مسواک کے بارے میں چند سوالات ، صبح کی سنتیں



جادو کے ذریعے مسلمان کی شکل تبدیل کرنا؟
سوال: کیا جادو کے ذریعہ کسی کو گدھا بنایا جاسکتا ہے یا نہیں؟ اور کیا جادوگر کسی مؤمن آدمی کو ذلیل و خوار کرسکتا ہے یا نہیں؟
جواب: بعض جادوگر اس بات کے دعویدار ہیں کہ وہ انسانوں کی صورت کو حیوانوں کی شکلوں میں تبدیل کرنے پر قادر ہیں جبکہ حقیقت ِحال اس کے برعکس ہے۔ یوں بھی اہل علم نے ایسے شخص کو کافر قرار دیا ہے، تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو تفسیر قرطبی :2؍45

مؤمن کو جادو کے ذریعہ کوئی جادوگر ذلیل و خوار نہیں کرسکتا، مگر اس کی کوتاہی کی وجہ سے بعض دفعہ ایسی صورت پیدا ہوسکتی ہے۔

ایسی صحیح احادیث جو بظاہر قرآن سے ٹکراتی ہیں؟
سوال: کتنی صحیح حدیثیں ایسی ہیں جو بظاہر قرآن کی کسی آیت یا آپس میں ٹکراتی ہوں؟
جواب:کوئی ایسی صحیح حدیث نہیں جو حقیقتاًقرآن سے ٹکراتی ہو۔ امام ابن خزیمہ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:
'' اگر کوئی ایسا محسوس کرتاہے تو میرے پاس لائے، میں اس کا حل پیش کروں گا۔''

البتہ آپس میں بظاہر متعارض احادیث کافی تعداد میں ہیں اورمحدثین نے ان کا رفع تعارض بھی کافی وشافی پیش کیاہے جس کے لئے امام ابن قتیبہ رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب مختلف الحدیث کا مطالعہ مفید ہوگا۔

 سوال:اگر فجر کی جماعت کھڑی ہو تو فجر کی سنتیں کب پڑھی جائیں؟ کیا جماعت میں شامل ہونے سے پہلے پڑھنا ضروری ہیں یا فرض پڑھنے کے بعد بھی سنتیں پڑھی جاسکتی ہیں؟
جواب:فجر کی جماعت کھڑی ہونے کی صورت میں صبح کی نماز کے بعد سنتیں پڑھی جاسکتی ہیں۔ سنن ترمذی میں باب ہے: ماجاء فیمن تفوته الرکعتان قبل الفجر یصلیھما بعد صلاة الصبح اور سورج طلوع ہونے کے بعد بھی پڑھنا درست ہے جیسا کہ سنن ترمذی میں عنوان ہے: ماجاء في إعادتھما بعد طلوع الشمس

سوال:مسواک کے آداب کے حوالے سے ایک مضمون میں پڑھا تھا کہ a مسواک کرنے کے بعد اگر اسے نہ دھویا جائے تو شیطان مسواک کرتا ہے۔ b مسواک ایک بالشت سے زیادہ لمبی نہیں ہونی چاہئے، ورنہ شیطان اس پر سوار ہوتا ہے۔ c مسواک پوری مٹھی میں پکڑ کر نہ کی جائے۔ d مسواک لیٹ کر نہ کی جائے کیونکہ اس سے تلی بڑھ جاتی ہے۔ مسواک زمین یا میز پر پڑی نہ رکھی جائے، پڑی رہنے سے جنوں کے استعمال کرنے کا خوف ہے۔ کیا یہ آداب قرآن و حدیث سے ثابت ہیں؟
جواب: استعمال کے بعد مسواک کو دھونا ضروری نہیں اور شیطانی عمل کا کسی روایت میں ذکر نہیں۔ مسواک کے لئے بالشت کی شرط بھی ثابت نہیں۔ مٹھی میں پکڑ کر مسواک کرنے کی کہیں ممانعت وارد نہیں،نہ ہی مسواک کو لیٹ کر کرنے کی ممانعت ہے۔مسواک کو میز وغیرہ پر رکھنے کا کوئی حرج نہیں اور اس سے کوئی بیماری لاحق نہیں ہوتی۔ مذکورہ آداب خود ساختہ ہیں جو قرآن و حدیث سے ثابت شدہ نہیں۔

سوال:مسواک کی کیفیت کیا ہونی چاہئے؟اگر کسی آدمی کے پاس مسواک نہ ہو یا منہ میں سرے سے دانت ہی نہ ہوں یا منہ میں تکلیف ہو تو مسواک کی سنت پر عمل کیسے کریں؟
جواب: جو لکڑی منہ میں پھر سکے، وہی کافی ہے مسواک کی کوئی حد بندی نہیں۔ان صورتوں میں منہ میں انگلی پھیر لے ، یہی کافی ہے۔

سوال:مسواک کرنے کا درست مسنون طریقہ اور مسواک کے سنت سے ثابت فضائل اور فوائد اور اوصاف کیا ہیں؟
جواب: مسواک کے لئے بنیادی بات یہ ہے کہ منہ کے طول و عرض میں پھرسکے۔ مسواک منہ کے لئے طہارت کا سبب ہے اور پروردگار کی رضامندی کا ذریعہ ہے۔

سوال: کیا خاتون ڈینٹل سرجن مرد حضرات کا علاج معالجہ کرسکتی ہے؟ جبکہ دانتوں کا ایک آپریشنکم از کم آدھ گھنٹے پر محیط ہوتا ہے جس میں بسااوقات بے حجابی کا خدشہ ہوتاہے؟
جواب: مرد کا علاج مرد کرے اور عورت کو صرف عورتوں کا علاج کرنا چاہئے ، البتہ دوسرا ڈاکٹر ملنا ممکن نہ ہو تب بصورتِ اضطرار اس کا جواز ہے۔

سوال:کیا مسلمان معلمہ یا واعظہ کادرس مرد حضرات کسی آڈیو سی ڈی ؍ کیسٹ کے ذریعے سن کر استفادہ کرسکتے ہیں؟
جواب: عورت کا درس بذریعہ کیسٹ وغیرہ سنا جاسکتا ہے۔ عہد ِنبوت میں عورتیں آپؐ سے مسائل دریافت کرتی تھیں،بعد میں خلفا کا عمل بھی اس پر رہا۔ راجح مسلک کے مطابق عورت کی آواز پردہ نہیں۔

سوال:نفسیاتی بیماریوں اور ذہنی الجھنوں کا موسیقی کی دُھنوں کے ذریعے علاج (Music therapy) جسے 'روحانی علاج' کا نام دیا جاتا ہے، شرعاًکیسا ہے؟
جواب: موسیقی کی دھنوں سے علاج کرنا حرام ہے کیونکہ یہ شیطانی آواز ہے۔ حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ آیت ِکریمہ{وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْتَرِيْ لَھْوَ الْحَدِیْثِ} غناء اور مزامیر کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ 1

سوال:کیا ہم خواب کی کسی ایسی تعبیر کو تسلیم کرسکتے ہیں جو اسلامی احکام کے منافی ہو؟
جواب:خواب کی تعبیر صرف اسلامی احکام و مسائل کے ماہر سے کرانی چاہئے اور دینی تعلیمات کے خلاف تعبیر کو تسلیم نہیں کرنا چاہئے۔

سوال: اسلام میں عورت کے لئے پردہ لازمی قرار دیا گیا ہے۔ ان مقامات پر جہاں خواتین کے لئے پردہ کابندوبست نہ ہو یا جہاں سے مرد حضرات کا زیادہ گزر ہو تو کیا وہاں عورتوں کی نماز ہوجائے گی؟اور اگر عورت بے پردگی کی وجہ سے نماز قضا کرلے اور بعد میں کسی پردہ والی جگہ نماز ادا کرلے تو اس بارے میں شرعی طور پر کیا حکم ہوگا؟
جواب:عورت باپردہ جہاں بھی نماز ادا کرے، بامر مجبوری ہوجائے گی۔ حتیٰ المقدور کوشش کرنی چاہئے کہ نماز قضا کی بجائے اپنے وقت میں ادا ہو۔لایکلف اﷲ نفسا إلا وسعها


 

حوالہ جات

1. تفسیر ابن کثیر:3؍583