میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

نبی آخر الزمان سید المرسلین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اس دارِ فانی سے رحلت فرما جانے کے بعد اللہ کا وہ دین 'اسلام' اور عطا کردہ ضابطہ حیات پایۂ تکمیل کو پہنچ چکا ہے جو اس نے اپنے بندوں کے لئے پسند فرمایا۔ اس دین میں جو کمی بیشی اور اس طرزِ حیات میں جو تبدیلی ہونا تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتمام وکمال اسے جبریل امین ؑسے وصول کرکے اپنی اُمت تک پہنچا دیا، اور اس کے بعد اس دین میں ترمیم کرنے کا کسی کو کوئی اختیار باقی نہیں رہا۔جیسا کہ خطبہ حجتہ الوداع کے موقع پر نازل ہونے والی آیات میں تکمیل دین کا اعلان کردیا گیا ۔(المائدة: 3)

ایسے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس دنیا سے تشریف لے جانے پر سیدہ اُمّ ایمنؓ نے فرمایا تھا کہ
'' اب وحی لے کر آنے والے فرشتے جبریل ؑکی آمد منقطع ہوگئی۔'' 1

واضح رہنا چاہئے کہ اللہ کا دین 'اسلام' کسی حکمران کا محتاج نہیں کہ وہ اس کے نفاذ کا اعلان کرے، تب ہی وہ معاشرہ میں جاری وساری ہوگا بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلان فرما دینے کے بعد سے ہی اس دین کے احکامات جاری ہوچکے ہیں ۔ اورہر شخص اسلام کا کلمہ پڑھ لینے کے بعد اس امر کا اقرار کرتا ہے کہ وہ اپنے ربّ کے فرامین اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کے سامنے مطیع وفرمانبردار رہے گا۔ مسلمان اسی بنا پر نمازیں پڑھتے ہیں کہ ان کے ربّ نے اپنے رسولؐ کے ذریعے اُنہیں اس کا حکم دیا ہے، اگر یہ صوم وصلوٰة اور حج وزکوٰة کسی حکمران کے نفاذ کے محتاج ہوتے توآج دیگر کئی بناوٹی اَدیان کی طرح نعوذ باللہ اسلام کا بھی دنیا سے خاتمہ ہوچکا ہوتا جبکہ 'اسلام' نبی آخرالزمان صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے اُمت کو عنایت ہوا ہے اور محشر کا صور پھونکے جانے تک اسے اس دنیا میں باقی رہنا ہے۔

اللہ کے مطیع وفرمانبردار انسان کسی حکومت کے قانون مقرر کردینے سے قبل بھی نکاح وطلاق کے شرعی اُصولوں پر کاربند تھے۔ مسلم معاشرہ خنزیر کے گوشت استعمال کرنے یا اس کی خرید وفروخت کو حرام جاننے کے لئے کسی قانونی ضابطہ بندی کا محتاج نہیں رہا۔ جس طرح مسلمان 1979ء کے حدود آرڈیننس سے قبل بھی محض اللہ کے اَحکامات کی اتباع میں زنا کاری اور بدکاری سے اس لئے بچا کرتے تھے کہ اس فعل شنیع کو قرآنِ کریم میں حرام قراردیا گیا ہے اورفرمانِ نبویؐ کی رو سے اس مکروہ فعل پر اللہ تعالیٰ کو پوری کائنات میں سب سے زیادہ غیرت وغصہ آتا ہے، اسی طرح کسی حکومت کے زنا کو گوارا کرلینے اور اس کی سزائوں کو ختم کرنے یا اس میں تخفیف کردینے سے بھی ان احکام کی شرعی حیثیت میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔اور ہر مسلمان کو اپنے طورپر ان پر عمل کرنا ضروری ہے۔

اللہ کے عطا کردہ قوانین میں کوئی حاکم وقت یا پارلیمنٹ سرمو تبدیلی کرنے کی مجاز نہیں ۔ یہ تو محض کسی حاکم وقت کی سعادت ہے کہ اسے ان قوانین کی تعمیل کروانے کی توفیق مرحمت ہوجائے، اور یہ کسی کی شقاوت وبدبختی ہے کہ 'اسلام' کا دعویٰ کرنے کے باوجود اس کے نامہ اعمال میں اللہ کے قوانین کو بدلنے کی جسارت لکھی جائے۔ ایسے لوگوں کو روزِ محشر ربّ کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرنا چاہئے اور اُنہیں یاد رہنا چاہئے کہ ہرمسلمان کو آخرکار اپنے تمام اَعمال کے لئے ایک روز اللہ کے سامنے جوابدہ ہونا ہے۔ حکمرانوں کو اللہ کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان یاد رکھنا چاہئے کہ
''ایسی حکمرانی روزِ قیامت حسرت وندامت کا سبب ہوگی!'' 2

اسلامی احکام پر عمل کرنے کا جہاں ہر مسلمان پابند ہے، وہاں اسلام نے حکمرانوں کو بھی قوتِ نافذہ کے ذریعے اِنہیں مسلم معاشرے میں جاری وساری کرنے کا حکم دیا ہے۔ اگر وہ اس سے انحراف کریں تو ہر مسلمان کی یہ شرعی ذمہ داری ہے کہ وہ انہیں شریعت کے نفاذ پر مجبور کریں ۔

قرآن کی رو سے حکم واختیار کا سرچشمہ ذاتِ باری تعالیٰ ہے، اور اسی امر کو تسلیم کرکے ہم نے اسلام کا دم بھرا ہے، کسی حکمران کی ترمیم کا جواز بنانا تو کجا ، اسلام نے توکسی حکمران کی خلافِ اسلام اطاعت کو بھی سرے سے حرام قرار دے دیا ہے۔

مذکورہ بالا تمہید کا مقصداسلام اور حدوداللہ میں ان صریح ترامیم کے بارے میں شریعت اسلامیہ کا موقف اور اسلام کے تقاضوں کی نشاندہی کرنا ہے۔ ہمارے پیش نظر حدودترمیمی بل (نام نہاد حقوقِ نسواں بل) میں اللہ کے دین سے کھلم کھلا مذاق کیا گیا ہے اور اس میں تحریف کے علاوہ اس کو معطل کرنے کی جسارت بھی کی گئی ہے، راقم کے اسی شمارے میں شائع شدہ ایک مستقل مضمون کے علاوہ یہاں ایک اور پہلو سے اس تحریف کو پیش کیا جائے گا۔

اسلام میں مرد و زَن کو جوڑا بنانے کے لئے 'نکاح' جیسا مقدس بندھن موجودہے اور اس نکاح کے بعد دو مرد و عورت میں وہ تعلقات جائز ہوجاتے ہیں جو اس کے بغیر سنگین گناہ قرار پاتے ہیں ۔ جبکہ مغرب میں نکاح کا تصور تقریباً معدوم ہوچکا ہے۔ چنانچہ ہمارے ہاں جو حیثیت نکاح کو حاصل ہے، مغرب میں یہی حیثیت وقتی رضامندی کو عطا کردی گئی ہے۔

اس اِجمال کی تفصیل یہ ہے کہ یورپ میں اگر کوئی لڑکا لڑکی شادی سے قبل جنسی مواصلت پر وقتی طورپر راضی ہوں تو اسے 'زنا بالرضا' کہا جاتا ہے اور یہ فعل قانوناً جرائم کے زمرے میں نہیں آتا، اس پر کوئی سزا موجود نہیں ہے۔ جبکہ اسلام کی رو سے نکاح سے قبل کسی قسم کے جنسی تعلقات تو کجا، مرد وزَن کا خلوت میں بیٹھنا اور عشق معاشقہ رچانا ہی حرام ہے۔

دوسری طرف اسلام میں نکاح کے بعد میاں بیوی کے لئے جنسی تعلقات کو نہ صرف گوارا کیا گیا بلکہ ایک دوسرے کا حق قرار دیتے ہوئے اسے قابل ثواب فعل بھی بتایا گیا ہے۔ اسلام نے یوں تو شوہر کو بھی بیوی کے جنسی حقوق ادا کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے لیکن بیوی کو اس امر کی بالخصوص اجازت نہیں دی کہ وہ نکاح کے بعد اپنے شوہر کی مقاربت کی خواہش پوری نہ کرے جبکہ مغرب میں نکاح کو یہ حیثیت حاصل نہیں بلکہ وہی وقتی رضامندی والا فلسفہ، نکاح کے بعد بھی کارفرما ہے۔ چنانچہ اگر کوئی شوہر اپنی بیوی کی وقتی رضامندی کے بغیر اس سے جنسی مواصلت کرے تو اسے مغرب مںو اَزدواجی زنا بالجبرMarital Rapeسے تعبیر کیا جاتا ہے اور یہ بھی جرم قرار پاتا ہے۔ اسی لئے ہم یہ کہتے ہیں کہ اسلام میں جو حیثیت نکاح جیسے مقدس بندھن کو حاصل ہے، مغرب میں یہی حیثیت وقتی رضامندی کو دے دی گئی ہے جو شادی سے قبل حاصل ہوجائے تب بھی جنسی فعل معتبر اور جائز اور شادی کے بعد بھی کسی وقت حاصل نہ ہو تو وہ جنسی فعل 'زنا بالجبر' قرار پاتا ہے۔

مسلم معاشرہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے واضح فرامین کی بنا پر ایسا تصور ہی بڑا اجنبی اور مضحکہ خیز ہے۔ لیکن عرصۂ دراز سے مغرب میں حقوقِ نسواں کی علمبردار خواتین رضامندی کے بغیر جنسی تعلق کو جرم قرار دینے کا مطالبہ کررہی تھیں ۔ قاہرہ کانفرنس اور پھر بیجنگ کانفرنس وغیرہ میں یہ مطالبہ دہرایا جاتا رہا، چندماہ قبل قومی اخبارات میں ایک خاتون رکن قومی اسمبلی نے بھی اس مطالبے کے حق میں بیانات دیے جس پر خوب بیان بازی بھی ہوئی۔ لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ تحفظ حقوقِ نسواں بل کے ذریعے خواتین کو ملنے والے حقوق میں ایک یہ حق بھی شامل ہے جسے مغرب میں اَزدواجی زنا بالجبر سے تعبیر کیا جاتا ہے، اس طرح شریعت ِاسلامیہ سے کھیلا جارہا ہے!

یہ نکتہ اس موضوع پر جاری بحث میں اس لئے اُجاگر نہیں ہوسکا کہ کسی کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ مغرب زدہ این جی اوز اور پیپلز پارٹی کی تائید سے حکومت اس حد تک جاسکتی ہے۔ لیکن ذیل میں بیان کردہ تفصیلات سے یہ امر پایۂ ثبوت کو پہنچ جاتا ہے کہ نئے بل کی رو سے بیوی کی رضامندی کے بغیر ہونے والے جماع کو بھی جرم قرار دے دیا گیا ہے۔ اگر کوئی جج اس بنا پر کسی شوہر کوسزا دینا چاہے تو تحفظ ِخواتین بل نہ صرف یہ کہ اس سلسلے میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالتا بلکہ جج کو ایسے شوہر کو زنا بالجبر کا مجرم قرار دینے کے پورے اختیارات بھی دیتا ہے۔ یاد رہے کہ یہ بحث ان قوانین کے مصدقہ متن اور ماہرین شریعت و قانون سے مشاورت اور تصدیق کے بعد ہی احاطہ تحریر میں لائی جارہی ہے۔

زنا بالجبر کے سابقہ قانون اور ترمیم شدہ قانون میں ایک تقابل
حد زناآرڈیننس 1979ء میں دفعہ 6، زنا بالجبر کے تعریف اور دائرہ کار کے بارے میں تھی۔ اس دفعہ کا متن حسب ِذیل ہے :
''(1) ایک شخص زنا بالجبر کا ارتکاب کرے گا، اگر وہ کسی ایسے مرد یا کسی ایسی عورت سے مباشرت کرتا ہے جس کے ساتھ اس کا جائز نکاح نہیں ہے بشرطیکہ حالات مندرجہ ذیل ہوں :
(1) زیادتی کے شکار کی رضامندی کے خلاف
(2) زیادتی کے شکار کی رضامندی کے بغیر
(3) زیادتی کے شکار کی رضامندی سے، جب یہ رضامندی موت یا زخمی کرنے کا خوف دلا کر حاصل کی گئی ہو۔
(4) زیادتی کے شکار کی رضامندی سے جب کہ مجرم جانتا ہو کہ اس کا اس سے جائز نکاح نہیں ہے اور زیادتی کا شکار سمجھتا ہو کہ وہ وہی شخص ہے جس کے ساتھ اس کا جائز نکاح ہے۔''

اس دفعہ کو اس دعوے کی بنا پر حدود آرڈیننس سے نکالا گیا کہ زنا بالجبرکی سزا ایک تعزیری مسئلہ ہے، اس لئے اسے حدود آرڈیننس کی بجائے مجموعہ تعزیراتِ پاکستان میں ہونا چاہئے جبکہ اوّل تو یہ دعویٰ ہی درست نہیں کیونکہ زنا بالجبر کا ایک فریق اگر معصوم ہے تو دوسرا فریق (جبرکرنے والا) توبہر حال زنا بالرضا کا ہی مجرم ہے اور اس لحاظ سے اُس کا فعل زنا کے ہی دائرے میں آتا ہے۔ چنانچہ اسے زنا بالجبر قرار دے کر حدود اللہ سے ماورا قرار دینا درست نہیں ۔ ثانیاً:جب اسے 'تحفظ ِخواتین بل2006ئ' کے ذریعے مجموعہ تعزیراتِ پاکستان میں دفعہ نمبر 375 کے تحت داخل کیا گیا تو اس کے متن میں کئی سنگین ترامیم بھی شامل کردی گئیں جیسا کہ تحفظ ِخواتین بل میں اس جرم پر ترمیم شدہ دفعہ کا انگریزی واُردومتن ملاحظہ فرمائیں :
Rape: A man is said to commit rape who has sexual intercourse with a woman under circumstances falling under any of the five following descriptions:

ترمیم نمبر5: ''ریپ: کسی مرد کو Rape (زنا بالجبر) کا مرتکب کہا جائے گا جو کسی عورت کے ساتھ مندرجہ ذیل پانچ حالات میں سے کسی صورت میں مباشرت کرے:
(1) عورت کی مرضی کے خلاف a against her will.
(2) عورت کی رضامندی کے بغیر b without her consent
(3) عورت کی رضامندی سے، جب یہ رضا موت یا زخمی کرنے کا خوف دلا کر حاصل کی جائے۔
(4) عورت کی رضامندی سے جب کہ مجرم جانتا ہو کہ اس کا اس سے جائز نکاح نہیں ہے اور زیادتی کا شکار سمجھتا ہو کہ وہ وہی شخص ہے جس کے ساتھ اس کا جائز نکاح ہے۔
(5) عورت کی رضامندی سے یا اس کے بغیر، جب کہ وہ سولہ سال سے کم عمر کی ہو۔''

اب سابقہ اور ترمیم شدہ قانون کا ایک تقابلی جائزہ ملاحظہ فرمائیں اور ساتھ ہی یہ بھی فیصلہ کریں کہ سابقہ قانون بہتر تھا یا نیا قانون؟ اور کن مذموم مقاصد کیلئے یہ ترمیم عمل میں آئی ہے:
(1) حدود آرڈیننس میں اس فعل کا مجرم 'ایک شخص' ہے جو مرد بھی ہوسکتا ہے اور عورت بھی۔ گویا بعض حالات میں مرد کو بھی فعل زنا پر مجبور کیا جاسکتا ہے اور عورت زیادتی کرنے والی بھی ہوسکتی ہے گو کہ یہ امرقدرے نادر ہے لیکن ایسا ہونا خارج ازامکان نہیں جیسا کہ قرآنِ کریم میں حضرت یوسف ؑاورزوجہ عزیز ِمصر کا مشہور قصہ بھی موجود ہے۔ جبکہ ترمیم شدہ قانون میں کسی مرد (A man) کے خط کشیدہ الفاظ کے ذریعے اس سزا کو محض مردوں کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے۔ ایسے ہی صورت نمبرایک اور دو میں سابقہ قانون میں 'زیادتی کے شکار' لکھ کر ہردو جنس کے لئے عام لفظ لایا گیا تھا، جبکہ نئے قانون میں اسے صرف عورت کے حوالے سے تذکرہ کرکے اس قانون کا فائدہ محض عورت کو دیا گیا ہے۔گویا'صنفی امتیاز'کے دعوے سے لائی جانے والی ترمیم اب خود دوسرے صنفی امتیاز کو قانونی بنیاد فراہم کررہی ہے۔ یہ صنفی امتیاز نہ صرف زمینی حقائق کے خلاف ہے بلکہ آئین پاکستان کے آرٹیکلنمبر25 کی واضح خلاف ورزی پر بھی مبنی ہے جس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ اَب بدکردار عورتیں اگر مردوں کو بدکاری پرمجبور کردیں تواُنہیں کسی بھی سزا سے مستثنیٰ قرار دے دیا جائے گا۔
(2) دونوں ترامیم کے خط کشیدہ الفاظ ملاحظہ فرمائیے۔ سابقہ قانون کی دوسری سطر میں یہ شرط موجود ہے کہ ''جس کے ساتھ اس کا جائز نکاح نہیں ہے۔ '' اب نئے قانون میں یہ شرط حذف کردی گئی ہے۔ ایسے ہی پہلی اور دوسری صورتوں میں ذکر کردہ 'عورت' کا لفظ بھی عام ہے جو بیوی کو بھی شامل ہے۔ اس شرط کے حذف اور بعض الفاظ میں ترمیم کا واضح مقصد یہ ہے کہ اُس شوہر کو بھی زنا بالجبر کا مرتکب قراردیاجاسکے جو اپنی بیوی کی رضامندی کے بغیر اس سے جنسی مواصلت کا 'مرتکب' ہوتا ہے۔عین ممکن ہے کہ کوئی اسلام پسند جج اس سے یہ مفہوم اَخذ نہ کرے لیکن قانون بنانیوالوں کے عزائم اس حذف و ترمیم سے پوری طرح آشکارا ہو جاتے ہیں وگرنہ 'جائز نکاح کی شرط' کو حذف کرنے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ ایسے ہی کوئی جج اگر اس قانون سے کسی شوہر کو زنا بالجبر کی سزا دینا چاہے تو قانون اس کو پوری گنجائش بھی فراہم کرتا ہے۔

یوں بھی یہ دفعہ اگر حدود آرڈیننس میں موجود ہوتی جہاں زنا کی تعریف وغیرہ موجود ہے تو وہاں اسے شریعت کے مخصوص تناظر میں محدود کرلیناممکن ہوتا، جبکہ اس دفعہ کو مجموعہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ نمبر375 کے تحت شامل کیا گیا ہے، جہاں اس کے لئے کوئی خاص پس منظر یا حد بندی موجود نہیں ۔ اس اعتبار سے اس ترمیم میں کھلم کھلا اسلامی شریعت سے انحراف کیا گیا ہے، شریعت ِاسلامیہ کا موقف اس بارے میں بڑاواضح ہے ، ایک فرمانِ نبویؐ ملاحظہ فرمائیں :
إذا دعا الرجل امرأته إلی فراشه فأبت فباتَ غضبان علیها لعنتها الملائکة حتی تصبح 3
''جب کوئی شوہر اپنی بیوی کو اپنے بستر پر بلائے اور وہ انکار کردے اور شوہر اس سے ناراضی کی حالت میں رات بسرکرے تو فرشتے ایسی بیوی پر صبح ہونے تک لعنتیں بھیجتے رہتے ہیں۔''
(3) دونوں قوانین کے متن ایک بار پھر ملاحظہ کریں ، حد زنا آرڈیننس والے قانون میں زنا بالجبر کی چار صورتیں رکھی گئی ہیں ، اس کے بعد دیگر تفصیلات شروع ہوجاتی ہیں جبکہ ترمیم شدہ قانون میں اس کی پانچویں صورت بھی پیش کی گئی ہے جو سابقہ قانون پر ایک اضافہ ہے۔ اس اضافی صورت کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ 16 برس تک کی ہر لڑکی کا ہر جنسی فعل زنابالجبر قرار پائے گا یعنی وہ لڑکی اس کی سزا سے مستثنیٰ ہوگی۔ یہاں بھی صنفی امتیاز برتا جارہا ہے کہ مجموعہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ نمبر83 کی رو سے 7 تا 12 برس کا لڑکا فوجداری جرائم کی سزا سے مستثنیٰ ہے،جبکہ اس ترمیم کے بعد 14 سال کا لڑکا تو جنسی فعل کی سزا پائے گا لیکن لڑکی اس کی سزا سے مستثنیٰ ہوگی۔ یوں بھی فعل زنا کو دیگر جرائم سے کونسا امتیاز حاصل ہے کہ اس کے لئے سزا کی عمر میں اضافہ کردیا جائے؟ واضح بات ہے کہ اس سے جرم کے فروغ کی راہ ہموار کی جارہی ہے!

اس شق کا نتیجہ یہ بھی نکلے گاکہ کوئی مرد اپنی بیوی کے بالغ ہوجانے کے بعد، 16 برس سے قبل اس سے جماع کرتا ہے تو وہ بھی زنا بالجبر کی سزا کا مرتکب ہوگا۔ دوسری طرف یہ امر شک وشبہ سے بالا ہے کہ لڑکیاں 16 برس سے پہلے ہی بالغ ہوجاتی ہیں ، اور اسلام کی رو سے بلوغت کے بعد نہ صرف یہ کہ وہ جرم پر گرفت سے محفوظ نہیں بلکہ شادی کے بعد ان سے جماع بھی کیا جاسکتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ صدیقہؓ سے جب نکاح کیا تو اُمّ المومنین کی عمر 9برس تھی جیسا کہ صحیح بخاری میں موجود ہے :
عن عائشة ... فأسلمني إلیه وأنا یومئذ بنت تسع سنین 4
''عورتوں نے بنائو سنگھار کرکے مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رخصت کردیا اور میں 9 برس کی تھی۔''

ان مذکورہ بالا تین ترامیم سے بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے کہ
 زنا بالجبر کا سابقہ قانون زیادہ بہتر تھا یا 'تحفظ ِخواتین بل' کے بعد نیا قانون ؟
ہر شخص یہ بھی جان سکتا ہے کہ کیا یہ تینوں اقدامات اسلام کے مطابق ہیں یا خلاف؟
کیا صرف معاملہ اتنا ہی ہے کہ حدود آرڈیننس سے قانون کو نکال کر تعزیرات پاکستان میں ڈالا گیا ہے یا اس کے دیگر مقاصد بھی ہیں ۔

زنا بالجبر کی سزا
زنا بالجبر کے حوالے سے حدود آرڈیننس کے جس نکتہ کو سب سے اعتراض کا نشانہ بنایا گیا وہ یہ تھا کہ کوئی عورت اگر چار گواہ پیش نہ کرسکے تو خود اس زیادتی کی شکار عورت کو سزا کا نشانہ بننا پڑتا ہے۔ جبکہ اس اعتراض کی حیثیت یکطرفہ پروپیگنڈے سے زیادہ نہیں ہے کیونکہ اوّل تو حد زنا آرڈیننس میں زنا کی جو تعریف کی گئی ہے، اس کی رو سے زنا بالجبر کی شکار عورت زنا کی تعریف اور جرم سے ہی خارج ہے، حدزنا آرڈیننس کی دفعہ 4 میں زنا کی تعریف ملاحظہ ہو:
''زنا: ایک مرد اور ایک عورت جو جائز طور پر آپس میں شادی شدہ نہیں ہیں ، زنا کے مرتکب ہوں گے، اگر وہ بلاجبر واکراہ ایک دوسرے کے ساتھ مباشرت کرتے ہیں ۔''

اس تعریف کے خط کشیدہ الفاظ سے ہی یہ پتہ چلتا ہے کہ جو مرد یا عورت جبراً زنا کا شکار ہوئے ہیں ، ان کے فعل کو قانوناً 'زنا' قرار نہیں دیا جاسکتاکجا یہ کہ اُنہیں زنا کی سزا دی جائے۔

ثانیاً: حد زنا آرڈیننس میں زنا بالجبر کی دفعہ اُسی وقت لاگو ہوتی تھی جب چارگواہ یا اعتراف موجود نہ ہو، جیسا کہ اُس قانون کی دفعہ نمبر 10 کی پہلی شق میں یہ الفاظ موجود ہیں کہ
''ثبوت کی وہ [شرعی] صورتیں جو دفعہ نمبر 8 میں دی گئی ہیں ، موجود نہ ہوں ...''

تب زنا بالجبرکی سزا جاری کی جائے گی۔گویا زنا بالجبر میں محض اکیلی گواہی یا واقعاتی شہادتیں بھی کافی تھیں ، جیسا کہ بعد ازاں کراچی ہائیکورٹ اور وفاقی شرعی عدالت کے کئی ایک فیصلوں میں اس نکتہ کومزید نکھار کربیان بھی کردیا گیا۔تفصیل کے لئے 'محدث' کا شمارہ اگست دیکھیں ۔

اورسب سے بڑھ کر یہ کہ حدزنا آرڈیننس کی 27 سالہ تاریخ میں ایک واقعہ بھی ایسا موجود نہیں جس میں زنا بالجبر کی چار گواہیاں پوری نہ کرنے کی بنا پر عورت کو خود سزا سے دوچار ہونا پڑا ہو جیسا کہ جسٹس مولانا تقی عثمانی اپنی تقاریر اور کتب ومقالات میں کئی بار اس کا اظہار کرچکے ہیں ۔

یہ توتھا حد زنا آرڈیننس کا قانون، اب ملاحظہ کریں نیا قانون... کہ آیا اس کی سزا میں عورت کو رعایت دی گئی ہے یا پہلے سے بھی زیادہ مشکل میں ڈال دیا گیا ہے؟

سابقہ قانون کی رو سے پولیس زنا بالجبر کے وقوعہ کو رپورٹ کرتی اور اس کے متعلق تفتیشی مراحل انجام دیتی۔ اب نئے قانون کی رو سے زنا بالجبر کی شکار عورت کے لئے یہ لازمی قرار دیا گیا ہے کہ وہ سیشن کورٹ میں دو گواہوں کو لے کر جائے،اور وہاں ان کی گواہی کی بنا پر مجرمان کو سزا دلوائے۔ پاکستانی معاشرے کی صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے زنا بالجبر کی شکار عورت کے لئے حصولِ انصاف کا یہ ڈھنگ بالکل نرالابلکہ ناممکن ہے، کیونکہ اوّل تو ایسی زیادتی کی شکار عورت اپنی دادرسی کے لئے عدالتوں کے دھکے نہیں کھاسکتی، اس کے لئے تو وقوعہ کے بعد صبح ہونے کا انتظار کرنا اور 100 میل دور سیشن عدالت میں دفتری اوقات میں پہنچناہی کم سوہانِ روح نہیں ، اور جب سیشن کورٹ اس کی درخواست کو قبول کرلے تو ایک دن گزر جانے کے بعد کئی واقعاتی شواہد بھی میسر نہیں رہتے۔ پھرجو مجرم زنا بالجبر کا ارتکاب کرتے ہیں ، ان کے لئے راستے میں ایسے دو گواہوں کو ڈرانا دھمکانا یا انہیں گواہی سے ہی منحرف کردینا قطعاً مشکل نہیں ۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ موجودہ قانون میں زنا بالجبر کی صورت میں عورتوں کے تحفظ کی بجائے اُنہیں مزید مشکلات میں ڈال دیا گیا ہے۔

آخری بات: پھر یہ بات بھی غور طلب ہے کہ حدود قوانین میں ترامیم کے بل کو تحفظ حقوقِ نسواں بل کیونکر قرار دیا جاسکتا ہے۔ یہ بل دراصل زنا کو فروغ دینے اور بدکاری کو عام کرنے کابل ہے۔ اور یہ امر بالکل واضح ہے کہ زنا کا فعل اکیلا شخص نہیں کرتا، بلکہ فریقین اس میں ملوث ہوتے ہیں ، اس اعتبار سے یہ نہ صرف زانیہ بلکہ زانی ہردو کے تحفظ کا بل قرار پاتا ہے۔پھر اسے صرف 'تحفظ حقوقِ نسواں بل' کیوں قرار دیا جاسکتا ہے؟

البتہ اگر صنفی حقائق پر نظر رکھی جائے اور زنا کے بعد کے اثرات کو بھی نظر انداز نہ کیا جائے تو یہ خالصتاً بربادیٔ نسواں کا بل قرارپاتا ہے۔ کیونکہ اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ زنامیں زیادہ نقصان مردوں کی بجائے صنف ِنازک کے حصے میں آتا ہے۔ اگر لڑکی کنواری ہو تو اس صورت میں عورت کے لئے اس نقصان کی تلافی ممکن ہی نہیں اور حاملہ ہونے کی صورت میں بھی زنا کے تمامتر نتائج عورت کو ہی بھگتنے پڑتے ہیں ۔ مرد کئی بار بھی زنا کا ارتکاب کرے تو ا س پر اس کا کوئی اثر و نتیجہ ظاہر نہیں ہوتا۔اگر عورت کے ساتھ شوہر موجود نہ ہو تو بچے کے حمل اور پرورش کی ذمہ داری اکیلی ماں کو برداشت کرنا پڑتی ہے، مامتا کے فطری جذبے کے تحت بہت سی مائیں اپنے بچوں کو نظر انداز کرنے پر بھی قادر نہیں ہوتیں ۔ اس اعتبار سے فعل زنا کی ترویج کا آخر کار نقصان طبقہ نسواں کو زیادہ ہے۔ اگر اس بل کو معاشرے کے مجموعی تناظر میں لیا جائے تویہ اسے خواتین کی بے حرمتی کا بل قرار دیا جاسکتا ہے!

حوالہ جات
1. سنن ابن ماجہ:1635
2. سنن کبریٰ از نسائی: 5928
3. صحیح بخاری: 3237
4. حدیث نمبر3894