muhaddas_235_march_2000

میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

﴿كُلُّ نَفسٍ ذائِقَةُ المَوتِ﴾ خالق کائنات کا اپنی مخلوق کے بارے میں یہ اَٹل اور سرمدی اصول ہے کہ         ؎
ہر شے مسافر ، ہر چیز راہی
کیا جن و انس ، کیا مرغ و ماہی

ربّ ِکائنات کے طے شدہ منصوبے اور سوچے سمجھے پروگرام کے مطابق موت و حیات کا سلسلہ اَزل سے جاری ہے اور اَبدالاباد تک ساری رہے گا۔ وقت کا ہر لمحہ نہ جانے کتنی ہستیوں کے چراغِ حیات کو گل اور شمع زندگی کو بجھا دیتا ہے اور گلشن زندگی میں کتنے شگوفوں کو قبائے ہستی سے مزین کرتا ہے۔ موت زندگی کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔ اس حقیقت سے کسی فرد بشر کو انکار نہیں ہے نیز ا س کے وقوع سے بھی کسی کے لئے مجالِ انکار نہیں۔ اس لئے کہ یہ روز مرہ کے مشاہدات میں سے ایک ہے جس کو جھٹلانا ممکن نہیں ہے۔

ایسے وقت کسی صاحب ِعلم و عرفان کا موت کی آغوش میں چلے جانا موت العالِم موت العِلْم کا مصداق ہے۔ دین و شریعت کا نقصان و فقدان بھی علماءِ حقانی کے اُٹھ جانے ہی سے ہوتاہے۔ بڑے بڑے فقیہانِ اُمت، علماءِ کرام، زعماءِ امت اپنی طبعی عمر پوری کرکے یکے بعد دیگرے اس دنیا سے کوچ کرگئے۔ ان کے اُٹھ جانے کے بعد جو خلا اور کمی واقع ہوجاتی ہے، اسے پورا کرنا نہایت مشکل مسئلہ بن جاتا ہے، آج تک یہ خلا پر ہوتے نظر بھی نہیں آئے۔ہاں کچھ اور لوگ کسی اور رنگ میں اس خلا کی شدت میں کمی ضرورکردیتے ہیں… یہی کائنات کا نظامِ جاوید ہے!

کیا اس سے انکار کیا جاسکتا ہے کہ ہر آنے والے نے جانا ہے؟ یہ بدیہی بات ہے جو اس دنیا میں آتا ہے جانے ہی کے لئے آتا ہے۔ ایسے ہی آکر جانے والوں میں برصغیر کے معروف و مشہور روپڑی خاندان کی ایک ہمہ اَوصاف شخصیت حافظ عبدالقادر روپڑی ؒکی تھی جو کتاب اللہ اور علومِ اسلامی کے ممتاز عالم تھے۔ ان کے رگ و ریشہ میں اتباعِ سنت کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ دین حق کے شیدا اور سلفی عقیدہ کے علمبردار، ملک و ملت کے بہی خواہ، مسلم دنیا کے خیر خواہ، پاکستان میں اسلامی نظام کے نفاذ اور شریعت ِاسلامی کی بالاتری کے لئے جان لڑا دینے والے۔آپ اپنوں اور غیروں کو یکساں طور پر رُشد و ہدایت کی جانب رہنمائی کرنے والے مردِ مجاہد تھے۔

قیامِ پاکستان پر اس خاندان کے ۱۷ ؍مرد وزن کی شہادت ایک بہت بڑا حادثہ تھا ، بعد ازاں پے درپے متعدد ممتاز علماء کی رحلت اس خاندان کے لئے کمر توڑ صدمات ہیں۔ حافظ عبدالقادر روپڑی کی وفات سے پہلے بہت سے نابغہ ٔ روزگار علماء جن میں حافظ عبداللہ محدث روپڑی، حافظ محمد حسین روپڑی، حافظ محمد اسماعیل روپڑی وغیرہ ہیں، وفات پاچکے ہیں۔ انہوں نے علم کی شمعیں جلائیں اور ایسے چراغ روشن کئے جن کی روشنی سے بے راہ رو اور راہِ راست سے بھٹکے ہوئے لوگوں نے سیدھی راہ پائی اور اپنی عملی زندگی کی اِصلاح کر لی۔ یہ سب حضراتِ گرامی سلفی ُالعقیدہ تھے۔ اس کی نشرواشاعت اور ترویج کے لئے اپنا تن، من، دھن سب کچھ نچھاور کردیا تھا۔ ان کی زندگی کا مقصد دین اسلام کی بالادستی تھا۔ یہ وہ حضرات تھے جنہوں نے نمودو نمائش کی چمک دمک سے بالاتر رہ کر دین حق کی بے لوث خدمت کو اپنا شعارِ زندگی بنائے رکھا۔ حصولِ شہرت کی خاردار وادیوں سے اُلجھنے کے بجائے اپنے دامن کو بچا کر انسانیت کی خیر خواہی او رمسلمانوں کی بہتری کے لئے اپنی زندگی وقف کئے رکھی۔

ایسے باکردار صاحب ِعلم و عرفان لوگ تاریخ انسانی میں روشن ستاروں کی طرح جگمگاتے، ٹہکتے اورپھولوں کی طرح مہکتے رہتے ہیں۔ اپنے پیچھے جوعلمی اثرات چھوڑ جاتے ہیں وہ آئندہ آنے والی نسلوں کے لئے نشانِ راہ کا کام دیتے رہتے ہیں۔ ایسے صاحب ِعزیمت لوگ اگرچہ اونچے اور بڑے گھرانوں اور خاندانوں میں آنکھیں نہیں کھولتے، مگر اپنی خداداد ذہانت و فطانت، اپنے شعور و آگہی او رقابلیت و اہلیت کی وجہ سے بلندیوں کی انتہا تک پہنچ جاتے ہیں جہاں بڑے سے بڑے سرمایہ دار اور صاحب ِثروت اپنی انتہائی جدوجہد اور کوشش کے باوجود نہیں پہنچ سکتے۔

علم و شعور تو ایسی بے بہا دولت اور ایسا انمول خزینہ ہے جو اپنے قدردانوں کو اعلیٰ و ارفع مقام تک پہنچا دیتا ہے۔ ا ن کا مقصد ِوجود نظری اور عملی طور پر علم و معرفت کے موتیوں کو بکھیرنا ہوتا ہے، تادمِ واپسیں اس مشن کی تکمیل کے لئے تگ و دو اور دوڑ دھوپ کرتے کرتے دارِ بقا کی جانب عازمِ سفر ہوجاتے ہیں۔

ایسے ہی جاکر نہ آنے والوں میں ایک شخصیت حافظ عبدالقادر روپڑی کی تھی جو تقسیم ہند و پاک سے قبل ضلع امرتسر کی تحصیل اجنالہ کے گائوں کمیر پورکے ایک دینی گھرانے میں ۱۹۱۵ء؁ میں پیدا ہوا۔ اس خاندان کا اپنے علاقہ میں دینی اور علمی اعتبار سے ایک خاص مقام و مرتبہ تھا۔ برصغیر میں مسلک اہلحدیث کے سلفی نہج پر خادم خاندانوں میں سے ایک نامور و مشہور خاندان روپڑی ہے۔ غزنوی خاندان کے بزرگوں نے برصغیر میں جو پودا لگایا تھا، اس کی آبیاری میں روپڑی خاندان کا بھی نمایاں حصہ نظر آتا ہے۔ بڑھتے بڑھتے یہ پودا آج ایسا شجر سایہ دار بن چکا ہے جس سے بے شمار لوگ استفادہ کر رہے ہیں اور آخر تک کرتے رہیں گے۔ان شاء اللہ

حافظ عبدالقادر روپڑی نے اپنے محترم چچا (حافظ عبداللہ روپڑی) جو مرحوم کے سسر بھی تھے سے تعلیم حاصل کی۔ حافظ عبداللہ روپڑی اپنے وقت کے جید عالم دین اور فقہائِ اہلحدیث کے نمایاں فقیہ اور مانے ہوئے مفتی تھے۔ ان کے فتاوے، فتاویٰ اہلحدیث کے نام سے ۳ جلدوں میں مطبوعہ موجود ہیں۔ ان فتوؤں سے ان کی تبحر علمی اور فقاہت کا پتہ چلتا ہے۔ موصوف نے دینی علوم سے فراغت کے بعد مولانا محمد حسین بٹالویؒ کی ہدایت پر اس وقت کے انبالہ ضلع کے ایک قصبہ (حال ضلع روپڑ) میں ایک سلفی درسگاہ قائم کی۔ اسی درسگاہ کے لائق و فطین طالب ِعلم حافظ عبدالقادر روپڑی بھی تھے۔ اپنے لائق اور قابل ترین استاذ کی آغوش تربیت میں رہ کر علمی فیض حاصل کیا اور کندن بن نکلے۔ درسِ نظامی کی تکمیل میں غالبا ً۷ سال صرف کئے۔ اس وقت آپ کی عمر ۱۶ سال کے لگ بھگ ہوگی۔ ا س سے پہلے جب ان کی عمر دس برس کی تھی تو دو سال میں قرآنِ مجید مکمل طو ر پر ازبر کرلیا تھا جو ان کی غیر معمولی دلچسپی اور گہرے قلبی لگاؤ کی نشان دہی کرتی ہے او ران کے ذہن و فطین ہونے کی دلیل ہے۔ ضمناً یہ با ت بھی بیان کر دی جائے کہ ایک وقت وہ بھی تھا جب ا س خاندان کے تمام مرد و خواتین حفظ ِقرآن کی نعمت سے بہر ور رہے۔ یہ ایسی لازوال نعمت ہے جسے مل گئی اور وہ اس کے تقاضے اور مطالبے بھی حتیٰ الوسع پورے کرتا رہا، اس کیلئے دنیا میں بھی سرخروئی و کامرانی اور آخرت میں فوز و فلاح اور کامیابی کی ضمانت و بشارت!

حافظ صاحب جس دور میں حصولِ تعلیم میں مصروف و مشغول تھے، وہ دور مناظروں کا تھا۔ عیسائی مشنریوں نے ہر سو اودھم مچا رکھا تھا۔آریہ سماج الگ سے بپھرے ہوئے تھے۔ قادیانی (متنبی) نے الگ سے اپنی دکان سجا رکھی تھی اور مسلمانوں کو کافر قرار دے کر ان سے مذہبی، ثقافتی اور معاشرتی تعلقات منقطع کر رکھے تھے۔ عوام الناس کو فریب اور دھوکہ سے اسلام سے دور کیا جارہا تھا۔ سادہ لوح لوگ ان کے جال میں پھنسنے لگے تھے۔ منکرین حدیث کے گروہ نے حدیث ِرسالت مآبﷺ میں شکوک و شبہات ڈال کر عام لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوششیں شروع کی ہوئی تھیں۔ ان سب دین بے زار اور دین سے دور نکلے ہوئے گروہوں کے پیدا کردہ شکوک و شبہات کو عوام الناس کے سامنے علمی میدان میں لاجواب کرنے کی شدید ضرورت تھی۔اس دور کے اسی مخصوص ماحول نے مناظروں کی ضرور ت، اہمیت اور ان کا ذوق وشوق عوام او رطبقہ علماء میں پیدا کردیا تھا۔ا سی ضرورت کے لئے حافظ صاحب بھی میدانِ معرکہ میں آدھمکے۔ حافظ صاحب نے طالب علمی کے دوران میں ہی مناظرے شروع کردیئے تھے۔ ان مناظروں میں آپ کے مد مقابل ہندو، آریہ سماج، مرزائی، چکڑالوی یعنی منکر ِحدیث اور عیسائی وغیرہ سبھی مذاہب کے لوگ ہوتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے حافظ صاحب کو خطابت کے جوہر سے خوب نوازا تھا۔ مدمقابل کی چالوں کو سمجھنے کی خداداد اہلیت رکھتے تھے ۔بڑے حاضر جواب تھے۔ مناظرے کے تمام دائو وپیچ سے بخوبی آگاہ تھے۔ مد ِمقابل کی علمی کمزوریوں سے بھی پوری طرح آگاہ اور باخبر رہتے تھے۔ مناظرے سے ان کے سامنے حقیقت کشائی کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا تھا تاکہ ناواقف لوگ حقیقت شناس ہوجائیں اور اپنی راہ کھوٹی نہ کر بیٹھیں۔

حافظ صاحب کا دینی، مسلکی اور علمی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سیاست ِملکی میں بھی ان کی خدمات کا حصہ بڑا وافر ہے۔ انہوں نے تحریک ِپاکستان میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور قیامِ پاکستان کے لئے نمایاں کردار ادا کیا۔ مسلم لیگ جو اس وقت مسلمانانِ برصغیر کی نمائندہ تنظیم تھی، کے ساتھ شامل ہو کر قابل قدر کام کیا۔ روپڑ مسلم لیگ کے بھی آپ صدر رہے۔ مسلم لیگ کے بڑے بڑے سیاسی جلسوں اور اجتماعات میں فکر انگیز تقریریں کیں۔ موصوف نے روپڑ میں اتنا زور دار کام کیا کہ یہاں کے ووٹروں کی تقریباً پندرہ ہزار تعداد میں سے صرف ایک ووٹ مخالف کیمپ کی طرف گیا۔ چودہ ہزار نو سو ننانوے ووٹ مسلم لیگ کو ملے۔ ظاہر ہے کہ یہ حافظ صاحب کی مساعی اور شب و روز کی انتھک جدوجہد اور کاوش کا ثمرہ تھا۔

ا س دینی، تبلیغی، تنظیمی اور سیاسی جدوجہد میں ان کے بڑے بھائی حافظ محمد اسمٰعیل مرحوم بھی پیش پیش تھے۔ حافظ محمد اسماعیل مرحوم کو اللہ تعالیٰ نے خطابت کا مسحور کن فن عطا کیا تھا۔ اس کی بنا پر وہ اپنے سامعین کے دلوں کی دنیا پر حکمرانی کرتے تھے، شیریں بیان تھے۔ سامعین کے مزاج شناس اورموقع ومحل کے مطابق گفتگو کا خداداد سلیقہ اور شعلہ بیانی ان کے امتیازات میں سے ہے۔ جوں ہی مجمع میںتقریر و خطاب کا آغاز کرتے، سامعین پر سکوت کا عالم طاری ہوجاتا۔ آواز میں بڑی شیرینی اور لطافت تھی۔ گفتگوسوز و گداز سے بھی لبریز ہوتی۔ قرآنِ مجید کی تلاوت کرتے تو سننے والے بڑے محظوظ ہوتے۔ اگرچہتلاوت میں سادگی تھی، تصنع نام کی کوئی چیز نہ ہوتی تھی۔ رمضان مبارک عموماً کراچی میں گزارتے اور وہیں نمازِ تراویح میں قرآن پاک سناتے تھے۔ ان کی علمی، اَخلاقی تربیت بھی حافظ عبداللہ محدث اور حافظ محمد حسین مرحوم کے زیر سایہ ہوئی تھی۔

جیساکہ اوپر اشارہ کیا گیا کہ حافظ عبد القادر روپڑی نے تحریک ِپاکستان میں نمایاں حصہ لیا تھا۔ آزادی کی تحریک میں نمایاں حصہ لینے کی وجہ سے ہندکی حکومت نے ان کو پابند ِسلاسل کرکے پس دیوارِ زندان ڈال دیا۔ ہوا یوں کہ وہ جمعتہ المبارک کے عظیم اجتماع سے خطاب کے بعد جلوس کی شکل میں باہر نکلے تو انہیں گرفتار کر لیا گیا اور اَنبالہ جیل میں محبوس کردیاگیا۔ انہوں نے جیل میں پیش آمدہ مشکلات و مصائب اور اذیتوں کو بڑے حوصلے اور خندہ پیشانی سے برداشتکیا اور ثابت کردکھایا کہ بندۂ مؤمن کو یہ مصائب و آلام بزدل اور کم ہمت نہیں بنا سکتے بلکہ ایسے حالات تو سچے اور پکے مسلمان کو اوپر اڑانے کے لئے مہمیز کا کام دیتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ کے خصوصی فضل و کرم اور احسان سے پاکستان کے نام کی ایک مسلم ریاست دنیا کے نقشہ پر ثبت ہوگئی۔ تحریک ِآزادی کے لئے کام کرنے والوں کی امید برآئی۔ حافظ صاحب اپنے خاندان کے ہمراہ پاکستان آگئے۔ اسی اثناء میں حافظ صاحب مرحوم کے خاندان کے سترہ افراد اَمرت سر میں سکھوں اور ہندو بلوائیوں کے ہاتھوں جامِ شہادت نوش کرگئے۔ یہ جانکاہ سانحہ اور عظیم حادثہ بھی انہوں نے برداشت کیا جو بڑے حوصلہ کی بات ہے ۔ یہاں آکر بھی یکے بعد دیگرے حادثات سے دوچار رہے۔ ان کی زندگی ہی میں ان کے استاذِ مکرم حافظ محمد عبداللہ روپڑی، چچا حافظ محمد حسین ، بڑے دو بھائی جن میں حافظ محمد اسمٰعیل خاص طور پر قابل ذکر ہیں، وفات پاگئے۔ ان کی خوش دامن حافظ عبداللہ مرحوم کی اہلیہ او ران کی اپنی اہلیہ بھی داغِ مفارقت دے گئیں۔ آخر میں ان کے چھوٹے بھائی حافظ احمد مرحوم بھی اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان صدمات کو سہنے کا حوصلہ دیا اور اسی کے احسان و فضل کی بدولت حافظ عبدالقادر نے سب کچھ برداشت کیا۔

پاکستان میں آنے کے بعد اس خاندان نے پاکستان کے مشہور علمی، تہذیبی و ثقافتی شہر لاہور کے معروف علاقے ماڈل ٹائون میں رہائش اختیار کی اوریہاںدینی، علمی اور سیاسی سرگرمیوں میں مصروف ہوگئے۔ اس سے قبل چوک دالگراں کے ساتھ رام گلی میں بڑی جدوجہد، کاوش اور سخت محنت کے بعد تعمیر مسجد و مدرسہ کے لئے جگہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔اس کے حصول میں بڑی مزاحمت سے دوچار ہونا۔ بہرحال مَنْ جَدَّ وَجَدَ جو کوشش کرتا ہے آخر پالیتا ہے۔ ابتداء ً چھوٹی سی مسجد تعمیر کی اور اس میں خطابت کے فرائض انجام دینا شروع کئے۔ آج یہ مسجد اپنے دامن کو اتنا وسیع اور کشادہ کرچکی ہے کہ ہزاروں نمازی آسانی سے نماز ادا کرسکتے ہیں۔ اور دینی مدرسہ بھی شب و روز تشنگانِ علم کی پیاس بجھانے میں مصروف نظر آتا ہے۔ دعا ہے کہ ربّ ِکائنات اس مدرسہ کو دن دگنی اور رات چوگنی ترقی سے ہمکنار کرے۔ آمین!

جس مسجد میں خطابت کے فرائض ادا کرتے رہے، اس کا نام مسجدالقدس ہے۔ یہ مسجد چوک دالگراں میں مغرب کی طرف رخ کرکے کھڑے ہوں تو دائیں جانب شمال میںواقع ہے۔ جب تک صحت نے ساتھ دیا، یہ فرائض انجام دیتے رہے جب بیماری کے ہاتھوں نڈھال اور لاچار ہوگئے تو یہ سلسلہ جاری نہ رکھ سکے۔

حصولِ پاکستان کا جو نصب العین اور حقیقی مقصد پاکستان کا مطلب کیا لااله الا الله تھا، اس کو عملاً معاشرے کے تمام اداروں میں نافذ ہوتا دیکھنے کے لئے زندگی بھر علمی، اَخلاقی او رسیاسی جدوجہد میں مصروف رہے۔ چنانچہ اس سلسلہ کی جتنی تحریکیں پاکستان میں اٹھتی رہیں، ان میں حتیٰ المقدور اپنا حصہ ڈالتے رہے اور کئی مواقع پر تو کلیدی کردار ادا کیا۔ بالخصوص تحریک ِختم نبوت میں مولانا مفتی محمود ، سید ابوالاعلیٰ مودودی، مولانا عبدالستار خان نیازی وغیرہ کے ہمراہ حضرت حافظ صاحب نے بھی نہایت جاندار اور شاندار رول ادا کیا تھا۔ اسی طرح بھٹو دور میں اٹھنے والی تحریک ِنظامِ مصطفی میں بھی پوری سرگرمی سے حصہ لیا۔ اس دوران میں حافظ صاحب گرفتار بھی ہوئے۔ ایک ماہ کا عرصہ لاہور جیل میں گزارا اور ایک ماہ پنڈی اور میانوالی جیل میں رہے۔ حافظ صاحب کے جیل کے ساتھیوں میں سے راجہ ظفر الحق اور جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر چوہدری رحمت الٰہی قابل ذکر ہیں۔

حافظ صاحب مرحوم جامع مسجد القدس کے خطیب تو تھے ہی، ساتھ ہی دینی درسگاہ کے منتظم بھی تھے اور مسلک ِاہلحدیث کے ترجمان رسالہ ’’تنظیم اہلحدیث‘‘ کے نگران بھی رہے۔ حافظ عبداللہ محدث روپڑی کی وفات کے بعد شیخ الحدیث حافظ ثناء اللہ مدنی کے تعاون سے دارالافتاء کی نگرانی کے فرائض بھی انجام دیتے رہے۔ ماشاء اللہ اب تک تنظیم اہلحدیث دین کی اشاعت میں پوری طرح حصہ لے رہا ہے اور درسگاہ میں علومِ اسلامیہ کی تعلیم جاری ہے۔ اللہ کرے یہ سلسلہ تادیر اسی طرح بلکہ اس سے بھی بہتر صورت میں جاری و ساری رہے۔ آمین!

اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ صلاحیتوں اور قابلیتوں کا حافظ صاحب مرحوم نے صحیح استعمال کیا اور ان کا حق ادا کرنے سے دانستہ کوتاہی نہیں کی۔ یہی چیز انہیں صدر ضیاء الحق مرحوم کے دور میں ان کی نامزد شوریٰ میں لے گئی بلکہ وہ ان کے ۱۱؍مشیروں میں شامل تھے۔ اس کے علاوہ وفاقی شرعی عدالت کے مشیر اور مرکزی رؤیت ِہلال کمیٹی کے رکن بھی رہے۔ یہ ذمہ داری بھی انہوں نے دیانتداری اور پوری ذمہ داری سے نبھائی۔

تبلیغ دین میں کبھی مداہنت سے کام لینے کی کوشش نہیں کی۔ محراب و منبر پر ہوتے تو کتاب اللہ اور سنت ِرسولؐ کی بات کرتے۔ میدانِ مناظرہ میں اترتے تو اسلام کی صحیح ترجمانی کرتے، نظریات و افکار کی درستگی کی کوشش کرتے۔ قید و بند کی دنیا میں رہے تو بھی دین کی تبلیغ اور اصلاحِ اَحوال میں مگن رہتے۔ شہری آبادی سے مخاطب ہوتے تب بھی، دیہاتی بھائیوں سے گفتگو کی تو بھی دین اسلام کی حقیقی تعلیم سے ہی سروکار رکھا۔ اس اعتبار سے حافظ صاحب کی تبلیغی خدمات کا دائرہ بہت وسیع او رپھیلا ہوا ہے۔ اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک مختلف کانفرنسوں، جلسوں اور مناظروں میں شریک رہے۔ دینی درسگاہوں اور جامعات میں بھی درسِ قرآن و حدیث دیتے رہے۔

اللہ تعالیٰ نے حافظ صاحب کو بہت سی خصوصیات سے نوازا تھا۔ عالم دین اور حافظ ِقرآن ہونے کے ساتھ حالاتِ حاضرہ پر بھی نظر رکھتے تھے۔ شیریں بیان، خوش الحان اور بذلہ سنج طبیعت کے مالک تھے۔ خشک مزاجی تھی مگر اپنی حد کے اندر ۔ دوستوں کے دوست، بڑوں کا احترام کرنے والے اور چھوٹوں سے محبت اور پیار کرنے والے۔ حاجتمند اور ضرورت مند طلباء کی دل کھول کر مدد کرنے والے، دینی تعلیم حاصل کرنے والے طلباء کے خیر خواہ، ہمدرد ، غمگسار اور ان سے قلبی انس رکھنے والے۔

میرے ساتھ حافظ صاحب مرحوم کا بہت ہی خیر خواہی اور ہمدردی کا تعلق تھا۔ میرا احترام بھی کرتے تھے اور محبت بھی۔ اس کی وجہ ایک تو میرے اور ان کے خاندانی روابط تھے، دوسرے مجھے اپنی تعلیم سے گہری دلچسپی اور لگاؤ تھا۔ میں اپنا زیادہ تر وقت حصولِ تعلیم میں صرف کرنے والا طالب علم تھا گویا علم دوستی ہمارے دونوں کے درمیان واسطہ تھی۔ حافظ صاحب پکے سلفی العقیدہ تھے اپنے مسلک میں لچک کے قائل نہیں تھے مگر دوسرے علماء و محققین کے قدر دان بھی تھے۔ مسلکی اختلاف کے باوجود اتحاد کے لئے ان کے پاس جانے سے بھی گریز نہیں کرتے اور نہ کوئی عار محسوس کرتے تھے۔ مندرجہ ذیل دو واقعات سے اس کی تصدیق ہوتی ہے:

ایک مرتبہ غالباً پنڈی میں پیر دیول شریف نے مختلف مکاتب ِفکر کے علماء و زعماء کو اپنے ہاں آنے کی دعوت دی۔ کوئی خاص مسئلہ تھا جس پر وہ مختلف علماء کی آراء لینا چاہتے تھے۔ ا س وقت حافظ عبداللہ روپڑی حیات تھے ۔

محترم حافظ عبداللہ محدث روپڑی اور حافظ عبدالقادر روپڑی پیر صاحب کی دعوت پر ان کے ہاں تشریف لے گئے۔ واپسی پر میں نے خود سنا کہحافظ عبداللہ روپڑی نے فرمایا کہ پیر صاحب ، صاحب ِعلم ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ ایک صاحب ِعلم کے نزدیک دوسرے صاحب ِعلم کی فضیلت بیان کرنے میں کشادہ قلبی چاہئے۔

دوسرا موقعہ صدر ایوب کے دور کا ہے۔ جب صدر ایوب نے فیملی لاز نافذ کئے، فیملی لاز پر تنقید و تبصرہ کرنے کے لئے مولانا سید ابولااعلیٰ مودودی ؒنے بھی مختلف علماء کو اپنے پاس اچھرہ میں تشریف لانے کی دعوت دی۔ چنانچہ میں استاذِ محترم حافظ عبداللہ محدث روپڑی اور حافظ عبدالقادر روپڑی کو خود لے کر اچھرہ گیا۔ مولانا مودودی ؒ صاحب نے کھڑے ہو کر حافظ صاحب کا استقبال کیا اور تنقیدی مسودہ ان کے سامنے رکھا کہ حافظ صاحب اپنی رائے سے مطلع کریں۔ مجھے یاد ہے حافظ عبداللہ مرحوم نے ایک مسئلہ سے اختلاف کیا تو مولانا مودودی نے کہا: آپ بخوشی اس پر اپنا اختلافی نوٹ لکھ دیں۔ چنانچہ حافظ صاحب نے وہ اختلافی نوٹ لکھ دیا۔ مولانا مودودی نے بعض عبارت کو درست بھی کیا۔

اسی طرح ایک مرتبہ مولانا مودودی نے گلبرگ میں منکرین حدیث کے خلاف تقریر کرنا تھی مجھے یاد ہے کہ میں، حافظ عبدالقادر روپڑی اور جناب محمد صابر (محمد رفیق عارف ایڈووکیٹ کے بڑے بھائی )   اس اجتماع میں شریک تھے۔ مولانا مودودیؒ نے بڑی جامع علمی تقریر کی۔ اجتماع کے اختتام پر جب ہم واپس جارہے تھے تو حافظ عبدالقادر صاحب نے کہا: ’’مولانا مودودی نے آج جو علمی اور معلومات افزا تقریر کی ہے، اس کی روشنی میں کئی جمعے پڑھا سکتا ہوں ، یایہ کہا کہ پڑھاؤں گا ۔‘‘

یہ واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ حافظ صاحب اپنے مسلک میں پختہ ہونے کے باوجود دوسرے کسی صاحب ِعلم کی علمی بات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے، کسی اندھے تعصب میں مبتلا نہیں تھے۔ کسی بھی صاحب ِعلم شخص کو تنگ نظر، تنگ دل اور تنگ فکر نہیں ہونا چاہئے بلکہ کشادہ ذہن اوروسیع ظرف ہونا چاہئے۔

یہ شمع جو ضلع امرتسر کی تحصیل اجنالہ کے ایک گائوں کمیرپور میں ۱۹۱۵ء میں فروزاں ہوئی، اپنی علمی ضیا پاشیوں سے مسلمانوں کو صراطِ مستقیم کی جانب رہنمائی کرتی رہی تھی۔ ۶؍ دسمبر ۱۹۹۹ء؁ کی شام، غروبِ آفتاب کے ساتھ اس دنیائے فانی سے دارِ بقا کی طرف عازمِ سفر ہوگئی۔ اناﷲ وانا الیہ راجعون

وفات کی خبر اخبارات اور ٹیلیویژن وغیرہ کے ذریعہ ملک میں جنگل کیآگ کی طرح پھیل گئی ۔ آپ سے حسن عقیدت رکھنے والے متاثرین کی تعداد اندرونِ ملک او ربیرون بکثرت پھیلی ہوئی ہے۔ وفات کی اطلاع ملتے ہی لوگ قافلوں، کاروانوں او رجماعتوں اور ٹولیوں کی شکل میں نمازِ جنازہ میں شرکت کے لئے روانہ ہوگئے۔ حافظ صاحب مرحوم کی نمازِ جنازہ ان کے رہائشی علاقہ ماڈل ٹائون میں نواز شریف پارک کے بالمقابل پارک میں حافظ ثناء اللہ مدنی نے جو معروف صاحب ِفتوی اہل علم شخصیت اورایک شریف، خاموش طبع، نیک، پارسا، صالح اور متقی انسان ہیں، بڑے ہی سوزو گداز او ررِقت آمیز لہجہ میں پڑھائی۔

جنازہ میں میری نظروں کے سامنے ٹھاٹھیںمارتا ہوا انسانوں کا جم غفیر تھا۔ جس میں ہر مکتب فکر کے نمائندہ حضرات شریک تھے۔ جنہوں نے حافظ صاحب مرحوم کے بارے میں تدفین سے پہلے تعزیتی کلمات تقریر کی صورت میں کہے۔ جنازہ میںشمولیت کرنے والوں میں علماءِ کرام کے علاوہ سیاستدان، صحافی، کاروباری لوگ، حکومتی ذمہ داران، فوج کے لوگ، سعودی عرب سمیت مختلف اسلامی ممالک کے سفارتی نمائندے بھی شریک تھے۔ مرحوم حافظ صاحب کو ہزاروں عقیدت مندوں کی دعائوں، سسکیوں اور رخساروں پر بہتے ہوئے آنسوؤں کے ساتھ گارڈن ٹائون کے قبرستان میں جہاں مرحوم کے خاندان کے دیگر بزرگ بھی مدفون ہیں سپردِ خاک کردیا گیا۔

اللہ سے دعا ہے کہ وہ اپنے بندے کی بشری کمزوریوں، عملی کوتاہیوں اور لغزشوں سے صرفِ نظر فرمائے او رانہیں اپنی جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے۔ جملہ اہل خانہ اور متاثرین کو صبر جمیل سے نوازے۔ امت ِمسلمہ کو اس کا نعم البدل عطا فرمائے اور سب کو اسی جانکاہ صدمہ کو حوصلہ سے برداشت کی ہمت دے۔ آمین!