قسط نمبر ۲ (آخری)

فکر و نظر کا بگاڑ:

انسانی زندگی چونکہ بنیادی طور پر نظریات پر استوار ہے، اس لئے نظریات و افکار میں بگاڑ انسان کی پوری سیرت و کردار کو متاثر کرتا ہے۔ جب ہم کسی معاشرے کا تجزیہ اس پہلو سے کرتے ہیں تو اس میں افراد کی نظریاتی و فکری کیفیتوں کو سامنے رکھنا ضروری ہوتا ہے۔

فکری بگاڑ میں سب سے پہلی زد انسان کی اپنی شخصیت پر پڑتی ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ افراط و تفریط کا شکار ہو جاتا ہے۔ لہٰذا کبھی تو وہ اپنے متعلق غلط فہمی کا شکار ہو کر ''أنا ربكم الأعلٰى'' کا نعرہ لگاتا ہے۔ اور کبھی اپنے آپ کو مرتبۂ انسانیت سے بھی گرا کر، اپنی ہی جیسی مخلوق کے سامنے سجدہ ریز ہو جاتا ہے (قرآن پاک نے انسان کی اس ذہنی کیفیت کا نقشہ ان الفاظ میں کھینچا ہے۔

﴿أُولـٰئِكَ كَالأَنعـٰمِ بَل هُم أَضَلُّ...١٧٩﴾... سورة الاعراف

''یعنی یہ لوگ انسان ہونے کے باوجود حیوانوں سے بھی گئے گزرے ہیں کہ جنہیں اپنی حیثیت کا احساس تک بھی نہیں)''

انسان کی یہ روش اس کے غلط طرزِ فکر کا ہی نتیجہ ہے جس میں انکارِ خدا، شرک، انکارِ آخرت، خیر و شر کی تمیز سے انکار، بامقصد زندگی سے انکار اور انسان کی اصل حیثیت اور مرتبہ سے انکار سب شامل ہیں۔ فکر و نظر کے اس بگاڑ سے انسانی زندگی کے جملہ احوال متاثر ہوتے ہیں اور اس کا اثر معاشرے کی انفرادی اور اجتماعی زندگی پر غالب ہوتا ہے۔

اب ہم مختصر طور پر فکر و نظر کے بگاڑ کی مندرجہ بالا صورتوں کا جائزہ لیں گے۔

انکارِ خدا:

ایک غلط طرزِ فکر کا حامل ذہن جب کائنات اور اپنی زندگی کے متعلق سوچتا ہے۔ تو اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ تخلیق کائنات کا کوئی مقصد نہیں اور نہ ہی کائنات کا کوئی خالق ہے اور اگر ہے تو بھی انسانی زندگی سے اس کا کوئی تعلق نہیں، اس بیہودی و بے راہ ذہن کی نظر میں انسان کی حیثیت ایک جاندار مخلوق سے زیادہ نہیں جس کی پیدائش کسی خاص حادثہ کا نتیجہ ہے اور جس کا نظامِ یات بھی کسی حادثہ ہی کا شکار ہو کر ختم ہو جائے گا۔

اس کے خیال میں انسان کا کوئی مالک، مختار اور حاکم نہیں جس کے سامنے وہ جواب دہ ہے اور نہ ہی اس کی نظر میں انسایت کے لئے کوئی سرچشمہ ہدایت موجود ہے، لہٰذا قانون بنانا، اپنی قوتوں کا مصرف تجویز کر کے انہیں بروئے کار لانا اور اپنے لئے راہِ عمل متعین کرنا اس کا اپنا کام ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ ایک انسان جب اس طرزِ فکر کو اپنا کر اپنی عملی زندگی میں قدم رکھے گا تو لا محالہ غلط طرزِ عمل اختیار کر ےگا اور یہ چیز لازمی طور پر ایک غلط معاشرہ کی تشکیل و تعمیر پر منتج ہو گی۔ نظریہ انکار خدا کا اگر ہم تجزیہ کریں تو ہمیں معلوم ہو گا کہ اس کی وجہ سے انسان کی انفرادی زندگی کے ساتھ ساتھ، اس کی اجتماعی زندگی بھی متاثر ہوتی ہے کیونکہ انفرادی زندگی میں جب انسان خود ہی اپنے لئے راہِ عمل اختیار کرے گا، خود ہی قوانین مرتب کرے گا، خود ہی اصولِ زندگی وضع کرے گا۔ اور اپنی خواہشاتِ نفسانی اور مقتضائے جسمانی کا حل اپنے ہی ذہن سے تلاش کرے  گا تو نتیجہ یہ ہو گا کہ وہ ایک خود غرض، مادہ پرست، ابن الوقت اور عملی طور پر بالکل ایک شتر بے مہار کی طرح ہو جائے گا کہ جو راہ چاہے اپنے لئے متعین کرے اور جو بھی طرزِ عمل چاہے اختیار کرے۔

چنانچہ جب ایسی انفرادی زندگی، اجتماعی طرزِ حیات کا رنگ اختیار کرے گی، تو نتیجہ یہ ہو گا کہ سیاست کی بنیاد انسانی حاکمیت پر ہو گی، تمام اصول و قوانین، خواہشات اور تجرباتی مصلحتوں کی بنا پر وضع کئے جائیں گے۔ بااختیار و اقتدار وہی لوگ سمجھے جائیں گے، جو طاقتور اور چالاک ہوں گے۔ سوسائٹی کی راہ نمائی ان لگوں کے ہاتھ میں ہو گی جو مکار، جھوٹے، دا باز، سنگدل اور خبیث النفس ہوں گے۔ جن کی کتابِ آئین میں طاقت کا نام حق و صداقت اور کمزوری، محرومی اور بیچارگی کا نام باطل ہو گا۔ غرض معاشرت اور طرز تمدن کا پورا نظام نفس پرستی پر قائم ہو ا اور اجتماعیت چند آوارہ مزاج لوگوں کے لئے ایک منظم چراگاہ ہو گی۔

شرک:

انکارِ خدا کے بعد فکری بگاڑ کی دوسری وجہ شرک ہے۔

ایسے لوگ یقیناً کم ہوں گے جو خالقِ عالم اور قادرِ مطلق کے وجود کے منکر ہوں گے لیکن ایسے لوگ بکثرت مل جائیں گے جو شرک کی بھول بھلیوں میں سرگردان ہیں۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ نے انبیائے کرام کو مبعوث فرما کر مشرکین کے خلاف حجت قائم فرما دی ہے۔ لیکن بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جو اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ کچھ وجود، خدا کی صفات و اختیارات میں کسی نہ کسی طرح شریک ہیں، باوجودیکہ قرآن مجید نے شرک کو بیخ و بن سے اکھاڑ کر رکھ دیا ہے۔

شرک کے تصور کے زیرِ اثر انسان جو طرزِ عمل اختیار کرتا ہے۔ اس سے انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی متاثر ہوتی ہے۔ انسان کی پوری زندگی اوہام کی آماجگاہ بن جاتی ہے وہ اچھے اثرات کی موہوم امیدوار برے اثرات کے خوف میں مبتلا ہو جاتا ہے اور اپنی بہت سی قوتیں لا حاصل طریقے سے ضائع کر دیتا ہے۔ کبھی کسی قبر سے امید لگاتا ہے، کبھی بتوں پر بھروسہ کرتا ہے، کبھی کسی برے شگون سے دل برداشتہ ہو جاتا ہے اور کبھی خیالی قلعے تعمیر کرتا ہے، غرضیکہ شرک انسان کو فطری طریقے سے ہٹا کر غیر فطری راستے پر لا ڈالتا ہے اور انسان کی زندگی میں پوجا پاٹ، نذر و نیاز اور دوسری غیر شرعی رسموں کا لا متناہی سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ جس میں الجھ کر انسان کی سعی و عمل کا ایک حصہ بے نتیجہ ہو کر رہ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ چالاک لوگ مشرکانہ توہم پرستی کے جال میں لوگوں کو پھانس کر لوٹ کھسوٹ شروع کر دیتے ہیں، شرکیہ عقیدے کی بدولت عام انسانوں کی گردنوں پر شاہی خاندانوں، روحانی پیشواؤں اور مذہبی عہدہ داروں کی خدائی کا جواء مسلط ہو جاتا ہے۔ اس سے نہ تو علوم و فنون ہی ترقی پاتے ہیں اور نہ ہی درست فلسفہ، صالح ادب اور تمدن و سیاست کے لئے فضا ہموار ہوتی ہے۔ انسایت گمراہی اور دھوکے کا شکار ہو کر خود اپنے ہی خلاف جنگ کرنا شروع کر دیتی ہے، اور بالآخر انہی راہوں پر گامزن ہو جاتی ہے جن کا ذکر انکارِ خدا کے ضمن میں کیا گیا ہے۔

انکارِ آخرت:

انکارِ آخرت بھی، انکارِ خدا اور شرک ہی کی ایک کڑی ہے۔

آخرت اصل میں نام ہے اعمال و افعال کے اس نتیجے کا جو اس دنیا میں ہم کر رہے ہیں اور اگر جزا و سزا کا تصور سرے سے ذہن میں موجود ہی نہ ہو تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ نیکی صرف دنیاوی فوائد اور برائی صرف دنیاوی نقصانات تک محدود ہو کر رہ جائے گی۔ ان حالات میں انسان کی حالت دو حال سے خالی نہ ہو گی۔ حالات ناموافق ہوں گے۔ تو نیکو کاری کے نتائج ظاہر نہ ہونے پر اس کی قوتِ عمل سرد پڑ جائے گی اور وہ برائی کی طرف مائل ہو جائے گا اور سازگار حالات کی صورت میں انسان نفس پرست بن جائے گا۔ اور دنیاوی خواہشات و لذات حاصل کرنے کے لئے جائز و ناجائز ذرائع کا استعمال شروع کر دے گا۔ اور یہ دونوں صورتیں انسایت کی تباہی کا سبب بن سکتی ہیں۔ یہ تو رہا انفرادی زندگی کا ماملہ اور اگر کہیں پوری سوسائٹی کے افعال و اعمال کا دارومدار اسی اعتقاد پر ہو تو پورا معاشرہ خود غرضی اور نفسانیت کی لپیٹ میں آئے گا۔ اور ایسے معاشرہ کے انجام کا تصور کرنا کچھ مشکل نہ ہو گا۔

بامقصد زندگی سے انکار:

جب تک انسان کے سامنے کوئی واضح لائحہ عمل اور نصیب العین نہ ہو گا۔ انسان کا کوئی عمل بھی تنظیم و انضباط سے ہمکنار نہ ہو سکے گا۔ اور اس کی زندگی صرف کھانے پینے اور خواہشات سے متمتع ہونے سے عبارت ہو کر رہ جائے گی۔ اور یا پھر کوئی انتہا پسند یا کوئی سر پھرا انسان جو اپنے آپ کو پیدائشی مجرم تصور کرتا ہے، اس جرم کی سزا بھگتنے کے لئے خواہشات و لذّات سے بالکل ہی کنارہ کش ہو جائے گا۔ اور ایک با مقصد زندگی گزارنے کی بجائے بیابانوں اور ویرانوں کی خاک چھانتا نظر آئے گا۔ لیکن اسلام کا تصورِ حیات ان ہر دو صورتوں سے بیزار ہے۔ وہ تو انسان کو صحیح مقصدِ حیات سے ہمکنار کرنے کی خاطر ایک مبنی بر اعتدال و توازن راست پر چلنے کے لئے زور دیتا ہے۔ وہ انسان کو ایک ایسا اچھوتا نظامِ حیات بخشتا ہے جو انسانیت کے لئے ہر طرح سے اطمینان و تسکین کا حامل ہو۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں جہاں ایک مقام پر اپنے نیک بندوں کی پسندیدہ حالت کا نقشہ ان الفاظ میں کھینچا ہے کہ:

﴿قُل إِنَّ صَلاتى وَنُسُكى وَمَحياىَ وَمَماتى لِلَّهِ رَ‌بِّ العـٰلَمينَ ١٦٢﴾... سورة الانعام

(یعنی میری نماز قربانی اور حیات و ممات سب اللہ ہی کے لئے ہیں)

وہیں ایک دوسرے مقام پر یہ بھی ارشاد فرما دیا ہے کہ:

﴿وَمِنَ النّاسِ مَن يَعبُدُ اللَّهَ عَلىٰ حَر‌فٍ ۖ فَإِن أَصابَهُ خَيرٌ‌ اطمَأَنَّ بِهِ ۖ وَإِن أَصابَتهُ فِتنَةٌ انقَلَبَ عَلىٰ وَجهِهِ خَسِرَ‌ الدُّنيا وَالءاخِرَ‌ةَ ۚ ذ‌ٰلِكَ هُوَ الخُسر‌انُ المُبينُ ١١﴾... سورة الحج

''کچھ آدمی اللہ کی بندگی کنارے پر کرتے ہیں پھر اگر وہ بھلائی سے ہمکنار ہوئے تو اطمینان پاتے ہیں اور اگر کوئی آزمائش آپڑی تو منہ کے بل پلٹ گئے۔ یہ تو دنیا اور آخرت دونوں کا گھاٹا ہے اور صریح نقصان۔''

آپ انسان کی ان ہر دو حالتوں کو جائز لیجئے اور اس کے بین بین ایک راہِ اعتدال متعین کر لیجئے آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ اسلام کی نظر میں بامقصد زندگی کا شعور اور اعلیٰ اور ارفع معیارِ حیات کا تصور کیا ہے۔ اور پھر اس بات کا سمجھنا بھی کچھ مشکل نہ ہو گا کہ اس معیارِ حیات کے تصور سے منحرف ہونے والے افراد یا معاشرہ کبھی پنپ نہیں سکتے۔

خیر و شر کی تمیز سے انکار:

خیر کے معنی بھلائی کے ہیں اور شر اس کی ضد ہے، خیر سے مراد وہ چیز ہے جو انسان کے لئے انفرادی یا اجتماعی افادیت کی حامل ہو۔ یہ افادیت مادی بھی ہو سکتی ہے اور روحانی بھی، دنیوی بھی اور اخروی بھی۔ اور شر سے مراد وہ چیز ہے جو انسان کے لئے انفرادی یا اجتماعی رنگ میں ضرر رساں ہو، جس معاشرہ میں خیر و شر کی تمیز مٹ جائے (خیر اور شر کا معیار وحی الٰہی اور احکام قرآنی پر رکھا جائے گا) وہ ضلالت اور گمراہی کا شکار ہو جاتا ہے کیونکہ افراد کی نظر میں نیکی نیکی اور بدی بدی نہیں رہتی اور لوگ صرف ظاہری منفعتوں کے زیر اثر کام کرتے ہیں۔ ایسی قوم اور ایسے معاشرے کا زوال یقینی اور حتمی ہو جاتا ہے۔

معاشرے کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ اگر اس میں ایسے لوگ بچ بھی جائیں۔ جو خیر و شر میں تمیز کر سکتے ہوں تو بھی شر کے غلبے، معاشی لوٹ کھسوٹ اور اخلاقی اقدار کو مٹتے دیکھ کر ہمت ہار بیٹھیں اور کنارہ کشی اختیار کر لیں۔ ایسے حالات میں اصلاح کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں رہتی اور بالآخر معاشرہ تباہی اور بربادی کا شکار ہو جاتا ہے۔

یہ ہیں وہ محرکات اور وجوہات جو فکر و نظر میں بگاڑ پیدا کرتے ہیں۔ لہٰذا ایسی کیفیت سے معاشرے کو بچانے کے لئے یہ ضروری ہے کہ انسان کا مقصدِ زیست تعمیری اور اخلاقی ہو۔ وہ خدا، آخرت اور بامقصد زندگی پر ایمان رکھے۔ اور شرک سے اپنا دامن ملوث نہ ہونے دے۔

قول و فعل کا بگاڑ:

فکر و نظر کا بگاڑ قول و فعل کے بگاڑ کی بنیاد ہے کیونکہ انسان کا کردار نظریات کے خمیر سے اُٹھتا ہے۔ ماحول اور حالات اسے پختہ کر دیتے ہیں اور انسان کی اپنی کوشش اسے پائیدار بنا دیتی ہے۔ قول و فعل کے بگاڑ میں بے شمار چیزیں گنوائی جا سکتی ہیں لیکن قرآن پاک نے خیر شر کے جملہ پہلوؤں کو بڑی جامعیت کے ساتھ بیان کر دیا ہے۔

﴿إِنَّ اللَّهَ يَأمُرُ‌ بِالعَدلِ وَالإِحسـٰنِ وَإيتائِ ذِى القُر‌بىٰ وَيَنهىٰ عَنِ الفَحشاءِ وَالمُنكَرِ‌ وَالبَغىِ ۚ يَعِظُكُم لَعَلَّكُم تَذَكَّر‌ونَ ٩٠﴾... سورة النحل

''بیشک اللہ تعالیٰ عدل و احسان اور قریبیوں کے حقوق کی ادائیگی کا حکم دیتا ہے اور فحشاء، منکر اور بغی سے روکتا ہے، اللہ تمہیں نصیحت فرماتا ہے، تاکہ تم نصیحت مانو''

مندرجہ بالا آیت میں تین قسم کی برائیاں بیان کی گئی ہیں اور وہ ہیں۔ الفحشاء، المنکر اور البغی، اب ہم تھوڑی سی بحث اس بات پر کریں گے، کہ فحشاء، منکر اور بغی میں کون کون سی چیزیں شامل ہیں۔

الفحشاء:

یہ لفظ فحش سے نکلا ہے۔ الفواحش اس کی جمع ہے۔ جس کے معنی حدود فراموشی کے ہیں۔ زیادتی کر بیٹھنا، کسی بات سے تجاوز کرنا، گفتگو میں ادب و احترام کی حدود کو پھلانگ جانا (وغیرہ) بھی فحشاء ہی کے ضمن میں آتا ہے۔

قرآن کریم میں فحشاء کے مقابلے میں عدل کا لفظ آیا ہے۔ لہٰذا فحش کے معنی حدودِ خداوندی سے تجاوز اور سرکشی کے ہیں، سورۃ الانعام میں ہے:

﴿وَلا تَقرَ‌بُوا الزِّنىٰ ۖ إِنَّهُ كانَ فـٰحِشَةً وَساءَ سَبيلًا ٣٢﴾... سورة الاسراء

'' اور بدکاری کے پاس نہ جاؤ بیشک وہ بے حیائی اور بری راہ ہے۔''

عورتوں کے زمن میں فاحشہ کا لفظ زنا کے لئے استعمال ہوا ہے، ایک جگہ ارشاد ہے:

﴿وَلا تَقرَ‌بُوا الفَو‌ٰحِشَ ما ظَهَرَ‌ مِنها وَما بَطَنَ...١٥١﴾... سورة الانعام

''تم فواحش کے قریب نہ جاؤ خواہ وہ کھلے ہوں یا ڈھکے چھپے''

غرض قرآن پاک میں فحش کا لفظ مختلف جگہوں پر مختلف معانی میں آیا ہے۔ نیز لفظ فواہش اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ فاحشہ صرف زنا ہی نہیں بلکہ دوسرے بے حیائی کے کام بھی فاحشہ میں شامل ہیں۔ سعت کے ساتھ اس کا اطلاق فحش گوئی اور فحش کاری پر ہوتا ہے جس کی ہر نوع سے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو باز رہنے کی تاکید فرمائی ہے۔

المنکر:

فحشاء کے بعد جس چیز سے باز رہنے کی تاکید کی گئی ہے وہ منکر ہے۔ اس کے لغوی معنی ناشناسا کے ہیں۔ اس کے مقابلہ میں معروف (شناسا) کا لفظ آیا ہے۔ جو کام ہر طبقہ میں ناپسند کیا جاتا ہے اور جس کا مرتکب سب کی نگاہوں میں گر جاتا ہے اس کو منکر کہا جاتا ہے۔

رزائل کے لئے قرآن پاک میں سب سے عام لفظ منکر ہے۔ چنانچہ سورۃ المائدہ میں جن برائیوں سے روک ٹوک نہ کرنے پر بنی اسرائیل کو ملامت کی گئی ہے ان کو اسی لفظ منکر سے تعیر کیا گیا ہے۔

﴿ كانوا لا يَتَناهَونَ عَن مُنكَرٍ‌ ...٧٩﴾... سورة المائدة

''وہ ایک دوسرے کو برائی سے منع نہ کرتے تے۔''

شیطان کی پیروی کو بھی فحشاء اور منکر سے تعبیر کیا گیا ہے۔

﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا لا تَتَّبِعوا خُطُو‌ٰتِ الشَّيطـٰنِ ۚ وَمَن يَتَّبِع خُطُو‌ٰتِ الشَّيطـٰنِ فَإِنَّهُ يَأمُرُ‌ بِالفَحشاءِ وَالمُنكَرِ‌...٢١﴾... سورة النور

''اے ایمان والو شیطان کے نقش قدم پر مت چلو اور جس نے ایسا کیا بیشک وہ بے حیائی اور برائی کا حکم دیتا ہے۔''

عرض المنکر ایک ایسا وسیع لفظ ہے جو ہر قسم کی برائیوں، بے حیائیوں، ناپسندیدہ اور غیر مانوس افعال کو محیط ہے اور اس سے بھی اجتناب کرنے کی قرآن مجید نے پرزور تاکید فرمائی ہے۔

البغی:

ابن کثیر بغی کو اس طرح بیان کرتے ہیں۔

«فأما البغي فھو عدوان علی الناس» (ابن کثیر ج ۲ ص ۸۲)

''یعنی لوگوں پر ظلم و زیادتی ''بغی'' ہے۔''

قرآن مجید میں ہے: ﴿خَصمانِ بَغىٰ بَعضُنا عَلىٰ بَعضٍ...٢٢﴾... سورة ص

''ہم دو جھگڑنے والوں نے ایک دوسرے پر زیادتی کی ہے''

ابن فارس نے اس کے دو معنی بیان کئے ہیں۔

1۔ کسی چیز کی طلب میں میانہ روی کی حد سے بڑھنے کی کوشش کرنا۔

2۔ بگڑ جانا۔ مطلق طلب کے معنوں میں بھی آتا ہے۔ جیسے ابتغاء رحمة۔

«فئة باغیة»' اس جماعت کو کہتے ہیں جو حدود شکنی کرے اور نظامِ حکومت کے خلاف اٹھ کھڑی ہو۔

سورہ مریم میں ''بغیّا'' کا لفظ بدکاری کے معنوں میں آیا ہے۔

﴿قالَت أَنّىٰ يَكونُ لى غُلـٰمٌ وَلَم يَمسَسنى بَشَرٌ‌ وَلَم أَكُ بَغِيًّا ٢٠﴾... سورة مريم

''بولیں کہ میرے ہاں لڑکا کیسے پیدا ہو گا مجھے تو کسی آدمی نے ہاتھ نہیں لگایا اور نہ میں بدکار ہوں۔''

﴿أَن يَكفُر‌وا بِما أَنزَلَ اللَّهُ بَغيًا...٩٠﴾... سورة ا لبقرة

''یعنی جو کچھ اللہ نے اتارا ہے اس سے انکار کرتے ہیں، ضد کی وجہ سے۔''

مذکورہ بالا آیات سے البغی کے جو معانی علم میں آتے ہیں وہ ہیں، لوگوں پر ظلم و زیادتی کرنا، میانہ روی کی حد سے بڑھنے کی کوشش کرنا، کسی چیز کی طلب کے لئے انتہائی کوشش کرنا۔ حدود شکنی کرنا، بغاوت کرنا، بدکاری کرنا، ناجائز ضد کرنا وغیرہ وغیرہ۔ اور یہ بھی تمام ایسی چیزیں ہیں جن سے مجتنب رہنے کی قرآن مجید نے تلقین فرمائی ہے۔

ان قرآنی اصطلاحات سے جو نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ فحشاء میں جس برائی کا ذِکر کیا گیا ہے۔ وہ صرف ایک فرد کی ذات تک محدود ہے۔ مثلاً زنا، برہنگی، جھوٹی تہمت، شراب نوشی، چوری وغیرہ، انہیں حدیث شریف میں بھی فواہش کے نام سے تعبیر کیا گیا ہے۔

منکر میں پوری جماعت کی معاشرتی زندگی شامل ہوتی ہے۔ ایسی زندگی جو ناپسندیدہ افعال، غیر مانوس حرکات، ظلم و ستم، سنگدلی، برائیوں اور بے حیائیوں سے عبارت ہو۔ ''بغی'' میں ایسی برائیاں شامل ہیں جو جماعت سے بھی آگے بڑھ کر پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہیں۔ مثلاً چوری، قتل، ڈاکہ، بدکاری وغیرہ اور اس نوع کے دوسرے افعال جن سے اجتماعی زندگی متاثر ہوتی ہے۔

سید ابو الأعلیٰ موودی کے الفاظ میں الفحشاء، المنکر اور البغی کی تعریف:

فحشاء کا اطلاق تمام بیہودہ اور شرمناک افعال پر ہوتا ہے۔ ہر وہ برائی جو اپنی ذات میں نہایت قبیح ہو، فحش ہے۔ مثلاً بخل، زنا، برہنگی و عریانی، فعل قوم لوط، محرمات سے نکاح کرنا، چوری، شراب نوشی، بھیک مانگنا، گالیاں بکنا، اور بد کلامی کرنا وغیرہ۔ اسی طرح علی الاعلان برے کام کرنا اور برائیوں کو پھیلانا بھی فحش ہے۔ مثلاً جھوٹا پروپیگنڈا، تہمت تراشی، پوشیدہ جرائم کی تشہیر، بدکاریوں پر اُبھارنے والے افسانے اورڈرامے، فلم، عریاں تصاویر، عورتوں کا بن سنور کر منظر عام پر آنا۔ علی الاعلان مردوں اور عورتوں کے درمیان اختلاط ہونا اور اسٹیج پر عورتوں کا ناچنا، تھرکنا اور جسم کی نمائش کرنا وغیرہ منکر سے مراد ہر وہ برائی ہے جس انسان بالعموم برا جانتے ہیں، ہمیشہ سے برا کہتے رہے ہیں اور تمام شرائع الٰہیہ نے جس سے منع کیا ہے۔

بغی کے معنی ہیں، حد سے تجاوز کرنا اور دوسرے کے حقوق پر ست درازی کرنا خواہ وہ خالق کے ہوں یا مخلوق کے ۔

مندرجہ بالا بحث سے قول و فعل کے بگاڑ کی (الفحشاء، المنکر، البغی کے ضمن میں آنے والی) تمام صورتیں سامنے آجاتی ہیں اور یہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ مذکورہ بالا خرابیاں ایسی ہیں جن کی بدولت افرادِ انسانی اور جماعتوں کو ہر وقت مادّی اور روحانی نقصان پہنچنے کا احتمال ہوتا ہے۔ جب یہ افعال کسی قوم میں جڑ پکڑ لیں اور ان پر گرفت کرنے والا کوئی نہ ہو تو پوری قوم اس کی لپیٹ میں آجاتی ہے اور سارا معاشرہ تباہی اور بربادی کا شکار ہو جاتا ہے۔ قوم کی دینی اور دنیوی ترقی کی راہیں مسدود ہو جاتی ہیں اور سعادت و اقبال کا دروازہ اس پر اس وقت تک کے لئے بند ہو جاتا ہے جب تک وہ اپنی اصلاح نہ کر لے۔

اصلاح:

جب ہم نے بگاڑ کا تعین کر لیا اور اس کے تفصیلی عناصر سے بھی واقفیت حاصل کر لی تو اب ہمارے لئے اصلاحی اقدام کا تعین بھی نہایت آسان ہے، مضمون کے آغاز میں یہ بات بیان کی گئی ہے کہ اصلاح نام ہے، دوستی یا ازالہ فساد کا۔ لہٰذا معاشرے میں جہاں جہاں بھی فساد ہو گا۔ اس کو درست کرنے کا نام اصلاح ہو گا۔

سب سے پہلے یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ اسلام جہاں جماعتی فلاح کا ضامن ہے۔ وہاں افراد کو بھی نظر انداز نہیں کرتا۔ بلکہ فرد کی اصلاح کو اصلاح کا نقطۂ آغاز قرار دیتا ہے۔ کیونکہ فرد معاشرے کی بنیادی اکائی ہے۔ لہٰذا فرد کی اصلاح دراصل معاشرے کی اصلاح ہے۔

ہمارےے نزدیک اصلاح کے لئے درج ذیل اقدام نہایت مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔

1۔ سب سے پہلے افراد کے ذہنوں میں خدا کا صحیح تصور اور عقیدۂ آخرت کی اہمیت پر زور دیا جائے۔ نیز شرک سے اجتناب کی ہر ممکن کوشش کی جائے۔ تاکہ لوگ اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے افعال میں خداوند کریم کے سامنے جواب دہی کے تصور کو مردہ نہ ہونے دیں اور صحیح نصب العین اور اعلیٰ و ارفع اقدارِ حیات کے حصول کی خاطر کوشاں رہیں۔

2۔ معاشرے کے اندر کسی ایسے ادارہ کی تشکیل کی جائے جو اصلاح و فساد کا تعین کرے اور ان تدابیر کو قابلِ عمل بنائے جن سے بگاڑ کی روک تھام ہو سکے۔ دینی نقطۂ نظر سے اس کو ادارہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کہہ سکتے ہیں۔ کیونکہ امت مسلمہ کی خصوصیت میں یہی بات بیان فرمائی گئی ہے۔

﴿كُنتُم خَيرَ‌ أُمَّةٍ أُخرِ‌جَت لِلنّاسِ تَأمُر‌ونَ بِالمَعر‌وفِ وَتَنهَونَ عَنِ المُنكَرِ‌...١١٠﴾... سورة آل عمران

''تم وہ بہترین امت ہو جو لوگوں کو بھلائی کا حکم دیتی اور برائی سے روکتی ہے۔''

امت کے ایک گروہ کیلئے امر بالمعروف ونہی عن المنکر کو فریضہ قرار دیا ہے۔

﴿وَلتَكُن مِنكُم أُمَّةٌ يَدعونَ إِلَى الخَيرِ‌ وَيَأمُر‌ونَ بِالمَعر‌وفِ وَيَنهَونَ عَنِ المُنكَرِ‌ ۚ وَأُولـٰئِكَ هُمُ المُفلِحونَ ١٠٤﴾... سورة آل عمران

''تم میں سے ایک گروہ ایسا ہونا چاہئے جو بھلائی کی طرف بلائے، اچھے کاموں کا حکم دے اور برائی سے روکے یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔''

اس طرح اگر امت مسلمہ اپنے فریضہ کو پہچانے، اس کا صالح عنصر مجتمع ہو جائے اور اس کا اپنا ذاتی اور اجتماعی رویہ خالص راستبازی، انصاف، حق پسندی، خلوص اور دیانت پر مضبوطی سے قائم ہو جائے تو منظم نیکی کے سامنے منظم بدی اپنے لشکروں کی کثرت کے باوجود شکست کھا جائے گی اور اگر خیر کے علمبردار سرے سے میدا ن میں ہی نہ آئیں تو میدان لا محالہ علمبردارانِ شر کے ہاتھ میں رہے گا۔

3۔ حکومت کو ان صالح لوگوں کے ہاتھ میں ہونا چاہئے جو خیر کو قائم کریں اور شر کو روک سکیں۔ «النَّاسُ عَلٰی دِیْنِ مُلُوْكِھِمْ» ایک پرانا مقولہ ہے اور غالباً حدیث نبوی سے ہی اخذ کیا گیا ہے۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے:

«الْاِسْلَامُ وَالسُّلْطَانُ أخَوَانِ تَوْأَمَانِ لَا یَصْلُحُ وَاحِدٌ مِّنْھُمَا إلَّا بِصَاحِبِه فَالإسْلَامُ أُسٌّ وَالسُّلْطَانُ حَارِسٌ وَّمَا لَا أُسَّ لَهُ ھَادِمٌ وَّمَا لَا حَارِسَ لهُ ضَائِعٌ» (کنز العمال)

اسلام اور حکومت و ریاست، دو جڑواں بھائی ہیں۔ دونوں میں سے کوئی ایک دوسرے کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔ پس اسلام کی مثال ایک عمارت کی ہے اور حکومت گویا اس کی نگہبان ہے جس عمارت کی بنیاد نہ ہو ،گر جاتی ہے اور جس کا نگہبان نہ ہو وہ لوٹ لیا جاتا ہے۔

ایک اور حدیث ہے:

«إِنَّ اللہَ لَیَزَعُ بِالسُّلْطَانِ مَا لَا یَزَعُ بِالْقُرْآنِ» (تفسیر ابن کثیرؒ ج ۳ ص ۵۹)

''اللہ تعالیٰ حکومت کی طاقت سے ان چیزوں کا سد باب کر دیتا ہے جن کا سد باب قرآن سے نہیں ہو سکتا۔''

حدیث میں قوم کے بناؤ اور بگاڑ کی ذمہ داری اس کے علماء اور امراء پر رکھی گئی ہے۔ کیونکہ زمامِ کار انہی لوگوں کے ہاتھ ہوتی ہے۔ اگر فرمانروا خدا پرست اور صالح ہوں تو زندگی کا سارا نظام خیر و صلاح پر چلے گا۔ اور حکومتِ وقت ''ادارہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر'' کی سفارشات پر غور کرے گی۔

4۔ معاشرے کا اجتماعی شعور بیدار کیا جائے کہ کوئی شخص بھی بگاڑ کی طرف مائل نہ ہو۔ اس کے شعور کی تعمیر و ترقی کے لئے ''ادارہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر'' مندرجہ ذیل طریق اختیار کر سکتا ہے۔

(الف) تعلیم و تبلیغ کے زریعے وہ تمام صورتیں اختیار کی جا سکتی ہیں۔ جو دورِ حاضر میں نشر و اشاعت کے کام میں لائی جاتی ہیں۔ مثلاً اخبارات، ریڈیو، ٹیلی ویژن مذاکرات وغیرہ کے ذریعہ سے دینی اقدار اور اسلامی طرزِ حیات کی تفہیم کو فروغ دینے کی کوشش کی جائے، حقیقت یہ ہے کہ دورِ حاضر میں یہ ذرائع عوامی رجحانات کو بدلنے اور نیا رخ دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ معاشرے کے اندر غلط رجحانات کی ترویج میں ان اداروں کا بڑا حصہ ہے۔

(ب) یہ ادارہ معیاری معاشرت کے لئے عمدہ نمونہ اور مثال پیش کرے جس کی نہج پر پورے معاشرے کو ڈھالا جا سکے۔ نبی کریم ﷺ نے جن اصولوں کو بیان کیا تھا، ان اصولوں پر مبنی ایک سوسائٹی مدینہ طیبہ میں تشکیل دی تھی اس معاشرہ کا ہر فرد ان اصولوں کی جیتی جاگتی تصویر تھا۔ لہٰذا اصلاح معاشرہ کے لئے یہ ضروری ہے کہ نمونے کے چند افراد پر مشتمل ایک ایسی وحدت قائم ہونی چاہئے جس کو سامنے رکھ کر پورے معاشرے کو استوار کیا جا سکے۔

5۔ معاشرے میں مسجد کی دینی اور سماجی حیثیت کو اجاگر کیا جائے اور اصلاح معاشرہ کے لئے مسجد کو مرکزی حیثیت دی جائے کیونکہ نظمِ اجتماعی کے لئے ایک مرکز کا ہونا ضروری ہے۔ جب تک مسلم سوسائٹی مسجد سے اپنا تعلق مضبوط نہیں کرتی اور مسجدیں پورے معاشرے پر اثر انداز ہونے کی صلاحیتوں کی حامل نہیں بن جاتیں، اس وقت تک اصلاح کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

6۔ تعلیمی ادارے معاشرے میں اہمیت کے حامل ہیں۔ معاشرے کے اجتماعی شعور اور انفرادی تشخص کے ارتقاء کا دارومدار تعلیمی اداروں پر ہے جہاں اساتذہ اہم کردار ادا کر سکتے ہیں اس لئے ایسے اساتذہ کا انتظام کیا جائے جو طالب علموں میں اسلامی اقدار کو راسخ کر دیں۔ اس کے علاوہ تعلیمی اداروں میں نصابات کی بھی جانچ پڑتال کی جائے اور ایسی تمام چیزیں جو روحِ دین کے منافی ہوں، ان کو پڑھاتے وقت تنقیدی طریقہ اختیار کیا جائے تاکہ طالب علم ان کی حقیقت سے واقف ہو جائیں، نیز ان داروں میں بنیادی دینی تعلیمات کا انتظام کیا جائے تاکہ طلباء اسلام کی اصلیت اور اس کی روح سے مکمل واقفیت حاصل کر سکیں۔

7۔ دولت اور وسائلِ دولت پر تصرف اس طرح ہو کہ معاشرے میں معاشی نا انصافی، اسراف، بتذیر، بخل و ظلم اور ارتکازِ دولت نہ ہونے پائے۔ حکومت ان تمام ذرائع پر پابندی عائد کر دے جو عوامی بہبود کے لئے ضرر رساں ہیں۔ معاشی نظام میں سود، احتکار و اکتناز، رشوت اور لوٹ کھسوٹ کی تمام صورتیں قانوناً اور حکماً بند کر دی جائیں تاکہ معاشرہ طبقاتی معاشرت کا شکار نہ ہو۔

8۔ معاشرے کی اصلاح کی خاطر حدود و تعزیرات کا نظام بھی قائم کیا جائے۔ جن کے ذریعے معاشرہ کو ان افراد سے محفوظ کیا جائے جو تعلیمی ترغیبات اور اخلاقی ذرائع سے اصلاح قبول نہ کریں اور معاشرے کے قانون کی خلاف ورزی کریں۔ حدود و تعزیرات کے نفاذ سے سماجی جرائم کا انسداد ہو گا اور معاشرہ غیر صالح عناصر کی فتنہ انگیزیوں سے محفوظ رہے گا۔

9۔ سب سے آخر میں اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ ملک کا پورا نظام اسلامی ہو جس میں افراد اور معاشرہ روحِ دین سے سرشار ہو اور غیر اسلامی نظریات سر نہ اُٹھا سکیں۔ نظام کی تشکیل اس طرح ہو کہ غیر اسلامی نظریات کی بجائے اسلامی تعلیمات کی گرفت مضبوط ہو۔

لیکن اس کے ساتھ اتنی ہی اہم بات یہ ہے کہ ہر فرد ''اپنی اصلاح آپ'' کے اصول کو اپنائے اور دوسروں کی اصلاح کرنے کے بجائے اپنی اصلاح کرے۔ اصلاح معاشرہ کا آغاز انسان کی اپنی ذات سے ہوا ہے۔ اس سے وہ پیچیدگی دور ہو جائے گی جو دوسروں کی اصلاح کرنے کی صورت میں پیش آتی ہے۔ ''اپنی اصلاح آپ'' کے اصول کا ایک فائدہ یہ بھی ہو گا کہ افراد کے سامنے معیار کا تصور واضح ہو گا اور ہر شخص اس معیار کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالتا چلا جائے گا۔ «وما توفیقی إلا باللہ العلی العظیم »

استدراک:

''محدث'' شمارہ اگست میں چھٹے اسلامی مہینے کا نام ''جمادی الاخریٰ'' لکھا گیا ہے جبکہ صحیح ''جمادی الآخرہ'' (Jumadal Aakhira) ہے کیونکہ ''آخرۃ'' اسم فاعل ہے جو آخر کا مؤنث ہے نہ کہ آخر اسم تفضیل کا مؤنث ''اُخریٰ'' اسی طرح اکثر لوگ چوتھے مہینے کا نام ربیع الثانی لکھتے ہیں حالانکہ ربیع الاول اور ربیع الثانی دو موسم ہیں جبکہ مہینوں کا صحیح نام ربیع الاول، ربیع الآخر ہے۔ (ادارہ)


حوالہ جات

تفہیم القرآن ج ۲ ص ۶۷۔۵۶۶