کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں، جو بری ہوتی ہیں اور برائی کا سبب بنتی ہیں، لیکن یوں عام ہوتی ہیں، جیسے شرعاً ان میں کوئی قباحت ہی نہ ہو۔ اس لئے اصلاحِ حال کی طرف نہ ذہن جاتا ہے اور نہ ہی اس کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔

اس فرصت میں ہم اس سلسلے کے صرف وہ چند امور سامنے رکھیں گے، جو مستورات سے تعلق رکھتے ہیں، جو حد درجہ خطرناک ہیں مگر حد درجہ عام بھی ہیں۔

اجلے اور بھڑکیلے کپڑے:

عورتوں کے لئے نفیس اور عمدہ کپڑے پہننا مباح ہے۔ وہ ریشمی ہوں یا سلکی اور سوتی، گراں سے گراں تر ہوں اور قیمتی سے قیمتی۔ سبھی کچھ مباح ہے لیکن فرض نہیں ہے اور نہ ہی وہ غیر مشروط ہے۔ اجلے کپڑوں سے غرض، ذوق کی تسکین ہو، تعیش مقصود نہ ہو، نفاست پسندی محرک ہو، نمود و نمائش نہ ہو، لباس کی یہ جادوگری اور ٹھاٹھ باٹھ کی یہ ساحری کسی کے لئے بھی فتنہ ساماں نہ ہو اور نہ ہی ان کی یہ شاہزادگی فخر و مباہات کی موجب ہو۔ مگر افسوس! اس پاکیزہ اور صاف ستھرے لباس کی سرزمین سے عموماً غیر پاکیزہ ذہنیت اور ناپاک کریکٹر کی ہی تخلیق ہو جاتی ہے۔ اس لئے رحمتِ عالم ﷺ نے فرمایا:۔

«استعینوا علی النساء بالعری فإن إحدٰھن إذا کثرت ثیابھن وأحسنت زینتھا أعجبھا الخروج1»

''کہ عورتوں کو کپڑے کم دیا کرو۔ جب ان کے پاس خوبصورت کپڑے زیادہ ہو جاتے ہیں، تو ان کو گھروں سے باہر نکلنے کا شوق چرانے لگ جاتا ہے۔''

امام ابن ابی شیبہ نے بعینہٖ یہی روایت حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے موقوفاً روایت کی ہے۔ یعنی حضرت عمرؓ کا ارشاد ہے:

''عورت فطرۃً نمود پسند ہے، اس کا جی چاہتا ہے کہ اسے کوئی دیکھے اور تڑپ جائے۔ اس لئے جب وہ بھڑکیلے لباس کے ساتھ لیس ہو جاتی ہے تو ''قتلِ عام'' کے ارادہ سے نکل کھڑی ہوتی ہے۔''

اس انداز اور اسلوب سے بن سنور کر باہر نکلنے کو قرآنِ کریم نے ''تبرج جاہلیۃ'' کے نام سے یاد کیا ہے:۔

﴿وَقَر‌نَ فى بُيوتِكُنَّ وَلا تَبَرَّ‌جنَ تَبَرُّ‌جَ الجـٰهِلِيَّةِ الأولىٰ.2.﴿٣٣﴾... سورة الاحزاب

''اور اپنے گھروں میں جمی (بیٹھی) رہو اور اگلے زمانہ جاہلیت کے (سے) بناؤ سنگھار دکھاتی نہ پھرو۔''

سنن بیہقی میں حضور اکرم ﷺ کا ارشاد ہے کہ:

«شر النساء المتبرجات وھن المنافقات3»

''بدترین وہ عورتیں ہیں جو بناؤ سنگھار دکھاتی پھرتی ہیں، وہ منافق عورتیں ہیں۔''

«الرافلة في الزینة في غیر أھلھا کمثل ظلمة یوم القیمة لا نور لھا»4

''اپنے گھر بار سے باہر زینت اور تبختر کے ساتھ چلنے والی عورت قیامت کے روز بے نور ہو گی۔''

افسوس! آج کل گھر میں تو سادہ سے کپڑوں میں عموماً وقت گزارتی ہیں، مگر جب باہر نکلتی ہیں تو خوب بن ٹھن کر نکلتی ہیں اور اس کو کئی بھی شخص برا محسوس نہیں کرتا حالانکہ شرعاً یہ ممنوع ہے۔ کیوں کہ اس سے فتنے پیدا ہوتے ہیں اور اس کے جتنے اور جیسے کچھ اثرات نکل رہے ہیں، وہ اب کسی سے بھی مخفی نہیں رہے۔ بھڑکیلے برقعوں اور زرق برق کپڑوں نے تو بہت سے گھروں کی مالی حالت اور عزت و آبرو کی دولت کو غارت کیا ہے۔ اس کمزور کی طرف توجہ کریں ورنہ حالات اور خراب ہوجائیں گے۔

غیر محرم رشتہ داروں سے پردہ:

آج کل دنیا میں شرعی پردہ تقریباً تقریباً ناپید ہو چکا ہے۔ جتنا ہے بس ایک رسم اور رواج ہے اور یہ عام بیماری ہے کہ غیروں سے پردہ کیا جاتا ہے۔ مگر نا محرم رشتہ داروں سے کوئی خاتون پردہ نہیں کرتی۔ حالانکہ شرعی پردہ یہ ہے کہ:

''جس سے کسی حالت اور درجہ میں نکاح ہو سکتا ہے۔ وہ نامحرم ہے خواہ رشتہ دار بھی ہو اور جس سے کسی بھی درجہ سے نکاح کرنا ناجائز ہے وہ محرم ہے۔ بس جو نامحرم ثابت ہو اس سے پردہ کرنا ضروری ہے اور جو محرم ہے اس سے کوئی پردہ نہیں۔''

طبقات ابن سعد میں ایک روایت ہے کہ:

''آیتِ حجاب کے نزول کے بعد ازواجِ مطہرات نسبی اور رضاعی رشتہ داروں کے سوا باقی سب سے پردہ کیا کرتی تھیں۔ یہاں تک کہ حضرت امام حسن و حسین رضی اللہ عنہما کے سامنے بھی نہیں آتی تھیں۔''

حضور علیہ السلام نے دیور کو موت کہا ہے:۔

«الحمو الموت» 2''دیور تو موت ہے۔''

اس لئے خلوت اور اس کے سامنے ننگے منہ جانا بھی بھاوجہ کے لئے ممنوع ہے۔

آیت حجاب کے بعد حضرت طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بول اُٹھے کہ:

«أیحجبنا محمد عن بنات عمنا »

''کیا محمد ﷺ ہمیں اپنی چچازاد بہنوں سے بھی پردہ کرائیں گے؟''

اس پر آیت نازل ہوئی:

﴿وَما كانَ لَكُم أَن تُؤذوا رَ‌سولَ اللَّهِ...﴿٥٣﴾... سورة الاحزاب

''اور تم کو (کسی طرح) شایاں نہیں کہ رسولِ خدا کو دکھ دو۔''

ان تصریحات سے پتہ چلتا ہے کہ پردہ ہر اس شخص سے ضروری ہے جس سے کسی حالت میں بھی نکاح ممکن ہے مگر یہاں دستور ہی اور چل نکلا ہے کہ:۔

''جو پردہ کی قائل ہیں، وہ دوسروں سے تو کرتی ہیں مگر غیر محرم قریبی رشتہ داروں سے بالکل نہیں کرتیں۔'' حالانکہ یہ شرعاً غلط بات ہے۔

رشتہ داروں کا گھروں میں آنا جانا تو رہتا ہی ہے۔ اس لئے ایسی صورت میں اس کا طریقہ یہ ہے کہ عورت اِن کے سامنے گھونگٹ کر لیا کرے۔ یہ راہ، راہِ عافیت بھی ہے اور سنتِ رسول ﷺ بھی۔ اِس میں برکت بھی ہے اور عصمت بھی۔

نازک اور سریلی آواز:

مردوں کی سریلی آواز عورتوں کے لئے اور عورتوں کی خوش آواز مردوں کے لئے فتنہ ہے۔

﴿فَلا تَخضَعنَ بِالقَولِ فَيَطمَعَ الَّذى فى قَلبِهِ مَرَ‌ضٌ...﴿٣٢﴾... سورة الاحزاب

''نزاکت سے بات نہ کیا کرو، ایسے شخص کو خیال ہونے لگتا ہے جس کے دِل میں کھوٹ ہے۔''

بول میں ایسی شیرینی جو مردوں کے لئے خصوصی دلچپسی اور کشش پیدا کرتی ہے۔ اسلام میں حرام ہے۔ جہاں بات اور گفتگو کرنے میں اتنی احتیاط فرض کر دی گئی ہے۔ وہاں عورتوں کی ان ساحرانہ سریلی آوازوں کا سننا کسی کے لئے کیسے جائز ہو گا۔ جنہوں نے بوڑھوں تک کے دلوں کو گرما دیا ہے۔ ریڈیو فلم، گراموفون اور دوسری نجی اور غیر نجی تقریبات میں نوجوان لڑکیوں کے گانوں کی جو بھرمار رہتی ہے۔ ان کو سب سنتے ہیں۔ مگر یہ بات کسی کو بھی اوپری نہیں لگتی۔

یہی حال مردوں کی آواز کا ہے۔ ایک دفعہ ازواجِ مطہراتؓ کچاوے میں جا رہی تھیں تو سار بان انجشہ نامی غلام صحابی جو بہت خوش آواز تھے۔ حدی خوانی کے ذریعے اونٹوں کو ہانک رہے تھے۔ آپ ﷺ نے اس سے فرمایا:

«رویدك یا أنجشة لا تکسر القواریر »

''اے انجشہ! (حدی خوانی) رہنے دے! ان شیشوں کو نہ توڑئیے۔''

معلوم ہوا کہ موسیقی اور سرود و نغمے عورتوں کے لئے بالخصوص کافی مہلک ہیں۔ مگر ہم میں سے کسی کو بھی اس کا ہوش نہیں۔ گھر میں ریڈیو لگے ہیں۔ بچیاں اور بوڑھیاں مردوں کی جاددو بھری سریلی تانیں سنتی ہیں اور نوجوان لڑکے اور ادھیڑ مرد لڑکیوں اور عورتوں کے فتنہ پرور راگ و راگنیاں سنتے ہیں۔ پھر اس پر طرہ یہ کہ بول بھی ایسے کہ پتھر بھی پگھل جائیں۔ لیکن ۔۔۔ سنتے ہو؟ کیا گھر میں کوئی ہے؟

دوسری کی طلاق کا مطالبہ:

یہ ایک عام بیماری ہے کہ اگر کوئی شخص دوسرا نکاح کرنا چاہے تو بعض عورتیں پہلے یہ مطالبہ کرتی ہیں کہ پہلے اس کو طلاق دے جو اس وقت تیرے نکاح میں ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس سے منع فرمایا ہے:

«لا تسأ ل  المرءة طلاق أختها لتستفرغ صحفتھا ولتنکح فإن لھا ما قدر لھا1»

''عورت کو چاہئے اپنی بہن کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے تاکہ اس کا پیالہ خالی کرائے اسے نکاح کر لینا چاہئے اس کو وہ ملے گا جو اس کا مقدر ہے۔''

آج کل یہ رسم کافی ہے۔ پہلے دوسری کا گھر اجاڑتی اور اس کا مقدر بگاڑتی ہیں۔ پھر ان اُجڑی بنیادوں پر اپنی آبادی کے محلات تیار کرتی ہیں۔ قیامت میں جو پکڑ ہو گی۔ وہ تو خدا جانے کتنی کچھ ہو گی، ایسی عورتوں کی عموماً دنیا بھی کم ہی آباد رہتی ہے۔ دوسروں کا برا مانگنے والوں کا بھلا کبھی نہیں ہوا۔

لٹکتی ہوئی نہ چھوڑو:

ایک ساتھ چار عورتیں ایک شخص کے نکاح میں رہ سکتی ہیں۔ بشرطیکہ بناہ سکے اور مقدور بھر عدل و انصاف کا خیال رکھ سکے، ورنہ حکم ہوتا ہے کہ پھر ایک ہی رکھو، تو چار کہاں۔ پھر ایک سے دوسری کرنے کی بھی اجازت نہیں۔

عدل و انصاف سے غرض ظاہری حقوق میں مساوات ہے۔ باطنی اور قلبی محبت میں مساوات کا مطالبہ نہیں، کیونکہ یہ بات انسان کے بس کا روگ نہیں ہے۔ بہرحال قرآن کریم کا حکم ہے کہ:

﴿وَلَن تَستَطيعوا أَن تَعدِلوا بَينَ النِّساءِ وَلَو حَرَ‌صتُم ۖ فَلا تَميلوا كُلَّ المَيلِ فَتَذَر‌وها كَالمُعَلَّقَةِ...﴿١٢٩﴾... سورة النساء

''یہ تو تمہارے بس میں نہیں کہ عورتوں میں کما حقہ عدل کر سکو، خواہ کتنا ہی تم چاہو، تو پھر بھی بالکل (ایک ہی طرف) مت جھک پڑو کہ دوسری کو (اس طرح) چھوڑ بیٹھو، گویا (خلا میں) لٹک رہی ہے۔''

اس کے علاوہ عورت کو زچ کرنے اور خوار کرنے کی اور بھی کئی ایک صورتیں ہیں، مثلاً:

٭ بٹے کے نکاح میں ایک دوسرے سے بدلہ لینے کے لئے بعض اپنی بیوی کو میکے بھیج کر پھر اس کو پوچھتے نہیں۔

٭ یا بیوی کا قدرتی طور پر دل نہیں لگ سکا تو اس کو اس کی سزا دیتے ہوئے لٹکا رکھتے ہیں، نہ بساتے ہیں نہ طلاق دیتے ہیں۔

٭ بعض اوقات محض حسد کی بناء پر کہ میں نے چھوڑ دی تو فلاں سے شادی کر لے گی۔ اس لئے اس کو چھوڑو ہی نہیں۔

الغرض اسلام کا حکم ہے، رکھو تو عدل سے رکھو، ورنہ اس کو چھوڑ دو تاکہ وہ اپنا مستقبل بنا سکے۔ لیکن اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا کہ کوئی عورت ناحق مرد کے رحم و کرم پر چھوڑ دی جائے۔ بسائے نہیں تو اس کو چھوڑے بھی نہیں۔ لٹکائے ہی رکھے۔ ان حالات میں اگر وہ خود ہوش میں نہ آئے تو قاضی کی طرف رجوع کر کے نکاح فسخ کرایا جا سکتا ہے، بہرحال کسی خاتون کی زندگی برباد کرنے کی کسی کو اجازت نہیں ہے۔

ایک ساتھ تین طلاقیں:

تین طلاقیں ایک ساتھ نہیں تھیں بلکہ بعض مفاسد کی روک تھام کے لئے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سیاسۃً ان کو نافذ کر دیا تھا ۔ اصل مسئلہ یہی ہے کہ تین طہروں میں الگ الگ تین طلاقیں دی جائیں۔ اس میں حکمت یہ ہے کہ بعض اوقات انسان مغلوب الغضب ہو کر طلاق دے بیٹھتا ہے۔ ٹھنڈا ہونے پر پچھتاتا ہے۔ اس لئے شریعت نے طلاق کے لئے تین طہر قرار دیئے۔ ایام حیض بھی نہیں، پاکی کے دن مقرر کئے۔ اگر اس کے باوجود کوئی طلاق دینے پر مصر ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اب یہ جوڑا ایک ساتھ نہیں چل سکے گا۔

حضور علیہ السلام کے عہد میں ایک شخص نے ایک ہی دفعہ تین طلاقیں دے ڈالیں۔ حضور علیہ السلام نہایت غصہ میں آگئے اور فرمایا:

«أیلعب بکتاب اللہ وأنا بین أظھرکم2»

''کیا وہ میری موجودگی میں کتاب اللہ کے ساتھ مخول کرتا ہے؟''

قرآن مجید کا نام اس لئے لیا کہ اس میں الگ الگ تین طلاقوں کی تلمیح ملتی ہے۔ چنانچہ فرمایا:

﴿الطَّلـٰقُ مَرَّ‌تانِ ۖ فَإِمساكٌ بِمَعر‌وفٍ أَو تَسر‌يحٌ بِإِحسـٰنٍ...﴿٢٢٩﴾... سورة البقرة

''طلاق (رجعی) دو بار ہے۔ اس کے بعد اس کو مناسب طریقے سے رکھنا ہے یا باوقار طریقے سے چھوڑنا ہے۔''

دو بار کہا ہے، دو طلاقیں نہیں کہا تو معلوم ہوا کہ الگ الگ ہوں گی تو دو بار بنیں گی ورنہ دو بار نہیں کہلا سکیں گی۔ دو بار کے بعد، تیسری باریہ کرو یا وہ کرو، کا حکم ہے۔ عربی میں ''فا'' تعقیب کے لئے آتی ہے۔ یعنی جب دو بار ہو جائیں پھر تیسری بار یہ کرو۔ اگر ایک ساتھ تین دے دی جائیں تو ''تعقیب'' (پھر) کے کوئی معنے نہیں رہیں گے۔

ایک ساتھ تین طلاقوں سے اکثر گھرانے بہت بڑی الجھنوں میں پڑ گئے ہیں۔ بستے رستے گھر جاتے ہیں صرف جذباتی اور وقتی ہیجان میں آکر تین طلاقیں کہہ کر عمر بھر کی مصیبت میں پڑ جاتے ہیں۔ اس لئے بہتر ہے کہ ایک مسلم کے گھر کو یونہی ہنسی کھیل اور وقتی جوش کا سہارا لے کر برباد ہونے سے بچایا جائے۔ ہمارے نزدیک ایک مسلکی غلطی کا بھرم رکھنے کے لئے ''مسلمان گھر'' کو ویرا کرنا مناسب نہیں ہے۔ مسلم کا گھر ایک فقہی غلطی کی نذر ہو جائے۔ اسلام کی رو سے بہت بڑی زیادتی ہے۔

والدین کی مرضی کے بغیر نکاح:

یہ ٹھیک ہے کہ والدین کے لئے بھی یہ ضروری ہے کہ وہ اپنی لڑکی اور لڑکے کے جذبات کا احترام ملحوظ رکھیں لیکن اس سے کہیں زیادہ یہ ضروری ہے کہ والدین کی مرضی اور منشاء کو نظر انداز کرنے کا جو رجحان پیدا ہو گیا ہے اس کو روکا جائے۔ کیونکہ نو عمر لڑکی اور لڑکا اپنے مصالح کا صحیح اور سنجیدہ جائزہ لینے سے قاصر ہوتےے ہیں۔ ان کی سب باتیں وقتی جوش پر مبنی ہوتی ہےں۔ اگر ان کو صحیح رخ پر کوئی لگا سکتا ہے تو وہ صرف والدین ہوتے ہیں۔ خصوصاً صنف نازک جو صرف نکاح کے وقت ہی نہیں بعد میں بھی اپنے والدین کی محتاج ہوتی ہے۔ اس لئے شریعت نے اعلان کیا ہے کہ جو لڑکی ولی کی مرضی کے خلاف اڑ کر نکاح کر لے۔ اس کا سرے سے نکاح ہی نہیں ہوتا۔

«عن أبي موسٰی عن النبي ﷺ قال لا نکاح إلا بولي»1

''حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا، ولی کے بغیر نکاح ہوتا ہی نہیں۔''

حضرت عائشہ کی روایت میں ہے:

«أیما امراة نکحت نفسھا بغیر أذن ولیھا فنکاحھا باطل فنکاحھا باطل فکاحھا باطل»2

''جس عورت نے خود سر ہو کر اپنے سرپرست (والدین وغیرہ) کی اجازت کے بغیر نکاح کر لیا۔ اس کا نکاح باطل ہے۔ اس کا نکاح باطل ہے۔ اس کا نکاح باطل ہے۔''

سرپرستوں سے آزاد ہو کر لڑکی اُٹھتی ہے۔ عدالت میں پہنچ کر دعویٰ کرتی ہے کہ بالغ ہوں اور اپنی مرضی سے فلاں لڑکے سے نکاح کرتی ہوں۔ اس پر عدالت ان کو اس کی اجازت دے دیتی ہے۔ نتیجہ جو نکلتا ہے۔ وہ آپ سب کے سامنے ہے۔ دراصل موجودہ عدالتوں کا یہ اصول، فقہ حنفی سے ماخوذ ہے۔

بہرحال کچھ ہو، اس کے نتائج نہایت دور رس نکل رہے ہیں اور چوری چھپے یا رانوں اور معاشقوں کے لئے راستہ ہموار ہو گیا ہے۔ اس لئے ہم پوری ملتِ اسلامیہ سے اپیل کرتے ہیں کہ معزز گھرانوں کی عزت و آبرو کا تحفظ کرتے ہوئے اس قانون کو بدلوانے کی کوشش کرے۔ ورنہ ''نہ کہ را منزلت نہ مہ را'' والا یہ سماں سدا طاری رہے گا۔

جہیز نہیں، انسانیت پر نگاہ رکھئے:

ایک اور مصیبت جس نے صالح معاشرہ کی حد درجہ حوصلہ شکنی کی ہے۔ یہ ہے کہ دنیا رشتے ناطوں میں انسایت اور دیانیت کے بجائے دولت اور حسن و جمال جیسی چیزوں کو مقدم رکھتی ہے۔ حضورﷺ کا ارشاد ہے کہ:

«تنكح المرأة لأ ربع لما لھا ولحسبھا ولجما لھا ولدینھا فاظفر بذات الدین تربت یداك»

چار چیزوں کو دیکھ کر عورت سے نکاح کیا جاتا ہے۔ مال، خاندان، حسن اور دین

تیرا بھلا ہو! تو دیندار کو پانے کی کوشش کر۔

مال و دولت ڈھلتی پھرتی چھاؤں ہے۔ خاندان، افراد سے بنتا ہے۔ ضروری نہیں کہ خاندان اونچا ہو، تو وابستہ افراد بھی سبھی اور ہر اعتبار سے بھلے ہوں۔ باقی رہا حسن و جمال یقین کیجئے، یہ تو صرف لحظہ بھر کی شے ہے اور ویسے بھی یہ اک فتنہ ہے۔ خدا جانے کل اس کا انجام کیا ہو اور اپنے ساتھ کیا کیا قیامتیں لائے۔ ہاں گھر کی آبادی کے لئے ہوش مند اور دیانتدار لڑکی ہی مفید ہو سکتی ہے۔ اس لئے دوسری باتوں کو چھوڑ کر حضور علیہ السلام کے اس مشورہ کی قدر کرنا چاہئے۔ حضور کا ارشاد ہے:

''دنیا ساری ایک ساز و سامان ہے لیکن بہتر ساز و سامان ''نیک خاتون'' ہے۔''

«الدنیا کلھا متاع وخیر متاع الدنیا المرأة الصالحة» (مسلم)
حوالہ جات

1کامل ابن عدی۔ عن انس

3بیہقی

4ترمذی۔ عن میمونۃ بنت سلام

1آئندہ شمارے میں اس حدیث کی تحقیق آئے گی۔ انشاء اللہ

2بخاری

1بخاری، مسلم، ابو ہریرہؓ

1مسلم شریف۔ ابن عباس

2نسائی محمود بن لبید

1مشکوٰۃ بحوالہ احمد، ترمذی، ابو داود، ابن ماجہ، دارمی

2ترمذی، احمد وغیرہما

2کیونکہ حنفیہ کے نزدیک عورت (ولی کے بغیر) اپنا نکاح خود کر سکتی ہے، تفصیل کیلئے ملاحظہ ہو، مضمون ''عورت نکاح میں ولی کی محتاج کیوں ہے؟'' محدث جلد ۱ عدد ۴، ۸ (جاری ہے) ۱۲۔ ادارہ

1بخاری۔ مسلم عن ابی ہریرہؓ