ماہِ رجب کے فضائل کے متعلق چند احادیث ملتی ہیں جو صحیح نہیں ہیں۔ شیخ عبد الحق دہلویؒ نے ''ماثبت بالسنة'' میں رجب کی فضیلت کے بارے میں چند حدیثیں لکھ کر ان کے متعلق تحریر کیا ہے کہ یہ حدیثیں صحیح نہیں، ان میں سے اکثر ضعیف اور موضوع ہیں1۔ حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب ''تبین العجب'' میں فضیلت ماہِ رجب سے معلقہ حدیثوں پر بحث کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ''ان میں سے کوئی بھی اس قابل نہیں کہ انہیں حجت قرار دیا جائے۔'' شیخ علامہ قاضی القضاۃ یمن محمد بن علی شوکانی رحمۃ اللہ علیہ کتاب ''السیل الجرار'' میں تحریر فرماتے ہیں کہ:۔

«لَمْ یَرِدْ فِیْ رَجَبَ عَلَی الْخُصُوْصِ سُنَّةٌ صَحِیْحَةٌ وَلَا حَسَنَةٌ وَلَا ضَعِیْفَةٌ ضُعْفًا خَفِیْفًا بَلْ جَمِیُْ مَا رُوِیَ فِیْہِ َلَی الْخُصُوْصِ إمَّا مَوْضُوْعٌ مَکْذُوْبٌ أوْ ضَعِیْفٌ شَدِیْدُ الضَّعْفِ وَغَایَةُ مَا یَصْلُحُ التَّمَسُّك بِه اسْتِحْبَابُ صَوْمِه مَا وَرَدَ فِیْ حَِدیْثِ الرَّجُلِ الْبَاھِلِیِّ أنَّ النَّبیَّ ﷺ قَالَ لَه صُمْ أشْھَرَ الْحُرْمِ وَرَجَبُ مِنَ الْأشْھُرِ الْحُرُمِ بِلَا خِلَافٍ وَھٰذَا الْحَدِْيثُ أخْرَجَه أحْمَدُ وأبُوْ دَاودَ وَابْنُ مَاجَة لٰکِنَّه لَا یَدُلُّ عَلٰی شَھْرِ رَجَبَ عَلَی الْخُصُوْصِ»

''علی الخصوص ماہ رجب کے متعلق کوئی صحیح حسن یا کم درجے کی ضعیف سنت وارد نہیں بلکہ اسی سلسلے کی تمام مرویات یا تو موضوع اور جھوٹی ہیں یا انتہائی درجے کی ضعیف زیادہ سے زیادہ اس ماہ کے روزے کے مستحب ہونے کی دلیل مل سکتی ہے۔ کیونکہ حدیث سے ثابت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ایک باہلی آدمی کو فرمایا تھا کہ حرمت کے مہینوں کے روزے رکھو، اس حدیث کو احمد او داؤد اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے لیکن اس سے بھی ماہِ رجب کی خصوصیت ثابت نہیں ہوتی۔''

علامہ شوکانی نے اس کے بعد فرمایا ہے کہ زیادہ مناسب یہی ہے کہ یوں کہا جائے کہ اشہر حرم کا روزہ مستحب ہے اس لئے کہ اس کی خصوصی دلیل ملتی ہے اور ابن عباسؓ کی وہ حدیث جس میں نبیﷺ نے رجب کے روزے سے منع فرمایا ہے، وہ حدیث ضعیف ہے اس کی سند میں زید بن عبد الحمید اور داؤد بن عطا دو (۲) ضعیف راوی ہیں۔ لیکن یہ حدیث ضعیف ہونے کے باوجود اس حدیث کے مقابلے میں زیادہ قوی ہے جس میں رجب کے روزے کا مستحب ہونا مذکور ہے۔

حضرت عمرؓ لوگوں کو ماہِ رجب کی تعظیم سے روکتے اور فرماتے تھے کہ جاہلیت والے اس مہینے کی عزت و تعظیم کرتے تھے۔ زید بن اسلمؓ کی ایک حدیث میں بیان ہے کہ آنحضرت ﷺ سے رجب کے روزے کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم ''شعبان کو چھوڑ کر کدھر چلے گئے ہو'' یہ حدیث مرسل ہے اور اسے ''ابن ابی شیبہ'' نے روایت کیا ہے۔

نئی ایجاد شدہ نمازیں:

اس مہینے میں ''لیلة الرغائب'' معروف ہے یہ رجب کے پہلے جمعہ کی رات ہوتی ہے، بعض مشائخ نے اس رات کے لئے ایک نماز ایجاد کی ہے جس کا اہل حدیث نے سختی سے انکار کیا ہے اور علماء نے اس کے باطل ہونے کے متعلق مستقل کتابیں لکھی ہیں۔ علامہ ابن حجر مکیؒ نے اپنی ایک کتاب میں ایسی سب نمازوں کو جمع کیا ہے جو ازروئے سنت ثابت نہیں ہیں اور واضح کیا ہے کہ ایسی ایجاز شدہ نمازیں بدعت مکفرہ ہیں، لیکن شیخ عبد الحق دہلویؒ نے ''ما ثبت بالسنۃ'' میں اس رات اور اس نماز کو صحیح ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی ہے۔ ایسے ہی وجوہ سے بعض محققین نے شیخ عبد الحق دہلویؒ کو ''سنی سست اور حنفی چست'' کہا ہے۔ شیخ رحمۃ اللہ پر مشائخ صوفیہ کی محبت غالب تھی جس کی وجہ سے انہوں نے مشائخ کی اس نماز کو درست قرار دینے کی کوشش کی ہے۔ حالانکہ یہ نماز واضح طور پر بدعت ہے اور جو کوئی اس کو ازروئے سنت صحیح ثابت کرنے کی کوشش کرےگا وہ اپناعزیز وقت ضائع کرے گا۔

امام غزالیؒ نے بھی اس نماز کا ذِکر کیا ہے اور اس کی ترکیب تحریر کی ہے لیکن صرف مشائخ اور درویشوں کے اقوال و اعمال سے کوئی عبادت ثابت نہیں ہو سکتی، تاوقتیکہ علمائے حدیث و قرآن اس کے قائل نہ ہوں۔ اس جگہ حضرت مجدد رحمۃ اللہ علیہ کا قول دہرانا مناسب ہو گا کہ ''جس مسئلہ میں علمائے دین اور صوفیہ و مشائخ کے درمیان اختلاف ہو، اس میں حق ہمیشہ علماء کی طرف ہوتا ہے۔''

اور وہ کون سا شیخ، صوفی یا عالم ہے جس سے کسی مقام پر کوئی خطا، سہو یا غلط قیاس نہ ہوا ہو؟اسی لئے عمل کے واسطے میزان عدل الٰہی یہ ہے کہ:

﴿فَبَشِّر‌ عِبادِ ١٧ الَّذينَ يَستَمِعونَ القَولَ فَيَتَّبِعونَ أحسَنَهُ ۚ أُولـٰئِكَ الَّذينَ هَدىٰهُمُ اللَّهُ ۖ وَأُولـٰئِكَ هُم أُولُوا الأَلبـٰبِ ١٨﴾... سورة الزمر

معراج شریف:

معراج النبی ﷺ کے متعلق جو اقوال ملتے ہیں، ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اسی ماہ کی ستائیس تاریخ کو بوقت شب معراج ہوئی تھی۔ لیکن بعض علماء نے یہ بات صحیح قرار دی ہے کہ ۱۴ رمضان یا ربیع الآخر، بعثت کے دوسرے سال معراج ہوا۔ واللہ أعلم۔

بدعات:

اس ماہ میں جتنی بدعات عوام و خواص میں مروج ہیں وہ سب گمراہی کے کام ہیں، مومن کو کسی بدعت کا مرتکب نہیں ہونا چاہئے اور کسی مشتبہ عمل کو اپنانا نہیں چاہئے، کیونکہ ایسے امور سے انسان نور ایمان سے عاری ہو جاتا ہے، نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ«ألمُوْمِنُوْنَ وَقَّافُوْنَ عِندَ الشَّبَھَاتِ» (مومن مشتبہ امور سے اجتناب کرتے ہیں)
نوٹ

1اصل عبارت یہ ہے۔ فَھٰذِہ أحَادِیْثُ ذُکِرَتْ فِیْمَا عِنْدَنَا مِنَ الْکُتُبِ وَلَمْ یَصحّ مِنْھَا َلی مَا قَالُوْا شَيیٔ وَغَالِبُھَا الضَّعِیْف وَجُلُّھَا مَوْضُوْعٌ: (انتھٰی)