سوشلزم۔ نظریہ اور تحریک:

صنعتی انقلاب سے یورپ کا اقتصادی نظام جو زرعی بنیادوں پر قائم تھا، تلپٹ ہو گیا تھا۔ عقلیت پرستی اور لبرلزم کی تحریک نے یورپ کے عیسائی معاشرے کی مذہبی و اخلاقی بنیادوں کو متزلزل کر ڈالا۔ انقلاب فرانس نے اس کے سیاسی نظام کو ہلا کر رکھ دیا۔ نظام جاگیرداری پر استوار مطلق العنان بادشاہتیں ہر جگہ ڈولنے لگیں، صنعتی انقلاب اپنے جلو میں گوناگوں خرابیاں لے کر آیا۔ بے روزگاری، انسانی محنت کا استحصال، افلاس کی افزونی اور سرمایہ داری کا فروغ و عروج اس کے تلخ ترین ثمرات تھے۔ یورپ کو زندگی کے ایک نئے نظام کی ضرورت تھی۔ وہ نظام جو اس کی معاشرتی و سیاسی زندگی میں پیدا ہونے والے خلاء کو پُر اور صنعتی انقلاب کے مفاسد کا قلع قمع کر سکتا ہے۔ یہودی مفکرین نے جس مقصد کے لئے یورپ کی اجتماعی بنیادوں میں جو بارود بچھایا تھا۔ اب اس کی تکمیل کا وقت آگیا تھا۔ چنانچہ وہ اس خلاء کو بھرنے اور یورپ کے عیسائی معاشرے کو اپنی گرفت میں لینے کے لئے آگے بڑھے۔ سوشلزم کا نظریہ انہی کے سازشی ذہن کی تخلیق تھا۔ یہ محض ایک اقتصادی نظام نہ تھا، بلکہ زندگی کا مکمل فلسفہ تھا۔ جس کی بنیاد خدا کے کلیۃً انکار، مذہب دشمنی، اخلاقی اقتدار کی تباہی اور مادہ پرستی پر قائم تھی۔ متوسط طبقہ جو اس نظام کی اصطلاح میں ''بورژوا کہلاتا ہے، اس کا یہ جانی دشمن اور اس کے قلع قمع کو اپنی بقا و استحکام کے لئے ناگزیر سمجھتا تھا۔

دراصل متوسط طبقہ کسی قوم کی ریڑھ کی ہڈی بھی ہوتا ہے اور دل و دماغ بھی یہی طبقہ اسے زندگی کے ہر میدان میں قیادت فراہم کرتا ہے۔ متوسط طبقہ جس قدر قوی اور باشعور افراد پر مشتمل ہو گا۔ قوم اتنی ہی طاقتور اور غیور و جسور ہو گی۔ یہودی اس طبقے کو فنا کے گھاٹ اس لئے اتار دینا چاہتے تھے کہ غیر یہودی قویں ذہین و باشعور اور غیور و جسور قیادت سے محروم ہو جائیں۔ اسی ایک طریقے سے یہ قومیں ان کے عزائم کا نرم چارہ بن سکتی تھیں۔ اس نظام میں پرولتاریوں کو بنیادی اہمیت حاصل تھی۔ اس کے نزدیک انسانی سوسائٹی کے ارتقاء کی بنیاد یہی طبقہ تھا۔ یہودی ذہن کے تراشے ہوئے اس نظام میں پرولتاریوں کو اہمیت اس لئے دی گئی کہ انہوں خوش آئند اور پر فریب نعروں کے ذریعے بآسانی اپنے دامِ خدع و تزویر میں گرفتار کیا جا سکتا ہے۔ پھر جس (یورپ کے عیسائی) معاشرے میں سوشلزم کا نظریہ ابتداء پیش کیا گیا۔ اس میں پرولتاری طبقے کی بھاری اکثریت یہودیوں ہی پر مشتمل تھی۔ یورپ میں یہودیوں پر اعلیٰ و ادنیٰ سرکاری ملازمتوں اور تجارت کے دروازے صدیوں سے بند چلے آرہے تھے اس لئے ان کی اکثریت یا تو دستکار اور کاریگر تھی یا مزدور اور محنت پیشہ، صنعتی انقلاب آیا تو یہودی کاریگر اور دستکار کارخانوں اور فیکٹریوں میں نوکر ہو گئے، اس طرح پرولتاری طبقہ وجود میں آگیا۔

باالفاظِ دیگر یورپ میں پرولتاری طبقے کی حکومت کا مطلب تھا۔ یہودیوں کی حکومت، چنانچہ سوشلسٹ تحریکوں میں یہی یہودی پرولتاری طبقہ پیش پیش رہا۔ انسائیکلو پیڈیا برٹیانیکا کا مقالہ نگار Jews کے زیرِ عنوان، یہودی لکھ پتیوں اور (انقلابِ فرانس کے بعد) امریکہ و یورپ میں کارخانوں اور سرکاری محکموں پر قابض ہونے والے یہودی متمول طبقے کی پیدائش کا ذِکر کرت ہوئے لکھتا ہے۔

''غالباً یہی نظام تھا جس نے یہودیوں پرولتاری طبقے کو جنم دیا۔ مسلمان ممالک مشرقی یورپ کے علاقوں اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں یہودیوں کی بڑی تعداد اہل حرفہ اور کاریگرو کی تھی۔ سوشلزم کی تعلیمات کے ذریعے ان یورپی اور امریکی کاریگروں نے طبقاتی شعور سے بہرہ مند گروہ کی صورت اختیار کر لی، پرولتاری، دوستانہ جماعتوں اور یدش بولنے والی خصوصی ٹریڈ یونینوں کی شکل میں متحد ہو گئے تقریباً ان تمام ملکوں میں جہاں یہودی آباد ہوے، یہودی افراد سوشلسٹ اور ٹریڈ یونین تحریکوں میں سرگرمِ عمل نظر آتے ہیں ۔''

جیسا کہ ہم اوپر لکھ آئے ہیں، سوشلزم کا نظریہ یہودیوں کے سازشی ذہن کی تخلیق تھا ۔ اسی طرح اس نظریے کی مختلف ارتقائی صورتوں میں بھی انہی کا ذہن کار فرما تھا ۔ کارل مارکس (۱۸۱۸ء، ۱۸۸۳ء) پہلا شخص تھا جس نے سوشلزم کو علمی (Scientific) بنیادی فراہم کیں، اسے نظامِ زندگی کی صورت دی اور سوشلسٹ تحریک کا باضابطہ آغاز کیا۔ یہ شخص Tier کے ایک یہودی کے حاخام (مذہبی رہنما) کا پوتا تھا، مارکس چ برس کا تھا جب اس کے باپ نے (جو خود بھی حاخام تھا) بقول رسل ریا کاری سے عیسائیت قبول کر لی (اس کی ماں آخر دم تک یہودی ہی رہی) کارل مارکس کا دستِ راست فرڈی ننڈلازیل (Ferdinend Lassale) تھا۔ اس نے پہلی انٹر نیشنل (First International) میں با اہم کردار ادا کیا تھا۔ لازیل نسلاً ہی نہیں مذہباً بھی یہودی تھا۔

سوشلزم نظریاتی اعتبار ہی سے نہیں عملاً بھی اک یہودی تحریک تھی، روس یورپ اور امریکہ میں ہر جگہ سوشلسٹ تحریک کے صفِ اوّل کے رہنما یہودی تھے۔ روس میں سوشل انقلابیوں (Social Revolutionaries) کا رہنما الیگزنڈر کرنسکی جو زار شاہی کا تختہ کے بعد عبوری حکومت میں وزیر اعظم بنا، پیدائشی اعتبار سے یہودی تھا۔ سوشل ڈیمو کریٹک پارٹی جو آگے چل کر کمیونسٹ پارٹی کہلائی، کا بانی پلیخانوف بھی یہودی تھا۔ موجودہ سوشلسٹ روس کا بانی لینن ایک یہودی النسل جرمن ڈاکٹر الیگزنڈر بلانک کا نواسہ تھا ۔ مارٹوف ایک مدت تک لینن کے ساتھ کام کرتا رہا اور جب لینن کی سازشوں سے سوشل ڈیمو کریٹک پارٹی میں پھوٹ پڑی تو منشویک (اقلیتی گروپ) کا سربراہ بنا۔ یہ شخص بھی یہودی تھا۔ ٹراٹسکی جس نے سرخ فوج منظم کی اور کرنسکی کی عبوری حکومت کا تختہ اُلٹا اور جسے لینن اپنا جانشین بنانا چاہتا تھا، یہودی تھا۔ روس کی سوشلسٹ سوویت یونین کا پہلا چیئرمین جیکب سوردولوف بھی تھا۔ لینن کے قریب ترین ساتھی زنوویف کا میف اور کارل رڈک بھی یہودی تھے۔

انقلابِ روس:

روس میں انقلابی افکار کیتھرائن (۱۷۶۲-۱۷۹۶ء) کے عہد میں نفوذ پانے لگے تھے، اسی کے زمانے میں انقلاب فرانس کا دھماکا ہوا جس نے یورپ کے سیاسی نظام کی بنیادیں ہلا ڈالیں، انیسویں صدی کی پہلی ربع صدی میں آزادیٔ افکار کی رَوا ور تیز ہو گئی۔ روسی زاروں نے اس کے آگے بند باندھنے کی کوشش کی۔ ماحول کے خلاف آواز بلند کرنے والے اہل قلم کو قید و بند اور جلاوطنی کی سزائیں دی گئیں۔ کتابیں ضبط کر لی گئیں، لیکن افکار اس قسم کی بندشوں سے کب رکنے پائے ہیں؟ نیپولین سے جنگوں کے زمانے میں روسی افسروں کو فرانس دیکھنے کا موقع ملا۔ وہاں سے لوٹے تو انقلابی افکار کی اُمڈتی ہوئی رو سے متاثر ہو چکے تھے۔ نکولاس اوّل (۱۸۲۵۔۱۸۵۵ء) کے عہد حکومت کے پہلے سال فوج میں بغاوت اُٹھ کھڑی ہوئی۔ یہ پہلی فوجی بغاوت تھی جس کے پیچھے کوئی واضح اور متعین مقصد، بیگار کا خاتمہ اور جمہوریہ کا قیام، کار فرما تھا۔ بغاوت تو کچل دی گئی اور فوجی افسروں اور سپاہیوں کی ایک بڑی تعداد کو عبرت ناک سزائیں دی گئیں لیکن روسی افواج کے اندر بے اطمینانی اور جوش و جذبہ کی چنگاری ہمیشہ کے لئے چھوڑ گئی۔

انقلابی افکار سے پہلے پہل طبقۂ امرا سے تعلق رکھنے والے عیسائی نوجوان متاثر ہوئے تھے۔ خاصی مدت تک یہی لوگ فکر و عمل کے میدان میں پیش پیش رہے۔ رفتہ رفتہ یہ رہنمائی یہودیوں اور یہودی نژاد عیسائیوں نے اپنے ہاتھ میں لے لی اور عیسائی مفکرین اور انقلابی لیڈر دوسری صف میں چلے گئے۔ الیگزنڈر دوم (۱۸۵۵۔۱۸۸۱ء) نے ملک میں اصلاحات جاری کیں زرعی اراضی پر کام کرنے والے ''کمیروں'' (Serfs)کو ملکیتِ زمین کا حق دیا۔ یہ لوگ غلاموں کی زندگی بسر کرتے تھے۔ ان کو آزاد کر دیا گیا۔ اسی طرح تعلیم،اقتصادیات، انتظامیہ اور عدالت کے شعبں میں بھی اصلاحات کیں، روسی تاریخ کے نقطۂ نظر سے غالباً اہم ترین فیصلہ یہ تھا کہ یہودی دستکاروں کالج کے گریجویٹیوں اور مالدار تاجروں کو خالص روس میں رہنے کی اجازت دے دی۔ اب تک یہ لوگ روس کے مقبوضہ علاقوں میں رہتے تھے۔ روسی پولینڈ میں انکی بہت بڑی آبادی تھی ۔ اِس آبادی کو ایک خاص علاقے میں یکجا کر دیا گیا تھا۔ جو تاریخ میں Pale of Settlement کہلاتا ہے۔ یہاں کے یہودی مغری اور وسطی یورپ میں یہودیوں کی قیادت میں اُٹھنے والی فکری تحریکوں سے متاثر تھے۔ یہ لوگ جب اس اجازت کے تخت روس کے پایہ تخت اور دوسرے بڑے بڑے صنعتی شہروں میں پہنچے تو ان افکار کو اپنے ساتھ لے کر گئے اور ہر جگہ سیاسی و فکری قیادت پر قبضہ کر لیا کارخانوں، فیکٹریوں اور یونیورسٹیوں میں خفیہ حلقے اور سیل قائم ہو گئے۔ خفیہ جماعتوں نے مار دھاڑ قتل و غارت اور دہشت پسندی کا سلسلہ شروع کر دیا۔ الیگزنڈر دوم انہی یہودی دہشت پسندوں کے ہاتھوں قتل ہوا۔ الیگزنڈر سوم (۱۸۸۱۔ ۱۸۹۴ء) کے عہد میں باقاعدہ جماعتیں وجود میں آئیں جن میں نمایاں اور مؤثر جماعتیں حسب ذیل تھیں۔

1:۔ سوشل انقلابی (Social Revolutionary)

2:۔ دستوری جمہوریت پسند (Constitutional Democrats) جو بالعموم کیڈٹ (Catets) کہلاتی ہے۔

3:۔ سوشل ڈیمو کریٹک پارٹی (Social Democratic Party)

اول الذکر دونوں جماعتیں بھی ترقی پسند تھیں؛ سوشل انقلابی تو سوشلسٹ نظریات کی علمبردار تھی؛ تاہم دونوں پر امن پروپیگنڈے اور قانونی ذرائع سے کام لینے کی قائل تیں، مؤخر الذکر مارکسٹ تھی۔ پہلے پہل یہ جماعت روس سے باہر ۱۸۸۳ء میں ایک گروپ کی صورت میں قائم ہوئی۔ پلیخانوف اس گروپ کا لیڈر تھا۔ ۱۸۹۸ء میں اس نے روس کے اندر باضابطہ طور پر پارٹی کی بنیاد رکھی۔ سیاسی پارٹیوں کے قیام سے روس میں سیاسی تبدیلیوں کی تحریک اور تیز ہو گئی۔

الیگزنڈر سوم نے باپ کے قتل کے بعد زمامِ حکومت سنبھالتے ہی سیاسی اصلاحات اور دستوری زندگی کو ختم کر دیا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لاوا اندر ہی اندر پکنے لگا۔ یہ جوالا مکھی ۱۹۰۵ء میں پہلی مرتبہ پھٹا۔ اگرچہ نکولس سوم (۱۸۹۴ء۔ ۱۹۱۷ء) نے فوج اور پولیس کی مدد سے اس جوالا مکھی کو پھیلنے اور بے قابو ہونے سے روک لیا، مگر اس سے ملک کی حقیقی صورتِ حال کھل کر سامنے آگئی۔ بے چینی اور اضطراب نیچے سے اوپر تک پھیل چکا تھا۔ فوج پر اب زیادہ مت تک اعتماد و انحصار نہیں کیا جا سکتا تھا کہ اس بغاوت میں بری اور بحری افواج کے بعض دستوں نے بھی حصہ لیا تھا۔ انقلابی قوتوں کی اِس کوشش ناکام نے انقلاب کی رفتار تیز تر کر دی؛ چنانچہ بارہ سال کے بعد روسی قیصریت کا عظیم الشان قصر جو بظاہر بڑا ہی مستحکم دکھائی دیتا تھا۔ مگر در حقیقت جور و استبداد، مطلق العنانی اور سازشوں اور بدعنوانیوں کی وجہ سے کھوکھلا ہو چکا تھا، زمین بوس ہو کر رہ گیا۔ انقلاب کے بعد پہلے شہزادہ لووف کی قیادت میں عبوری حکومت قائم ہوئی۔ بعد ازاں لوف نے استعفیٰ دےدیا اور کرنسکی وزیر اعظم بنا، مگر جلد ہی سائنٹیفک سوشلزم (کمیونزم) کے علمبرداروں (بالشویکیوں) نے لینن کی رہنمائی میں ہڑتالوں اور ہنگاموں مظاہروں اور منظم بلووں کے ذریعے کرنسکی حخومت کو معطل کر کے رکھ دیا اور پھر اکتوبر ۱۹۱۷ء میں زمامِ اقتدار پر قبضہ کر لیا۔
حاشیہ و حوالہ جات

اس سلسلے میں Alexandergray کی کتا ب The Socialist Tradition پڑھنے کے قابل ہے۔ اس میں مصنف نے قدیم دور کے بعض یہودی مفکرین (مثلاً اسلامی دور کے ابن میمون) کے بارے میں لکھا ہے کہ ان کے افکار اور فلسفے میں اشتراکی فکر پائی جاتی ہے۔

یورپ میں یہودی پرولتاری طبقے کی قوت کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ صیہونی تحریک کے بانی ''ہرزل'' (Hertzal) نے قیصر جرمنی سے فلسطین کو یہودی بنان کے لئے سودا بازی کرنی چاہی تاکہ وہ ترکی پر دباؤ ڈالے (کیونکہ سلطان عبد الحمید فلسطین کی سرزمین یہودیوں کے حوالے کر دینے کے عوض پچاس لاکھ پونڈ دینے کی پیش کش کو پائے استحقار سے ٹھکرا چکا تھا) اس نے قیصر سے وعدہ کیا کہ اگر وہ اس مسئلے کو اپنے ہاتھ میں لینے کے لئے تیار ہو جائے تو میں یورپ میں سوشلسٹ اور ریڈیکل پراپیگینڈے کو بند کرا دو گا (جس کا سب سے زیادہ ہدف جرمنی تھا)، لیکن جب قیصر نے کوئی یقین دلانے میں تاخیر کی تو ہرزل نے اسے دھمکی دیتے ہوئے لکھا۔ اگر ہمارا کام نہ بنا تو ایک ہی جست میں سینکڑوں انقلابی تحریکوں کے ساتھ جا ملیں گے۔

جلد ۱۳، ص ۶۱

چونکہ سوشلزم سازشی ذہن کی تخلیق تھا اور سازش اس کی گھٹی میں پڑی تھی، اس لئے سازشیں اور ریشہ دوانیاں ہی اس کا طریق کار طے پائیں۔ آپ سوشلزم کی تاریخ کا جائزہ لیں، تو یہ کہیں بھی آپ کو سازشوں کے بغیر پھلتا پھولتا پروان چڑھتا اور اقتدار پر قبضہ کرتا دکھائی نہ دے گا۔

دیکھئے الیگزنڈر گرے کی کتاب ''دی سوشلسٹ ٹریڈیشن''

کمیونسٹوں کی پہلی بین الاقوامی کانگریس

مشہور امریکی مصنف لوئی فشر جو لینن کا قریبی ساتھی اور ایک مدت تک زبردست مدا رہ چکا ہے۔ اور خود بھی یہودی ہے۔ اپنی کتاب (۱۹۶۵) Life of Lenin میں لکھتا ہے کہ لینن یہودی الاصل تھا۔ عام یہودی بھی لینن کو یہودی ہی سمجھتے تھے۔ روس میں لینن کی قیادت میں بالشوبک انقلاب برپا ہوا، تو ہنگری کا ایک یہودی شاعر لازلولا کاتوس کیلز (Laszlo Lakatoskellner) فرطِ مسرت س دیوانہ ہو گیا۔ اس نے ایک نظم کہی جس میں اس نے لکھا: نیا یسوع آگیا ہے۔ لینن، لینن (Louis Marschalko) (The World Conquerors R.50، ان دنوں وکٹر مارسڈن Victor Marsden نامی) ایک انگریز صحافی جنگ کی خبریں فراہم کرنے کےے لئے روس میں مقیم تھا، اس نے مارننگ پوسٹ کے نام اپنے ڈسپیچ میں لکھا: لینن ایک کالمک (Calmyc) یہودی ہے، اس کی بیوی بھی یہودن ہے جس کے بچے یدش بولتے ہیں۔'' (دی ورلڈ کنکرر ص ۵۲) واضح رہے کہ لینن کی قانونی بیوی کرپسکایا تھی یہ بھی یہودی عورت تھی، لیکن اس سے لینن کا کوئی بچہ نہ تھا۔ غالباً وکٹر مارسڈن کو غلط فہمی ہوئی۔ لینن کی ایک داشتہ بھی تھی۔ الزبتھ (افسا فیڈرو فنا) اس کا نام تھا۔ یہ عورت بھی یہودن تھی۔ اس کے پانچ بچے تھے۔ چار اپنے شوہر سے اور ایک دیور سے (جس کے ساتھ اس کے ناجائز تعلقات تھے) یہ عورت (کرپسکا، کی موجودگی میں) لینن کے گر میں بطور داشتہ انقلاب بالشویک کے بعد تک رہی جب یہ تپ دق میں مبتلا ہوئی تو لینن اس سے الگ ہوا اور اس کے ساتھ اس کے بچے بھی جو یہودی ماں باپ کی اولاد ہونے کی وجہ سے یدش بولت تھے۔ غلباً انہی بچوں کو وکٹر فارسڈن نے لینن یا کرپسکایا کے بچے سمجھا۔ کمیونسٹ انقلاب کے بعد یہ عورت ماسکو کی سوویت اور مرکزی حکومت میں اہم مناصب پر فائز رہی، افسا ۱۹۲۰ء میں مر گئی اور اسے لینن کے اس ''قرب'' کی بناء پر سرخ چوک (Square) میں دفن ہونے کا اعزاز ملا۔ ہربرٹ فٹش (Herbert Fitsch) سکاٹ لینڈ یارڈ کا آدمی تھا۔ وہ خدمت گار کے بھیس میں لینن کے حاشیہ نشینوں میں شامل ہو گیا۔ اس نے اطلاع دی: لینن ایک ''مثالی یہودی'' ہے۔

سوشلسٹ تحریک یہودی ذہن کی پیداوار ہی نہ تھی، بلکہ اس تحریک کو سرمایہ بھی یہودیوں ہی نے فراہم کیا۔ ان میں امریکہ کے یہودی ساہوکار (بنکر) جیکب شف اور کوہین لویب، جرمنی کی کمپنی آٹو کوہین فالین رائن لینڈ سنڈیکیٹ، سٹاک ہوم کا بنک وار بورگ، سینٹ پیٹرز برگ کابنک گنز بورگ بہت نمایاں ہیں (مجلہ قدیم فران ۱۹۲۰ء عدد ۱۶۰ نیز دی ورلڈ کنکرر ص ۵۳) جیکب شف کے بارے میں امریکی خفیہ پولیس نے رپورٹ دی کہ اس نے بالشویک انقلا کو ۲۰ لاکھ ڈالر بطور امداد دیئے (دی ورلڈ کنکرر ۵۲) اسی طرح روسی سوشلسٹ تحریک کے لیڈر ہی یہودی نہ تھے بلکہ بین الاقوامی سوشلسٹ تحریک کے لیڈر بھی یہودی تھے۔ پولینڈ کی سوشل ڈیمو کریٹک پارٹی کا پہلا نام جیوش ڈیمو کریٹک پارٹی تھا۔ یہی صورت لیتھوین کی سوشل ڈیمو کریٹک پارٹی کی تھی، جرمنی کا سوشلسٹ لیڈر ایڈورڈ بریسٹیس، آسٹریلیا کا ایڈلرز اور امریکی لیبر فیڈریشن کا بانی سیموئیل گوپلرز بھی یہودی تھے۔ ارجنٹائن میں کمیونسٹ پارٹی کے بانی ۔ سالومن ہیزل مین اور جولیا فٹز تھے۔ اور یہ دونوں میاں بیوی یہودی تھے۔ برازل میں ۱۹۳۵ء میں انقلاب برپا کر کے ملک پر قبضہ کر لیا گیا، اگرچہ اس انقلاب کی عمر بہت مختصر تھی۔ اس انقلاب کے سارے لیڈر سوائے ایک کے سب یہودی تھے، فرانس میں مارکسزم کے علمبردار ہمیشہ یہودی رہے ہیں۔ بیلجیم میں کمیونسٹ پارٹی کا بانی چارلس بالداسر تھا۔ سویڈن کی کمیونسٹ پارٹی کا سب سے بڑا مالی معاون آئیور کردگرایک یہودی ہے، ۱۹۲۰ء میں باکوہ مقام پر ۱۹ جولائی سے ۷ اگست تک کمنٹرن (Commentern) بین الاقوامی کمیونسٹ پارٹیوں کی نمائندہ انجمن، کا اجلاس کارل راڈک کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اس میں ہنگری سے بیلا کوہین، فرانس سے روزمر، امریکہ سے ریڈ، جرمنی سے سٹائن ہارڈ، ہالینڈ سے جانسن اور بلقان سے شاہین شریک ہوئے اور یہ کارل راڈک سمیت سب یہودی تھے۔ سوشلسٹ تحریک میں یہودیوں کا کتنا زبردست ہاتھ ہے۔ اس کے متعلق مفصل معلومات کیلئے Louis Marsc Halko کی کتاب The World Conquerors کا مطالعہ نہایت مفید رہے گا۔

روس میں یہودیوں کی آبادی دیا میں سب سے زیادہ تھی، صیہونی تحریک کے بانی، اس کو چلانے اور مکروہ ہتھکنڈوں سے کامیابی سے ہمکنار کرنے اور اسرائیل کی ریاست وجود میں لانے والے روس کے مقبوضہ یورپی علاقوں کے یہودی تھے۔ ان میں سے اکثر وہ تھے جنہوں نے بالشویک انقلاب لانے میں حصہ لیا تھا۔