسمبر
  • جنوری
1972
اختر راہی
قاضی موصوف ریاست پٹیالہ میں جج تھے اور عدالتی ذمہ داریاں اس خوبی سے انجام دیں کہ لارڈ ہارڈنگ (Lord Harding) نے کہا کہ:۔

''قاضی موصوف عدالت ہائے پنجاب کے زیور ہیں۔''

مہاراجہ پٹیالہ کو قاضی صاحب کی رائے پر اس قدر اعتماد تھا کہ ان کے ریٹائر ہو جانے کے بعد بھی اہم معاملات میں ان سے مشورہ لیتا تھا۔
  • دسمبر
  • جنوری
1972
عزیز زبیدی
قرآنِ حمید نے ذکرِ اقوام میں، اقوامِ عالم کے نسلی اور جغرافیائی خاکے اور سوانح بیان نہیں کئے، کیونکہ خدا کے ہاں ان کی بابت کوئی پرستش نہیں ہو گی اور نہ ہی اس میں بندہ کے کسب و عمل کا کوئی دخل ہے۔ اس لئے ہمیشہ قوموں کے کیریکٹر اور کردار پر اس کی نگاہ رہی ہے اور جب کبھی ان کو تولا ہے تو اسی ترازو میں تولا ہے، اور انہی پیمانوں سے ان کو ناپا ہے۔
  • دسمبر
  • جنوری
1972
عبدالرحمن عاجز
ذکر تیرا مری تسکیں کا ساماں ہوتا       کاش یوں دردِ دلِ زار کا درماں ہوتا
میں کچھ اس طرح تری راہ میں قرباں ہوتا       جو مجھے دیکھتا انگشت بدنداں ہوتا
دیکھ کر شوقِ مدینہ میں تڑپتا میرا      کوئی خنداں، کوئی حیراں، کوئی گریاں ہوتا
  • دسمبر
  • جنوری
1972
اکرام اللہ ساجد
ہر طرف شورِ آہ و بکا ہے، معصوموں کی دل دوز اور جگر سوز چیخیں ہیں، لہو کے چھینٹے ہیں، گوشت کے ٹکڑے ہیں، عصمتوں کے خون ہیں۔ اور ان سب کی قیمت ایک وحشیانہ قہقہے سے زیادہ نہیں۔ آہ یہ چیزیں اتنی سستی تو نہ تھیں۔ مسلمان تو ان کی حفاظت کی خاطر ہزاروں میل کا سفر گھوڑے کی ننگی پیٹھ پر کر سکتا تھا مگر آج کوئی محمد بن قاسم موجود نہیں، کوئی طارق بن زیاد نہیں، کوئی موسیٰ بن نصیر نہیں، کوئی قیتبہ بن مسلم باہلی نہیں،
  • دسمبر
  • جنوری
1972
ادارہ
ماہنامہ ''سیارہ'' لاہور نومبر ۱۹۷۱ء

''یہ فلمی رسالوں اور ائجسٹوں کا دور ہے۔ فلم اور سنسنی خیز ڈائجسٹوں نے مل کر ملت کے مذاق و مزاج پر جو شبخون مارا اور ایمان و عقائد کو جس طرح خراب کیا ہے وہ ہم سب پر اظہر من الشمس ہے۔ مبارک ہیں وہ لوگ جو اس دور میں دینی جرائد کا اجراءکیے ہوئے ہیں