ملک کے ایک نئے روزنامے ''انصاف'' نے مدیر اعلیٰ ماہنامہ 'محدث' سے انٹرویو اپنے اتوار ایڈیشن ۲۷؍فروری ۲۰۰۰ء میں شائع کیا ہے ۔بعض ضروری تصحیحات کے ساتھ اسے ''محدث'' کے صفحات میں جگہ دی جارہی ہے ۔ (ادارہ)

مولانا حافظ عبدالرحمن مدنی کا شمار ملک کے معروف علماء ،دینی سکالرز اور قانون و شریعت کے ماہرین میں ہوتا ہے۔ مذہب اور دین کے حوالے سے انہوں نے غیر معمولی تحقیقی کام کیا ہے۔آپ انسٹیٹیوٹ آف ہائر سٹڈیز (شریعت و قضائ) کے ڈائریکٹر ،اسلامک ریسرچ کونسل کے سیکرٹری جنرل اور اسلامک ہیومن رائٹس فورم کے ڈائریکٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ طالبات کی جدید دینی تعلیم کے لئے انہوں نے اکیڈمی بھی قائم کر رکھی ہے جہاں بچیوں کوجدید تقاضوں کے مطابق دینی تعلیم دی جاتی ہے۔ حافظ عبدالرحمن مدنی کا اب تک کا بڑا اہم تحقیقی کام نبی اکرمؐ کے تمام فیصلوں کو یکجاکرنا ہے جس کی پہلی جلد تیار ہو چکی ہے۔ یہ فیصلے عربی زبان میں ہیں جنہیں لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس ڈاکٹر منیر مغل انگریزی زبان میں ترجمہ کر رہے ہیں جبکہ ان فیصلوں کا اُردو اور فرانسیسی زبان میں بھی ترجمہ کیا جائے گا ۔ اسی طرح ان کے زیر اہتمام پاکستان کی ۵۲سالہ تاریخ کے دوران اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں کے اہم قانونی نکات کو اختصار کے ساتھ ۶ جلدوں میں اکٹھا بھی کر لیا گیا ہے جبکہ خلفائے راشدین کے فیصلوں پر مبنی ۶ جلدوں کا مواد بھی تیار ہے۔ مولانا مدنی سے حال ہی میں ایک نشست ہوئی جس میں ملک کے موجودہ حالات کے تناظر میں گفتگو ہوئی جس کی تفصیل قارئین کے لئے پیش خدمت ہے

٭... حکومت حدود آرڈی نینس میں تبدیلی پر غور کر رہی ہے تاکہ اس کی متنازعہ شقیں ختم کی جا سکیں ، وہ متنازعہ شقیں آپ کی نظر میں کون کونسی ہیں اور ان میں ضرر رساں پہلو کیا ہے؟

حافظ عبدالرحمن مدنی: حدود آرڈی نینس جن لوگوں نے بنایا اور جن حالات میں بنایا تھا،اس کے اندر بہت سی چیزیں ناقص رہ گئی ہیں۔ ہمارے موجودہ قانونی سسٹم میں قوانین میں زیادہ تفصیل دینے کی بجائے اعلیٰ عدالتوں کو یہ اختیار ہونا چاہئے کہ وہ شرعی قوانین کی تکمیل اپنی قانونی تعبیر کے ذریعہ کریں۔ اور شریعت کے مطابق ان کا اِطلاق کریں۔ ہمارا اینگلوسیکسن لاء بالکل جامد ہے، اس میں بڑی تبدیلی اور اِصلاح کی ضرورت ہے۔ کتاب وسنت ہی اسلامی شریعت کی اَساس ہے ، فقہ تو اس کی وقتی تعبیر وتشریح ہے لہٰذا ملک میں کسی اکثریتی فقہ کی بجائے کتاب وسنت کا نفاذ ہونا چاہئے جس کے لئے فقہاء کی تقابلی آراء کی حیثیت قانونی نظائر کی ہے۔ بعض سیکولر لوگ حدود آرڈیننس کی مخالفت محض اس بنیاد پرکر رہے ہیں کہ حدود آرڈی نینس اسلام کے نام پر ملک میں نافذ ہوگیا ہے حالانکہ کسی قانون کو اسلام کی بنیاد پر مسترد کرنا بڑا خوفناک رجحان ہے۔ حکمران اگر ایساکریں گے تو اس کا مطلب اسلامی شریعت کی بجائے لادینیت کی حمایت ہو گا۔

٭... ماضی میں علماء و فقہا حکومت ِوقت سے دور رہنے میں ہی عافیت سمجھتے تھے جبکہ ہمارے دور میں علماء وقت کے حکمرانوں سے قربت کا موقع ہاتھ سے نہیں گنواتے ،علماء کے اس طرزِ عمل کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟

حافظ عبدالرحمن مدنی: علماء کی طرف سے حکومت سے قربت یا بعد کا معاملہ مصلحت سے متعلقہ ہے۔ حالات کے تحت بسا اوقات حکمرانوں سے بعد مناسب ہوتا ہے اور حالات ہی کے تحت بسا اوقات حکمرانوں سے قربت بہتر ہوتی ہے اگر حکمرانوں کا قرب اس لئے اپنایا جائے کہ اس سے ذاتی مفادات حاصل کئے جائیں اور ان سے فوائد حاصل کر کے ان کی حمایت کی جائے تو یہ درست نہیں ہے۔ یہ سراسر کردار کی بات ہے۔ ضیاء الحق کے دور میں ایسے لوگ جن کو شروع میں ضیاء الحق نے اہمیت دی انہوں نے ضیاء الحق کی پرزور وکالت کی لیکن جب نظرانداز کردیئے گئے تو وہی لوگ ضیاء الحق کے شدید مخالف ہو گئے۔

٭... حکومت کی اب تک کی کارکردگی پر تبصرہ فرمائیں؟

حافظ عبدالرحمن مدنی: موجودہ حکومت نے ابھی تک اسلام کے بارے میں عوام کے جذبات کو ملحوظ نہیں رکھا بلکہ نظر انداز کئے ہوئے ہے۔ فوجی حکمران کرپشن کے خاتمے اور اقتصادی بحالی کو ترجیح دے رہے ہیں۔ عوام کی طرف سے اگرچہ حکومت کی مخالفت بھی نہیں کی جا رہی کیونکہ وہ انتظار کررہے ہیں حالانکہ وہ حکومتی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں۔ پاکستان کی اقتصادی بدحالی کی وجہ عالمی اداروں کی پالیسیاں ہیں جو اسلام دشمنی کی بنا پر پاکستان کو بدحالی کا شکار بنائے ہوئے ہیں۔ عالمی قوتوں کے نزدیک پاکستان کا سب سے بڑا جرم اس کانظریہ اور اس کی پہلی مسلمان ایٹمی قوت ہونا ہے۔ ان کی اسلام دشمنی کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ پاکستان کے ایٹم بم کو تو وہ اسلامی بم کا نام دیتے ہیں لیکن اسرائیل کے ایٹم بم کو یہودی بم نہیں کہتے۔ بوسنیا وغیرہ کے مسلمان کوئی پرانے مسلمان نہیں۔ وہ بہت اچھے مسلمان بھی نہیں ہیں وہ تو اسلام کا نام ہی باقی رکھ سکے ہیں۔ انہیں کس بات کی سزا دی جا رہی ہے محض اس لئے کہ یورپ کے اندر اسلامی ملک کا قیام انہیں کھٹکتا ہے۔

٭... عالم کفر سے نجات اور بچائو کے لئے کیا حکمت ِعملی اپنائی جا سکتی ہے؟

حافظ عبدالرحمن مدنی: ان طاقتوں سے بچائو کا یہی طریقہ ہے کہ ہم اپنے حقیقی دشمن کو پہچانیں ، وہ پاکستان کی اسلام کی وجہ سے دشمن ہیں کیونکہ یہ ملک اسلام کے نام پر بنا ہے ،اس لئے اس کو معاف نہیں کیا جا سکتا۔ اس حقیقت کو سمجھ کر مسلمانوں سے باہم تعلقات بہتر سے بہتر بنائے جائیں۔ اقتصادی بحالی کی واحد صورت یہ ہے کہ ہماری دوستی اور دشمنی اسلام کے نام پر ہو۔ اس وقت مسلمان ممالک جغرافیائی اعتبار سے مربوط ہیں۔ عالمی قوتوں نے مسلمانوں کی قوت اور تنظیم کو کمزور کرنے کے لئے ایران کو افغانستان سے، عراق کو کویت اور سعودی عرب سے لڑوا دیا۔ یہ تاثرغلط ہے کہ بھارت کے ساتھ ہمارے تعلقات بہتر ہو جائیں تو ہم چین سے رہ سکیں گے۔ بھارت اور اسرائیل کفر کے ایجنٹ کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ بھارت اور اسرائیل کی دشمنی پاکستان کے ساتھ نہیں بلکہ اسلام کے ساتھ ہے۔

٭... موجودہ حکومت میں ملکی ترقی و خوشحالی کے حوالے سے 'سرکاری' این جی اوز کے کردار پر روشنی ڈالیں۔

حافظ عبدالرحمن مدنی: پاکستان میں اقتصادی حالت کی بحالی کی بات کی جا رہی ہے،لیکن جن لوگوں سے کام لیا جا رہا ہے وہ ورلڈ بینک اور عالمی مالیاتی ادارہ کے ملازم ہیں جنہوں نے پاکستان کو اقتصادی غلامی کے شکنجے میں کسا ہے۔ ان اداروں کا مشن پاکستان کی اقتصادی بحالی نہیں بلکہ بدحالی ہے۔ اس لحاظ سے میں پاکستان کے بارے میں پرامید نہیں ہوں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اسلام کاجذبہ اجاگر کیا جائے اور ان اداروں پر تکیہ کرنے کی بجائے عالم اسلام سے روابط مستحکم کئے جائیں جن کا دشمن ایک ہے۔ کیونکہ قرآن کی رو سے عالم کفر ایک ہے۔ وہ پاکستان ،سعودی عرب ، ایران یا افغانستان کا مخالف نہیں بلکہ اسلام کا مخالف ہے۔ یہود و نصاریٰ ہمیں اتنا کمزور بنا دیناچاہتے ہیں کہ پاکستان سانس بھی نہ لے سکے۔ اسلام اور اسلام کے نام پر جو کام بھی ہوا، اس کو جتنا فروغ دیا جا سکتا ہے حکومت اسے فروغ دے۔ پاکستان میں بھی بہت سا کام کرنا باقی ہے۔ اس وقت سرکاری سطح پر صرف ایک ہی اسلامی تعلیم دینے والی یونیورسٹی ہے جو اسلام آباد میں قائم ہے جو ناکافی ہے۔ کم از کم۳۰؍۲۵ اسلامی یونیورسٹیاں قائم کی جانی چاہئیں۔

٭...۱۲؍اکتوبر کے بعد قائم ہونے والی حکومت کے عہدیداروں نے جو حلف اٹھایا تھا، اس میں عقیدئہ ختم نبوت کی شق نکال دی گئی تھی۔ آئین کی رو سے حکومت کا یہ اِقدام کیا جائز تھا؟

حافظ عبدالرحمن مدنی: پاکستان کی صورتحال اتنی حساس ہے کہ قادیانی ہر لمحہ اس کے خلاف سازشوں میں لگے ہوئے ہیں۔ اس لئے حلف کے متن میں سے ختم نبوت کی شق خارج کرنا تشویشناک ہے۔ حکومت کو بھی مسلمانوں کو مطمئن کرنے کے لئے اس غلط اقدام کو نظر انداز نہیں کرناچاہئے۔ مسلمانوں خصوصاً دینی حلقوں میں اس سے جو اضطراب اور تشویش پیدا ہوئی ہے اس کا اِزالہ بے حد ضروری ہے۔

٭... امریکی صدر بل کلنٹن کے دورۂ پاکستان کے کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں ،ان کا پاکستان آنا پاکستان کے لئے کس قدر فائدہ مند ہو سکتا ہے؟

حافظ عبدالرحمن مدنی: صدر کلنٹن اگر یہاں مہمان کی حیثیت سے آتے ہیں تو خیر ہے۔ لیکن سپر پاور کے طور پر آئے تو اس حیثیت میں ان کاآنا پاکستان کے لئے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ سپر قوت کا زیردست قوت سے ملنا اچھی میزبانی نہیں ہو سکے گی۔ ہمارے ملک کو خود دار بننا چاہئے وہ مہمان کے طور پر آئے تو ان کو عزت دی جائے لیکن موقف میں ہرگز تبدیلی نہ لائی جائے۔ مجھے تو خدشہ ہے کہ وہ پاکستان پر دبائو ڈال کر اسے مجبور کر کے اپنے مفادات حاصل کرنے کی کوشش کریں گے اور ہمارے حکمران دبائو میںآ کر تھالی میں رکھ کر کچھ انہیں دے، نہ دیں وہ دن بڑا خوفناک ہو گا۔ پاکستان کے خوددار عوام ایک بات پر متفق ہیں کہ وہ امریکہ کی غلامی میں نہیں جانا چاہتے ۔خطرہ یہ ہے کہ پاکستان اپنے آپ کو غلام تصور نہ کر لے۔ سی ٹی بی ٹی پر دستخط کر دیئے تو غلامی بھی آ جائے گی۔ اللہ نہ کرے ہم وہ دن دیکھیں۔ ویسے اگر امریکی صدر نہ بھی آئیں تو پاکستان کو اقتصادی طور پر بدحال کرنے کا کام ہو رہا ہے یہاں ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے نمائندے بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں۔حکومت سٹیٹس کو کی کیفیت ختم کرے، اسلام کے بارے میں اپنا نقطہ ٔ نظر واضح کرے۔ عوام کی فوج کے ساتھ عقیدت کی وجہ یہ ہے کہ وہ اسے اسلامی فوج سمجھتے ہیں۔ موجودہ پالیسی کے نتیجے میں ان میں مایوسی پھیل رہی ہے اگر یہ رویہ اسی طرح برقرار رہا تو لوگ مایوسی چھوڑ کر میدان میں آجائیں گے۔

٭... آپ کی نظر میں کس حکومت کے دور میں نفاذِ اسلام کے سلسلے میں کام ہوا؟

حافظ عبدالرحمن مدنی: میرے خیال میں جنرل ضیاء الحق کے دور میں دینی فضا زیادہ بہتر انداز میں ہموار ہوئی۔ اس دور میں اسلام کے نفاذ کا سب سے زیادہ زور دار نعرہ لگایا گیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کا مارشل لاء تحریک ِنظامِ مصطفی ؐ کا نتیجہ تھا۔ ان سے قبل بھٹو کے دورمیں شراب کو ممنوع قرار دیا گیا حالانکہ انہوں نے خود اعتراف کیا تھا کہ وہ شراب پیتے ہیں، اس طرح جمعہ کی چھٹی کا اعلان بھی بھٹو ہی کے دور میں ہوا۔ سب سے بڑھ کر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا۔ لیکن نواز شریف کے دور میں تمام کوششیںاسلام کے نفاذ کی بجائے اِقتدار کو مستحکم کرنے کے لئے کی گئیں۔ دستوری ترامیم کی منظوری بھی حکومت کو دوام دینے کے لئے حاصل کی گئیں۔ اقتدار میں آنے کے بعد سب سے پہلا اقدام انہوں نے جمعہ کی چھٹی ختم کر کے اتوار کی چھٹی کا اعلان کر کے کیا۔ اس سے ہٹ کر کہ اسلام میں چھٹی کا تصور ہے یا نہیں ہمارا موقف یہ ہے کہ اگر چھٹی کرنا ہی تھی تو پھر جمعہ کو ہی ترجیح دی جانی چاہئے تھی۔

٭... آپ حکومت کے حلیف تھے ،آپ نے اس ضمن میں کیا کردار ادا کیا؟

حافظ عبدالرحمن مدنی: ہماری جماعت کی سیاست ''اہلحدیث اتحاد کونسل'' کے حوالے سے ہوتی رہی ہے۔ میں اتحاد کونسل کی ایگزیکٹو کونسل کا رکن ہوں۔ میں نے ان تمام اِقدامات کی مخالفت کی، اس کے علاوہ ہم نفاذِ شریعت کے حوالے سے بھی حکومت پر عملی طور پراحتجاج کرتے رہے ہیں۔

٭... سپریم کورٹ کی طرف سے سود کے خاتمے کے بارے میں تاریخی فیصلے میں آپ کا بھی بڑا کردار رہا ہے، اس فیصلے پر عمل درآمد کے ضمن میں آپ کیا توقع رکھتے ہیں؟

حافظ عبدالرحمن مدنی: سپریم کورٹ کے شریعت بنچ نے بلاشبہ تاریخی فیصلہ دیا ہے۔ جسٹس وجیہ الدین کا کردار بھی مثالی ہے۔ عدالت ِعظمیٰ نے اس سلسلے میں مکمل جامع اور بہترین فیصلہ دیا ہے اور اس کے نفاذ کے سلسلے میں بھی حکومت کو مکمل رہنمائی مہیا کر دی ہے۔ حکومت نے اگرچہ عدالت کے حکم پر ایک ماہ کے اندر کمیشن تشکیل دے دیا ہے، اب حکومت کے لئے یہ سنہری موقع ہے کہ اس کا نفاذ کرے۔ البتہ ایک بات محل نظر رہے کہ حکومت نے جو اا؍رکنی کمیشن بنایا ہے، اس کے ارکان کی اکثریت سود کی حمایتی ہے۔ عوام کی نظریں اب حکومت پر ہیں کہ وہ کیا قدم اُٹھاتی ہے۔

٭... صدرِ مملکت جناب رفیق تارڑ سے آپ کے بہت قریبی مراسم ہیں ۔اس حوالے سے ان سے کیا توقع رکھتے ہیں؟

حافظ عبدالرحمن مدنی: صدر رفیق تارڑ اس ادارے کے طالب علم بھی رہے اور اس کے سربراہ بھی ۔ اس لئے ان سے تعلق سے انکار نہیں ہے لیکن ان کا پاکستان کے آئین کی رو سے کوئی کردار نہیں ہے وہ قانونی طور پر محض ڈمی ہیں۔ آٹھویں ترمیم کے بعد تو گویا انہیں لاتعلق کر دیا گیا ہے۔ اس وقت ان کا کوئی کردار نہیں رہا ، وہ تو صرف ایک شو پیس ہیں تاہم میں ان کی ذاتی نیکی کا قائل ہوں۔

٭... دینی مدارس کے طلبہ جدید علوم سے نابلد رہتے ہیں جس کی وجہ سے وہ معاشرے میں مؤثر کردار ادا کرنے سے معذور ہیں جب کہ مغربی طاقتیں ان دینی تعلیم کے مراکز کو دہشت گردوں کی تربیت گاہ کا نام دے رہی ہیں۔ آپ کا کیا تبصرہ ہے؟

حافظ عبدالرحمن مدنی: ہمارے دینی نظامِ تعلیم کا ارتقاء سامراج کے آنے کے بعد وہیں رک گیا جو روایتی نظام تھا، اس کی ارتقائی شکل میں بہت سی کمزوریاں پیدا ہو گئی تھیں۔ اس کو اب زمانے کے ساتھ ہم آہنگ کرنا چاہئے۔ ان کمزوریوں کو دور کرنا چاہئے۔ برصغیر میں مسلانوں کے اندر جہادِ اسلامی کی بنیادی وجہ یہ دینی مدارس ہیں جنہیں عالمی طاقتیں کسی نہ کسی طریقے سے ختم کرنا چاہتی ہیں اور چاہتی ہیں کہ مدارس کے لوگ حجروں تک محدود ہو جائیں اور خانقاہی صورت میں تبدیلی نہ ہو۔ وہ دہشت گردی کے نام سے ان مدارس کو بند کرانا چاہتے ہیں۔ جہادِ افغانستان میں اسلام کا نعرہ ہی پیش پیش تھا جس کی دنیا بھر کے مسلمانوں نے حمایت کی۔ امریکہ نے بھی اپنے مفاد کی خاطر اس کی حمایت کی اور مطلب نکل جانے کے بعد اس نے اپنی راہ لی لیکن مسلمانوں کا جہاد کا جذبہ ٹھنڈا نہیں ہوا۔ اسلام کا تصورِ جہاد دہشت گردی کے بالکل برعکس ہے۔ جہاد کا مقصد کمزوروں ،بے سہاروں اور مظلوموں کے کام آنا ہے۔ مدارس کے اندر دہشت گردی کا کوئی تصور ہی نہیں وہاں اسلام اور سلامتی کی تعلیم دی جاتی ہے ،محض جہاد کے نعرے کی وجہ سے اسے دہشت گردی کا نام دیا جا رہا ہے۔

٭... اگرحکومت نے ان مدارس پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا تو آپ کا ردّ ِعمل کیا ہو گا؟

حافظ عبدالرحمن مدنی: دینی مدارس پر پابندی کبھی برداشت نہیں کی جا سکتی لیکن جہاں تک انہیں ترقی دینے اور ان کے مخلصانہ اِصلاحِ احوال کی باتیں ہیں، ہم اس کی پوری تائید کرتے ہیں۔

٭... کیا دینی و مذہبی جماعتیں ایک پلیٹ فارم پر اکٹھی نہیں ہو سکتیں؟

حافظ عبدالرحمن مدنی: تمام دینی و مذہبی جماعتیں ایک پلیٹ فارم پر ہی جمع ہیں ،اختلاف صرف سیاسی ہے۔ حتیٰ کہ جن مسائل میں اِختلاف ہے، وہ معاشرتی نہیں بلکہ مسجد کے ہیں۔ ان تمام جماعتوں کا موقف ایک ہے۔ اختلاف کی وجہ سیاسی اتحاد ہیں یا اقتدار کی سیاست ۔ جمعیت علمائے اسلام ،جمعیت علمائے پاکستان ،جماعت ِاسلامی حتیٰ کہ تحریک ِجعفریہ بھی نفاذِ اسلام پر متفق ہیں ۔شریعت بل کی تحریک کے معاملے میں تمام دینی جماعتیں اکٹھی ہیں۔ جامعہ المنتظر نے بھی شریعت بل کی حمایت کی تھی۔ اب اگر کوئی یہ کہے کہ ان جماعتوں میں سو فیصد اتفاق ہو تو یہ مشکل ہے۔

٭... اہلحدیث میں دھڑے بندی یا گروپ بندی کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟

حافظ عبدالرحمن مدنی: اہلحدیث کی تنظیمیں تو مختلف ہیں لیکن ان کا سیاسی موقف ایک ہے۔ تنظیموں کے الگ الگ ہونے کی وجہ ذاتی مفادات ہیں لیکن متعدد تنظیموں سے کچھ فرق نہیں پڑتا ،شرط یہ ہے کہ وہ آپس میں نہ اُلجھیں۔ اہلحدیث جماعتوں کی سیاسی قوت اہلحدیث اتحاد کونسل ہے ،تمام جماعتیں سیاسی معاملات میں اتحاد کونسل کے تابع ہیں۔ اسی طرح اہلحدیث جہاد کونسل جہادی تنظیموں کے درمیان رابطے اور اشتراکِ عمل کا ذریعہ ہے۔

٭... شریعت کورٹس کے اختیارات کے بارے میں آپ کی کیا تجاویز ہیں۔

حافظ عبدالرحمن مدنی: شریعت کورٹس مختلف مسائل و معاملات کی شریعت کے مطابق تفسیر و تعبیر کرتی اور شریعت کی روشنی میں رہنمائی کرتی ہیں لیکن ان کورٹس کیلئے ججوں کی تقرری کا معیار درست نہیں۔ یہاں ججوں کو فقہ میں مہارت کی بنیاد پر نہیں بلکہ ان کی انگریزی کی بنیاد پر مقرر کیا جاتا ہے۔

٭... نیشنل سکیورٹی کونسل میں ڈاکٹر محمود احمد غازی کو بھی شامل کیا گیا ہے جو عالم دین ہیں ان کی موجودگی میں موجودہ سیٹ اَپ سے نفاذِ اسلام کی کوئی توقع رکھی جا سکتی ہے۔

حافظ عبدالرحمن مدنی: سوال یہ ہے کہ وہ حکومت میں کس قدر مؤثر ہیں۔ اگر وہ اپنا مؤثر کردار اداکر سکیں تو بہت اچھا ہے لیکن اگر انہیں محض نمائشی طور پر رکھا گیا ہو تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔

٭... فرقہ واریت اور مذہبی منافرت کی وجہ کیا ہے اور اس پر کس طرح قابو پایا جا سکتا ہے؟

حافظ عبدالرحمن مدنی: فرقہ بندی کی اصل بنیاد تعصبات پر ہے۔ برصغیر میں شیعہ سنی کا مسئلہ پیدا نہیں ہوا تھا ،یہ مسئلہ اس وقت پیدا ہوا جب عالمی سطح پر دو بلاک سامنے آئے ایک اہل تشیع کا اور دوسرا اہلسنّت کا ،جس کا پس منظر سیاسی تھا۔ یہ خود نہیں اُلجھے تاہم اس سے دوسرے لوگوں کو موقع مل گیا عقیدے کے اختلاف سے فرقہ پرستی پیدا نہیں ہوتی ، تعصبات کی زیادہ تر وجوہ سیاسی ہیں۔ اس رحجان کے خاتمے کا واحد طریقہ تحقیقی رحجان پیدا کرنا ہے۔ علماء تحقیق کریں، فروعی اختلافات کو عام پلیٹ فارم پر لانے سے گریز کریں، اس سے مسائل میں شدت ختم ہو جائے گی۔

٭...سی ٹی بی ٹی پر دستخطوں کے حق میں ہیں یا مخالفت میں؟

حافظ عبدالرحمن مدنی: سی ٹی بی ٹی کے دفعات کے اندر بظاہر تو کوئی خوفناک بات نظر نہیں آتی لیکن اگر آپ پولیس کو اجازت دیدیں تو پھر اس کا ہاتھ کون روک سکتا ہے جب امریکہ کو گھر کی تلاشی کا موقع مل گیا تو وہ وہی کچھ کرے گا جو عراق کے اندر ہو رہاہے۔اس لئے اس کی تائید کرنا درست نہیں۔

اِدارۃ الإصلاح کا تربیتی اِجتماع برائے علمائِ کرام

ادارۃ الاصلاح ...مرکز البدر ، بنگہ بلوچاںنزدپھول نگر(بھائی پھیرو) میںعلماء کاتیسرا سہ روزہ تربیتی واصلاحی اجتماع ۲۵؍مارچ ۲۰۰۰ء بروز ہفتہ نمازِ ظہر سے شروع ہوکر ۲۷؍مارچ ۲۰۰۰ء بروز پیرنمازِ ظہر تک منعقد ہوگا (اِن شاء اللہ)

جس میں شیخ الحدیث حافظ ثناء اللہ مدنی، حافظ صلاح الدین یوسف ،مولانا حافظ محمد شریف حافظ مسعود عالم،مولانا عبد الرشید مجاہد آبادی ، پروفیسر مزمل احسن شیخ، قاری محمد ابراہیم میرمحمدی اوردیگر علماء ِکرام تربیت فرمائیں گیـ۔ ( محمد یحییٰ عزیز میر محمدی فون: 04943-510116 )

نوٹ: علماء کے اجتماع کے اختتام پر عوامُ الناس کا سات روزہ تربیتی کورس بھی شروع ہوجائے گا

جو آئندہ سے ہرماہ ماہانہ اجتماع سے متصل باقاعدگی سے منعقد ہوا کرے گا۔ان شاء اللہ