1979ء میں نفاذِ شریعت کے پیش نظرپانچ آرڈیننس جاری کئے گئے تھے جن میں سے آرڈیننس نمبرVIIجرمِ زنا سے متعلق ہے اور جرمِ قذف (تہمت ِزنا) وغیرہ سے تعلق رکھنے والا آرڈیننسVIIIہے۔ اس وقت جرمِ زنا آرڈیننس نمبرVIIزیر بحث ہے اور کسی قدر جرمِ قذف آرڈیننس VIII...جو مستقل قانون ہے... کو بھی لپیٹ میں لیا جارہا ہے۔ اس بحث سے مقصود نفاذِ شریعت کی بجائے روحِ شریعت سے انحراف کرکے سابقہ تعزیرات کو بحال کرنا ہے جس میں مغربی ثقافت کے زیر اثر عورت کی رضا مندی سے تقریباً ہر قسم کا زنا جائز تھا ۔ ا س مقصد کے لئے طریق کار یہ اختیار کیا جارہا ہے کہ عوام کے پلے کچھ نہ پڑے اور صرف تنقید باقی رہ جائے تاکہ حکومت اس شوروغوغا میں مذکورہ پانچ حدود آرڈیننس میں سے صرف جرمِ زنا آرڈیننس کو تو منسوخ کردے اور جرمِ قذف آرڈیننس میں حسب ِمنشاترمیم کردے۔ان حالات میں پھیلائے جانے والے سوالات کے پس منظر سے عوام ناواقف ہیں۔ جیو ٹی وی نے مدیراعلیٰ 'محدث' کو تو سوال درست کرنے کی اجازت نہ دی لیکن روزنامہ 'جنگ' لاہور کے انچارج اقرأایڈیشن جناب عبدالمجید ساجد نے مدنی صاحب سے ایک طویل نشست رکھی اور وعدہ کیا کہ یہ انٹرویو 'جنگ' میں تفصیلاً شائع ہوگا، لیکن جنگ لاہور مؤرخہ 9؍جون کے رنگین صفحہ پر اس نشست کا صرف ایک آدھا نکتہ ذکر کرنے پر اکتفا کیا گیا۔ توجہ طلب بات یہ بھی ہے کہ اُنہیں محدث کے سابقہ شمارے بھی دیے گئے لیکن ان شماروں سے صرف اعتراضات کی فہرست نکا ل کر شائع کردی گئی اور جوابات کو چھوڑ دیا گیا، اس سے جنگ اخبار کی پالیسی کا بخوبی علم ہوجاتا ہے۔ بہرحال جنگ سے ہونے والی اس نشست کو مجلس تحقیق اسلامی کے سکالر محمد اسلم صدیق نے ریکارڈنگ سے ترتیب دیا ہے جو ہدیۂ قارئین ہے۔ (محدث)



سوال: زنا آرڈیننس میں ترمیم کے بارے میں آپ کا موقف کیا ہے؟
جواب: جسٹس ناصر اسلم زاہد کا جو موقف اخبارات میں شائع ہوا ہے کہ زنا آرڈیننس کو قرآن کے مطابق بنایا جائے، میں اس سے متفق ہوں۔ البتہ یہ بات مضحکہ خیز ہے کہ زنا آرڈیننس کو سرے سے ختم ہی کردیا جائے۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ حدود آرڈیننس کو حدود اللہ کیسے بنایا جائے؟

سوال: کیا حدود آرڈیننس کوئی خدائی قانون ہے؟
جواب: یہ سوال بڑا عجیب ہے، یہ بات تو درست ہے کہ یہ آرڈیننس اللہ نے نازل نہیں کیا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس میںترمیم و اصلاح کے بعد جو قانون بنایا جائے گا،کیا وہ خدائی قانون ہوگا؟ وہ بھی تو انسانوں کا بنایا ہوا ہوگا۔ دراصل ہمارے ملک میں وہ تمام قوانین جوشریعت کے حوالہ سے لاگو ہیں، ان کے بارے میں مشکل یہ ہے کہ انسان اسے اپنی زبان میں تیار کرتے ہیں اور پھر ایک خاص طریقہ سے ان کا نفاذ ہوتا ہے۔ جبکہ شریعت اللہ تعالیٰ کی وحی ہے جوقرآن وسنت کی صورت میں ہمارے پاس موجود ہے۔ہر وہ قانون جو (اجتہاد کے بعد) انسانوں کی اپنی تعبیر کی شکل میںنافذ ہوگا، اس کو نافذ کرنے کے بعد یہ مشکل ہمیشہ درپیش رہے گی اور اس میں جابجا تبدیلیوں کی ضرورت ہمیشہ پیش آتی رہے گی۔

سوال: پھرشریعت کے نفاذ کا طریقہ کیا ہونا چاہئے ؟
جواب: اس سلسلہ میں مثالی صورت تو یہ ہے کہ اجتہاد کے ذریعہ حدود اللہ کی تقنین (Legislation)یا اس کی دفعات کی تدوین(Codification) کی بجائے اُنہیں قرآن و سنت کی اصل شکل میںنافذ کردیا جائے اور جب حدود کا کوئی مقدمہ پیش آئے تو اس وقت قرآن و سنت کی اس سلسلہ میں وارد نصوص کوسامنے رکھ کر جج اجتہاد کرتے ہوئے اپنا فیصلہ صادر کرے لیکن اس کے لئے ضروری یہ ہے کہ جج قرآن و سنت کا ماہر عالم ہو اور شرعی اجتہاد کی صلاحیت بھی اس میں موجود ہو۔

ہماری چودہ سو سالہ اسلامی تاریخ میں شریعت کے نفاذ کا یہی طریقہ رہا ہے اور آج کل بھی خلیجی ممالک مثلاً سعودی عرب وغیرہ میں اسی طریقہ پرہی حدود اللہ کو نافذ کیا جاتاہے۔ پہلے سے انسانوں کی قانون سازی کے ذریعے جو حدود آرڈیننس بھی نافذ کیا جائے گا، اس کے بارے میں یہ آواز اٹھتی ہی رہے گی کہ یہ قرآن و سنت کے مطابق ہے یانہیں؟ لہٰذا اسے قرآن و سنت کے مطابق بناؤ۔

سعودی عرب میں شاہ فیصل مرحوم کے دور میں علما کے درمیان جدید انداز میں شریعت کی تقنین (Legislation)کی بحث چلی تو وہاں کے مشہور مفتی اکبر شیخ محمد بن ابراہیم اور ان کے شاگرد ؍ جانشین مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز بن باز رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجیدمیں حکام کو ما أنزل اﷲ (المائدة:44)کے مطابق فیصلہ کرنے کا حکم دیا ہے۔ کیا ہمارا شریعت کی دفعہ وار قانون سازی کرنا ما أنزل اﷲ قرار پاسکتا ہے؟ قطعاً نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر شرعی قاضی ہمارے الفاظ کی بجائے محض قرآن و سنت کا پابند ہے۔

اس لئے میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہمیں حدود اللہ کی دفعہ وار تقنین (شق وار قانون بندی) کی بجائے اُنہیں قرآن و سنت کے الفاظ میں نافذ کرنے کی طرف آگے بڑھنا چاہئے کیونکہ ہم کتاب و سنت سے بہتر وحی کی تعبیر پیش نہیںک رسکتے۔ یہی بات ایک مجلس میں مرحوم جسٹس گل محمد (چیف جسٹس وفاقی شرعی عدالت، پاکستان) نے اس وقت کہی جب سابق صدرِ پاکستان جناب غلام اسحق خان نے شریعت کی متفقہ دفعہ وار تقنین پر زور دیاتو جناب جسٹس صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے ایمان افروز الفاظ میں یوں جواب دیا کہ ''شریعت تو وحی الٰہی ہے جو کتاب و سنت کی صورت میں ہمارے ہاں مکمل محفوظ ہے، اب کیا ہم وحی سے بہتر تعبیر پیش کرسکتے ہیں۔'' اس جواب پر مجلس میں خاموشی چھا گئی۔

اس سلسلے میں جیو ٹی وی چینل نے غیرمناسب طریقہ اختیار کیا ہے۔ پہلے ایک غلط سوال تیار کیااور پھر اپنی مرضی کا جواب تیار کرکے خاص مشن کے مطابق لوگوں کی ذہن سازی کی گئی۔ مختلف مقامات پر بڑے بڑے سائن بورڈ لگانے کا آخر کیامقصد ہے؟ اللہ کے قانون کو تماشا بنانے والوں کو آخرایک روز اللہ کے سامنے بھی جواب دہ ہونا ہے۔

بالفرض حدود آرڈیننس میں تعبیر شریعت کی غلطیاں ہیں لیکن بہرحال اسے قرآن و سنت یا ائمہ فقہا کی تشریحات کو سامنے رکھ کر تیار کیا گیا ہے۔ لہٰذا غلط پراپیگنڈہ کرنے کی بجائے اسے قرآن وسنت کے مطابق کرنے کی کوشش ہونی چاہئے، اس کے لئے ضروری ہے کہ پہلے سوال کو درست کیا جائے؟ جو یہ ہو کہ 'حدود آرڈیننس کو حدود اللہ کیسے بنایا جائے؟'

سوال:میں آپ سے 'جیو' والا سوال پوچھنے حاضر نہیں ہوا اورمیرا اس پروپیگنڈا سے بھی تعلق نہیں، حقیقت یہ ہے کہ یہ سارا پروپیگنڈہ سن کر میں خود بہت زِچ ہوا اور میںنے سوچا کہ اس کی صحیح صورتِ حال سے لوگوں کوآگاہ کرنا چاہئے اور میں آپ کے تفصیلی موقف کی درست اشاعت کی بھی ذمہ داری لیتا ہوں۔

مدنی صاحب: 'محدث' میں حدود آرڈیننس کے بارے میں بہت کچھ شائع ہوتا رہا ہے،بالخصوص محدث کے سال 2004ء میں شائع ہونے والے تین شمارہ جات (سیریل نمبر:276،280 اور 284) میں قانونی تجزیہ اور تقابل کرتے ہوئے مروّجہ حدود آرڈیننس کے خلاف مختلف مہمات کا پس منظر پیش کیا گیا اور اعتراضات کے جواب دیے گئے ہیں۔ حدود آرڈیننس کے خاتمے سے اصل مقصود جنسی انارکی اور زنا کاری کو فروغ دینا ہے۔ اسی مقصد کے لئے حدود آرڈیننس کو بدنام کرنے کی مہم شروع کی گئی ہے۔ جب بدنام ہوجائے تو کہا جائے گا کہ اس کوختم کردیاجائے جیساکہ واجدہ رضوی رپورٹ میں یہی سفارش کی گئی ہے۔

اسلامی نظریاتی کونسل کے سابقہ چیئرمین اور خواتین حقوق کمیشن کے رکن جناب ایس ایم زمان نے اس سازش کی کسی قدر نقاب کشائی کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ واجدہ رضوی نے طے شدہ اُصولوں اور طریقہ کار کو ترک کرکے غلط انداز اپنایا اور کراچی میں موجود کمیشن کا ایک اجلاس منعقد کرکے ارکان سے صرف یہ پوچھا گیا کہ آپ ہمیں یہ بتائیں کہ آپ کس بات کے حق میں ہیں: اس قانون کو منسوخ کیا جائے یا اس میں ترمیم کی جائے؟ اس کے بیس روز بعد اُنہوں نے یہ عندیہ دیا کہ ارکان کی اکثریت نے مذکورہ قانون منسوخ کرنے کے حق میں رائے دے دی ہے۔ چنانچہ اُنہوں نے ایک نئی رپورٹ تیار کی جس کا اس مسئلے پر پہلے سے تیار کردہ ڈرافٹ سے کوئی تعلق نہ تھا۔ اس نئی رپورٹ میں حدود قوانین کی منسوخی کی سفارش کی گئی اور ترامیم کی مخالفت کی گئی تھی یعنی غلط طور پر اس رپورٹ کو کمیشن کی رپورٹ قرار دے کروزیراعظم اور صدر کو بھجوایا گیا۔ دراصل اسپیشل کمیٹی کا اجلاس اور اس کے بعد نیشنل کمیشن برائے خواتین کا اجلاس دونوںغیر آئینی تھے۔ کیونکہ اس دوران کمیشن کے ارکان کی اکثریت کی میعادِ تقرری تین سال گزرنے پر پوری ہوچکی تھی اور وہ لوگ کمیشن کے ممبر ہی نہیں رہے تھے۔ صرف واجدہ رضوی اور دو ایک خواتین ایسی تھیں جو خالی نشستوں پر نامزد ہوئی تھیں اور ان کی مدتِ تقرری ابھی پوری نہیں ہوئی تھی۔1

اس ملک کا بڑا المیہ یہ ہے کہ اگر کوئی کہے کہ اس ملک میں اسلام نافذ کرنا ہے تو بیوروکریسی اسلام کو نافذ کرنے نہیں دیتی۔مجھے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے معاون کی حیثیت سے خصوصاً قصاص و دیت کے قانون میں کام کرنے کا موقعہ ملا۔ قصاص ودیت کا قانون بھی اس طرح کی شرعی تعبیرات ہیں۔ لیکن ہمارے ہاں طریق کار یہ ہے کہ اسلام کے نام پر ایک مقررہ سزا (حد) تجویز کرکے اس کے ساتھ ایسی کڑی شرطیں لگا دی جاتیں ہیں جو موجودہ معاشرہ میں کبھی پوری نہ ہوسکیں اور پھر اگر کوئی شرط پوری نہ ہو تو اس حد کے بجائے تعزیر لاگو کردی جاتی ہے اور بالعموم ایسی سزائیں وہی سابقہ گھسی پٹی تعزیراتِ پاکستان ہوتی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ دکھانے کوکچھ اور ہوتا ہے لیکن عملاً تعزیرات پاکستان ہی نافذ رہتی ہیں۔یہی بات جسٹس (ر) جاوید اقبال نے بھی اپنے ایک انٹرویو میں کہی کہ
''مذہبی لوگوں کو راضی رکھنے کیلئے ہمیں قانون تو بنانے پڑتے ہیں لیکن ان کو مؤثر اور قابل عمل نہیں رکھاجاسکتا۔ ان کی حیثیت زیبائشی اور آرائشی قوانین کی ہوتی ہے۔یہ منافقت اس لئے ضرور ی ہے کہ ہم علما کو بھی ناراض نہیں کرسکتے لیکن اسلامی قانون کو مؤثر بھی نہیں کرسکتے۔ ''2

مثال ملاحظہ کریں کہ حدود آرڈیننس میں چار مسلمان مرد عینی گواہ مقرر کئے گئے ہیں جس سے بظاہر یہ نظر آتا ہے کہ حد نافذ کرنے کے لئے انتہائی مثالی معیار ہے۔ لیکن جب وہ گواہ میسرنہیں آئیں گے تو حدود کانفاذ نہیں ہوسکے گا اور پھراس طرح تعزیر کونافذ کردیاجاتا ہے۔ کیونکہ پاکستانی قانون میں تعزیر کے لئے چار گواہوں کی ضرورت نہیں بلکہ ایک گواہ اور قرائن کی موجودگی میں بھی تعزیر لاگو کی جاسکتی ہے۔گویا طریق کار ایسا اختیار کیا گیا ہے کہ نہ قصاص کا نفاذ ہوسکے اورنہ حدود کا۔ یہ سب کھیل ہے جس کے پیچھے اصل کردار بیوروکریسی کا ہے۔

قصاص و دیت کا قانون، قانونِ شہادت اور حدود آرڈیننس کو پڑھتے پڑھاتے میری عمر کا ایک حصہ گزرا ہے اورمجھے خوب معلوم ہے کہ ان کے پیچھے کیا عیوب پوشیدہ ہیں؟

حقیقت یہ ہے کہ ہمارے دستور میں بھی اسلامی دفعات محض تصور یا پالیسی کی حد تک ہیں۔ عمومی تصورات اور 'پالیسی قوانین' قانوناً مؤثر نہیں ہوتے بلکہ وہ صرف مقصد اور پالیسی ہوتی ہے جس کی کوئی مؤثر حیثیت نہیں ہوتی۔ ہمارے ہاں مروّج اینگلو سیکسن لاز کا اُصول یہ ہے کہ عمومی دفعات یا پالیسی کے اُصول مزید خصوصی رولز کے بغیر مؤثر نہیں ہوتے۔ عام فہم انداز میں ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ منصوبہ اور عمل دو مختلف چیزیں ہیں۔

سوال: کل میری ڈاکٹر محمد فاروق خاں سے بات ہوئی، اُنہوں نے حدود آرڈیننس کی چھ بنیادی خامیاں بیان کی ہیں، وہ کہتے ہیں کہ قرآن کی رو سے زنا بالجبر میں سزا کا طریقہ زنا بالرضا سے مختلف ہے۔ زنابالجبر میںچارگواہ تو کجا،ایک عینی گواہ کی بھی شرط نہیں ہے۔
جواب: دراصل بعض لوگ زنا بالجبر کے لئے سنت کوبالائے طاق رکھ کر آیت ِمحاربہ کو سزا کی بنیاد بناتے ہیں۔ سورة المائدة کی اس آیت کے الفاظ یہ ہیں

{إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ} (آیت:33)

لیکن اس آیت سے اگلی آیت بھی ملاحظہ فرمائیے :
{ إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا مِنْ قَبْلِ أَنْ تَقْدِرُوا عَلَيْهِمْ} (آیت:34)
''مگروہ لوگ جوگرفتاری سے قبل توبہ کرلیں...''

گویا اگرزنا بالجبر کو اس آیت کے تحت قابل سزا قرار دیا جائے تو زنا بالجبر کی زد میں آنے والی خاتون کو بالکل نظر انداز بھی کیا جاسکتا ہے، مثلاًاگر جرم کرنے والا اپنی گرفتاری سے قبل توبہ کا اظہار کردے تو جرم ہی معاف ہوجائے گا۔ لیکن درحقیقت ہماری شریعت کی تکمیل محمد رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے بغیر قطعاً نہیں ہوسکتی۔ قرآنِ مجید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی 23سالہ زندگی میں نازل ہوا اور اپنی دائمی تعبیر (حدیث وسنت) کی صورت آپؐ کی زندگی سے وابستہ ہے۔ اگر آپؐ کی زندگی (حدیث وسنت) کو قرآن سے الگ کردیا جائے تو جو قانون نافذ ہوگا، وہ الہامی شریعت کا قانون نہیں ہوگا، یہی ہے خرابی کی اصل وجہ۔ جب آپ اس ساری صورتِ حال کے تناظر میں جائیں گے تو واضح ہوگا کہ ان لوگوں کا اصل مشن یہ ہے کہ زنا بالجبر کو زنا کے زمرہ سے نکال کر اس کے لئے کوئی اور قانون لایاجائے تاکہ زنا بالجبر کے دعویٰ سے 'جرم زنا' پوری طرح عورت کے ہاتھ میں آجائے۔ مزید یہ کہ اس طرح زنا بالجبر کے مرتکب کنوارے کو بھی رجم (سنگسار) کرنا پڑے گا حالانکہ درحقیقت یہ لوگ تو سرے سے ایسی سزاؤں کے ہی خلاف ہیں۔ شریعت ِاسلامیہ میں اجماعاً کنوارے زانی کی سزا رجم نہیں ہے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دور یا بعد کے کسی دور میں بھی ایسا نہیں ہوا۔

سوال: اسلام بلا شبہ اس ملک کی بنیاد ہے۔ یہاں اسلامی شریعت پر عمل ہونا چاہئے اور اسے ہمیشہ جاری و ساری رہنا چاہئے لیکن سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ جو قوانین اسلامی شریعت کے نام پر اس وقت ملک میں نافذ ہیں، ان میں بعض کمزوریوں کا حل کیا ہے؟
جواب:اس سوال کے پس منظر کے طور پر اُصولاً یہ حقیقت ذہن نشین رہنی چاہئے کہ قرآنِ مجید کی کوئی انسانی تشریح یا تعبیر کبھی بھی قرآن کے مماثل قرار نہیں پاسکتی۔ قرآن کے ترجمہ، تشریح اور تفسیر کو خواہ آپ اس کی بہتر سے بہترتعبیر و تشریح کی صورت میں تیار کر لیں، اس پر کبھی ما أنزل اﷲ (نازل کردہ کتاب وسنت) کا اطلاق نہیں کیاجاسکتا،کیونکہ انسانوں کی اس تعبیر (Interpretation) میں تضاد اور تعارض کا احتمال موجود رہتاہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ انسانوں کو مسائل پیش آنے سے پہلے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ ان کی نوعیت کیا ہوگی؟ ان کی نوعیت اسی وقت متعین ہوتی ہے جب وہ معاملہ درپیش ہو۔

جیسا کہ میں ذکرکر چکا ہوں کہ اس وقت مختلف اسلامی ممالک،خصوصاً سعودی عرب وغیرہ میں اسلام کے نفاذ کا یہ اندازنہیں ہے کہ پہلے شریعت کی دفعہ وار قانون بندی کی جائے اور پھر ججوں کو اس کا پابند بنا دیا جائے۔ان کے ہاں اصل اتھارٹی کتاب وسنت کو حاصل ہے اور جج اپنے فیصلہ میں انہی کا پابند ہے اور یہی ہونا بھی چاہیے کہ جج صرف وحی(قرآن وسنت) کا پابند رہے۔ البتہ جب مسئلہ پیش آئے تو اس وقت وہ اکابر اہل علم کی تشریحات اسلامی ورثہ کے قدیم اور جدید فقہی ذخیرے اور فتویٰ جات کو سامنے رکھ کر ان سے استفادہ کرے۔اس دور کے علما سے رہنمائی لے اور وہ واقعاتی صورتِ حال کا جائزہ بھی لے، پھر شرعی تعلیمات اورصورتِ واقعہ دونوں کو سامنے رکھ کر دلائل کے تناظر میں غور کرتے ہوئے جو رائے قرآن وسنت کے مطابق سمجھے، اسی کے مطابق فیصلہ کر دے۔کیونکہ جج کسی اور کے اجتہاد کا مقلد نہیں ہوتا بلکہ وہ کتاب اللہ اور سنت رسولؐ کا پابند ہوتا ہے اور مسئلہ پیش آنے پر ہی وہ اجتہاد کرتا ہے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے اسلاف نے مسئلہ پیش آنے سے پہلے محض مفروضوں پر رائے زنی کو نا پسند کیا ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ مسئلہ پیش آنے سے پہلے مفروضوں پر اجتہاد نہ کیا جائے کیونکہ مسئلہ کی صحیح نوعیت اسی وقت متعین ہوتی ہے جب وہ پیش آئے۔اس سے پہلے وہ محض ایک مفروضہ ہوتا ہے چنانچہ مفروضہ کی بنیاد پر جو فتویٰ صادر ہو گا، اس میں صحت کے امکانات کم اور افراط وتفریط کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔

یہی بات میں نے اس وقت بھی کہی تھی جب 'جیو' نے مجھ سے حدود آرڈیننس کے خدائی قانون ہونے یا نہ ہونے کا سوال پوچھا تھا ۔ میرا جواب یہ تھا کہ اگر آپ بیرونی دباؤ کے زیراثر آرڈینینسوں میں تبدیلیاں کرکے نئی دفعہ وار قانون سازی کریں گے،بالخصوص جب قانون سازی کا اختیار بھی پارلیمنٹ کو دے دیں گے جس کے ارکان کی اکثریت شریعت سے بے بہرہ ہے توکیا اس وقت یہ آرڈیننس خدائی بن جائے گا۔ حکومت کے آئینی اداروں کو شریعت کی قانون سازی اورتعبیر شریعت کا اختیار دینے کی بجائے اس کے نفاذ Application کے کامیاب طریقوں پر محنت کرنا چاہیے۔اگر شریعت وحی کے الفاظ میں رہے گی تو پھر یقینا یہ کہا جا سکتا ہے کہ اب حدود اللہ کا نفاذ ہورہاہے لیکن اگر آپ پارلیمنٹ یا بیوروکریسی کی لفاظی کو قانونی دفعات کی صورت میں نافذ کریں گے تو پھر یہ اعتراضات اُٹھتے رہیں گے کہ حدود آرڈیننس قرآن وسنت کے مطابق نہیں یا قصاص و دیت آرڈیننس قرآن وست کے مطابق نہیں۔ اس کو قرآن وسنت کے مطابق بنایا جائے یا اسے منسوخ کیا جائے۔

اورحقیقت یہ ہے کہبیوروکریسی کی ڈرافٹنگ یا پارلیمنٹ کی قانون سازی جسے آپ اجتماعی اجتہاد کانام دے رہے ہیں، عدلیہ پر بے اعتمادی کا اظہار ہے۔حالانکہ عدلیہ میں آنے والے لوگ میرٹ کی بنیاد پر آتے ہیں اور پارلیمنٹ میں آنے والے عوامی اعتماد کی بنیاد پر جبکہ علم کی دنیا میں میرٹ کو ہی بالادستی حاصل ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ شرعی حدود کو وحی کے قالب میں نافذ سمجھا جائے اور عدلیہ جو قرآن وسنت کے ماہرین پر مشتمل ہو، اسے اجتہاد کا اختیار دیا جائے۔ ہمارے ملک پاکستان میں حدود آرڈیننس سمیت شریعت کے حوالہ سے لاگو کئے جانے والے دساتیر و قوانین اینگلو سیکسن لاز کے طریقہ پر تیار اور نافذ ہوتے ہیں۔ ان کے بارے میں یہ مسلمہ امر ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان میں تبدیلیوں کی ضرورت محسوس ہوتی رہے گی جب کہ وحی (کتاب و سنت) دائمی عالمگیر ہدایات ہیں جو حرکی اجتہاد کے تصور سے ہر دور کے بدلتے تقاضوں کوملحوظ رکھ کر ہر طرح کے پیش آمدہ مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اجتہاد ی اختلافات کے باوجود اجتہاد کی شریعت میں اجازت کیوں ہے؟ اس کے بارے میں عموماً عوام ائمہ کا اختلاف سن کرپریشان ہوجاتے ہیں حالانکہ اکابر فقہا کے ظاہری اختلافات کے باوجود یہ اجتہاد کا ایک بڑا اہم اور مثبت پہلو ہے کہ اس طرح پیش آمدہ مسئلہ کے تمام پہلوؤں کا جائزہ سامنے آجاتا ہے کیونکہ اجتہاد کرنے والوں میں سے کسی کے سامنے ایک پہلو ہوتا ہے اور کسی کے سامنے کوئی دوسرا ۔ جس کی وجہ سے ان کی آرا بظاہر مختلف نظرآتی ہیں،لیکن بہت دفعہ یہ اختلاف حقیقی نہیں ہوتا بلکہ وہ ایک حقیقت کے مختلف پہلو ہوتے ہیں۔ جیسے ایک عمارت کو جب آپ چار اطراف سے دیکھیں گے تو وہ بظاہر ایک طرف سے دوسرے پہلوسے مختلف نظرآئے گی حالانکہ وہ عمارت ایک ہی ہے،پھر زمانے کی تبدیلی کے ساتھ مسائل کی صورتوںاور نوعیتوں میں تبدیلی بھی واقع ہوتی رہتی ہے۔ جب آپ دفعہ وار قانونی دفعات بنا کر جج کو اس کا پابند بنا دیں گے اور اجتہاد کو اس کے لیے شجر ممنوعہ قرار دیں گے تو ظاہر ہے کہ اس جج کی طرف سے دیا جانے والا فیصلہ مسائل کے نت نئے پہلوؤں سے ہم آہنگ نہیں ہوگا۔ اس طرح قانون ہمیں انصاف دینے کی بجائے ہمارے لئے بیڑیاں (اِصر واَغلال) بن جائے گا۔

لیکن یہاں یہ بات واضح رہے کہ حدود آرڈیننس کے بارے میں یہ کہنا کہ یہ آرڈیننس کوئی خدائی قانون نہیں، محض ایک مغالطہ اور پراپیگنڈہ ہے۔ یہ تودرست ہے کہ یہ حدود آرڈیننس ان الفاظ کے ساتھ اللہ نے آسمان سے نازل نہیں کیا، بلکہ یہ وحی الٰہی (قرآن وسنت) کا اجتہادی فہم ہے۔ یہ بعینہٖ شریعت نہیں بلکہ شریعت کی اجتہادی تعبیر ہے، لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ یہ حدود آرڈیننس غیر اسلامی ہے۔ حدود کے قوانین نہ تو بعینہٖ حدود اللہ ہیں اور نہ ہی اس سے الگ کوئی چیز۔جس طرح قرآن کا ترجمہ اگرچہ قرآن نہیں ہوتا لیکن اس کا غیر بھی نہیں ہوتا، حدود آرڈیننس میں شرعی دفعات اور حدود اللہ کا باہم وہی رشتہ ہے جو کتاب کے متن اور اس کے ترجمہ وتشریح کے درمیان ہوتا ہے،کیونکہ علما نے انہیں قرآن وسنت کی روشنی میں تیار کیا ہے۔

بعض لوگ حدود آرڈیننس پر خدائی قانون نہ ہونے کا الزام عائد کرتے ہیں۔میرا سوال یہ ہے کہ ترمیم واصلاح کے بعد جو حدوو آرڈیننس سامنے آئے گا ،کیا وہ خدائی قانون ہو گا؟ کیا وہ بعینہٖ حدود اللہ ہوں گی بلکہ وہ بھی انسانی کاوش ہی قرار پائے گی۔اور اس سے بھی بہت سے اہل فکر کو اختلاف ہو سکتا ہے۔ اور یہ واضح رہے کہ حدود اللہ یا شریعت کے نفاذ Application کی جو بھی صورت ہو گی جیسے وہ پہلے سے تیار کردہ کسی معیاری تدوین کی صورت میں ہو تو انسانوں کا قرآن وسنت کا فہم 'انسانی کدوکاوش' ہی کہلائے گی۔اگر کسی بات کو محض یہ کہہ کر ردّ کرنا شروع کر دیا جائے کہ یہ تو انسانوں کا اجتہاد ہے یا بصورت ِ فقہ شریعت کی انسانی تعبیر ہے تو اللہ کا یہ دین بالکل معطل ہو کر رہ جائے گا۔

سوال: یہ توایک مثالی صورت حال ہے، لیکن پاکستان میں ایسے ہونا سردست ممکن نظرنہیں آتا، ان حالات میں آپ پاکستان میں شریعت کے نفاذ کا طریقہ کیا تجویز کرتے ہیں؟
جواب: حدود اللہ اور دیگر شرعی احکام کے نفاذ کا اصل طریقہ تو یہی ہے کہ اسے وحی یعنی قرآن وسنت کی صورت میں نافذ کر دیا جائے، اسے اپنے الفاظ میں قوانین کی شکل نہ دی جائے جیسا کہ سعودی عرب اور بعض دیگر خلیجی ممالک میں یہ طریقہ اس وقت نافذ العمل ہے۔ لیکن اگر ہم اسی بات پر مصر ہیں کہ شریعت کو انسانی الفاظ اورقانونی دفعات کی شکل میں ہی نافذ کرنا ہے تو پھر اس کے اندر ایک شق یہ رکھ دی جائے کہ جہاں کہیں کو ئی اختلاف رونما ہوگا تو اس کی کسوٹی کتاب و سنت ہوگا۔جیسا کہ قرآن کریم میں ہے:

{فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ} (النساء: 59)
''جس چیز میں تمہارا اختلاف ہو جائے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹا دو۔''

{وَمَا اخْتَلَفْتُمْ فِيهِ مِنْ شَيْءٍ فَحُكْمُهُ إِلَى اللَّهِ} (الشوریٰ: 10)
''جس چیز میں تم اختلاف کرو تو وہاں فیصلہ اللہ کی طرف ہی لوٹایا جائے۔''

پاکستانی قانون میں پہلے بھی بعض جگہ یہ صراحت موجود ہے ،مثلاً قصاص ودیت آرڈیننس میں 338؍ایف میں وضاحت موجود ہے کہ اس قانون میں اگرہمیں کوئی ضمنی مسئلہ درپیش ہو گا یا کوئی چیز موجود نہیں ہو گی یا کوئی نکتہ قابل اصلاح ہو گا تو قرآن وسنت کی روشنی میں اسے حل کیا جائے گا۔ ایسے ہی لاہور ہائی کورٹ کے فل بنچ نے اس کے مطابق ایک فیصلہ بھی دیا ہے۔فل بنچ کے تین ججوں: جسٹس سردار محمدڈوگر ،جسٹس خلیل الرحمن خان اور جسٹس خلیل الرحمن رمدے کے سامنے یہ مسئلہ پیش ہوا کہ اگر مقتول کے ورثا صلح کرکے قصاص معاف کر دیں تو کیا اس کے باوجود بھی قاتل کو کوئی تعزیری سزا دی جاسکتی ہے یا نہیں؟ تو اُنہوں نے یہ فیصلہ دیا کہ اس صورت میں تعزیری سزا نہیں دی جانی چاہیے۔ وہ خود چونکہ مروّجہ قوانین میں کوئی ترمیم نہیں کرسکتے تھے، لہٰذا انہوں نے اپنی اس رولنگ کو پارلیمنٹ بھیجنے کی سفارش کی کہ اس کے مطابق قانون سازی کی جائے۔

چنانچہ ''قرآن و سنت کے کسوٹی ہونے'' پر مبنی ایک شق کا اگر حدود آرڈیننس میں اضافہ کر دیا جائے تو یہ کافی حد تک حدود اللہ کے قریب آ جائے گا کیونکہ اس صورت میں اصل نگران اور اتھارٹی قرآن وسنت قرار پائے گا۔

1980ء میں وفاقی شرعی عدالت نے تعزیراتِ پاکستان اور قوانین ضابطہ کی 56 دفعات کو قرآن و سنت کے منافی قرار دیا۔ تو سپریم کورٹ (شریعت بنچ) میں حکومت نے اپیل کردی۔ جب سپریم کورٹ نے بھی وفاقی شرعی عدالت کی تائید کردی تو 1991ء میں حکومت سے یہ مطالبہ کیا گیا کہ وہ متبادل دفعات فراہم کرے۔ یہ بے نظیر بھٹو کا دور تھا اور حکومت اس سے بچنے کے لیے سپریم کورٹ سے تاریخوں پر تاریخیں لے رہی تھی اورحکومت کا موقف یہ تھاکہ ہمیں مختلف ممالک کے قوانین کا جائزہ لینے کے لیے اپنے نمائندے دوسرے ممالک میں بھیجنے ہیں ۔ اس صورت حال کو بھانپ کر فل بنچ نے کہا کہ دس سال تو پہلے ہو چکے ہیں اور بنچ کے سربراہ جسٹس افضل ظلہ نے کہا کہ اب ہم مزید تاریخیں نہیں دیں گے۔فلاں تاریخ تک آپ متبادل قانون نافذ کر دیں اور ساتھ ہی یہ بھی قرار دے دیا کہ اگر فلاں تاریخ تک کوئی بنا ہوا قانون نہ آیا تو پھر قرآن وسنت کو اپنے اصل الفاظ میں لاگو سمجھا جائے گا۔یہ ایک بہت بڑی کامیابی تھی،لیکن انہی دِنوں بینظیر حکومت تبدیل ہو گئی۔یہ تفصیل ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ قصاص ودیت کے قانون میں بھی ایسی دفعات موجود ہیں جن کے ذریعے اس آرڈیننس میں قرآن وسنت کو بالادستی دی گئی ہے۔لاہور ہائیکورٹ کا مذکورہ بالا فیصلہ ایسی بالادست دفعات کی روشنی میں ہی دیا تھا جیسا کہ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اسی رائے کو اختیار کیا ہے کہ عورتوں کو قصاص ودیت کے معاملات میں معافی کا اختیار نہیں ہونا چاہئے۔ اس کی حکمت یہ بھی ہے کہ عورت فطری طور پر جذباتی اورنرم دل ہوتی ہے۔ اور بعض دفعہ یہ ہوتا ہے کہ اگر عورت کے سسرال کا کوئی فرد اس کے میکے کے کسی فرد کو قتل کردیتا ہے تو اس صورت میں مجبوراً اسے معاف کرنا پڑتاہے، اگرچہ وہ دل سے معاف نہیں کرنا چاہتی۔اس لئے امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے قصاص کی معافی کا حق مقتول کے صرف ان رشتہ داروں کو دیا ہے جو خاندان میں ریڑھ کی حیثیت رکھتے ہیں جنہیں علم وراثت کی اصطلاح میں عصبہ کہا جاتا ہے، مثلا ًبھائی، بیٹا، باپ، داداوغیرہ

سوال:یہاں پھر عورت کے حقوق کامسئلہ پیدا ہو جاتا ہے۔ لوگ تو پہلے اس بات پربھی معترض ہیں کہ عورت کی گواہی آدھی کیوں ہے، پوری کیوں نہیں؟
جواب: دیکھیں!قانون کا مقصد مسائل کو حل کرنا ہوتا ہے۔کسی کو خوش کرنا اصل مقصود نہیں ہوتا، پھر یہ عورت کے حقوق کا مسئلہ نہیں ہے۔ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے تو اگر عورت قتل ہوجائے تو خاوند کو بھی اس کا قتل معاف کرنے کا حق نہیں دیا۔ وہ کہتے ہیں کہ موت کے بعد خاوند بیوی کا رشتہ منقطع ہوجاتاہے۔اس بنا پر زوجین کوباہم ایک دوسرے کے قصاص کومعاف کرنے کا اختیار نہیں دیا جاسکتا، کیونکہ اس کے پیچھے بہت بڑی مصلحت ہے۔

یہ بات ذہن نشین رہنی چاہئے کہ قانون سازی کسی کو خوش کرنے کے لئے نہیں ہوتی۔ قانون سازی کا مقصد مسائل کو حل کرنا ہے۔ اگر اس کو نظر انداز کردیا جائے اور لوگوں کی خوشی کے مطابق فیصلے ہونے لگیں تو پھر بچیوں کو آوارگی کے خارستان سے کون بچائے گا؟ وہ خاندان کی عزت و آبرو کو خاک میں ملا کر جہاں چاہیں گی، گھومیں گی اور پھر ہائی کورٹ کے ججوں کو بھی مجبوراً یہ کہنا پڑے گا کہ والدین کو سوچنا چاہئے کہ ان کی اولاد کی تربیت میں کہاں کمی رہ گئی ہے؟ بہرحال ان تمام مسائل کا حل قانون سازی کے جدید انداز کے نقطہ نظر سے یہ ہے کہ شریعت کے نام پر بنائے جانے والے ان قوانین کے اوپر قرآن و سنت کو نگران بٹھا دیا جائے۔ اس سے قانون میں جہاں کوئی سقم باقی رہ گیا ہے، وہ ایک حد تک دور ہوجائے گا جیسا کہ ہمارے جسٹس ناصر اسلم زاہد نے کہا ہے۔ ان کے یہ الفاظ قابل ذکر ہیں کہ
''حدود آرڈیننس کو قرآن کے مطابق بنایا جائے۔''

اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس آرڈیننس کی روح بہت مقدس ہے اور وہ رو ح یہ ہے کہ زنا بالرضا بھی بدکاری ہے اور بدکاری ناقابل معافی جرم ہے۔اس آرڈیننس سے پہلے کنواری، بیوہ، مطلقہ کسی عورت کے لئے بھی زنا بالرضا قابل گرفت جرم نہیں تھا۔ صرف خاوند اپنی بیوی کے خلاف کاروائی کرسکتا تھا اور وہ بھی صرف اس صورت میں کہ وہ اس کی اجازت کے بغیر زنا کا ارتکاب کرتی۔ گویا بدکاری ایک بُرے فعل کے طور پر جرم نہیں تھی، بس خاوند کے حق میں حق تلفی کے طورپر جرم کے زمرے میں آتی تھی۔

سوال: کوئی اگر زنا کے الزام سے بری ہوجائے توکہتے ہیں کہ الزام لگانے والے پر حد لگائی جائے؟ لیکن عملاً یوں نہیں ہوتا بلکہ لوگ جھوٹے الزام کے بعد تہمت کی سزا سے بھی بچ جاتے ہیں۔
جواب: ہاں، اس پر حد قذف (بہتان طرازی کی حد) ہے جو علیحدہ آرڈیننس ہے۔

سوال: کیا حد ِزنا آرڈیننس میں حد ِقذف کا ذکرنہیں ہے ؟
جواب: نہیں،اس میںکوئی ایسی بات نہیں ہے۔ دراصل ہمارے ملک میں رائج قانونی نظام کا طریق کار یہ ہے کہ ایک مقدمہ میں دوسرے مقدمہ کو شامل نہیں کیا جاتا۔ اس کے لئے الگ سے مقدمہ دائر کرنا پڑتا ہے، لہٰذا حد قذف کو قذف کے مقدمہ کے تحت سنا جائے گا۔ اس نظام کے تحت جب ایک کیس درج کرایا جاتا ہے تو پھر اسی الزام کی سماعت ہوتی ہے، دوسرے الزام کی سماعت کے لئے مستقل دوسرا کیس دائر کرنا پڑتا ہے، یہ خرابی حدود آرڈیننس کی بجائے ہمارے قانونی نظام کی ہے۔

سوال: کیا حد ِقذف واقعتا حد ِزنا آرڈیننس میں نہیں ہے؟
جواب: حدود آرڈیننس میں ہر حد کا قانون الگ الگ ذکر ہوا ہے۔ یہ دراصل پانچ آرڈی نینسوں کا مجموعہ ہے جس میں قذف کا قانون الگ ہے اور زنا کا الگ۔ اسی طرح ملکیت ِمال کا الگ ہے، لیکن اگر ان تمام کے اوپر کتاب و سنت کی اتھارٹی قائم کردی جائے تو اس سے تمام قوانین باہم مربوط ہوجائیں گے۔ بہرحال ہم نے اپنے حالات کے تحت اس مسئلہ کا کوئی حل نکالنا ہے۔ میں یہ تو نہیں کہتا کہ سعودی عرب اور خلیجی ممالک کا انداز یہاں بعینہٖ لاگو کیا جائے،کیونکہ یہاں ایسا کرنا مشکل ہوگا۔ لیکن حقیقت یہی ہے کہ اسلام ہمیشہ خلافت ِاسلامیہ میں قرآن و سنت کے اصل الفاظ میں ہی نافذرہا ہے۔ بلکہ صورت حال یہ رہی کہ ہندوستان میں فتاویٰ عالمگیری جاری ہوا تو بطورِ قانون نہیں،کیونکہ فتاویٰ عالمگیری کی زبان ہی قانونی نہیں بلکہ وہ علما کی تشریحات کی شکل میں ہے جنہیں فیصلہ کرتے وقت جج اپنے سامنے رکھتے تھے۔ البتہ ترکی میں مجلة الأحکام العدلیة 1876 ء سے 1923ء تک ملکی قانون کی حیثیت سے نافذ تو رہا ہے لیکن اس میں بار بار ترامیم کے باوجود بعض جگہ اس کا انداز انتہائی مضحکہ خیز ہے۔مثلاً اس میں یہ لکھا ہوا ہے کہ سود شرعاً تو حرام ہے لیکن قانوناً جائز ہے۔ پھراس میں فوجداری قانون اور عائلی قوانین موجودہی نہیں ہیں، سول لاء کا ایک حصہ بھی اس سے خارج ہے۔ حالانکہ یہ اسلامی تعلیمات پرمبنی ایک مختصر کوڈ تھا جو نپولین کے تیار کردہ کوڈ کو سامنے رکھ کر بنایا گیا تھا اور اس میں پچاس سال کے دوران ایک نہیں، بیسیوں ترامیم کرنا پڑیں کیونکہ وہ انسانوں کا بنایا ہوا قانون تھا جسے ترمیم کا سامنا کرنا ایک مجبوری ہے۔لہٰذا اصل حل یہی ہے کہ قرآن وسنت کو اپنے الفاظ میں نافذ کردیا جائے۔یا پھر قرآن وسنت کی روشنی میں بنائے ہوئے ایسے قوانین پر انہی قوانین میں قرآن و سنت کی چھتری قائم کردی جائے تاکہ اعلیٰ عدلیہ ایسے مواقع پر قانون کا اطلاق کرتے وقت اجتہاد کرسکے۔

سوال : کیا زنا بالرضا اور زنا بالجبر میں کوئی فرق ہے؟
جواب: ان دونوں کے درمیان فرق کا جوپراپیگنڈہ کیا جارہا ہے اور زنا بالجبر کو زنا کے زمرہ سے نکال کر آیت ِمحاربہ (المائدة: 32،33) کے تحت داخل کرنے کی باتیں ہورہی ہیں تو اس کا نتیجہ اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ یا تو زنا بالجبر کو قابل راضی نامہ بنا دیا جائے کیونکہ اس سے اگلی آیت میں {إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا مِنْ قَبْلِ أَنْ تَقْدِرُوا عَلَيْهِمْ} سے یہی ثابت ہوتا ہے بلکہ اگر وہ گرفتارہونے سے قبل توبہ کرلے تو اسے پوچھنے کی بھی ضرورت نہیں ہے، اس صورت میںعورت کو راضی کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ پورے قرآن و سنت کو نظر انداز کرکے، کسی ایک آیت سے مسئلہ نکالنا کوئی درست طرزِ عمل نہیں ہے۔ یہ ساری قباحتیں اسی صورت میں ختم ہوسکتی ہیں کہ تمام قوانین کے اوپر کم از کم قرآن و سنت کی چھتری قائم کردی جائے اور قرآن وسنت کے ماہر اور اجتہاد کی صلاحیت کے حامل ججوں کو اجتہاد کے ذریعے ان قباحتوں کو دور کرنے کا اختیار دیا جائے۔

سوال: میرا موضوع درحقیقت حدود آرڈیننس کی اہمیت، تقدس اور نفاذ ہے ۔اس کے نفاذ کا آپ نے بہترین حل تجویز کیا ہے کہ یہ آرڈیننس ہمارے لئے بہت بڑی غنیمت ہے۔ قرآن و سنت کے تحت اس میںترمیم کی ضرورت ہو تو ترمیم کی جائے، نہ کہ اسے ختم کر دیا جائے۔
جواب: ترمیم و اصلاح کے باوجود بھی ہم اسے فائنل نہیں کہہ سکتے۔ اس میں تبدیلی کی گنجائش بہرحال رہے گی۔

سوال: ہاں پھر بھی فائنل نہیں کہہ سکتے، کیونکہ اسے علما نے اپنے اجتہاد سے تیار کیا تھا اور جنرل ضیاء الحق کے دور میں اسے نافذ کیا گیا تھا جو کہ جمہوری حکومت نہیں تھی۔
جواب: پہلی بات تو یہ ہے کہ حدود آرڈیننس کسی فردِ واحد کا نافذ کردہ قانون نہیں تھا بلکہ ماہرین علما اور قانونی اداروں کی مشاورت سے تیار کیا گیا اور پھر رائے کے لئے اسے عوام کے سامنے بھی پیش کیا گیا۔سپریم کورٹ نے اس کی منظوری دی جیساکہ پرویزمشرف کے اقدامات کو بھی سپریم کورٹ نے درست قرار دیا ہے۔ کل کو اگر کوئی کہے کہ یہ سب فردِ واحد کی طرف سے تھے لہٰذا سارے غلط ہیں، اس طرح تو تمام قوانین تماشہ بن جائیں گے۔یوں بھی تین بار حدود قوانین میں ترمیم کے لئے تین بار اسمبلی میں بل پیش ہوا لیکن اسمبلیوں نے ا س میں ترمیم نہ کرکے گویا اس کی موجودہ حالت میں تصویب کردی۔

سوال: یہ بات سمجھ نہیں آرہی کہ حدود آرڈی نینس کے بارے میں یہ اکھاڑ پچھاڑ پرویز مشرف کی طرف سے ہو رہی ہے یا باہر سے کوئی فنڈز دیے جارہے ہیں ؟
جواب: جس چیز کے ہمارے پاس شواہد نہیں، اس کے بارے میں ہم کچھ نہیں کہتے لیکن حدود آرڈیننس جس کی روح یہ ہے کہ اس کے ذریعے زنا پہلی بار ایک جرم قرار پایا ہے، اس کو ختم کرنے کے لئے جو انداز اختیار کیاجارہاہے، میڈیا کے زور پر اس کے خلاف نفرت کی جو فضا پیدا کی جارہی ہے، یہ انداز انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے اور یہی وہ انداز ہے جو توہین رسالت آرڈیننس کو ختم کرنے کے لئے اختیارکیا گیا تھا۔ اب یہاں بھی وہی کھیل کھیلا گیا ہے کہ حدود آرڈیننس کی تفتیش ایس پی درجے کا پولیس افسر کرے یا عدالت کی اجازت کے بغیر کسی کو گرفتار نہ کیاجائے،یہ ترمیم 2 برس قبل ہوچکی ہے۔

سوال: تاکہ یہ جرم قابل مؤاخذہ ہی نہ رہے۔ یہ کافی پہلے کی تجاویز ہیں جو اخبارات میں بھی چھپیں۔ ان میں سے یہ تجویز تو منظور ہوگئی ہے کہ ایس پی کے درجے کا پولیس افسر تفتیش کرے، البتہ دوسری منظور نہیں ہوئیں۔
جواب: یہی کچھ تو ہین رسالت آرڈیننس کے ساتھ ہوا کہ اسے ڈپٹی کمشنر کی اجازت کے ساتھ وابستہ کردیا گیا اور یہ سب کچھ ہم مغرب کو راضی کرنے کے لئے کررہے ہیں لیکن مغرب ہمارے کام پر مطمئن نہیںہے جیسا کہ میرے بیٹے حافظ حسن مدنی سے امریکہ کے دورہ کے دوران اسی کے متعلق سوالات کئے گئے تھے۔ امریکیوں نے اُنہیں واضح الفاظ میں کہا کہ ہم ابھی تک مطمئن نہیں ہیں۔

سوال:ظاہر ہے کہ ہم جو کچھ بھی کرلیں ، ان کی ڈیمانڈ پر پورے نہیں اُتر سکتے۔وہ تو چاہتے ہیں کہ ہم قرآن و سنت کو الگ کردیں اور ایک سیکولر معاشرہ قائم کریں۔
جواب : سورئہ البقرة میں اللہ تعالیٰ نے اسی بات کی وضاحت کی ہے کہ { وَلَنْ تَرْضٰی عَنْکَ الْیَھُوْدُ وَلاَ النَّصَارٰی حَتّٰی تَتَّبِـعَ مِلَّتَھُمْ} '' یہ یہودی اور عیسائی اس وقت تک تم سے خوش نہیں ہوں گے جب تک کہ تم ان کی (ملت) تہذیب کواختیارنہ کرلو۔''

سوال: چند اعتراضات وہ ہیںجو این جی اوز ، ڈاکٹر محمد فاروق اور جاوید احمد غامدی وغیرہ کی طرف سے اُٹھائے جارہے ہیں۔
جواب: ہم کہتے ہیں کہ ان اعتراضات کوقرآن و سنت پر پیش کیاجائے اور یہ کام عدالت کے ججز جو خو دبھی قرآن و سنت کے ماہر اور درجہ اجتہاد پر فائز ہوں، علما کی راہنمائی میں کریں۔ جو چیز قرآن و سنت کے خلاف ہو، اس کو درست کرکے لاگو کریں۔ اور اگر مغرب کو راضی کرنا مقصود ہے تو وہ کبھی راضی نہیں ہوں گے حتیٰ کہ آپ ان کی ملت کی پیروی کریں اور یقینا میڈیا کے ذریعہ اسی مہم کو آگے بڑھایا جارہاہے۔

نمائندئہ جنگ: اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔ ہم نے آپ کا بہت وقت لیا اور ہم سمجھتے ہیں کہ آپ کی آرا سے مسائل کو حل کرنے میں مدد ملے گی۔ ٭٭


حوالہ جات
1. روزنامہ انصاف: 25؍مئی 2004ء
2. دیکھئے کتاب 'اسلامی تہذیب بمقابلہ مغربی تہذیب' میں انٹرویو ، ص 84