اس حقیقت سے ہر صاحب ِفہم و ذکالازمی طور پراتفاق کرے گاکہ اخلاقی بے راہ روی اور مادر پدر آزادی حضرت انسان کو 'اشرف المخلوقات' کے رتبہ ٔ عالی شان سے گرا کر عقل و شعور سے عاری حیوانات کی صف میں لاکھڑا کرتی ہیں اور انسان کی سماجی زندگی کے ان گوناگوں محاسن و محامد کو پیوند ِخاک کردیتی ہیں جو جملہ بشریت کا اندوختہ گراں مایہ اور اثاثہ ٔ بے مثل ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ دین اسلام جو ایک مکمل ضابطہ ٔ حیات ہے، نے انسانی معاشرے میں عریانی و فحاشی کے فروغ کی سخت مذمت کی ہے اور ان اُمور و معاملات کو مکمل طور پر حرام قرار دیاہے جو انسانیت کی معراج یعنی شرم و حیا کے منافی ہوں ۔ قرآنِ حکیم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں :
إِنَّ ٱلَّذِينَ يُحِبُّونَ أَن تَشِيعَ ٱلْفَـٰحِشَةُ فِى ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ فِى ٱلدُّنْيَا وَٱلْءَاخِرَ‌ةِ ۚ وَٱللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ ﴿١٩...سورۃ النور
''جو لوگ اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ ایمان والوں میں بے حیائی پھیلے، ان کے لئے دنیا اور آخرت میں دُکھ دینے والا عذاب ہے اور اللہ جانتا ہے، تم نہیں جانتے۔''

خالق ِکائنات کی جانب سے اس قدر شدید تنبیہ کے باوجود یہ امر انتہائی اذیت رساں اور تاسف انگیز ہے کہ موجودہ 'پرویزی' حکومت حدود آرڈیننس میں ترامیم کے ذریعے زنا بالرضا (Fornication)کو قانونی تحفظ فراہم کرنے کے درپے ہے۔ ارباب ِبسط و کشاد اور اصحاب ِحل و عقد اس بات کے آرزو مندہیں کہ باہمی رضامندی سے کی جانے والی زنا کاری کو ہر طرح کے ریاستی قوانین سے بالا تر قرار دے دیا جائے اور اس اہانت آمیز اور شرمناک فعل کا ارتکاب کرنے والے 'جانوروں ' پر کوئی شرعی حد نافذ نہ کی جائے ؎


پستی کا کوئی حد سے گزرنا دیکھے
اسلام کا گر کر نہ اُبھرنا دیکھے

مانے نہ کبھی کہ مد ہے ہر جزر کے
بعد دریا کا ہمارے جو اُترنا دیکھے


اس وقت پورے عالم اسلام میں صرف تین ملک (ایران، پاکستان اور سعودی عرب) ایسے ہیں جہاں زنابالرضا قانونی طور پر جرم ہے۔ ان کے علاوہ پورے رُبع مسکون میں کہیں بھی رضا مندانہ بدکاری کو قانونی طور پرجرم اور اس کا ارتکاب کرنے والوں کو مستوجب ِسزا نہیں سمجھا جاتا۔ پاکستان میں بھی حدود قوانین کے نفاذ (10؍ فروری 1979ئ) سے قبل زنا بالرضا آئینی اور قانونی طور پر جرم کے زمرے سے خارج تھا، تاہم اس کے نفاذ کے بعد زنا بالرضا کی قانونی حیثیت متعین ہوئی اور اسلام کے نظامِ حدود کے تحت اسے قانونی طور پرجرم قرار دیا گیا۔ چونکہ قیامِ پاکستان کا سب سے عظیم اور نمایاں مقصد ایک ایسے خطہ زمین کا حصول تھا جہاں شریعت ِاسلامیہ کے تمام اُصول و ضوابط اور قواعد و قوانین کو جملہ شعبہ ہائے حیات میں بدرجہ اتم نافذ کیا جاسکے، اس لئے وطن ِعزیز میں حدود آرڈیننس کی تنفیذ بجاطور پر ایک حوصلہ افزا اور خوش آئند امر تھا مگر اسے پاکستانی عوام کی تیرہ بختی اور سوختہ نصیبی ہی سے تعبیر کیا جاسکتا ہے کہ وقتاً فوقتاً حدود اللہ کو معاذ اللہ بازیچہ اطفال سمجھنے والے حکومتی گماشتوں ، نام نہاد مذہبی سکالروں اور مغربی تہذیب و ثقافت کے بے نام و نسب علمبرداروں کے پیٹ میں حدود قوانین کے خلاف مروڑ اُٹھتے رہے۔ اُنہوں نے مختلف ابلیسی تاویلوں اور شیطانی ہتھکنڈوں کی آڑ لے کر حدود آرڈیننس کو اسلام، عصری تہذیب و تمدن، انسانی حقوق اور تحفظ ِنسواں کے خلاف باور کرانا چاہا اور پیہم اسی تگ و تاز میں منہمک رہے کہ یا تو حدود قوانین کو مکمل طور پر منسوخ کردیاجائے یا پھر اس میں ایسی ترامیم کردی جائیں جو عملی طور پر اسے عضو ِمعطل بنادیں تاہم اس سعی ٔنامشکور کے باوجود یہ بیل منڈھے نہ چڑھ سکی اور گردشِ ایام کے ایک معمولی دور کے بعد آج پھر پاکستانی عوام اسی معرکہ خیر و شر کا سامنا کررہی ہے۔

یہ امر روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ انسانی معاشرے کی بقا و سلامتی کا انحصار جن اجزا و عناصر پر ہوتا ہے، ان میں سے اہم ترین عنصر خاندانی نظام کا استحکام ہے۔ اگر یہ نظام مضبوط اور محکم بنیادوں پر استوار ہوگا تو انسانی معاشرہ بھی بحیثیت ِمجموعی درست راستے پرگامزن رہے گا اور اس کے افکار و نظریات اور رسوم و رواج کی انفرادیت و یگانگت برقرار رہے گی لیکن اگر اس نظام میں کجی اور مسلمہ معاشرتی اقدار و روایات سے انحراف کے عناصر موجود ہوئے تو اس کے تباہ کن اور ضرر رساں اثرات پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے اور ایسا معاشرہ قوانین ِفطرت سے اِعراض کرنے کی پاداش میں جلد یا بدیر خود کشی کرنے پر مجبور ہوجائے گا۔ خاندانی نظام کی درستی یا بگاڑ میں خاوند اور بیوی کلیدی کردار ادا کرتے ہیں ۔ اگر زوجین کے مابین مہر و وفا اور صدق و صفا کے احساسات و جذبات نکاح کی صورت میں موجود ہوں تو لامحالہ اس کے خوشگوار اور نفع بخش اثرات ان کی اولاد پر بالخصوص اور تمام افرادِ معاشرہ پر بالعموم مرتب ہوتے ہیں اور اگر مرد وزن کے مابین نکاح کا مضبوط اور مقدس رشتہ موجود نہ ہو اور ان کے باہمی تعلقات و روابط محض جنسی آسودگی اور شہوانی لذت حاصل کرنے تک محدود ہوں تو بلا شک و شبہ یہ اقدام نہ صرف تولد ہونے والی اولاد کو باپ کی کمال درجہ شفقت اور ماں کی لائق ِقدر ممتا سے محروم کردیتا ہے بلکہ من حیث المجموع پوری سوسائٹی کے لئے ایسے توہین آمیز، رسوا کن اور سنگین نتائج و عواقب کا باعث بنتا ہے جو افرا دمعاشرہ کی ہر موجود صفت (Attribute)کو معدوم کردیتے ہیں ۔ خاندانی نظام کی بربادی، معاشرتی زندگی کی تباہی اور قلبی اطمینان و سکون کی عدم موجودگی کا یہ وہ اندوہناک اور عبرت انگیز پہلو ہے جس کا تجربہ ومشاہدہ آج مغربی ممالک کی اکثریت کررہی ہے۔امریکہ اور یورپ میں خاندانی نظام کی زبوں حالی کا مفصل تجزیہ کرنا ہمارا مقصود نہیں تاہم 'مشت ِنمونہ از خروارے' کے مصداق چند چشم کشا حقائق نذرِ قارئین ہیں :
ایک حالیہ سروے کے مطابق مغربی ممالک میں بسنے والے مرد اپنی زندگی میں اوسطاً 6ء 14 عورتوں سے بدکاری کرتے ہیں جبکہ وہاں سکونت پذیر عورتیں اوسطاً 5ئ11 مردوں سے ناجائز جنسی تعلقات قائم کرتی ہیں ۔ 1959ء میں برٹش میڈیکل ایسوسی ایشن کی جانب سے شائع شدہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ برطانیہ میں ہر تیسری عورت شادی سے قبل دوسرے مردوں کے ساتھ ناجائز جنسی تعلقات قائم کرتی ہے، یہی وجہ ہے کہ دورِ حاضر میں 'تہذیب و تمدن کے علمبردار' برطانیہ میں ہر بیسواں بچہ 'ولد الزنا' ہوتا ہے۔یونان میں 'بذریعہ زنا' پیداہونے والے ناجائز بچوں کی شرح 2 فیصد، سوئٹزر لینڈ میں 1ئ6 فیصد، فرانس میں 1ئ30 فیصد، ڈنمارک میں 4ئ46فیصد اور سویڈن میں 2ئ48 فیصد ہے۔ ان بچوں کی اکثریت والدین سے کماحقہ التفات اور دھیان سے محروم ہوتی ہے، اُنہیں اخلاقی حدود و قیود اور معاشرتی اقدار و روایات سے آگاہ کرنے والا کوئی نہیں ہوتا، زندگی بسر کرنے کے مہذب و متمدن اطوار سے باخبر کرنے والا کوئی نہیں ہوتا اور کوئی نہیں ہوتا... کوئی بھی نہیں ... جو اُنہیں اس حقیقت کا شعور بخش سکے کہ عارضی سرور اور وقتی لذت کے لئے کیا جانے والا زنا انسان کو حقیقی مسرت اور دائمی فرحت عطا کرنے سے قاصر ہے۔ اصل انبساط اور خوشی سے تو وہ لوگ ہمکنار ہوتے ہیں جو اپنی شہوانی آرزوؤں کی تسکین اور نفسانی خواہشات کی تکمیل کے لئے نکاح جیسے اہم فریضے سے عہدہ برآ ہوتے ہیں ۔ یہ موضوع طویل بحث اور عمیق تفصیل کا متقاضی ہے مگر ہمیں اس وقت عدمِ فرصت اور صفحات کی تنگ دامانی کا سامنا ہے، بہرحال قصہ کوتاہ یہ کہ والدین کی جانب سے اپنی اولاد کی مناسب تعلیم و تربیت اور پرورش و نگہداشت کے فقدان کی بنا پر آج مغربی ممالک میں بسنے والے افرادکی اکثریت اَن دیکھے مقامات کی راہی اورنامعلوم منزلوں کی جانب محو ِسفر ہے۔ ان میں مختلف قسم کی اخلاقی، روحانی اور سماجی برائیاں جیسے زنا کاری، بادہ کشی، کذب گوئی، اذیت رسانی، فریب دہی، جوا بازی، سود خوری، سرقہ زنی اور نجانے کون کون سی سیئات اس طرح سے سرایت کرچکی ہیں کہ الامان الحفیظ۔ اگر ہم ان کی تفصیل بیان کریں گے تو اصل موضوع سے دور ہٹ جائیں گے پس واضح ہواکہ محض ایک بُرائی زناکاری سے خاندانی نظام تہہ وبالا ہوا، اس سے پورا معاشرہ درہم برہم ہوا اور اس غم کدۂ رنگ و بو میں بسنے والی ایک قوم کی ایسی داستانِ حیات عالم تخیل سے منصہ شہود پر جلوہ گر ہوئی کہ جس کا ہرصفحہ تیرہ و تار اور ہر باب غم انگیز ہے۔

اگر حدود قوانین میں مجوزہ ترامیم کابل خدانخواستہ منظور ہو جاتا ہے اور زنا بالرضا کو وطن مالوف میں قانونی تحفظ مل جاتا ہے تو اسلامی جمہوریہ پاکستان ان 'اعتدال پسند' اور 'روشن خیال' ممالک کی صف میں تو کھڑا ہوجائے گا، جہاں جنسی بے راہ روی کے اعتبار سے انسانوں اور جانوروں میں کوئی خاص فرق نہیں مگر اس کے بعد خاندانی اور معاشرتی نظام کی جس بربادی وتباہی کا آج مغربی ممالک سامنا کررہے ہیں ، ہوبہو اسی آشفتہ سری، ژولیدہ حالی اور ہلاکت خیزی کا سامنا پاکستانی قوم کوبھی کرنا پڑے گا۔ زنابالرضا کی چھوٹ ملنے پرپاکستانی معاشرہ 'سیکس فری سوسائٹی' میں تبدیل ہوجائے گا، جہاں عصمت فروشی اور قحبہ گری کا دور دورہ ہوگا۔ جس مذموم فعل کا ارتکاب ابھی تک قانون اور معاشرے کے خوف کی بنا پر سات پردوں کے پیچھے کیا جاتا ہے، وہ سرعام وقوع پذیر ہوگا اور معاشرے کی کثیر تعداد قومی غیرت و حمیت کے ان تمام مظاہر و مقتضیات کو نقش و نگارِ طاقِ نسیاں بنادے گی جو پوری ملت ِاسلامیہ کا سرمایۂ افتخار اور طرۂ امتیاز ہیں ؎

جس کو خدا کی شرم ہے وہ ہے بزرگِ دین
دنیا کی جس کو شرم ہے مردِ شریف ہے

جس کو کسی کی شرم نہیں اس کو کیا کہوں

فطرت کا وہ رذیل ہے دل کا کثیف ہے

امریکہ اور یورپ کی جس نام نہاد جدت پسندی، روشن خیالی اور ننگ انسانیت تہذیب و ثقافت نے حکومتی ایوانوں کو اپنا گرویدہ بنا رکھا ہے اس کی تباہ کاریاں انہی کومبارک...! پاکستانی قوم کو 'تحفظ ِحقوقِ نسواں ' کے پُرکشش اور دل فریب تصور کا جھانسا دے کر راہِ راست سے منحرف نہ کیا جائے۔ پہلے ہی صورتِ حال یہ ہے کہ کیبل نیٹ ورک کے ذریعے اخلاق باختہ اور حیا سوز مناظر پوری قوم کو دکھائے جارہے ہں ، اکثر تعلیمی اداروں میں مخلوط نظامِ تعلیم رائج ہے اور حکومتی سرپرستی میں مرد وزن کی مشترکہ میراتھن ریس کا انعقاد ہوتا ہے۔ ان دگرگوں اور ناگفتہ بہ حالات میں زنا بالرضا کو قانونی جواز عطا کرنا مسلمانانِ پاکستان کے اخلاقی و معاشرتی تابوت میں آخری کیل ٹھونکنے کے مترادف ہے۔

پس ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت ِوقت 'وسیع تر قومی مفاد' کے پیش نظر حدود قوانین میں کوئی ایسی ترمیم نہ کرے جو قرآن و حدیث کے خلاف ہو، جس سے اہل اسلا م کے دینی و ملی شعائر کو گزند پہنچنے کا امکان ہو یا جو پاکستانی عوام کو اپنے منفرد سماجی افکار و نظریات اور رسوم ورواج سے بیگانہ کردے۔ اسی میں پوری قوم کی سلامتی اور عافیت کا راز پوشیدہ ہے ؎

اپنی ملت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قوم رسولِ ہاشمیؐ

ان کی جمعیت کا ہے ملک و نسب پر انحصار
قوتِ مذہب سے مستحکم ہے جمعیت تری

دامن دیں ہاتھ سے چھوٹا تو جمعیت کہاں
اور جمعیت ہوئی رخصت تو ملت بھی گئی!