muhaddas_231_nov_1999

میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

افسوس ہے کہ ۲؍ اکتوبر ۱۹۹۹ء کو اُردن میں علم و تحقیق کا وہ آفتاب غروب ہوگیا، جس سے پورا عالم اسلام روشنی حاصل کر رہا تھا، یعنی شیخ الاسلام والمسلمین محمدناصر الدین الالبانی رہگرائے عالم بقا ہوگئے۔ إنا للہ وإنا إلیه راجعون!

شیخ البانی اپنے وقت کے عظیم محقق، محدث اور داعی ٔ کبیر تھے، انہوں نے بیک وقت کئی محاذوں پر اتنے عظیم کارنامے سرانجام دیئے ہیں جو کئی ادارے اور بڑی بڑی اکیڈیمیاں بھی مل کر نہیں کرسکتیں تھیں۔ ان کا سب سے بڑا کارنامہ احادیث کی تحقیق و تخریج اور اس کے ذوق کاعام کرنا تھا۔ اس سلسلے میں ان کی عظیم الشان خدمات کا دائرہ نہایت وسیع ہے۔ جس کی تفصیل اہل علم و تحقیق ہی صحیح معنوں میں بیان کرسکتے ہیں اور کریں گے۔ تاہم ایک اِجمالی سا تذکرہ یہاں کیا جاتا ہے:

ان کی ایک عظیم خدمت ِحدیث یہ ہے کہ انہوں نے سنن اربعہ (ابوداود، نسائی، ترمذی اور ابن ماجہ) چاروں کتابوں کی احادیث کی تحقیق او رچھان پھٹک کرکے ضعیف اور صحیح دونوں قسم کی روایات کو الگ الگ کردیا۔ یہ چاروں کتابیں صحیحین (بخاری و مسلم) کے ساتھ مل کر صحاحِ ستہ کہلاتی تھیں۔ جس سے عام تاثر یہ ملتا تھا کہ مذکورہ چاروں کتابوں کی روایات بھی ، صحیح بخاری و مسلم کی روایات کی طرح صحیح ہیں۔ چنانچہ کسی روایت کا ان کتابوں میں ہونا ہی، ا س کے مستند ہونے کے لئے کافی سمجھا جاتا تھا اور اس کی تحقیق کی جاتی تھی نہ اس کی ضرورت ہی سمجھی جاتی تھی۔ حالانکہ صحیحین کی روایات کو تو یقینا یہ مقام حاصل تھا اور ہے لیکن سنن اربعہ کی روایات کا یہ مقام نہیں تھا۔ صحاحِ ستہ کی اصطلاح اور علماء کے تساہل یا فن تخریج حدیث سے ناواقفیت کی وجہ سے سنن اربعہ کو بھی عملاً صحیحین کا درجہ غیر شعوری طور پر حاصل تھا۔ شیخ البانی رحمہ اللہ نے پہلی مرتبہ سنن اربعہ کو دو دو حصوں میں تقسیم کرکے، علماء کو آسانی مہیا فرما دی۔ اب ہر عالم، جو تحقیق حدیث کے فن سے آشنائی یا اس میں درک اور تجربہ نہیں رکھتا، وہ بھی ان میں موجود روایات سے آگاہی حاصل کرسکتا ہے کہ کون سی روایت صحیح ہے او رکون سی روایت ضعیف ؟ علاوہ ازیں ان کا یہ موقف بھی تھا کہ صحاحِ ستہ کی اصطلاح، قابل اصلاح ہے۔ وہ فرماتے تھے کہ بخاری و مسلم کو صحیحین (حدیث کے دو صحیح مجموعے) اور باقی چار کتابوں کو سنن اربعہ کہا جائے اور صحاحِ ستہ کی ا صطلاح ترک کردی جائے، تاکہ لوگ سنن اربعہ کو بھی صحیحین کی طرح احادیث کا صحیح مجموعہ نہ سمجھیں۔

شیخ البانی کے اس عظیم کارنامے کوبعض لوگ تحسین کی نظر سے نہیں دیکھتے، بلکہ اس پر تنقید کرتے ہیں کہ ائمہ محدثینکی یہ کتابیں صدیوں سے متداول چلی آرہی تھیں، ان میں بنیادی تبدیلی کرکے، ان کی اصل حیثیت کو مجروح کردیا گیا ہے لیکن اس اعتراض میں کوئی معقولیت نہیں ہے۔ جب شیخ مرحوم نے محدثانہ اصولِ نقد و جرح ہی کی روشنی میں ایک ایسا کام کیاہے جس کی فی الواقع شدید ضرورت تھی، اور جس کی اہلیت و صلاحیت سے بعض علماء عاری ہوتے ہیں، تو علماء کے لئے یہ آسانی بہم پہنچا دینا کہ وہ صحیح اور ضعیف روایات کو پہچان سکیں، تحسین و آفرین کے قابل ہے نہ کہ تقبیح و تہجین کے۔

دوسرا اعتراض وہ یہ کرتے ہیں کہ ضروری نہیں کہ شیخ البانی نے جسے صحیح میں یا ضعیف میں درج کیا ہے، وہ روایت واقعی صحیح یا ضعیف ہو، بلکہ عین ممکن ہے کہ جس حدیث کو انہوں نے صحیح سمجھا ہو، وہ ضعیف ہو اور جس ضعیف قرار دیا ہو، وہ صحیح ہو۔ اس لئے ایسے کام کا کیا فائدہ؟ لیکن ہم عرض کریں گے کہ جہاں تک خطا کا تعلق ہے، تو وہ مسلم ہے، کوئی بھی انسانی محنت و کاوش، امکانِ خطا سے پاک نہیں۔ لیکن محض امکانِ خطا یا چند روایات میںخطا سے اس سارے کام کی قدروقیمت ختم ہوجائے گی جو شیخ مرحوم نے کیا ہے؟ ایسا کہنا یا سمجھنا یکسر غلط ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ ان کے صحت و ضعف کے حکم سے اختلاف کیا جاسکتا ہے، علم و تحقیق کا یہ دروازہ تو ہمیشہ سے کھلا رہا ہے اور کھلا رہے گا اور جب تک یہ دروازہ کھلا ہے، شیخ البانی مرحوم کی تحقیقات سے بھی دلائل کی رو سے اختلاف کیا جاسکتا ہے اور کیا جاتا رہے گا، لیکن محض چند روایات میں اختلاف یا خطا کے اِمکان سے شیخ مرحوم کی اس عظیم الشان خدمت کی تحقیر نہیں کی جاسکتی جس کی توفیق صدیوں بعد اللہ نے ان کو عطا فرمائی۔ یہ ان کی جلیل ُالقدر خدمت ہے، جس سے علماء کی ایک بہت بڑی اکثریت سنن اربعہ میں موجود ضعیف روایات سے آگاہ ہوئی۔

مشکوٰۃ المصابیح بھی مدارسِ دینیہ اور علمی و دینی حلقوں میں متداول کتاب ہے، اسے بھی اللہ نے قبولیت ِعامہ سے نوازا ہے۔ مگر اس میں بھی بہت سی ضعیف روایات موجود ہیں، لیکن چونکہ علماء کی اکثریت تحقیق حدیث کے ذوق اور فن کی عادینہیں ہے، ا س لئے اس کی ضعیف روایات بھی زبان زدِ عوام و خواص ہیں۔ اس کتاب کو بھی شیخ البانی نے اپنی تعلیقات کے ساتھ شائع کیا، تو اکثر مقامات پر انہوں نے صحیح و ضعیف روایات کی وضاحت کردی ہے، جس سے پہلی مرتبہ اکثر لوگوں کو اس کی بہت سی ضعیف روایات کا علم ہوا، ورنہ اس سے پیشتر اس کی روایات کو تقریبا ً صحیح ہی سمجھا جاتا تھا، یا کم از کم ہر صاحب ِعلم بالخصوص واعظانِ منبر و محراب اور مسند نشینانِ دعوت و ارشاد روایات کی تحقیق اور جانچ پڑتال سے غفلت کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ جزائے خیر دے شیخ البانی کو، انہوں نے اس پر بھی مختصر سا کام کرکے عام علماء کے لئے ایک بہت بڑی سہولت عطا فرما دی،جس سے بہت سی روایات کی حقیقت سامنے آئی، اور ان کا ضعف واضح ہوا۔

منار السبیل فقہ حنبلی کی ایک کتاب ہے، ا س کی روایات کی بھی مفصل تخریج و تحقیق شیخ مرحوم نے کی۔ یہ بھی شیخ کی ایک نہایت اہم کتاب ہے جو ۸ جلدوں میں ہے، اس میں ۲۷۰۷  احادیث اور ان کے ضمن میں دیگر سینکڑوں احادیث کی تحقیق ہے۔ یہ  إرواء الغلیل کے نام سے مطبوع اور معروف ہے۔

شیخ مرحوم نے صحیح و ضعیف احادیث کا ایک اور سلسلہ شروع کیا ہوا تھا۔ ایک سلسلے کا نام ’’الأحادیث الصحیحة وشيء من فقھھا وفوائدھا‘‘ اور دوسرے کا نام ’’الأحادیث الضعیفةو أثرھا السیی ٔ في الأمة‘‘ ہے۔ ان دونوں سلسلوں کے ۵،۵؍۶،۶ حصے شائع ہوچکے ہیں، لیکن سننے میں آیا ہے کہ جتنے حصے ان کے شائع ہوئے ہیں، اتنا ہی مواد یا اس سے کچھ کم و بیش ابھی تک غیر مطبوعہ ہے جس پر شیخ مرحوم اپنی تحقیقات مکمل کرچکے ہیں۔ ان کی کتابوں کے ناشر شیخ زہیر الشاویش سے امید ہے کہ وہ شیخ کے مسودات ہر صورت میںحاصل کرکے انہیں جلد از جلد زیورِ طباعت سے آراستہ کرکے منصہ شہود پر لائیں گے، تاکہ اہل علم ان سے استفادہ کرسکیں اور حضرت شیخ کے لئے وہ صدقہ ٔ جاریہ بنے۔

ا س قسم کی اور متعدد کتابیں ہیں جو شیخ مرحوم کی علمی یادگار ہیںاور ان میں درج احادیث کی صحت و ضعف کی صراحت سے اہل علم و تحقیق کو بہت فائدہ پہنچا اور پہنچ رہا ہے اور اب تاقیامت پہنچتا رہے گا۔ جیسے فقہ السنۃ(جو سید سابق مصری کی نہایت بلند پایہ اور بڑی مقبول کتاب ہے) اس کی احادیث کی تخریج و تحقیق ’’تمام المنة‘‘ کے نام سے اور علامہ یوسف قرضاوی کی کتاب ’’الحلال والحرام‘‘ کی احادیث کی تخریج و تحقیق توضیح المرام کے نام سے۔اس وقت ان تمام کتابوں کا شمار یا شیخ کی تالیفات کی مکمل تفصیل پیش کرنا مقصود نہیں۔ یہ تو بہت بڑا کام ہے جو کوئی صاحب ِعلم و تحقیق اور کوئی دیدہ وَر سوانح نگار ہی کرسکتا ہے، راقم کا مقصود تو ان عظیم خدمات کی طرف صرف اشارہ کرنا ہے جو اس دور میں شیخ مرحوم نے اللہ کی توفیق سے سرانجام دی ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ صدیوں بعد یہ عظیم محدث پیدا ہوا تھا، جس نے محدثین عظام کے دور کو بھی تازہ کردیا اور انہی کے چھوڑے ہوئے کام کی ایک گونہ تکمیل بھی کی۔ ذلك فضل اللہ یؤتیه من یشاء    

ایں سعادت بہ زور بازو نیست
تا نہ بخشد خدائے بخشندہ

شیخ کی اس محنت و کاوش اور تالیفات و تحقیقات کا صرف یہی فائدہ نہیں ہوا کہ عام علماء کے لئے آسانی پیدا ہوگئی، بلکہ ایک دوسرا بڑا فائدہ یہ بھی ہوا کہ اس ایک چراغ سے بہت سے چراغ روشن ہوئے، تحقیق حدیث کا ذوق عام ہوا ، اور اب دسیوں، بیسیوں نہیں، سینکڑوں بلکہ ہزاروں کی تعداد میں ایسے علماء ہیں جو شیخ کے منہاج پر، جو دراصل محدثین ہی کا منہاج ہے، حدیث کی تحقیق و تخریج کا کام کر رہے ہیں۔ اور مشرق سے لے کر مغرب تک، جنوب سے لے کر شمال تک، عرب و عجم میں ہر جگہ احادیث کے مجموعوں کو تحقیق و تدقیق کے مراحل سے گزارا جارہا ہے، تاکہ صحیح احادیث، ضعیف احادیث سے الگ اور ممتاز ہوجائیں۔یہ شیخ مرحوم کا وہ فیضان عام ہے جو ان کے مختصر سے تدریسی دور سے، جو انہوں نے مدینہ یونیورسٹی میں گزارا، اور ان کی تالیفات سے، جو عرب و عجم میں یکساں مقبول ہیں، علماء تک پہنچا او راب وہ اسے مزید عام کر رہے ہیں۔ فجزا ہ اللہ عن الإسلام والمسلمین خیرالجزاء

دوسری عظیم خدمت جو شیخ البانی نے سرانجام دی، وہ ہے حدیث کی حجیت و استناد کا اِثبات اور عمل بالحدیث کے جذبے کا اِحیا  اور فروغ ، جس سے جدید و قدیم منکرین حدیث کے شبہات کا ازالہ ہوا، فقہی جمود ٹوٹا اور تقلید کی جکڑ بندیاں ڈھیلی ہوئیں۔ یہ دونوں کام اگرچہ تقریباً ایک صدی سے سلفی تحریک کے ذریعے سے ہو رہے تھے، لیکن شیخ نے اپنے اَفکار، دعوت و تبلیغ اور تالیفات کے ذریعے سے اس تحریک ِسلفیّت میں ایک نئی روح پھونکی اور اسے عالمی جہتوں سے ہمکنار کرکے پورے عالم اسلام میں اس کے اثرات پھیلا دیئے۔ اس سلفی ذہن و جذبے کے احیاء و فروغ میں شیخ ابن باز مرحوم کا بھی بڑا حصہ ہے۔ اس لئے اگر یہ کہا جائے کہ اس دور میں ان دونوں شخصیات نے دین کی تجدید اور اس کے احیاء کا کام جس شدت اور قوت سے کیا ہے، وہ کسی اور کے حصے میں نہیں آیا، تو اس میں قطعا ً مبالغہ نہ ہوگا۔ اس اعتبار سے یہ دونوں شخصیات اس حدیث «إن اللہ لیبعث لھٰذا الأمة علی رأس کل مائة سنة من یجدّد لھا دینھا» (رواہ ابوداود، مشکوٰۃ، کتاب العلم، الفصل الثانی)  کا مصداق ہیں۔ واللہ اعلم!

باقی ہر صاحب ِعلم کی طرح شیخ البانی کے بھی کچھ شذوذ و تفردات تھے، جیسے داڑھی ، مسئلہ حجاب اور سونے کے زیورات کا استعمال، وغیرہ کے مسائل ہیں۔ ان میں ان کی رائے سلفی علماء کی رائے سے مختلف تھی۔ اللہ تعالیٰ ان کی غلطیوں کو معاف فرمائے اور ان کو دوسروں کی لغزش کا ذریعہ نہ بنائے۔ بہرحال ان کی وفات عالم اسلام کے لئے ایک بہت بڑا سانحہ ہے، وہ اپنے وقت کے عظیم محدث بھی تھے اور بے مثال محقق بھی، ایک مبلغ و داعی ٔ کبیر بھی تھے اور شفیق استاذ و معلم بھی، صاحب ِحال صوفی، صافی بھی تھے اور صاحب ِقال عظیم واعظ بھی    ؎     ولیس للہ بمستنکر أن یجمع العالم في واحد
غفراللہ له ورحمه و برد مضجعه وجعل الجنة مثواہ !!

٭٭٭٭٭٭