muhaddas_231_nov_1999

میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

''سورج روز ہی مشرق سے طلوع ہوتا، سارا دن اپنی روشن کرنیں بکھیرنے کے بعد شام ڈھلے مغرب میں غروب ہوجایا کرتا ...لیکن اُس دن سورج غروب ہوتے سمے اپنے ساتھ آسمانِ علم کے آفتاب کو بھی لیکر غروب ہوا، اس دن کا یہ غروب کس قدر افسوسناک اور امت مسلمہ کے لئے باعث ِغم واندوہ تھا...تصور میں لائیے اس رات کی تاریکی کو جب آسمانِ دنیا کے سورج کے ساتھ آسمانِ علم کا آفتاب بھی دنیا سے چل بسا''

یہ وہ کلمات ہیں جن کا علم و فضل کے آفتاب (شیخ محمد ناصر الدین البانی ،جنہوں نے ایک عرصہ دنیا کو اپنے علم و فضل سے منور کیا) کے غروب کی اطلاع دینے کے لئے ان کے شاگردوں سہارا لیا۔ ۲۲؍جماد ی الآخرۃ ۱۴۲۰ھ کو آپ سورج غروب ہونے سے چند گھڑیاں قبل اپنے خالق حقیقی سے جاملے... إنا للہ وإنا إلیه راجعون!

۲؍ اکتوبر ۱۹۹۹ء کا دن ڈھل چکا ہے،رات کے سائے گہرے ہو رہے تھے کہ اردن کے دارالحکومت عمان سے شیخ محمد ناصر الدین البانی کے شاگردوں نے مدیر اعلیٰ ''محدث'' کو یہ پرسوز اطلاع پہنچائی کہ علامہ البانی وفات پاگئے۔ اس غم و اَلم سے بھرپور گھڑی جس کے آنے کا کچھ عرصہ سے محبانِ علم کوشدید خطرہ تھا، آخر کار آن پہنچی اور زبانیں جس ہستی کی بقا اور اس کا سایہ تادیر قائم رہنے کی دعائیں کیا کرتیں تھیں، آج إنا للہ وإنا إلیه راجعون کہنے پر مجبور ہوگئیں۔ لمحوں میں یہ دل فگار خبر عالم اسلام کے کونے کونے میں پھیل گئی اور دلوں میں بے چینی اورزبانوں پر کلماتِ استغفار کا وِرد شروع ہوگیا!!

ادارۂ محدث کے لئے یہ خبر بڑی تکلیف کا پیغام بن کر آئی۔ بڑے بوجھل دلوں کے ساتھ یہ خبر اہل علم کو پہنچائی گئی ۔راقم الحروف نے ایک مختصر خبرتیار کر کے اخبارات کو رات گئے ارسال کی ۔خیال تھا کہ اس عظیم المرتبت شخصیت کی وفات کو اخبارات خاص اہمیت دیں گے لیکن علم سے ناواقف لوگوں کو کیا پتہ کہ اس ہستی کے جانے سے امت ِاسلامیہ کیسی عظیم سرپرستی اور نہایت گراں قدرسرمائے سے محروم ہوگئی۔ اخبارات نے مختصر خبر یں شائع کرنے پر ہی اکتفا کیا۔ یہ زخم اس وقت اورہرے ہوگئے جب دینی صحافت کے ممتاز رسائل و جرائد میں بھی اس خبر کو بڑے اختصار سے شائع کرنے کو ہی کافی سمجھا گیا، نہ معلوم ہماری امت میں علمی ذوق اس قدر نادِر اور تحقیقی رحجان اس قدر ناپید کیوں ہوتا جارہا ہے کہ قوم اپنے محسنوں اور اس دور میں مسلمانوں کی علمی روایات کے امین اہل فکر و دانش کی قدر کرنے کی بھی روادار نہیں رہی اور ان کے بارے میں جاننے کا انہیں کوئی شوق نہیں!

محدث سے وابستہ قارئین اس موقع پر یہ توقع کر رہے تھے کہ علم حدیث کا پاسبان یہ مجلہ شیخ البانی کی شخصیت اور خدمات پر مبنی معلومات ، آپ کی وفات پر علماء کے تاثرات وغیرہ شائع کرے گا۔ لیکن اتفاق کہئے کہ محدث کو سود نمبر کی تیاری اوراشاعت کا مرحلہ درپیش تھا، جس کے مخصوص موضوع کی وجہ سے یہ اہم تذکرے مؤخر کرنے پڑے۔

سالِ رواں اسلامی علم و تحقیق سے وابستہ افراد کے لئے قیامت خیز ثابت ہوا کہ جس کے پہلے نصف میں شیخ ابن باز مفتی اعظم سعودی عرب سمیت کتاب و سنت کی خالص دعوت کے علمبردار متعدد ممتاز اہل علم دارِفانی سے دارالبقاء کی طرف کوچ کرگئے۔ علمی حلقے ابھی شیخ ابن باز کی وفات حسرت آیات پر غم و اندوہ میں ڈوبے ہوئے تھے کہ آسمانِ علم کا دوسرا جگمگاتا ستارہ بھی غروب ہوگیا۔ صرف ۱۰ ماہ کے عرصے میں جو ممتاز علماء ہم سے بچھڑ گئے ان میں قاضی مدینہ شیخ عطیہ محمد سالم، محدثِ مدینہ شیخ عمر فلاتہ، مدرّسِ مسجد نبوی شیخ ابوبکر جابر الجزائری، یمن کے شیخ مقبل الوادعی،پاکستان کے مولانا محمد عبدہ الفلاح اور دیگر بہت سے علماء شامل ہیں۔حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص کا روایت کردہ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان ہماری ہی منظر کشی کرتا ہے

''اللہ تعالیٰ علم کو سینوں سے نہیں کھینچے گا، لیکن علم کو علماء کی وفات کے ساتھ قبض فرمائے گا''

ان علماء کی وفات کو دیکھیں تو ہم اسی حدیث کے مصداق نظر آتے ہیں۔ شیخ ابن باز اور شیخ البانی دورِ حاضر میں امت ِاسلامیہ کے امام تھے۔ دونوں کی خدمات اور علم و فضل کا اندازہ کریں تو جماعتوں اور اداروں پربھاری نظر آتی ہیں۔ شیخ ابن باز کے بارے میں محدث کے گذشتہ شماروں میں بعض مضامین شائع کئے جاتے رہے۔آپ کی وفات کا زخم امت پربہت گہرا ثابت ہوا... دوسری طرف محدث کے سود نمبر سے پچھلے شمارے میں شائع شدہ، شیخ البانی کے لئے شاہ فیصل ایوارڈ کا اعلان محبانِ علومِ سنت کے لئے فخر و مسرت کی نوید لے کر آیا تھا کہ آپ کی جدائی کے غم سے دوچار ہونا پڑا۔

شیخ البانی کی شخصیت اور خدمات کسی بیان کی محتاج نہیں، علم و تحقیق سے وابستہ لوگوں کے لئے یہ نام انجانا نہیں، شیخ البانی کی تصنیفی اور تحقیقی خدمات آپ کی زندگی میں اس قدر مفید و قبول عام حاصل کرگئیں کہ آپ کا نام اور حوالہ سند کے طور پر لیا جاتا۔ مجھے علم ہے کہ برصغیر کے اکثر اہل علم شیخ البانی کے بارے میں، ان کے حالات اور کوائف کے بارے میں زیادہ آگاہ نہیں لیکن ان سے متعارف ہونے کی جستجو اور ان کے بارے میں جاننے کی تڑپ ہرعلم دین سے محبت رکھنے والے کے دل میں ہے۔

شیخ البانی عالم عرب میں رہے، وہیں علمی ودینی خدمات انجام دیں، آپ کی زیادہ کتب اردو زبان میں بھی ترجمہ نہیں ہوئیں، کبھی آپ نے بلادِ پاک و ہند کا بھی سفر نہیں کیا، عالم اسلام میں آپ کے سفر بہت محدود ہیں لیکن آپ کے معتقدین، محبیّن اور آپ سے فیض پانے والے دنیا کے کونے کونے میں پھیلے ہوئے ہیں۔ عجب اتفاق دیکھئے کہ آپ کسی تنظیم کے سربراہ تھے، نہ کسی حکومتی منصب کے حامل، کسی دینی تنظیم کے بانی تھے نہ اس کے رکن ،حکومتی مشینری کا تعاون آپ کو میسر تھا نہ کوئی مالی آسودگی حاصل تھی۔جہاں جہاں آپ گئے پابندیاں اور سختیاں آپ کے پیچھے گئیں، آپ کو آزادی سے کام کی فرصت میسر نہ آسکی۔ لیکن آ پ کی فکری تحریک نے دنیا کو متاثر کیا، آپ کی کتب و مؤلفات کے سہارے یہ علمی تحریک نہ صرف دنیا بھر میں پھیلی بلکہ اس نے دلوں کو مسخر کیا، ذہنوں کو تبدیل کیا، شخصیت پرستیکیبتوں اور تعصب کے اصنام کی جگہ حب ِرسول ؐ اور سنت ِرسولﷺ کی شمعیں دلوں میں جاگزیں کردیں۔

بڑے وثوق سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ آپ کی کتب نہ صرف ہر اسلامی لائبریری کی اوّلین ضرورت اور زینت ہیں بلکہ آپ کے کتب کے حوالے ہر علمی مضمون کی پہچان ہیں۔ گذشتہ برسوں میں لکھے جانے والے کم ہی ایسے علمی؍تحقیقی مضامین ہوں گے جن میں آپ کی خدمات سے استفادہ نہ کیا گیا ہو۔ آپ کی دعوت کا امتیازی پہلو یہ ہے کہ آپ نے حدیث ِنبوی کے بارے میں ایک خاص ذوق اُمت میں پروان چڑھایا، ضعیف احادیث کو صحیح سے ممتاز کرنے کا... اللہ کی شان کہ اس فکر نے چند برسوں میں اپنی اہمیت تسلیم کروالی ۔امرواقعہ یہ ہے گذشتہ چند برسوں سے احادیث کو اپنے خطبات اورتحریروں میں پیش کرنے والے اس امر سے خائف نظر آنے لگے کہ کہیں وہ ضعیف احادیث یا ایسی مشہور احادیث کو زبان سے نہ نکال بیٹھیں جن کی استنادی حیثیت مسلم نہ ہواوراس پر اہل علم کے سامنے ان کو جوابدہ بلکہ شرمندہ ہونا پڑے۔

آئیے، دیکھتے ہیں کہ وہ کون سی وجوہات ہیں جس نے حکومتی، مالی یا اَفرادی وسائل کے فقدان باوجود اس قدر تیزی سے ایک فکر کو عام بلکہ قلوب میں جاگزیں کردیا ،دوسری طرف اس فکر کے رہبر کو اہل علم کے دلوں کی دھڑکن اور امام و قائد بھی منوا لیا۔ ادارۂ محدث کو بھی اس امر کے اعتراف میں کوئی باک نہیں کہ محدّث جس مخصوص طرزِ فکر اور اسلوبِ تحقیق کا حامی ہے، اس کو مہمیز دینے اور فکری سرپرستی مہیا کرنے میں شیخ البانی کا بہت ہاتھ ہے۔ یوں تو مجلہ محدث بہت سے معروف علماء کی امیدوں کا ترجمان بن کر اور ان کے فکر و اسلوبِ نظر کی تائید سے منصہ شہود پر آیا لیکن محترم مدیراعلیٰ نے ۳۰ برس قبل جس شخص سے متاثر ہو کر علم وتحقیق کا یہ در وَا کیا تھا، وہ شخصیت شیخ البانی رحمہ اللہ کی ہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ محدث کو بھی جب اپنے مشن کے تعین اور پہچان کامرحلہ در پیش ہوا تو یہ تعارف ''حدیث ِنبوی بیان کرنے والے'' مجلہ کے عنو ان میں ڈھل گیا۔دیگر بہت سے مقاصد کے ساتھ ساتھ جس موضوع کو محدث نے امتیازی طور پر اپنا مشن بنا یا وہ حدیث ِنبوی کی حجیت ،انکارِ حدیث کا تعاقب اورعلومِ حدیث کی نشرواشاعت کا میدان ہی ہے ۔یہی وہ خصوصیت ہے جس کا تذکرہ مدیر اعلیٰ نے بھی گذشتہ برس راقم الحروف کی معیت میں شیخ البانی سے ہونے والی اپنی ملاقات میں کیا توشیخ البانی کے چہرے پر مسرت کے آثار نمایاں ہوگئے اور اس مجلہ کے لیے بے ساختہ دعائیں آپ کے لب ِمبارک سے ادا ہونے لگیں۔

محدث ِجلیل شیخ البانی اپنی ذات میں ایک ادارہ اورتحریک تھے، اس کے باوجود کہ اس ادارے اورفکری تحریک کوکوئی ادارتی نظم یا تحریکی ڈھانچہ حاصل نہ تھا۔شیخ البانی نے یہ سارے علمی میدان علماء کی کسی جماعت کی ہمراہی میں سر نہیں کئے ۔ وقت کا صحیح استعمال ، مصروفیات کاتوازن، خلوصِ نیت، کام میں یکسوئی اور ان سب سے بڑھ کر اللہ کی خصوصی رحمت ہی آپ کے شامل حال رہی۔ اس علمی سفر میں ہجرتوں کی صعوبتیں بھی آئیں،حاسدین کے بغض وعناد سے بھی سابقہ پیش آیا، نجی اور گھریلو مسائل سے بھی پالا پڑا لیکن اس خادمِ سنت ِرسول کے پائے ثبات میں لغزش نہ آئی۔ہم بڑے اعتماد سے یہ بات کہہ سکتے ہیں کہ ذاتی محنت وکاوش کی بنیاد پر اس قدر زیادہ دینی وعلمی خدمات جوعالمی تاثیر سے بھی بھرپور ہیں، دورِ حاضر میں کسی عالم دین کے حصہ میں نہیں آئیں۔

شیخ البانی کی تالیفات کا نمایاں وصف ترتیب وسلیقہ ہے ۔اکثر کتب پر آپ نے تہذیب وتالیف کاکام کیا۔ جس کام سے آپ نے علمی سفر کا آغاز کیا ، یعنی ایک کتاب پر مختلف امدادی حاشئے جمع کرنا ، بنیادی طور پر یہ کام ترتیب وتہذیب ہیسے متعلق تھا جس کے ذریعے کتاب کی تفہیم میں آسانی پیدا کی گئی ۔شیخ البانی کا مزاج کہئے کہ ایک موضوع پر موجود مختلف کتب میں شیخ البانی کی تالیف کردہ کتاب حسن ترتیب اور آسان تر تفہیم کا مرقع ہوتی ہے ۔ اس مقصد کے لیے آپ نے تبویب بندی کے ساتھ ترقیم بندی(شمار بندی) سے بھی خوب کام لیا ہے ۔ یوں تو یہ انداز آپ کی اکثرتالیفات پر غالب ہے لیکن اس کی ایک نمایاں مثال کے طور پر مختصر صحیح البخاری کے نام سے صحیح بخاری پر آپ کا عظیم کام ہے ، جس میں آپ نے ایک ہی متن حدیث کو صحیح بخاری میں وارد مختلف مقام پر مذکور روایتوں کی مدد سے جامع تر کیا ہے۔ اس متن حدیث کو مختلف علامات کے ذریعے باہم ممتاز کرنے کے ساتھ ساتھ آخر میں حدیث کی تمام مکرر روایات کی ترقیمات بھی دے دی ہیں۔

تصحیح و تضعیف ِاحادیث کے باب میں شیخ البانی نے امت میں ایک انقلابی ذوق بیدار کیا جوعرصہ ہوا ٹھنڈا پڑچکا تھا۔اس مقصد کے لیے آپ نے متعدد کتب ِحدیث کی تخریج وتعلیق کاکام کیا ، بالخصوص سنن اربعہ میںضعیف وصحیح احادیث کو جدا جدا کر کے الگ مجلدات کی شکل دی۔ شیخ البانی کی اس عظیم خدمت کے نتیجے میں آج سنن اربعہکی تمام صحیح احادیث، ضعیف احادیث سے جداہوچکیہیں۔ یہ کتب صحیح جامع ترمذی ، ضعیف جامع ترمذی ، صحیح سنن ابو داود،ضعیف سنن ابو داود، صحیح سنن نسائی، ضعیف سنن نسائی او رصحیح سنن ابن ماجہ، ضعیف سنن ابن ماجہ کے ناموں سے موجود ہیں۔یہ کام صرف سنن اربعہ تک محدود نہیں رہا بلکہ آخر عمر میں صحیح الجامع الصغیر اور ضعیف الجامع الصغیر پر کام مکمل کرنے کے علاوہ دیگر بہت سی کتب ِحدیث کی بھی تخریج کر دی گئی ہے۔ اسی طرح ان کتب میں روایت کردہ احادیث کو سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃاور سلسلۃ الأحادیث الضعیفۃکے نام سے کثیر جلدوں میں مستقلاًترتیب بھی دے دیاگیا ہے جس میں اول ُالذکر کی ۸ جلدیں او رثانی الذکر سلسلۃ الأحادیث الضعیفۃ کی ۶ جلدیں شائع ہو چکی ہیں جبکہ اسی قدر جلدوں کا مسودہ اشاعت کے مراحل میں ہے۔

یہ کہنا تو مشکل ہے کہ شیخ کی ان خدمات کے بعد ہر حدیث کی فنی حیثیت متعین ہو گئی ہے اور اس باب میں مزید خدمات کی ضرورت نہیں رہی، لیکن شیخ البانی جیسے ماہر محدث کی عرق ریزی ، اور اس فن میں مہارت ِتامہ کے بعد ان احادیث پر ایک ماہرانہ رائے ضرور سامنے آگئی ہے جو طلبہ علم کی ضروریات کو کفایت کر سکتی ہے ۔دوسرے لفظوں میں ایک انسانی کاوش ہونے کے ناطے شیخ البانی کی احادیث ِنبویہ پر لگائے گئے حکموں سے سوفیصد اتفاق تونہیں کیا جاسکتا ، اس بارے میں آ پ کے منہج پر علماء حدیث کو بعض ملاحظات بھی رہے ہیں جس کا عالمانہ اظہار بھی ان کی طرف سے کیا جاتار ہا ہے اور شیخ نے خندہ پیشانی سے اس اختلافِ رائے کو قبول کیا ہے لیکن اس باب میں شیخ کی مخصوص مہارت اورممارست آپ کی رائے کو دیگر اہل علم کی آراء پر ایک مجموعی ترجیح کا بہر حال رجحان رکھتی ہے۔

شیخ البانی کی علمی خدمات یوں تو حدیث ِنبوی تک ہی محدود نہیں رہیں بلکہ فقہ واَحکام کے باب میں بھی آپ نے اپنی تحقیقات پیش کی ہیں، عقائد وایمانیات پر بھی آپ کی علمی آراء موجود ہیں ، لیکن آپ کی جو حیثیت بہر طور آپ کے مجموعی رجحان پرغالب نظر آتی ہے اورجس میں آپ کو درکِ تامہ اور دوسروں پر خصوصی برتری حاصل تھی ، وہ علم حدیث کا میدان ہی ہے ۔فقہ ومسائل کے باب میں بھی آپ پر محدثانہ ذوق غالب ہے ۔آپ فقہ الحدیث کی نمایاں مثال تھے ۔

احادیث کا ایک وسیع ذخیرہ ان کے نہاں خانہ دماغ میں محفو ظ تھا اورآپ کو بے شمار متونِ احادیث مکمل اسانید کے ساتھ ہر دَم مستحضر رہتے، اپنے کلام اورخطاب میں ان کا اکثر استعمال آ پ کا خاصہ تھا۔ شیخ سے ہونے والی چند ملاقاتوں میں یہ احساس شدید تر ہوتا گیا کہ حدیث ِنبوی آپ کا تکیہ کلام ہے او رآپ کے لب ہر دم اس کے ذکر مبارک سے معطر رہتے ہیں ۔آپ کا ہر استدلال نصوصِ قرآن وسنت سے شروع ہوتا اور اسی پر ہی ختم ہوا کرتا۔ قرآن وحدیث ہی آپ کے فکر ونظر کی بنیاد تھے۔ علماء امت کی آراء کو آپ برموقع استعمال کیا کرتے لیکن تائید واضافہ کے طور ، یا ظاہری طور پر باہم مختلف نصوص میں تطبیق وتوازن کے لئے !

شیخ البانی کی عام بات چیت بھی بڑی نپی تلی اور ترتیب سے مزین ہوتی ، حتیٰ کہ عام بات چیت میں بھی آپ ترقیم اور تدوین کا اہتمام فرماتے۔اسلوبِ بیان بہت واضح اور استدلال دو ٹوک ہوتا جس میں اکثر صریح نصوص پر استدلال کی عمارت کھڑی ہوتی۔ جوشخص حدیث ِنبوی کی حجیت اورعظمت کامعترف ہوتا ،آپ کی وقیع رائے کو آسانی سے نظر انداز نہ کر پاتا۔

شیخ البانی کی ایک نمایاں خصوصیت دور اندیشی اورعمیق النظری تھی ۔نصوص پر اس قدر اعتماد واعتبار کرنے کے ذوق کے باوجود کسی کلام میں پنہاں حکمتیں آپ کی نظر سے پوشیدہ نہ رہتیں ۔ آپ اپنی رائے اور تبصرہ میں اس رائے کے ظاہر کے ساتھ مالہ وماعلیہ پر عالمانہ تبصر ہ فرماتے ۔ذکاوت اور فہم وفراست کا و افر حصہ آپ پر اللہ کا خاص کرم تھا۔ مسلمانوں کے مسائل کی حقیقی تصویر کشی اور اس کا متناسب حل تجویز کرنے کی یہی صلاحیت حکمرانوں اور مخالفین کو آپ کی زبان بند رکھنے پر اور آپ سے پابندیاں روا رکھنے کومجبور کرتی ۔ حیاتِ مبارکہ کے آخر ی برس عمان میں ہونے والی ملاقاتوں میں آپ کے تلامذہ کی زبانی پتہ چلا کہ آپ کو اردن میں سکونت کی اجازت، خطابِ عام سے اجتناب کرنے سے مشروط ہے ۔ جس کا حل آپ کے معتقدین نے یوں نکالا کہ آپ کی اکثر بات چیت کو کیسٹوں میں محفوظ کر لیتے ۔ شیخ البانی کے شاگرد جب شیخ کو کچھ کلام کرنے پر آمادہ محسوس کرتے تو فوراًشیخ کے کوئی معتمد ساتھی ٹیپ ریکارڈ سامنے کر کے ابتدائی کلمات ریکارڈ کرتے اور شیخ کو دعوتِ خطاب دے دیتے۔راقم نے شیخ البانی کو بھی کیسٹ ختم ہونے پر نئی کیسٹ کا ا نتظار کرتے اور ریکارڈ نگ کا یہ اہتمام کرتے دیکھا ہے ۔٭

شیخ البانی پر اللہ کا ایک خاص انعام یہ تھا کہ اللہ نے ان کے فکر کو قبولیت ِعامہ سے نوازا تھا۔آپ کی شخصیت کا علمی وقار، وجاہت اور رعب ودبدبہ حاضرین کو مبہوت کر دیتا اوروہ آپ کی بات سننے کے لئے ہمہ تن گوش ہو جاتے ۔آپ کے شاگرد آپ کی محبت اور احترام میں ڈوبے رہتے۔ شمع حق کے یہ پروانے جہاں بھی جاتے ، ان کی زبانیں شَیخنا، شَیخنا کا وِرد کئے رکھتیں ۔ یہ درست ہے کہ آپ کے فکر نے نوجوان طبقہ کو زیادہ متاثر کیا اورنوجوانوں نے ا پنی سرشت کے مطابق اس دعوت میں جو ش وجذبہ کا رنگ بھر دیا لیکن میں بڑے خلو ص سے یہ سمجھتاہوں کہ نوجوانوں کے متاثر ہونے کی وجہ آپ کے فکر کا سادہ پن او ردوٹوک استدلال تھا ، جوبغیر کسی لگی پٹی کے باطل کے خلا ف سر گرم اورحق کے میدان میں حق کا ہم نوا ہو جاتا۔ نوجوانوں نے بھی اپنے خلوص کی بدولت اس دعوت کو قبول کیا۔

شیخ البانی کی دعوت ٹھوس علمی بنیادوں پر قائم تھی جس میں باریک نکات ،دقیق استدلال اور وسیع النظری جھلکتی تھی۔ نوجوانوں کے جوش وجذبہ کو متوازن کرنے کے لیے شیخ کی بے شمار تقاریر ریکارڈ پر ہیں۔ آپ کے فکر کا اعتدال ،دعوت کا توازن او رمثبت اسلوبِ بیان ان تقاریر میں بہ تکرار موجود ہے ۔

جس منہج دعوت اور منہج تحقیق کو شیخ البانی نے اپنایا ،یوں تو اس کی تفصیلات اور کامل ترجمانی بڑے وقیع تجزیے اور گہرے غوروفکر کی متقاضی ہے لیکن آپ اکثر اپنی تقاریر میں اپنے منہج کو دو لفظوں سے بیان فرمایا کرتے : التصفیة والتربیة ، التصفیةسے آپ کی مراد یہ ہے کہ عوام الناس کو خالص اور صاف ستھرے اسلام کی دعوت دی جائے،اسلام سے وہ اس جھاڑ جھنکار کو دور کر دیا جائے جو امتدادِ زمانہ،نفسانی خواہشات اور دیگر بہت سی وجوہات سے اس میں شامل کر لئے گئے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں بدعات اور شخصی وعلاقائی نسبتوں او رجماعتوں کو ختم کر کے اس واضح سیدھے اور کھرے اسلام کی طرف امت ِمسلمہ کو بلانا جو نبی اکرم اور آپ کے صحابہ کرام ؓنے اُمت کے لیے چھوڑا تھا ، مسلمانوں کو شریعت کے حصول کے لیے صرف اور صرف قرآن وسنت کی طرف متوجہ رہنے کی دعوت دینا۔اسی مقصد کے لیے آپ نے احادیث پر بیش قیمت تحقیقی کام کر کے ضعیف احادیث کو صحیح احادیث کے مجموعے سے جدا کرنے کی عظیم کاوش او رخدمت انجام دی۔ اس منہج کادوسرا لفظ التربیۃہے جس کا مطلب یہ ہے کہ علمی اور فکری بنیاد مہیا کرنے کے بعد اس منہج پرچلنے کی ان کو عملی تربیت دینا اور مسلمانوں کو اس کا عادی بنا دینا۔علمی مسائل پر ان کے رویہ اور رجحانات کی درست بنیادوں پر تشکیل کرنا۔

شیخ البانی کی دعوت کس حد تک کامیاب رہی، اس کے کیا اثرات ہوئے او ر فکری حلقوں نے اس کو کس نظر سے دیکھا، ان چیزوں کا مطالعہ مستقل مضامین کا تقاضا کرتا ہے ۔ مجملاً ہم یہ بات جانتے ہیں کہ آپ کی خدمات نے علومِ اسلامیہ بالخصوص علومِ حدیث وسنت میں انقلاب خیز اثرات پیدا کئے اور علمائِ امت نے اس باب میں آپ کو امامِ فن تسلیم کیا۔

آپ کی دعوت کی قبولیت کیونکر اس قدر وسیع اور جلد ہوئی اور آپ کی تحقیقی خدمات سے استفادہ کیونکر محققین کے لیے ضروری ٹھہرا ، آپ کو امت میں قبولیت ِعامہ کا شرف کیونکر حاصل ہوا ؟ ان باتوں پرہمارا نقطہ نظر یہ ہے کہ حدیث ِنبویؐ کا یہ اعجاز ہے کہ جو آدمی اس مبارک کام میں مشغول ہوجاتا ہے ، امت میں اس سے محبت او رمانوسیت پھیل جاتی ہے اورامت ِمسلمہ کے لیے وہ شخصیت اجنبی نہیں رہتی۔ نبی اکرم کی یہ دعا ایسے ہی با سعادت شخص کے لئے ہے

«نضَّر اللہ امرأ سَمِع مقالتي فوعاھا وحفِظھا وبلَّغھا» (سنن الترمذي)

''اللہ تعالیٰ اس بندے کو تروتاز ہ رکھے جس نے میری حدیث سنی ، اسے محفوظ کرلیا ، اسے یاد کیا اور آگے پہنچایا''

نبی اکرم سے امت کی محبت کاثمرہ یہ ہے کہ آپ کی ہر ہر بات کو امت محبت سے سنتی اور یہ باتیںسنانے والے کو سر آنکھوں پر بٹھالیتی ہے۔ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ سنانے والا شخص اپنا خلوص اوراس مبارک مشن سے اپنا ذوق وشوق ثابت کر دے ۔شیخ البانی کا تومشن ہی یہ تھا کہ آپ اقوالِ نبویہ ؐ کو نکھارکر پیش کر دیں اور نبی اکرم ﷺ کے نام سے جاری بدعات کی آلائشو ں سے دین حنیف کو پاک کر دیں۔اس امتیازی خدمت کی بنا پر ہی آپ کی دعوت کو مقبولیت اورشخصیت کو محبوبیت ِفراواں عطا آئی ۔ آپ کی خدمات کواگر اختصار سے بیان کریںتو محی السنۃ (سنت کو زندہ کرنے والا) اور قامع البدعۃ (بدعت کو مٹانے والا) کے القاب آپ کی ذات ِگرامی پر صادق آتے ہیں ۔ حدیث ِنبویـؐ کو آپ نے اپنی علمی وفکری کاوشوں کا محور بنا یا۔

آپ کی تحقیقی خدمات کے اس قدر جلد پھیل جانے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ آپ نے اپنا اکثر کام امہات ُالکتب پر انجام دیا ہے ۔ آپ کی اکثر خدمات اُصول ومصادر کی کتب پر تحقیقات وتعلیقات اورحواشی واضافہ جات کی صورت میںہیں۔ یہ کتب پہلے ہی ہر اہل علم کی ضرورت تھیں، آپ کے مفید اضافہ جات اور تخریجات نے ان کی افادیت دو چند کر دی چنانچہ ان کتب کے ان ایڈیشنوں کی مانگ بہت بڑھ گئی جن پر آپ نے بھی مزید کام انجام دیا تھا۔ آ پ کی دعوت کی مقبولیت کی اور بھی وجوہات ہیں جن میں واضح اسلوب بیان ،دوٹوک طرزِ ا ستدلال ،وسیع النظری اور دو راندیشی ، غیر متعصبانہ روش او ر محققانہ طرز ِتحریر وغیرہ نمایاں ہیں ۔

جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے کہ شیخ البانی کا تعلیم وتدریس پر فائز رہنا اولی الامرکو راس نہ آسکا ، آپ کے باقاعدہ تلامذہ کی تعداد انگلیوں پرگنی جا سکتی ہے جو انفرادی طور پر آپ سے استفادہ کرتے رہے ۔ آپ کے اکثر تلامذہ اس دور کے ہیں ، جب مدینہ یونیورسٹی میں علومِِ حدیث کی یہ شمع فروزاں تھی۔ اس دور میں مدینہ یونیورسٹی میں آنے جانے والے حضرات کی چشم دید گواہی یہ ہے کہ آپ جامعہ میں داخل ہوتے تو آپ کی گاڑی کتابوں اور شائقین طلبہ کے بیگوں سے لدی ہوتی ۔ مدینہ یونیورسٹی میں اور اس کے بالتّبع دیگر مؤسساتِ علمیہ میں علم الاسناد کا مخصوص سبق اوراس کی روایت آپ نے شروع فرمائی۔ پیریڈوں کے درمیانی وقفہ میں طلبہ آ پ کو گھیر لیا کرتے اورطالبانِ علومِ نبوت کا یہ ذوق شوق ائمہ محدثین کے دور کی یاد تازہ کردیتا۔

مدینہ منورہ سے ہجرت کے بعد آ پ کے فیض عام کا کوئی باقاعدہ سلسلہ قائم نہ ہوسکا ۔اس عرصے میں بعض اُردنی نوجوانوں نے انفرادی طور پر آ پ کے ساتھ علمی معاونت کے بہانے آپ سے فیض حاصل کیا ۔ آپ کی دعوت در اصل کتب او ر بیش قیمت تحقیقی کام کے سہارے پھیلی ۔ آپ سے متاثر لوگ آپ سے ملاقات کے لئے تشریف لایا کرتے لیکن شیخ نے ملاقات برائے ملاقات کاشغل موقوف کر رکھا تھا۔ اگر کوئی بامقصد ملاقات یعنی علمی مذاکرہ کی صورت ہوتی تو آ پ اجازت مرحمت فرمادیا کرتے وگرنہ اپنے اوقات کو اس سے بہتر مصرف میں استعمال کرتے ۔

گذشتہ برس عمان میں آپ کے حلقہ میں اٹھنے بیٹھنے کا موقعہ ملاجو یوں تو ہزاروں سے متجاوز ہے لیکن پابندیوں کی بنا پر منتشر اورغیر مربوط ہے، یہ لوگ آپ کی ملاقات کے خوب مشتاق پائے گئے ۔ وہاں وہی سماں نظر آیا جونبی اکرم ﷺ کے صحابہ کے بارے میں حدیث میں ملتا ہے کہ صحابہ کو کثرتِ سوال سے منع کر دیاگیا تو صحابہ کسی بدو یا اجنبی کی آمد کے منتظر رہا کرتے کہ وہ آئے تو لسانِ نبوت ؐسے ہم بھی فیض یاب ہوسکیں او ر اپنے شوق وذوق کو تسکین دے سکیں۔مدیر اعلیٰ محدث جب اُردن پہنچے تو ان نوجوانوں کے چہرے پر مسرت کے آثارنمایاں ہو گئے کہ اس بہانے شیخ البانی کی باتیں سننے اور ان سے ملاقات کرنے کاموقع ملے گا۔ شیخ البانی کا کمالِ تواضع اور لطف وکرم کہ انہو ں نے بار بار شرفِ ملاقات دیا ۔مجھے خوب یاد ہے کہ ان ملاقاتوں میں ہر شخص اس توسط سے شیخ سے ملاقات کو بیتاب نظر آتا۔

یوں تو تذکرے او رباتیں اس قدر زیادہ ہیں کہ حکایت طویل سے طویل تر ہو جائے اور شوق وذوق کم نہ ہو لیکن انہی پراکتفا کیا جاتا ہے ۔ باقی مضامین بھی ایسی ہی معلومات پرمشتمل ہیں جن میں حقائق ووقائع کی زبانی شیخ پر لکھا گیا ہے ۔ شیخ کی کثیر الجہت شخصیت کے بار ے میں یہ چند مضامین تو سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہیں ۔ ضرورت اس امر کی تھی کہ آپ کی دعوت اور منہج ،تصانیف ومقالات اور اس کی دور ِمعاصر میں اثر پذیری پر معروف اہل علم سے مقالات تحریر کروائے جاتے کہ فکر اور خدمات ہی وہ اصل جوہر ہیں جو شخصیت کے چلے جانے کے بعد بھی تا قیامت باقی رہتے ہیں۔

محدث کے اس شمارے کے مضامین بڑی جلدی میں معروف علماء سے رابطے کرکے لکھوائے گئے ہیں۔جس میں زیادہ تر آپ کی شخصیت او روفات پر تاثرات وغیرہ ہی لکھے جاسکے ہیں۔ ہم فرداً فرداً ان سب علماء کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے اس قلیل مدت میں ہمارے تقاضے پر یہ مضامین تحریر فرمائے۔اس سلسلے میں ابھی بہت کچھ لکھنے کی گنجائش موجود ہے لیکن مناسب وقت میسر نہ آنے ،حال ہی میں سود نمبر سے فراغت ملنے اور دیگرعلمی مصروفیات کی وجہ سے اسی پر اکتفا کیاجاتا ہے ۔

شیخ البانی کے سانحۂ ارتحال پر جب اربابِ صحافت (دینی واخباری ہر دو) کی بے پروائی دیکھی اور لوگوں میں بہت کچھ جاننے کا داعیہ پایا تومحدث کے لئے چند مضامین لکھوانے کا پروگرام بنا۔ اس اعتبا ر سے یہ مخصوص شمارہ شیخ کی وفا ت پر تاثراتی اور تعارفی نوعیت کے مضامین پر ہی مشتمل ہے ،جہاں تک اس موضوع پر تحقیقی اور علمی مضامین کا تعلق ہے تو اس کی تیاری میں اِمکانی تاخیر کی بنا پر فوری طور پر اس کو ہی خشت ِاول کے طور پر شائع کرنے کا پروگرام بنا ۔ ادارئہ محدث کی ارباب ِعلم وذوق اور ذمہ دارانِ جرائد ِدینیہ سے گزارش ہے کہ وہ اس موضوع پر کا م کروائیں کیونکہ شیخ البانی کی شخصیت اور خدمات ایسی نہیں جنہیں دوسروں کے مثل قرار دے کر آسانی سے نظر انداز کر دیاجائے۔ سعودی عرب کے نامور عالم او رحال ہی میں وفات پانے والے مفتیٔ اعظم شیخ ابن باز ؒکا آپ کے بارے میں قول قابل توجہ ہے کہ

''اللہ تعالیٰ ہر صدی میں احیائے دین کے لیے ایک مجدد بھیجا کرتا ہے ، شیخ البانی اس صدی کے مجدد ہیں... علم حدیث میں فی زمانہ آپ کا مثیل کوئی نہیں ہے''

دیگر علماء ِاَجلہ کے تاثرات بھی آئندہ صفحات پر قابل ملاحظہ ہیں۔

علماء کے شیخ البانی کے بارے میں تاثرات او رآراء کا مطالعہ کیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ آپ یگانہ روزگارمحدث ِجلیل تھے ۔ آپ کی شخصیت وجاہت اوروقار کی تصویر ،سادگی اور اپنائیت کا مرقع اور اخلاقِ کریمانہ سے متصف تھی۔آپ اللہ کے لیے ہر دم صابر وشاکر رہنے والے ، اس کے بندوں کے سامنے برتری کے اظہار سے نفرت کرنے والے تھے ۔اس قدر ممتاز علمی مقام رکھنے کے باوجود ہر طرح کے فخرو تکبر سے بالکل کنار ہ کش رہتے۔

غر ض آپ کی شخصیت عوام کے لیے مثال اورخواص ؍علماء کے لیے قدوہ کی حیثیت رکھتی تھی۔ آپ کی وفات پر علم کا ہر شیدائی جدائی کی ایک تڑپ اور کسک دل میں محسوس کرتا ہے ۔ادارۂ محدث،اپنے قارئین کے ہمراہ ، ادارۂ محدث سے منسلکہ جامعہ لاہور الاسلامیہ (رحمانیہ) کے تمام ذمہ داران ، اساتذہ او رطلبہ او ربے شمار علم کے متوالے آ پ کے لیے دعا گو ہیں کہ اللہ آپ کی خدمات کو قبول فرمائے ، آپ کو بلند درجات نصیب فرمائے جس نبی کے اَقوال کی تمام زندگی آپ حفاظت کا فریضہ انجام دیتے رہے ، اس ؐکی ہمراہی آپ کو اور ہمیںنصیب فرمائے، آپ کے تسامحات سے درگزر فرمائے اور امت کوآپ ایسے اہل علم عطا فرمائے ۔ آپ کی وفات حسرت آیات اور شیخ ابن باز کے چندماہ قبل سانحۂ ارتحال سے طبقہ علماء ایک لحاظ سے یتیم نظر آتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس خلا کو پر فرمائے اور ہم سب کو دین حقہ کی خدمت کی توفیق دے اور آخرت کی کامیابی سے سرفراز فرمائے ۔ آمین ! ٭ (حافظ حسن مدنی)
نوٹ

واللہ علماء حقہ کی شان دیکھئے کہ کس طرح دکھ درد سے امت کو آگ سے بچانے کے لئے مصروف ِکار رہتے ہیں۔ ان کا خلوص، ان کے کلمات اور پرزور طرزِ تکلم سے جھلکتا ہے۔ شیخ البانی نے ان کلمات میں بعض بڑی اہم اور دقیق استدلال کئے ہیں جن کی وضاحت ضروری ہے:

ہمارے ہاں بھی یہ فکر بڑامقبول ہے کہ اختلافی امور کو زیر بحث نہ لایا جائے، یہ فرقہ بندی کو ہوا دیتے ہیں، اسی طرح اللہ کی رحمت سے امید کرنا چاہئے کہ سب فرقے ہی جنت میں جانے کے حقدار ہوں گے یہ ملاں کی تنگ نظری ہے کہ وہ مخصوص نقطہ نظر کے لوگوں کو جنت کا ٹھیکیدار بتاتا ہے،

پہلے نکتہ کی وضاحت یہ ہے کہ اختلافات ابھارنے کے لئے اختلافی مسائل پر بحث کرنا واقعتا مذموم ترین ہے بالخصوص اس وقت جبکہ لوگوں کے ان مسائل سے جذباتی وابستگی پیدا ہوچکی ہے، ایسے میں بڑی حکمت اور دانائی کی ضرورت ہے کہ اسلام کا صحیح رخ بھی نمایاں ہوجائے لیکن کسی منفی تناظر سے علیحدہ رہتے ہوئے، یہی {ادْعُ إِلَى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ}کا مدعا ہے۔ لیکن ان مسائل کو نظر انداز کرکے ان سے تساہل برت لیا جانا درست رویہ نہیں، یہ دعوتی حکمت عملی کا کوئی اسلوب تو ہوسکتا ہے، لیکن شریعت کا جز ہونے کے ناطے ان میں کوئی واقعی غفلت روا نہیں رکھی جاسکتی۔ اصل میں جو رویہ فرقہ بازی کومہمیز کرتا ہے وہ ہے ضدبازی اور متعصبانہ روش، ہمارے تمہارے کا طرزِ استدلال، اگر کسی مسلمان کو قرآن و سنت کی سچی اور سیدھی دعوت کی طرف خلوص سے توجہ دلائی جائے تو اس کے اعتقاد کا تقاضا یہ ہے کہ وہ ان اصولِ شریعت سے انحراف نہیں کر پائے گا۔ شریعت حق اور باطل میں امتیاز کرنے آئی ہے نہ کہ سمجھوتا کرنے۔ نبی کریمﷺ کو بھی مکہ میں یہی کہا گیا تھاکہ آپ ہمارے معبود ان کی بے حرمتی بند کردیں ہم آپ کو حکمران بنا لیں گے، آپ کا نکاح خوبرو حسینہ سے کردیں گے وغیرہ وغیرہ لیکن نبی کریمﷺ نے فرمایا بلکہ اللہ تعالیٰ نے لسانِ نبوت سے کہلوایا اور پوری سورت نازل کر دی، کہہ دیجئے اے کافرو! جس کی تم عبادت کرتے ہو، میں اس کی عبادت نہیں کروں گا... تمہارا دین تمہیں مبارک اور میرا دین میرے لئے کافی ہے۔ آپ بھی اسی نکتے کا فیصلہ فرما لیجئے کہ آیا قبروں پر سجدہ کرنے والوں کو اس شرک سے روکنا چاہئے یا نہیں؟ یاد رہنا چاہیے کہ اختلاف اور تفرقہ بازی مسائل کا اختلاف پیدا نہیں کرتا، تعصب، ضد بازی ہی یہ گل کھلاتی ہے، فرقہ بندی کا واحد علاج اللہ سے مخلصانہ تعلق کی مضبوطی کی تربیت اور اس کے بعد پر حکمت اسلوب میں دعوتِ دین ہے۔

جہاں تک دوسرے نکتے کا تعلق ہے تو شیخ نے حدیث ِنبویؐ کے ذریعے اس بہکاوے کا پول کھول دیا ہے کہ مسلمانوں کو راہ ِحق کی طرف لانا ضروری ہے، کیونکہ سب فرقے جنت میں نہیں جائیں گے، نبی اکرمﷺ کا فرمان ہے ، سب آگ میں جانے والے ہیں سوائے ایک کے۔ صریح یہ دھوکہ ہے کہ ہر شخص من مانے اعتقاد پر مطمئن ہو بیٹھے اور اس میں جنت کی آرزو کرنے لگے۔ مسلمانوں کی شریعت واضح او رمکمل ہوچکی، اس سے انحراف کرنے والا کا عذر قبول نہیں کیا جائے گا۔ جنت میں داخل ہونے والی جماعت کے بارے میں نبی اکرمﷺ کا فرمان ہے کہ وہ وہ لوگ ہوں گے جو میرے اور میرے صحابہؓ کے طریقے پر ہوں گے۔ یہاں ایک نکتے کی وضاحت ضروری ہے کہ فرقے اور جماعتیں تعصب اور من مانے مقاصد کے ساتھ ساتھ فکر و نظر کی بنا پر وجود میں آتی ہیں۔ مسائل شریعت کے بارے میں ایک مخصوص اسلوب کسی جماعت کی بنیاد ہوا کرتا ہے، فروع اور چند مظاہر میں اختلاف کی بنا پر الگ جماعت کا تصور کھوکھلا، بے معنی اور غیر حقیقی ہے۔ یہاں یہ بھی یاد رہنا چاہئے کہ ایک مخصوص فکر اور اسلوبِ شریعت کے نتائج فروعات میں مختلف ہوسکتے ہیں۔ مسلمانوں سے شریعت کے بارے میں صحابہ کا رویہ اور اسلوب فکر اپنانے کا تقاضا ہو رہا ہے نہ کہ اس فکر پر حاصل ہونے والے نتائج پر آمنا و صدقنا کہنے کی دعوت دی جارہی ہے۔

چنانچہ مختلف مسائل میں ایک سا طرزِ استنباط اپنا کر مختلف نتائج حاصل کرنے والے حقیقی اعتبار سے متحد اور متفق ہیں ۔ بعد والے اختلاف دیگر بیسیوں عوامل اور ذاتی رحجانات و تخصصات کی بنا پر ہوسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صحابہ میں بھی عملی مسائل میں اختلافات ہوئے لیکن منہاجِ شریعت میں وہ متفق تھے۔ چنانچہ اس لئے ان کی پیروی کرنے کی تلقین کی جارہی ہے۔ ہمارا اعتقاد ہے کہ چاروں مشہور مذاہب کے ائمہ فقہاء اپنے منہج میں رسول اللہﷺ اور صحابہ کرامؓ کے طرز عمل پر مضبوطی سے عمل پیرا تھے، یہ ان کا رویہ اور منہج تھا، جس کے اعتبار سے وہ متفق تھے، لیکن نتائج کی رو سے چاروں میں بیسیوں مسائل میں اختلاف دکھائی دیتا ہے۔ یہ اختلاف شریعت کی وسعت اور اس کے ہر حالت میں بدلتی گنجائشوں کی دلالت ِحقہ ہے۔ ہمارا یقین ہے کہ ائمہ سلف میں سے جو بھی خلوص سے اس راہ پر چلا وہ جنت میں جائے گا۔ ان شاء اللہ

مسلمانوں سے اسلام جس امر کا تقاضا کرتا ہے وہ قرآن و سنت جو اسلام کا منبع و مصدر ہیں کے بارے میں ان کا رویہ، اسلوب ِفکر اور منہج ہے جو شخص اس منہج کو جس پر صحابہ کرامؓ عمل پیرا تھے۔ حرزِ جان بنائے گا، فروعی مسائل میں حق و صواب سے قطع نظر وہ جنت میں داخلے کا حقدار حقیقی مسلمان ہے۔

ہمارے ہاں نفسا نفسی کے اس دور میں جس بے بنیاد گروہ بندی اور جماعت سازی کا رحجان چلا ہے، ان کی جس قدر مذمت کی جائے، کم ہے۔ مثال کے طور پر صرف اہلحدیث جماعت میں جو ایک خلوص منہج اور عقیدے کی دعوت دیتی ہے، متعدد جماعتیں ہیں، ان جماعتوں کو تحزب، تفرق، جاہ پسندی، مسلمانوں کو جدا کرنے کی کوشش جو بھی کہہ لیا جائے ،روا ہے۔ یہی حال بلکہ اس سے بدتر صورت دوسری بیسیوں جماعتوں میں بھی ہے اور دینی جماعتوں کے سیاست میں کود پڑنے پر اس رحجان میں اضافہ روز افزوں ہے۔ انا للہ...

غرض ایک جماعت جس کی نجات کی خوشخبری حدیث نبویؐ میں موجود ہے، وہ ہے جو صحابہ کرامؓ کے منہج پر گامزن رہی، صحابہ کا طرزِ عمل دہرانے کی ضرورت نہیں لیکن یہ اعتراف کئے بنا چارہ نہیں کہ صحابہ کرامؓ ہر بات میں قرآن کریم اور سنت ِرسولؐ کو حرف ِآخر سمجھتے، دونوں میں کوئی تفریق روا نہ رکھتے، ان کے اسلام کا منبع و مصدر صرف اور صرف کتاب اللہ اور سنت رسولؐ ہی تھا۔