muhaddas_235_march_2000

میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

برصغیر پاک و ہند میں علمی و دینی خاندانوں کی روایت

متحدہ ہند جسے بر ِصغیر بھی کہا جاتا ہے اور تقسیم کے بعد برصغیر پاک و ہند کہلاتا ہے، میں بہت سے خاندانوں میں پشت در پشت، علمی و دینی روایات اور خدمات کا ایسا تسلسل رہا ہے جس کی بنا پر وہ پورے خطہ میں نمایاں اور ممتاز مقام کے حامل رہے۔ جیسے سلفی مسلک اور فکر کے حاملین میں غزنوی خاندان، لکھوی خاندان اور مولانا عبدالوہاب دہلوی، امام جماعت غربائِ اہلحدیث کاخاندان اور اس قسم کے کچھ اور خاندان ہیں، انہی میں سے ایک روپڑی خاندان ہے!

ہماری گزشتہ تاریخ میں تو ایسے خاندانوں کا کثرت سے ذکر ملتا ہے، کیونکہ دینی علوم کی تعلیم و تعلّم کا سلسلہ عام تھا۔ اور حاملانِ علومِ نبوت، وارثانِ محراب و منبر اور مسند نشینانِ درس و افتاء کومعاشرے میں ایک خاص مقام حاصل تھا۔ اس وجہ سے دینی علوم کے حصول کا شوق بھی کثرت سے تھا اور اس کے کسی بھی شعبے سے وابستگی اور اسی میں زندگی کے کھپا دینے کا جذبہ بھی فراواں تھا بلکہ اسے ایک بڑا اِعزاز اور عظیم شرف سمجھا جاتا تھا، جیسا کہ واقعۃً یہ ہے بھی!

لیکن جب اسلامی ملکوں میں مختلف استعماری قوتوں یا ان کے گماشتوں کا غلبہ و تسلط ہوا، جیسے برصغیر میں انگریز، الجزائر و مراکش وغیرہ میں فرانس اور ترکی وغیرہ میں مصطفی کمال جیسے ملحد اور سیکولرسٹ کا تو صورت حال تبدیل ہوگئی۔ استعماری طاقتوں کی حکمت ِعملی اور مصطفی کمال جیسے اسلام دشمنوں کی پالیسیوں کی وجہ سے دینی علوم کی بجائے دنیوی علوم کی اہمیت بہت بڑھ گئی اور اسی کا حصول شرف و اعزاز کا باعث بن گیا۔ اس صورت ِحال کی تبدیلی نے علمی و دینی خاندانوں کی روایت کو بہت نقصان پہنچایا اور بتدریج یہ روایت دَم توڑتی چلی گئی۔ حالانکہ یہ روایت بہت اچھی تھی ۔ کسی ایک ہی خاندان میں علمی روایات کے تسلسل کے بہت سے فوائد وثمرات تھے مثلاً

٭        خاندان کے اَفراد شوق سے دینی علوم حاصل کرتے اور کسی احساسِ کمتری کا شکار نہ ہوتے بلکہ وہ اسے ایک اعزاز اور شرف سمجھتے۔

٭        وہ ساری زندگی دعوت و تبلیغ، درس و افتاء اور اسی طرح کے کسی دینی شعبے سے وابستہ رہتے اور دین کی خدمت کرتے رہے۔

٭        دین سے وابستگی کی وجہ سے وہ مادیت کے غلبے سے محفوظ اور روحانیت اور زہد و تقویٰ کی صفات سے آراستہ ہوتے۔

٭        ان کی بیشتر توجہ دنیا کی آسائشیں اور سہولتیں حاصل کرنے کی بجائے، دینی علوم میں رسوخ، کمال اور مہارت حاصل کرنے پر مبذول رہتی۔

٭        خاندان کی بدولت دینی قیادت اور علمی رہنمائی کا تسلسل قائم رہتا اور مسندیں خالی نہ ہوتیں۔

٭        اَخلاف کو اَسلاف کی جانشینی کے ساتھ ایک وسیع حلقہ ٔ اِرادت بھی میسر آجاتا جس کی وجہ سے ایک نئے مسند نشین کو بھی زیادہ پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑتا اور دینی رہنمائی کے طالب، عوام بھی دینی قیادت سے محروم نہ ہوتے۔               اس قسم کے دیگر اور بھی فوائد تھے۔

خاندانوںکی بجائے، اب اَفراد نے وہ جگہ لے لی ہے، اس کانتیجہ یہ ہے کہ ایک فر دکے اُٹھ جانے سے اس کی علمی مسند اُجڑ جاتی ہے او ردینی قیادت اور علمی رہنمائی کا فقدان ہوجاتا ہے، ا س کا علمی سرمایہ دیمک کی نذر ہوجاتا ہے یا فروخت۔

روپڑی خاندان کے اکابر کا مختصر تذکرہ

بہرحال یہ تو ایک ضمنی بات، سخن گسترانہ طور پر آگئی۔ گفتگو ہو رہی تھی ان علمی و دینی خاندانوں کی جنہوں نے ایک عرصے دین اور علم کی خوب خدمت کی۔ اللہ تعالیٰ اسے قبول فرمائے اور ان سب کو بہترین جزا سے نوازے۔ ان میں ایک ممتاز خاندان، روپڑی خاندان ہے۔ جس کے گل سرسبد حافظ عبداللہ محدث روپڑی تھے، رحمہ اللہ تعالیٰ!

حافظ عبداللہ محدث روپڑی

اس خاندان میں علم وفضل کے اعتبار سے سب سے برگزیدہ شخصیت حضرت محدث روپڑی کی تھی، جو ایک محدث بھی تھے اور عظیم مجتہد اور مفتی بھی، ایک محقق بھی تھے اور مصنف بھی ، صاحب حال بھی تھے اور صاحب ِقال بھی۔

ان کے فتاویٰ، ان کی فقاہت اور مجتہدانہ صلاحیتوں کے غماز او ر ان کی تصانیف ان کی محققانہ ژرف نگاہی کی مظہر ہیں۔ تقسیم ملک سے قبل روپڑ شہر (مشرقی پنجاب) سے ان کی زیر ادارت ایک ہفتہ وار پرچہ ’’تنظیم اہلحدیث‘‘ نکلتا رہا، جو پاکستان بننے کے بعد اب تک لاہور سے شائع رہا ہے۔ حضرت محدث روپڑی تدریس سے بھی وابستہ رہے، قیامِ پاکستان کے بعد مسجد قدس (چوک دالگراں، لاہور) میں جامعہ اہلحدیث کے نام سے درس گاہ قائم فرمائی۔ جس کے شیخ الحدیث اور صدر مدرّس اور ’’تنظیم اہلحدیث‘‘ کے مدیر وغیرہ سب کچھ وہ خود ہی تھے، علاوہ ازیں جماعت کے عظیم مفتی اور محقق بھی۔

اس اعتبار سے حضرت محدث روپڑی کی علمی و دینی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے، وہ تدریس کے شعبے سے بھی وابستہ رہے اور کئی نامور علماء تیار کئے، جیسے مولانا ابوالسلام محمد صدیق مرحوم (سرگودھا) حافظ عبد الرحمن مدنی، مولانا عبدالسلام کیلانی ،مولانا حافظ ثناء اللہ مدنی حفظہم اللہ تعالیٰ ، اور اپنے برادرزادگان حافظ عبدالقادر روپڑی او رحافظ اسمٰعیل روپڑی رحمہما اللہ تعالیٰ وغیرہم۔ ’’تنظیم اہلحدیث‘‘ کے ذریعے سے سلفی فکر اور اہلحدیث مسلک کو فروغ دیا اور فرقِ باطلہ کی تردید کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اجتہاد و تحقیق کی اعلیٰ صلاحیتوں سے نوازا تھا، فتویٰ و تحقیق کے لئے وہ عوام و خواص کے مرجع تھے۔ عوام ہی نہیں، علماء بھی ان کی طرف رجوع کرتے تھے او ران کی اجتہادی صلاحیتوں کے معترف تھے۔ چنانچہ اس میدان میں بھی انہوں نے خوب کام کیا۔ ان کے فتاویٰ آج بھی علماء اور عوام دونوں کے لئے یکساں مفید اور رہنمائی کا بہترین ذریعہ ہیں۔ مذکورہ خدمات کے علاوہ نہایت اہم متعدد تالیفات علمی یادگار کے طور پر چھوڑیں، جو علم و تحقیق کا بہترین نمونہ ہیں۔ ان میںسے بعض کتابیں دوبارہ شائع ہوئی ہیں، لیکن اکثر کتابیں اب نایاب ہیں جن کی دوبارہ اشاعت بہت ضروری ہے ورنہ یہ ذخیرۂ علمی بالکل ہی نایاب ہوجائے گا۔

حافظ محمد حسین امرتسری   رحمہ اللہ تعالیٰ

یہ حضرت محدث روپڑی کے برادرِ اصغر اور انہی کے فیض یافتہ تھے، بڑے قابل مدرّس اور علومِ آلیہ کے کہنہ مشق استاد تھے۔ تفسیر قرآن اور اصول کا بھی خاص ذوق تھا۔ عمر بھر تدریس وخطابت کے علاوہ تجارت سے منسلک رہے ۔ اگرچہ اخیر عمر میں تجارت چھوڑ کر مدرسہ غزنویہ اور بعض دیگر مدارس میں صدر مدرّس او رشیخ الحدیث رہے۔۱۹۵۹ء میں ان کا انتقال ہوا۔ ان کے صاحبزادگان میں حافظ عبداللہ حسین ، حافظ عبدالماجد، حافظ عبدالوحید مدنی اور حافظ عبدالرحمن مدنی حفظہم اللہ ہیں۔ ان میں سے آخر الذکر یعنی حافظ عبدالرحمن مدنی صاحب نے خاندان کی علمی روایات کو سنبھالا ہوا ہے اور باقی تین بھائی اگرچہ جمعہ جماعت کی حد تک دینی سرگرمیوں میں بھر پور حصہ لیتے ہیںلیکن زیادہ تر وہ کاروبار کرتے ہیں۔ سب بھائی دین کے پابند اور علم ودین کی خدمت کرنے کے جذبے سے سرشار ہیں او رمولانا مدنی کو اپنے بھائیوں کا پورا علمی اور مالی تعاون حاصل ہے، چنانچہ وہ ان کے تعاون سے علم و دین کی خدمت میں مصروف ہیں۔ ان کے زیر انتظام ایک بڑی درسگاہ جامعہ لاہور الاسلامیہ (رحمانیہ) کے نام سے چل رہی ہے جس سے آپ کی ہی زیر سرپرستی مجلس التحقیق الاسلامی کے نام سے ایک علمی و تحقیقی ادارہ بھی منسلک ہے اور ایک ماہوار علمی رسالہ ’’محدث‘‘ بھی شائع ہو رہا ہے۔ اسی طرح مولانا مدنی کی اہلیہ بھی خواتین میں بہت وسیع سطح پر تبلیغ و دعوت کا کام کر رہی ہیں اور اس تعلیمی شعبے میں بھی خاصا کام ہو رہا ہے۔ مولانا مدنی کا صاحبزادہ حافظ حسن مدنی بھی دنیوی اور دینی دونوں علوم سے آراستہ ہے اور اب گرامی قدر والد کی بیرونی مصروفیات کی وجہ سے اداروں کی اندرونی ذمہ داریاں انہوں نے سنبھال لی ہیں بارک اللّٰہ فی عِلمہ و عملہ و عمرہ!

حافظ محمد اسمٰعیل روپڑی رحمہ اللہ تعالیٰ

حافظ عبداللہ محدث روپڑی سات بھائی تھے، جن میں سے تین بھائی طویل متاع حیات کی وجہ سے علم وعمل میں ممتاز ہوئے۔دو کا تذکرہ تو سطورِ بالا میں گزرا، ان کے ایک تیسرے بھائی حافظ عبدالرحمن کمیر پوری ہیں۔ جو ابھی بقید ِحیات اور ماڈل ٹائون میں رہائش پذیر ہیں، ایک مدرسۃ البنات اور مسجد رحمانیہ اہلحدیث جے بلاک سے منسلک ہیں۔ علاوہ ازیں چند کتابوں کے مصنف بھی ہیں، جیسے رحمانی نماز، رحمانی مہدی، رحمانی داڑھی وغیرہ۔ تاہم بوجوہ ان کو جماعتی و علمی حلقوں میں زیادہ شہرت نہیں مل سکی۔

اسی طرح محدث روپڑی کے چوتھے بھائی رحیم بخش تھے، ان کے چار بیٹے ہوئے: حافظ محمد، حافظ احمد، حافظ عبدالقادر اور حافظ اسمٰعیل رحمہم اللہ۔ لیکن ان میں سے آخر الذکر دو بھائیوں کو ہی ان کی علمی ودینی خدمات کی وجہ سے شہرت ملی۔

ان میں حافظ محمد اسمٰعیل روپڑی بڑے تھے۔ لیکن کینسر کے جان لیوا مرض کی وجہ سے جوانی میں ہی فوت ہوگئے۔ انہوں نے بھی تعلیم اپنے عم بزرگوار حضرت محدث روپڑی ؒسے ہی حاصل کی تھی۔ انہوں نے کم عمری اور جواں مرگی کے باوجود دعوت و تبلیغ اور وعظ و خطابت کے میدان میں بڑا کام کیا۔ یہ اپنے وقت کے عظیم خطیب، سحر بیان مقرر اور ہردل عزیز شخصیت کے مالک تھے۔ مرحوم نے اپنی زوردار خطابت، جادو بیانی اور شیریں مقالی کے ذریعے سے لاکھوں اَفراد کو متاثر کیا۔ اللہ نے لحن داودی سے نوازا تھا، علاوہ ازیں آواز میں ایک طرف سوز تھا تو دوسری طرف خطابت کا طنطنہ اور زور، ان کے ساتھ پنجابی کے اَشعار اور بعض دفعہ لطائف و ظرائف کی آمیزش بھی۔ ان سب چیزوں نے مل کر ان کی خطابت کو ایسی انفرادیت عطا کردی تھی کہ جس نے ایک مرتبہ سنا، بار بار سننے کا متمنی رہا۔ قرآن پڑھتے تو سادہ ہونے کے باوجود اتنا مؤثر لہجہ کہ جی چاہتا کہ وہ پڑھتے رہیں اور ہم سنتے رہیں۔ تقریباً اسی قسم کی کیفیت ان کی زبان سے پنجابی کے اشعار سنتے وقت ہوتی۔ ان کی خطابت میں گلوں کی سی خوشبو بھی تھی اور سیف ِبراں کی سی کاٹ بھی، جادو بیانی بھی تھی اور دلائل و براہین کی فراوانی بھی، پیچ و تابِ رازی بھی تھا اور سوز و سازِ رومی بھی، سمندروں کا سا جوش و خروش بھی تھا اور دریا کی سی سبک خرامی بھی، اِخلاص و دردمندی کی مہک بھی تھی اور رزم و بزم کی لٹک کھٹک بھی، عرب کا سوزِدروں بھی تھا اور عجم کا شکوہ بھی۔

جن لوگوں کو مرحوم کی خطابات سننے کا موقع نہیںملا، وہ شاید راقم کے مذکورہ تبصرے کو مبالغہ آرائی پر محمول کریں، لیکن جن لوگوں نے مرحوم کے خطابتی معرکے دیکھے ہیں اور ان کی خوش نوائی سے محظوط ہوئے ہیں، وہ یقینا محسوس کریں گے کہ مرحوم کی خطابت کے جو ہر اور خوبیوں کے بیان کا حق ادا نہیں ہوا۔ بلاشبہ وہ ایک عظیم او ربے مثال خطیب تھے، آج بھی ان کی یاد، ان کے سننے والوں کو تڑپاتی اور رلاتی ہے۔ افسوس چمنستانِ رسالت کا یہ بلبل خوش نوا، شیر بیشۂ خطابت اور توحید و سنت کا عظیم مبلغ و داعی جوانی میں ہی اللہ کو پیار ہوگیا۔ کولہے کی ہڈی میںکینسر کا آغاز ہوا تو بعض ڈاکٹروں نے انہیں ٹانگ کٹوانے کا مشورہ دیا، لیکن جیتے جی کون ایسے مشوروں کو اہمیت دیتا ہے، نتیجۃً زہر نے پھیل کر پورے جسم کو متاثر کردیا اور علاج ع مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی کا مصداق بن گیا۔ بالآخر ۴؍جنوری ۱۹۶۲ء کو خطابت اور علم و عمل کا یہ آفتاب غروب ہوگیا۔ رحمہ اللہ رحمۃ واسعۃ

ان کی نرینہ اولاد صرف ایک بیٹا حافظ ایوب اسمٰعیل ہیں جو اپنے ماموں حافظ عبد الوحید وغیرہ (حفاظ گروپ) سے منسلک ہیںاو روالد کی طرح ممتاز اہل خیر میں سے ہیں۔

حافظ عبدالقادر روپڑی رحمہ اللہ تعالیٰ

جن کا انتقال ۱۹۹۹ء کے آخر (۶؍دسمبر) میں ہوا۔ حافظ محمد اسمٰعیل روپڑی مرحوم کے برادرِ اصغر تھے۔ یہ بھی خطابت کے خداداد ملکہ سے بہرہ وَر تھے۔ حافظ اسمٰعیل روپڑی مرحوم جب تک زندہ اور صحت مند رہے، حافظ عبدالقادر روپڑی ان کے ساتھ تبلیغ و دعوت کے میدان میں بھی سرگرم رہے اور فرقِ باطلہ کے ساتھ مناظروں میں بھی پیش پیش۔ اپنے برادرِ اکبر کی وفات کے بعد تو وہ بالکل یکہ و تنہا بلکہ خاندان کی آخری شمع بن کر رہ گئے تھے، کیونکہ مذکورہ تینوں بزرگ تو فوت ہوگئے تھے اورحافظ عبدالرحمن مدنی، اس وقت طلب ِعلم میں مصروف تھے۔ اس وقت کچھ نہیں کہا جاسکتا تھا کہ وہ خاندان کی اس علمی وراثت کے کس حد تک اہل ہوں گے!

بہرحال یہ امر اطمینان و مسرت کا باعث ہے کہ حصولِ علم کے بعد انہوں نے علم و تحقیق کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا، دار العلوم کا قیام عمل میںلائے اور ایک معیاری علمی مجلے’’محدث‘‘ کا اجرا کیا اور یوں نہ صرف اپنے خاندان کی علمی روایات کے حامل اور اَمین ثابت ہوئے، بلکہ اپنے صاحبزادگان کو بھی اس وراثت کا اہل بنایا، چنانچہ اب ان کا ایک صاحبزادہ حافظ حسن مدنی تو پوری طرح علمی ذوق سے بہرہ ور اور والد ِگرامی کادست ِراست ہے ۔ ان کا دوسرا صاحبزادہ حافظ حمزہ مدنی تجوید و قراء ت کے فن میں ممتاز ، بہترین قاری اور عالم ہے۔ تیسرا صاحبزادہ حافظ انس نضرجامعہ اسلامیہ (مدینہ منورہ) میں زیرتعلیم ہے۔اسی طرح تمام بیٹیاںبھی دینی علوم سے بہرہ ور،اپنی والدہ کے ساتھ علم ودین کی خدمت میں مصروف ہیں۔البتہ بڑا بیٹا حافظ حسین ازہر شریعت ا ورتجارت دونوں کی گریجویشن کے بعد خاندانی تجارت میں والد کی نمائندگی کررہا ہے۔

اگرچہ حضرت محدث روپڑی، حافظ محمد اسمٰعیل روپڑی اور حافظ عبدالقادر روپڑی، ان تینوں بزرگوں نے اپنے اپنے دائرے اور میدانوں میں نہایت نمایاں خدمات انجام دیں اوراس اعتبار سے تینوں کو جماعت او رملک کے دینی حلقوں میں ایک اونچا مقام اور وقار بھی حاصل رہا، لیکن ان کی اولاد میں سے کوئی ایسا قابل ذکر کردار ادا نہ کرسکاکہ وہ ان علمی مسندوں کو پر کرسکے جیسا کہ ان کے بزرگوں نے رونق بخشی تھی۔ یہ توفیق اور سعادت صرف حافظ محمد حسین روپڑیؒ کی اولاد کو حاصل ہوئی کہ وہ خاندان کی علمی وراثت کو سنبھالے او راس کو آگے بڑھائے۔ او ر اسی طرح محدث روپڑی کے ایک دوسرے بھائی میاں عبدالواحد (بھوئے آصل) کے دو پوتوں (حافظ عبدالغفار اور حافظ عبدالوہاب روپڑی فاضل جامعہ اُمّ القریٰ ، مکہ مکرمہ) نے دینی علوم حاصل کئے، اور اب ان دونوں بھائیوں کی سعی و محنت اور حافظ عبد القادر روپڑی کے ایک صاحبزادے عارف سلمان روپڑی کی معاونت سے مسجد ِقدس میں قائم جامعہ اہلحدیث چل رہا ہے جو حضرت محدث روپڑی اور دیگر مذکورہ بزرگوں کی یادگار ہے۔ سچ ہے   ؎
ایں سعادت بہ زور بازو نیست
تا نہ بخشد خدائے بخشندہ

﴿ذ‌ٰلِكَ فَضلُ اللَّهِ يُؤتيهِ مَن يَشاءُ﴾

اہل علم کا ورثہ علم ہے نہ کہ دولت ِدنیا۔ جس نے اپنے کو اس وراثت کا اہل بنایا، وہی بزرگوں کے علم و فضل کا وارث قرار پائے گا۔ ایک دور افتادہ گائوں (بھوئے آصل) کے رہنے والے ان دونوں بھائیوں نے دینی علوم حاصل کرکے حافظ عبدالقادر روپڑی کی مسند اور ان کی درس گاہ کو دوبارہ زندہ کیا تو وہی ان کے جانشین ٹھہرے اور ان کے مشن کے وارث قرا رپائے۔ اور لاہور جیسے گہوارۂ علم و دانش میں رہنے والے اس جانشینی کے شرف و فضل سے محروم رہے۔ رسول اللہﷺ کا فرمان برحق ہے:

«من بطأ به عمله لم یسرع به نسبه»   (صحیح مسلم)

’’جس کو ا س کا عمل پیچھے چھوڑ گیا، اس کا نسب اس کو آگے نہیں بڑھائے گا‘‘

حافظ عبدالقادر روپڑی مرحوم کی امتیازی خوبیاں اور خدمات

بہرحال بات مناظر اسلام مولانا حافظ عبدالقادر روپڑی کی ہورہی تھی، وراثت کا ذکر تو ضمناً آگیا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت حافظ صاحب مرحوم کو خطابت کی دل آویزیوں کے ساتھ، مناظروں کی پرخار وادی کی آبلہ پائی کا ذوق و جنون بھی عطا کیا تھا۔ چنانچہ ایک طرف انہوں نے اپنی مسحور کن خطابت کے ذریعے سے ملک کے چپے چپے میں توحید و سنت کا پیغام پہنچایا، اس راہ میں انہوں نے اپنے آرام و راحت کو دیکھا، نہ راستے کی کٹھنائیوں اور دشواریوں کو، حرص و طمع کو خاطر میں لائے، نہ دشمنوں کی سازشوں اور دسیسہ کاریوں کو۔ ہر قسم کے خوف و طمع سے بالا ہوکر اس توحید کا پرچار کیا جو تمام انبیاء کی بعثت کا مقصد ِو حید رہا، اتباعِ سنت کے اس ذوق کو عام کیا جو اسلاف صالحین (صحابہ و تابعین) کا مسلک و منہج تھا اور اس طرزِ فکر و طرزِ عمل کو فروغ دیا جو صحابہ کرامؓ کا امتیازی وصف تھا۔ دوسری طرف انہوں نے دلائل کی قوت سے مسلح ہو کر ہر باطل سے ٹکر لی۔ شرک و بدعت سے معرکہ آرائی کی، تقلید کی جکڑ بندیوں کے خلاف جہا دکیا، عقیدۂ ختم نبوت کی پاسبانی کی اور رفض و تشیع کے خلاف مورچہ زن رہے۔ جب بھی اور جہاں بھی اہل بدعت او راہل باطل نے اہل توحید و سنت کو للکارا، حافظ صاحب وہاں پہنچتے رہے اور ان کو دنداں شکن اور منہ توڑ جواب دیتے رہے۔ جزاہ اللہ احسن الجزاء

حضرت حافظ صاحب مرحوم کے کردار کا ایک امتیازی پہلو یہ بھی تھا کہ حق کے معاملے میں ان کے اندر کوئی لچک اور مداہنت نہیںتھی، اپنے اور بیگانے سب ہی ان سے بالعموم ناخوش رہتے تھے کیونکہ وہ زہر ہلاہل کو قند کہنے کے لئے تیار نہ ہوتے تھے۔وہ اپنی ذات میں ایک انجمن اور ایک ادارہ تھے اور شرک و بدعت کے خلاف انہوں نے اتنا کام کیا جتنا ایک ادارے کے بہت سے افراد مل کر بھی نہیں کرپاتے۔

ہفت روزہ ’’تنظیم اہلحدیث‘‘ کو زندہ رکھا، جو ان کے عم بزرگوار حضرت محدث روپڑی کی یادگار اور روشنی کا ایک مینار ہے، اس کے ذریعے سے سلفی فکر کا فروغ وذیوع ہو رہا ہے۔اسی طرح حضرت محدث روپڑی کی قائم کردہ درس گاہ’’جامعہ اہلحدیث‘‘ کو انہوں نے قائم رکھا، جو ایک عظیم خدمت ہے۔

خوش قسمتی سے جامعہ کے پاس وسیع و عریض جگہ موجود ہے، خاندان کی روشن روایات اور تاریخ ہے۔ اگر اَخلاف نے اَسلاف کے علم و عمل، درس و افتاء اور زہد و ورع کی ان مثالوں کو سامنے نہ رکھا اور ان کی مسندوں کو پر کرنے کی مخلصانہ کاوش و سعی نہ کی، تو یہ ایک بہت بڑا المیہ ہوگا اور ماضی کی درخشندہ روایات مستقبل کے اندھیروں میں گم ہوجائیں گی۔            ٭٭