میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

حدیث ِنبویؐ کی مستند ترین کتاب 'صحیح بخاری' کے اختتام کے موقعہ پر 'تقریب ِصحیح بخاری' کا انعقاد دینی مدارس کی ایک دیرینہ روایت ہے۔ اِمسال جامعہ لاہور الاسلامیہ میں مؤرخہ 6 ستمبر کو یہ تقریب منعقد ہوئی جس کے بعد جامعہ کی آخری کلاس مکمل کرنے والے طلبہ کو دستارِ فضیلت سے سرفراز کیا گیا۔اس مرحلہ پر شیخ الجامعہ مولانا حافظ عبد الرحمن مدنی اورشیخ الحدیث مولانا حافظ ثناء اللہ مدنی حفظہم اللہ کے پر مغز اور مؤثر خطابات بھی ہوئے۔ تقریب کے بعد جامعہ کے شعبہ کلیہ القرآن الکریم کے زیر اہتمام 'محفل حسن قراء ة'کا بھی انعقاد ہوا۔زیر نظر تحریر اسی تقریب کا مرکزی خطاب ہے جسے ملک کامران طاہر نے کیسٹ سے تحریرکی صورت میں ترتیب دیا ہے۔ محترم ڈاکٹر عبد الرشید اظہر حفظہ اللہ کے اس خطاب میں حجیت ِحدیث اور منصب ِرسالتؐ کو ایک نئے اُسلوب میں پیش کیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اِن تقاضوں سے عہدہ برآ ہونے کی توفیق مرحمت فرمائے۔ ح م



الحمد ﷲ حمدًا کثیرًا طیبًا مبارکًا فیه نحمدُہ ونستعینُه،أما بعدُ :
اللہ کی حمدوثنا جیسے اس کے شایان شان ہے اور صلوٰة وسلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی پر ... حمدوثنا اور صلوٰة وسلام کے بعد

قابل احترام شیخ الحدیث مولانا حافظ ثناء اللہ مدنی، محترم جناب حافظ عبد الرحمن مدنی، مولانا محمد رمضان سلفی ومحترم مولانا عبد السلام فتح پوری حفظہ اللہ، و عزیزانِ گرامی وسامعین محترم !

آپ سب جانتے ہیں کہ اللہ ربّ العزت کی ذاتِ گرامی پر ایمان مرکب ہے۔ ایمان کا مرکب ہونا دو اعتبار سے ہے: ایک اس لئے کہ دل کے یقین، زبان کے اقرار اور اعضاء و جوارح کے عمل کانام ایمان ہے۔ یہ تینوں چیزیں ہوں تب ایمان متحقق ہوتاہے، ان میں سے ایک بھی رہ جائے تو ایمان مکمل نہیں ہوتا، اس اعتبار سے بھی ایمان مرکب ہے۔

دوسرے اس اعتبارسے بھی کہ اللہ احکم الحاکمین کے ان گنت او ربے شمار اسماے حسنیٰ ہیں، پھر اللہ ربّ العزت کی اَن گنت اور بیشمار صفاتِ عُلیٰ ہیں۔ ہر وہ نام جو انسان کے علم میں آجائے اور اللہ ربّ العزت کی ہر وہ صفت جو انسان کو معلوم ہوجائے، اس صفت اور نام پر ایمان لانا ضروری ہے۔ اور کسی ایک صفت اور اسم کا انکار اللہ ربّ العزت کے عمومی انکار کے مترادف ہے۔ اس اعتبار سے بھی ایمان مرکب ہے اور اس کا دائرہ بڑا ہی وسیع ہے۔

کوئی انسان محض اللہ کے وجود یا اس کی اُلوہیت یا اس کے خالق ہونے پر ایمان لے آئے اور سمجھے کہ میں مؤمن ہوگیا ہوں تو یہ بات کافی نہیں ہے۔ جس قدر انسان اللہ کی ذات اور صفات کے بارے میں علم حاصل کرتاچلاجائے، اس علم کے مطابق انسان کا ایمان بڑھتا جائے، تب ہی اللہ ربّ العزت کی ذات پر ایمان کی تکمیل ہوگی۔ کسی ایک نام یا صفت کے انکار کی بھی گنجائش نہیں ہے!

ایمان بالرسول صلی اللہ علیہ وسلم
بالکل اسی طریقے سے سیدنا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی پر ایمان ہے۔ امام الانبیا محمد بن عبد اللہ بھی ہیں، نبی اللہ بھی اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہیں اور آپ حضرات نے امام الانبیا کے کئی اور نام بھی پڑھے اور سنے ہوئے ہیں۔ امام الانبیا کا ہر نام محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حیثیت کی نشان دہی کرتے ہیں۔ جس طرح اللہ ربّ العزت کی ذات پر ایمان کی تکمیل تمام اسماء وصفات پر ایمان لائے بغیر نہیں ہوسکتی اور اللہ کے ساتھ بندے کے تعلقات وسیع الجہت ہیں، اللہ ربّ العزت کی اُلوہیت اور وحدانیت پر ایمان کے ساتھ اس کا ہر اسم اور صفت ایک تعلق کی نشاندہی کرتاہے، ان تمام تعلقات کے بغیر ایمان کی تکمیل نہیں ہوتی، ویسے ہی امام الانبیا پر ایمان ہے۔ ہمارا تعلق محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھی وسیع الاطراف ہے، ہر زاویے سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلیم کریں گے تب ہی امام الانبیا پر ایمان کی تکمیل ہوگی۔ ورنہ محمد بن عبد اللہ کو تو ابوجہل، عتبہ اور شیبہ سب ہی مانتے تھے بلکہ الصادق الأمین بھی مانتے تھے، لیکن ان کی بات نہیں چل سکی، جب تک محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جتنی حیثیتیں، جتنے مقامات ومراتب کتاب اللہ اور سنت ِرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں بیان کئے گئے ہیں، اللہ ربّ العزت نے جس اعتبار سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تعارف کروایا ہے، ایک ایک بات پر یقین نہ کیا جائے تب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان کی تکمیل نہیں ہوتی، ورنہ جزوی ایمان ہوگا، کلی نہیں!

اور آپ کو معلوم ہے کہ اللہ ربّ العزت کے ہاں ناقص ایمان قبول نہیں ہوتا، صرف کامل ایمان قبول ہوتاہے۔ اور ایمان وہ مرکب ہے جس کے اجزاے ترکیبی اس کی حقیقت کا جزوِ لاینفک ہیں اور مسمیٰ الإیمان میں داخل ہیں، لہٰذا جیسے اللہ ربّ العزت پر ایمانِ کامل ہوگا تو قبول ہوگا، رسالت ِ مآب صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی ایمان کامل ہوگا تو قبول ہوگا یعنی اللہ پر ایمان کی طرح جملہ اُصولِ ایمان کا یہی حکم ہے۔

حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام ومرتبہ کی طرف اس لئے میں اشارہ کررہا ہوں کہ صاحب ِحدیث کا مقام ومرتبہ ہی حدیث کا مقام و مرتبہ ہے۔ جس طرح امام الانبیا کی حیثیت مسلم ہے، بعینہٖ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال وافعال، حرکات وسکنات اور اَحکام کی بھی حیثیت مسلم ہے۔ اللہ ربّ العزت نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قرآن کریم میں بڑا ہی واضح تعارف کرایاہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی حیثیتیں بیان کی ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی اپنے بارے میں بہت کچھ بتایا ہے۔ ایک ایک بات پر دل ودماغ سے یقین ہو، زبان سے اعتراف ہو، پھر اس کے مطابق زندگی بسر کرنے کی کوشش کی جائے تو یہ نبوت ورسالت پر ایمان ہے، اس کے بغیر نبوت ورسالت پر ایمان کی تکمیل نہیں ہوتی۔

مقامِ نبوت ورسالت صلی اللہ علیہ وسلم
محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے نبی اور رسول ہیں، ارشادِ باری تعالیٰ ہے :
قُلْ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ إِنِّى رَ‌سُولُ ٱللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا...﴿١٥٨﴾...سورۃ الاعراف
''فرما دیجئے! اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں۔ ''

قرآن کریم کی شرح وتفسیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرضِ منصبی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر اللہ ربّ العزت نے قرآن کریم نازل کیا اور یہ اللہ ربّ العزت کا کلام اور اس کی وحی ہے۔ اللہ کا اپنے بندوں کے نام پیغام ہے اور امام الانبیا کے بارے میں اللہ عزوجل نے فرمایا :
كِتَـٰبٌ أَنزَلْنَـٰهُ إِلَيْكَ لِتُخْرِ‌جَ ٱلنَّاسَ مِنَ ٱلظُّلُمَـٰتِ إِلَى ٱلنُّورِ‌...﴿١﴾...سورۃ ابراھیم
''یہ کتاب ہم نے تیری طرف بھیجی ہے تاکہ تو لوگوں کو اندھیروں سے روشنی کی طرف نکالے۔ ''

لوگوں کو قرآنِ مجید پڑھانا، سنانا، سمجھانا، اور اس کی شرح اور وضاحت کرنا رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا بطور رسول منصبی فرض ہے۔امام الانبیا معلم کائنات ہیں اور قرآن میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا یوں مذکور ہے :
رَ‌بَّنَا وَٱبْعَثْ فِيهِمْ رَ‌سُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ ءَايَـٰتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ ٱلْكِتَـٰبَ وَٱلْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ ۚ إِنَّكَ أَنتَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيمُ ﴿١٢٩...سورۃ البقرۃ
'' اے ہمارے ربّ! ان لوگوں میں اِنہیں میں سے ایک رسول مبعوث فرما جو ان پر تیری آیتیں تلاوت کرے اور اُنہیں کتاب وحکمت کی تعلیم دے اور ان کی صفائی کرے۔ بے شک تو غالب وداناہے۔ ''

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بطورِ معلم ِکتاب وحکمت اور تزکیہ کرنے والے مربی کی حیثیت سے متعارف کرایاہے۔

اللہ ربّ العزت نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حیثیت کو قرآنِ کریم میں چار مقامات پر ذکر کیا ہے، جس سے معلوم ہوتاہے کہ امام الانبیا کی یہ حیثیت اتنی واضح ہے کہ قرآنِ کریم نہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاوت کے بغیر پڑھا جاسکتاہے اور نہ آپ کی تشریحات کے بغیر سمجھا جاسکتاہے۔ قرآن کریم سے جو حکمت ودانائی کے عملی پہلولئے جا سکتے ہیں، امام الانبیا کی تعلیم کے بغیر وہ بھی حاصل نہیں کئے جاسکتے، اور دل ودماغ کی طہارت بھی حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقہ کو چھوڑ کر نہیں کی جاسکتی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جہاں اللہ کے نبی ہیں، وہیں اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ حکمت ودانائی (جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دی گئی )کے معلم اور دل کی صفائی کرنے والے بھی ہیں اور یہ صرف امام الانبیا کی ایک حیثیت ہے جس کے چار پہلوہیں، اور ان کو چار دفعہ قرآنِ کریم میں بیان کیا گیاہے۔ ملاحظہ ہو :
(1) سورة البقرة :129

(2) البقرة :151
(3) آل عمرانُ :164

(4) الجمعہ :2

اس سے اندازہ کرلیجیے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بطورِ معلم کیا مقام ومرتبہ ہے۔ کیا ایسی مبارک ذات کے بارے میں کہا جاسکتاہے کہ یہ صرف چٹھی رساں ہیں ؟ ایسی عظیم ہستی اور اس کے بارے میں یہ کہنا ...جبکہ آپ کے بارے میں اللہ عزوجل نے اتنا کچھ بتا دیاہے... کہ اس کی حیثیت صرف مبلغ کی ہے، اس سے زیادہ نہیں، ایسادعویٰ سراسر نالائقی، بے علمی اور جہالت ہے۔

قرآن پاک کے بیان کی چار پانچ صورتیں ہوتی ہیں۔ ان کی تکمیل کے لئے درمیان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نکال کر بیان کا کوئی اِمکان ہی باقی نہیں رہتا۔ اللہ عزوجل نے فرمایا :
لَا تُحَرِّ‌كْ بِهِۦ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِۦٓ ﴿١٦﴾ إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُۥ وَقُرْ‌ءَانَهُۥ ﴿١٧﴾ فَإِذَا قَرَ‌أْنَـٰهُ فَٱتَّبِعْ قُرْ‌ءَانَهُۥ ﴿١٨﴾ ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُۥ ﴿١٩...سورۃ القیامة
'' اے محمد! وحی کو پڑھنے کے لئے اپنی زبان کو زیادہ حرکت مت دیں تاکہ اس کو جلد یاد کرلیں، اس کا جمع کرنا اور پڑھوانا ہمارے ذمہ ہے۔ جب ہم وحی پڑھا کریں تو آپ اس کو سنا کریں اور پھر اسی طرح پڑھا کریں۔ پھر اس کے معانی کا بیان بھی ہمارے ذمہ ہے۔ ''

اللہ تعالیٰ نے بیان و وضاحت کی یہ ذمہ داری محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کی صورت میں مکمل کردی ہے۔ اب اگر کوئی سمجھتاہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث قرآنِ کریم کا بیان نہیں ہے تو بتائے کہ قرآنِ کریم تو ہمارے سامنے موجود ہے پھر قرآن کا بیان کہاں ہے؟ الحمد للہ ہمیں تو اس پر اطمینانِ قلب ہے۔ غرض یہ بات واضح ہوگئی کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نبی ورسول ہونے کے ساتھ ساتھ کتاب اللہ کے مبین بھی ہیں اورامام الانبیا کے فرامین کتاب اللہ کا بیان ہیں اور مستقل احکام بھی اس کے اندر موجود ہیں کیونکہ یہ بھی قرآن کریم کا بیان ہی ہیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریعی حیثیت
قرآنِ کریم کی نصوص کے مطابق حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک اور مقام ومرتبہ اور حیثیت ثابت ہوتی ہے۔ تشریع کا حق اللہ تعالیٰ کا حق ہے، قانون بنانا شریعت بنانا اللہ تعالیٰ کا حق ہے جس میں کوئی اختلاف نہیں ہے البتہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے شارع ہونے میں لوگ افراط وتفریط کا شکار ہیں۔ کچھ تو ایسے ہیں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو شارع حقیقی سمجھتے ہیں، یہ بھی حد سے تجاوز ہے اور کچھ لوگ بنی صلی اللہ علیہ وسلم کو تشریع کا ذرا بھی حق دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے طائفہ منصورہ اور فرقہ ناجیہ سمجھتاہے کہ تشریع کا حق اللہ کے پاس ہے لیکن اللہ نے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام ومرتبہ بیان کرنے کے لئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیثیت اُمت پر واضح کرنے کے لئے بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیثیت اجاگر کرنے کے لئے تشریع کے بعض حصے امام الانبیا کی طرف منسوب کئے ہیں اور کئی جگہ تحلیل وتحریم کی نسبت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھی کی ہے، تاکہ لوگوں کو پتہ چل جائے کہ یہ صرف چٹھی رساں نہیں ہیں بلکہ اس کے آگے بھی بہت کچھ ہیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
قَـٰتِلُوا ٱلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِٱللَّهِ وَلَا بِٱلْيَوْمِ ٱلْءَاخِرِ‌ وَلَا يُحَرِّ‌مُونَ مَا حَرَّ‌مَ ٱللَّهُ وَرَ‌سُولُهُ...﴿٢٩﴾...سورۃ التوبہ
''ان لوگوں سے جنگ کرو جو اللہ پر ایمان نہیں لاتے اور نہ روزِ آخرت پر یقین رکھتے ہیں اور نہ ان چیزوں کو حرام سمجھتے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول نے حرام کی ہیں۔''

اللہ تعالیٰ نے جو حرام کیا ہے، وہ بھی اسی طرح ہے جیسے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام کیا ہے۔ امام الانبیا کی تحریم بھی اللہ کی تحریم کی طرح ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
ٱلَّذِينَ يَتَّبِعُونَ ٱلرَّ‌سُولَ ٱلنَّبِىَّ ٱلْأُمِّىَّ ٱلَّذِى يَجِدُونَهُۥ مَكْتُوبًا عِندَهُمْ فِى ٱلتَّوْرَ‌ىٰةِ وَٱلْإِنجِيلِ يَأْمُرُ‌هُم بِٱلْمَعْرُ‌وفِ وَيَنْهَىٰهُمْ عَنِ ٱلْمُنكَرِ‌ وَيُحِلُّ لَهُمُ ٱلطَّيِّبَـٰتِ وَيُحَرِّ‌مُ عَلَيْهِمُ ٱلْخَبَـٰٓئِثَ وَيَضَعُ عَنْهُمْ إِصْرَ‌هُمْ وَٱلْأَغْلَـٰلَ ٱلَّتِى كَانَتْ عَلَيْهِمْ ۚ فَٱلَّذِينَ ءَامَنُوابِهِۦ وَعَزَّرُ‌وهُ وَنَصَرُ‌وهُ وَاتَّبَعُوا ٱلنُّورَ‌ ٱلَّذِىٓ أُنزِلَ مَعَهُۥٓ ۙ أُولَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُفْلِحُونَ ﴿١٥٧...سورۃ الاعراف
''وہ لوگ جو محمد رسول اللہ کی... جو نبی اُمی ہیں...پیروی کرتے ہیں، جن (کے اوصاف ) کو وہ اپنے ہاں تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں، وہ اُنہیں نیک کا م کا حکم دیتے ہیں اور برے کام سے روکتے ہیں اور پاک چیزوں کو ان کے لئے حلال کرتے ہیں اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹھہراتے ہیں اور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان (کے سر اور گردنوں ) پر تھے اُتارتے ہیں، تو جو لوگ ان پر ایمان لائے اور ان کی رفاقت اختیار کی اور اُنہیں مدددی اور جو نور ان کے ساتھ نازل ہوا ہے، اس کی پیروی کی، تو وہی مراد پانے والے ہیں۔''

تحلیل وتحریم کا اختیار اگرچہ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام ومرتبہ اور حیثیت بتانے کے لیے {وَيُحِلُّ لَهُمُ ٱلطَّيِّبَـٰتِ وَيُحَرِّ‌مُ عَلَيْهِمُ ٱلْخَبَـٰٓئِثَ} میں تحلیل وتحریم نسبت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھی کی گئی ہے۔ گویا امام الانبیا جہاں شارح ہیں، وہاں شارع بھی ہیں، لہٰذا ایمان کی تکمیل کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ مقام بھی تسلیم کرنا پڑے گا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت ِمطاع
قرآنِ پاک میں متعدد مقامات میں واردہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اسی طرح سے فرض ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کی اطاعت فرض ہے۔ فرمایا :
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا ٱتَّقُوا ٱللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا ﴿٧٠﴾ يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَـٰلَكُمْ وَيَغْفِرْ‌ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ۗ وَمَن يُطِعِ ٱللَّهَ وَرَ‌سُولَهُۥ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا ﴿٧١...سورۃ الاحزاب
''مؤمنو! اللہ سے ڈرو اور بات سیدھی کہا کرو؛ وہ تمہارے اعمال درست کردے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرے گا تو بے شک بڑی مراد پائے گا۔''

اور فرمایا : {وَمَن يُطِعِ ٱللَّهَ وَٱلرَّ‌سُولَ فَأُولَـٰٓئِكَ مَعَ ٱلَّذِينَ أَنْعَمَ ٱللَّهُ عَلَيْهِم مِّنَ ٱلنَّبِيِّـۧنَ وَٱلصِّدِّيقِينَ وَٱلشُّهَدَآءِ وَٱلصَّـٰلِحِينَ ۚ وَحَسُنَ أُولَـٰٓئِكَ رَ‌فِيقًا ﴿٦٩...سورۃ النساءٰ}
''اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں و ہ( قیامت کے روز ) ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے بڑا فضل کیا، یعنی انبیا اور صدیق، شہید اور نیک لوگوں کے ساتھ۔ اور ان لوگوں کی رفاقت بہت ہی خوب ہے۔''

مزید فرمایا: {يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا أَطِيعُوا ٱللَّهَ وَأَطِيعُوا ٱلرَّ‌سُولَ وَأُولِى ٱلْأَمْرِ‌ مِنكُمْ ۖ فَإِن تَنَـٰزَعْتُمْ فِى شَىْءٍ فَرُ‌دُّوهُ إِلَى ٱللَّهِ وَٱلرَّ‌سُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلْيَوْمِ ٱلْءَاخِرِ‌ ۚ ذَ‌ٰلِكَ خَيْرٌ‌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا ﴿٥٩...سورۃ النساء}
''مؤمنو! اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو اور جو تم میں صاحب ِ حکومت ہیں، ان کی بھی اور اگر کسی بات میں تم میں اختلاف واقع ہوتو اگر اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہوتو اس میں اللہ اور اس کے رسول ( کے حکم ) کی طرف رجوع کرو، یہ بہت اچھی بات ہے اور اس کا مآل بھی اچھاہے۔''

مزید فرمایا: {مَّن يُطِعِ ٱلرَّ‌سُولَ فَقَدْ أَطَاعَ ٱللَّهَ...﴿٨٠﴾...سورۃ النساء}
''جو شخص رسول کی فرمانبرداری کرے گا توبے شک اس نے اللہ کی فرمانبرداری کی ۔''

کتنے ہی مقامات ہیں جہاں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کواللہ نے اپنی اطاعت کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ قرآن کریم میں 40 مقامات پراللہ تعالیٰ نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا حکم دیا ہے، اگر اب بھی کسی کوسمجھ نہ آئے کہ مقامِ رسالتؐ کیا ہے تو سمجھ لیجئے کہ دماغ میں خلل ہے۔

حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام ومرتبہ اور آپ کی حیثیت مبہم نہیں۔اس میں بھی کوئی اشکال نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جہاں نبی اور رسول ہیں، شارح اور شارع ہیں؛ وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم مطاع بھی ہیں جیسے اللہ کی اطاعت فرض ہے ویسے ہی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت بھی فرض ہے۔

رسول اللہ بحیثیت حَکم اور قاضی
اس کے علاوہ آپ قاضی بھی ہیں بلکہ اس کائنات کے قاضی القضاة ہیںیعنی قاضی بھی ایسے کہ اس سے بڑھ کر کوئی قاضی نہیںاوراس کے فیصلے کوچیلنج نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ جہاں چیلنج کرناہے، اسی نے تو انہیں قاضی بنایاہے۔ اس لیے محمد صلی اللہ علیہ وسلم حَکمبھی ہیں جب تک امام الانبیاء کوحَکم اور فیصل نہیں مانا جائے گا،اس وقت تک امام الانبیا پر ایمان کی تکمیل نہیں ہوسکتی۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
فَلَا وَرَ‌بِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ‌ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوافِىٓ أَنفُسِهِمْ حَرَ‌جًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا ﴿٦٥...سورۃ النساء
''تمہارے پروردگار کی قسم! یہ لوگ جب تک اپنے تنازعات میں تمہیں منصف نہ بنائیں اور جو فیصلہ تم کرو اس سے اپنے دل میں تنگ نہ ہوں بلکہ اس کو خوشی سے مان لیں تب تک مؤمن نہیں ہوں گے۔''

مسلمانوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کے بارے میں دل کے اندر ملال کی بھی اجازت نہیں بلکہ دل کے اندر کسی قسم کی تنگی بھی نہیں ہونی چاہیے۔ پھر آپ حَکم اور فیصل بھی ایسے ہیں کہ ان کے فیصلہ سے پہلے بھی اور بعد میں بھی بولنے کی اجازت نہیں ہے:
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوالَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَىِ ٱللَّهِ وَرَ‌سُولِهِ...﴿١﴾...سورۃ الحجرات
''مؤمنو! کسی بات کے جواب میں اللہ اور اس کے رسول سے پہلے نہ بول اُٹھا کرو۔''

یہاں یہ بات ذہن نشین کرلینی چاہیے کہ جوآپ کے فیصلوںکو تسلیم نہیں کرتا، اس کواللہ تعالیٰ نے منافق کہاہے اور مؤمن وہی ہے جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کومن وعن مانتاہے:
وَإِذَا دُعُوٓاإِلَى ٱللَّهِ وَرَ‌سُولِهِۦ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ إِذَا فَرِ‌يقٌ مِّنْهُم مُّعْرِ‌ضُونَ ﴿٤٨﴾ وَإِن يَكُن لَّهُمُ ٱلْحَقُّ يَأْتُوٓا۟ إِلَيْهِ مُذْعِنِينَ ﴿٤٩﴾ أَفِى قُلُوبِهِم مَّرَ‌ضٌ أَمِ ٱرْ‌تَابُوٓاأَمْ يَخَافُونَ أَن يَحِيفَ ٱللَّهُ عَلَيْهِمْ وَرَ‌سُولُهُۥ ۚ بَلْ أُولَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلظَّـٰلِمُونَ ﴿٥٠﴾ إِنَّمَا كَانَ قَوْلَ ٱلْمُؤْمِنِينَ إِذَا دُعُوٓا إِلَى ٱللَّهِ وَرَ‌سُولِهِۦ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ أَن يَقُولُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا ۚ وَأُولَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُفْلِحُونَ ﴿٥١...سورۃ النور
''اور جب ان کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتاہے تاکہ ( رسول اللہ ) ان کا قضیہ چکادیں تو ان میں سے ایک فرقہ منہ پھیر لیتاہے اور اگر( ان کا) حق نکلتا ہو تو ان کی طرف مطیع ہوکر چلے آتے ہیں۔ کیا ان کے دلوں میں بیماری ہے یا ( یہ ) شک میں ہیں یا ان کو یہ خوف ہے کہ اللہ اور اس کا رسول ان کے حق میں ظلم کریں گے؟ (نہیں) بلکہ یہ خود ظالم ہیں، مؤمنوں کی تو یہ بات ہے کہ جب اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلائے جائیں تاکہ وہ ان میں فیصلہ کریں تو کہیں کہ ہم نے ( حکم ) سن لیا اور مان لیا یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔''

یہاں ایمان اور نفاق کے درمیان حد ِ فاصل بیان ہوئی ہے، یعنی امام الانبیا کے فیصلوں کے بارے میںبحث کرنا نفاق کی علامت ہے، جب کہ امام الانبیا کے فیصلوں کوسو فیصد تسلیم کرلینا ایمان کی علامت ہے۔ غرض اللہ تعالیٰ نے بتا دیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فیصل اور قاضی بھی ہیں، حَکم اور حاکم بھی۔ انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکومت بھی ملی ہے اور دین بھی، اور حکومت بھی ایسی محبت و احترام سے کہ جس کی مثال دنیا میںنہیں ملتی۔

آپ جانتے ہیں کہ اہل مدینہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پیش کش کی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے پاس تشریف لایئے اور ہماری حکومت سنبھال لیجیے ؛ حالانکہ اس حکومت کا آپؐ کی طرف سے کوئی مطالبہ نہیں کیا گیا تھا،نہ ہی اس کی کوشش کی گئی اورنہ کہیں کسی سے ووٹ مانگے اور نہ ہی اس کے لئے درخواست دی گئی بلکہ جنہوں نے حکومت کروانی تھی، وہ خود چل کر آپ کے پاس درخواست لے کر آئے۔ بیعت ِعقبہ اولیٰ وثانیہ میں مدینہ سے مکہ آئے، کہا کہ آیئے تشریف لائیے اور حکومت سنبھال لیجئے۔

گویا امام الانبیا کو دینی زندگی کے کسی شعبہ اور کسی پہلوسے آپ دیکھیں گے تو آپ کو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی نئی حیثیت ہی نظر آئے گی۔ قرآن نے امام الانبیا کی اتنی حیثیتیں بتا دی ہیں اور ہر ایک حیثیت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کامل نمونہ ہیں، اس لئے اللہ تبارک وتعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک جامع مقام بیان فرمادیا : {لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِى رَ‌سُولِ ٱللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ...﴿٢١﴾...سورۃ الاحزاب}
''تمہارے لئے اللہ کے رسولؐـ میں بہترین نمونہ ہے۔''

زندگی گزارنی ہو اور اسے کامیاب بنانا ہو تو وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے مطابق گزر کر ہی کامیاب ہوسکتی ہے۔ اور اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے مطابق نہیں ہوگی تو پھر کامیابی کی کوئی ضمانت نہیں، نہ دنیا سنورے اورنہ آخرت سنورے گی۔ جس کو دنیا کی فکر ہے اسے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو نمونہ بنانا پڑے گا، اس کے بغیر کوئی اُسوہ نہیں ہے۔

اور اسکے ساتھ یہ بھی بتا دیا کہ مشرق سے لے کر مغرب تک، جنوب سے لے کر شمال تک امام الانبیا کے زمانہ سے لے کر قیامت تک امام الانبیا کا رسالت میں کوئی شریک نہیں ہے:
قُلْ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ إِنِّى رَ‌سُولُ ٱللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا...﴿١٥٨﴾...سورۃ الاعراف
''(اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم !)کہہ دو کہ لوگو میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا (یعنی رسول) ہوں۔''

اللہ تعالیٰ نے پہلے اپنی ذات کے بارے میں بتایا کہ میں کتنی عظیم ہستی ہوں، پھر بتایا:
هُوَ ٱلَّذِى بَعَثَ فِى ٱلْأُمِّيِّـۧنَ رَ‌سُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ ءَايَـٰتِهِۦ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ ٱلْكِتَـٰبَ وَٱلْحِكْمَةَ وَإِن كَانُوامِن قَبْلُ لَفِى ضَلَـٰلٍ مُّبِينٍ ﴿٢...سورۃ الجمعہ
''وہی ہے جس نے اَن پڑھوں میں اُنہیں میں سے ایک رسول مبعوث فرمایا جو ان کو اس کی آیتیں پڑھ کر سناتاہے اور ان کا تزکیہ کرتاہے اور اُنہیں کتاب وحکمت کی تعلیم دیتاہے جبکہ وہ اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے۔''

تاقیامت جتنے لوگ عہد ِنبویؐ کے بعد آتے رہیں گے، ان کے لئے آپؐ کی نبوت ورسالت جاری وساری رہے گی اورآپؐ ان کے لئے بھی حجت ہوں گے۔ اس کی وضاحت کے لئے مزید فرمایا:
وَءَاخَرِ‌ينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ ۚ وَهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيمُ ﴿٣...سورۃ الجمعہ
''اور ان میں سے دوسرے لوگوں کی طرف بھی ان کو بھیجاہے جو ابھی اُن سے نہیں ملے اور وہ غالب حکمت والا ہے۔''

اس کا مطلب یہ ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سراپادین ہیں، آپ کی شخصیت بھی دین ہے اور آپ کے اقوال وافعال اور تقریرات ومختارات سب دین کا حصہ ہیں۔ جب تک امام الانبیا کی ساری حیثیتیں نہ مانی جائیں،نہ دین مکمل ہوسکتاہے، نہ دین پر ایمان مکمل ہوسکتاہے، اور نہ ہی بالواسطہ اللہ پر ایمان مکمل ہوسکتاہے۔

سامعین کرام! شانِ رسالتؐ پر مبنی ان چند نکات کی نشاندہی کے بعد مجھے اُمید ہے ،آپ سمجھ چکے ہوں گے کہ جو حدیث ہم پڑھتے پڑھاتے اور اس کا بھرپور اہتمام کرتے ہیں ، جس حدیث ِنبویؐ کے ہم علمبردار اور اس کی حجیت کے ہم دعویدار ہیں اور جس کے لئے لوگوں سے ہمارے بحث ومباحثے ہوتے ہیں، وہ عقائد ونظریات کس قدر اہم ہیں اور اس کو ماننے میں ہم کس حد تک سچے ہیں۔ ہمارا دماغ اس کے بارے میں کتنا روشن ہے اور ہمیں اس کے بارے میں کتنا اطمینان حاصل ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے اطمینان میں اضافہ فرمائے اور ان لوگوں کو ہدایت نصیب فرمائے جو شکوک و شبہات کے مرض میں مبتلا ہیں۔

حفاظت ِ دین اللہ کے ذمہ ہے !
اللہ تعالیٰ نے پورا دین نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کی صورت میں نازل کیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پوری اُمت کی طرف مبعوث فرمایا اورامت کو حکم دیا کہ اس کی اطاعت کی جائے اور اس کی اطاعت کے بغیر نجات کا کوئی راستہ نہیں ہے:
فَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا بِهِۦ وَعَزَّرُ‌وهُ وَنَصَرُ‌وهُ وَاتَّبَعُوا ٱلنُّورَ‌ ٱلَّذِىٓ أُنزِلَ مَعَهُۥٓ ۙ أُولَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُفْلِحُونَ ﴿١٥٧...سورۃ الاعراف
''تو جو لوگ ان پر ایمان لائے اور ان کی رفاقت اختیار کی اور اُنہیں مدد دی اور جو نور ان کے ساتھ نازل ہوا، اس کی پیروی کی تو وہی مراد پانے والے ہیں۔''

اس کے بغیر کہیں فلاح نہیں ہے اور ساتھ ہی اللہ نے وعدہ بھی فرمایا :
إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا ٱلذِّكْرَ‌ وَإِنَّا لَهُۥ لَحَـٰفِظُونَ ﴿٩...سورۃ الحجر
''بیشک یہ (کتاب ) نصیحت ہم ہی نے اُتاری ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنیوالے ہیں۔''

اللہ نے دین بھیجا ہے اوراس پرعمل کو واجب قرار دیا ہے اوراللہ کسی کو تکلیف مالا یطاق نہیں دیتا، کوئی ایساکام نہیںسونپتا جو اس کے بس میں نہ ہو۔ کتاب وسنت کی نصوص کی روشنی میں بھی یہ بات ثابت ہوتی ہے اور عقل بھی اس کا تقاضا کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کام کو کرنے کا حکم دے اور اس کام پر عمل کرنا ممکن نہ ہو، یہ کیسے ہوسکتا ہے ؟

جس طرح اللہ تعالیٰ نے ہمارے اس دین 'اسلام' کی بنیادوں (کتاب اللہ اورسنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوۂ حسنہ کی حفاظت فرمائی، اس کی دنیا میں مثال نہیں ملتی۔ اگر اب بھی یہ تعلیم قابل اعتماد نہیں تو پھر دنیا کی کوئی شے قابل اعتماد نہیں ہے۔

اس وحی کے سلسلے میں سب سے پہلے تو اللہ تعالیٰ نے یہ اہتمام فرمایا کہ ایک طرف اپنی ذات کا ذکر فرمایا، اس کے بعد جبریل امین کا ذکر فرمایا جسکا نام ہی الروح الأمین ہے۔ اس کے بعد حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام آتاہے جن کے مخالف اور دشمن بھی آپ کو الصادق الأمینکہتے تھے، اور امام الانبیا صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جن لوگوں کے ذریعے اس کی حفاظت کروائی، ان کے بارے میں ارشاد ہوا :
وَٱلسَّـٰبِقُونَ ٱلْأَوَّلُونَ مِنَ ٱلْمُهَـٰجِرِ‌ينَ وَٱلْأَنصَارِ‌ وَٱلَّذِينَ ٱتَّبَعُوهُم بِإِحْسَـٰنٍ رَّ‌ضِىَ ٱللَّهُ عَنْهُمْ وَرَ‌ضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّـٰتٍ تَجْرِ‌ى تَحْتَهَا ٱلْأَنْهَـٰرُ‌ خَـٰلِدِينَ فِيهَآ أَبَدًا ۚ ذَ‌ٰلِكَ ٱلْفَوْزُ ٱلْعَظِيمُ ﴿١٠٠...سورۃ التوبہ
''اور جن لوگوں نے سبقت کی ( یعنی سب سے پہلے ایمان لائے) انصار و مہاجرین میں سے اور جنہوں نے نیکو کاری کے ساتھ ان کی پیروی کی ؛ اللہ ان سے خوش ہے اور وہ اللہ سے خوش اور اللہ نے ان کے لئے باغات تیار کئے ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ وہ ہمیشہ ان میں رہیں گے، یہ بڑی کامیابی ہے۔''

اس آیت میں گویا اللہ تعالیٰ نے پوری تاریخ انسانی میں کتاب وسنت اور ان پر عمل کی حفاظت کرنے والوں کی پاکیزگی کا تذکرہ کیا ہے اور ان کا تزکیہ کیا ہے ۔ حضرات ابوبکر، عمر، عثمان وعلی رضوان اللہ علیہم،تابعین کرام رحمۃ اللہ علیہ اور تبع تابعین رحمۃ اللہ علیہ سب اس میں شامل ہیں۔ صحابہؓ کرام ایسی عظیم شخصیات تھیں جن میں سے ایک ایک شخصیت اس قابل ہے کہ انسان زندگی گزارنے اور سنوارنے کے لئے ان کی زندگی کو پڑھے تو اس سے اس کی زندگی بھی سنور جائے اور دین کے بارے میں اسے اطمینان بھی حاصل ہوجائے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی کرم نوازی ہے کہ ان لوگوں نے دین ِاسلام کو یعنی کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو علمی، عملی اور فکری طور پر ہر طرح محفوظ کیا۔ کسی زاویے سے بھی آپ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہؐ کو دیکھ لیں، ان کے معانی کو دیکھ لیں، ان کے مفاہیم کو دیکھ لیں، ان پر عمل کو دیکھ لیں؛ ہر چیز اللہ تعالیٰ کے فضل سے آج سے لیکر امام الانبیا تک محفوظ چلی آرہی ہے اور اسی کا نتیجہ ہے کہ طلبہ حدیث کو اپنے خاندانی نسب نامے تو یاد نہیں، لیکن حدیث ِرسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نسب نامے یعنی اسانید اللہ کے فضل سے سب کویاد ہیں، یہ سلسلۂ اسانید کتابوں میں لکھے ہوئے ہیں اور پڑھے اور پڑھائے جاتے ہیں۔

حدیث کی معجزانہ حفاظت
حدیث کی حفاظت کے لئے کئے گئے اقدامات میں سے ایک یہ بھی تھا کہ حدیث ِرسول کو اللہ تعالیٰ نے منافقین سے بچائے رکھا اورمنافقین نے حدیث ِرسولؐ روایت نہیں کی۔ اس لئے صحابہ کرام ؓ کے زمانہ میں جملہ احادیث شک وشبہ سے بالا ہیں۔ میرے اس دعوے کی بنیاد قرآن کریم کی یہ آیت کریمہ ہے:
وَمِنْهُم مَّن يَسْتَمِعُ إِلَيْكَ حَتَّىٰٓ إِذَا خَرَ‌جُوامِنْ عِندِكَ قَالُوا لِلَّذِينَ أُوتُواٱلْعِلْمَ مَاذَا قَالَ ءَانِفًا ۚ أُولَـٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ طَبَعَ ٱللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ وَٱتَّبَعُوٓاأَهْوَآءَهُمْ ﴿١٦...سورۃ محمد
''اور ان میں بعض ایسے ہیں جو تمہاری طرف کان لگائے رہتے ہیں یہاں تک کہ سب کچھ سنتے ہیں لیکن جب تمہارے پاس سے نکل کر چلے جاتے ہیں تو جن لوگوں کو علم (ایمان) دیا گیا ہے، ان سے پوچھتیہیں کہ بھلا اُنہوں نے ابھی کیا کہاتھا؟ یہی لوگ ہیں جن کے دلوں پر اللہ نے مہر لگا رکھی ہے اور وہ اپنی خواہشوں کے پیچھے چل رہے ہیں۔''

منافقین بھی صحابہ کرامؓ کے ساتھ ہی رہتے تھے لیکن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام میں اتنا تقدس اور اتنی خیر وبرکت ہے کہ منافقین کے مکروہ کانوں میں اس کاایک لفظ بھی داخل نہیں ہوتا تھا۔امام الانبیا کی باتیں سننا، یاد رکھنا اور آگے پہنچانا یہ دور کی بات ہے، اللہ تعالیٰ نے ان کی قوتِ سماعت ہی چھین لی تھی کہ نہ وہ سنیں اور نہ آگے بیان کرسکیں اور جب یہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس برخاست ہونے پرباہر نکلتے تو صحابہؓ سے پوچھتے پھر تے: ماذا قال آنفا؟
'' ابھی رسول کیا کہہ رہے تھے ؟''