قسط نمبر ۲

استغفارِ داؤد:

حضرت داؤد علیہ السلام کی ننانوے بیویاں تھیں۔ پھر کسی اور عورت سے ازدواجی رشتہ قائم کرنے کا خیال آیا۔ اللہ تعالیٰ کو ان کا یہ خیال اور ارادہ ناگوار گزرا۔ اس کا امتحان لینے اور اس غلطی کا احساس دلانے کی خاطر اللہ تعالیٰ نے دو فرشتے انسانی شکل و شباہت میں حضرت داؤد علیہ السلام کے پاس بھیجے۔ انہوں نے اپنا کیس حضرت داؤد علیہ السلام کی خدمت میں پیش کیا۔ ایک نے کہا:

''میرے پاس صرف ایک دنبی ہے اور ساتھی کے پاس ننانوے دنبیاں ہیں۔

یہ میری ایک دنبی بھی میرے پاس نہیں رہنے دیتا بلکہ اس کا مطالبہ کرتا ہے کہ یہ مجھے دو۔''

حضرت داؤد علیہ السلام فرماتے ہیں کہ:

''اس نے تجھ سے دنبی کا سوال کر کے بہت برا کیا ہے یہ تو ظالمانہ کام ہے۔''

پھر اپنا ولی ارادہ یاد آتا ہے اور سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے میری غلطی پر متنبہ کیا ہے چنانچہ حضرت داؤد علیہ السلام بارگاہِ ایزدی میں سربسجود ہو کر اپنی غلطی کی معافی مانگتے ہیں۔ انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے معافی ہو جاتی ہے۔

استغفارِ سلیمان:

ایک دفعہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس دریائی نسل کے عمدہ گھوڑے لائے گئے۔ آپ ان کی دیکھ بھال میں اس قدر مصروف رہے کہ نمازِ عصر پڑھنا بھول گئے۔ جب سورج غروب ہو گیا تو نماز یاد آئی۔ اب کیا تھا انہوں نے گھوڑوں کو جن کی دیکھ بھال میں نمازِ عصر یاد نہ رہی اور فوت ہوگئی، اپنے ہاتھوں سے ذبح کیا اور اللہ تعالیٰ سے معافی مانگی۔

﴿رَ‌بِّ اغفِر‌ لى وَهَب لى مُلكًا لا يَنبَغى لِأَحَدٍ مِن بَعدى...٣٥﴾... سورة ص

''اے میرے پروردگار! مجھے معافی دیجئے اور مجھے ایسی سلطنت عطا کیجئے جو میرے بعد کسی کو نصیب نہ ہو۔''

استغفارِ موسیٰ:

ایک قبطی اور ایک اسرائیلی کسی بات سے آپس میں جھگڑتے ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اسرائیلی کی حمایت کرتے ہوئے قبطی کو ایک مکہ مارتے ہیں جس سے وہ ہلاک ہو جاتا ہے۔ فوراً اپنی کوتاہی اور غلطی کا احساس پیدا ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں استغفار کرتے ہیں۔

﴿رَ‌بِّ إِنّى ظَلَمتُ نَفسى فَاغفِر‌ لى فَغَفَرَ‌ لَهُ... ١٦﴾... سورة القصص

''اے میرے پروردگار! (قبطی کا مار کر) میں نے اپنی جان پر ظلم کیا۔ مجھے معافی دیجئے۔'' اللہ تعالیٰ نے اسے معافی عنایت فرمائی۔

استغفارِ یونس:

حضرت یونس علیہ السلام اپنی قوم کو وعظ و نصیحت کرتے ہیں۔ آخر قوم کی سرکشی اور طغیانی کو دیکھ کر مایوس ہو جاتے ہیں اور اذنِ الٰہی کے بغیر شہر چھوڑ کر چلے جاتے ہیں اور قوم کے لئے عذاب کی دعا کرتے ہیں۔ حضرت یونس علیہ السلام کی قوم عذاب کی خبر سن کر خوفزدہ ہو جاتی ہے۔ چنانچہ تمام مل کر بارگاہِ الٰہی میں توبہ تائب ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی دعا قبول فرماتے ہیں اور عذابِ الٰہی ان سے ٹل جاتا ہے۔

جیسا کہ فرمایا:

﴿كَشَفنا عَنهُم عَذابَ الخِزىِ فِى الحَيو‌ٰةِ الدُّنيا وَمَتَّعنـٰهُم إِلىٰ حينٍ ٩٨﴾... سورة يونس

ادھر حضرت یونس علیہ السلام اپنی غلطی کی بدولت لقمۂ حوت بن جاتے ہیں اور اس کے پیٹ میں اللہ رب العزت کی بارگاہِ عالی میں ان کے ساتھ معافی مانگتے ہیں۔

﴿لا إِلـٰهَ إِلّا أَنتَ سُبحـٰنَكَ إِنّى كُنتُ مِنَ الظّـٰلِمينَ ٨٧﴾... سورة الانبياء

تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، تو پاک ہے۔ بیشک میں ہی ظالموں میں سے ہوں۔

چالیس روز تک انہیں الفاظ سے اپنے مالک حقیقی سے معافی مانگتے رہے پھر کہیں جا کر انہیں معافی ہوئی۔

استغفارِ سید المرسلین:

آنحضرت ﷺ کی ذاتِ گرامی وہ ہستی ہے جس کے متعلق امت محمدیہ کا یہ عقیدہ ہے کہ آپ ﷺ معصوم عن الخطا ہیں۔ آپ ﷺ نے اپنی حیاتِ مبارکہ کا ایک ایک لمحہ اطاعت اور عبادتِ الٰہی میں گزارا۔ گناہ کرنا تو کجا آپ ﷺ کے دل و دماغ میں گناہ کا کبھی تصور بھی پیدا نہیں ہوا۔ با ایں ہمہ آنحضرت ﷺ کثرت سے استغفار کیا کرتے تھے۔ چنانچہ ایک حدیث شریف میں ذکر ہے کہ آنحضرت ﷺ نے لوگوں سے مخاطب ہو کر فرمایا۔

«یأیھا الناس توبوا إلی اللہ فإني أتوب إلیه في الیوم مائة مرة» (بخاری)

کہ لوگو! اللہ کی بارگاہ میں توبہ کرو۔ میں ایک دن میں سو مرتبہ اللہ رب العزت سے دعا کرتا ہوں اور توبہ کرتا ہوں۔

آپ ﷺ مندرجہ ذیل استغفار کثرت سے پڑھا کرتے تھے۔

«أسْتَغْفِرُ اللہَ الَّذِیْ لَا إلٰهَ إلَّا ھُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ وَأتُوْبُ إلَیْهِ» (ابو داؤد)

میں اللہ سے بخشش کی دعا کرتا ہوں، وہ اللہ جس کے بغیر کوئی عبادت کے لائق نہیں اور وہ اللہ جو ہمیشہ زندہ اور قائم ہے اور میں اس کی طرف توبہ کرتا ہوں۔

غرضیکہ تمام انبیاء علیہم السلام حتیٰ کہ حضرت محمد ﷺ نے توبہ و استغفار کو اپنا اوڑھنا اور بچھونا بنایا ہوا تھا اور ہر وقت ان کی زبانِ مبارک سے استغفار کے کلمات ہی سنائی دیتے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ استغفار اللہ تعالیٰ کی رضا کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ انسان خواہ گناہوں میں ڈوبا ہوا ہو جب بارگاہِ ایزدی میں سر جھکا کر رب رب کے الفاظ سے اپنے خالقِ حقیقی سے معافی مانگتا ہے تو اس کی رحمت کا بحرِ بیکراں جوش میں آکر اس کے گناہوں کے تمام خس و خاشاک کو بہا کر لے جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ ایسے شخص سے بے حد خوش ہوتے ہیں۔ چنانچہ ایک حدیث شریف میں آتا ہے کہ:

''اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتے ہیں جو ایک بے آب و گیاہ چٹیل میدان میں اترتا ہے۔ اس کے پاس سواری ہوتی ہے جس پر اس کا خورد و نوش کا سامان بندھا ہوا ہوتا ہے۔ وہ وہاں چند منٹ سستانے کی غرض سے لیٹ جاتا ہے۔ تھوڑی دیر کے بعد جب بیدار ہوتا ہے تو کیا دیکھتا ہے کہ اس کی اونٹنی بمعہ سامان خورد و نوش غائب ہے۔ اس کی تلاش میں جنگل کا کونہ کونہ چھانتا ہے لیکن کہیں سے سراغ نہیں ملتا۔ حتیٰ کہ گرمی و تشنگی سے مغلوب ہو کر اسی جگہ پر واپس آجاتا ہے جہاں پہلے لیٹا ہوا تھا۔ وہاں پر مرنے کا فیصلہ کر لیتا ہے اور اپنا بازو سر کے نیچے رکھ کر لیٹ جاتا ہے تاکہ وہ موت کے ذریعے اس مصیبت اور پریشانی سے نجات پائے۔ تھوڑی دیر کے بعد بیدار ہوتا ہے۔ کیا دیکھتا ہے اس کی اونٹنی بمعہ سامان خورد و نوش اس کے سر پر کھڑی ہے۔ یہ ماجرہ دیکھ کر خوشی سے پھولا نہیں سماتا۔ فرحت و انبساط کا اس قدر غلبہ ہوتا ہے کہ اس کے دماغی توازن درست نہیں رہتا۔ خوشی میں آکر کہتا ہے۔

«اللھم أنت عبدي وأنا ربّك »(مسلم) یا الٰہی! تو میرا بندہ ہے اور میں تیرا رب ہے۔

وقتِ استغفار:

ویسے تو جس لمحہ اور جس ساعت انسان اللہ تعالیٰ کو یاد کرتا ہے اور پکارتا ہے تو وہ سنتا ہے اور مجیب الدعوات ہے۔ لیکن رات کا آخری ثلث اس کام کے لئے زیادہ مخصوص ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کا ذِکر کرتے ہوئے فرمایا۔

﴿وَالمُستَغفِر‌ينَ بِالأَسحارِ‌ ١٧﴾... سورة آل عمران

ایک او مقام پر فرمایا:

﴿وَبِالأَسحارِ‌ هُم يَستَغفِر‌ونَ ١٨﴾... سورة الذاريات

کہ اللہ کے بندے ہنگامِ سحر اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں۔

حضرت یعقوب علیہ السلام سے جب ان کی اولاد نے اپنی غلطی کی معافی چاہی تو جواب دیا کہ:

﴿سَوفَ أَستَغفِرُ‌ لَكُم رَ‌بّى...٩٨﴾... سورة يوسف" میں جلد ہی اپنے پروردگار سے تمہاری معافی کی درخواست کرونگا۔

چنانچہ مفسرین نے بیان کیا ہے کہ انہوں نے اپنی اولاد کی کوتاہی کی معافی کی درخواست ہنگام سحر بارگاہِ ایزدی میں پیش کی تھی۔

ایک روایت میں ہے کہ اللہ رب العزت رات کو دنیا والے آسمان پر تشریف فرما ہوتے ہیں اور جب رات کا تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے تو آواز دیتے ہیں۔

«ھل من سائل فأعطیته ھل من داع فاستجبت له ھل من مستغفر فأغفرله» (ابن کثیر)

ہے کوئی سوال کرنے والا! اسے میں دوں۔ ہے کوئی پکارنے والا۔ میں اس کی دعا منظور کروں۔ ہے کوئی معافی مانگنے والا۔ میں اسے معاف کروں۔

حضرت عبد اللہ بن عمر رات کو نماز پڑھتے۔ جب آرات کا آخری حصہ ہوتا تو دعا اور استغفار میں مشغول ہو جاتے۔

حضرت انس بن مالک فرماتے ہیں کہ:

''ہمیں یہ حکم تھا کہ جب رات کو نماز پڑھیں تو صبح تک استغفار میں مشغول رہیں۔'' (ابن کثیر)

فوائدِ استغفار

گناہوں سے معافی:

انسان کے گناہ خواہ ریت کے ذروں کے برابر ہوں یا بحرِ بیکراں کے قطرات سے زائد ہوں تو بھی استغفار سے سب محو ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:۔

«یا ابن آدم ما دعوتني ورجوتني غفرت لك ما کان فیك ولا أبالي یا ابن آدم لو بلغت ذنوبك عنان السماء ثم استغفرتني غفرت لك ولا أبالي یا ابن آدم أنك لو لقیتني بقراب الأرض خطا یا ثم لقیتني لا تشرك بي شیئا لأ تیتك بقرابھا مغفرة» (ترمذی)

اے ابن آدم! تو جب تک مجھ سے دعا کرے گا اور امید رکھے گا تیرے جو گناہ بھی ہوں گے معاف کر دونگا اور مجھے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں۔ اے آدم کے بیٹے! اگر تیرے گناہ آسمان کی بلندیوں تک پہنچ جائیں پھر تو مجھ سے معافی مانگے تو بھی میں تجھے گناہوں سے معافی دونگا، اور مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں۔ اے ابن آدم! اگر تو زمین کے برابر گناہ لایا لیکن شرک نہ کیا تو میں اتنی ہی مغفرت اور بخشش لے کر تیرے پاس آؤں گا۔

صفائی قلب:

جس طرح لوہا پانی میں پڑا رہنے سے زنگ خوردہ ہو جاتا ہے۔ اسی طرح انسانی قلوب گناہوں کی نجاست سے آلودہ ہونے کے باعث زنگ خوردہ اور سیاہی آلود ہو جاتے ہیں۔ ایسے وقت استغفار کی ریتی ہی اس زنگ کو دور کر کے چمکا سکتی ہے۔ چنانچہ آنحضرت ﷺ کی ایک طویل حدیث ہے جس کے آخر میں یہ ذکر ہے:

«فإن تاب واستغفر صقل قلبه» (ترمذی)

یعنی اگر انسان توبہ کر لے اور اپنے گناہوں سے معافی مانگے تو اس سے اس کا قلب چمک اُٹھتا ہے۔

موجبِ جنت:

ایک دفعہ آنحضرت ﷺ نے استغفار کا ذِکر فرمایا اور اس کی فضیلت ذکر کرتے ہوئے فرمایا:

«فمن قالھا من النھار موقنا بھا فمات من یومه قبل أن یمسي فھو من أھل الجنة ومن قالھا من اللیل موقنا بھا فمات قبل أن یصبح فھو من أھل الجنة» (بخاری)

جو آدمی یقین کے ساتھ دن کو سید الإ ستغفار پڑھتا ہے اور شام سے پہلے فوت ہو جاتا ہے تو وہ اہلِ جنت سے ہے اور جو رات کو یقین کے ساتھ پڑھتا ہے اور صبح سے پیشتر ہی وفات پا جاتا ہے تو وہ بھی اہلِ جنت سے ہے۔

پریشانی اور تنگیٔ رزق سے نجات:

آنحضرت ﷺ نے تنگ دستی اور ذہنی و قلبی پریشانی میں مبتلا اشخاص کو یہ مژدۂ جاں فزا سنایا۔

«من لزم الا ستغفار جعل اللہ له من کل ضیق مخرجا ومن کل ھم فرجا ورزقه اللہ من حیث لا یحتسب» (احمد، ابو داود)

جو انسان استغفار کو ہمیشہ کے لئے اپنا وظیفہ بنا لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی ہر قسم کی تنگی اور پریشانی کو دور کرتا ہے اور اسے ایسے ذریعے سے رزق عطا کرتا ہے جس کا اسے وہم و گمان بھی نہیں ہوتا۔

میت کے لئے استغفار:

نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں:

«إن اللہ عزوجل لیرفع الدرجة للعبد الصالح في الجنة فیقول یا رب أنی لي ھذا فیقول باستغفار ولدك لك» (احمد)

اللہ رب العزت اپنے نیک بندوں کا جنت میں مرتبہ بڑھائیں گے۔ انسان کہے گا کہ اے میرے پروردگار! یہ درجہ مجھے کیسے نصیب ہوا؟ اللہ تعالیٰ جواب فرمائیں گے کہ تیرا لڑکا تیرے لئے استغفار کرتا رہا ہے۔ اس لئے تجھے یہ بلند درجہ نصیب ہوا۔

مردوں کے لئے بہترین تحفہ:

آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ:

''قبر میں میت کی مثال اس غرض ہونے والے کی ہے جو امداد کا طالب ہوتا ہے۔ جب اس کی بخشش کی دعا کی جاتی ہے اور اس کے لئے استغفار کی جاتی ہے و وہ دنیا کی تمام اشیاء سے اسے محبوب ہوتی ہے۔''

پھر فرمایا:

''اللہ عالیٰ اہل زمین کی دعا کی برکت سے اہلِ قبور پر پہاڑوں کی مانند رحمتیں نازل فرماتا ہے۔''

پھر آخر میں فرمایا:

«إن ھدیة ا لأ حیاء إلی الأموات الاستغفار لھم» (بیہقی)

کہ جو لوگ بقیدِ حیات ہیں ان کا تحفہ مردوں کے لئے یہ ہے کہ ان کے حق میں بخشش کی دعا کریں۔

بارش، اولاد اور رزق کا باعث:

جب انسان گناہ کا ارتکاب کرتا ہے تو ذاتِ الٰہی اسے گوناگوں عذاب میں مبتلا کر کے انتقام لیتی ہے۔ کبھی بارش نہیں ہوتی اور قحط سالی کے آثار رونما ہو جاتے ہیں۔ کبھی ہری بھری کھیتیاں پانی کو ترستی ہوئی گل سڑ جاتی ہیں۔ کبھی اولاد جیسی نعمتِ عظمیٰ کو انسان کی آنکھیں ترستی ہیں اور کبھی تنگیٔ رزق سے انسان اس قدر مغلوب ہو جاتا ہے کہ اس کے ایمان کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے اور اس کے پائے استقلال میں لغزش واقع ہو جاتی ہے۔ ان تمام امراض کا علاج اسی استغفار میں مضمر ہے۔ یہ ایک ایسا نسخہ ہے کہ اس کے استعمال سے بیسیوں اولاد کے طلب گاروں کو اولاد نصیب ہوئی، سینکڑوں رزق کے متلاشیوں کو رزق نصیب ہوا۔ اور ان گنت اور لا تعداد کھیتی اور پھلوں کی کمی کا شکوہ کرنے والوں کو وافر اناج اور فروٹ نصیب ہوا۔

حضرت حسن بصریؒ کے پاس ایک آدمی نے قحط سالی کی شکایت کی۔ آپ نے مندرجہ ذیل آیات تلاوت فرمائیں۔

﴿استَغفِر‌وا رَ‌بَّكُم إِنَّهُ كانَ غَفّارً‌ا ١٠يُر‌سِلِ السَّماءَ عَلَيكُم مِدر‌ارً‌ا ١١ وَيُمدِدكُم بِأَمو‌ٰلٍ وَبَنينَ وَيَجعَل لَكُم جَنّـٰتٍ وَيَجعَل لَكُم أَنهـٰرً‌ا ١٢﴾... سورة نوح

اور کہا کثرت سے استغفار پڑھو۔

پھر ایک آدمی آتا ہے وہ اولاد سے محرومی کی شکایت کرتا ہے۔ آپ اس کے لئے بھی یہی نسخہ تجویز فرماتے ہیں۔ پھر ایک آدمی جو تنگ دستی اور غربت کا شکار ہوتا ہے۔ وہ کشائشِ رزق کی خاطر ایسے کوئی وظیفہ دریافت کرتا ہے۔ آپ اسے بھی نصیحت فرماتے ہیں کہ استغفار کو لازم پکڑو۔ پھر ایک آدمی کھیتی اور پھلوں کی کمی کی شکایت لے کر حاضر ہوتا ہے۔ آپ اس بھی استغفار کی تلقین کرتے ہیں۔ پھر آپ سے دریافت کیا گیا کہ مختلف شکایات لے کر لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے لیکن آپ نے تمام کے لئے ایک ہی نسخہ تجویز فرمایا۔ آپ نے جواب میں سورۂ نوح کی مندرجہ ذیل آیات تلاوت فرمائیں۔

﴿استَغفِر‌وا رَ‌بَّكُم إِنَّهُ كانَ غَفّارً‌ا ١٠يُر‌سِلِ السَّماءَ عَلَيكُم مِدر‌ارً‌ا ١١ وَيُمدِدكُم بِأَمو‌ٰلٍ وَبَنينَ وَيَجعَل لَكُم جَنّـٰتٍ وَيَجعَل لَكُم أَنهـٰرً‌ا ١٢﴾... سورة نوح

اپنے پروردگار کی بارگاہ میں بخشش کی دعا کرو وہ اسے منظور فرمائے گا۔ اس کا فائدہ یہ ہو گا ہ وہ آسمان سے موسلادھار بارش برسائے گا۔ تمہیں کثرت سے مال و اولاد عطا کرے گا اور تمہارے باغات اور نہریں چلائے گا۔

امام بخاریؒ نے فضل استغفار پر باب باندھ کر قرآن کریم کی مندرجہ بالا آیات پیش کرت ہوئے مذکورہ فوائد ثابت کیے ہیں۔

استغفار کی فتحیابی اور ابلیس کی شکست:

شیطان انسان کا قدیمی دشمن ہے۔ انسان کو راہِ راست سے بہکانے کے لئے کبھی کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرتا اور ہر وقت موقعہ کا متلاشی رہتا ہے۔ چنانچہ آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ:

''ابلیس نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قسم کھا کر کہا کہ میں تیرے بندوں کو اس وقت تک گمراہ کرنے کی کوشش کروں گا جب تک ان کے جسم میں روح ہو گی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے جلال اور عزت کی قسم کھا کر فرمایا۔« لا أزال أغفر لھم ما یستغفروني» (احمد) جب تک وہ مجھ سے بخشش مانگتے رہیں گے میں انہیں بخشتا رہوں گا۔''

ہلاکتِ ابلیس:

ایک حدیث شریف میں آیا ہے کہ:

''لا إله إلا اللہ اور استغفار کا وظیفہ کثرت سے کرو، کیونکہ ابلیس کہتا ہے کہ میں نے لوگوں کو گناہ کے ذریعے ہلاک کر دیا ہے اور وہ مجھے لا إلٰه إ لا اللہ اور استغفار کے وظیفے سے ہلاک کرتے ہیں۔ جب مجھے معلو ہوا کہ وہ میری ہلاکت کا سامان کر رہے ہیں تو میں نے انہیں خواہشات کے ذریعے ہلاک کر دیا اور وہ سمجھتے ہیں کہ ہم راہِ راست پر ہیں۔'' (ابن کثیر)

استغفار ایک عظیم دوا ہے:

ایک موقعہ پر آنحضرت ﷺ نے فرمایا:

«ألا أدلکم علی دائکم و دوائکم ألا أن دائکم الذنوب وإن دوائکم الاستغفار»

''کیا تمہیں تمہاری بیماری اور اس کے علاج کی خبر دوں؟ سنیئے! تمہاری بیماری گناہ ہیں اور تمہاری دوا استغفار ہے۔''

قاریِ استغفار کو خوشخبری:

عبد اللہ بن بسر کہتے ہیں کہ میں نے آنحضرت ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا۔

«طوبی لمن وجد في صحیفته الاستغفار» (ابن ماجہ)

اس آدمی کو خوشخبری ہے جس کے صحیفے میں استغفار ہے۔

ایک اور روایت میں ہے کہ:

''جو آدمی یہ چاہتا ہے کہ اپنا صحیفہ دیکھ کر خوش ہو تو فلیکثر من الاستغفار یعنی اسے چاہئے کہ استغفار کثرت سے پڑھے۔''

انتظارِ استغفار:

حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ:

''جب کوئی مسلمان گناہ کا ارتکاب کر بیٹھتا ہے تو فرشتہ (کاتب) تین ساعت تک اس کا انتظار کرتا ہے «فإن استغفر من ذنبه لم یکتبه علیه ولم یعذبه اللہ یوم القیامة» اگر وہ اپنے گناہ کی معافی مانگ لے تو گناہ اس کے نامۂ اعمال میں درج نہیں ہو گا اور نہ ہی اللہ تعالیٰ اس سے کچھ مواخذہ کریں گے۔''

رفعِ عذاب:

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم پر جب اللہ تعالیٰ نے ان کے گناہوں کے باعث پہاڑ بلند کیا اور گرانا چاہا تو وہ سجدہ میں گر گئے اور اپنے گناہوں کی معافی مانگنے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے استغفار کی بدولت ان سے عذاب رفع کر دیا۔

اہل مکہ بار بار آنحضرت ﷺ سے عذابِ الٰہی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے جواب میں فرماتے ہیں:

﴿وَما كانَ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُم وَأَنتَ فيهِم ۚ وَما كانَ اللَّهُ مُعَذِّبَهُم وَهُم يَستَغفِر‌ونَ ٣٣﴾... سورة الانفال

آپ کے وجود گرامی کے ہوتے ہوئے اللہ تعالیٰ ان مشرکینِ مکہ پر عذاب نازل نہیں فرمائے گا۔ اگر استغفار کو لازم کریں تو پھر بھی اللہ تعالیٰ انہیں عذاب نہیں کرے گا۔

حضرت یونس کی قوم ان کی پیروی سے انحراف کرتی ہے۔ سرکشی اور بغاوت میں حد سے تجاوز کرتی ہے۔ حضرت یونس اپنی قوم سے ناراض اور خشمگیں ہو کر شہر چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔ اور ان کے لئے عذابِ الٰہی کی بددعا کرتے ہیں۔ جب قومِ یونس کو پتہ چلتا ہے کہ انبیاء کی دعائیں بارگاہِ ایزدی میں فوراً مستجاب ہوتی ہیں اور یقین ہوتا ہے کہ ہم پر عذاب واقع ہونے والا ہے تو تمام شیر خوار بچے اور معمر، ذکر رواناث، امیر و غریب سبھی اپنے پروردگار کے آستانہ کے سامنے سرنگوں ہوتے ہیں اور رو رو کر اپنے جرائم کی معافی مانگتے ہیں اور آئندہ کے لئے تائب ہو جاتے ہیں تو ان سے عذابِ الٰہی ٹل جاتا ہے جیسے کہ سورۂ یونس میں اللہ تعالیٰ نے ذِکر فرمایا ہے۔

﴿كَشَفنا عَنهُم عَذابَ الخِزىِ فِى الحَيو‌ٰةِ الدُّنيا وَمَتَّعنـٰهُم إِلىٰ حينٍ ٩٨﴾... سورة يونس

یعنی ہم نے دنیا کی زندگی میں ان سے عذاب دور کر دیا اور انہیں ایک مدت تک فائدہ اُٹھانے کی اجازت دی۔

بہترین استغفار:

کتب حدیث میں متعدد استغفار کا ذِکر آیا ہے۔ سب سے بہترین استغفار یہ ہے۔

«اللھم أنت ربي لا الٰه إلا أنت خلقتني أنا عبدك وأنا علی عھدك ووعدك ما استطعت أعوذبك ومن شر ما صنعت أبوء لك بنعمتك علیّ وأبوء بذنبي فاغفرلي فإنه لا یغفر الذنوب إلا أنت» (بخاری)

اس کا نام سید الاستغفار ہے۔ اس کے پڑھنے والے کو آنحضرت ﷺ نے جنت کی خوشخبری دی ہے۔

ایک آدمی گناہوں میں ڈوبا ہوا تھا۔ اسے آنحضرت ﷺ نے مندرجہ ذیل استغفار سکھلایا۔

«اللھم مغفرتك أوسع من ذنوبي ورحمتك أرجی عندي من عملي»

اسے آپ نے دو تین مرتبہ پڑھایا اور فرمایا جاؤ۔ قد غفر اللہ لک۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمہیں معافی دے دی ہے۔ (حاکم)

آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب مسلمانوں کو بیش از بیش استغفار پڑھنے اور ہر قسم کے فسق و فجور سے اجتناب کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔