میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

گذشتہ دنوں برطانیہ کے ولی عہدپرنس چارلس اپنی اہلیہ کے ساتھ پاکستان کے پہلے دورہ پر آئے۔ شہزادے کی والدہ ملکہ الزبتھ نہ صرف برطانوی ریاست کی سربراہ ہیں بلکہ وہ چرچ آف انگلینڈ اور چرچ آف سکاٹ لینڈ کی صدر ہونے کے ناطے مقتدرروحانی پیشوا بھی ہیں۔ ولی عہد ہونے کے اعتبار سے پرنس چارلس کے بھی یہی دونوں بنیادی دائرہ کارہیں۔ چارلس بین المذہبی مکالمات Interfaith Dialogue اور دیگر مذاہب بالخصوص اسلام میں دلچسپی کی بنا پر خاصے مشہور ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں قیام کے دوران ان کے خطابات کا مرکزی موضوع بھی زیادہ تر یہی رہا۔ ملکہ کا خطاب Defender of the faith (ایمانیاتِ عیسائیت کی محافظہ)ہے جس میں معمولی ترمیم یعنی Defender of Faiths(تمام ایمانیات کامحافظ) کے بعد شہزادے نے اسے اپنے لئے اختیارکرلیا ہے۔

2؍ستمبر کو لاہور کے دورے کے دوران گورنر ہائوس میں مختلف مذاہب کے نمائندگان کے ساتھ شہزادے کی ایک نشست رکھی گئی تھی جس کاموضوع بھی یہی تھا۔ مذاہب کے مابین مکالمے پر مبنی یہ مجلس ایک رائونڈ ٹیبل پر چند منتخب افراد کے مابین منعقد ہوئی جس میں سامعین یا پریس کا کوئی نمائندہ موجود نہ تھا۔ مدیر 'محدث' کو بھی برطانوی ہائی کمیشن اور وزارتِ اوقاف پنجاب کی طرف سے اس نشست میں شرکت اور خطاب کی دعوت دی گئی۔ کل شرکاء مکالمہ 10 تھے جن میں شہزادہ چارلس، گورنر پنجاب، محمد اکرم چودھری ( ڈین کلیہ علوم شرقیہ، پنجاب یونیورسٹی)، علماء کرام میں سے مفتی منیب الرحمن (چیرمین مرکزی رؤیت ِہلال کمیٹی)، ڈاکٹر غلام سرور قادری (سابق صوبائی وزیر مذہبی اُمور) اور حافظ حسن مدنی(مدیر 'محدث')، عیسائیوں کے دو نمائندے الیگزینڈر جان ملک(بشپ لاہور) اور آرچ بشپ سلڈھانا، سکھ مت کے نمائندے سردار بشن سنگھ اور خاتون دانشور شہربانو والاجاہی شامل تھے جبکہ سیکرٹری محکمہ اوقاف سید رئیس عباس زیدی نے کو آرڈینٹر کے فرائض انجام دیے۔

زیر نظر مجلس چونکہ ایک خاص مذہبی موضوع پر منعقد کی گئی تھی جس کے لئے پہلے سے متعین عنوانات دیے گئے تھے، اس لئے مدیر محدث نے اپنے موضوع 'غیر مسلموں سے حسن سلوک کے سلسلے میں اسلام کی تعلیمات' (Moral & ethical values of Islam with reference to non-muslims) پر اپنے خطاب کے آخر میں بعض اشاروں میں اپنا پیغام دینے پر ہی اکتفا کیا۔

زیر نظرصفحات میں اس انگریزی خطاب کا اُردو ترجمہ ہدیۂ قارئین ہے ...

قابل احترام شہزادہ چارلس، عزت مآب گورنر پنجاب اورمعزز شرکاے مجلس!

السلام علیکم ورحمة اﷲ وبرکاته

میرے لئے یہ امر باعث ِاعزاز ہے کہ میں آپ کے سامنے 'اسلام میں غیرمسلموں کے ساتھ تعلقات' کے موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کروں۔ اسلام آخری الہامی مذہب اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ آخری وحی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ دنیا بھر میں اسلام سے زیادہ روادار اور محبت واپنائیت کا پیغامبر کوئی مذہب نہیں ہے!!

شہزادئہ محترم! یوں تو آپ سے بالمشافہ ملاقات کا یہ پہلا موقع ہے لیکن آپ کے خیالات اور نظریات میرے لئے اجنبی نہیں۔ آپ کے بیانات کے ذریعے ہم آپ کے رجحانات اور ان خدمات سے بخوبی واقف ہیں جو آپ مذاہب کے مابین مکالمے کے فروغ کے لئے انجام دیتے رہے ہیں۔ مذہب سے گہری وابستگی اور الہامی مذاہب کو ایک دوسرے کے قریب لانے کے لئے آپ کی کوششوں کی ہم قدر کرتے ہیں۔

حال ہی میں آپ کا وہ بیان میری نظر سے گزرا جس میں آپ نے کہا ہے کہ ''اسلام کے بارے میں مغرب کا رویہ غلط فہمی پرمبنی ہے۔'' میں آپ کے اس بیان سے سو فیصد متفق ہوں۔ اسلام انسانیت کی عظمت کا علمبردار اورجملہ بنی نوعِ انسان کی عزت وتکریم کا داعی ہے۔ قرآن کریم کی ایک آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
وَلَقَدْ كَرَّ‌مْنَا بَنِىٓ ءَادَمَ...﴿٧٠﴾...سورۃ الاسراء
'' ہم نے اولادِ آدم کو (کسی مذہبی امتیازکے بغیر) عزت وتکریم دی ہے۔ ''

قرآنِ کریم کی پہلی سورت کی اوّلین آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے آپ کو 'ربّ العٰلمین' کہا ہے اور سورة الانبیا کی آیت نمبر107میں پیغمبر اسلام کو 'رحمتہ للعالمین' کا لقب دیا ہے۔ ایک اور قرآنی آیت کی رو سے ''اللہ کی رحمت روے کائنات میں ہر چیز کو شامل(i)ہے۔'' ان قرآنی شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ اللہ کی ربوبیت ورحمت صرف مسلمانوں کے ساتھ ہی خاص نہیں، ایسے ہی پیغمبر اسلام کی رحمت وبعثت بھی جمیع انسانیت کے لئے ہے!

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ غیرمسلموں سے محبت، احترام اور رواداری سے بھری پڑی ہے۔ ایک بار آپ کے سامنے ایک یہودی کا جنازہ گزرا تو آپ اس کے احترام میں کھڑے ہوگئے۔ صحابہؓ نے آپ سے پوچھا کہ غیرمسلم کے لئے ایسا احترام کیوں ؟ تو آپ نے فرمایا: ''کیوں، کیا وہ انسان نہیں ہیں؟''(1) کسی اسلامی معاشرے میں غیرمسلموں سے ظلم اور ناانصافی کاتصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے آپ کو غیرمسلموں کے حقوق کے محافظ قرار دے کر ان کے معاشرتی تحفظ کی ضمانت دی ہے۔ آپ ؐکا فرمان ہے :
''جس کسی نے کسی معاہدپر ظلم کیا، یا اس پر ضرورت سے زیادہ بوجھ ڈالا تو قیامت کے روز میں اس غیرمسلم کے حقوق کے لئے اس سے لڑوں گا۔'' 2

جناب صدرِ مجلس!
اسلام اپنی اساس اور بنیاد کے اعتبار سے ہی امن وآشتی اور محبت وشفقت کا علمبردار مذہب ہے۔ مذہبی رواداری کی اس سے بڑی اورکیا بنیاد ہوسکتی ہے جو قرآنِ کریم میں ہے کہ ''مذہب قبول کرنے کے معاملے میں کوئی جبر گوارا نہیں۔''3

غیرمسلموں کے بارے میں اسلام کی شاندار تعلیمات ایسی ہیں جن کی مثال دنیا کا کوئی دوسرا مذہب پیش نہیں کرسکتا۔ مسلمانوں نے ان احکامات کی پاسداری میں غیرمسلموں سے حسن سلوک کی درخشندہ روایات قائم کیں۔ جملہ مؤرخین کا اس امر پر اتفاق ہے کہ پوری اسلامی تاریخ میں ایک بھی ایسی مثال نہیں ملتی جس میں غیرمسلموں کو مسلم خلفا کی طرف سے مذہبی جبر کا سامنا کرنا پڑا ہو۔

اسلام نے اپنے ماننے والوں کو اس امر کا پابند کیاکہ وہ دوسروں کے مقدس مقامات اور مذہبی شخصیات کا احترام کریں۔4 اسلام نے اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ غیرمسلموں کی عبادت گاہوں اور مذہبی شعارات کو بھی پورا تحفظ فراہم کیا۔ 5یہ واقعہ عظیم اسلامی تاریخ کا حصہ ہے کہ خلیفہ ولید بن عبد الملک کے دور میں کسی مسلمان نے عیسائیوں کا ایک گرجا اپنے قبضے میں کرلیا ، جب حضرت عمر رحمۃ اللہ علیہ بن عبد العزیز کو اس کی اطلاع ملی تو اُنہوں نے یہ گرجا عیسائیوں کو واپس کرنے کا حکم دیا۔6 مغربی مؤرخین کا بھی اس امرپر اتفاق ہے کہ خلافت کے زیر اثر مسلم علاقوں میں مسلم حکمرانوں نے عیسائیوں کو بھرپور مذہبی تحفظ فراہم کیا۔7 تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ یہودیوں کو جب دیگر اقوام کے مظالم کے نتیجے میں یورپ سے نکلنا پڑا تو اُنہوں نے مسلم علاقوں میں آکر پناہ لی۔ اَندلس میں یہودیوں اور عیسائیوں کو ہرقسم کے حقوق حاصل رہے۔

اسلام مذہبی بنیادپر کسی خصوصی امتیاز کا قائل نہیں ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے10 ہجری میں خطبہ حجتہ الوداع کے موقع پر مساواتِ انسانی کی عظیم بنیاد قائم فرمائی۔ آپؐ نے کہاکہ کسی عربی کو عجمی پر، یا سفید کو سرخ وسیاہ رنگت والے پر کوئی برتری حاصل نہیں ہے۔8 اسلام نے نسل، رنگ زبان او رعلاقوں کی بنیاد پرتمام امتیازات کا جڑ سے خاتمہ کردیا۔ قرآن نے اس سلسلے میں ایک واضح اُصول قائم کردیا کہ تم میں سے معزز آدمی وہ ہے جو سب سے زیادہ اللہ کا تقویٰ اختیار کرنے والا ہے۔9یہ اسلامی تعلیمات کو ئی نئی نہیں بلکہ اسلام کا ہر طالبعلم انہیں بخوبی جانتا ہے!

شہزادہ چارلس اور معزز اہل علم ودانش!
مجھے تقابل ِادیان کے مستند سکالرہونے کا کوئی اِدعا نہیں ، اس کے باوجود میں پورے اعتماد سے یہ کہہ سکتا ہوں کہ اسلام اور عیسائیت میں کئی باتیں مشترک ہیں۔یہ امر حیران کن نہیں کیونکہ آخرکار دونوں مذاہب کی اساس وحی الٰہی رہی ہے اور دونوں مختلف زمانوں میں اللہ عزوجل کے ہی نازل کردہ مذاہب ہیں۔مسلمانوں میں ایمانیات کے چھ بنیادی اجزا ہیں۔ جب حضرت جبریل ؑنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایمان کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا تھا : (أن تؤمن باﷲ وملائکته وکتبه ورسله والیوم الآخر وتؤمن بالقدر خیرہ وشرہ)10 اس سے پتہ چلتا ہے کہ ایمان کے بنیادی ارکان میں اللہ پر ایمان، فرشتوں پر ایمان، اللہ کی کتب پر ایمان، سابقہ رسولوں پر ایمان، یومِ آخرت پر ایمان اور اچھی وبری تقدیر پر ایمان شامل ہیں۔یہاں چند باتیں غور طلب ہیں:
(1) اسلام کے یہ تمام 'ارکانِ ایمان' یہودیت وعیسائیت میں بھی موجود ہیں جن میں بعض تصورات تو انتہائی قریب ہیں مثلاً فرشتوں، قدر وقضا اور یومِ آخرت پر ایمان اور بعض میں جزوی اشتراک پایا جاتا ہے مثلاً اللہ، رسولوں اور کتابوں پر ایمان۔ اس سے ان مذاہب کی مشترکہ ایمانی اساسات کا پتہ چلتا ہے۔

(2) اسلام کی رواداری کا یہ عالم ہے کہ جب تک حضرت عیسیٰ ، موسیٰ علیہم السلام اور تمام پیغمبروں کے علاوہ ان کی کتابوں انجیل، توراة اور زبور وغیرہ کے منزل من اللہ ہونے پر ایمان نہ لایا جائے، مسلمانوں کا ایمان ہی مکمل نہیں ہوتا۔ غور طلب امر یہ ہے کہ کیا عیسائیت اور یہودیت کے پیروکار بھی پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اور صحیفہ ہدایت(قرآنِ کریم) پر اسی طرح ایمان رکھتے ہیں اور وہ ان کو یہ احترام دینے پر آمادہ ہیں؟

(3) ہمارا نکتہ اختلاف یہ ہے کہ اسلام یہودیت وعیسائیت کو الہامی مذاہب تو مانتا ہے لیکن وہ شریعت ِمحمدیؐ کو ہی اسلام کی آخری اور حتمی شکل قرار دیتا ہے۔جس کے علمبردار نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے کی پیشین گوئی ان دونوں مذاہب کی مقدس کتب میں بھی موجود ہے۔

فی زمانہ بین المذہبی مکالمہ کے فروغ اور مذہبی رواداری پر بہت زور دیا جاتا ہے اور ہمارے محترم مہمان بھی اسی نظریے کے اہم علمبردار ہیں۔ میں یہاں یہ سوال پوچھنے کی جسارت کروں گا کہ رواداری کا یہ سبق اسلام کو ہی دیا جانا چاہئے یا دیگر مذاہب کے علمبرداروں کو بھی آمادہ کرنا چاہئے کہ وہ اسلام کی مقدس شخصیات اور معزز شعارات کو نشانہ بنانے سے احتراز کریں۔ میں دیگر مذاہب کے بارے میں اسلام کی تعلیمات اور غیرمسلموں سے حسن تعلقات کا تذکرہ ابھی کرچکا ہوں، ماضی اور حال میں کبھی بھی مسلمانوں نے کسی قوم کی مذہبی شخصیات، دینی شعارات اورعبادت گاہوں کو نشانہ نہیں بنایا، لیکن مقامِ افسوس ہے کہ گذشتہ چند برسوںمیں ہی پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی اہانت کو ایک مسلسل اور مذموم روایت بنالیا گیا ہے، کبھی مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآنِ مجید کی مثل خود ساختہ قرآن (مثلاًفرقان الحق وغیرہ) تیار کرکے بڑے پیمانے پر پھیلائے جاتے ہیں اور کبھی معاذ اللہ قرآنِ عظیم کو ہی باتھ روم اور ٹوائلٹ میں بہا نے کی جسارت کی جاتی ہے۔ کبھی اسلامی شعار' حجاب' کے خلاف دنیا کے مختلف ملکوں میں تحریکیں اُٹھتی ہیں تو کبھی داڑھی کو مذاق کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اسلام کی تمام تعلیمات کو طنز واستہزا کی بھینٹ چڑھانا اور اسلام کے خلاف ہرزہ سرائی کرنا عالمی میڈیا کا معمول بن چکا ہے۔ میرے خیال میں رواداری اور باہمی احترام کا یہ سبق دیگر مذاہب کو بھی دیا جانا چاہئے !!

جنابِ صدر!
دنیا آج بے چینی اور بدامنی کا شکار ہے۔ ان حالات میں مذاہب کو امن وسکون کے قیام کے سلسلے میں اپناکردار ادا کرنے کے لئے میدانِ عمل میں اُترنا چاہئے۔ سیکولر دانشوروں کا یہ دعویٰ ہے کہ دنیا میں بے اطمینانی مذاہب کی پیدا کردہ ہے لیکن یہ محض الزام تراشی ہے۔ دراصل انسان کو اللہ سے کاٹ کر مادّیت اور حرص وہوا کا بندہ بنادینے سے دنیا میں بے اطمینانی اور بے سکونی پیدا ہوئی ہے۔ تمام مذاہب محبت اور رواداری، انسانیت، اللہ کی بندگی، قربانی اور اخلاقِ کریمانہ کی دعوت دیتے ہیں۔ اسلام جو اللہ کا آخری دین ہے، اس کابنیادی پیغام ہی ربّ ذوالجلال کی بندگی اور اس کے سامنے سرتسلیم خم کرلینا ہے۔ 'اسلام' کا لفظی مطلب ہی 'امن وآشتی' ہے، اس کے باوجود اسلام کو دہشت گردی کے الزام سے متہم کیا جاتا ہے۔

انسان کا اپنے خالق کو بھلا دینا دنیا میں بے اطمینانی،بے چینی اور باہمی اختلاف کا بنیادی سبب ہے۔ دوسرے الفاظ میں انسان کے اجتماعی معاملات اور ریاستی اُمور کواللہ کی رہنمائی سے نکال کر اپنے جیسے چند انسانوں کے ہاتھ میں دے دینا مسائل کی جڑ ہے۔ اہل کتاب اور اسلام کے علمبرداروں کے لئے یہ بہترین وقت ہے کہ وہ مل جل کر مشترکہ اہداف کے لئے کام کریں اور لوگوں کو اپنے جیسے انسانوں کی بندگی سے نکال کر اللہ کی بندگی میں لانے(ii) کی مشترکہ جدوجہد کریں، یہی وہ واحد طریقہ ہے جس سے دنیا میں امن کا خواب شرمندئہ تعبیر ہوسکتا ہے۔

عزت مآب شہزادہ چارلس !
'چرچ آف انگلینڈ' کے ولی عہد ہونے کے ناطے میں آپ کے سامنے یہ تجویز پیش کرتا ہوں کہ مشترکہ اہداف کے لئے مل جل کر کام کرنا اور لوگوں کو اللہ کی عبادت کی طرف بلانا(iii) بین المذہبی مکالمہ کا مرکزی نکتہ ہونا چاہئے، تب ہی تخلیق کائنات کا حقیقی مقصد(iv) پایۂ تکمیل کو پہنچ سکتا ہے۔

میں شکرگزار ہوں کہ ہمارے درمیان بیٹھ کر آپ نے ہمیں تبادلہ خیال کا موقعہ دیا اور میری ان معروضات کو خندہ پیشانی سے سنا۔ شکریہ!


حوالہ جات
1. صحیح بخاری: حدیث نمبر 1229
2.  (ألا من ظلم معاهدا و انتقصه،و کلَّفه فوق طاقته وأ خذ منه شیئًا بغیر طیب نفس فأنا حجیجه یوم القیمة ) (سنن ابو دائود: 2654)
3. قرآنِ کریم کی آیت کی طرف اشارہ ہے: لَآ إِكْرَ‌اهَ فِى ٱلدِّينِ...﴿٢٥٦﴾...سورۃ البقرۃ
4. آیت ِ کریمہ ہے (وَلَا تَسُبُّوا ٱلَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ فَيَسُبُّوا ٱللَّهَ عَدْوًۢا بِغَيْرِ‌ عِلْمٍ...﴿١٠٨﴾...سورۃ الانعام)
5. دیکھیں حضرت عمرفاروق کا اہل بیت المقدس کو صلح نامہ (تاریخ طبری: 1593)
6.  کتاب غیر المسلمین في المجتمع الإسلامي: ص 32
7.  کتاب حضارة العرب: ص 128
8.  خطبہ حجتہ الوداع بحوالہ مسند امام احمد بن حنبل: 4115
9.  إِنَّ أَكْرَ‌مَكُمْ عِندَ ٱللَّهِ أَتْقَىٰكُمْ...﴿١٣﴾...سورۃ الحجرات

10. حدیث ِجبریل ... صحیح مسلم : ، رقم 9


 

i. (وَرَ‌حْمَتِى وَسِعَتْ كُلَّ شَيءٍ...﴿١٥٦﴾...سورۃ الاعراف)
ii. اہل نجران کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مراسلہ میں یہ دعوت دی: (فن أدعوکم لي عبادة اﷲ من عبادة العباد لي عبادة اﷲ وأدعوکم لي ولایة العباد من ولایة العباد) (دلائل النبوة از بیہقی: 2126)
iii. اہل کتا ب کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی قرآنِ کریم نے یہ دعوت دی ہے: (قُلْ يَـٰٓأَهْلَ ٱلْكِتَـٰبِ تَعَالَوْا إِلَىٰ كَلِمَةٍ سَوَآء بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلَّا نَعْبُدَ إِلَّا ٱللَّهَ وَلَا نُشْرِ‌كَ بِهِۦ شَيْـًٔا وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْ‌بَابًا مِّن دُونِ ٱللَّهِ ۚ فَإِن تَوَلَّوْا فَقُولُوا ٱشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ ﴿٦٤...سورۃ آل عمران)
iv. قرآن کی رو سے تخلیق جن وانس کا مقصد یہ ہے: (وَمَا خَلَقْتُ ٱلْجِنَّ وَٱلْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ ﴿٥٦...سورۃ الذاریات)