کہتا ہوں نعتِ سیّد ابرارؐ ہمیشہ
ہوتی ہے مجھ پر بارشِ انوار ہمیشہ

بے مثل اُن کا لہجۂ گفتار ہمیشہ
بے داغ اُن کا اُسوۂ کردار ہمیشہ

وہ صورتِ بادِ صبا جس راہ سے گزرے
مہکا وہاں ایمان کا گلزار ہمیشہ

چرچا اُنہی کے نام کا کرتی ہیں اذانیں
ہوتا ہے ذکرِ احمدِ مختارؐ ہمیشہ

الفاظ میں کیسے بیاں توصیف ہو اُن کی
کرتی ہے زباں عجز کا اظہار ہمیشہ

اہلِ نظر جتنا کریں سیرت پہ تدبُّر
کھلتے ہی اُن پر اور بھی اسرار ہمیشہ

مجھ کو رفیق ؔاِس بات کی توفیق عطا ہو
کرتا رہوں میں مدحتِ سرکار ہمیشہ