صرف ذاتِ الٰہی ہی وہ ذات ہے جو ہر عیب و نقص سے پاک و منزہ ہے۔ اس کی ذات میں عیب جوئی کفر اور الحاد کے مترادف ہے۔ اس کی مخلوق خواہ نبی ہوں یا ولی، اللہ تعالیٰ کی برگزیدہ ہستیاں ہوں یا اس کے پاکباز بندے سبھی اپنی ہفوات اور لغزشوں کے معترف ہیں۔ اسی لئے قرآن کریم نے بندۂ مومن کی صفات بیان کرتے ہوئے یہ نہیں کہا کہ مومن سے گناہ سرزد نہیں ہوتے، بلکہ فرمایا:

﴿وَالَّذينَ إِذا فَعَلوا فـٰحِشَةً أَو ظَلَموا أَنفُسَهُم ذَكَرُ‌وا اللَّهَ فَاستَغفَر‌وا لِذُنوبِهِم...١٣٥﴾... سورة آل عمران

''یعنی مومن جب کوئی برائی کر بیٹھتے ہیں یا کسی گناہ کا ارتکاب کر کے اپنی جان پر ظلم کر بیٹھتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے ہیں اور اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں۔''

ایک اور مقام پر مومنوں کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا:

﴿وَالمُستَغفِر‌ينَ بِالأَسحارِ‌ ١٧﴾... سورة آل عمران

''کہ اللہ تعالیٰ کے نیک بندے رات کی آخری گھڑیوں میں اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں۔''

سورہ ذاریات میں فرمایا:

﴿وَبِالأَسحارِ‌ هُم يَستَغفِر‌ونَ ١٨﴾... سورة الذاريات

مزید برآں کتاب اللہ اور حدیثِ رسول پر غور کرنے سے یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ گناہ کا ارتکاب مشیتِ ایزدی کے عین موافق ہے۔ چنانچہ ایک حدیث شریف میں ذکر ہے کہ آنحضرتﷺ نے قسم کھا کر فرمایا:

«وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہ لَوْ لَمْ تُذْنِبُوْا لَذھَبَ اللہُ بِکُمْ وَلَجَآءَ بِقَوْمٍ یُّذ نِبُوْنَ فَیَسْتَغْفِرُوْنَ اللہَ َیَغْفِرُ لَھُمْ» (مسلم)

''مجھے اس ذات کی قسم ہے جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر تم گناہ نہیں کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں لے جائے گا اور ایسی قوم پیدا کرے گا جو گناہ کریں گے۔ پھر اللہ رب العزت سے گناہ کی معافی کی التجا کریں گے تو اللہ تعالیٰ انہیں معافی عنایت فرمائیں گے۔''

ان قرآنی آیات اور احادیثِ نبوی ﷺ سے ثابت ہوتا ہے کے مومن کی یہ صفت نہیں کہ صغائر و کبائر سے کلیۃً پاک ہو او اپنی تمام زندگی میں گناہ کی آلودگی سے محفوظ رہا ہو۔ بلکہ مومن اور کافر دونوں ہی گناہ میں مبتلا ہوتے ہیں۔ البتہ ان میں امتیازی فرق یہ ہے کہ مومن سے گناہ ہو جاتا ہے، کرتا نہیں ہے۔ اس سے بھول اور سہو ہو جاتی ہے۔ عمداً اور ارادۃً ایسا نہیں کرتا۔ پھر اس بھول پر ساری عمر نادم او پشیمان رہتا ہے اور بار بار اپنے سابقہ گناہ کو یاد کر کے بارگاہِ ایزدی میں معافی کی درخواست کرتا ہے۔ ایک دفعہ گناہ کا مرتکب ہونے کے بعد پھر اس گناہ کے نزدیک آنے کی کوشش نہیں کرتا۔ اس کے برعکس کافر جرم کا ارتکاب کرتا ہے۔ بار بار کرتا ہے اور گناہ پر اصرار کرتا ہے۔ اپنے کئے پر نادم نہیں ہوتا۔ اور گناہ کو موجبِ فخر تصور کرتا ہے۔ عمداً ایسا کرتا ہے۔ گناہ کا ارتکاب کرنے کے بعد اسے اپنے اس فعل قبیح پر ندامت یا خفت محسوس نہیں ہوتی۔ سب سے بڑھ کر گناہوں میں غرق ہونے کے باوجود اپنے خالق حقیقی کی بارگاہ میں معافی کی درخواست پیش نہیں کرتا۔

استغفار کی اہمیت:

غلطی اور لغزش سرزد ہو جانے کے بعد بارگاہ ایزدی میں سربسجود ہونا اور اپنے گناہوں کی معافی مانگنا اور آئندہ کے لئے ایسے فعل بد سے توبہ کرنا مومنوں کی ایک اعلیٰ صفت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے امت محمدیہ کو اور ان کے رہبرِ اعظم حضرت محمدﷺ کو بار بار تاکید فرمائی ہے کہ اپنے رب سے اپنے گناہوں کی معافی مانگیے۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿وَاستَغفِر‌ لِذَنبِكَ وَلِلمُؤمِنينَ وَالمُؤمِنـٰتِ...١٩﴾... سورة محمد

''اپنے اور مومن مرد او عورتوں کے گناہوں کی خاطر اللہ تعالیٰ سے معافی مانگیے۔''

ایک اور مقام پر فرمایا:

﴿فَسَبِّح بِحَمدِ رَ‌بِّكَ وَاستَغفِر‌هُ ۚ إِنَّهُ كانَ تَوّابًا ﴿٣﴾... سورة النصر

''اپنے رب کی پاکی اور حمد بیان کیجئے اور اس سے معافی مانگیے، بیشک وہ توبہ قبول کرنے والا ہے۔''

سورہ مومن میں اللہ عزوجل فرماتے ہیں:۔

﴿وَاستَغفِر‌ لِذَنبِكَ وَسَبِّح بِحَمدِ رَ‌بِّكَ بِالعَشِىِّ وَالإِبكـٰرِ‌ ﴿٥٥﴾... سورة غافر

اپنی لغزش کی معافی مانگیے اور صبح و شام اپنے پروردگار کی حمد اور پاکی بیان کیجئے۔

علاوہ ازیں بیشتر مقامات پر استغفار کا ذِکر ہ۔ یہاں پر یہ بات قابل غور و فکر ہے کہ آقائے نامدار حضرت محمدﷺ کی تمام زندگی عہد طفولیت کی ہو یا ایام شباب کی، مکی ہو یا مدنی تمام کی تمام ہی بے عیب اور بے داغ گزری ہے۔ امت محمدیہﷺ کے تمام مذاہب اس بات پر متفق ہیں کہ سرور کائنات کی حیاتِ مبارکہ سفید چادر کی طرح بے داغ تھی۔ اور معمولی سے معمولی دھبۂ عصیاں بھی کسی نے نہیں دیکھا۔ حتیٰ کہ مشرکینِ مکہ آپ کے سخت ترین دشمن ہونے کے باوجود آپ کی ذاتِ گرامی پر کوئی عیب نہیں لگا سکے۔ سوا اس کے کہ آپ کو ساحر یا کاہن کا خطاب دیں۔ آپ کی امانت، شجاعت، صداقت، صبر و استقلال اور زہد و عبادت وغیرہ اس قدر تھیں کہ آپﷺ کو پیکرِ صفاتِ حسنہ یا مجسمۂ اخلاقِ حسنہ کہا جائے تو پھر بھی صحیح معنوں میں آپﷺ کی ستودہ صفات کی تعریف کما حقہ ادا نہیں ہو گی۔ ہر قسم کے گناہ سے آپﷺ کی ذاتِ گرامی مبرا و پاک تھی اور آپ ﷺ معصوم عن الخطا تھے۔ اس کے باوجود خلاقِ کائنات نے اپنے حبیب پاک ﷺ کو بار بار استغفار کی تلقین فرمائی ہے اس کی کیا وجہ ہے؟ دراصل بات یہ ہے کہ قرآن کریم کا اسلوب بیان ار کابوں سے انوکھا اور نرالا ہے جب کسی حکم کی تاکید مقصود ہوتی ہے تو اس وقت امت کے علاوہ امت کے رہنما کو مخاطب کیا جاتا ہے اور زور دیا جاتا ہے۔ مقصود و مدعا یہ ہوتا ہے کہ یہ حکم اتنا اہم اور ضروری ہے کہ اس سے حضرت محمد ﷺ کو بھی مستثنیٰ نہیں کیا گیا۔ بلکہ حکم دیا گیا ہے کہ پہلے اپنے لئے اور پھر دیگر مومن مردوں کے لئے اللہ رب العزت سے گناہوں کی معافی کے لئے التجا کیجئے۔ جب سید المرسلین کا یہ حال ہے تو ام مومنین جو شبانہ روز لغزشوں اور غلطیوں کا شکار ہوتے ہیں۔ ان کے لئے استغفار کی کس قدر ضرورت ہو گی؟

استغفارِ آدمؑ:

انبیاء سابقین کی سوانح عمریوں پر ایک طائرانہ نگاہ ڈالیے اور دیکھئے کہ کس طرح انہوں نے اپنے پروردگار کے آستانہ پر جھک کر اپنی غلطیو ں کا اقرار کیا اور اپنی لغزشوں کی معافی مانگی۔ سب سے پہلے أبو الأنبیاء حضرت آدم علیہ الصلٰوۃ والسلام کی زندگی کے ایک باب پر نگاہ ڈالیے اور دیکھیے کہ شجرِ ممنوعہ کا پھل کھانے میں شیطانِ لعین کے بہکانے پر کتنی عجلت سے کام لیا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی مقدس کتاب قرآنِ عزیز میں ان کے اس فعل کو عصیاں سے تعبیر کیا ہے۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿وَعَصىٰ ءادَمُ رَ‌بَّهُ فَغَوىٰ ﴿١٢١﴾... سورة طه ''حضرت آدم نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور بھول گئے۔''

اس غلطی کی پاداش میں انہیں لباس جنت سے محروم ہونا پڑا بلکہ جنت سے دیس نکالا مل گیا اور کرۂ ارض کی طرف دھکیلے گئے۔ زمین پر آکر ایک عرصۂ طویل اپنے پروردگار کی بارگاہ میں آہ و زاری کرتے ہوئے اپنی لغزش کی معافی ان الفاظ میں مانگتے رہے۔

﴿رَ‌بَّنا ظَلَمنا أَنفُسَنا وَإِن لَم تَغفِر‌ لَنا وَتَر‌حَمنا لَنَكونَنَّ مِنَ الخـٰسِر‌ينَ ﴿٢٣﴾... سورة الاعراف

''اے ہمارے پروردگار! ہم نے (شجر ممنوعہ کا پھل کھا کر گناہ کیا ہے اور) اپنی جان پر ظلم کیا ہے اگر تو نے ہمیں معافی نہ دی اور ہم پر رحم نہ کیا تو ہم خسارہ پانے والوں میں ہو جائیں گے۔''

چنانچہ اللہ تعالیٰ کو ان کی تضرع اور عاجزی سے دعا کرنا اور معافی مانگنا پسند آئی اور ان کی توبہ قبول فرما کر اپنی برگزیدہ اور پسندیدہ ہستیوں میں شامل کر لیا۔

استغفارِ نوحؑ:

جب طوفانِ نوح آتا ہے تو حضرت نوح علیہ الصلوٰۃ والسلام کشتی میں سوار ہو جاتے ہیں اور اپنے بیٹے کنعان سے کہتے ہیں: ''بیٹا! ہمارے ساتھ کشتی میں سوار ہو جائو۔'' لیکن ان کا بیٹا کشتی میں سوار ہونے سے انکار کرتا ہے اور کہتا ہے کہ: ''میں کسی پہاڑ کے دامن میں پناہ لے لوں گا۔'' چنانچہ جب طوفانی امواج کی لپیٹ میں آتا ہے تو حضرت نوح علیہ السلام پدرانہ شفقت سے مغلوب ہو کر بارگاہِ ایزدی میں دعا کرتے ہیں کہ ''الٰہی! میرا بیٹا میرے اہل سے ہے اور تیرا وعدہ برحق ہے۔'' اللہ تعالیٰ کو ان کی یہ درخواست ناگوار گزرتی ہے اور حضرت نوح علیہ السلام کو ڈانٹ آتی ہے کہ ''اے نوح! یہ تیرے اہل میں شامل نہیں ہے کیونکہ اس کے اعمال صالح نہیں ہیں۔ تم میرے سامنے ایسی درخواست مت کرو کسی کو غلط اور ناجائز سفارش کرنا جاہلوں کا کام ہے۔'' حضرت نوح علیہ السلام اپنی غلطی کا فوراً اعتراف کرتے ہیں اور ندامت میں ڈوب کر اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی غلطی کی معذرت ان الفاظ میں کرتے ہیں۔

﴿رَ‌بِّ إِنّى أَعوذُ بِكَ أَن أَسـَٔلَكَ ما لَيسَ لى بِهِ عِلمٌ ۖ وَإِلّا تَغفِر‌ لى وَتَر‌حَمنى أَكُن مِنَ الخـٰسِر‌ينَ ﴿٤٧﴾... سورة هود

''اے باری تعالیٰ میں تیرے ساتھ پناہ مانگتا ہوں ایسا سوال کرنے سے جس کا مجھے علم نہیں اگر تو نے مجھے معافی نہ دی اور مجھ پر رحم نہ فرمایا تو میں خسارہ پانے والوں میں سے ہو جاؤں گا۔''

حضرت ہودؑ:

حضرت ہود کی قوم شرک و بت پرستی میں مبتلا تھی۔ ہر قسم کے صنعائر و کبائر ان کی فطرت بن چکی تھی۔ حضرت ہود علیہ السلام قوم کی یہ زبوں حالی دیکھ کر انہیں نصیحت فرماتے ہیں:

﴿وَيـٰقَومِ استَغفِر‌وا رَ‌بَّكُم ثُمَّ توبوا إِلَيهِ...﴿٥٢﴾... سورة هود

''اے میری قوم! اپنے پروردگار سے اپنے گناہوں کی معافی مانگو اور آئندہ کے لئے توبہ کرو۔''

حضرت صالحؑ:

حضرت صالح علیہ السلام سب سے پہلے اپنی قوم کو دعوتِ توحید دیتے ہیں، پھر جب ان کی قوم شرک اور فسق و فجوز سے باز نہیں آتی تو انہیں ہدایت فرماتے ہیں:۔

﴿فَاستَغفِر‌وهُ ثُمَّ توبوا إِلَيهِ ۚ إِنَّ رَ‌بّى قَر‌يبٌ مُجيبٌ ﴿٦١﴾... سورة هود

''اپنے رب سے بخشش مانگو پھر اس کی طرف توبہ تائب ہو جاؤ، بیشک میرا پروردگار نزدیک ہے دعائیں قبول فرماتا ہے۔''

انہوں نے توبہ و استغفار کرنے کے بجائے اس اونٹنی کو جو پہاڑ سے بطورِ معجزہ نکلی تھی اور ایک تالاب کا پانی وہ پیتی تھی اور دوسرے روز قومِ صالح کے مویشی پیتے تھے مار ڈالا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت صالح کو تسلی دی کہ تین روز تک انہیں متاعِ زندگی سے بہرہ مند ہو لینے دیجئے۔ پھر ہمارا عذاب آئے گا۔ چنانچہ ایک ہولناک چیخ سے تمام قومِ ثمود کا قلع قمع ہو گیا۔ یہ ہلاکت اور تباہی انکارِ استغفار کے باعث ہوئی۔ اگر یہ لوگ اپنے گناہوں کی معافی مانگتے اور گناہوں سے توبہ تائب ہو جاتے تو عذابِ الٰہی ٹل جاتا اور انہیں معافی مل جاتی۔

استغفارِ ابراہیمؑ:

سیدنا حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی شان بہت بلند اور ارفع ہے۔ ہمہ وقت یادِ الٰہی میں مصروف رہتے تھے۔ اگر تعمیر بیت اللہ کا حکم ملا تو اپنے فرزندِ ارجمند حضرت اسماعیل کو ساتھ لے کر تعمیرِ کعبہ میں مصروف ہو گئے۔ اگر اکلوتے بیٹے کی قربانی کا حکم ملا تو اس کی عمیل میں معمولی تاخیر بھی نہیں کی۔ اگر انہیں رضاے الٰہی کی خاطر اپنی جان کی قربانی دینی پڑی تو اس سے سرِمو انحراف نہیں کیا بلکہ توحید الٰہی کی خاطر نمرودی چخہ میں بصد شوق مردانہ وار کود گئے۔ انہوں نے استغفار ان الفاظ میں کی ہے۔

﴿رَ‌بَّنَا اغفِر‌ لى وَلِو‌ٰلِدَىَّ وَلِلمُؤمِنينَ يَومَ يَقومُ الحِسابُ ﴿٤١﴾... سورة ابراهيم

''اے میرے پروردگار! مجھے اور میرے والدین اور تمام مومنوں کی بخشش فرمائیے جس دن قیامت قائم ہو گی۔''

بلکہ اپنے والد کے لئے مخصوص دعا مانگنے کا وعدہ فرمایا:

لَاَسْتَغْفِرَنَّ لَك --- ''کہ میں تیرے لئے بخشش کی دعا مانگوں گا۔''