مرزائیوں اور بہائیوں کے مابین ایک مناظرہ

مرزائیوں کے خیال میں مرزا صاحب مسیح اور مہدی دونوں تھے اور بہائی مذہب میں چونکہ الگ الگ ہوئے ہیں۔ اس لئے ان کا آپس میں ایک دفعہ جو مقابلہ ہوا ہے اس موقعہ پر وہی نقل کر دینا کافی ہے۔

مرزائی:

امام مہدی کے متعلق جو روایات آئی ہیں، سب موضوع ہیں اور یہی وجہ ہے کہ صحیح مسلم و بخاری میں ان کو روایت نہیں کیا گیا۔ اور نہ ہی موطا امام مالک میں ان کا نشان ملتا ہے اور حسبِ تحقیق مرزا صاحب معلوم ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ محدثین کے بعد گھڑ لیا گیا ہے۔ کیونکہ ابنِ خلدون نے ان تمام روایات کو مخدوش قرار دیا ہے اور ان میں ایسا شدید اختلاف موجود ہے کہ وہ ایک دوسرے کی خود تردید کر رہی ہیں، اس لئے جنہوں نے ان کو تسلیم کر لیا ہے ان کو باہمی مطابقت پیدا کرنے میں یوں کہنا پڑا ہے کہ:

1. مہدی شخصی نام نہیں ہے بلکہ ایک جماعت کا نام ہے جو مختلف اوقات میں ہو گزرے ہیں، اور ممکن ہے کہ ان میں سے کوئی ابھی باقی بھی ہو۔

2. مہدی اولاد علیؓ سے تعلق رکھتا ہے۔ فاطمی ہونا ضروری نہیں۔ (حجج الکرامتہ) (ابو داؤدد)

3. اولادِ امام حسن رضی اللہ عنہ میں سے کوئی ایک مہدی بن کر ظاہر ہو گا۔

4. اولادِ امام حسین رضی اللہ عنہ میں سے کوئی ایک مہدی بن کر ظاہر ہو ا۔ (ابن عساکر)

5. مہدی حسنین رضی اللہ عنہما کی اولاد میں سے ہو گا۔ (حجج)

6. حضرت حمزہؓ اور حضرت جعفرؓ بھی اہلِ بیت میں داخل ہیں کیونکہ مہدی انکی اولاد میں سے ہو گا۔

7. مہدی بنی امیہ میں ظاہر ہو ا۔ کیونکہ حضرت عمر بن عبد العزیزؓ کا قول ہے کہ میری اولاد میں مہدی ہو گا جو دنیا کو اپنے عدل و انصاف سے پُر کر دے گا۔ (تاریخ الخلفاء)

8. مہدی علیہ السلام اولادِ عباسؓ سے ظاہر ہوں گے۔ (حجج)

9. مہدی علیہ السلام کا ظہور قریش کے کسی قبیلے میں سے ہو گا۔ (کنز)

10. اولادِ علیؓ اور اولادِ عباسؓ دونوں سے آپ کا تعلق ہو گا۔ (حجج)

11. اتنا ثابت ہوا ہے کہ امام مہدی علیہ السلام کا ظہور اُمتِ محمدیہ ﷺ میں ہو گا، خدا جس کو چاہے مہدی بنا دے۔

12. محققین کا اصلی مذہب یہ ہے کہ ایک شخص پیدا ہو گا جو مسیحؑ اور مہدی دونوں کہلائے گا کیونکہ اوّلاً ابنِ ماجہ اور حاکم نے بروایت انسؓ ذکر کیا ہے کہ:

«لا يزداد الأمر إلا شدة . و لا الدنيا إلا إدبارا . ولا الناس إلا شحا . ولا تقوم الساعة إلا على شرار الناس . ولا المهدي إلا عيسى بن مريم وثانیاً کما أرسلنا إلی فرعون رسولا» میں اشارہ کیا ہے کہ حضرت نبی کریم ﷺ مثیل تھے اور آیت ﴿لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ ﴾میں اشارہ ہے کہ آخر الخلفاء سلسلہ موسویہ میں حضرت مسیح علیہ السلام تھے۔ اسی طرح ضروری ہے کہ سلسلۂ محمدیہ مماثلہ بسلسلہ الموسویہ میں بھی آخری خلیفہ محمدی وہ ایسا مہدی ہو گا جو مسیح بھی کہلائے گااور اسی بنا پر اس خلیفہ کو ابن مریم کہا گیا ہے۔ ثالثاً نشانات مسیح تقریباً ایک ہی نہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ مہدی اور مسیح صرف ایک شخص کے ہی صفاتی نام ہیں، جیسے نزول امطار، کثرت زروع، ترکِ جہاد، وجود عدل، کسر صلیب، اہلکا ملل، ظہور من المشرق، دخول فے بیت المقدس وبیت اللہ شریف۔ رابعاً برایت احمدیہ وارد ہوا ہے:

«یوشك من عاش منکم أن یلقی عیسٰي ابن مریم إماما مھدیا و حکما عدلا فیکسر الصلیب ویقتل الخنزیر وتضع الحرب أوزارھا»اس سے یہ ثابت ہوا کہ مسیح ہی امام، حکم اور مہدی کہلائے گا۔

بہائی:

1. اختلاف پیدا ہونے سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ تمام وایات ہی موضوع ہیں، ورنہ جس قدر اختلافی مسائل ہیں، ان کی بنیاد روایات موضوعہ پر ماننی پڑے گی۔

2. مسئلہ مہدی کو بنظر تحقیر دیکھنا خبث باطن یا جہالتِ اسلامی ظاہر کرتا ہے، ورنہ اگر واقعی قابلِ نفرت ہوتا تو اصحاب الجر والعدیل یا ائمہّ کبار اور امامانِ اسلام اس سے نفرت کا اظہار کرتے۔

3. تعدد مہدی کا قول غلط ہے۔ کیونکہ جب محدثین نے اُصولِ حدیث کی ُرو سے احادیث صحیحہ الگ کر کے یہ ثابت کیا ہے کہ امام مہدی شخص معین ہے تو پھر کون سے امور ہمیں مجبور کرتے ہیں کہ ہم اختلاف رفع کرنے کی خاطر ایک نیا مسئلہ پیدا کریں کہ مسیح اور مہدی ہزاروں آئیں گے۔'' معلوم ہوتا ہے کہ مرزا صاحب کو اس مسئلہ میں تحقیق نصیب ہی نہیں ہوئی۔

4. یہ قول بھی غلط ہے کہ جس حدیث کو موطا نقل نہیں کرتا وہ حدیث ہی موضوع ہے۔ کیا اس کی بابت قرآن شریف میں وارد ہو چکا ہے کہ:﴿وَلا رَ‌طبٍ وَلا يابِسٍ إِلّا فى كِتـٰبٍ مُبينٍ ٥٩﴾... سورة الانعام"اگر یہ تسلیم کیا جائے تو یہ ماننا پڑے گا کہ صحاح ستہ موضوعات پر مشتمل ہوں۔

5. یہ اصول بھی غلط ہے کہ جو احادیث صحیحین میں نہیں ہیں وہ مردود ہیں اور یہ اصول بھی غلط ہے کہ جو حدیثیں صحیحیں میں درج ہیں وہ تمام واجب القبول ہیں۔ کیونکہ بقول مرزا صاحب (ازالہ نمبر ۲۲۶) بہت سی روایات ایسی ہیں کہ جن کو امام ابو حنیفہؒ نے تسلیم نہیں کیا۔

6. یہ بھی غلط ہے کہ صحیحین میں امام مہدی کا ذِکر نہیں آیا۔ ان کی روایت ہے۔

«کیف أنتم إذا نزل ابن مریم وإمامکم منکم وعند مسلم فیقال لعیسٰي صل بنا فیعتزرو بعضکم أولی ببعض فیقتدی المسیح بالمھدي (فتح الباری) إذا ینزل عیسٰی علی أفیق (وھو جبل عند بیت المقّدس) وبیدہ حربة فیأتي بیت المقدس ویقتل الدجال والناس في صلوة الصبح والإمام یؤم بهم »(قنوی فتح الباری ص ۱۳۵)

7. یہ اُصول بھی غلط ہے کہ جس کتاب کے متعلق فصیل مذکور ہو تو دوسری کتابیں محمل ہو جاتی ہیں۔ دیکھئے قرآن شریف میں تورات کے لئے دفعیہ تفصیل کل شیٔ مذکور ہے اور یا اخت ھٰرون کا لفظ تورات میں مذکور نہیں ہے بلکہ کسی صحیفۂ قدیم میں اس کا ذِکر نہیں۔

8. یہ بھی اصول غلط ہے کہ جس کو ابنِ خلدون غیر محقق تصور کرے وہ واقع میں بھی ایسا ہو، کیونکہ وہ محض مؤرخ ہے۔ اس کا کوئی مقام نہیں ہے کہ اصحاب الحدیث کے مقابلہ اپنی تحقیق پیش کرے۔

9. امام شوکانیؒ نے پچاس روایات لکھی ہیں۔ ملا علی قاری، ابن حجر، ابن تیمیہ، ابن قیم وغیرہ سب نے اس بات کو تسلیم کیا ہے۔

10. اگر تعدد مہدی صحیح ہے تو چونکہ مہدی و مسیح ایک ہیں۔ اس لئے یہ بھی ماننا پڑتا ہے کہ مسیح بھی ایک جماعت ہو کر کچھ گزری ہیں اور کچھ گزریں گے۔

11. اگر اختلاف روایات باعث تعدد ہے تو مسیح کو بھی متعدد ماننا پڑے گا کیونکہ نزولِ مسیح میں بھی اختلاف ہے۔ «حیث اختلف أولاً في مقام نزوله الشرقي دمشق عند المنارة البیضاء(ترمذی نواس بن سمعان) اوروح المعانی (۲۱۳/۲) او جبل افیق (قریب بیعت المقدس وعکاء کنز العمال، حجج) وثانیاً في مکثه أیمكث أربعین سنة (کنز العمال) أو ۴۵ سنة (حجج) أو سبع سنین أو تسع عشرة سنة» (کما ھو عند مسلم)

12. کچھ نشانات پائے جانے سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ واقعی قادیانی مدعی امام مہدی تھا۔ اس لئے ضروری ہے کہ علامات مختصہ کا امتحان کیا جائے۔ مثلاً کونہ من فاطمۃ (1)، اسمہ محمد (2)، حیاته بعد الدعوۃ (3)، ملكه سبع سنین (4)، انتظار المسیح (5)، إبطال الجزیة (6)، وضع الحرب (7)، نزول جبریل (8)، اقتدار بعیسٰی (9)، نزول عیسٰی (10)، إعلانِ ظہور (11)، بمنے مزدلفہ (12)، اخذ البعیةفی الحطیم (13)۔ ان گیارہ نشانات میں جو پورا اُترے وہ مہدی ہو گا۔

13. یہ کہنا بھی غلط ہے کہ یہ اختلاف آج تک رفع نہیں ہوا۔ کیونکہ حجج میں ہے کہ مہدی کا اہلِ بیت سے ہونا متواتر ہے۔ اور آلِ عباس کی روایات تمام ضعیف یا مردود ہیں۔ امام شوکانیؒ توضیح میں لکھتے ہیں کہ یا ننھیال کی طرف سے امام صاحب عباسی ہوں گے اور یا یہ روایات قابلِ استدلال نہیں ہیں۔ ایک محقق کا قول ہے کہ مہدی عباسی کی حدیث ہی اور ہے۔ کیونکہ اس کے یہ الفاظ ہیں۔

«منا السفاح منا المنصور ومنا المھدي» (بیہقی)

14. قول عمر کہ وہ بنی امیر سے ہے۔ امیر معاویہ اس کی تردید کرتے ہیں کہ« ھو من أولاد علي» (حجج طبرانی) مرزا صاحب خود بھی مانتے ہیں اور کہتے ہیں کہ« إن بعض جداتي من نبي فاطمة» اور« عسل مصفٰے» میں تسلیم کیا گیا ہے کہ جب آپ بنی فاطمہ میں داخل ہوئے تو آپ سید بھی بن گئے۔

15. بنی فاطمہ تسلیم کرنے سے امام مہدی پر تمام عنوان صادق آتے ہیں۔

«من الامته من أھلِ البیت من الحسن أبًا من الحسین أمّا»

16. لا مهدي إلا عیسٰی قابلِ استدلال نہیں کیونکہ اس کا راوی محمد بن خالد ہے۔« وھو متفردبه ومجھول عند البخاري قال في الحجج حدثیه مضطرب وضعیف لا یعارض الصحاح۔ »

17. اگر صحیح ہو تو بقول شوکانی یوں تاویل ہو گی کہ لا مہدي کاملا إلا عیسٰی یا یُوں کہیں گے کہ ان میں اتحاد زمانی مراد ہے۔ «كقوله ما أمرنا إلا واحد »

18. کما سے استدلال کرنا اس وقت مفید ہوتا کہ عیسیٰ سے پہلے مہدی بھی مانا جائے ورنہ تشبیہ نام سے رہے گی۔ مگر عسل مصفےٰ (۲۳۹/۱۲) میں یوں لکھا ہے کہ سید احمد بریلوی ۲۰۱؁ء میں یحییٰ کی طرح مبشر مرزا پیدا ہوئے تھے۔ مگر مرزا صاحب نہیں مانتے اور کہتے ہیں کہ سید احمد کے پیرو چونکہ گمراہ ہیں۔ اس لئے داستان سازی میں مشغول رہتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ مسیح آسمان سے اُترے گا۔ بھلا جھوٹا ایسا نہ کہے تو کیا کہے۔

19. اب ثابت ہوا کہ مہدی سید ہو گا اور ختمِ رسالت کی وجہ سے نبی نہ ہو گا۔ اور مسیح کو بطریق توصیف مہدی کہا گیا ہے ورنہ اس کو بطور اسم علم کے مہدی نہیں کہا گیا۔ جیسا کہ وارد ہوا ہے۔

«علیکم بسنة الخلفاء الراشدین المھد يین (ابو داود) وللجریر اللھم اجعله مھدیا (کنز العمال) ولأبی ذر من سره أن ینظر إلی عیسٰی ابن مریم فلینظر إلی ابی ذر الغفاری (ابن عساکر عن انس) ولن تھلک امةأنا أولھا وعیسٰی اٰخرھا والمھدي أوسطھا (حاکم، ابو نعیم، ابن عساکر) فبطل ما قال فی العسل المصطفٰے إذا ذکر المھدي منفردا فالمراد به رجل صالح (۱۴۵/۲) فعلیه أن یقول أیضا أن المسیح إذا ذکر منفردا فالمرادبه رجل سیاح لیرتفع الأمر من البین۔ ھذا۔ »

تم ہدایت یافتہ خلفاء کے طریق کار کو اپناؤ (ابو داؤد) جریر کے لئے۔ اے اللہ! اسے ہدایت یافتہ بنا۔ ابو ذر کے لئے جو عیسیٰ بن مریم کو دیکھنا پسند کرے وہ ابو ذر کو دیکھ لے (ابن عساکر عن انس) وہ امت کبھی ہلاک نہ ہو گی جس کی ابتداء میں مَیں ہوں آخر میں عیسیٰ اور درمیان میں مہدی ہے۔ (حاکم ابو نعیم ابن عساکر) اس طرح عسل مصفی میں جو ہے وہ باطل ہو گیا کہ جب اکیلا مہدی ذکر ہو تو اس سے نیک آدمی مراد ہو گا۔ کیونکہ اس طرح یہ بھی کہنا چاہئے کہ جب مسیح اکیلا مذکور ہو تو اس سے سیاح آدمی مراد ہو گا تاکہ مسئلہ اختلاف سے نکل جائے۔