قسط نمبر ۴ (آخری)

سوال:

رفع یدین سے نماز فاسد ہوتی ہے یا نہیں؟

جواب:

نہیں۔ ردّ المحتار ص ۶۸۴ میں ہے:

«وما روي من الفساد شاذ اٰہ» رفع یدین سے نماز خراب ہو جانے کی روایت شاذ ہے۔

عمدۃ الرعایہ میں ہے:

«ویتفرع علی ھذا القول ما ذکر في بعض الکتب أن الصلوة تفسد برفع الیدین عند الرکوع وعند السجود وھو قول شاذ مردود کما في فتح القدیر والحلیة والبزازیة وغیرھا اٰہ»

بعض کتابوں میں اسی قول کی بنا پر ذکر کیا گیا ہے کہ رکوع و سجود کے وقت رفع یدین سے نماز فاسد ہو جاتی ہے حالانکہ یہ قول شاذ اور مردود ہے جیسا کہ فتح القدیر، حلیہ اور بزازیہ وغیرہ میں ہے۔

اور بھی عمدۃ الرعایہ میں ہے:

«منھم من صرح بأن رفع الیدین في أثناء الصلوٰة مفسد وقد عرفت أنه قول شاذ مردود فلوجد دالتحریمة مع رفع الیدین أیضا فالحکم ھو ما ذکرہ فإن رفع الیدین غیر مفسد علی القول الصحیح الذي لیس ما سواہ إلا غلطا اٰہ»

حنفی فقہاء میں سے ایک شخص ہے جس نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ رفع یدین درمیان نماز کے مفسد ہے۔ تم نے اس قول کو دیکھ ہی لیا ہے کہ یہ شاذ اور مردود ہے کیونکہ اگر تکبیر تحریمہ کے ساتھ از سر نو رفع یدین کر کے نیت باندھنے سے نماز فاسد نہیں ہوتی تو دورانِ نمازِ کیونکر ہو گئی۔ پس یہی قول صحیح ہے اس کے سوا باقی غلط ہیں۔

تراجم حنفیہ میں لکھا ہے:

«والحق أن ھذہ الروایة الّتي رواھا مکحول شاذ لا یعتد بھا ولا بذاکرھا وممن صرح بشذوزھا محمد بن عبد الواحد الشھیر بابن الھمام في فتح القدیر وذکر أنه صرح بشذوذھا صاحب النھایة وفي حلیة المحلی شرح منیة المصلی لابن أمیر حاج الفساد برفع الیدین في الصلوة روایة مکحول النسفي عن أبي حنیفة وھو خلاف ظاھر الروایة ففي الذخیرة رفع الیدین لا یفسد منصوص علیه في باب صلوة العیدین من الجامع ومشی علیه في الخلاصة وھو أولی بالاعتبار اٰہ وفي البزازیة رفع الیدین في المختار لا یفسد لأن مفسدھا لم یعرف قربة فیھا اٰة وفي السراجیة رفع الیدین لا یفسد وھو المختار اٰہ »

اور حقیقت تو یہ ہے کہ مکحول نے جس روایت کا ذکر کیا ہے وہ شاذ ہے۔ اس روایت کا اور اس کے راوی کا کوئی اعتبار نہیں ہے اور جن لوگوں نے اس کے شاذ ہونے کی تصریح کی ہے ان میں سے محمد بن عبد الواحد المشہور بابن الہمام ہیں جنہوں نے فتح القدیر میں اس کا زِکر کیا ہے اور ابن ہمام نے مکحول سے روایت کیا ہے کہ صاحبنہایۃ اور ابن امیر حاج کی حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی میں اس کے شاذ ہونے کا بالتصریح ذکر موجود ہے کہ رفع یدین کے ساتھ نماز کا فاسد ہونا ابو حنیفہ سے مکحول نسفی نے روایت کیا ہے مگر یہ ظاہر روایت کے خلاف ہے پس ذخیرہ میں ہے کہ رفع یدین نماز کو فاسد نہیں کرتا۔

اسی سے دلیل لی گئی ہے باب صلوٰۃ العیدین میں اور اسی پر انحصار کیا ہے خلاصہ میں اور یہی قابلِ اعتبار ہے اور بزازیہ میں ہے کہ مذہب مختار میں رفع الیدین نماز کو فاسد نہیں کرتا اور سراجیہ میں ہے کہ رفع یدین مفسد نہیں ہے اور یہی مذہب مختار ہے۔

اور سعایہ میں تحریر فرمایا ہے:

«وأغرب بعض أصحابنا حیث ذھب إلی أنه لورفع یدیه عند الرکوع فسدت صلاته وقد رده بأحسن رد العلامة القونوي في رسالته الّتی صنفھا في خصوص ھذه المسئلة»

اور ہمارے بعض اصحاب نے غریب بات کہی ہے جب وہ کہتے ہیں کہ جب کوئی شخص رکوع کے وقت رفع یدین کرے تو اس کی نماز فساد ہو جاتی ہے۔ علامہ قونوی نے اپنے اس رسالہ میں اس کا خوب رو کیا ہے جو انہوں نے صرف اسی مسئلہ کے بارے میں تصنیف کیا ہے۔

سوال:

جو مصلی کہ ایک صف سے دوسری صف میں کھینچ لایا گیا آیا نماز اس کی فاسد ہوتی ہے یا نہیں؟

جواب:

نہیں۔ درّ مختار میں ہے:

«ثم نقل تصحیح عدم الفساد في مسئلة من جذب من الصف فتأخر اٰہ»

پھر اس شخص کی نماز کے فاسد نہ ہونے کا ذِکر کیا گیا ہے جسے صف سے کھینچا گیا اور وہ پیچھے ہٹ آیا۔

اور رد المختار کے صفحہ ۵۹۶ میں ہے:

وعبارة المصنف في المنح بعد أن ذکر لوجذبه اٰخر فتأخر الأصح لا تفسد صلاته اٰہ»

اور عبارت مصنف کی منح میں موجود ہے جو انہوں نے اس بات کا ذِکر کرنے کے بعد درج کی ہے کہ اگر ایک نمازی دوسرے نمازی کو کھینچتا ہے تو اس کی نماز فاسد نہیں ہوتی۔

سوال:

گھوڑے کی باگ دوڑ پکڑے ہوئے نماز پڑھنے سے یا اندر نماز کے اس گھوڑے کے چھوٹ جانے پر اس کو پکڑنے کے لئے چند قدم چلنے سے نماز فاسد ہوتی ہے یا نہیں۔

جواب:

نہیں۔ در مختار کے صفحہ ۶۵۵ میں ہے:

«مشی مستقبل القبلة ھل تفسد إن مشی قد رصف ثم وقف قدر ركن ثم مشی ووقف کذلك وھکذا لا تفسد وإن کثر مالم یختلف المکان وقیل لا تفسد حالة العذر اٰہ»

نمازی کے قبلہ رُخ چلنے سے نماز فاسد ہو گی یا نہیں۔ پس اگر وہ ایک صف کے برابر چلے اور پھر ایک رکن کی مقدار ٹھہر جائے پھر چلے اور پھر رک جائے اور اس طرح وہ جب تک جگہ نہ بدلے خواہ کتنا ہی چلتا جائے نماز فاسد نہیں ہو گی اور بعض کا خیال ہے کہ عذر کی حالت میں نماز فاسد نہیں ہوتی۔

ردّ المختار میں ہے:

«أي وإن کثر واختلف المکان لما في الحلیة عن الذخیرة أنه روی أن أبا برزة رضي اللہ عنه صلی رکعتین ھکذ ابقیاد فرسه ثم انسل عن یدہ فضی الفرس علی القبلة فتبعه حتٰی أخذ بقیادہ ثم رجع ناکصا علی عقیه حتٰی صلی الرکعتین الباقیتین قال محمد في السیر الکبیر وبھذا نأخذ الخ»

اگرچہ ایسا کئی مرتبہ ہوا اور جگہ بھی بدل گئی ہو اس روایت کے مطابق جو حلیہ میں ذخیرہ سے منقول ہے کہ حضرت ابو برزہؓ نے اپنے گھوڑے کی باگ تھام کر دو رکعت نماز پڑھی تو وہ ان کے ہاتھ سے چھوٹ گئی اور گھوڑے نے قبلہ کی طرف چلنا شروع کر دیا۔ پس ابو برزہؓ بھی اس کے پیچھے پیچھے چلے حتیٰ کہ اس کی باگ پکڑ لی پھر پچھلے پاؤں واپس لوٹے اور باقی ماندہ دونوں رکعتیں ادا کیں۔ امام محمدؒ نے سیر کبیر میں کہا ہے کہ ہم بھی اسی کو اختیار کرتے ہیں۔

سوال:

نمازِ پنجگانہ میں جماعت واجب ہے یا نہیں؟

جواب:

واجب ہے۔ مراقی الفلاح میں ہے:

«الصلوة بالجماعة سنة مؤکدة شبیھة بالواجب في القوة اٰہ»

نماز باجماعت ادا کرنا سنت مؤکدہ ہے جو کہ قوت میں واجب کے مشابہ ہے۔

جواہر نفیہ میں ہے:

«الجماعة سنة مؤکدة أي قویة تشبه الواجب في القوة حتی استدل بملازمتھا علی الإیمان اٰہ»

نماز باجماعت پڑھنا سنت مؤکدہ ہے یعنی قوت میں واجب کے مشابہ ہے۔ یہاں تک کہ اس کے ایمان کے ساتھ لازم و ملزوم ہونے کی دلیل بھی اسی سے لی گئی ہے۔

فصیح الدین کی شرح وقایہ میں ہے:

«الجماعة سنة مؤکدة أي قویة تشبه الواجب لا یرخْص تركھا إلا من عذر اٰہ»

جماعت سنت مؤکدہ ہے یعنی قوی ہے اور واجب کے مشابہ ہے۔ بغیر کسی (شرعی) عذر کے اس کو چھوڑنے کی رخصت نہیں دی جاتی۔

مجتبیٰ شرح قدوری میں ہے:

«وأما أصحابنا فقد اختلفت الروایات عنھم فقیل إنھا واجبة وقیل سنة مؤکدة غایة التاكید قلت والظاھر أنھم أرادوا بالتاکید الوجوب اٰہ»

جہاں تک ہمار اصحاب کا تعلق ہے ان کی روایات مختلف ہیں۔ بعض نے کہا ہے کہ جماعت واجب ہے اور بعض نے نہایت تاکید کے ساتھ سنت موکدہ کہا ہے، میں کہتا ہوں کہ یہ بات واضح ہے کہ انہوں نے بھی تاکید سے واجب ہی مراد لی ہے۔

مجمع الانہر میں ہے:

«الجماعة سنة مؤكة أي قریبة من الواجب حتٰی لو ترکھا أھل مصر لقوتلوا وإذا ترك واحد ضرب وحبس ولا یرخص لأحد تركھا إلا لعذر منه المطر والطین والبرد الشدید اٰہ »

نماز باجماعت سنت مؤکدہ ہے یعنی واجب کے قریب ہے پس اگر شہر والے اسے ترک کر دیں تو ان سے جنگ کی جانی چاہئے اور اگر کوئی فرد واحد چھوڑ دے تو اسے پیٹا جائے اور قید کیا جائے اور کسی کو عذر کے بغیر جماعت ترک کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔ مثلاً بارش، کیچڑ یا سخت سردی وغیرہ کی وجہ سے۔

بحر الرائق میں ہے:

«الجماعة سنة مؤكدة أي قویة تشبه الواجب والراجح عند أھل المذھب الوجوب ونقله في البدائع عن عامة مشائخنا وذکر ھو وغیرہ أن القائل منھم أنه سنة مؤکدة لیس مخالفھا في الحقیقة بل في العبارة لأن السنة المؤکدة والواجب سواء خصوصا ما کان من شعائر الإسلام وفي المجتبی الظاھر أنھم أرادوا بالتاکید الوجوب لاستد لا لھم بالأخبار الواردة بالوعید الشدید بترك الجماعة وفي القنیة وغیرھا یجب التعزیر علی تاركھا بغیر عذر و یأثم الجیران بالسکوت اٰہ»

جماعت سنت مؤکدہ ہے یعنی قوی ہے اور واجب کے مشابہ اور اہلِ مذہب کے نزدیک اس کا وجوب ہی راجح ہے اور ہمارے عام مشائخ سے اس کو بدائع میں ذِکر کیا گیا ہے۔ اس نے اور دوسروں نے ذِکر کیا ہے کہ قائل حقیقت میں سنت مؤکدہ کا مخالف نہیں ہے بلکہ عبارت میں اختلاف ہے کیونکہ واجب اور سنت مؤکدہ برابر ہی ہیں۔ خاص کر شعائرِ اسلام میں۔ مجتبیٰ میں ہے کہ فقہاء نے نزدیک سے وجوب ہی کا ارادہ کیا ہے۔ کیونکہ ان کے پیش نظر ان لوگوں کے لئے دلیل لانا مقصود ہے جو باوجود سخت وعید کے تارکِ جماعت ہیں اور قنیہ وغیرہ میں ہے کہ بلا عذر تارکِ جماعت کو سزا دینی چاہئے اور اگر ہمسائے چپ رہیں تو وہ بھی گنہگار ہوتے ہیں۔

اور منح الغفار میں ہے:

«الجماعة سنة مؤكدة أي قربة تشبه الواجب في القوة وقیل واجبة وعلیه العامة اٰہ»

جماعت سنت مؤکدہ ہے یعنی قوت میں مشابہ ہے واجب کے اور اکثر فقہاء کا یہی عقیدہ ہے اور زیلعی شرح کنز میں ہے:

«وفي العنایة قال عامة مشائخنا أنھا واجبة وفي المفید أنھا واجبةو تسمیتھا سنة لوجوبھا بالسنة اٰہ ھذا کله في السعي المشکور لمولانا محمد عبد الحی المغفور ۱۸۶ »

اور عنایۃ میں ہے کہ ہمارے عام مشائخ نے جماعت کو واجب کہا ہے اور مفید میں ہے کہ جماعت واجب ہے۔ جماعت کا نام سنت رکھنے کی وجہ سنت میں اس کے واجب ہونے کا ثبوت ہے۔

اور عمدۃ الرعایہ میں ہے:

«الجماعة سنة موکدة ھي التي تسمی بسنة الھدي وحکمھا انه یثاب فاعلھا ویلام تارکھا بلا عذر مرخص وھذا أحدا لأ قوال فیه والقول الثاني أن الجماعة مستحبة لکنه قول شاذ مردود لو ردد کثیر من الأحادیث بالوعید علی التارك ومن المعلوم أن تارك المستحبة غیر ملام اٰہ والقول الثالث وھو إنھا واجبة وھو الذي رجحه صاحب البحر والغنیة والبدائع والمجتبی ونسبه السروجي وغیرہ الٰی عامة مشائخنا اٰہ ملخصا »

جماعت سنت موکدہ ہے اور یہ وہی ہے جس کو سنت ہدی کہتے ہیں۔ یعنی جس کے کرنے والے کو ثواب ملتا ہے اور بلا شرعی عذر ترک کرنے والے کو ملامت کی جاتی ہے۔ اسی سلسلہ میں دوسرا قول یہ ہے کہ جماعت مستحب ہے مگر چونکہ تارکِ جماعت کے بارے میں بہت سی وعید کی احادیث آئی ہیں۔ اس لئے یہ شاذ اور مردود ہے اور یہ بات واضح ہے کہ مستحب کا تارک ملامت نہیں کیا جاتا اور تیسرا قول یہ ہے کہ جماعت واجب ہے اسی کو صاحب بحر الرائق، غنیہ اور بدائع نے ترجیح دی ہے اور سروجی وغیرہ نے اس قول کو ہمارے اکثر مشائخ سے منسوب کیا ہے۔

سوال:

جماعت عورتوں کی مسنون ہے یا مکروہ و منسوخ؟

جواب:

مکروہ یا منسوخ نہیں۔ چنانچہ فتح الودد حاشیہ سنن ابی داؤد میں تحت حدیث ام ورقہ کے لکھا ہے:

«إن ھذا الحدیث یدل علی جواز امامة المرءة للنساء ومن یقول بکراھة جماعتھن یعمل الحدیث علی النسخ لکن ابن الھمام وغیرہ ینکرون تحقق الناسخ اٰہ»

یہ حدیث عورتوں کے لئے عورت کی امامت پر دلالت کرتی ہے اور جو شخص عورتوں کی جماعت کو مکروہ جانا ہے وہ اس حدیث کو منسوخ سمجھتا ہے مگر ابن ہمام وغیرہ نے کہا ہے کہ اس کا ناسخ ثابت ہی نہیں ہوتا۔

مولانا عبد العلی رحمہ اللہ نے ارکان اربعہ میں لکھا ہے:

«وعلی ھذا فدعوی الکراھة مشکلة لا بدلھا من دلیل وسیل الشیخ ابن الھمام الی عدم الکراھة اٰہ »

لہٰذا کراہت کا دعوٰی بغیر کسی دلیل کے مشکل ہے اور شیخ ابن الہمام تو اس کے عدم کراہت کے ہی قائل ہیں۔

اور ابن ہمام کی فتح القدیر میں ہے:

«ولا علینا ان نذھب الٰی ذلك فإن المقصود اتباع الحق حیث کان اٰہ »

ہمارے لئے ضروری نہیں ہے کہ ہم اس کے نسخ کی طرف جائیں۔ مقصد تو حق کی اتباع ہے خواہ وہ کہیں ہو۔

عمدۃ الرعایہ میں ہے:

«ولا یخفی ضعفه بل ضعف جمیع ما وجھوا الکراھة کما حققناہ في تحفة النبلاء الفناھا في مسئلة جماعة النسآء وذکر ھناك أن الحق عدم الکراھة کیف لا وقد امّت بھن أم سلمة وعائشة في التراویح و في الفرض کما اخرج ابن أبي شیبة وغیرہ وأمت أم ورقة في عهد النبي ﷺ بأمرہٖ کما أخرجه أبو داود اٰہ »

یہ مسئلہ خود ہی نہیں بلکہ اس کے متعلق حکم کراہت کے جتنے دلائل بھی فقہاء نے ذکر کئے ہیں۔ یہ سب واضح طور پر ضعیف اور کمزور ہیں جیسے کہ تحفۃ النبلاء میں جسے ہم نے عورتوں کی جماعت کے بارے میں تصنیف کیا ہے اس میں ہم نے تحقیق کی ہے اور اس رسالہ میں ہم نے یہ بھی ذکر کیا ہے کہ سچ بات تو یہ ہے کہ اس میں کوئی کراہت نہیں ایسا کیوں نہ کہا جائے جب کہ بموجب روایت ابن ابی شیبہ وغیرہ حضرات ام سلمہؓ و عائشہؓ نے راویح اور فرض میں امامت کی ہے اور عہد نبوی میں خود حضور ﷺ کے حکم سے ام ورقہ رضی اللہ عنہا نے امامت کرائی ہے۔ (بموجب روایت ابی داؤد)

سوال:

قضاء نماز جہریہ میں جہر افضل ہے یا نہ؟

جواب:

ہے۔ نفع المفتی والسائل میں لکھا ہے:

«الذي یقضي الصلوة الجھریة منفردا فإنه مخیر بین أن یجھر وبین السر والجھر أفضل وھو مختار السرخسي وفخر الإسلام وجماعة من المتأخرین وقال قاضي ھو الصحیح وفي الذخیرة ھو الأصح اٰہ وقال البر جندي ذکر في الظھیریة و الذخیرة والخزانة والکافي ان الجھر في قضاء الجھریة أفضل اٰہ »

جو شخص اکیلا ہو اور کسی جہری نماز (مغرب، عشاءم، صبح) کی قضائی دے رہا ہو اسے قضا ہر دو طرح پڑھنا جائز ہے خواہ بآواز بلند پڑھے یا بآواز پست قرأت کرے۔ البتہ بآواز بلند پڑھنا اس کے لئے افضل ہے۔ سرخسی، فخر الاسلام اور متاخرین کی ایک جماعت نے اسی کو ترجیح دی ہے۔ قاضی خاں نے کہا کہ بآواز بلند پڑھنا ہی صحیح ہے۔ ذخیرہ میں لکھا ہے کہ یہ مسلک زیادہ صحیح ہے۔ ظہیریہ، ذخیرہ، خزانہ اور کافی میں جہری نماز کی قضاء میں بقول برجندی بلند آواز سے پڑھنا افضل ہے۔

سوال:

اقتدا ساتھ مخالف فی الفروع کے جائز ہے یا مکروہ؟

جواب:

جائز ہے۔ رد المختار ص ۵۸۸ میں ہے:

«وأما الاقتداء بالمخالف في الفروع کالشافعي فیجوز ما لم یعلم منه ما یفسد الصلٰوة علی اعتقاد المقتدي علیه الإجماع إنما اختلف في الکراھة اٰہ فقید بالمفسدون غیر کما تری وفي رسالة الاھتداء في الاقتداء لملا علي القاري ذھب عامة مشائخنا إلی الجواز إذا کان یحتاط في موضع الخلاف وإلا فلا والمعنی أنه یجوز في المراعی بلا کراھة وفي غیرہ معھا ثم المواضع المھمة للمراعاة أن یتوضأ من الفصد والحجامة والقيء والرعاف ونحو ذلك لا فیما ھو سنة عندہ مکروہ عندنا کرفع الیدین في الانتقالات وجھر البسمله وإخفائھا فھذا وأمثاله لا یمکن فیه الخروج عن عھدة الخلاف فکلهم یتبع مذھبه ولا یمنع مشربه اٰہ»

مقتدی کو جب تک ایسے مسائل سے دو چار نہ ہونا پڑے جن کی بناء پر اِس کے نزدیک نماز فاسد ہو جائے ایسے مقتدی کو کسی شافعی وغیرہ، جس سے اس کے اختلافات فروعی ہوں، کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے۔ اس پر اجماع ہے البتہ کراہت مختلف فیہ ہے الخ جیسے کہ عبارت سے واضح ہے۔ مصنف در المتار نے نماز فاسد کرنے والے مسائل کی قید لگائی ہے کوئی اور قید نہیں لگائی۔ ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ کے رسالہ الاھتداء فی الاقتداء میں لکھا ہے کہ جب امام اختلافی مقامات میں احتیاط کرتا ہو تو اس کی اقتداء ہمارے اکثر علماء کے نزدیک جائز ہے ورنہ نہیں۔ احتیاط سے مقصود یہ ہے کہ وہ قابلِ رعایت اختلافی موقعوں پر مقتدیوں کا لحاظ کرتے ہوئے اختلاف سے نکل جائے تو اس کے پیچھے نماز بلا کراہت جائز ہ گی ورنہ جائز تو ہو گی لیکن مکروہ پھر قابل رعایت مقامات سے مراد فصد کرانے اور پچھنے لگوانے کے بعد وضو، قے کرنے اور نکسیر وغیرہ کے بعد وضوء ہیں (جنہیں امام ضروری نہ سمجھنے کے باوجود مقتدیوں کی رعایت سے وضو کر سکتا ہے) لیکن وہ مقامات (جن میں وہ مقتدیوں کی رعایت نہیں کر سکتا) مراد نہیں کہ اس کے نزدیک سنت ہیں اور مقتدیوں کے نزدیک مکروہ۔ مثلاً نماز میں رکوع سے قبل اور رکوع کے بعد رفع الیدین کی تبدیلی، بسم اللہ کا بآواز بلند پڑنا یا آہستہ پڑھنا یہ اور ان جیسے دوسرے مواقع پر وہ مقتدیوں کی رعایت کرتا ہوا اختلاف سے نہیں نکل سکتا۔ کیونکہ ہر ایک اپنے مذہب کی پیروی کرتا ہے اور اپنے مشرب سے نہیں روکا جا سکتا (یعنی اس صورت میں اس کی اقتداء مع الکراہت جائز ہو گی۔) الخ

سوال:

کلمہ لا باس بہ مستعمل منوب میں ہے یا نہ؟

جواب:

ہے۔ رد المختار ص ۱۲۴ میں ہے:

«فکلمة لا بأس وإن کان الغالب استعمالھا فیما ترکه أولٰی لکنھا قد تستعمل في المندوب کما صرح به في البحر اٰہ»

کلمہ لا باس (کوئی حرج نہیں) اگرچہ اکثر اوقات اس کا استعمال ایسے معنی میں لیا جاتا ہے کہ یہ کام نہ کرنا افضل ہے لیکن بعض اوقات ایسے کام کے متعلق بھی مستعمل ہوتا ہے جس کا کرنا ہتر ہو جیسا کہ بحر الرائق میں تصریح موجود ہے۔

سوال:

رفع یدین چاروں تکبیرات نماز جنازہ میں ثابت ہے یا نہ؟

جواب:

ہے۔ چنانچہ در مختار میں ہے:

«یرفع یدیه في الأولی فقط وقال أئمة بلخ في کلھا اٰہ»

صرف پہلی تکبیر میں ہاتھ اُٹھائے البتہ ائمہ بلخ کے نزدیک تمام تکبیروں میں ہاتھ اُٹھائے گا۔

رد المختار میں ہے:

«وما في شرح الکیدانية للقھستاني من أنه لا یجوز المتابعة في رفع الیدین في تکبیرات الرکوع وتکبیرات الجنازة فیه نظر إذ لیس ذٰلك مما لا یسوغ الاجتھاد فیه بالنظر إلی الرفع في تکبیرات الجنازة لما علمت من أنه قال به البلخیون من أئمتنا اٰہ»

قہستانی کی شرح کیدانی کی عبارت ''امام کی اتباع میں رکوع اور جنازے کی تکبیروں میں رفع یدین کرنا جائز نہیں، محل نظر ہے کیوں کہ یہ ان مسائل سے نہیں جن میں اجتہاد جائز نہ ہو بلحاظ تکبیرات جنازہ کے موقعہ پر رفع یدین کرنے کے کیونکہ آپ کو معلوم ہے کہ ہمارے ائمۂ بلخ نے (رفع الیدین کا) فتویٰ دیا ہے۔

حسن شرنبلالی نے ص ۲۰۳ حاشیۂ درر میں لکھا ہے:

«قوله یرفع یدیه في الأولی فقط ھو ظاھر الروایة قوله وعند الشافعي في کلھا اختارہ کثیر من مشائخ بلخ کما في التبیین اٰہ»

صرف پہلی بار ہاتھ اُٹھائے، ظاہر روایت یہی ہے۔ لیکن امام شافعی کے نزدیک تمام تکبیروں میں ہاتھ اُٹھانے چاہییں اور بقول صاحبِ تبیین ائمہ بلخ میں سے اکثر علماء نے اسی کو ترجیح دی ہے۔

عمدۃ الرعایہ میں ہے:

قوله خلافا للشافعي وکذا الأحمد ومالک بل قال به أئمة بلخ من مشائخنا وھو روایة عن أبي حنیفة أیضا اٰہ»

امام شافعی، احمد اور مالک اس کے خلاف ہیں۔ بلکہ ہمار ائمہ بلخ کا بھی یہی نظریہ ہے اور اس بارے میں امام ابو حنیفہ سے بھی ایک روایت آتی ہے۔

سوال:

نمازِ جنازہ میں بعد تکبیر اولیٰ کے سورہ فاتحہ پڑھنی چاہئے یا نہیں؟

جواب:

چاہیے۔ حسن شربنلالی نے ص ۲۰۳ حاشیہ درر میں لکھا ہے:

«قوله لا قراءة فیھا الخ۔ وقال في الولوالجیة إن قراء الفاتحة بنیة الدعاء لا بأس به وان قراھا بنیة القراءة لا یجوز اٰہ أقوال نفي الجواز فیه تامل لا نار أینا في کثیر من مواضع الخلاف استحباب رعایته کا عادة الوضوء من مس الذکر والمرءة فیکون رعایة صحة الصلوة بقراءة الفاتحة علی قصد القراٰن کذلك بل أولٰی لان الإمام الشافعي یفرضھا في الجنازة فتامل»

صاحب ولوالجیہ کے نزدیک دعاء کی غرض سے تو سورۃ فاتحہ جائز ہے لیکن قرأت کی غرض سے پڑھنا ناجائز ہے۔ میں کہتا ہوں ناجائز کہنا غور طلب ہے کیونکہ ہم نے اختلافی مسائل کے بارے میں اکثر یہی دیکھا ہے کہ اختلاف سے بچ نکلنا مستحب ہے۔ مثلاً شرم گاہ کو ہاتھ لگانے اور عورت کو چھونے سے وضو کرنا۔ نماز کی صحت کو ملحوظ رکھتے ہوئے سورہ فاتحہ قرأت کی غرض سے پڑھنا بھی ایسا ہی ہو گا۔ بلکہ یہ بہتر ہے کیونکہ امام شافعی نماز جنازہ میں اسے فرض قرار دیتے ہیں۔

عمدۃ الرعایہ میں ہے:

«خلافا للشافعي فإن عندہ یقرأ الفاتحة بعد التکبیرة الأولی وھو الأ قوی دلیلا وھو الذي اختارہ الشر نبلالي من أصحابنا وألف فیه رسالة اٰہ »

امام شافعی اس میں اختلاف رکھتے ہیں کیونکہ ان کے ہاں پہلی تکبیر کے بعد سورہ فاتحہ پڑھی جائے گی اور اس کی دلیل قوی ہے۔ ہمارے علماء میں سے شربنلالی کا یہی کہنا ہے اور اس نے اس بارہ میں ایک رسالہ بھی تحریر کیا ہے۔

اور تعلیق الممجد میں ہے:

«قالوا لو قرأھا بنیة الدعاء لا بأس به ویحتمل أن یکون نفیا للزومه فلا یکون فیه نفي الجواز والیه مال حسن الشر بنلالي من متأخري أصحابنا حیث صنف رسالة سماھا بالنظم المستطاب لحکم القرأة في صلوة الجنازة بأم الکتاب وردّ فیھا علی من ذکر الکراھة بدلائل شافیة وھذا ھو الأولٰی لثبوت ذلك عن رسول اللہ ﷺ وأصحابه الخ »

اگر بغض دعاء پڑھ لے کوئی حرج نہیں اور ہو سکتا ہے کہ اس کے لزوم کی نفی ہو (یعنی لا باس بلزومہٖ کہ اسے لازمی قرار دینے میں کوئی مضائقہ نہیں) تو اس صورت میں جواز کی نفی نہ ہو۔ ہمارے متاخرین اماموں میں سے حسن شربنلالی کا یہی خیال ہے۔ انہوں نے اس بارے میں ایک رسالہ جس کا نام «النظم المستطاب لحکم القرأة في صلاة الجنازة بأم الکتاب»۔ اس رسالہ میں انہوں نے ان لوگوں کی تردید میں جو اسے مکروہ جانتے ہیں مسکت دلائل ذکر کئے ہیں اور یہی بہتر ہے کیونکہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اور ان کے صحابہ کے عمل سے یہ ثابت ہو چکا ہے۔ (تمت بالخیر)