خیبر شکن مناظر

’’وہ آیا، اس نے دیکھا اور فتح کر لیا‘‘ کا مصداق…اللہ کی قدرت کاشاہکار…یہ تھا مردِ میدان حافظ عبد القادرروپڑی ؒ… چہرہ ہر وقت متبسم …ہر ملاقاتی کا خندہ پیشانی سے استقبال … مہمان نوازی کا نبوی سلیقہ ، بچوں کا بھی احترام، نہ کسی کو گالی نہ دُشنام طرازی ، دلیل کی زبان سے مخالف زیر ، اختلافِ رائے کا پورا حق دیتے اور رکھتے ۔اپنے رب کے راستے کی طرف سے بلاتے حکمت ، موعظہ ٔحسنہ بلکہ جدالِ احسن کے ساتھ   ؎
جس سے جگر لالہ میں ہو ٹھنڈک وہ شبنم
دریاؤں کے دل جس سے دہل جائیں وہ طوفان !

ایسے لگتا ہے کہ جیسے ا للہ تعالیٰ نے ان کی تخلیق ہی مناظروں کے لیے کی تھی۔بے حسی کے دور میں جب بھی فتنے کی بو سونگھتے، فوری خم ٹھونک کر سامنا کرنا وصف ِخاص تھا اس عظیم شخصیت کا ۔ جوانی میں توسبھی تبلیغ کرتے ہیں لیکن بڑھاپے میں ، بیماری میں بلکہ چلنے پھرنے سے معذوری میں بھی انکار نہ کیا اور دیکھنے والوں نے دیکھا کہ اَسی سالہ جوان نے کہ جسے اٹھاکر منبر پر بٹھایا جاتا تواللہ کے فضل سے تین تین گھنٹے قرآن وسنت کے نور کی بارش کرکے سینے منور کئے، جہالت کے اندھیروں کو دل ودماغ سے دور کرکے طالب ِحق کے لیے مینارہ ٔ نور بنے ۔ سینکڑوں نہیں ہزاروں کی ہدایت کا ذریعہ بنے ۔اللہ اکبر ! وہ ایک ایسا مردِ درویش، مردِ حق تھا کہ جس میں خوئے دل آویزی تھی ، نان جویں کے ساتھ حق تعالیٰ نے اسے بازئوے حیدربھی بخشا تھا۔ مشرکوں ، بدعتیوں ، غالیوں اور تبرائیوں کے کتنے ہی قلعوں کا وہ خیبر شکن تھا ۔ کتنے ہی مرحب اس کے دلائل کی کاٹ سے کٹ گئے ۔ اَمر واقعی اس نے بحر ظلمات میں بھی گھوڑے دوڑائے کہ جہاں بڑے بڑوں کا پتہ پانی ہوتا تھا۔ تن تنہا پیدل ، گرتے پڑتے،بھاگتے دوڑتے حافظ صاحب مرحوم نے اذانِ حق دی کہ اللہ کی حجت تمام ہو جائے     ؎
پیامِ حق سنا دیتا ہے قیصر وکسریٰ کی محفل میں
نہیں مرعوب ہوتیں اس کی آنکھیں شان وشوکت سے !

ہم نے دیکھا کہ ججوں ،پروفیسروں اور بڑے بڑے زعمائے ملت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے محترم حافظ عبد القادر ؒ نے ہر کفر وشرک کے جالے کے تارو پود بکھیر کر رکھ دئیے ۔

دعوت دینے کی دیرہوتی اور حافظ صاحب فوری تیار ،ساتھ ہی چل پڑتے کہ جانشین رسولِ امین ہونے کاحق اسی طرح ادا ہوتا ہے ۔بیماری میں کوہِ ہمالہ سے زیادہ صبر کا مجسمہ کہ صبر ایوبی ؑکی مثال سامنے آتی ۔

یہ میرے لیے اعزاز ہے کہ میں اس مردِ دانا کی عظمت کے گن گاؤں کہ جس کی تربیت سے آج کہنے ، سننے اور لکھنے کے اہل ہوئے ۔اللہ انہیں اب انبیاء کے تاجدار جناب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا جنت میں ساتھ نصیب فرمائے ۔اور ہمیں ان کے بعد اندھیروں میں شمع حق روشن رکھنے کی توفیق دئے رکھے ۔آمین !

درویشی میں شہنشاہی

حضرتعمر فاروق ؓ کی ذات کے حوالے سے کسی غیر مسلم مفکر نے تجزیہ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ہمہ جہت شخصیت تھی، اس لیے کہ جناب عمر ؓ محمد رسول اللہ ﷺ کی سیرت ِاقدس کا عکس لیے ہوئے تھے۔فرمانِ ربانی کے مطابق یقینا ہمارے لیے اللہ کے رسول ـؐکی زندگی میں بہترین نمونہ موجود ہے ۔یہ نمونہ ہمارے لیے جب ایک عالم با عمل کی شکل اختیار کرتا ہے تو بنی اسرائیل کے انبیاء کی مانند نظر آتا ہے ۔ اوربقولِ اقبال ع ’’نظر آتا ہے قاری ، حقیقت میں ہے قرآن ‘‘…ایسا سوچ لینا تو آسان ہے لیکن اس کے مصداق بن کر دکھانا جوئے شیر لانے مترادف ہے۔یہود بے بہبود کو اسی لیے پھٹکار پڑی کہ کہتے کچھ اور کرتے کچھ تھے ،عالم با عمل پھر مجسمہ ٔحلم کہ شیوئہ پیغمبری ہے کہاں سے ایسا لاؤں !!

کردار کی اصل جھلکیاں تو وہی ہوں گی جو عملی زندگی میں صرف اللہ کے بندے بن کر رہے اور اسی کی راہ میں ساری زندگی بتا دی۔ اس صدی کی عظیم روحانی، عالمی اورعلمی شخصیت حافظ عبدالقادر روپڑیؒ کہ اپنی مثال آپ تھی ۔جناب حافظ عبد القادر روپڑی ؒ …ایک عہدساز شخصیت،سینکڑوں نہیں ہزاروں پر بھاری ، امت ِقانت کی تفسیر ،سادگی کا مرقع حافظ صاحب سادہ لباس پہنتے۔ ہمیشہ کرتا لنگی پہنی، سر پر کلاہ رکھا، کج کلاہ بننے سے محفوظ رہے ۔ زمین پر بیٹھ کر کھانے میں عار نہ تھی ۔گفتگو میں شیرینی ، اگرچہ انتہائی سادہ لیکن مدلل اندازجس سے سننے والے پر کسی قسم کابوجھ نہ پڑتا۔ تقریر کرتے تو روانی ہوتی او رسامعین ساتھ ساتھ شیریں بیانی سے متاثر بد عقائد سے توبہ کرتے چلے جاتے ۔ دور دور سے کھنچے چلے آتے۔وہ تھے بھی ایسے ہی سنگ ِپارس کہ جو سنگ لگے توسونابن گئے، سنگدلی دور ہوجائے ۔ ناواقف پہلی بار اندازہ بلکہ یقین نہ کر پاتا کہ یہی معروفشخصیت ہیں حافظ عبد القادر ؒ! لیکن جب قادر الکلامی سے دین کے موتی بکھیرتے، مشامِِ جاں کومعطر کرتے تو ہزار جان سے دِل صدقے صدقے ہو جاتا۔ان کی مجلس میں یا وہ گئی ہوتی نہ بیہودہ گوئی کہ آج ہماری مجلسوں کا یہی وطیرہ بن گیا ہے ۔ حافظ صاحب کی مجلس عطار کی مجلس تھی کہ خودبخود ہی جاہل کو بھی علم سے وافر حصہ مل جاتا۔ او رمشامِ روح بھی معطر ہو جاتے ۔

جناب حافظ عبد القادر روپڑی ؒ میں نہ تو یبوست تھی، نہ ہی زیادہ نرمی۔ عموماً چار کتابیں پڑھنے کے بعد علامہ فہمامہ کہلوانے کاجو جنوں آج کل چڑھا ہوا ہے، وہ اس سے کوسوں دور تھے ۔نفاق نام کو نہ تھا۔لگی لپٹی بغیر کہہ دیتے لیکن ادب واحترام یا شفقت کے تقاضوں کو ہمیشہ ملحوظ رکھتے ۔ دل شکنی سے کوسوں دور تھے ۔خشونت نام کو نہ تھی جسے آج کل بڑوں کا طرئہ امتیاز گردانا جاتا ہے ۔

بشری خامیوں اور کوتاہیوں سے کسی کومفر نہیں ، لیکن دوسروں کے عیب اُچھالنا بھی تو علماء کی شان کے شایان نہیں ۔ہمارے ہاں بعض جہلاء کو مسئلہ سمجھ نہ آئے تو کیچڑ اچھالتے ہیں ۔ یا یوں کہہ دیناکہ حافظ عبد القادر کوئی پیغمبر تو نہیں ۔بالکل ٹھیک ٹھاک ، بجا فرمایا کہ حافظ صاحب پیغمبر تو نہ تھے لیکن جس طرح انہوں نے رسولِ امین کے جانشین ہونے کاحق ادا کیا، کیا ہم اس کا عشر عشیر کرنے کا بھی سوچ سکتے ہیں؟ ذرا گریبانوں میں جھانک کر دیکھیں۔کس میدان میںحافظ صاحب پیچھے تھے ، انہوںنے تو کبھی کسی پر زبانِ طعن دراز نہ کی ، کہ وہ اندر سے بھی خارجی تھے نہ بد باطن۔ہمیشہ مدلل باحوالہ گفتگو کی ۔ چہرے پر یقین کا ایسا جمال اور دلائل کا ایسا جلال تھا کہ مد ِمقابل تحسین کئے بغیر نہ رہتا۔

جامع قدس کا انتظام ہو یا تنظیم اہلحدیث کی نگرانی اور اشاعت، طلبہ کے قیام وطعام کابندوبست ہو یا دیگر ضروریات کا مہیا کرنا ، مہمانوں کا استقبا ل ہو یا مہمان نوازی سب حسب ِمراتب خوش دلی سے انجام دیتے ۔شہر لاہور میں کہیں کوٹھے آباد ہونے کاپتہ چلتا،جواریوں کے تباہی پھیلانے کی خبر ملتی تو فوراً ایس ۔ایس ۔پی صاحبان کوفون کرتے کہ ’’تم ہی امت ِمسلمہ کے ذمہ دار ہو ،جاگو کہ اندھیرے میں مال وجان کے ساتھ لوگوں کی آبرو لٹ رہی ہے ،تم غفلت میں پڑے ہو اور شہر میں بدمعاشی ہور ہی ہے، اللہ کو روزِقیامت کیاجواب دو گے؟‘‘ ایک لمحہ ٹھہر کر ذرا سوچئے کہ یہ احساسِ جواب دہی کس میں ہے اور کونسا خطیب ِشہر ہے جو کوتوال کو بھی جگائے! یہاںتو وعظ کے بعد خطباء اور سامعینسوئیں تو چاشت کی خبر لائیںاور ایسے واعظوں کو اب کہاجاتا ہے مہربانی کر کے آئندہ ایسا بے عملی کا وعظ کرنے ہمارے ہاں تشریف نہ لائیں! إنا للہ وإنا إلیه راجعون

روپڑ کی ایک مسجد میں خطبہ شروع کرتے ہی کفا رکا عمل دہرایاگیا تو حافظ صاحب کی زبان سے گالیاں نکلیں نہ بددعائیں، نہ آپے سے باہر ہوئے ،نہ تبرا بولا ،نہ زبانِ طعن دراز کی کہ ایسے وقت میں ہی بندے کا کردار نکھر کر سامنے آتا ہے ۔آپ تھے ہی حلم وتحمل کا مجسمہ۔چوہدری صدیق مرحوم کہا کرتے تھے کہ مجھے وہابیوں کی مسجد جڑ سے اکھاڑنے کا جنون تھا لیکن حافظ صاحب مرحوم کے دلائل اور مخلصانہ اندازِ دعوت نے جھاگ کی طرح بٹھا دیا ،بلکہ راہِ راست پر لگا دیااور وہ ان مساجد کے محب بن گئے تھے ۔

حافظ صاحب میں مداہنت نام کو نہ تھی، جس کسی سٹیج سے بولے، حق ہی بولے ۔قرآن پڑھنے کا اپنا ہی ایک روپڑی سٹائل تھا۔ سادہ لیکن دل موہ لینے والاانداز،ہیکیں لگاتے تھے نہ قرآن کو گاتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گا کر قرآن پڑھنے سے منع فرمایا تھا۔اسی لیے آج کے واعظ میں روحِ بلالی ؓ نہیں رہی ۔

مجھے جب آسان ترجمہ پیش کرنے کی سعادت حاصل ہوئی جسے جناب حافظ نذر احمد حفظہ اللہ نے مرتب فرمایا تھااور دیگر علماء کی معیت میں بندئہ عاجز نے اپنی بے بضاعتی کے باوجود بتوفیقہ اس میں حصہ لیا تھا ۔ جناب حافظ عبد القادر ؒ نے ایک نظر دیکھنے کے بعد فرمایاکہ سورئہ یوسف کے چند الفاظ کا ترجمہ سنائیں مثلاً: بَثِّی : میری بے قراری ، حَرَضًا: بیمار ، اٰثرک: پسند کیا؍فضیلت دی ، ضَلٰلِكَ الْقَدِیْم: پرانا وہم …ژرف نگاری کایہ عالم تھا کہ خوب تحسین فرمائی کیونکہ ترجمہ آسان ،عام فہم اور بفضلہ تعالیٰ منشائے ربانی کے قریب قریب تھا۔حاضر جوابی ایسی کہ ایک دفعہ تقریر کے دوران اقبالؒ کے حوالے سے جب فرمایا کہ آگ آج بھی اندازِ گلستان پیدا کر سکتی ہے توکسی نے چٹ بھیجی کہ ہم آگ جلاتے ہیں،آپ چھلانگ لگائیں گے، فوراً ہی جواب مرحمت فرمایا:’’تم نمرود بن کے آگ جلاؤ، میں ابراہیمی ایمان کامظاہرہ کرتے ہوئے چھلانگ لگادوں گا‘‘

ایک شخص نے نماز سے پہلے بلند آواز سے نیت کی تو اس پرفرمایا کہ ’’آپ کونیت یوں کرنی چاہئے تھی:دورکعت پیچھے اس امام کے اور دورکعت بعد میں اٹھ کر اکیلے ‘‘ کہنے لگا: بات تو ٹھیک ہے   لیکن نام پوچھ کر کہنے لگا: مگرآپ کی بات نہ مانوں گا؟…تعلیم کے لیے مجمع کا انتظار نہ کرتے تھے۔     «کلّموا الناس علی قدر عقولهم» پر عمل پیرا رہتے ۔ایک ایک لفظ دل ودماغ میں اترتاجاتا۔ ایک ایک فقرے میں معانی کا دریا بہاتے۔ کوزے میں دریا بند کرتے۔ ہم نے انہیں دیکھا،گلا پھاڑتے نہ دیکھا، ہاں گلے سے گلا ملاتے، گلہ دور کرتے ضرور دیکھا ۔ٹھیٹھ پنجابی بولتے ، اردو پر بھی کاملعبور تھالیکن تقریرپر کمالِ عبور کہ زبانیں ہاتھ کی چھڑی یا گھڑی کی طرح ہاتھ باندھے کھڑی رہتی تھیں ۔سوچ بچار کا مسئلہ نہ تھا۔کہ اللہ کریم نے کمال کا حافظہ دیاتھا۔نوکِ زبان پر جواب دیتے جیسے لالہ وگل کھلے پڑ رہے ہوں۔ نباض تھے ،لفاظ نہ تھے ۔ لوگوں کو گنگ کر دیتے کہ یہ اللہ نے کمال بخشا تھا۔ہر ایک سے سلوک شایانِ شان کرتے ۔جیسے بادشاہ بادشاہوں سے سلوک کرتے ہیں۔

توحید پر استقامت کایہ عالم تھا کہ روانی میںفرما گئے کہ رسالتماب ؐنے حدیث ِپاک کے ذریعے ایسی تربیت کر دی ہے کہ بڑے سے بڑامتنبی بھی شرک کے لیے کہے تو اللہ کے فضل سے ردّ کر دیں گے ۔  

بشری خامیاں اور کوتاہیاں بہر حال ہوتی ہیں ۔حافظ صاحب نبی ؑتھے نہ صحابی ؓ،لیکن علمائے دین رحمہم اللہ کی صف میں ایک ممتاز مقام کے حامل نظر آتے ہیں ۔ ان کی ایک مجلس میںجو فیض ملتا تھا وہ کتابوں کے اَنبار سے بھی ملنا ممکن نہیں ۔ کیوں کہ اللہ نے صاحب ِکتاب کوپہلے بھیجا اور نزولِ کتاب بعد میں کیا ۔اسی لیے قرآن دیکھیں تو رسول خُلُقُه الْقُرآن کا حامل نظر آتا ہے ۔اگر رحمت للعالمین کی ذاتِ اقدس کو دیکھیں تو یو ں محسوس ہوتا ہے جیسے قرآن مجسم سیرتِ اسوۂ حسنہ بن گیا ہے ۔

بس اسی نورِ نبوتِ مصطفی کی کرنوں سے مُستنیر ہو کر حافظ عبد القادر ؒاعلیٰ مناظر ،حاضر جواب ادیب ، فقیہ ِدوراں اور انکساری وعاجزی کے بلند مقام پر بے مثل نظر آتے ہیں ۔ضرورت اس بات کی ہے کہ اب حافظ صاحبؒ کے بلند کردار کی روشنی میں :

1۔         جامعہ قدس کو ایک عالمی ادرہ بنانے کے لیے جملہ مساعی ٔجمیلہ بروئے کار لائیں ۔

2۔        ان کی تقاریر کو تحریری شکل دینے کے لیے باقاعدہ عملی منصوبہ بنائیں۔

3۔        کیسٹوں کو یکجا کر کے پاکستان کے علاوہ بیرونی ممالک کی مساجد میں بھجوانے کا بندوبست کریں کہ اس سے بھی عقیدہ وعمل کی اصلاح ہوگی ۔

4۔        جامعہ قدس سے فارغ التحصیل ہونے والے علماء کوقرآنی آیات پر مبنی حافظ عبد القادرروپڑیؒ شیلڈ دی جایا کرے ۔

5۔        علم وعمل اور حلم کے حامل بلند کردار ژرف نگاہ تقریر وتحریر کے کامل نمونوں والے علماء تیار کر کے اصلاحِ احوال کے لیے معاشرے میں پھیلائے جائیں۔

6۔        ایسے علماء سکولوں ،کالجوں اور یونیورسٹیوں میں کتاب وسنت کا پرچار کرنے کے لیے آگے بڑھائے جائیں تا کہ جہالت کے اندھیرے چھٹ جائیں۔

7۔        روپڑی خانوادہ علم وفضل کے جملہ وارثانِ علم وعمل سال میں کم از کم ایک بار مل کر سالانہ کارکردگی کا جائزہ لیں اور اپنا محاسبہ کرکے آئندہ کا لائحہ عمل تشکیل دیں۔

8۔        خامیوںکو دور کرکے اصلاح احوال کے لیے اقدامات لازماً تیزی سے اٹھائیں۔

9۔         مجلہ محدث اور تنظیم اہلحدیث کے ذریعے حجیت ِحدیث کو نیر تاباں بنائیں کہ یہ حافظ صاحب مرحوم کا خاص موضوع تھا۔

10۔        قرآن وسنت کی روشنی میں جہالت بلکہ کفروشرک، بدعت، نفاق،تعصب،عناد ،کینے ،اور دہشت کے خلاف جہاد کیا جائے ۔      تلک عشرۃ کاملہ

آخر میں حافظ صاحب کے ساتھ ساتھ سیدنا جناب حافظ عبد اللہ محدث روپڑیؒ، جناب حافظ محمد حسین روپڑیؒ اور جناب حافظ اسماعیل روپڑی ؒبلکہ سب بزرگوں کے لیے بلندیٔ درجات کی دعاؤں کے ساتھ ساتھ صمیم قلب سے دعا ہے کہ اللہ کریم ہم سب پسماندگان کو ان کا جانشین بننے کا اہل بنائے ، یعنی جانشینی کا حق ادا کرنے کی توفیق بخشے ۔آمین!

جس طرح وہ نوجوان خطباء کی تربیت اور سرپرستی فرماتے رہے۔اس طرح سر پرست بن جائیں تا کہ بعد میں خلا باقی نہ رہے ۔انہوں نے اونچا بول بولا، نہ اونچا بولنے دیتے ۔علماء کے خلاف زبانِ طعن دراز کرتے نہ سنا ، کہ یہی درویشوں کی متاع، فقیروں کا توشہ او رآخرت کا سرمایہ ہے ۔

اللہ کریم اس مشن کی تکمیل کے سلسلے میں جناب حافظ عبد الرحمن مدنی ،حافظ حسن مدنی اور عارف سلمان روپڑی کی جملہ مساعی ٔجمیلہ کو شرفِ قبولیت بخشے اور ہمیں تعاون کی بیش از بیش توفیق دے۔ آمین!