عمر ہا در کعبہ و بت خانہ می نالد حیات       تازِ بزم عشق یک داناے راز آید بروں


علم ہوا ہے کہ مولاناصفی الرحمن مبارک پوری؛ مصنف 'الرحیق المختوم' اپنے آبائی قصبے حسین پور (مبارک پور، اعظم گڑھ، بھارت) میں یکم دسمبر 2006ء بروز جمعتہ المبارک دنیاے فانی سے رہ گراے عالم بقا ہوگئے۔ إناﷲ وإنا إلیه راجعون!

مبارک پور بھارت کا ایک نہایت مردم خیز خطہ ہے جہاں بڑی بڑی منتخباتِ روزگار قسم کی شخصیات پیدا ہوئیں ، مثلاً مولانا عبدالسلام مبارک پوری مصنف سیرة البخاری، مولاناعبدالصمد مبارک پوری، مولانامحمد امین اثری مبارک پوری،مولاناعبدالرحمن مبارک پوری مصنف 'تحفة الاحوذی' و 'تحقیق الکلام' وغیرہ، مولاناعبیداللہ رحمانی مبارک پوری مصنف 'مرعاة المفاتیح' وغیرہ اور قاضی اطہر مبارک پوری وغیرهم رحمهم اللہ

مولاناصفی الرحمن مبارک پوری رحمہ اﷲ بھی اسی مردم خیز علاقے سے تعلق رکھتے تھے اور اُسی سلسلة الذہب کی ایک کڑی تھے جس کا تذکرہ اوپر ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بھی بڑی عظیم صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ وہ بہ یک وقت ایک قابل مدرّس، ماہرعلم فرائض، کامیاب مناظر، شارحِ حدیث، سیرت نگار، محقق اور عربی؍ اُردو دونوں زبانوں کے اعلیٰ پاے کے قلم کار، نثر نگار اور انشا پرداز تھے جس پر ان کی مشہور زمانہ تالیف 'الرحیق المختوم' شاہد ِعادل ہے جس پران کو رابطہ عالم اسلامی کے زیر اہتمام سیرت نگاری کے عالمی مقابلے میں اوّل انعام ملا۔یہ کتاب اُنہوں نے اصلاً عربی میں لکھی اور اس وقت لکھی جب وہ جامعہ سلفیہ بنارس (بھارت) میں اُستاذ تھے۔ اس وقت تک اُنہوں نے عرب کی کسی یونیورسٹی کامنہ دیکھاتھا، نہ سعودی عرب میں ان کی آمدورفت کاکوئی سلسلہ ہی تھا۔ اُنہوں نے بھارت کے دینی مدارس ہی میں ساری تعلیم حاصل کی اور وہیں سلسلۂ تدریس سے وابستہ رہے۔ ایسے ماحول میں رہ کرعربی انشا پردازی میں اتنی استعداد بہم پہنچا لینا کہ عرب بھی اس پر انعام دینے پر مجبور ہوجائیں ، بلا شبہ ان کی غیرمعمولی ذہانت و فطانت اور اعلیٰ قابلیت کی ایک واضح دلیل ہے۔
ذلك فضل اﷲ یؤتیه من یشاء واﷲ ذوالفضل العظیم!

پھر 'الرحیق المختوم' کو اُردو کے حسین قالب میں بھی اُنہوں نے خود ہی ڈھالا جس سے ان کے اُردو اسلوب میں بھی پختگی کا ثبوت ملتا ہے۔ 'الرحیق المختوم' جب عربی اور اُردو دونوں زبانوں میں شائع ہوئی تو نہ صرف ان کی شہرت بامِ عروج پر پہنچ گئی بلکہ دنیوی ترقی کے راستے بھی ان پر وَا ہوگئے۔ اس کے کچھ ہی عرصے کے بعد ان کو الجامعة الإسلامیة مدینہ منورہ کے ایک ذیلی شعبے ۔ مرکز السیرة النبویة ۔ میں بطورِ محقق ذمہ داری سونپ دی گئی جس میں ان کے ذمے سیرتِ نبویہؐ سے متعلقہ تاریخی و حدیثی مواد کی تحقیق و تنقیح کا کام تھا۔

1993ء میں راقم کی ان سے مکتبہ دارالسلام، الریاض (سعودی عرب) میں ملاقات ہوئی۔ جب راقم وہاں تفسیر 'احسن البیان'کی تالیف میں مصروف تھا، تو ان سے ان کے مذکورہ کام کی بابت پوچھا کہ وہ کس قسم کاکام ہے اور وہاں کام کی نوعیت کے اعتبار سے وہ مطمئن ہیں ؟ تو فرمایا کہ یہ ادارہ صرف علما کو نوازنے کے لئے بنایا گیا ہے۔ یوں گویا اُنہوں نے کام کی نوعیت کے اعتبار سے عدمِ اطمینان فرمایا۔ اس پر راقم نے ان سے عرض کیا کہ جب معاملہ ایسا ہے تو آپ جیسے باصلاحیت اَفراد کو ٹھوس علمی و تحقیقی کام کرنا چاہئے اور یہ واقعہ ہے کہ اللہ نے ان کو علم وتحقیق کی جو گہرائی و گیرائی اور اِنشاء و تحریر کا جو سلیقہ عطا فرمایا تھا، وہ علماے اہل حدیث میں بہت کم پایا جاتاہے، اس اعتبار سے وہ بلا شبہ یکتاے زمانہ اور اپنے اَقران و اماثل میں نہایت ممتاز تھے۔

لیکن غالباً مولانا کثیرالعیالی کی وجہ سے اس ادارے سے ہی وابستہ رہے۔ تاہم اس دوران میں دارالسلام سے بھی ایک گونہ تعلق اُنہوں نے قائم رکھا، اور دارالسلام کے بعض علمی و وقیع کاموں کی نگرانی و نظرثانی فرماتے رہے۔ راقم کی تفسیر 'احسن البیان' پر بھی انہی ایام میں اُنہوں نے نظرثانی فرما کر اپنی توثیق کی مہر اس پرثبت فرمائی تھی۔ راقم اپنی یہ مختصر تفسیر ... جو نہایت عجلت اور مختصر وقت میں تحریر کی گئی تھی... اپنے الریاض کے چار مہینے پر محیط قیام کے دوران سورۂ ہود تک لکھ پایا تھا اور بقیہ کام لاہور آکر اپنے گھر میں پورا کیا۔ یہ حصہ ان کی نظر سے گزر چکا تھا۔ راقم نے آنے سے قبل ان سے مشورةپوچھا کہ تفسیر کے اُسلوب کے بارے میں کچھ وضاحت فرما دیں تاکہ اس کی روشنی میں اس کو مزید بہتر بنایا جاسکے تو اُنہوں نے فرمایا کہ جس اختصار اور قلیل مدت میں آپ یہ کام کررہے ہیں ، اس کو دیکھتے ہوئے یہ بہت بہتر ہے، اس کی بابت مزیدمشوروں کی ضرورت نہیں ہے۔

مذکورہ ادارے سے فراغت کے بعد پھر وہ دارالسلام،الریاض سے وابستہ ہوگئے اور دارالسلام کی خواہش پر اُنہوں نے عربی میں صحیح مسلم کی شرح لکھی جو ''منة المُنعم'' کے نام سے چار جلدوں میں دارالسلام ہی کی طرف سے شائع ہوئی ہے۔ 'الرحیق المختوم'کی تالیف سے پہلے بلوغ المرام کی عربی زبان میں شرح بھیلکھ چکے تھے جو اتحاف الکرام شرح بلوغ المرام کے نام سے بھارت سے ہی شائع ہوئی، پھر دارالسلام نے اسے شائع کیا۔علاوہ ازیں دارالسلام ہی کے زیر اہتمام اس شرح کا اُردو ترجمہ بھی شائع ہوا۔

دارالسلام نے 'الرحیق المختوم' کا انگریزی ترجمہ بھی شائع کیا بلکہ مولانا مرحوم نے 'الرحیق المختوم' (عربی) کا ایک اختصار بھی عربی میں روضة الأنوار في سیرة النبي المختار کے نام سے کیا تھا۔ دارالسلام نے یہ عربی نسخہ بھی شائع کیا اور خود مولانا مرحوم ہی نے 'الرحیق المختوم' کی طرح اس کا اُردو ترجمہ بھی ' تجلیاتِ نبوت' کے نام سے کیا، دارالسلام نے اسے بھی نہایت دیدہ زیب انداز سے شائع کیاہے۔ ان کے علاوہ دارالسلام کی بہت سی کتابوں پر اُنہوں نے نظرثانی کا کام کیا۔ اللہ تعالیٰ ان کی ان تمام خدمات کو قبول فرمائے اور اس کی بہترین جزا اُنہیں اپنے پاس سے عطا فرمائے جہاں اب وہ پہنچ چکے ہیں ۔

چند سال قبل ان پر فالج کا حملہ ہوا تھا جس سے ان کی صحت خاصی متاثر ہوئی اور آپ تصنیف و تالیف کا کام کرنے کے قابل نہ رہے اور بظاہر ان کی صحت یابی کی اُمید بھی نظر نہیں آتی تھی۔ لیکن اللہ نے اپنا فضل فرمایا اور وہ قدرے صحت یاب ہوکر تھوڑا بہت کام کرنے لگے تھے، تاہم بیماری سے طبیعت میں جو نقاہت اور نڈھال پن پیدا ہوگیا تھا، اس کو دیکھتے ہوئے محسوس یہی ہوتا تھا ع دل کا جانا ٹھہرگیا ہے، صبح گیا یا شام گیا !!

بالآخر وہ وقت آہی گیا کہ علم و عمل کا یہ آفتاب سارے عالم میں اپنی تابانیاں بکھیرنے کے بعد بھارت کی سرزمین میں غروب ہوگیا۔ غفراﷲ لہ ورحمہ

واقعہ یہ ہے کہ ان کی وفات سے تدریس و افتا کی ایک عظیم مسند خالی ہوگئی ہے، علم و تحقیق کا ایک باب بند ہوگیا ہے، اَسلاف کی علمی و اخلاقی روایات کا حامل ایک حسین پیکر ہمیشہ کے لئے آنکھوں سے اوجھل ہوگیا ہے، حلم و تدبر کا ایک عظیم مرقع پیوند ِخاک ہوگیا اور پاک و ہند کی جماعت ِاہل حدیث اپنے گوہرشب چراغ سے محروم ہوگئی۔ بقول میرؔ وہ ایسے عظیم انسان تھے جس کی بابت اس نے کہا تھا :

مت سہل ہمیں جانو، پھرتا ہے فلک برسوں
تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں

یقینا وہ اپنے علمی کارناموں کی بدولت ہمیشہ زندہ رہیں گے :

ہرگز نہ میرد آنکہ دلش زندہ شد بعشق
ثبت است بر جریدۂ عالم دوام ما


مولانا مرحوم کی چنددیگر تصانیف
(1) شرح أزہار العرب(عربی): أزہار العرب علامہ محمد سورتی کاجمع کردہ نفیس عربی اشعار پرمشتمل ایک منتخب اور ممتاز مجموعہ ہے۔ یہ شرح 1963ء میں لکھی گئی مگر قدرے ناقص رہی او رطبع نہیں کرائی جاسکی۔
(2) المصابیح في مسئلة التراویح للسیوطي کا اُردو ترجمہ1963ء
(3) ترجمة الکلم الطیب لابن تیمیة 1966ئ
(4) ترجمة کتاب الأربعین للنووي 1969ء مع مختصر تعلیق
(5) صحف ِیہود و نصاریٰ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بشارتیں (اُردو) 1970ء
(6) تذکرہ شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب 1972ء ۔ یہ اصلاً محکمہ شرعیہ قطر کے قاضی شیخ احمد بن حجر کی عربی تالیف کا ترجمہ ہے لیکن اس میں کسی قدر ترمیم و اضافہ کیا گیا ہے۔
(7) تاریخ آلِ سعود (اُردو) 1972ئ۔ یہ کتاب تذکرہ شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمۃ اللہ علیہ کے پہلے ایڈیشن کے ساتھ شائع ہوچکی ہے۔
(8) اتحاف الکرام حاشیة بلوغ المرام لابن حجر عسقلاني رحمة اللہ علیه (عربی) 1974ء
(9) قادیانیت اپنے آئینہ میں (اُردو) 1976ء
(10) فتنۂ قادیانیت اور مولانا ثناء اللہ امرتسری رحمۃ اللہ علیہ (اُردو) 1976ء
(11) 'الرحیق المختوم' عربی اور اسی نام سے اُردو ترجمہ
(12) انکارِ حدیث کیوں ؟ (اُردو)1976ء
(13) انکارِ حدیث حق یا باطل؟ (اُردو ) 1977ء
(14) رزمِ حق و باطل (مناظرہ بجر ڈیسہ) کی رُوداد ،1978ء
(15) إبراز الحق والصواب في مسئلة السفور والحجاب(عربی)1978ء
ا س کتاب میں ڈاکٹر تقی الدین ہلالی مراکشی حفظہ اللہ کی رائے پر علمی محاکمہ کیا گیا ہے۔
(16) تطور الشعوب والدیانات في الهند ومجال الدعوة الإسلامیة فیها (عربی )
(17) الفرقة الناجیة والفرق الإسلامیة الأخریٰ (عربی 1982ئ)
(18) اسلام اور عدمِ تشدد 1984ء

مولانا صفی الرحمن مبارکپوری رحمۃ اللہ علیہ 21 برس قبل(29 نومبر تا 10 دسمبر 1985ئ) پاکستان میں تشریف لائے تھے۔ حافظ صلاح الدین یوسف ان دنوں ہفت روزہ 'الاعتصام' کے مدیر تھے۔ اس موقعہ پردار الدعوة السلفیہ میں مولانا مبارکپوری رحمۃ اللہ علیہ کے اعزاز میں ایک استقبالیہ دیا گیا جس میں دور دراز سے علماے کرام نے شرکت فرمائی۔ مولانا نے 'ہندوستان میں جماعت ِاہل حدیث کا ماضی ،حال اور مستقبل' کے عنوان سے جامع خطاب فرمایا اور حافظ صلاح الدین یوسف حفظہ اللہ نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا، بعد میں یہ خطبہ، مولانا علیم ناصری کے قلم سے دورہ کی مختصر روداد کے ہمراہ 'الاعتصام' کے 20؍دسمبر 1985ء کے شمارہ میں شائع ہوا۔ مزید برآں مولانا مرحوم کے سوانح حیات ان کی کتاب 'الرحیق المختوم' کے آغاز میں ملاحظہ کئے جاسکتے ہیں ۔ (ح م)

مولانا صفی الرحمن مبارکپوری ؛ تعارف اورخدمات
مبارک پور کاعلاقہ اہل علم میں معروف ہے کہ ہند کی یہ سرزمین بڑی مردم خیز رہی ہے۔ اور اب بھی ہے اور ہماری دُعا ہے کہ تاقیامت رہے۔بالخصوص جماعت اہل حدیث کے لئے مبارک پور کانام

زبان پہ بارِ خدایا یہ کس کانام آیا
کہ میرے نطق نے بوسے مری زبان کے لئے


کا مصداق ہے کیونکہ ہماری جماعت کے بہت سے اکابر کا تعلق اسی مبارک پور سے ہے۔مثلاً مولانا عبدالسلام مبارکپوری رحمہ اللہ مصنف 'سیرة البخاری' مولانا عبدالرحمن مبارکپوری رحمۃ اللہ علیہ مصنف 'تحفة الأحوذي شرح جامع ترمذي ' جس نے عرب و عجم کے علما سے خراج تحسین حاصل کیا۔ اس کے علاوہ ان کی متعدد اہم علمی و تحقیقی تالیفات ہیں جیسے 'تحقیق الکلام في وجوب قراءة الفاتحة خلف الإمام''... 'أبکار المنن في جواب آثار السنن' وغیرہ۔مولانا عبدالصمدمبارکپوری مرحوم جو مولانا صفی الرحمن مبارکپوری رحمۃ اللہ علیہ کے تایا تھے۔ ان کی ایک اہم کتاب 'تائید ِحدیث بجواب ِتنقید ِحدیث' ہے۔ جو مشہور منکر حدیث حافظ محمد اسلم جیراج پوری کے جواب میں ہے، یہ کتاب بالاقساط مولانا ثناء اللہ امرتسری رحمۃ اللہ علیہ کے ہفتہ وار پرچے 'اہل حدیث' امرتسر میں شائع ہوئی ہے۔ اسی طرح ایک اور کتاب 'شانِ حدیث' ہے جو حجیت ِحدیث پر ایک مفصل اور بڑی اہم کتاب ہے تاہم یہ ابھی غیر مطبوعہ ہے۔مولانا عبید اللہ رحمانی شیخ الحدیث حفظہ اللہ تعالیٰ جن کی 'مرعاة المفاتیح شرح مشکوٰة المصابیح' نے کم ترک الأولون للآخرینکے مقولے کو ایک حقیقت ثابت کردیا ہے۔

برصغیر پاک وہند میں اہل حدیث کی ماضی قریب کی یہ عظیم علمی شخصیات ہیں جو اہل حدیث کی تاریخ کا عظیم سرمایہ اور مایۂ صد فخر و ناز ہیں اور جن کے بارے میں ہم بجا طور پر کہہ سکتے ہیں

أولئك آبائي فجئني بمثلهم
إذا جمعتنا یا جریر المجامع


اسی آسمانِ علم و عمل کے ایک کوکب ِدرخشاں ، اسی سرزمین مبارک کے ایک ذرّہ تاباں اور اسی خانوادئہ علم وفضل کے ایک روشن چشم و چراغ مولاناصفی الرحمن مبارک پوری بھی تھے جن کو اسی مشہور سرزمین سے صرف خلقی نسبت ہی نہیں اور اس نامور خانوادہ علمی سے صرف نسبی تعلق ہی نہیں بلکہ واقعہ یہ ہے کہ وہ خود بھی اس سرزمین کی صفت ِمردم خیزی کاایک زندئہ جاوید ثبوت ہیں اور اپنے نامور خاندان کی علمی و دینی روایات کے حامل اور امین ہیں ۔کثر اﷲ أمثالھم!

اکثر اہل علم جانتے ہیں کہ آج سے چند سال قبل رابطہ عالم اسلامی (مکہ مکرمہ) کے زیراہتمام سیرت پر لکھی گئی کتابوں کا ایک عالمی مقابلہ ہوا۔ مولانا محترم مولانا صفی الرحمن مبارک پوری نے بھی اس مقابلے میں شرکت فرمائی اور عربی زبان میں 'الرحیق المختوم' کتاب تالیف کی اور سیرت کے عالمی مقابلے کے لئے سعودی عرب روانہ فرما دی۔ اس عالمی مقابلے میں ان کی یہ کتاب اوّل نمبر پر آئی اور اُنہیں حرمین شریفین بلاکر پہلا انعام عطا کیا گیا۔

این سعادت بزورِ بازو نیست
تا نہ بخشد خدائے بخشندہ


اس لحاظ سے مولانامحترم اُن باکمال ہستیوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے ایک عجمی ملک اور خالص عجمی ماحول میں رہتے ہوئے عربی زبان و ادب اور عربی انشا و تحریر میں یہ کمال پیدا کیا کہ عرب کے اہل علم و اہل قلم نے بھی اس کی داد دی اور اس کو نہ صرف سراہا بلکہ اسے سزاوارِ انعام قرار دیا۔ یہ کتاب پونے چھ سو صفحات پر مشتمل رابطہ عالم اسلامی کی طرف سے چھپ کر عام تقسیم ہورہی ہے۔ یہ بات مزید مسرت کا باعث ہے کہ مولاناے محترم نے اپنی اس سیرت کی کتاب کو اب اُردو کے قالب میں بھی ڈھال دیا ہے اور اسے مکتبہ سلفیہ، لاہور کو اشاعت کے لئے دے دیا ہے جسے اب یہ مکتبہ اپنے روایتی معیار اور حسن و خوبی کے ساتھ ان شاء اللہ شائع کرے گا۔

عربی انشا و تحریر کے ساتھ مولانا موصوف اُردو کے بھی ایک منجھے ہوئے ادیب اور صاحب قلم ہیں اور ماہنامہ 'محدث' بنارس کے مدیر ہیں جس میں ان کی فکر انگیز تحریریں شائع ہوتی رہتی ہیں ۔ قارئین 'الاعتصام' آپ سے بخوبی واقف ہیں کیونکہ متعدد مرتبہ ان کی نگارشات 'الاعتصام' کے صفحات میں شائع ہوچکی ہیں ۔

مولانا محترم کا ایک کامیاب مناظر بھی ہیں ۔ آج سے چند سال قبل قبر پرستی اور اس سے متعلقہ مشرکانہ اور مبتدعانہ اُمور پر مولانا موصوف کا ایک مناظرہ بنارس ہی کے ایک محلے' 'بجرڈیسہ' میں ہوا جس کا یہ اثر ہواکہ اس مناظرے میں شریک فریق ثانی کی ایک خاصی تعداد اہل حدیث ہوگئی اور یوں مولانا کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے ان کو شرک و بدعت کی تاریکیوں سے نکال کر توحید و سنت کی روشنی نصیب فرمائی۔ اس مناظرے کی رُوداد 'رزمِ حق وباطل' کے نام سے کتابی شکل میں چھپ گئی ہے اور عنقریب یہ کتاب پاکستان میں بھی شائع ہوگی۔

جامعہ سلفیہ بنارس، جماعت اہل حدیث ہند کی عظیم مرکزی درس گاہ ہے جس میں سینکڑوں طالب ِعلم زیر تعلیم ہیں ۔ اس کے علاوہ جامعہ کے زیراہتمام دو ماہنامے نکلتے ہیں ۔ ایک عربی میں جس کا نام مجلة الجامعة السلفیة ہے۔ دوسرا اُردو میں جس کا نام 'محدث' ہے۔ مزید برآں اُردو، عربی اور انگریزی تینوں زبانوں میں جامعہ کا شعبۂ تصنیف و تالیف کتابوں کی ترتیب و تصنیف اور اشاعت کا کام خاصے وسیع پیمانے پر اور بڑے وقیع انداز سے سرانجام دے رہا ہے اور درجنوں کتابیں اس کے اہتمام میں شائع ہوکر اہل علم سے خراجِ تحسین حاصل کرچکی ہیں ۔ اسی شعبے نے مولانا صفی الرحمن کے ساتھی، مولانا محمد مستقیم سلفی جو ان کے ساتھ پاکستان تشریف لائے ہوئے ہیں اور اس تقریب سعید میں وہ موجود ہیں ان کوعلمائے اہل حدیث کی تصنیفی خدمات کو مرتب کرنے کے کام پر لگایا ہے او رمولانا سلفی بڑی محنت و جانفشانی سے اس کام پر لگے ہوئے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کو توفیق دے کہ وہ اس کام کو بہ احسن طریق پایہ تکمیل تک پہنچا سکیں ۔

جامعہ سلفیہ بنارس کے تدریس امور اور مجلات مذکورہ کی نگرانی و ادارت اور اس کے اہتمام میں چھپنے والی تمام کتابوں کی نظرثانی وغیرہ ان تمام امور و معاملات میں مولاناصفی الرحمن مبارکپوری حفظہ اللہ ہمہ تن مصروف اور متوجہ رہتے ہیں اور ان کا بیشتر وقت انہی پر صرف ہوتا ہے۔بلکہ استفتاء ات و استفسارات کے لئے بھی مولانائے محترم کو وقت نکالنا پڑتا ہے۔ اس اعتبار سے مولانا موصوف کی شخصیت 

اے کہ مجموعۂ خوبی بہ چہ نامت خوانم

 کی مصداق ہے۔ وہ محدث وفقیہ بھی ہیں ، مصنف و صحافی بھی، خطیب و مناظر بھی ہیں اور ماہر منتظم بھی اور بین الاقوامی شہرت کے مالک بھی۔

ولیس علی اﷲ بمستنکر أن یمجع العالم في واحد

تالیفات
مولانا موصوف چونکہ ایک مدرّس اور شیخ الحدیث ہیں ۔ اس لئے زیادہ وقت تدریسی مصروفیات میں گذرتا ہے۔ علاوہ ازیں تبلیغ و دعوت اور فرق باطلہ سے مناظرہ وغیرہ میں بہت سا وقت صرف ہوجاتا ہے۔ او راب تقریباً تین سال سے ماہنامہ ''محدث'' بنارس کی مستقل ادارت بھی مولانا موصوف ہی کے ذمے ہے۔ لیکن اس کے باوجود متعدد کتابیں بھی تالیف کی ہیں ۔ جن کی مختصر تفصیل حسب ذیل ہے :
(1) شرح أزهار العرب (عربی) ازہار العرب علامہ محمد سورتی کاجمع کردہ نفیس عربی اشعار کا ایک منتخب اور ممتاز مجموعہ ہے۔ شرح 1963ء میں لکھی گئی۔ مگر قدرے ناقص رہی او رطبع نہیں کرائی جاسکی۔
(2) المصابیح في مسئلة التراویح للسیوطي، کا اردو ترجمہ، 1963ء چند بار طبع ہوچکا ہے۔
(3) ترجمة الکلم الطیب، لابن تیمیہ 1966ء غیر مطبوع۔
(4) ترجمہ کتاب الأربعین للنووي 1969ء مع مختصر تعلیق
(5) صحف یہود و نصاریٰ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بشارتیں ، (اردو) 1970ء غیر مطبوع۔
(6) تذکرہ شیخ الاسلام محمد بن عبدالوھاب، 1972ء تین بار طبع ہوچکی ہے۔
یہ اصلاً محکمہ شرعیہ قطر کے قاضی شیخ احمد بن حجر کی عربی تالیف کا ترجمہ ہے لیکن اس میں کسی قدر ترمیم و اضافہ کیا گیا ہے۔
(7) تاریخ آل سعود (اردو) 1972ء تذکرہ شیخ الاسلام محمد بن عبدالوھاب کے پہلے ایڈیشن کے ساتھ شائع ہوچکی ہے۔
(8) اتحاف الکرام تعلیق بلوغ المرام لابن حجر عسقلاني (عربی: 1974ء مطبوع۔
(9) قادیانیت اپنے آئینہ میں (اردو) 1976ء مطبوع۔
(10) فتنہ قادیانیت اور مولانا ثناء اللہ امرتسری (اردو) 1976ء مطبوع۔
(11) اردو ترجمہ ''الرحیق المختوم''مذکورہ کتاب رابطہ عالم اسلامی میں پیش کرنے کے لئے تالیف کی گئی۔
(12) انکار حدیث کیوں ؟ (اردو)1976ء مطبوع۔
(13) انکار حدیث حق یا باطل (اردو ) 1977ء مطبوع
(14) رزم حق و باطل (مناظرہ بجر ڈیسہ) کی رُوداد ،1978ء مطبوع۔
(15) (إبراز الحق والصواب في مسئلة السفور والحجاب) عربی1978ء ڈاکٹر تقی الدین ہلالی مراکشی حفظہ اللہ کی رائے پر تنقید۔
(16) تطور الشعوب والدیانات في الهند و مجال الدعوة الإسلامیة فیها (عربی 1979ء) چند قسطیں مجلہ الجامعة السلفیہ میں شائع ہوچکی ہیں ۔
(17) الفرقة الناجیة والفرق الإسلامیة الأخریٰ (عربی 1982ئ) غیر مطبوع۔
(18) اسلام اور عدم تشدد (اردو 1984ء)مطبوع۔ یہ مولانا موصوف کی اہم تقریر تھی جسے کتابی شکل میں شائع کردیا گیا ہے۔ اور اس کا ایک حصہ ''الاعتصام'' میں بھی
(7) تاریخ آل سعود (اردو) 1972ء تذکرہ شیخ الاسلام محمد بن عبدالوھاب کے پہلے ایڈیشن کے ساتھ شائع ہوچکی ہے۔
(8) اتحاف الکرام تعلیق بلوغ المرام لابن حجر عسقلانی (عربی: 1974ء مطبوع۔
(9) قادیانیت اپنے آئینہ میں (اردو) 1976ء مطبوع۔
(10) فتنہ قادیانیت اور مولانا ثناء اللہ امرتسری (اردو) 1976ء مطبوع۔
(11) اردو ترجمہ ''الرحیق المختوم''مذکورہ کتاب رابطہ عالم اسلامی میں پیش کرنے کے لئے تالیف کی گئی۔
(12) انکار حدیث کیوں ؟ (اردو)1976ء مطبوع۔
(13) انکار حدیث حق یا باطل (اردو ) 1977ء مطبوع
(14) رزم حق و باطل (مناظرہ بجر ڈیسہ) کی رُوداد ،1978ء مطبوع۔
(15) (إبراز الحق والصواب في مسئلة السفور والحجاب) عربی1978ء ڈاکٹر تقی الدین ہلالی مراکشی حفظہ اللہ کی رائے پر تنقید۔
(16) تطور الشعوب والدیانات في الهند و مجال الدعوة الإسلامیة فیہا (عربی 1979ئ) چند قسطیں مجلة الجامعة السلفیة میں شائع ہوچکی ہیں ۔
(17) الفرقة الناجیة والفرق الإسلامیة الأخریٰ (عربی 1982ئ) غیر مطبوع۔
(18) اسلام اور عدم تشدد (اردو 1984ئ)مطبوع۔ یہ مولانا موصوف کی اہم تقریر تھی جسے کتابی شکل میں شائع کردیا گیا ہے۔ اور اس کا ایک حصہ ''الاعتصام'' میں بھی شائع ہوچکا ہے۔

مولانا صفی الرحمن مبارکپوری صاحب کو حضرت الشیخ الفاضل مولانا محمد عطاء اللہ حنیف صاحب جو اس ادارے ... دارالدعوة السلفیہ... کے بانی اور نگران ہیں ، سے غایت درجہ غائبانہ عقیدت تھی اور حضرت الشیخ کی زیارت اور ان سے استفادے کے لئے سخت مضطرب اور بے قرار تھے، ان کا موجودہ پاکستانی دورہ دراصل حضرت الشیخ دام ظلہ سے بے انتہا محبت اور عقیدت ہی کا نتیجہ اور مظہر ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو جزائے خیر عطا فرمائے کہ انہوں نے حضرت الشیخ کی محبت میں ان کی زیارت کے لئے اتنا دور دراز کا پُرصعوبت سفر اختیار فرمایا۔ جس سے ان کو تو ان کامقصد حاصل ہوگیا لیکن ہم جیسے مشتاقان دید کو مفت میں مولانا صفی الرحمن مبارکپوری کی زیارت کا شرف حاصل ہوگیا۔ فلله الحمد والمنة۔

وہ آئیں گھر میں ہمارے خدا کی قدرت ہے
کبھی ہم ان کو کبھی اپنے گھر کو دیکھتے ہیں


......٭٭٭......