303-Sep-2006

میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

چند صدیوں سے 'ریاست' کے ادارہ نے غیرمعمولی ترقی حاصل کرکے زندگی کے ہر پہلو تک اپنے دائرئہ کار کو وسعت دے لی ہے۔ ریاست کا ایک تصور تو مغرب کا دیا ہوا ہے جس کی بنیاد وطنیّت یعنی کسی خطہ ارضی سے وابستہ ہے۔ اس لحاظ سے ایک خطہ ارضی میں بسنے اور کسی ملک کی سرحدوں میں رہنے والے تمام افراد کے حقوق مساوی ہیں،اسی تصور پر پاسپورٹ اور آمد ورفت کے قوانین بنائے جاتے اور ملکی لکیروں کو تقدس دیا جاتا ہے، باہر سے اس علاقہ میں آنے والوں پر اس علاقہ کے باشندگان کے مفادات کو ترجیح دی جاتی ہے۔ دوسری طرف اسلام کا نظریۂ ریاست ہے جو زمین کی بجائے دراصل نظریۂ اسلام سے جڑا ہوا ہے۔ دنیا بھر میں مسلمان ایک ہی اُمت، ملت اور جسد ِواحد ہیں۔ اُمت ِمسلمہ میں ایک وقت میں ایک ہی خلیفہ ؍ امیر المومنین ہوتا ہے جبکہ انتظامی مقاصد کے لئے مختلف خطوں پر اس کی طرف سے گورنر مقرر کئے جاتے ہیں۔ علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ کی نظر میں:


ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے                    جو پیرہن اس کا ہے وہ مذہب کاکفن ہے!

جب بھی کہیں اسلامی ریاست کی بات ہوتی ہے تو اس میں غیرمسلموں کے حقوق کے بارے میں بہت سے اشکالات پیدا کئے جاتے ہیں، جیسا کہ اسی شمارے میں شائع ہونے والے مضمون میں محمد علی جناح پر قیام پاکستان کے حوالے سے کئی اعتراضات کا تذکرہ موجود ہے۔ زیر نظر مضمون اسی حوالے سے بے بنیاد پروپیگنڈہ کے تناظر میں اصل صورتحال اور شریعت ِاسلامیہ کے موقف کو واضح کرنے کی اچھی کاوش ہے جس سے اسلامی ریاست میں غیرمسلموں کے حقوق کا بخوبی علم ہوگا۔ (ح م)

 

تاریخ انسانی گواہ ہے کہ کسی بھی دور، کسی بھی نسل اور کسی بھی علاقہ کا انسان آج تک وہ مقامِ ارفع حاصل نہیں کرسکا جو دین حنیف'اسلام' کے دامن میں پناہ لینے کے بعد اس کو نصیب ہوا۔اسلئے کہ اسلام ایک عالم گیر دین اور مکمل ضابطہ حیات تھا،اس کا پیغمبرؐ پوری کائناتِ انسانی کی طرف مبعوث ہوا تھا اور یہ وہ امتیاز ہے جو اس سے پہلے کسی نبی اور پیغمبر کو حاصل نہیں تھا۔

جب کوئی محقق انسانی حقوق کے عالمی چارٹر کی دفعات اور اسلامی نظامِ انسانی حقوق(1) کے درمیان موازنہ کرنے بیٹھے گا تو وہ اپنے تئیں اس حقیقت کو تسلیم کرنے پر مجبور پائے گا کہ اسلام کا نظامِ انسانی حقوق اپنی جامعیت، وسعت ،گہرائی و گیرائی اور انسانی ضروریات کے لئے جلب ِمنفعت اور دفع ِمضرت جیسی خصوصیات کا حامل ہونے کے لحاظ سے، اس قانون سے کہیں برتر اور فائق ہے جو انسانی افکار کا تراشیدہ اور خود ساختہ ہے۔تعصب،ہٹ دھرمی اور اسلام کے ساتھ اندھی دشمنی سے بالاتر ہوکر تاریخ کا خصوصی مطالعہ کرنے سے یقینا یہ حقیقت واضح ہوجائے گی کہ اس کرۂ ارض پر ایسا کوئی مذہب اور شریعت موجود نہیں ہے جس نے انسانی حقوق کو اس جامعیت و تفصیل اور وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہو اور اس کی اس قدر خوبصورت اورسچی تصویر کشی ہو، جیسا کہ اسلام نے کی ہے۔2

شریعت ِاسلامیہ نے محض اپنے ماننے والوں کے ہی حقوق کا تحفظ نہیں کیا، بلکہ بے شمار حقوق میں مسلمانوں کے ساتھ غیر مسلموں کو بھی برابر شریک کیا ہے اور اس میں اپنے ماننے والوں اور نہ ماننے والوں کے درمیان کوئی فرق روا نہیں رکھا ۔یہ وہ امتیاز ہے جو کسی اور مذہب کو حاصل نہیں ہے۔ذیل میں ایسے نمایاں حقوق کا تذکرہ کیا جائے گاجو مسلمانوں کے علاوہ غیرمسلموں کو بھی حاصل ہیں۔

(1) انسانی عز و شرف کے تحفظ کا حق
اسلام نے مسلم و کافر کا فرق روا رکھے بغیر ہر انسان کے سر پر عزت و شرف کا تاج رکھا اور تمام مخلوقات پر اس کا مقام بلند کردیا۔ قرآن کہتا ہے:
وَلَقَدْ كَرَّ‌مْنَا بَنِىٓ ءَادَمَ وَحَمَلْنَـٰهُمْ فِى ٱلْبَرِّ‌ وَٱلْبَحْرِ‌ وَرَ‌زَقْنَـٰهُم مِّنَ ٱلطَّيِّبَـٰتِ وَفَضَّلْنَـٰهُمْ عَلَىٰ كَثِيرٍ‌ۢ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِيلًا ﴿٧٠...سورۃ الاسراء
''ہم نے آدم کی اولاد کو عزت و شرف بخشا اور انہیں خشکی اور تری میں سواری کے ذرائع مہیا کئے اور ہم نے ان کو پاکیزہ چیزوں سے رزق دیا اور اپنی بہت سی مخلوقات پر نمایاں فوقیت بخشی۔''

بلکہ انسانوں کے باپ آدم علیہ السلام کے سامنے فرشتوں کو سجدہ ریز کرکے عظمت اورفضیلت کا سہرا انسان کے سر باندھا، قرآنِ کریم میں ہے:
وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَـٰٓئِكَةِ ٱسْجُدُوا لِءَادَمَ فَسَجَدُوٓا إِلَّآ إِبْلِيسَ أَبَىٰ ﴿١١٦...سورۃ طہ
''اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا: آدم کو سجدہ کرو ، ان سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے انکار کردیا۔''

پھر اللہ تعالیٰ کا انسان کو اپنی ظاہر ی و پوشیدہ نعمتوں سے مالا مال کرنا، آسمان اور زمین کو اس کے لئے مسخر کردینا،اس بات کا بین ثبوت ہے کہ انسان کائنات کی افضل ترین مخلوق ہے۔ قرآن کی گواہی ملاحظہ ہو:
ٱللَّهُ ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلسَّمَـٰوَ‌ٰتِ وَٱلْأَرْ‌ضَ وَأَنزَلَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءً فَأَخْرَ‌جَ بِهِۦ مِنَ ٱلثَّمَرَ‌ٰ‌تِ رِ‌زْقًا لَّكُمْ ۖ وَسَخَّرَ‌ لَكُمُ ٱلْفُلْكَ لِتَجْرِ‌ىَ فِى ٱلْبَحْرِ‌ بِأَمْرِ‌هِۦ ۖ وَسَخَّرَ‌ لَكُمُ ٱلْأَنْهَـٰرَ‌ ﴿٣٢﴾ وَسَخَّرَ‌ لَكُمُ ٱلشَّمْسَ وَٱلْقَمَرَ‌ دَآئِبَيْنِ ۖ وَسَخَّرَ‌ لَكُمُ ٱلَّيْلَ وَٱلنَّهَارَ‌ ﴿٣٣﴾وَءَاتَىٰكُم مِّن كُلِّ مَا سَأَلْتُمُوهُ ۚ وَإِن تَعُدُّوا نِعْمَتَ ٱللَّهِ لَا تُحْصُوهَآ ۗ إِنَّ ٱلْإِنسَـٰنَ لَظَلُومٌ كَفَّارٌ‌﴿٣٤...سورۃ ابراھیم
''اللہ وہی ہے جس نے زمین اور آسمان کو پیدا کیااور آسمان سے پانی اُتارا، پھر اس کے ذریعہ سے طرح طرح کے پھل پیدا کرکے تمہاری رزق رسانی کا سامان کیا، اور تمہارے لئے کشتی کو مسخر کیا کہ سمندر میں اس کے حکم سے چلے، نیز دریاؤں کو تمہارے لئے مسخر کیا، اور سورج اور چاند کو تمہارے لئے مسخر کیا کہ مسلسل چلے جارہے ہیں اور تمہارے لئے دن اور رات کو مسخر کیا اور اِس نے تمہیں وہ سب کچھ عطا کردیا جو تم نے مانگا، اگر تم اس کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو نہیں کرسکتے ۔حقیقت یہ ہے کہ انسان بڑا ہی بے انصاف اور ناشکرا ہے۔''

انسان کے اس بلند مقام کے پیش نظر جو اللہ نے اسے عطا کیا اس کی عزت و شرف کا تحفظ بحیثیت ِانسان، خواہ وہ مسلم ہو یا غیر مسلم، انسان کا بنیادی حق ہے اور ہمارا دعویٰ ہے کہ احترام آدمیت کی جیسی صحیح اور مؤثر تعلیم اسلام نے دی، انسان کی عزت و شرف کا جیسا تحفظ اسلام نے کیا ہے، حتیٰ کہ غیر مسلموں کے لئے بھی، دنیا کا کوئی مذہب اس لحاظ سے اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ دنیا کی تمام قومیں اور تمام انسان اس کی نگاہ میں ایک ہی حیثیت رکھتے ہیں، ان کے حقوق یکساں ہیں کیونکہ بشریت کی اصل بنیاد ایک ہے۔ قرآنِ کریم نے جابجا مختلف پیرایوں میں اس تعلیم کو دل نشین کرنے کی کوشش کی ہے۔ اللہ فرماتے ہیں :
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَـٰكُم مِّن ذَكَرٍ‌ۢ وَأُنثَىٰ وَجَعَلْنَـٰكُمْ شُعُوبًا وَقَبَآئِلَ لِتَعَارَ‌فُوٓا ۚ إِنَّ أَكْرَ‌مَكُمْ عِندَ ٱللَّهِ أَتْقَىٰكُمْ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ‌﴿١٣...سورۃ الحجرات
''لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور عورت سے پیدا کیا اور تمہاری قومیں اور برادریاں بنائیں تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو، بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے عزت والا وہ شخص ہے جو تم میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔''

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے 10ھ کو حجة الوداع کے موقعہ پر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا:
(یأیھا الناس إن ربکم واحد وأن أباکم واحد ألا لا فضل لعربي علیٰ أعجمي ولا لأعجمي علی عربي ولا لأحمر علی أسود ولا لأسود علی أحمر إلا بالتقویٰ أ بلَّغتُ) 3
''لوگو! تمہارا ربّ ایک ہے، تمہارا باپ ایک تھا، یاد رکھو، کسی عربی کو کسی عجمی پر کوئی برتری حاصل نہیں ہے اور نہ ہی کسی عجمی کو عربی پر کوئی برتری حاصل ہے اور نہ کسی گورے کو کالے پر اور نہ کالے کو گورے پر کوئی برتری حاصل ہے، ہاں اگر برتری کا کوئی معیار ہے تو وہ صرف تقویٰ ہے۔ لوگو سنو! کیا میں نے اپنا پیغام پہنچا نہیں دیا؟''

مکالمہ میں غیرمسلموں کے حقوق کا تحفظ: غیر مسلموں کے حقوق کے تحفظ کی اس سے بڑھ کر مثال کیا ہوسکتی ہے کہ اسلام ان سے گفتگواور مباحثہ کے دوران بھی ان کی عزتِ نفس اور ان کے جذبات کا خیال رکھنے کی تلقین کرتا ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے :
وَلَا تُجَـٰدِلُوٓا أَهْلَ ٱلْكِتَـٰبِ إِلَّا بِٱلَّتِى هِىَ أَحْسَنُ إِلَّا ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْهُمْ ۖ وَقُولُوٓا ءَامَنَّا بِٱلَّذِىٓ أُنزِلَ إِلَيْنَا وَأُنزِلَ إِلَيْكُمْ وَإِلَـٰهُنَا وَإِلَـٰهُكُمْ وَ‌ٰحِدٌ وَنَحْنُ لَهُۥ مُسْلِمُونَ ﴿٤٦...سورۃ العنکبوت
''اور اہل کتاب سے بحث نہ کرو مگر عمدہ طریقہ سے، سوائے ان لوگوں کے جو ان میں سے ظالم ہوں اور ان سے کہو: ہم ایمان لائے ہیں اس چیز پر بھی جو ہماری طرف بھیجی گئی ہے اور اس چیز پر بھی جو تمہاری طرف بھیجی گئی تھی، ہمارا الٰہ اور تمہارا الٰہ ایک ہی ہے اور ہم اسی کے فرمانبردار ہیں۔''

عقائد اور مذہبی کتب کا احترام: نیز اسلام ان کے اس حق کو بھی تسلیم کرتا ہے کہ ان کے عقائدکا احترام کیا جائے۔ اجتماعی اُمور کا کوئی انصاف پسند عالم اس بات سے انکار نہیں کرسکتا کہ مسلمانوں نے ہمیشہ دیگر مذہبی کتابوںکو تعظیم اور عزت کی نگاہ سے دیکھا ہے جو غیرمسلموں کے ہاں مقدس سمجھی جاتی ہیں۔ اس سلسلہ میں قاضی کعب بن سور اَزدی کا مشہور واقعہ ہے کہ اُنہوں نے ایک یہودی شخص سے قسم لینا چاہی تو یہ فیصلہ دیا :
''اذھبوا به إلی البیعة وأجمعوا التوراة في حجرہ والإنجیل علی رأسه واستخلفوہ باﷲ الذي أنزل التوراة علی موسیٰ'' 4
''اسے ان کی عبادت گاہ کی طرف لے جاؤ، اور توراة کو اس کی گود میں رکھو اور انجیل کو اس کے سر پر رکھو، پھر اس سے اس خدا کی قسم لو جس نے موسیٰ پر توراة کو نازل کیا تھا۔''

اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو اہل کتاب کی کتابوں کی تکذیب سے منع کرتے ہوئے فرمایا:
(لاتصدقوا أھل الکتاب ولا تکذبوھم و{قُوْلُوْا آمَنَّا بِاﷲِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَیْنَا وَمَا أُنْزِلَ إِلَیْکُمْ۔۔۔ الآیة}) 5
''اہل کتاب کی تصدیق کرو اور نہ ہی ان کی تکذیب کرو، بلکہ یوں کہو:ہم اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور اس پر جو ہماری طرف اُتاری گئی اور جو ان کی طرف اُتاری گئی۔''

اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں :
(إذا حدثکم أھل الکتاب فلا تصدقوھم ولا تکذبوھم وقولوا: آمنا باﷲ وکتبه ورسله فإن کان حقا لم تکذبوھم وإن کان باطلا لم تصدقوھم) 6
''جب اہل کتاب تم سے کوئی بات بیان کریں تو نہ ہی ان کی تصدیق کرو اور نہ ہی تکذیب کرو۔ بس یہ کہہ دو: ہم اللہ تعالیٰ، اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے، تو اس طرح اگر وہ بات سچی تھی تو تم نے ان کی تکذیب نہیں کی اور اگر وہ بات جھوٹ تھی تو تم نے اس کی تصدیق نہیں کی۔''

امام کرمانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :
''ہمیں انبیا پر نازل شدہ تمام کتابوں پر ایمان لانے کا حکم دیا گیا ہے اور ہمارے پاس کوئی ایسا معیار نہیں ہے جس کے ذریعہ ہم یہ پہچان سکیں کہ ان کتب کے مؤلفین نے جو کچھ نقل کیا ہے ان میں سے کون سی بات حق ہے اور کون سی باطل ہے۔ ہم نہ تو ان کی تصدیق کرتے ہیں کہ ہم بھی اس کذب کی تحریف کے جرم میں ان کے ساتھ شریک ہوجائیں اور نہ ہی ہم اُنہیں جھوٹا کہتے ہیں کہ شاید جو کچھ اُنہوں نے نقل کیا ہے وہ صحیح ہو اور ہم کسی ایسی چیز کا انکار کر بیٹھیں جن پر ایمان لانے کا ہمیں حکم دیا گیا ہو۔'' 7

غیرمسلموں سے انصاف کا برتائو:اور بلا خوفِ تردید یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ روئے زمین پر کوئی ایسا دین، مذہب اور نظام موجود نہیں ہے جس نے اسلام سے بڑھ کر اپنے معاندین اور مخالفین کے ساتھ انصاف کا برتاؤ کیا ہو۔ کیا یہ اللہ تعالیٰ کا فرمان نہیں ہے؟
قُلْ مَن يَرْ‌زُقُكُم مِّنَ ٱلسَّمَـٰوَ‌ٰتِ وَٱلْأَرْ‌ضِ ۖ قُلِ ٱللَّهُ ۖ وَإِنَّآ أَوْ إِيَّاكُمْ لَعَلَىٰ هُدًى أَوْ فِى ضَلَـٰلٍ مُّبِينٍ ﴿٢٤...سورۃ سبا
''اے نبیؐ! ان سے پوچھو، کون تم کو آسمانوں اور زمین سے رزق دیتا ہے، کہو: اللہ، اب لامحالہ ہم میں اور تم میں کوئی ایک ہی ہدایت پر یا کھلی گمراہی میں پڑا ہوا ہے۔''

دیکھئے ! اللہ تعالیٰ نے کن الفاظ کے ساتھ اس آیت کو ختم کیا ہے، اللہ کو معلوم تھا کہ کون راہِ راست پر ہے اور کون گمراہی میں پڑا ہوا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے یہاں یقین کو شک کے ساتھ ملا کر اس لئے بیان کیا ہے تاکہ وہ چیز مبرہن ہوکر سامنے آجائے جس کا حق ہونا سب کو معلوم ہے اور حق و باطل اور شک و یقین کے درمیان امتیاز واضح ہو جائے۔علم بلا غہ کی اصطلاح میں اس کو 'تجاہل عارفانہ' کا نام دیا گیا ہے جس کے ذریعے معنی میں زیادہ مبالغہ اورتاکید مہیا کرنا مقصود ہوتا ہے۔قرآنِ کریم نے یہاں یہ وضاحت نہیں کی کہ کون کس گروہ سے تعلق رکھتا ہے ، کون راہِ مستقیم پر گامزن ہے اور کون گمراہی کی وادیوں میں سرگرداں ہے اور یہ وہ انصاف ہے جو اسلام نے اپنے مخالفین کے ساتھ کیا ہے کہ ان پر حجت تمام کردی اور پھر فیصلہ عقل و دانش پر چھوڑ دیا کہ عقل وبینش کاحامل انسان خود فیصلہ کرے کہ وہ کس راہ کا راہی ہے۔

امام زمخشری رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ
وھذا من الکلام المنصف الذي کل من سمعه من موال أو مناف قال لمن خوطب به : قد أنصفك صاحبك،وفي درجه بعد تقدمة ما قدم من التقریر البلیغ دلالة غیر خفیة علی من ھو من الفریقین علی ھدی ومن ھو في الضلال المبین ولکن التعریض والتوریة أنضل بالمجادل إلیٰ العرض وأھجم به علی الغلبة مع قلة شغب الخصم،وفل شوکته بالهوینا، ونحوہ قول الرجل لصاحبه: علم اﷲ الصادق مني ومنك، وإن أحدنا لکاذب۔ 8
''یہ ایسی مبنی برانصاف کلام ہے کہ اس کو سننے والا ہر دوست، دشمن شخص یقینا اس کلام کے مخاطب سے کہے گا: ''سچی بات یہ ہے کہ تیرے مدمقابل ساتھی نے تجھ سے انصاف کیا ہے۔ اس سے ماقبل کلام میں ایک زبردست اور بلیغ اشارہ ہے جس کی تہہ میں یہ رہنمائی و اشگاف انداز میں موجود ہے کہ دو فریقوںمیں سے کون سا فریق راہِ حق پر اور کون سا گروہ واضح گمراہی میں گرا ہوا ہے۔ لیکن تعریض اور توریہ کا انداز اس لئے اختیار کیا گیا کہ یہ اندازمدمقابل کو صحیح نشانہ پر گھائل کرنے والا ، اور اس زور سے حملہ آور ہونے والا ہے کہ مدمقابل کی طرف سے ہنگامہ آرائی کم ہوگی اور اس کی قوت کی تلوار آسانی سے کند ہوجائے گی۔یہ وہی اندازِ تکلم ہے جیسے کوئی اپنے ساتھی سے کہے: اللہ جانتا ہے ہم دونوں میں سے کون سچا ہے اور کون جھوٹا۔ البتہ ہم میں سے ایک ضرور جھوٹا ہے۔''

غیرمسلموں کے مذہبی شعائر کا احترام:''اللہ تعالیٰ نے انسانی تکریم کے پیش نظر مسلمانوں پر حرام کردیا ہے کہ وہ مشرکوں کے معبودوں کو گالی دیں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ بھی اس کے ردعمل میں اللہ کو گالی دیں۔ تو اس کا مقصد درحقیقت انسانی عزت کا تحفظ تھا، کیونکہ انسان جن چیزوں کو مقدس سمجھتا ہے ،ان کے متعلق اس کے جذبات کا احترام کرنا درحقیقت اس کی تکریم ہی ہے، اگر مشرک اپنے معبودوں کی برائی سنیں گے تو ردعمل میں نہ چاہتے ہوئے بھی وہ مسلمانوں کے معبود کو برا بھلا کہیں گے ۔ اگرچہ وہ توحید کے قائل نہیں ہیں لیکن وہ بھی اللہ عزوجل کے وجود کو بر حق مانتے ہیں ،اور جب مسلمان مشرکین کے معبودوں کو گالی دیں تو مشرک بھی ردعمل میں مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کریں گے ،جس طرح مسلمانوں نے ان کے جذبات کو مجروح کیا ہے اور یہ چیز ہر دو فریق کی عز ت و تکریم کے منافی ہے ۔اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ باہم دونوں میں حسد و بغض اور کینہ پیدا ہوگا۔9'' اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
وَلَا تَسُبُّوا ٱلَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ فَيَسُبُّوا ٱللَّهَ عَدْوًۢا بِغَيْرِ‌ عِلْمٍ ۗ كَذَ‌ٰلِكَ زَيَّنَّا لِكُلِّ أُمَّةٍ عَمَلَهُمْ ثُمَّ إِلَىٰ رَ‌بِّهِم مَّرْ‌جِعُهُمْ فَيُنَبِّئُهُم بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ﴿١٠٨...سورۃ الانعام
''(اے مسلمانو!) یہ لوگ اللہ کے سوا جن کو پکارتے ہیں ، انہیں گالیاں نہ دو، کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ شرک سے آگے بڑھ کر جہالت کی بنا پر اللہ کو گالیاں دینے لگیں، ہم نے تو اسی طرح ہر گروہ کے لئے اس کے عمل کوخوش نما بنا دیا ہے ،پھراُنہیں اپنے ربّ ہی کی طرف پلٹ کر آنا ہے، اس وقت وہ اُنہیں بتا دے گا کہ وہ کیا عمل کرتے رہے ہیں۔''

امام قرطبی رحمۃ اللہ علیہ نے اس آیت کے ضمن میں لکھا ہے :
لایحل لمسلم أن یسب صلبانھم ولا دینھم ولا کنائسھم ولا یتعرض إلی ما یؤدي إلیٰ ذلك لأنه بمنزلة البعث علی المعصیة 10
''کسی مسلمان کے لئے یہ روا نہیں ہے کہ وہ عیسائیوں کی صلیبوں ،ان کے مذہب اور ان کے دیر و کلیسا کو بُرا بھلا کہے اور کوئی ایسا فعل انجام دے جو ان کی توہین کا باعث ہو ۔ ایسا کرنا بذاتِ خود ان کو معصیت کے ارتکاب پر برانگیختہ کرنے کے مترادف ہوگا ۔''

مذہبی شخصیات کا احترام:مسلمان تو تمام انبیاء و رسل کی عزت و تکریم کرتے ہیں، اور اسلام کا یہ بنیادی عقیدہ ہے کہ کوئی شخص اس وقت تک مؤمن نہیں ہوسکتا جب تک وہ رسول اللہؐ کے علاوہ دیگر تمام انبیا پر بھی ایمان نہیں لے آتا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
إِنَّ ٱلَّذِينَ يَكْفُرُ‌ونَ بِٱللَّهِ وَرُ‌سُلِهِۦ وَيُرِ‌يدُونَ أَن يُفَرِّ‌قُوا بَيْنَ ٱللَّهِ وَرُ‌سُلِهِۦ وَيَقُولُونَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَنَكْفُرُ‌ بِبَعْضٍ وَيُرِ‌يدُونَ أَن يَتَّخِذُوا بَيْنَ ذَ‌ٰلِكَ سَبِيلًا ﴿١٥٠﴾ أُولَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلْكَـٰفِرُ‌ونَ حَقًّا ۚ وَأَعْتَدْنَا لِلْكَـٰفِرِ‌ينَ عَذَابًا مُّهِينًا ﴿١٥١﴾ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا بِٱللَّهِ وَرُ‌سُلِهِۦ وَلَمْ يُفَرِّ‌قُوا بَيْنَ أَحَدٍ مِّنْهُمْ أُولَـٰٓئِكَ سَوْفَ يُؤْتِيهِمْ أُجُورَ‌هُمْ ۗ وَكَانَ ٱللَّهُ غَفُورً‌ا رَّ‌حِيمًا ﴿١٥٢...سورۃ النساء
''جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں کے ساتھ کفر کرتے ہیں، اور چاہتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان تفریق کریں اور کہتے ہیں کہ ہم بعض کو مانیں گے اور بعض کو نہیں مانیں گے اور کفر وایمان کے درمیان ایک راہ نکالنے کا ارادہ رکھتے ہیں، وہ سب پکے کافر ہیں اور ایسے کافروں کے لئے ہم نے ایسی ہولناک سزا تیار کررکھی ہے جو اُنہیں ذلیل و رسوا کردے گی۔ اس کے برعکس جو لوگ اللہ اور اس کے تمام رسولوں کو مانیں اور ان کے درمیان تفریق نہ کریں، ان کو ہم ضرور ان کے اجر عطا کریں گے اور اللہ بڑا درگزر کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔''

چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ کے آخری پیغمبر محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم جابجا دیگر قوموں کی طرف بھیجے جانے والے اپنے پیغمبر بھائیوں کی تعریف میں رطب اللسان ہیں، حضرت عیسیٰ ؑ کے بارے میں فرماتے ہیں:
(أنا أولی الناس بعیسی ابن مریم في الدنیا والآخرة،والأنبیاء إخوة لعلات أمهاتھم شتی و دینھم واحد) 11
''میرا تعلق اور قربت عیسیٰ بن مریم ؑ کے ساتھ دنیا اور آخرت میں سب لوگوں سے زیادہ ہے کیونکہ انبیا باہم علاتی بھائی ہیں۔ ان کی مائیں الگ الگ ہیں، لیکن سب کا باپ ایک ہے۔''

اسی طرح موسیٰ علیہ السلام کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت عمدہ الفاظ میں یاد کیا ہے ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو یہود کو دیکھا کہ وہ یومِ عاشورا کا روزہ رکھتے ہیں۔ آپؐ نے اس کی وجہ پوچھی تو اُنہوں نے کہا: یہ بڑا مبارک دن ہے، اس دن اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دی تھی، اور موسیٰ ؑ نے اس دن (شکرانہ) کا روز رکھا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(فأنا أحق بموسی منکم،فصامه وأمر بصیامه) 12
''میرا حق اور تعلق موسیٰ ؑ کے ساتھ تم سے زیادہ ہے۔ چنانچہ آپؐ نے اس دن روزہ رکھا اور صحابہ کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیا۔''

رسول ا للہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے پوچھا: لوگوں میں سب سے بڑھ کر معزز کون ہے؟ آپ نے فرمایا: جو ان میں سب سے زیادہ متقی ہے۔ اُنہوں نے کہا: ہم یہ نہیں پوچھ رہے۔ آپؐ نے فرمایا: پھر یوسف علیہ السلام سب سے بڑھ کر معزز ہیں جو خود بھی نبی، ان کا باپ بھی نبی اور ان کا دادا بھی نبی اور ان کا پردادا خلیل اللہ بھی نبی۔ لوگوں نے کہا : ہمارا مقصد یہ پوچھنا نہیں ہے۔ آپؐ نے فرمایا:

(فعن معادن العرب تسألون؟ خیارھم في الجاھلیة خیارھم في الإسلام إذا فقهوا) 13
''کیا تم عرب آبائو اجداد( وہ بنیادی خاندان جن کی طرف عرب منسوب ہوتے تھے)کے بارے میں پوچھ رہے ہو؟ جو جاہلیت میں نمایاں تھا، وہی اسلام میں بھی نمایاں ہے جب وہ دین میں بصیر ت حاصل کرلے۔''

اور ایک دوسرے مقام پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ میں یوسف ؑ کی تعریف فرمائی:
(الکریم ابن الکریم ابن الکریم ابن الکریم: یوسف بن یعقوب بن إسحق بن إبراهیم علیهم السلام) 14
''یوسف خود بھی کریم، ان کا باپ یعقوب ؑ بھی کریم، ان کا دادا اسحق ؑ بھی کریم اور ان کا پردادا ابراہیم ؑ بھی کریم۔''

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوسف ؑ کے صبراور ان کے اعلیٰ شرف پر اظہارِ تعجب کرتے ہوئے فرمایا:
(عجبت لصبر أخي یوسف وکرمه واﷲ یغفر له،حیث أرسل إلیه لیستفتی في الرؤیا ولو کنت أنا لم أفعل حتی أخرج وعجبت لصبرہ وکرمه واﷲ یغفرله أتی لیخرج فلم یخرج حتی أخبرھم بعذرہ ولو کنت أنا لبادرت الباب ولولا الکلمة لما لبث في السجن حیث یبتغي الفرج من عند غیر اﷲ،قولہه{أذکُرْنِيْ عِنْدَ رَبِّکَ}) (یوسف :42) 15
''مجھے اپنے بھائی یوسف کے صبر اور ان کی شان بے نیازی پر حیرت ہے، اللہ ان کو معاف فرمائے کہ جب (جیل میں) ان کے پاس خواب کی تعبیر دریافت کرنے کی غرض سے آدمی بھیجا گیا (تو انہوں نے فوراً اس کی تعبیر بتادی) اگر میں ہوتا تو کبھی تعبیر نہ بتاتا ، تاوقتیکہ مجھے جیل سے رہا نہ کردیا جاتا۔ اللہ ان کی بخشش فرمائے، ان کا صبر اور شانِ بے نیازی دیکھئے کہ جب حکومت وقت نے اُنہیں جیل سے رہا کرنا چاہا تو اُنہوں نے جیل سے باہر نکلنے سے انکار کردیا تاوقتیکہ ان کی بے گناہی ثابت نہیں ہوجاتی۔ اگر میں ہوتا تو فوراً دروازہ کی طرف لپکتا، اگر اُنہوں نے قید سے رہائی پانے والے اپنے ساتھی سے یہ نہ کہا ہوتا کہ رہا ہونے کے بعد اپنے آقا سے میرا تذکرہ کرنا تو وہ زیادہ مدت جیل میں نہ رہتے۔ اس کلمہ کی پاداش میں اُنہیں اتنی طویل مدت جیل کاٹنی پڑی،کیونکہ اُنہوں نے غیر اللہ سے آسانی چاہی تھی۔''

یہ محض عقیدہ ہی نہیں،بلکہ مسلمانوں نے اپنے عمل سے بھی ثابت کیا کہ وہ تمام انبیا سے محبت اور ان کی تعظیم کرتے ہیں اور یہ بات یقینا ان انبیا کے ماننے والوں کے لئے بھی باعث شرف اور لائق تکریم ہے ۔اسی طرح اگر غیر مسلم بھی پیغمبر اسلام محمد بن عبداللہ علیہ افضل الصلوٰة والسلام پر ایمان لاتے، جیسا کہ مسلمان اللہ کے تمام رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں تو یہ ان کے حق میں بھی باعث ِخیروبرکت ہوتا اور مسلمانوں کے لئے بھی۔

غیرمسلموں کی خوبیوں کا اعتراف:اور یہ تاریخی حقیقت ہے کہ مسلمانوں نے ہمیشہ غیر مسلموں کی خوبیوں کا اعتراف کیا ہے اور ان کی اچھی چیزوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھا ہے۔ اس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ جلیل القدر صحابی حضرت عمرو بن العاص ؓکے سامنے رومیوں کا تذکرہ کیا گیا تو اُنہوں نے فرمایا:
إن فیھم لخصالاً أربعًا: إنھم لأحلم الناس عند فتنة وأسرعھم إفاقة بعد مصیبة،وأوشکھم کرة بعد فرة،وخیرھم لمسکین ویتیم وضعیف، وخامسة حسنة جمیلة: وأمنعھم من ظلم الملوك 16
''ان میں چار خوبیاں پائی جاتی ہیں: یہ لوگ فتنہ اور آزمائش کے وقت سب لوگوں سے زیادہ حلیم اور بردبار واقع ہوئے ہیں اور یہ مصیبت کے بعد جلد اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور بھاگنے کے بعد پلٹ کر حملہ میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ اور مسکین، یتیم اور کمزور کے لئے سب سے بڑھ کر خیرخواہ ہیں اوران کی پانچویں شاندار خوبی یہ ہے کہ بادشاہوں کو ظلم و ستم سے روکنے میں طاق ہیں۔''

غیرمسلم میت کا احترام:انسانی شرف وعزت کے تحفظ کی اس سے بڑھ کر مثال آخر کیا ہوسکتی کہ پیغمبر اسلام اپنے ماننے والوں کو غیرمسلموں کے جنازوں کے احترام میں کھڑا ہونے کا حکم صادر کررہے ہیں۔ عامر بن ربیعہ ؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کیا ہے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
''جب تم کوئی جنازہ آتے دیکھو تو کھڑے ہوجاؤ ،تاوقتیکہ وہ گزر جائے17 ایک روز آپؐ کے پاس سے ایک جنازہ گزرا، تو آپؐ کھڑے ہوگئے، کسی نے کہا:یہ تو یہودی کا جنازہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا وہ انسان نہیں ہے؟ 18

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام ؓنے بھی اسی طرزِ عمل کو اختیا رکیا۔ سہل بن حنیفؓ اورقیس بن سعدؓ کے پاس سے ایک جنازہ گزرا، وہ میدانِ قادسیہ میں بیٹھے تھے۔جنازہ دیکھ کر کھڑے ہوگئے۔ کسی نے اعتراض کیا کہ یہ تو ذمی کا جنازہ ہے۔ تو اُنہوں نے جواب دیا : ہاں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے بھی ایک جنازہ گزرا تھا، تو کسی نے کہا:یہ تو یہودی کا جنازہ ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: کیا یہ انسان نہیں ہے۔19اس کے بعد خلفاے مسلمین نے جس طرح غیر مسلموں کے عزت و وقار کا تحفظ کیا ،اسلامی تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے۔

غیرمسلموں کے احترام میں مساوات: حضرت عمرو بن العاص ؓ مصر کے گورنر ہیں، ان کا بیٹا ایک مصری قبطی کو درّہ مارتاہے اور کہتا ہے: میں معزز لوگوں کا بیٹا ہوں۔ وہ قبطی مصر سے چلتا ہے اور مدینہ میں امیرالمومنین حضرت عمر بن خطاب ؓکے پاس پہنچ کر شکوہ کناں ہوتا ہے۔ پھر معلوم ہے کیا ہوا؟ واقعہ کی تفصیل ملاحظہ ہو :
حضرت انس بن مالک ؓاس واقعہ کے راوی ہیں، بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت عمر فاروقؓ کے پاس بیٹھے تھے کہ مصر سے ایک آدمی آیا اور کہنے لگا: اے امیرالمؤمنین، یہ مقام ہے جان کی امان پانے کا۔ آپؓ نے پوچھا: کیا مسئلہ ہے؟ اس نے کہا: عمروبن العاص ؓنے مصر میں گھڑدوڑ کا مقابلہ کروایا۔ میرا گھوڑا سب سے آگے نکل گیا، جب لوگوں نے دیکھا تو محمد بن عمرو اُٹھا اور کہنے لگا: ربّ ِکعبہ کی قسم!یہ میرا گھوڑا ہے، لیکن جب گھوڑا قریب آیا تو میں نے پہچان لیا اور میں نے کہا: ربّ کعبہ کی قسم !یہ میرا گھوڑا ہے۔ محمد بن عمرو نے کوڑ ا پکڑا اور مجھے مارنے لگا اور ساتھ کہہ رہا تھا ،میں شرفا کا بیٹا ہوں، تو جب اس کے باپ عمرو کو یہ اطلاع ملی تو اس نے اس خطرے سے کہ کہیں میں آپ کے پاس نہ چلا جاؤں، مجھے جیل میں بند کردیا۔ میں وہاں سے نکل بھاگا اور اب آپ ؓکے پاس آیا ہوں۔

یہ سن کر حضرت عمرؓ نے اسے بٹھایا اور پھر عمرو بن العاص ؓکی طرف یہ خط لکھا: ''جونہی میرا یہ خط تجھے ملے تو فوراً میرے پاس پہنچو اور ساتھ اپنے بیٹے کو بھی لیتے آؤ ۔ '' اور مصری سے کہا: عمرو کے آنے تک مدینہ میں ٹھہرو۔ جب خط پہنچا تو عمروبن العاص ؓنے اپنے بیٹے کو بلایا اور کہا:تو نے جرم کیا ہے؟اس نے کہا: نہیں۔ کہا: پھر عمر ؓ نے تیرے متعلق یہ خط کیوں لکھا ہے؟ الغرض وہ عمرؓ کے پاس حاضر ہوئے۔

انسؓ کا بیان ہے کہ ہم عمرؓ کے پاس بیٹھے تھے کہ ہم نے عمروبن العاصؓ کو دیکھا، وہ ایک چادر اور تہبند پہنے سامنے کھڑا تھا۔ حضرت عمرؓ نے نگاہ دوڑائی کہ آیااس کا بیٹا بھی موجود ہے کہ نہیں۔ دیکھا تو وہ بھی اپنے باپ کے پیچھے کھڑا تھا۔ اس دوران مصری بھی پہنچ چکا تھا۔ حضرت عمر ؓ نے پوچھا: مصری کہاں ہے؟
مصری: میں موجود ہوں۔
عمرؓ: درہ پکڑو اور اس معززین زادہ کو مارو۔
مصری نے درّہ پکڑا اور اسے مار مار کر لہولہان کردیا۔ ہم بھی خوش تھے کہ وہ اس کو مارے، لیکن مصری نے اسے اتنا زیادہ مارا کہ ہم نے چاہا کہ اب وہ اسے چھوڑ دے۔ حضرت عمرؓ کہہ رہے تھے : اس معززین زادہ کو اور مارو۔پھر حضرت عمرؓ نے کہا: اب یہی درہ عمرو (بن العاص) کی کمر پر بھی رسید کرو، اللہ کی قسم! اس کی حکومت کے بل بوتے پر اس نے تجھے مارا تھا۔
مصری: امیرالمومنین، میں نے اپنا پورا پورا بدلہ لے لیا۔ اے امیرالمومنین میں نے اس کو مار لیا جس نے مجھے مارا تھا۔
عمرؓ: اللہ کی قسم! اگر تو اس کو مارنا چاہے تو ہم نہیں چھڑائیں گے ،یہاں تک کہ تو خود چھوڑ دے اور عمرو بن العاص ؓکو مخاطب کرکے فرمایا:
''تم نے کب سے لوگوں کو غلام بنالیا، حالانکہ وہ اپنی ماں کے پیٹ سے آزاد پیدا ہوئے ہیں؟'' عمروؓ بن العاص نے معذرت کی اور کہا: مجھے اس کا علم نہیں تھا۔ پھر عمرؓ مصری کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا: اب تم جاسکتے ہو ،اگر دوبارہ کوئی اندیشہ ہو تو مجھے لکھو۔'' 20
عدل و انصاف کی پوری تاریخ اس واقعہ پر انگشت بدندان ہے اور عقل محو تماشا لب ِبام۔ حضرت عمرؓ کی حکومت کا یہ مرکزی اُصول٭ تھا :
''ألا إن أقواکم عندي الضعیف حتی آخذ الحق له وأضعفکم عندي القوي حتی آخذ الحق منه۔'' 21
''تم میں سے قوی ترین شخص بھی میرے نزدیک اس وقت تک کمزور ہے جب تک کہ میں اس سے حق وصول نہ کرلوں اور تم میں سے کمزور ترین میرے نزدیک طاقتور ہے جب تک میں اس کا حق اسے دلوا نہ دوں۔''

یہ تاریخ انسانی کا ایک سنہری دور تھا کہ انصاف رعایا کو گھر کی دہلیز پر میسر تھا۔ کوئی حاکم بھی اگر رعایا پر ظلم کرتا تو سزا سے بچ نہیں سکتا تھا ۔کتنا پرشکوہ ہوگا وہ دور کہ ایک علاقہ کا حاکم اور اس کا بیٹا ایک عام آدمی کے سامنے مجرم بن کر کھڑے ہیں۔

ڈاکٹر یوسف قرضاوی مذکورہ واقعہ کے متعلق لکھتے ہیں:
''یہ واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ لوگوں کو اسلام کے زیرسایہ اپنی عزت اور شرفِ انسانیت کا گہرا شعور حاصل ہوا۔ ایک ادنیٰ سا جرم بھی ان کے لئے نفرت انگیز تھا، حتیٰ کہ اگر کسی آدمی نے ناحق کسی کو تھپڑ مارا تو اسے بھی انتہائی برا اور قبیح جرم سمجھا جاتا تھا۔ایک طرف جاہلی تمدن تھاکہ جس کے موڑموڑ پر ظلم و ستم کی ہزاروں داستانیں بکھری پڑی ہیں۔ رومی سلطنت سے بڑھ کر ظلم و جور کا دور اور کون سا ہوگا؟ لیکن کوئی ایک آواز بھی اس کے خلاف نہیں اُٹھتی اور دوسری طرف ایک عادل اسلامی حکومت تھی جس کی گود میں فرد کو اپنے حقوق اور عزت کا شعور ملا، اس نے مظلوم کو اس قابل بنا دیا کہ وہ مصر سے مدینہ تک کے سفر کی صعوبتیں اس اعتماد اور یقین پر برداشت کرتا ہے کہ اس کا حق ضائع نہیں ہوگا اور اس کی شکایت توجہ سے سنی جائے گی۔22

b عقیدہ کی آزادی کا حق
اسلام نے کبھی اپنے مخالفین کو اسلام قبول کرنے پر مجبور نہیں کیا، غیر مسلموں کو اپنے دین پر باقی رہنے کی مکمل آزادی تھی، قرآن و سنت کی کوئی ایک بھی نص ایسی نہیں ہے جس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکے کہ اسلام تلوار کے زور سے لوگوں کو اپنی حقانیت کا اقرار کرنے پر مجبور کرتا ہے، بلکہ قرآن و سنت کی تعلیمات اس کے بالکل برعکس ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبیؐ سے فرماتے ہیں:
وَلَوْ شَآءَ رَ‌بُّكَ لَءَامَنَ مَن فِى ٱلْأَرْ‌ضِ كُلُّهُمْ جَمِيعًا ۚ أَفَأَنتَ تُكْرِ‌هُ ٱلنَّاسَ حَتَّىٰ يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ ﴿٩٩...سورۃ یونس

''اگر تیرا ربّ چاہتا تو تمام اہل زمین ایمان لے آتے ،پھرکیا تو لوگوں کو مجبور کرے گا کہ وہ مؤمن ہوجائیں۔''
اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح طور پر لوگوں کو یہ اختیار دیا کہ وہ اسلام کو قبول کریں یا اپنے مذہب پر قائم رہیں۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ ایک معاہدہ کرتے تھے جس کے تحت وہ ادنیٰ سا جزیہ٭ دیتے تھے جس کے عوض آپؐ انہیں ان کے دین، جان و مال اور عزت کے تحفظ کی مکمل ضمانت دیتے تھے اور وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ضمانت سے پوری طرح مطمئن تھے۔23 حضرت بریدہؓ بیان کرتے ہیں کہ
'' رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی شخص کو کسی لشکر کا سپہ سالار بنا کر بھیجتے تو اسے خصوصاً اللہ کا تقویٰ اختیار کرنے اور اپنے لشکر یوں کے ساتھ خیرخواہی کی تلقین کرتے اور اس کے بعد فرماتے:

أغزوا باسم اﷲ في سبیل اﷲ قاتلوا من کفر باﷲ،أغزوا ولا تغلوا، ولا تغدروا ولا تمثلوا ولا تقتلوا ولیدا وإذا لقیت عدوك من المشرکین فادعھم إلی ثلاث خصال، فأیتھن ما أجابوك فاقبل منھم وکف عنھم ثم ادعھم إلی الإسلام فإن أجابوك فاقبل منھم ۔۔۔ 24
''اللہ کے نام سے جہاد فی سبیل اللہ کا آغاز کرنا، جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرے اس کے ساتھ لڑنا، خیانت نہ کرنا، دھوکہ نہ دینا، نہ کسی کا ناک کان کاٹنا، کسی بچے کو قتل نہ کرنا، جب مشرک دشمن سے معرکہ آرائی ہو تو ان کے سامنے تین باتیں پیش کرنا: ان میں سے جو بات بھی وہ مان لیں، اسے قبول کرلو اور ان سے اپنا ہاتھ روک لو۔ aسب سے پہلے انہیں اسلام کی دعوت دو،اگر وہ مان جائیں تو ان کا اسلام قبول کرلو، پھر اُنہیں اپنے علاقہ سے دارالمہاجرین کی طرف ہجرت کی دعوت دو اور اُنہیں بتاؤ کہ ہجرت کے بعد تمہیں وہ تمام حقوق ملیں گے جو مہاجرین کو حاصل ہیں اور وہ تمام فرائض تم پر لاگو ہوں گے جو مہاجرین پر عائد ہیں اور اگر وہ ہجرت کرنے سے انکار کردیں تو اُنہیں بتاؤ کہ اب تمہاری حیثیت بادیہ نشین مسلمانوں کی ہوگی۔ اللہ تعالیٰ کے وہ تمام احکام تم پر لاگو ہوں گے جو مؤمنوں پرعائد ہیں اور انہیں مالِ غنیمت اور مالِ فے اسی صورت میں ملے گا کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ مل کر جہاد کریں bلیکن اگر وہ اسلام قبول کرنے سے ہی انکار کردیں تو پھر اُنہیں جزیہ دینے کی دعوت دو، اگر مان لیں تو قبول کرلو اور اپنا ہاتھ ان سے روک لو اوراگرانکار کردیں تو ا للہ تعالیٰ سے مدد کا سوال کرو اور ان سے قتال کرو۔''

اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حکمت ِعملی اس فرمان الٰہی کے عین مطابق ہے :
لَآ إِكْرَ‌اهَ فِى ٱلدِّينِ ۖ قَد تَّبَيَّنَ ٱلرُّ‌شْدُ مِنَ ٱلْغَىِّ ۚ فَمَن يَكْفُرْ‌ بِٱلطَّـٰغُوتِ وَيُؤْمِنۢ بِٱللَّهِ فَقَدِ ٱسْتَمْسَكَ بِٱلْعُرْ‌وَةِ ٱلْوُثْقَىٰ لَا ٱنفِصَامَ لَهَا ۗ وَٱللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ ﴿٢٥٦...سورۃ البقرۃ
''دین کے معاملہ میں کوئی زور زبردستی نہیں۔ صحیح بات غلط خیالات سے الگ چھانٹ کر رکھ دی گئی ہے۔ اب جوکوئی طاغوت کا انکار کرکے اللہ پر ایمان لایا، اس نے ایک مضبوط سہارا تھام لیا جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں اور اللہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے۔''

امریکی پروفیسر ایڈون کیلگرلی اس آیت ِقرآنی کے متعلق لکھتا ہے :
''قرآنِ کریم کی اس آیت مبارکہ سے حق و صداقت اور حکمت و دانش جھلکتی ہے۔ ہر مسلمان اس کو جانتا ہے، لیکن ضروری ہے کہ غیرمسلم بھی اس کو جان لیں۔ اس کا پیغام یہ ہے کہ ''دین میں کوئی زبردستی نہیں ہے۔'' 25

یہ آیت بعض انصاری مسلمانوں کے بارے میں نازل ہوئی تھی، جن کی اولاد ابھی تک یہودیت اور عیسائیت پر عمل پیرا تھی۔ جب اسلام کا پیغام مدینہ منورہ میں داخل ہوا تو اُنہوں نے اپنی اولاد کو اسلام قبول کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش تو یہ آیت نازل ہوئی اور انہیں ایسا کرنے سے روک دیا گیا۔ 26

اس شانِ نزول کو پیش ِنگاہ رکھتے ہوئے اگر کوئی شخص اس آیت ِمبارکہ پر غور کرے گا تو وہ جان لے گا کہ اسلام کسی کو زبردستی اپنی حقانیت کا اقرار کرنے پر مجبور کرنے کا قائل نہیں ہے۔ باپ سے بڑھ کر اپنی اولاد کے لئے شفیق،مہربان اور خیرخواہ کون ہوسکتا ہے اور اولاد سے بڑھ کر اپنے والدین کے لئے ہمدرد اور کون ہوسکتا ہے؟ لیکن باپ اپنے بیٹے کو اور بیٹا اپنے باپ کو اسلام قبول کرنے پر مجبور نہیںکرسکتا، حتیٰ کہ یہ بھی ہوا کہ بعض غیر طبعی حالات باپ کی کوشش اور مرضی کے خلاف اولاد کو کسی دوسرے مذہب کی طرف لے گئے ،مثلاً بعض ماؤں کی اولاد بچپن میں ہی مرجاتی تھی تو وہ یہ نذر مانتیں کہ اگر اس کا یہ بیٹا زندہ رہا تو وہ اسے یہودی یا عیسائی بنائے گی، لیکن اس سب کچھ کے باوجود قرآن اس بات کو ردّ کرتا ہے کہ کسی کو زبردستی دین حنیف قبول کرنے پر مجبور کیا جائے۔27 فرمانِ الٰہی ہے :
وَقُلِ ٱلْحَقُّ مِن رَّ‌بِّكُمْ ۖ فَمَن شَآءَ فَلْيُؤْمِن وَمَن شَآءَ فَلْيَكْفُرْ‌ ۚ إِنَّآ أَعْتَدْنَا لِلظَّـٰلِمِينَ نَارً‌ا أَحَاطَ بِهِمْ سُرَ‌ادِقُهَا ۚ وَإِن يَسْتَغِيثُوا يُغَاثُوا بِمَآءٍ كَٱلْمُهْلِ يَشْوِى ٱلْوُجُوهَ ۚ بِئْسَ ٱلشَّرَ‌ابُ وَسَآءَتْ مُرْ‌تَفَقًا ﴿٢٩...سورۃ الکہف
''اور ان کو بتا دو کہ یہ حق ہے تمہارے ربّ کی طرف سے، اب جس کا دل چاہے مانے اور جس کا دل چاہے انکار کردے اور ہم نے ایسے ظالموں کے لئے ایک آگ تیار کررکھی ہے جس کی لپٹیں اُنہیں گھیرے میںلے چکی ہیں ۔وہاں اگر وہ پانی مانگیں گے تو پگھلے ہوئے تانبے کے پانی سے ان کی تواضع کی جائے گی جو ان کا منہ بھون ڈالے گا، انتہائی بدترین مشروب اور وہ نہایت بری آرام گاہ ہوگی ۔''

یہ درست ہے کہ مسلمانوں نے تبلیغ ِحق کی ذمہ داری سے عہدہ برآ ہونے کیلئے غیر مسلموں کے سامنے اسلام کو پیش کیا ،لیکن کسی کو زبردستی اس کے ماننے پر مجبور نہیں کیا۔حضرت عمرفاروقؓ نے ایک نصرانی بڑھیا سے کہا:اے بوڑھی خاتون!اسلام قبول کرلو،اس میں سلامتی ہے اور اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق دے کر بھیجا ہے۔اس نے جواب دیا:میں بہت بوڑھی ہوں اور موت میرے زیادہ قریب ہے ۔اس پر حضرت عمرفاروقؓ نے فرمایا:اے اللہ تو گواہ رہنا اور یہ آیت مبارکہ پڑھی:

لَآ إِكْرَ‌اهَ فِى ٱلدِّينِ ۖ قَد تَّبَيَّنَ ٱلرُّ‌شْدُ مِنَ ٱلْغَىِّ...﴿٢٥٦﴾...سورۃ البقرۃ
''دین میں کوئی زور زبردستی نہیں ہے، صحیح بات غلط نظریات سے چھانٹ کر الگ رکھ دی گئی ہے۔'' 28

680ھ میں جب سلطان منصور قلاوون نے اہل ذمہ کے لئے اسلام میں داخل ہونا لازمی قرار دے دیا اور وہ لوگ بادلِ نخواستہ مسلمان ہوگئے تو اس دور کے علماء و قضاة سلطان کے اس فعل پر سخت ناراض ہوئے ، چنانچہ اس کے چھ ماہ بعد علما کی ایک مجلس منعقد ہوئی اور اُنہوں نے یہ فیصلہ دیا کہ ان لوگوں کو چونکہ اسلام قبول کرنے پر مجبور کیا گیا ہے، اور دین اسلام میں کسی کو جبراً مسلمان بنانا جائز نہیں ہے، لہٰذا اُنہیں اپنے مذہب میں واپس جانے کی اجازت ہے ۔اس پر بہت سے ذمی اپنے مذہب میں واپس چلے گئے۔ 29

اٹلی کی ایک ڈاکٹرلارا فیشیا فیگلبری لکھتی ہے:
''جب بھی مسلمانوں نے غیر مسلم اقوام کے ساتھ کوئی معاہدہ کیا تو اس میں یہ بات شامل ہوتی تھی کہ وہ ان کے عقیدہ اور مذہب کی آزادی سے کوئی تعرض نہیں کریں گے اور نہ ہی ان کی اولاد کو نئے دین میں جبراً داخل کرنے کے لئے کوئی اقدام کریں گے۔ اور اسلامی لشکروں کے پیچھے مبلغین کی کوئی ایسی جماعت نہیں ہوتی تھی جو مسلمانوں میں دلچسپی نہ رکھنے والوں کو اسلام قبول کرنے پر اصرار کرے اور نہ ہی مبلغین کے قیام کے لئے کوئی مراکز تھے، جہاں وہ مخووص امتیاز کے ساتھ رہ کر اپنے عقیدہ کی تبلیغ یا اس کا دفاع کریں۔

صرف یہی نہیں بلکہ مسلمانوں نے قبولِ اسلام میں رغبت رکھنے والوں کے لئے بعض دفعہ یہ بھی لازمی قرار دیا کہ وہ اسلام میں داخل ہوتے وقت کوئی ایسا طریقہ اختیار کریں جس سے اسلام کے زبردستی پھیلنے کا تاثر پیدا نہ ہو اور اُنہوں نے اس نئے دین کو اختیار کرنے والوں سے مطالبہ کیا کہ وہ قاضی کے سامنے یہ اقرار کریں اور برسر عام یہ اعلان کریں کہ ان کا اسلام نہ کسی دباؤ کا نتیجہ ہے اور نہ اس کے پس پردہ کوئی دنیوی مفاد ان کے پیش نظر ہے۔'' 30

غیر مسلموں کی عبادت گاہوں کا تحفظ : اسلام نے غیر مسلموں کو نہ صرف اپنے دین اور مذہب پر باقی رہنے کی آزادی دی بلکہ انہیں اپنے مذہبی شعائر بجا لانے اور اپنی عبادت گاہوں کے تحفظ کی بھی عام اجازت تھی۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
ٱلَّذِينَ أُخْرِ‌جُوا مِن دِيَـٰرِ‌هِم بِغَيْرِ‌ حَقٍّ إِلَّآ أَن يَقُولُوا رَ‌بُّنَا ٱللَّهُ ۗ وَلَوْلَا دَفْعُ ٱللَّهِ ٱلنَّاسَ بَعْضَهُم بِبَعْضٍ لَّهُدِّمَتْ صَوَ‌ٰمِعُ وَبِيَعٌ وَصَلَوَ‌ٰتٌ وَمَسَـٰجِدُ يُذْكَرُ‌ فِيهَا ٱسْمُ ٱللَّهِ كَثِيرً‌ا ۗ وَلَيَنصُرَ‌نَّ ٱللَّهُ مَن يَنصُرُ‌هُۥٓ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَقَوِىٌّ عَزِيزٌ ﴿٤٠...سورۃ الحج
''یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے گھروں سے ناحق نکال دیے گئے۔ ان کا قصور صرف اتنا تھا کہ یہ کہتے تھے کہ ہمارا ربّ اللہ ہے۔ اگر اللہ لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعے دفع نہ کرتا رہے تو خانقاہیں، گرجے، معبد اور مسجدیں جن میں کثرت سے اللہ کا نام لیا جاتا ہے، سب مسمار کردی جاتیں اور اللہ ضرور ضرور ان لوگوں کی مدد کرے گا جو اس کی مدد کریں گے۔''

خلفاے مسلمین جب کوئی لشکر جہاد ِفی سبیل اللہ کے لئے روانہ کرتے تو اس کے کمانڈر کو جنگ کے آداب کے متعلق باقاعدہ وصیت کرتے تھے۔ چنانچہ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے جب اسامہ بن زیدؓ کو ایک لشکر کا سپہ سالار بناکر بھیجا تو اُنہیں یہ وصیت کی:
إني موصیك بعشر: لا تقتلن امرأة ولا صبیا ولا کبیرًا ھرمًا ولا تقطعن شجرا مُثمرًا ولا تخربن عامرًا ولا تعقرن شاة ولا بعیرًا إلا لمأکلة ولا تغرقن نخلًا ولا تحرقنه،ولا تغلُّوا ولا تجبُنُوا وسوف تمرُّون بأقوام قد فرّغوا أنفسھم في الصوامع فدعوھم وما فرّغوا أنفسھم له۔
''میں تمہیں دس باتوں کی وصیت کرتا ہوں؛ کسی عورت، بچے اور بوڑھے کو قتل نہ کرنا، پھل دار درخت نہ کاٹنا اور نہ ہی تخریب کاری کرنا، سوائے کھانے کے کوئی اونٹ یا بکری ذبح نہ کرنا، کھجور کے باغات کو ڈبونا نہ اُنہیں جلانا، خیانت کا ارتکاب نہ کرنا، بزدلی نہ دکھانا۔ تم ایسے لوگوں کے پاس سے گزرو گے جو معبدوں میں گوشہ نشین ہوگئے ہیں، ان سے اور ان کے کام سے تعرض نہ کرنا۔'' 31

حضرت عمر فاروقؓ نے اہل بیت المقدس کو جو صلح نامہ لکھ کر دیا تھا، اس کے الفاظ یہ تھے:
ھذا ما أعطیٰ عبد اﷲ عمر أمیر المؤمنین أھل إیلیاء من الأمان: أعطاھم أمانًا لأنفسھم وأموالھم،ولکنائسھم،وصلبانھم وسقیمھا وبریئھا وسائر ملتھا، لاتسکن کنائسھم ولا تهدم ولا ینتقص منھا ولا من حیّزھا، ولا من صلیبھم،ولامن شيء من أموالھم ولا یکرھون علی دینھم ولا یضارّ أحد منھم ولا یسکن بـإیلیاء معھم أحد من الیهود 32
''یہ وہ امان ہے جو اللہ کے بندے امیرالمومنین عمر نے اہل بیت المقدس کو دی ہے؛ ان کی جان و مال، ان کے گرجوں اور صلیبوں، ان کے تندرستوں اور بیماروں اور ان کی ساری ملت کے لئے امان ہے۔ ان کے گرجوںکو مسلمانوں کا مسکن نہ بنایا جائے گا، نہ ان کو منہدم کیا جائے گا،نہ ان کے احاطوں اور ان کی عمارتوں میں کوئی کمی کی جائے گی۔ ان کے اموال اور صلیبوں کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔ ان کے دین کے معاملہ میں کوئی جبرنہ کیا جائے گا اور نہ ا ن میں سے کسی کو نقصان پہنچایا جائے گا اور ایلیا میں ان کے ساتھ یہودیوں کو آباد نہیں کیا جائے گا۔''

اور پھر دُنیا نے دیکھا کہ غیر مسلموں سے کئے گئے یہ سب عہدوپیمان عمل کے قالب میں ڈھلے۔ مسلمانوں نے غیر مسلموں کے عقائد اور رسوم و رواج کے احترام اور قبولِ اسلام کے لئے ان کے ساتھ عدمِ تشدد اور عدمِ دباؤ کا جو رویہ اختیار کیا، اس کی عملی مثالیں تاریخ کے اوراق میں دیکھی جاسکتی ہیں۔ اسلام کی مرہونِ منت ہر قسم کی آزادی کا ان کے دلوں پر گہرا اثر ہوا۔ اسلام کے اُصول و حقائق ان کے دل و دماغ میں پیوست ہونے لگے ،کیونکہ وہ اس قسم کے حسن سلوک، رواداری اور عالی ظرفی کے اس سے قبل عادی نہ تھے۔

گسٹاف لیبن(Gustav LeBon) مسلم خلفا کے بارے میں رقم طراز ہیں:
''اسلام کے اوّلین خلفا کی سیاسی بصیرت ومہارت ان کی حربی بصیرت و مہارت سے کسی طرح بھی کم نہیں تھی جو بہت تھوڑے عرصہ میں ان کو حاصل ہوگئی تھی۔ وہ خوب جانتے تھے کہ جبراً کسی کو اپنا دین چھوڑنے پر مجبور کرنے سے کیسے باز رہا جا سکتا ہے، اور اُنہیں خوب معلوم تھا کہ اسلام قبول نہ کرنے والوں کے لئے تلوار اور قوت استعمال کرنے سے کیسے بچا جاسکتا ہے، انہوں نے ہر جگہ علیٰ الاعلان یہ کہا کہ ہم دیگر اقوام کے عقائد اور رسوم و رواج کا احترام کرتے ہیں، اُنہوں نے ان کو ظلم و تعدی سے محفوظ رکھا اور ان کے حقوق کا تحفظ کرتے ہوئے اُنہیں پراُمن زندگی مہیا کی اور اس کے عوض جو معمولی سا جزیہ ان سے وصول کیا،وہ ان بھاری بھرکم ٹیکسوں سے کہیں کم تھا جو اس سے پہلے وہ اپنے حکمرانوں کو دیتے چلے آرہے تھے۔'' 33

اسلام کے زیرسایہ مذہبی اقلیتوں کے حقوق کس طرح محفوظ تھے، ڈاکٹر یوسف قرضاوی اس کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
''خلفاے راشدین کے دور سے یہود و نصاریٰ اپنی عبادات اور مذہبی رسومات مکمل آزادی اور حفاظت سے بجا لاتے آرہے ہیں اور اس کی تفصیل ان معاہدوں اور صلح ناموں میں دیکھی جاسکتی ہے جو حضرت ابوبکرؓ اور عمرفاروقؓ کے دور میں غیر مسلموں سے کئے گئے تھے ،اس کی واضح مثال حضرت عمر فاروقؓ کا وہ صلح نامہ ہے جو اُنہوں نے اہل بیت المقدس کو لکھ کر دیا تھا۔'' 34

مسلمانوں نے عیسائی گرجوں کا پوری طرح تحفظ کیا اور کبھی ان کی عبادت گاہوں کو بری آنکھ سے نہیں دیکھا۔ عیسائی فوج کا جرنیل یاف سوم(Geof III) اپنے ایک خط میں اساقفہ فارس (ایران کے راہبوں) کے صدر بشپ ریفرڈشیر(Rifardashir)کو لکھتا ہے:
''عربوں کو اللہ تعالیٰ نے دُنیا کی حکومت عطا کی، تم نے جو کچھ ان کے ساتھ کیا، وہ تمہارے ساتھ رہ کر اس کا مشاہدہ کرتے رہے جسے تم خود بھی بخوبی جانتے ہو۔ اس کے باوجود وہ مسیحی عقیدہ کے خلاف جنگ نہیں کررہے، بلکہ اس کے برعکس وہ ہمارے دین پر شفقت کرتے ہیں، ہمارے پادریوں اور کرسمس کا احترام کرتے ہیں اور ہمارے دیر و کلیسا کو گرانٹ دیتے ہیں۔'' 35

تاریخ میں یہ واقعہ موجود ہے کہ ولید بن عبدالملک نے دمشق کے کنیسہ یوحنا کو زبردستی عیسائیوں سے چھین کر مسجد میں شامل کرلیا۔ جب حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ منصب ِخلافت پر فائز ہوئے اور عیسائیوں نے ان سے اس ظلم کی شکایت کی تو آپ نے اپنے گورنر کو حکم دیا کہ
''گرجا کی زمین کا جتنا حصہ مسجد میں شامل کیا گیا ہے ،اگر عیسائی اس کا معاوضہ لینے پر رضامند نہ ہوں تو وہ اُنہیں واپس لوٹا دیا جائے۔'' 36

نیز یہودیوں کے مزعومہ دعویٰ کے مطابق بیت المقدس میں واقع دیوارِ گریہ (ہیکل سلیمانی) جسے آج یہودی اپنی مقدس ترین عبادت گاہ سمجھتے ہیں، اس کے بارے میں تاریخی طور پر یہ بات ثابت ہے کہ وہ کھنڈرات اور کوڑا کرکٹ کے ڈھیروں تلے دب گئی تھی،جب عثمانی خلیفہ سلطان سلیمان القانونی کو یہ معلوم ہوا تو اُنہوں نے وہاں کے عثمانی گورنر کو اس جگہ کی صفائی کا حکم جاری کیا اور یہودیوں کو اس کی زیارت کی اجازت دے دی۔ 37

مسلمانوں کی غیر مسلموں کے ساتھ اس روا داری اور عالی ظرفی کو خود انصاف پسند مغربی مفکرین نے بھی تسلیم کیا ہے۔عظیم مغربی مفکر گسٹاف لیبن(Gustav LeBon) لکھتا ہے:
''محمد( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے یہود و نصاریٰ کے ساتھ جس غایت درجہ کی عالی ظرفی اور روا داری کا مظاہرہ کیا ،سابقہ مذاہب کے بانیان خصوصاً یہودیت و نصرانیت کی تاریخ میں اس کی مثال موجود نہیں ہے۔ اس کے بعد آپؐ کے خلفا بھی آپؐ کے نقش ِقدم پر کاربند رہے، اس عالی ظرفی اور رواداری کا اعتراف تاریخ عرب پر گہری نظر رکھنے والے بعض مسلم اور غیر مسلم یورپین مفکرین نے بھی کیا ہے۔'' 38

اٹلی کی ڈاکٹر لارا فیشیا فیگلبریلکھتی ہے:
''ان اقوام کو اپنے قدیم مذاہب اور قدیم مذہبی رسومات کے تحفظ اور ان پر عمل کرنے کی مکمل آزادی حاصل تھی، شرط بس یہ تھی کہ جو لوگ دین اسلام کو پسند نہیں کرتے اُنہیں معمولی سا ٹیکس حکومت کو ادا کرنا ہوگا جسے جزیہ کہا جاتا تھا اور یہ ٹیکس انتہائی منصفانہ اوران ٹیکسوں کی نسبت بہت کم تھا جو خود مسلم رعایا اپنی حکومتوں کو دینے کی پابند تھی اور اس کے بدلے اس رعایاکو جو اہل الذمہ کے نام سے معروف تھے، جو تحفظ اور حقوق حاصل تھے وہ ان حقوق سے قطعاً مختلف نہیں تھے جو خود اُمت ِاسلامیہ کو حاصل تھے ۔ بعد میں رسول اللہ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور خلفاے راشدین کے اِنہی اعمال کو باقاعدہ قانون بنا دیا گیا۔ تو اس کے بعد اگر ہم کہیں کہ اسلام صرف مذہبی رواداری کا داعی ہی نہیں بلکہ اس سے آگے بڑھ کر اس نے اس رواداری کو اپنی شریعت اور قانون کا لازمی حصہ بنا دیا ہے تو یقینایہ غلو اور مبالغہ نہیں ہے ۔'' 39

گسٹاف لیبن (Gustav LeBon)نے رابرٹسن (Robertson) کا یہ قول ذکر کیا ہے:
''یہ صرف مسلمان ہی تھے جنہوں نے دیگر ادیان کے متبعین کے متعلق اپنی دینی غیرت اور رواداری کی روح کو جمع کیا ۔اُنہوں نے اپنے دین کی اشاعت کے لئے تلوار استعمال تو کی لیکن ان لوگوں سے کسی قسم کا تعرض نہیں کیا جو اسلام میں رغبت نہیں رکھتے تھے، اُنہیں اپنے مذہب پر کاربند رہنے کی مکمل آزادی تھی۔'' 40

انگریز مستشرق ٹی آرنلڈ مسلمانوں کی دیگر اقوام عالم کے ساتھ رواداری کے متعلق لکھتا ہے
''ہم نے آج تک کسی ایسی منظم کوشش کے متعلق نہیں سنا جو غیرمسلموں کو جبراً مسلمان بنانے کے لئے اختیار کی گئی ہو اور نہ ہی کسی ایسی منظم ظالمانہ پالیسی کا ہمیں علم ہے جس کا مقصد دین مسیح کی بیخ کنی ہو، اگر مسلم خلفا ان دو میں سے کوئی ایک پالیسی بھی اختیار کرلیتے تو آج بآسانی مسیحیت کا وجود ختم کرسکتے تھے، جس طرح کہ فریننڈس اور ملکہ ازابیلا نے اندلس سے اسلام کو دیس نکالا دیا یا جس طرح چودہویں پولس نے پروٹسٹنٹ مذہب کے پیروکاروں کے ساتھ کیا ،اُنہیں فرانس میں سخت سزاؤں سے دوچار کیا گیا یا جس طرح ساڑھے تین سو سال تک یہودیوں کو انگلستان سے جلا وطن رکھا گیا۔

مشرقی ایشیا کے گرجے سارے عالم مسیحیت سے الگ تھلگ اور کوسوں دور تھے، عالم عیسائیت کے کسی کونے سے ایک بھی آواز ان کی طرف دار نہ تھی،کیونکہ وہ ان کو اپنے دین سے خارج سمجھتے تھے۔ اس کے باوجود ان گرجا گھروں کا اب تک باقی رہنا اس حقیقت کی بہت بڑی دلیل ہے کہ اسلامی حکومتوں کی سیاست غیر مسلموں کے ساتھ رواداری کے عمومی اُصول پرقائم تھی۔''ٌ 41

امریکی مصنف لوتھرپ سٹیڈرڈ(Lothrop Stoddard) کہتا ہے:
''خلیفہ عمرؓ نے عیسائیوں کے مقدس مقامات کی حفاظت کا ہر طرح سے اہتمام کیا، ان کے بعد ان کے جانشین بھی ان کے نقش قدم پر کار بند رہے، اُنہوں نے عیسائیوں کو تنگ نہیں کیا اور نہ ہی ہر سال عالم مسیحیت کے کونے کونے سے بیت المقدس کی زیارت کے لئے آنے والے عیسائی زائرین کو کسی قسم کی تکلیف دی۔''ٍ 42

غیر مسلموں نے مسلمانوں کی طرف سے حسن سلوک اور رواداری کے جو مظاہر دیکھے، اپنے ہم مذہبوں نے ان پر ظلم و تعدی کے جو پہاڑ توڑے تھے، اس کے پیش نظر وہ ایسی روا داری اور عالی ظرفی کا تصور بھی نہیں کرسکتے تھے۔ صدیوں بعد اُنہیں اسلام کے سایہ تلے سکھ کا سانس نصیب ہوا تھا۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ عساکر ِاسلام کے سپہ سالار ابوعبیدہ عامر بن جراح شام کو فتح کرنے کے بعد آگے کی طرف بڑھے تو وہاں کے عیسائیوں نے ان کو لکھا :
''اے مسلمانوں کی جماعت! رومی اگرچہ ہمارے مذہب ہیں، لیکن اس کے باوجود آپ ہمیں ان سے زیادہ محبوب ہیں۔ آپ عہد و فا کرتے اور نرمی کا برتاؤ کرتے ہیں، عدل و انصاف برتتے ہیں۔آپ کی حکمرانی خوب ہے ،لیکن رومیوں نے ہمارے اموال پر قبضہ کیا اور ہمارے گھروں کو لوٹا ۔''َ 43

مشہور مستشرق رچرڈسٹبنز(Richard Stebbins) ترکوں کے بارے میں لکھتا ہے
''اُنہوں نے بلا تفریق لاطینی اور مغربی سب عیسائیوں کو اپنے مذہب پر کاربند رہنے کی اجازت دے دی اور قسطنطنیہ اور دیگر بے شمار مقامات پر اُنہیں گرجے الاٹ کئے تاکہ وہ اپنے مقدس مذہبی شعائر کو ادا کرسکیں۔میں نے بارہ سال ہسپانیہ میں گزارے ہیں جس کی بنیاد پر میں بالجزم یہ کہ سکتا ہوںکہ آج نہ صرف ہم ان (عیسائیوں ) کی مذہبی مجالس میں شرکت پر مجبور ہیں ، بلکہ ہماری زندگی اور اولاد بھی خطرے میں ہے ۔'' 44

تھامس آرنلڈ اپنی کتاب Invitation to Islam (الدعوة إلی الاسلام) میں ترکوں کی رواداری اور عالی ظرفی کا ذکر کرتے ہوئے لکھتا ہے:
''اٹلی کے بعض معاشرے ترکوں کو بڑی رشک آمیز نگاہوں سے دیکھتے ہیں کہ کاش اُنہیں بھی وہی آزادی، تحفظ، رواداری مل جائے جو ان کی رعایا کو حاصل ہے، وہ کسی بھی مسیحی حکومت کے زیر سایہ ایسی آزادی اور رواداری سے اب مایوس ہوچکے ہیں۔'' 45

بازنطینی باشندے اپنے ایک مذہبی رہنما کا یہ قول اکثر دہرایا کرتے تھے:
''ہمیں اپنے شہروں میں بابویہ تاج دیکھنے سے ترکی عمامہ دیکھنا زیادہ پسند ہے۔'' 46

تھامس آرنلڈ نے یہ بھی لکھا ہے کہ
'' جب پندرہویں صدی میں ظلم وستم سے ستائے ہوئے یہودی ہسپانیہ سے بھاگے تھے تو ان کو پناہ دینے والے ترک ہی تھے۔'' 47

گسٹاف لیبن(Gustav LeBon) لکھتا ہے:
''رعایا کے درمیان عدل و انصاف کا بول بالا عربوں کا سیاسی دستور تھا۔ عربوں نے عوام کو مکمل مذہبی آزادی عطا کی، اُنہیں اس قدر عوامی حمایت حاصل تھی کہ وہ رومیوں اور لاطینیوں کے پیشوا اور رہنما بن گئے اور عوام الناس کو وہ امن و امان اور اطمینان حاصل تھا جس کا وہ اس سے پہلے تصور بھی نہیں کرسکتے تھے۔'' 48

علاوہ ازیں مصر، شام اور اندلس (ہسپانیہ؍ سپین) میں مسلسل کئی صدیوں سے غیر مسلموں کی موجودگی اسلام کی رواداری، عالی ظرفی اور وسعت ِقلبی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ حتیٰ کہ غیروں کی نظر میں حد سے بڑھی ہوئی یہ رواداری اندلس وغیرہ میں اسلام کے زوال کا باعث ہوئی جیساکہ کانٹ ہنری ڈی کیسٹری لکھتا ہے کہ
'' مسلمانوں کی حد سے زیادہ نرمی اور مصالحانہ رویہ بھی مملکت ِعربیہ کے سقوط کا ایک سبب تھا۔'' 49

ہوا یہ کہ جب مسلمانوں کی آپس کی نااتفاقیاں حد سے بڑھ گئیں تو اندلس کے عیسائی باشندے مسلمانوں کی اس کمزوری سے فائدہ اُٹھا کر ان پر چڑھ دوڑے پھر یا تومسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا اور جو باقی بچ گئے، ان کو جلا وطن کردیا گیا اور ایک دفعہ مسلمان نسل کی جڑ اکھیڑ دی گئی۔

فرانسیسی مستشرق اٹینی ڈینر(Etienne Denier)لکھتا ہے :
''مسلمانوں کا معاملہ اس کے عین برعکس ہے جو لوگوں نے سمجھا ہے۔ انہوں نے حدودِ حجاز سے باہر لوگوں کو زبردستی مسلمان بنانے کے لئے کبھی قوت کا استعمال نہیں کیا۔ ہسپانیہ میں عیسائیوں کا وجود اس امر کی بین دلیل ہے۔ وہ مسلمانوں کے زیر قبضہ علاقوں میں آٹھ سو سال کا طویل عرصہ اپنے دین پر امن و سکون سے زندگی گزارتے رہے۔ قرطبہ میں متعدد عیسائی نہایت اہم اور اعلیٰ مناصب پر فائز رہے، لیکن جونہی ان علاقوں کی حکومت ان کے ہاتھ لگی تو انہوں نے ارضِ اندلس سے مسلمانوں کا وجود مٹانے کا تہیہ کرلیا۔'' 50

لوتھرپ سٹیڈرڈ(Lothrop Stoddard) نے عثمانی وزیر کا ایک دردناک مگر فکرانگیز بیان نقل کیا ہے جو اُس نے ایک یورپین عہدہ دار کے گوش گزار کیا تھا:
''ہم ترک، عرب اور دیگر مسلمانوں نے جس قدر بھی مذہبی تعصب کا مظاہرہ کیا،لیکن وہ اس حد تک کبھی نہیں بڑھا کہ ہم اپنے دشمنوں کو نیست و نابود کردیں اور جس وقت ہم فی الواقع ان کے استیصال کی قوت رکھتے تھے اس وقت بھی ایسا کوئی خیال ہمارے دلوں میں پیدا نہیں ہوا اور اگر کبھی ہمارے کسی حکمران نے ایسا کرنے کا ارادہ کیا، جیسا کہ عثمانی خلیفہ سلیم اوّل کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا تھا توملت ِاسلامیہ اس کے سامنے دیوار بن کر کھڑی ہو گئی تھی اور شیخ الاسلام نے اس کو کہا تھا: بجز جزیہ کے یہود و نصاریٰ پر تمہارا کوئی اختیار نہیں ہے۔ اُنہیں ان کے وطن سے بے دخل کرنے کا قطعا تجھے کوئی حق حاصل نہیں ہے ۔ اس پر سلطان نے شریعت کے سامنے سرتسلیم خم کردیااوراپنا ارادہ ترک کردیا۔ یہود و نصاریٰ، صابیوں، سامریوں اور مجوسیوںکی بہت بڑی تعداد صدیو ں تک ہمارے اندر بستی رہی۔ اُنہیں وہی حقوق حاصل تھے جو مسلمانوں کو حاصل تھے اور ان پر وہی فرائض لاگو تھے جو مسلمانوں پر تھے۔ لیکن تم اے یورپین لوگو! تم اپنے اندر ایک مسلمان کو بھی گوارا نہ کرسکے، تم نے وہاں رہنے کے لئے عیسائی بننے کی شرط عائد کردی۔ تمہیں یاد ہے کہ ہسپانیہ میں کروڑوں مسلمان آباد تھے، اٹلی کے شمال اور جنوبی فرانس میں لاکھوں مسلمان بستے تھے۔ وہ صدیوں سے ان علاقوں میں رہتے آرہے تھے، لیکن تم نے اُنہیں اس طرح نیست و نابود کردیا کہ دین اسلام کا ماننے والا ایک فرد بھی ان علاقوں میں باقی نہ رہا۔ میں نے ہسپانیہ کا چپہ چپہ گھوما ہے،مجھے وہاں کوئی ایک قبر بھی ایسی نہیں ملی جس کے بارے میں معروف ہو کہ وہ مسلمان کی قبر ہے۔'' 51


حوالہ جات
1. دیکھئے حقوق النسان بین تعالیم السلام و علان الأمم المتحدة از محمد غزالی
حقوق النسان بین الشریعة السلامیة والفکر القانون الغرب ازڈاکٹر محمد فتحی عثمان
2. الحریات والحقوق في إسلام،ص٢٢،٢٣ از محمد رحاء حنفی عبد المتجلی
3. مسندامام احمدبن حنبل: ٤١١٥
4. أخبار القضاة :٢٧٨١
5.صحیح البخاری:٦٨١٤
6. مسنداحمدبن حنبل: ١٣٦٤
7. تفسیر الکرمان: ١٣١٧، علام الحدیث از امام خطابی ١٨٠٣
بحوالہ الردّ علیٰ الضازي از جعفری ،ص٦٩ و الحوار السلام المسیح ،ص١٤٣
8. الکشاف:٢٨٩٣
9. الحریات والحقوق في إسلام،ص٢٥،٢٦
10. الجامع لأحکام القرآن: ٦١٧
11.صحیح البخاری :٣٢٨٧
12. صحیح البخاری: ١٨٦٥
13. ایضاً : ٣١٠٤
14.  ایضاً:٣١٣٨
15.  المعجم الکبیراز طبرانی :١١٤٧٥
16. صحیح مسلم :٥٢٨٩
17. صحیح البخاری:١٢٢٤
18. صحیح البخاری:١٢٢٩
19. ایضاً
20. التذکرة الحمویة: ٢٠٩٣،٢١٠ وأخبار عمر للطنطاوي:ص١٥٥،١٥٦
21. تاریخ دمشق: ٣٠٢٣٠ وجمہرة خطب العرب: ١٨٠١
22.  غیر المسلمین في المجتمع الإسلامي،از ڈاکٹر یوسف قرضاوی : ص ٣٠،٣١
23. السلام وغیر المسلمین :ص ٦٠، ٦١
24. صحیح مسلم:٣٢٦١
25. الشرق الأدنیٰ مجتمعته وثقافته: ص١٦٣،١٦٤
26. أسباب النزول از واحدی: ص ١١٤ تا١١٦
27. غیر المسلمین في المجتمع الإسلامي:ص ١٨،١٩
28. الجامع لإحکام القرآن:٢٨٠٣
29. البدایة والنھایة : ٥٧٣١٧،٥٧٨
30. دفاع عن السلام :ص ٣٥،٣٦
31. السنن الکبریٰ للبیهقي:٨٩٩ و تاریخ الطبری:٢١٥٣
32. تاریخ الطبری:١٥٩٣
33. حضارة العرب : ص١٣٤
34.  القلیات الدینیة والحل في الإسلام:ص١٣
35.  الدعوة إلی الإسلام (Invitation to Islam) از تھامس آرنلڈ : ص٩٨،٩٩
36.غیر المسلمین في المجتمع الإسلامي:ص ٣٢
37. تسامح الغرب مع المسلمین:ص٦٧
38. حضارة العرب،ص١٢٨
39. دفاع عن الإسلام،ص ٣٤،٣٥
40. حضارة العرب،ص ١٢٨
41. الدعوة إلی الإسلام:ص ٩٨،٩٩
42. حاضرالعالم الإسلامي : ١٣١،١٤
43.  فتوح الشام:ص ٩٧ از امام اَزدی بصری و سماحة السلام: ص٥٧ از ڈاکٹر احمد محمد الحوفی
44.  الأقلیات الدینیة والحل السلام: ص: ٥٥،٥٦ ' صفحہ :١٨٣
45. صفحہ : 183
46. المبراطوریة البیزنطیة از نورمان بیتز،ص ٣٩١
47. الدعوة إلی الإسلام،ص ١٨٣
48. حضارة العرب ،ص ١٥٢
49. الإسلام،ص٤٩
50.  محمد رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ،ص ٣٣٢

51. حاضر العالم الإسلامي: ص ٢١٠٣


i. یہ وہ الفاظ تھے جو حضرت ابو بکر صدیق نے خلافت کا منصب سنبھالنے کے بعد مجمع عام سے خطاب کرتے ہوئے اِرشاد فرمائے تھے۔ (مترجم)
ii. جزیہ کے لفظ سے گھبرانے کی بجائے اسے اسی تناظر میں لینا چاہئے جس طرح موجودہ دور میں ریاست اپنے شہریوں کے جان ومال کے تحفظ اور شہری سہولیات کے نام پر ان سے لمبے چوڑے ٹیکس لیتی ہے۔ اورجدید دنیا میں ہمارے برعکس ہرشہری پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے جس کی تفصیل وہاں رہنے والے بخوبی جانتے ہیں۔ اسلام اس کی بجائے ہر مسلمان پر محض ڈھائی فیصد زکوٰة عائد کرتا اور غیر مسلموں پر زکوٰة کی بجائے جزیہ لاگو کرتا ہے اورمسلم معاشروں کی یہ روایت بھی رہی ہے کہ شہری سہولیات کے عوض یہ جزیہ انتہائی معمولی ہونے کے علاوہ اکثر اوقات نظرانداز کردیا جاتا یا قابل معافی ہوتا مثلاً ہندوستان میں مسلمانوں کے دورِ حکومت میں غیرمسلموں سے جزیہ لینے کی تفصیلات سرے سے نہیں ملتیں۔جزیہ کی مزید تفصیلات اسی شمارے میں شائع شدہ ایک مستقل مضمون میں ملاحظہ فرمائیں۔ (ح م)