میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

(3) اپنے مذہب پر عمل کرنے کی آزادی کا حق 1
اسلام کا اپنے ہم وطن مخالفین کے ساتھ رواداری کا ایک روشن پہلو یہ ہے کہ اس نے اُنہیں اپنے شرعی احکام کا پابند نہیں بنایا۔ زکوٰة جو اسلام کا ایک اہم رکن ہے ، سب غیر مسلم اس سے مستثنیٰ ہیں۔ دوسری طرف اگر کوئی مسلمان زکوٰة کے وجوب کا انکار کرتے ہوئے زکوٰة دینے سے انکار کردے تواسلام اسے مرتد قرار دے کر اس کے خلاف جہادکا حکم دیتا ہے۔

نیزاہل ذمہ پر مسلمانوں کے ساتھ مل کر جہاد کرنا بھی فرض نہیں، حالانکہ جہاد کے فیوض وبرکات سے اسلامی مملکت کے تمام باشندے برابر فیض یاب ہوتے ہیں۔ اہل ذمہ ان دو فرائض سے اس لئے مستثنیٰ ہیں کیونکہ وہ معمولی سا ٹیکس دیتے ہیں جس کے لئے جزیہ کا لفظ استعمال ہوا ہے ،اس کے بدلے میں ان کے جان و مال کا تحفظ مسلمانوں کی ذمہ داری ہے۔

سرتھامس آرنلڈ لکھتا ہے :
''یہ جزیہ بہت معمولی ہوتا تھا جو ان کے کندھوں پر گراں بار نہیں تھا۔2 اور یہ بھی اس لئے لیا جاتا تھا کہ یہ لوگ عسکری اور فوجی ذمہ داری سے آزاد تھے جو کہ مسلم رعایا پر فرض تھی اور یہ جزیہ اسی حفاظت کے معاوضہ میں وصول کیا جاتا تھا۔ اگر مسلمان ان کی حفاظت نہ کرسکیں تو اُنہیں اہل ذمہ سے جزیہ وصول کرنے کا کوئی حق نہیں تھا۔'' 3

اس کے علاوہ غیر مسلموں کواپنے شخصی معاملات ،مثلاً نکاح، طلاق وغیرہ خود اپنی شریعت کے مطابق حل کرنے کی آزادی ہے، اسلامی قانون ان پر نافذ نہیں کیا جائے گا۔

سزاؤں کے متعلق فقہا نے بیان کیا ہے کہ غیر مسلموں پر صرف ان اُمور میں حدود نافذ ہوں گی جن کو وہ حرام سمجھتے ہیں،جیسے چوری اور زنا، لیکن جن اُمور کو وہ حرام نہیں سمجھتے مثلاً شراب نوشی اور خنزیر کا گوشت کھاناجیسے معاملات میں ان پر اسلامی سزاؤں کا نفاذ نہیں کیا جائے گا۔ 4

اہل ذمہ اور مسلمانوں کے شخصی اور معاشرتی معاملات میںچونکہ اختلاف تھا اور وہ اپنے اپنے عقائد کے مطابق عمل کرتے تھے جس کی وجہ سے بعض پیچیدگیاں پیدا ہوئیں تو حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت حسن رحمۃ اللہ علیہ بصری کو خط لکھا جس میں ان سے استفسار کیا :
''ما بال الخلفاء الراشدین ترکوا أھل الذمة وما ھم علیه من نکاح المحارم واقتناء الخمور والخنازیر؟''
''خلفاے راشدین نے اہل ذمہ کو کیوں چھوڑ دیا تھا کہ وہ حرام رشتوں سے نکاح کریں، شراب پئیں اور سور کھائیں؟''

تو حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ نے جواب دیا:
''وہ جزیہ اسی لئے ادا کرتے ہیں کہ اُنہیں ان کے عقائد کے متعلق آزاد چھوڑ دیا جائے اور یقینا آپ کو (خلفاء راشدین ؓکی) اتباع کرنا چاہئے، اپنی طرف سے کوئی نیا حکم ایجاد نہ کریں۔'' 5

تاریخ گواہ ہے کہ اہل ذمہ کے لئے الگ عدالتیں قائم تھیںاور ان کو اجازت تھی کہ وہ چاہیں تو ان عدالتوں سے رجوع کریں اور چاہیں تو اسلامی نظامِ قضا کے سایہ میں پناہ لیں اور جب وہ اپنا مقدمہ اسلامی عدالت میں پیش کریں تو پھر عدل و ا نصاف کے ساتھ ان کا فیصلہ ضروری ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:
فَإِن جَآءُوكَ فَٱحْكُم بَيْنَهُمْ أَوْ أَعْرِ‌ضْ عَنْهُمْ ۖ وَإِن تُعْرِ‌ضْ عَنْهُمْ فَلَن يَضُرُّ‌وكَ شَيْـًٔا ۖ وَإِنْ حَكَمْتَ فَٱحْكُم بَيْنَهُم بِٱلْقِسْطِ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلْمُقْسِطِينَ ﴿٤٢...سورۃ المائدہ
''اگر یہ تمہارے پاس اپنے مقدمات لے کر آئیں تو تمہیں اختیار ہے کہ چاہو تو ان کا فیصلہ کرو ، ورنہ انکار کر دو۔ انکار کر دو تو یہ تمہارا کچھ بگاڑ نہیں سکتے اوراگر فیصلہ کرو تو پھر ٹھیک ٹھیک انصاف کے ساتھ کرو کہ اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے ۔ ''

مغربی مؤرخ آدم سمتھ اپنی کتاب 'اسلامی تہذیب؛ چوتھی صدی ہجری میں' کے اندر لکھتا ہے:
''چونکہ اسلامی شریعت کے احکام صرف مسلمانوں پر لاگو ہوتے تھے، لہٰذا اسلامی حکومت نے دیگر اقوام اور ان کی مخصوص عدالتوں سے کسی قسم کا تعرض نہیں کیا۔ ان عدالتوں کے بارے میں ہم جو کچھ جانتے ہیں، وہ یہ ہے کہ یہ عدالتیں کلیسا کے زیر اثر تھیں، ان کے رئیس پادری ہوتے تھے جو وہاں چیف جسٹس کی حیثیت سے مقرر ہوتے تھے۔ اُنہوںنے قانون کی بے شمار کتب تالیف کیں۔ ان کے فیصلے شادی بیاہ کے معاملات پر ہی منحصر نہیں ہوتے تھے ،بلکہ اس کے ساتھ وراثت کے مسائل اور عیسائیوں کے مخصوص تنازعات میں بھی حکومت کوئی مداخلت نہیں کرتی تھی۔'' 6

تاریخ شاہد ہے کہ اسلام نے غیر مسلموں کو ایسے اُمور کے ارتکاب پر کبھی سزا نہیں دی جو ان کے مذہب میں جائز تھے لیکن اسلام میں ممنوع تھے، مثلاً شراب نوشی اور خنزیر کھانا وغیرہ جیسے مسائل اور یہ بات بلا خوفِ تردید کہی جاسکتی ہے کہ دنیا کا کوئی نظام اور قانون ایسی عظیم رواداری کی مثال پیش نہیں کرسکتا جو اسلام نے اپنے مخالفین کے ساتھ روا رکھی ہے۔

گسٹاف لیبن(Gustav LeBon) اپنی کتاب 'عرب تہذیب'میں اسلام کے اس امتیاز کا اعتراف کرتے ہوئے لکھتا ہے :
''ممکن ہے، اسلام سے قبل عربوں نے فتوحات کے نشے میں سرشار ہوکر ایسے مظالم کا ارتکاب کیا ہو جو عموماً فاتحین اپنے مفتوحین کے ساتھ روا رکھتے ہیں اورممکن ہے اُنہوں نے مغلوب قوموں کے ساتھ بُرا سلوک کیا ہو اور اُنہیں اپنا مذہب قبول کرنے پر مجبور کیا ہو جس کو وہ دنیا میں پھیلانا چاہتے تھے۔ لیکن اسلام کے بعد عربوں نے اپنے دامن کو ظلم کے چھینٹوں سے کبھی آلودہ نہیں ہونے دیا۔ اوّلین خلفا جو بڑی سیاسی بصیرت اور عبقریت کے حامل تھے، جو عموماً نئے ادیان کے علمبرداروں میں مفقود ہوتی ہے، اُنہوں نے اس بات کا ادراک کرلیا تھا کہ کسی قانون اور مذہب کو جبراً نافذ نہیں کیا جاسکتا۔ پھر ہم نے دیکھا کہ ُانہوںنے شام، مصر، ہسپانیہ اور اپنے ماتحت تمام ممالک کے باشندوں کے ساتھ حسن معاملہ ، نرمی اور خوش معاملگی کا اعلیٰ نمونہ پیش کیا، ان کے عقائد اور قوانین سے کسی قسم کا تعرض نہیں کیا۔ زیادہ سے زیادہ ان پر کوئی چیز عائد کی بھی تو وہ جزیہ تھا جس کے بدلہ میں ان کے حقوق کا تحفظ کرنا اور انہیں امن وامان مہیا کرنا مسلمانوں کی ذمہ داری تھی اور یہ جزیہ اس کے مقابلہ میں انتہائی معمولی تھا جو وہ اس سے پہلے اپنے پیش روؤوں کو دیتے آرہے تھے۔حق تو یہ ہے کہ اقوام عالم آج تک ایسے فاتحین سے آشنا نہیں ہوسکیں جو عربوں کی طرح اعلیٰ ظرفی اور رواد اری کے پیکر ہوں اور نہ ہی ایسے دین سے واقف ہوسکیں جو ان کے دین کی طرح اعلیٰ صفات کا جامع ہو۔''ّ 7

(4) عدل و انصاف کا حق
اسلام دین ِعدل ہے ۔اللہ تعالیٰ نے ایسے باریک بین ترازو قائم کر دیئے ہیں کہ عالم ارض پر عدل و انصاف کا بول بالا ہو اور کائنات ظلم وجور سے بچ سکے۔ فرمانِ الٰہی ہے:
وَٱلسَّمَآءَ رَ‌فَعَهَا وَوَضَعَ ٱلْمِيزَانَ ﴿٧﴾ أَلَّا تَطْغَوْا فِى ٱلْمِيزَانِ ﴿٨﴾ وَأَقِيمُواٱلْوَزْنَ بِٱلْقِسْطِ وَلَا تُخْسِرُ‌واٱلْمِيزَانَ ﴿٩...سورۃ الرحمن
''اس نے آسمان کو بلند کیا اور میزان قائم کر دی۔ اس کا تقاضا یہ ہے کہ تم میزان میں خلل نہ ڈالو، انصاف کے ساتھ ٹھیک ٹھیک تولو اور ترازو میں ڈنڈی نہ مارو۔''

اور فرمایا:
لَقَدْ أَرْ‌سَلْنَا رُ‌سُلَنَا بِٱلْبَيِّنَـٰتِ وَأَنزَلْنَا مَعَهُمُ ٱلْكِتَـٰبَ وَٱلْمِيزَانَ لِيَقُومَ ٱلنَّاسُ بِٱلْقِسْطِ ۖ وَأَنزَلْنَا ٱلْحَدِيدَ فِيهِ بَأْسٌ شَدِيدٌ وَمَنَـٰفِعُ لِلنَّاسِ وَلِيَعْلَمَ ٱللَّهُ مَن يَنصُرُ‌هُۥ وَرُ‌سُلَهُۥ بِٱلْغَيْبِ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ قَوِىٌّ عَزِيزٌ ﴿٢٥...سورۃ الحدید
''ہم نے اپنے رسولوں کو صاف اور واضح نشانیوں کے ساتھ بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کی ، تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہوں ۔ اور لوہا اُتارا جس میں بڑی طاقت ہے اور لوگوں کے لئے منافع ہیں۔ یہ اس لئے کیا گیا ہے کہ اللہ کو معلوم ہو جائے کہ کون اس کو دیکھے بغیر اس کی اور اس کے رسولؐ کی مدد کرتا ہے ۔یقینا اللہ بڑی قوت والا اور زبردست ہے ۔''

اور پروردگار کا یہ حکم ہے کہ عدل و انصاف کا دامن کسی حال میں بھی ہاتھ سے نہیں چھوٹنا چاہئے ،خواہ اس کی زد خود اپنے اوپر یا اپنی عزیز از جان ہستی پرہی کیوں نہ پڑ رہی ہو۔ اللہ فرماتے ہیں:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلَّهِ وَلَوْ عَلَى أَنْفُسِكُمْ أَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ إِنْ يَكُنْ غَنِيًّا أَوْ فَقِيرًا فَاللَّهُ أَوْلَى بِهِمَا فَلَا تَتَّبِعُوا الْهَوَى أَنْ تَعْدِلُوا وَإِنْ تَلْوُوا أَوْ تُعْرِضُوا فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا﴿١٣٥...سورۃ النساء
''اے ایمان والو! انصاف کے علمبردار اور خدا واسطے کے گواہ بنو، اگرچہ تمہارے انصاف اور تمہاری گواہی کی زد تمہاری اپنی ذات پر یا تمہارے والدین اور رشتہ داروں پر ہی کیوں نہ پڑتی ہو۔ فریق معاملہ خواہ مالدار ہو یا غریب، اللہ تم سے زیادہ ان کا خیرخواہ ہے۔ لہٰذا اپنی خواہش نفس کی پیروی میں عدل کا دامن ہاتھ سے چھوڑ نہ دو اور اگر تم نے لگی لپٹی بات کہی یا حق سے پہلو تہی کی تو جان رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو ،اللہ کو اس کی خبر ہے۔''

فیصلوں میں عدل و انصاف کو فرض قرار دیتے ہوئے اللہ فرماتے ہیں:
إِنَّ ٱللَّهَ يَأْمُرُ‌كُمْ أَن تُؤَدُّوا ٱلْأَمَـٰنَـٰتِ إِلَىٰٓ أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُم بَيْنَ ٱلنَّاسِ أَن تَحْكُمُوابِٱلْعَدْلِ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ نِعِمَّا يَعِظُكُم بِهِۦٓ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ سَمِيعًۢا بَصِيرً‌ا ﴿٥٨...سورۃ النساء
''اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں اہل امانت کے حوالے کر دو اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ کرو، اللہ تم کو نہایت عمدہ وصیت کرتا ہے اور یقینا اللہ سب کچھ سنتا اور دیکھتا ہے۔ ''

بلکہ اسلام تو اس حال میں بھی انصاف کا دامن چھوڑنے کی اجازت نہیں دیتا جب ایک طرف دوست احباب اور اہل و عیال کھڑے ہوں اور مدمقابل جانی دشمن ہو:
قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا كُونُوا قَوَّ‌ٰمِينَ لِلَّهِ شُهَدَآءَ بِٱلْقِسْطِ ۖ وَلَا يَجْرِ‌مَنَّكُمْ شَنَـَٔانُ قَوْمٍ عَلَىٰٓ أَلَّا تَعْدِلُوا ۚ ٱعْدِلُوا۟ هُوَ أَقْرَ‌بُ لِلتَّقْوَىٰ ۖ وَٱتَّقُواٱللَّهَ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ خَبِيرٌ‌ۢ بِمَا تَعْمَلُونَ ﴿٨...سورۃ المائدہ
''اللہ کی خاطر حق پر قائم رہنے والے اور انصاف کی گواہی دینے والے بنو۔کسی قوم سے دشمنی تمہیں اتنا مشتعل نہ کر دے کہ انصاف سے منحرف ہو جاؤ۔ عدل کرو، یہ خوفِ خدا سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔ اللہ سے ڈرتے رہو،جو کچھ تم کرتے ہو ،اللہ کو اس کی خبر ہے۔''

اس سے بڑھ کر غیر مسلموں کے تحفظ کی اور مثال کیا ہو سکتی ہے کہ اسلام نے اُنہیں اپنی شرائع کے مطابق اپنے فیصلے کرنے کا اختیار دیااور ساتھ یہ تاکید کر دی کہ اگر وہ اپنا مقدمہ اسلامی عدالت میں پیش کریں تو حصولِ عدل میں مسلم اور غیر مسلم میںمساوات کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹے۔ اور فرمایا:
فَإِن جَآءُوكَ فَٱحْكُم بَيْنَهُمْ أَوْ أَعْرِ‌ضْ عَنْهُمْ ۖ وَإِن تُعْرِ‌ضْ عَنْهُمْ فَلَن يَضُرُّ‌وكَ شَيْـًٔا ۖ وَإِنْ حَكَمْتَ فَٱحْكُم بَيْنَهُم بِٱلْقِسْطِ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلْمُقْسِطِينَ ﴿٤٢...سورۃ المائدہ
''اگر یہ تمہارے پاس اپنے مقدمات لے کر آئیں تو تمہیں اختیار ہے کہ چاہو تو ان کا فیصلہ کرو، ورنہ انکار کر دو۔ انکار کر دو تو یہ تمہارا کچھ بگاڑ نہیں سکتے اور فیصلہ کرو توپھر ٹھیک ٹھیک انصاف کے ساتھ کرو کہ اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے ۔ ''

اگر کوئی مسلمان کسی ذمی کا مال چوری کرلے تو اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا، اسی طرح اگر کوئی ذمی کسی مسلمان کا مال چوری کرلے تو اس کا بھی ہاتھ کاٹا جائے گا۔ اور اگر کوئی مسلمان کسی ذمی مرد یا عورت پر ناحق تہمت زنا عائد کرے تو اس پر حد قذف لاگو ہوگی۔8
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :
(من قذف ذمیا حُدَّ له یوم القیمة بسیاط من نار) 9
''جس نے کسی ذمی پر ناحق تہمت لگائی ، روز قیامت اس پر آگ کے کوڑوں کے ساتھ حد قائم کی جائے گی۔''

مسلمانوں نے غیر مسلموں کے ساتھ عدل وانصاف کی جو مثالیں رقم کیں، وہ آج تک تاریخ کے چہرے پر سنہری حروف میں ثبت ہیں، بطورِ نمونہ چند مثالوں کا تذکرہ کیا جاتاہے :
قبیلہ بنی ظفر بن حارث کے ایک شخص طعمہ بن ابیرق نے اپنے ایک پڑوسی قتادہ بن نعمان کی آٹے کے تھیلے میں رکھی ذرع تھیلے سمیت چوری کرلی۔ تھیلے میں سوراخ تھا ،جس کی وجہ سے راستے میں آٹا گرتا رہا اور اس کے گھر تک آٹے کے آثار موجود تھے۔ اس نے وہ ذرع زید بن سمین نامی یہودی کے ہاں چھپا دی۔ جب طعمہ کے گھر کی تلاشی لی گئی تو ذرع نہ مل سکی اور اس نے قسم اُٹھائی کہ نہ میں نے ذرع لی ہے اور نہ مجھے اس کا علم ہے۔ ذرع کے مالکوں نے کہا: اللہ کی قسم !یہ ہمارے گھر میں داخل ہوا اور اس نے ذرع چرائی ہے اور کھرا اس کے گھر تک پہنچا ہے اور ہم نے آٹے کے نشانات دیکھے ہیں۔ جب اس نے قسم اُٹھادی تو اُنہوں نے اسے چھوڑ دیا اور آٹے کے نشانات کے پیچھے پیچھے چلتے گئے حتیٰ کہ یہودی کے گھر تک پہنچ گئے اور ذرع برآمد کرلی، تو اُس نے کہا: یہ مجھے طعمہ بن ابیرق نے دی ہے اور یہود کے کچھ لوگوں نے اس کی گواہی دی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودی کو سزا دینے کا ارادہ کرلیا، (10) تو اللہ تعالیٰ نے یہودی کی صفائی اور اس پر ناحق تہمت لگانے والوں کی سرزنش میں قرآن کی آیتیں نازل کردیں اور وہ آیات چودہ سو سال سے ہر وقت پڑھی جارہی ہیں تاکہ عدل مسلمانوں کا دستور بن جائے اور کسی مسلم اور غیر مسلم پر ظلم نہ ہونے پائے۔فرمانِ الٰہی ہے:
إِنَّآ أَنزَلْنَآ إِلَيْكَ ٱلْكِتَـٰبَ بِٱلْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَيْنَ ٱلنَّاسِ بِمَآ أَرَ‌ىٰكَ ٱللَّهُ ۚ وَلَا تَكُن لِّلْخَآئِنِينَ خَصِيمًا ﴿١٠٥﴾وَٱسْتَغْفِرِ‌ ٱللَّهَ ۖ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ غَفُورً‌ا رَّ‌حِيمًا ﴿١٠٦﴾ وَلَا تُجَـٰدِلْ عَنِ ٱلَّذِينَ يَخْتَانُونَ أَنفُسَهُمْ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ مَن كَانَ خَوَّانًا أَثِيمًا ﴿١٠٧﴾ يَسْتَخْفُونَ مِنَ ٱلنَّاسِ وَلَا يَسْتَخْفُونَ مِنَ ٱللَّهِ وَهُوَ مَعَهُمْ إِذْ يُبَيِّتُونَ مَا لَا يَرْ‌ضَىٰ مِنَ ٱلْقَوْلِ ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ بِمَا يَعْمَلُونَ مُحِيطًا ﴿١٠٨﴾ هَـٰٓأَنتُمْ هَـٰٓؤُلَآءِ جَـٰدَلْتُمْ عَنْهُمْ فِى ٱلْحَيَو‌ٰةِ ٱلدُّنْيَا فَمَن يُجَـٰدِلُ ٱللَّهَ عَنْهُمْ يَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ أَم مَّن يَكُونُ عَلَيْهِمْ وَكِيلًا ﴿١٠٩...سورۃ النساء
''اے نبیؐ ،ہم نے یہ کتاب حق کے ساتھ تمہاری طرف نازل کی ہے ،تاکہ جو راہ ہدایت اللہ نے تمہیں دکھائی ہے، اس کے مطابق لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو اور بددیانت اور خائن لوگوں کی طرف سے جھگڑنے والے نہ بنو اور اللہ سے مغفرت طلب کرو، بلا شبہ اللہ بخشنے والا، رحم کرنے والا ہے۔ اور جو لوگ اپنے اندر خیانت رکھتے ہیں، تم ان کی حمایت نہ کرو اللہ تعالیٰ کو ایسا شخص پسند نہیں ہے جو خیانت کار اور معصیت پیشہ ہے۔ یہ لوگ انسانوں سے اپنی حرکات چھپا سکتے ہیں مگر خدا سے نہیں چھپا سکتے۔ وہ تو اس وقت بھی ان کے ساتھ ہوتا ہے جب یہ راتوں کو چھپ کر اس کی مرضی کے خلاف مشورے کرتے ہیں، وہ جو کچھ کرتے ہیں ،اس کے احاطہ حکم سے باہر نہیں۔ ہاں تم لوگوں نے ان مجرموں کی طرف سے دنیا کی زندگی میں تو جھگڑا کرلیامگر قیامت کے روز ان کے لئے اللہ سے کون جھگڑا کرے گا، آخر اس دن کون ان کا وکیل ہوگا؟''

گذشتہ صفحات میں،یہ واقعہ بھی ذکر ہوا ہے(11) کہ حاکم مصر حضرت عمرو بن العاصؓ کے بیٹے نے ایک مصری کوایک موقعہ پر ایک کوڑا مارا اور اپنے آباؤ اجداد پر فخر کرتے ہوئے کہا: میں معززین کا بیٹا ہوں۔ تو مصری نے حضرت عمر فاروقؓ کے پاس مدینہ منورہ پہنچ شکایت کی تو امیرالمومنین نے عمروبن العاصؓ اور اس کے بیٹے کو طلب کیا اور کوڑا مصری کے ہاتھ میں دے کر کہا: اس معززین زادہ کو مارو اور عمرو بن العاص ؓسے کہا: ''تم نے کب سے لوگوں کو غلام بنالیا حالانکہ وہ ماں کے پیٹ سے آزاد پیدا ہوئے ہیں۔''

حضرت علیؓ کا ایک یہودی سے تنازع ہوگیا۔ اس وقت آپ ؓامیرالمؤمنین تھے۔دونوں اپنا فیصلہ قاضی شریح بن حارث الکندی کی عدالت میں لے گئے۔ بقول قاضی شریح واقعہ یہ ہوا تھا کہ حضرت علیؓ کی ایک ذرع گم ہوگئی تھی، چند روز بعد اُنہوں نے وہ ذرع ایک یہودی کے ہاتھ میں دیکھی جو اسے فروخت کررہا تھا۔ اُنہوں نے کہا:اے یہودی! یہ ذرع تو میری ہے،میں نے نہ کسی کو تحفہ دی ہے اور نہ بیچی ہے۔ یہودی کہنے لگا: ذرع میری ہے اور میرے ہاتھ میں ہے۔ حضرت علیؓ نے کہا: میرا اور تمہارا فیصلہ قاضی کرے گا۔ قاضی شریح رحمۃ اللہ علیہ کا بیان ہے کہ وہ دونوں میرے پاس آئے۔ علیؓ میرے پہلو میں بیٹھ گئے اور یہودی میرے سامنے بیٹھ گیا۔ علیؓ نے کہا: یہ ذرع میری ہے، میں نے نہ کسی کو ہبہ کی ہے اور نہ ہی فروخت۔ پھر شریح نے یہودی سے کہا: تم کیا کہتے ہو؟ اس نے کہا: ذرع میری ہے اور میرے ہاتھ میں ہے۔ قاضی شریح نے کہا:امیرالمومنین آپ کے پاس کوئی ثبوت ہے؟ کہا: ہاں میرا بیٹا حسن اور غلام قنبر گواہی دیں گے کہ یہ ذرع میری ہے۔ شریح نے کہا: اے امیرالمومنین! بیٹے کی گواہی باپ کے حق میں قابل قبول نہیں ہے۔ حضرت علیؓ نے کہا: ''سبحان اللہ! وہ جنتی آدمی ہے ، اس کی گواہی کیسے قابل قبول نہیں ہوسکتی۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ
'' حسنؓ اور حسینؓ اہل جنت کے سردار ہیں۔'' 12

یہودی یہ سب دیکھ کر کہنے لگا: تعجب ہے کہ خود امیرالمومنین میرے ساتھ عدالت میں پیش ہورہے ہیں اور قاضی اس کے خلاف فیصلہ کررہا ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ دین یقینا برحق ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسولؐ ہیں اور اے امیرالمومنین! ذرع یقینا آپ کی ہی ہے ، رات آپؓ سے گر گئی تھی۔ 13

 امیرالمومنین حضرت عمر رحمۃ اللہ علیہ بن عبدالعزیز نے اپنے دورِ حکومت میں یہ منادی کروا دی :
لوگو! سنو، جس پر کوئی ظلم ہوا ہو وہ کیس دائر کروائے۔ علاقہ حمص کا ایک سفید ریش (ذمی) آیا اور کہا: اے امیرالمومنین، میں کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کی درخواست کرتا ہوں۔ آپ نے پوچھا: کیا مسئلہ ہے؟ اس نے کہا: عباس بن ولید بن عبدالملک نے میری زمین پر قبضہ کرلیا ہے۔ عباس بھی وہیں بیٹھے تھے۔ آپ نے پوچھا: ہاں عباس تم کیا کہتے ہو؟ اس نے جواب دیا : یہ زمیں میرے باپ نے مجھے جاگیر دی تھی اور مجھے رجسٹری بھی کردی تھی۔ آپ نے ذمی سے پوچھا: ہاں تم کیا کہتے ہو؟ اس نے کہا: امیرالمومنین! میں تو کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ چاہتا ہوں تو حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: اللہ کی کتاب زیادہ لائق اتباع ہے، ولید بن عبدالملک کی رجسٹری سے۔ اے عباس ! جاؤ اس کی زمین واپس کرو۔اوراس نے وہ زمین یہودی کو واپس لوٹادی۔14 اس فیصلہ کی بنیاد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے:
(ألا من ظلم معاهدا أو انتقصه،أو کلفه فوق طاقته أو أخذ منه شیئًا بغیر طیب نفس فأنا حجیجه یوم القیمة ) 15
''جس نے کسی ذمی پر ظلم کیا یا اس کی توہین کی یا اس کی طاقت سے زیادہ کام لیا یا اس کی رضا مندی کے خلاف اس کی کوئی چیزلے لی تو میں روزِقیامت اس کا وکیل بن کر اس ظالم کے خلاف جھگڑا کروں گا۔''

 اس طرح کا ایک قصہ عظیم مؤرخ ابن الاثیر 16نے بیان کیا ہے کہ
''امیر عماد الدین زنگی جزیرئہ ابن عمر میں داخل ہوئے، سردی کا موسم تھا۔ لہٰذا اُنہوں نے قلعہ کے اندر قیام کیا اور لشکر نے خیموں میں پڑاؤ کیا، ان کے سپہ سالاروں میں ایک امیر عزالدین ابوبکر دبیسی بھی تھے جن کا شمار زنگی کے اصحاب الرائے اور اکابر امرا میں ہوتا تھا۔ وہ ایک یہودی کے گھر میںمقیم ہوے اور اسے وہاں سے نکال دیا۔ یہودی نے عمادالدین زنگی سے شکایت کی۔ اس وقت وہ گھوڑے پر سوار تھے، یہودی اور زنگی کا یہ سب سے بڑا سپہ سالار سامنے کھڑے تھے، جب زنگی نے یہ خبر سنی تو غضبناک نگاہوں سے دبیسی کی طرف دیکھا اور فوراً اُنہیں قدموں پر شہر کی طرف واپس پلٹے اور اپنے خیمے اُکھاڑنے اور انہیں شہر سے باہر لگانے کا حکم صادر کیا ،حالانکہ شہر کے باہر کی جگہ گندگی اور شدید کیچڑ کی وجہ سے خیمے لگانے کے قابل نہ تھی۔ یہ سب کچھ اس لئے تھا کہ یہودی کو انصاف مل سکے۔

مسلمان غیر مسلموں کے حقوق کی پاسداری میں نہایت درجہ کوشاں تھے۔ اُنہوں نے معمولی معمولی چیزوں میں بھی قاضی کے امتیازی رویہ کوبرداشت نہیں کیا ۔ اگر قاضی نے تنازع کے وقت فریقین کو بٹھانے اور ان کو آواز دینے میں کوئی امتیاز برتا تو خود مسلم فریق نے قاضی کو ٹوک دیا ۔ ایسی متعدد مثالیں تاریخ کے صفحات میں موجود ہیں۔

مشہور واقعہ ہے کہ ایک یہودی نے خلیفة المسلمین عمرفاروقؓ کے سامنے حضرت علیؓ کے خلاف شکایت کی۔ سیدنا علیؓ بھی وہیں موجود تھے۔ حضرت عمر فاروقؓ نے حضرت علیؓ سے کہا: ابوالحسن! آپ بھی وہاں اپنے مخالف فریق کے ساتھ بیٹھیں۔ حضرت علیؓ اُٹھ کر مخالف فریق کے ساتھ بیٹھ گئے ،لیکن چہرے پرخفگی کے آثار ہویداتھے جو عمرفاروقؓ نے محسوس تو کرلئے لیکن اُنہوں نے بظاہر اسے نظرانداز کرتے ہوئے تنازع کا فیصلہ کردیا۔ بعد میں حضرت علیؓ سے پوچھا: اے علیؓ! شایدمخالف فریق کے برابر بیٹھنا آپ پر ناگوار گزرا ہے؟حضرت علیؓ کہنے لگے: نہیں، ایسی بات نہیں ہے بلکہ مجھے غصہ اس بات پر تھا کہ آپ نے مجھے کنیت کے ساتھ اور میرے مخالف فریق کو بغیر کنیت کے پکار کر ہمارے درمیان عدمِ مساوات کا مظاہرہ کیا اور مجھے خدشہ تھا کہ یہودی یہ نہ سمجھ لے کہ مسلمانوں میں انصاف ختم ہوگیا ہے۔ 17

چونکہ عربوں کے ہاں کسی کو کنیت کے ساتھ پکارنا باعث ِشرف سمجھا جاتا تھا لہٰذا جب حضرت عمرؓنے حضرت علی ؓ کو کنیت کے ساتھ پکارا تو اُنہیںخدشہ محسوس ہواکہ کہیں یہودی کے دل میں یہ شک نہ گزرے کہ مسلمانوں کے ہاں اب بساطِ عدل لپیٹ دی گئی ہے۔لہٰذا اُنہوں نے چاہا کہ مخالف فریق کے سامنے عدل و انصاف کا تابناک تصور واضح کردیا جائے اور یہ بتادیا جائے کہ وہ اُمور جو دوسروں کے ہاں معمولی سمجھے جاتے ہیں، اسلام کے نظامِ عدل میں وہ بھی بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔ چنانچہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
(من ابتُلي بالقضاء بین الناس فلیعدل بینھم في لحظه وإشارته ومقعدہ) 18
''جسے لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے کا منصب تفویض ہوا، اسے چاہئے کہ وہ دیکھنے اشارہ وکنایہ اور نشست و برخاست میں بھی انصاف کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑے۔''

اور ایک روایت میں نہایت واضح الفاظ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(إذا ابتلی أحدکم بالقضاء فلیسوّ بینھم في النظر والمجلس والإشارة ولایرفع صوته علی أحد الخصمین أکثر من الآخر) 19
''اگر تم میں سے کسی پر منصب ِقضا کی آزمائش ڈال دی جائے تو اسے چاہیے کہ وہ دیکھنے، بٹھانے اور اشارہ و کنایہ کے سلسلہ میں فریقین کے درمیان مساوات سے کام لے ،یہاں تک کہ ایک فریق کو دوسرے کی نسبت زیادہ اونچی آواز سے نہ بلائے۔''

اور ایک دوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں:
(إذا ابتلي أحدکم بالقضاء فلا یُجلس أحد الخصمین مجلسًا لا یجلسه صاحبه وإذا ابتلي أحدکم بقضاء فلیتق اﷲ في مجلسه وفي لحظہ وفي إشارته) 20
''اگر تم میں سے کوئی منصب ِقضا کی آزمائش میں مبتلا کیاجائے تو وہ فریقین میں کسی ایک فریق کو ایسی جگہ پر نہ بٹھائے جہاں وہ دوسرے فریق کو بٹھانے کا روادار نہ ہو۔ اور اگر کسی پر منصب قضا کی آزمائش آپڑے تو اسے چاہئے کہ وہ فریقین کو بٹھانے، اُنہیں دیکھنے اور اشارہ وکنایہ کے بار ے میں اللہ سے ڈرے۔ (یعنی امتیازی سلوک نہ کرے)''

مسلمانوں کے عدل و انصاف کا ایک اور تابناک واقعہ ملاحظہ ہو:
اسلامی لشکرکے عظیم سپہ سالار، ماوراء النہر اور چین کے فاتح قتیبہ بن مسلم باہلی کے متعلق لکھا ہے کہ اُنہوں نے باشندگانِ سمرقند کو قبولِ اسلام ، معاہدئہ صلح یا قتال کے درمیان اختیار دیے بغیر ان پرحملہ کرکے ان کا علاقہ فتح کرلیا۔ اس فتح کے بیس سال بعد جب حضرت عمر رحمۃ اللہ علیہ بن عبدالعزیز منصب ِخلافت پر متمکن ہوئے اور اہل سمرقند نے آپ کے عدل و انصاف کا شہرہ سنا تو اُنہوں نے اپنے امیر سلیمان بن ابو السری سے کہا: قتیبہ نے ہمارے ساتھ غداری کی تھی، ہم پر ظلم کیا اور ہمارے ملک پر قبضہ کرلیا۔ اب اللہ تعالیٰ نے عدل و انصاف کو غالب کیا ہے ، ہمیں امیرالمومنین کے پاس اپنا ایک وفد بھیجنے کی اجازت دی جائے، اگر ہمارا کوئی حق ہوا تو ہمیں مل جائے گااور ہمیں ہمارا حق ضرور ملنا چاہئے۔ امیر نے اجازت دے دی، اُنہوں نے اپنے سرکردہ لوگوں کو حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ کے پاس بھیجا۔ عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ نے ان کی شکایت سنی اور اس کے بعدسلیمان بن ابو سری کو لکھا: سمرقند کے باشندوں پر جو ظلم ہوا ہے اور ابن قتیبہ نے اُنہیں ان کے ملک سے بے دخل کرکے جو زیادتی کی ہے، وہ اس کی شکایت لے کر میرے پاس آئے ہیں۔ میرا خط ملتے ہی ایک قاضی مقرر کرو اور یہ معاملہ اس کے سامنے پیش کرو۔ اگر قاضی ان کے حق میں فیصلہ کردے تو ان کے ملک سے نکل جاؤ اور اپنی اسی پوزیشن پر واپس آجاؤ جس پر تم قتیبہ بن مسلم کے قبضہ سے پہلے تھے۔ سلیمان نے جُمَیع بن حاضر کو جج مقرر کیا۔ اُنہوں نے فیصلہ کیا کہ عرب علاقہ سمرقند سے نکل کراپنی لشکرگاہ میں چلے جائیں اور برابر کی پوزیشن پردوبارہ جہاد کا اعلان کریں اور نئے سرے سے صلح کریں یا پھر بزورِ تلوار فتح حاصل کریں۔ اہل سمرقند عدل وانصاف کا یہ مظاہرہ دیکھ کر اس قدر متاثر ہوئے کہ انہوں نے کہا: جو کچھ ہوچکا ہے، ہم اس پر راضی ہیں، اب ہم دوبارہ جنگ نہیں چاہتے۔ نیز ان کے معتبر اور سمجھدار لوگوں نے کہا: ہم اس قوم کے ساتھ گھل مل گئے ہیں اور عرصہ سے ان کے ساتھ بس رہے ہیں۔ اُنہوں نے ہمیں تحفظ دیا، اور ہم نے ان کو تحفظ دیا۔ اب اگر ہم ان سے جنگ کا فیصلہ کرلیں تو نہ معلوم کامیابی و فتح کس کا مقدر بنے ؟ اگر ہمیں فتح حاصل نہ ہوئی تو عداوت و دشمنی کی آگ ایک دفعہ پھر بھڑک اُٹھے گی لہٰذا بہتر یہی ہے کہ معاملہ جوں کا توں رہنے دیں چنانچہ وہ راضی ہوگئے اور جنگ نہ کی۔'' 21

خلیفہ اور مسلمانوں کا یہ انصاف دیکھ کر اہل سمرقند کی اکثریت نے اسلام قبول کرلیا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ مسلم معاشرہ نے کبھی بھی غیرمسلموں کے حقوق سے تغافل نہیں برتا۔ حتیٰ کہ اگر خلیفة المسلمین نے بھی ا س معاملہ میں کوئی کوتاہی کی تو مسلم رعایا نے ان کے حقوق کے لئے آواز بلند کی۔

 تاریخ کا مشہور واقعہ ہے کہ اُموی خلیفہ ولید بن عبدالملک نے قبرص کے ذمیوں کو شام کی طرف جلا وطن کردیا تو اس وقت کے علما اس پر سخت برہم ہوئے اور خلیفہ کے اس عمل کو ظلم و زیادتی قرار دیا۔ جب اس کا بیٹا یزید بن ولید منصب ِخلافت پر متمکن ہوا تو علما نے اس سے ذمیوں کو واپس بھیجنے کے متعلق بات کی۔ چنانچہ اس نے ذمیوں کو ان کے علاقہ میں واپس بھیج دیا۔ اسی وجہ سے یزید رحمۃ اللہ علیہ بن ولید اور عمر رحمۃ اللہ علیہ بن عبدالعزیز کو بنی مروان میں سے عادل ترین حکمران سمجھا جاتا تھا۔ 22

غیر مسلموں کے ساتھ مسلمانوں کے عدل و انصاف کا ایک ایک واقعہ بے مثال ہے۔ لبنان کے ایک گروہ نے خراج وصول کرنے والے عامل کے خلاف بغاوت کردی جس پر وہاںکے گورنر صالح بن علی بن عبداللہ جو خلیفة المسلمین کا قریبی رشتہ دار بھی تھا، نے ذمیوں کی ایک قوم کو جلا وطن کردیا تو امام اوزاعی رحمۃ اللہ علیہ نے خلیفہ کو سرزنش کرتے ہوئے ایک طویل خط لکھا جس کا ایک اقتباس یہ ہے:

''آپ کو معلوم ہے کہ جبل لبنان کے جلا وطن ذمیوں میں بعض ایسے بھی ہیں جو بغاوت میں شریک نہیں تھے۔ مخصوص لوگوں کے جرم کی پاداش میں عام لوگوں کو پکڑنا اور اُنہیں ان کے گھروں اور جائیدادوں سے بے دخل کرنا کیونکر درست ہوسکتا ہے؟ اللہ تعالیٰ کا یہ حکم ہے: {لَّا تَزِرُ‌ وَازِرَ‌ةٌ وِزْرَ‌ أُخْرَ‌ىٰ ﴿٣٨...سورۃ النجم} ''کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اُٹھائے گا'' اگر کوئی حکم سب سے زیادہ لائق اتباع ہوسکتا ہے تو وہ اللہ کا حکم ہے، اگر کوئی وصیت سب سے زیادہ حفاظت و نگہبانی کی مستحق ہے تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ وصیت ہے: ''جس نے کسی ذمی پر ظلم کیا، یا اس کی طاقت سے زیادہ اسے تکلیف دی تو میں روزِقیامت اس کے خلاف جھگڑوں گا۔23''وہ تمہارے غلام نہیں ہیں کہ تم جہاں چاہو ان کوجلا وطن کردو،بلکہ وہ آزاد ہیں اور ان کے حقوق کا تحفظ تمہاری ذمہ داری ہے۔ 24

مسلمانوں نے غیر مسلم اقوام کے ساتھ عدل و انصاف کی وہ داستانیں رقم کیںکہ دیگر ادیان،اقوام اور حکومتیں آج تک اس کی کوئی نظیر پیش نہیں کرسکیں۔اس حقیقت کا اعتراف اقوام عالم کے علما اور مفکرین نے بھی کیا ہے اور وہ تاریخ کے اوراق میں ایسی روشن شہادتیں چھوڑگئے ہیں جو حق و انصاف کو واضح کرتی ہیں۔

مشہور برطانوی مؤرخ ہاربرٹ جارج ولز اسلامی تعلیمات کا حال بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے :
'' اسلامی تعلیمات نے دنیا میں باہم عادلانہ برتاؤ کے قیام کے لئے جن عظیم روایات کی بنیاد ڈالی ،وہ انسانیت کا طرئہ امتیاز اور اس لائق ہیں کہ اُنہیں دنیا پر نافذ کردیا جائے۔ان تعلیمات نے ایک ایسا انسانی معاشرہ تخلیق کیا جس نے دنیا کو سنگدلی اور ظلم ِاجتماعی کے ہولناک غار سے نکالا ۔یہ وہ امتیاز ہے جو سابقہ معاشروں میں نظر نہیں آتا۔'' 25

سرتھامس آرنلڈ اسلامی حکومت سے قبل شام اور مصر میں عیسائی فرقوں کی باہم شدید کشاکش اور معرکہ آرائی کے نتیجہ میں مظالم کی جو لرزہ خیز داستانیں رقم ہوئیں، ان کا تذکرہ کرنے کے بعد لکھتا ہے :
''لیکن باہمی روا داری کے اسلامی اُصولوں نے ایسے تمام اعمال کا خاتمہ کردیا جو ظلم پر مبنی تھے، بلکہ مسلمانوں نے دوسروں کے برعکس اپنی تمام مسیحی رعایا کے ساتھ عدل و انصاف کا برتاؤ کرنے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں ہونے دیا۔ مثال کے طور پر فتح مصر کے بعد عیسائی فرقہ یعاقبہ نے بازنطینی حکومت کی تباہی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آرتھوڈکس کے کنیساؤں پر قبضہ کرلیاتو مسلمانوں نے تحقیق کے بعد یہ تمام گرجے ان کے اصل مالک آرتھوڈکس عیسائیوں کوواپس دلوا دیے۔'' 26

صقلیہ کامشہور مستشرق اماری لکھتا ہے :
''جزیرہ صقلیہ کے باشندے جو مغلوب ہوکر مسلم حکومت کے زیر سلطنت آگئے تھے، وہ مسلم عرب حکمرانوں کے دور حکومت میں زیادہ آسودہ حال اور پرامن تھے اور ان کی حالت اپنے ان اطالوی بھائیوں سے بدرجہا بہتر تھی جو رومیوں اور فرنگیوں کے ظلم تلے دبے ہوئے تھے۔'' 27

مشہور مستشرق' نظمی لوقا 'لکھتا ہے:
''میں نے آج تک کوئی ایسی شریعت نہیں دیکھی جو شریعت ِاسلام سے بڑھ کر انصاف کی علمبردار اور سب سے زیادہ ظلم و ستم اور عصبیت کی نفی کرنے والی ہو ۔اس کی یہ دعوت ہے: {وَلَا يَجْرِ‌مَنَّكُمْ شَنَـَٔانُ قَوْمٍ عَلَىٰٓ أَلَّا تَعْدِلُوا...﴿٨﴾...سورۃ المائدہ} ''کسی قوم سے دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دو۔'' اب کون وہ انسان ہوگا جس کا اس آیت پر ایمان ہو اور پھر وہ اس رہنما اصول کو چھوڑ کر کوئی دوسرا اُصول اختیار کرے اور کون وہ بندہ ہے جو اس فرمانِ الٰہی کو ماننے کے باوجود کسی ایسے دین سے اپنی عزت نفس کا سامان کرے جو عظمت وجلال میں اس سے فروتر ہو۔'' 28

حوالہ جات
1. مزید تفصیل کے لئے : القلیات الدینیة والحل السلام:ص ١٣تا١٩

2. یہ جزیہ مالدار آدمی کے لئے 48 درہم ،متوسط درجہ سے تعلق رکھنے والوں کے لئے 24 درہم اور غریب کے لئے 12 درہم سالانہ ہوتا تھا (اور بعض لوگ ا س سے بھی مستثنیٰ تھے اور بعض ایسے بھی تھے جن کی کفالت بیت المال کے سپرد تھی۔ (السنن الکبریٰ للبیهقي1969، مصنف ابن أبي شیبة 4302، 4296، الطبقات الکبریٰ2823 و سیرأعلام النبلاء 3212) امام ابویوسف فرماتے ہیں کہ ''حضرت عمر نے مالداروں پرایک روپیہ ماہانہ، متوسط حال لوگوں سے آٹھ آنہ مہینہ اور غریب محنت کش لوگوں پر چار آنہ مہینہ جزیہ مقرر کیا تھا۔'' (کتاب الخراج: ص36) بلازری نے لکھا ہے: ''جب مسلمانوں نے حمص میں جزیہ کی رقم واپس کی تو وہاں کے باشندوں نے کہا :تمہاری حکومت کی انصاف پسندی ہم کو اس ظلم کے مقابلہ میں زیادہ محبوب ہے جس میں ہم مبتلا تھے، اب ہم ہرقل کے عامل کو اپنے شہر میں ہرگز نہ گھسنے دیں گے تاوقتیکہ لڑ کر مغلوب نہ ہوجائیں۔ '' (فتوح البلدان: 137) از مترجم
3. الدعوة إلی السلام: ص77
4. حقوق أهل ا لذمة في الدولة الإسلامیة:ص 20،21
5. حقوق أهل ا لذمة في الدولة الإسلامیة: ص 22
6. اسلامی تہذیب چوتھی صدی ہجری میں، از آدم سمتھ: 671
7. حضارة العرب: ص605... مزید دیکھئے: الأقلیات الدینیة والحل السلام: ص54
8. حقوق أهل الذمة :ص19،20
9. المعجم الکبیر للطبراني:16886
10. أسباب النزول ، از واحدی:ص 210 ۔ 211
11. التذکرة الحمویة :2093،210
12. سنن الترمذی:2565
13. أخبار القضاة: 2022
14. تاریخ دمشق:35845
15. سنن أبی داؤد،کتاب الخراج والمارة والفئ: 4373
16. التاریخ الباهر في الدولة الأتابکیة : 76
17. سماحة السلام : 64
18. سنن الدارقطنی : 1314
19. مسند اسحق بن راہویہ: 831
20. مسند ابی یعلی: 26410، الفردوس بمأثور الخطاب 3371
21. تاریخ الطبری :1388،139
22. فتوح البلدان:ص 214
23. السنن الکبریٰ للبیہقی: 2059 وصحیح سنن أبی داود :رقم2626
24. کتاب الأموال از ابو عبید:ص 170،فتوح البلدان:ص 222،غیر المسلمین في المجتمع الإسلامي: ص31
25. من روائع حضارتنا،از دکتور مصطفی السباعی: 146
26. الدعوة الیٰ السلام:87۔88
27. السلام الدین الفطر الأبد : 290
28. محمد ؛ الرسالة والرسول : 26

 


 

دیکھیں قسط اوّل، سابقہ شمارہ