امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ کی تصانیف
امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ کو چونکہ حدیث اور علوم حدیث کے علاوہ تاریخ، فقہ اور تفسیر وغیرہ پر بھی کافی دسترس حاصل تھی لہٰذا اُنہوں نے مختلف موضوعات پر قلم اُٹھایا اور بہت سی علمی کتب تصنیف کیں جن میں سے چند معروف کتب یہ ہیں :
(1) کتاب الجامع، جو سنن ترمذی کے نام سے مشہور ہے۔
(2) الشمائل النبویةجو شمائل ترمذی کے نام سے مشہور ہے اور یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے متعلق احادیث میں ایک بہترین تصنیف ہے جیسا کہ عبد الحق محدث دہلوی نے أشعة اللمعات میں اس کی تعریف فرمائی ہے۔
(3) کتاب العلل اس موضوع پر آپ کی دو کتابیں ہیں: 1۔کتاب العلل الصغیر اور 2۔کتاب العلل الکبیر جس میں امام ترمذی نے زیادہ تر اپنے استاذ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ سے استفادہ کیا ہے۔
(4) کتاب الزھد
(5)کتاب التاریخ
(6) الأسماء والکنٰی
(7)کتاب التفسیر
(8)کتاب الجرح والتعدیل

امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ کی وفات
امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ کا انتقال مشہور روایت کے مطابق 13 رجب 279ھ میں 2 شنبہ کی شب کو خاص ترمذشہر میں ستر سال کی عمر میں ہوا۔ لیکن ابن خلکان رحمۃ اللہ علیہ نے سمعانی رحمۃ اللہ علیہ کے حوالہ سے لکھا ہے
'' امام ترمذی بوغ بستی میں 279ھ میں فوت ہوئے جو کہ ترمذ سے چھ فرسخ (اٹھارہ میل ) کے فاصلے پرواقع ہے۔

جامع ترمذی کے فضائل و محاسن
حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ تذکرة الحفاظ میں ابو علی منصور بن عبد اللہ خالدی کے حوالے سے نقل کرتے ہیں کہ امام ابوعیسیٰ ترمذی کا کہنا ہے کہ
'' میں نے اس کتاب کو تصنیف کرنے کے بعد علماے حجاز پر پیش کیا تو وہ اس پربہت خوش ہوئے۔ پھر میں نے اسے علماے عراق پر پیش کیا تو اُنہوں نے بھی اسے پسند فرمایا۔اس کے بعدمیں نے اس کتاب کو علماے خراسان پر پیش کیا تو انہوں نے بھی اس کوپسند کیا ۔جس شخص کے گھر میں یہ کتاب ہے گویا کہ اس گھر میں پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وسلم گفتگو فرما رہے ہیں۔ ''

حافظ ابن اثیر رحمۃ اللہ علیہ جامع الأصول میں فرماتے ہیں :
''امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب بہت سے علمی فوائد کی حامل، عمدہ ترتیب سے مزین اور بہت کم تکرار والی حدیث کی ایک بہترین کتاب ہے جس میں علما کے اقوال، طریقہ ہائے استدلال اور حدیث پر صحیح،ضعیف اور غریب ہونے کا حکم لگانے کے علاوہ جرح وتعدیل کا بیان اس قدر کثرت سے پایا جاتا ہے جو حدیث کی کسی اور کتاب میں نہیں ملتا۔''

صاحب تحفة الأحوذي شیخ الاسلام ابواسماعیل الہروی کے حوالہ سے رقم طراز ہیں کہ
''امام ابوعیسیٰ ترمذی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب ہمارے نزدیک، بخاری و مسلم کی کتاب سے زیادہ مفید ہے کیونکہ بخاری اور مسلم کی کتابوں سے تو صرف ایک ماہر عالم ہی مستفید ہو سکتا ہے جبکہ ابوعیسیٰ کی کتاب سے فقہا اور محدثین کے علاوہ عام آدمی بھی استفادہ کرسکتاہے،کیونکہ اس میں بیان کردہ احادیث کی امام صاحب نے خود ہی شرح اور وضاحت کر دی ہے۔''

مزید لکھتے ہیں کہ فتح الدین ابن سید الناس (م 724ھ) شرح ترمذی کے مقدمہ میں حافظ یوسف بن احمد سے نقل کرتے ہیں :
''امام ابوعیسیٰ ترمذی کی کتاب ان پانچ کتابوں میں شامل ہے جن کی قبولیت اوراصول کی صحت پر علما، فقہا اور اکابر محدثین میںسے اہل حل و عقد اور اربابِ فضل و دانش نے اتفاق کیا ہے۔''

اورشیخ ابراہیم بیجوری المواھب اللدنیّةمیں طلبا حدیث کو مشورہ دیتے ہوئے فرماتے ہیں :
''ہر طالب حدیث کو امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ کی جامع صحیح کامطالعہ کرنا چاہئے ،کیونکہ یہ کتاب حدیث و فقہ کے علمی فوائد اور سلف و خلف کے مذاہب کا ایک ایسا جامع مرقع ہے ،جو مجتہد کی ضرورت کو پورا کر دیتا اور مقلد کوبے نیاز کردیتا ہے۔ ''

شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ رقم طراز ہیں کہ
''میرے نزدیک وسعت ِعلم،بہت مفید تصنیفات اور زیادہ شہرت حاصل کرنے کے اعتبار سے چار محدث ہیں جو آپس میں تقریباً تقریباً ہم عصر ہیں۔ ان کے نام نامی اسماء گرامی ابو عبد اللہ محمد بن اسمٰعیل بخاری،مسلم بن حجاج نیشا پوری،ابوداودسجستانی،اورابوعیسیٰ محمد بن عیسیٰ ترمذی ہیں۔''

علامہ شاہ عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ بستان المحدثین میں فرماتے ہیں:
'' ترمذی کی کل تصانیف بہت زیادہ ہیں، ان میں سے سب سے بہترین تصنیف ان کی جامع ہے بلکہ متعدد وجوہ کی بنا پر تمام کتب ِحدیث سے زیادہ مفید اور بہترہے اور وہ وجوہ درج ذیل ہیں:
(1)حسن ترتیب اورعدمِ تکرار
(2) فقہا کے مذاہب اور ہر ایک مذہب کے استدلال کی وجوہ کا تذکرہ
(3) حدیث کی انواع یعنی صحیح، حسن، ضعیف، غریب اورمعلل کا بیان
(4) رواة کے اسما، القاب اور ان کی کنیّتوں کا بیان اور علم أسماء الرجال کے متعلق دیگر فوائد کاتذکرہ

امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی جامع میں امام ابوداود سجستانی رحمۃ اللہ علیہ اور امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے طریقوں کو جمع کیا ہے ۔ایک طرف آپ نے احادیث ِاحکام میں سے صر ف ان احادیث کو لیا ہے جن پر فقہا کا عمل رہا ہے تو دوسری طرف اپنی کتاب کو صرف احکام کے لئے مختص نہیں کیا ،بلکہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کی طرح سیر، آداب، تفسیر، عقائد ، فتن، احکام، شرائط اور مناقب سب ابواب کی احادیث کو لے کر اپنی کتاب کو جامع بنا دیا ہے اور پھر اس پر مستزاد یہ کہ علومِ حدیث کی مختلف انواع کو اس میں اس طرح سمودیا ہے کہ وہ علم حدیث کا مرجع بن گئی ہے۔

اسی طرح ابوجعفر بن زبیر (م 758ھ) برنامج میں صحاحِ ستہ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
''امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ کو علم حدیث کے مختلف فنون کو جمع کرنے کے لحاظ سے جو امتیاز حاصل ہے اس میں کوئی دوسرا ان کا شریک نہیں۔''

جامع ترمذی رحمۃ اللہ علیہ چودہ علوم پر مشتمل ہے
امام سیوطی قوت المغتذي میں رقم طراز ہیں کہ
حافظ ابوعبداللہ محمد بن عمر بن رشید (م722ھ)نے کہا ہے کہ میری تحقیق کے مطابق جامع ترمذی کا اجمالی طور پر درج ذیل سات علوم پر مشتمل ہونا واضح ہے :
(1)تبویب یعنی احادیث کو ابواب کے تحت ترتیب دینا
(2)علم فقہ کا بیان
(3)علل حدیث کا تذکرہ جو صحیح،ضعیف اور ان کے درمیانی مراتب حدیث پر مشتمل ہے
(4)راویوں کے نام اور کنیتوں کا بیان
(5)رجال واسانید پرجرح اورتعدیل کا ذکر
(6)جن رواة سے حدیث نقل کی ہے، ان کے متعلق یہ وضاحت بھی کر دی ہے کہ ان میں سے کس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوپایا ہے اور کس نے نہیں اور ان کا ذکر بھی کیا ہے جن سے مسند روایت کرتے ہیں۔
(7)ایک حدیث کے مختلف راویان کا شمار

اس بیان کے بعد حافظ موصوف لکھتے ہیں کہ یہ تو ا س کتاب کے علوم کا اجمالی خاکہ ہے باقی رہے تفصیلی علوم تووہ بہت زیادہ ہیں ۔ حافظ ابن سید الناس فرماتے ہیں کہ وہ علوم جو امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب میںموجود ہیں لیکن ابن رشید نے ان کا ذکر نہیں کیا ،درج ذیل ہیں:
(8)شذوذ کا بیان
(9) موقوف کابیان
(10)مدرج کا بیان


قاضی ابوبکر ابن العربی (م547ھ)نے عارضة الأحوذي میں درج ذیل چار علوم کا مزید اضافہ کیا ہے:
(11)مسند،موصول اور مقطوع حدیث کا بیان
(12)متروک العمل اور معمول بہ روایات کی وضاحت
(13)احادیث کے ردوقبول کے بارے میں علماء کے اختلاف کا بیان
(14)حدیث کی توجیہ و تاویل کے سلسلہ میں علماء کے اختلاف و آرا کا ذکر

جامع ترمذی رحمۃ اللہ علیہ کی شرائط
حافظ ابو الفضل بن طاہر اپنی کتاب شروط الأئمة میں فرماتے ہیں کہ
''جامع ترمذی کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب میںچار شرائط کو ملحوظ رکھا ہے جودرج ذیل ہیں:
(1) امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب میںوہ روایات بیان کی ہیں جو قطعی طور پر صحیح ہیں اور بخاری ومسلم کی شرائط کے مطابق ہیںاور ان میں بعض روایات ایسی بھی ہیں جو صحیحین میں ہیں۔
(2) امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے ایسی روایات بھی ذکر کی ہیں جو امام ابوداود اور نسائی کی شرائط کے مطابق صحیح ہیں۔یعنی اُنہیں ایسے راویوں سے روایت کیا ہے جن کے متروک ہونے پرمحدثین کا اتفاق نہیں ہے۔ جب وہ متصل سند سے صحیح ثابت ہو گئیں اور ان میں کوئی مقطوع اور مرسل بھی نہیں تھی تو یہ بھی ان کے نزدیک صحیح کی قسم سے ہیں، لیکن یہ صحیح کی وہ قسم نہ ہوگی جسے بخاری اور مسلم نے اپنی صحیح میں بیان کیاہے بلکہ یہ صحیح کی اس قسم سے ہیں جن کو بخاری اورمسلم نے چھوڑ دیا ہے،کیونکہ بخاری اورمسلم نے بہت سی ایسی صحیح حدیثیں چھوڑ بھی دی ہیں جو اُن کو یاد تھیں۔
(3) بعض اوقات ایسی احادیث جن کی صحت یقینی نہیں ہوتی، صرف اس بنیاد پر ذکر کردیتے ہیں کہ بعض علما نے ان کو اپنی کتب میں بیان کر کے ان سے استدلال کیا ہوتا ہے۔امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ ایسی احادیث بیان کرنے کے بعد ان کی اس کمزوری کی وضاحت کردیتے ہیں جو محدثین نے بیان کی ہوتی ہے تاکہ شبہ ختم ہوجائے اور وہ اس قسم کی روایات اس وقت ذکر کرتے ہیںجب اُنہیں ان روایات کا کوئی اور طریق نہیں ملتا،کیونکہ ان کے نزدیک حدیث بہرحال علما کی رائے اور قیاس سے زیادہ قوی ہے۔
(4) امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب میں ہر وہ حدیث جس سے کسی محدث یا عالم نے استدلال کیا ہو یا اس پر عمل کیا ہوبیان کردیتے ہیں خواہ اس کی سند صحیح ہو یا ضعیف،لیکن اس کی صحت و ضعف کو بیان کرکے اپنی ذمہ داری سے عہدہ برا ہو جاتے ہیں۔لیکن موضوع اور واہی روایات سے اجتناب کرتے ہیں، کیونکہ ائمہ کرام ان سے استدلال نہیں کرتے ۔

جامع ترمذی کا صحاحِ ستہ میں مقام
کشف الظنون میں ہے کہ'' امام ابوعیسیٰ محمد بن عیسیٰ ترمذی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب 'جامع صحیح' صحاح ستہ میں تیسرے نمبر پرہے یعنی اس کا رتبہ صحیحین کے بعد ہے۔''

البتہ امام سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب تدریب الراوي میں امام ذہبی رحمۃ اللہ علیہ کایہ قول نقل کیا ہے :
''انحطت رتبة جامع الترمذي عن سنن أبی داود والنسائي لإخراجه حدیث المصلوب والکلبي وأمثالھا''
''جامع ترمذی رحمۃ اللہ علیہ کا رتبہ سنن ابی داؤد اور سنن نسائی رحمۃ اللہ علیہ سے کم ہے، کیونکہ امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے محمد بن سعید مصلوب اور محمد بن سائب کلبی وغیرہ کی احادیث بیان کی ہیں۔''

صاحب تحفہ الاحوذی ،علامہ مبارکپوری فرماتے ہیں کہ
تهذیب التهذیب،تقریب التهذیب،خلاصة تهذیب تهذیب الکمال اورتذکرة الحفاظ کے رموز سے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ جامع ترمذی رتبہ کے لحاظ سے سنن ابو داود کے بعد اور سنن نسائی سے پہلے ہے کیونکہ ان کتابوں کے مصنّفین سنن ابی داؤد ،جامع ترمذی اور سنن نسائی کی طرف اشارہ کرنے کے لئے اپنے کتابوں میں (دت س) لکھتے ہیں۔ 'د ' سے مراد سنن ابی داؤد، ' ت ' سے مراد جامع ترمذی اور ' س ' سے مراد سنن نسائی لیتے ہیں۔ اسی طرح جامع صغیر میں امام سیوطی رحمۃ اللہ علیہ کے رموز بھی اسی پر دلالت کرتے ہیں اور مناوی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کی شرح فیض القدیر میں کہا ہے کہ مؤلف کے اس فعل سے معلوم ہوتا ہے کہ
'' جامع ترمذی رتبہ میں ابوداود اور نسائی کے درمیان ہے ۔''

لیکن میرے نزدیک ظاہر اور راجح قول صاحب کشف الظنون کاہے کہ جامع ترمذی صحاحِ ستہ میں تیسرے نمبر پر ہے کیونکہ اگرچہ امام ترمذی نے مصلوب اور کلبی وغیرہ کی حدیثیں بیان کی ہیں لیکن ان کے ضعف کو بیان کر کے اس طرف اشارہ کر دیا ہے کہ یہ حدیثیں ان کے نزدیک شواہد اور متابعات کے باب سے ہیں۔ اس بات کی تائید میں حافظ حازمی رحمۃ اللہ علیہ شروط الائمة میں فرماتے ہیں کہ ترمذی کی شرط ابوداؤد کی شرط سے زیادہ اَبلغ ہے کیونکہ جب کوئی حدیث ضعیف ہوتی ہے یا وہ چوتھے طبقے کے راویوں سے منقول ہوتی ہے تو امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ اس کے ضعف کو بیان کرکے اس پر تنبیہ کردیتے ہیں۔ایسی حدیث ان کے نزدیک شواہد کے باب سے ہوتی ہے جب کہ ان کا اصل اعتماد اسی حدیث پرہوتا ہے جو راویوں کی ایک جماعت سے صحیح منقول ہوتی ہے۔علاوہ ازیں جامع ترمذی، سنن ابو داود اور نسائی سے زیادہ نافع اور فوائد میں زیادہ جامع ہےاسلئے راجح بات و ہی ہے جو صاحب کشف الظنون نے کہی ہے۔

جامع ترمذی کی شروحات
شروحات کے اعتبار سے صحیح بخاری کے بعد جامع ترمذی کی اہمیت وافادیت کے پیش نظر علما اور محدثین نے اس کو اپنی توجہ کا مرکز ٹھہرایا اور اس کی متعدد شروحات اور حواشی لکھے۔ چند مشہور و متداول شروحات و حواشی مندرجہ ذیل ہیں:
(1) المنقح الشذي في شرح الترمذي از حافظ ابوالفتح محمد بن محمدبن سید الناس الشافعی (م534ھ)۔ موصوف اپنے وقت کے ائمہ حدیث میں شمار ہوتے ہیں۔
کشف الظنون میں ہے کہ آپ جامع کی شرح مکمل نہیں کر سکے۔ ابھی کتاب کے دو ثلث تک بھی نہیں پہنچے تھے کہ شرح دس جلدوں تک پہنچ گئی آپ اگر صرف فن حدیث پر اکتفا کرتے تو شرح مکمل ہو جاتی۔ پھر بعد میں حافظ زین الدین عبد الرحیم عراقی نے اس شرح کی تکمیل کی لیکن حافظ سیوطی لکھتے ہیں کہ حافظ عراقی بھی اس کی تکمیل نہیں کر سکے۔i
(2) عارضة الأحوذي،از حافظ ابوبکر ابن العربی مالکي (م546ھ)موصوف نے حدیث، فقہ،اُصول،علوم قرآن،ادب،نحواور تاریخ میں کتب تصنیف کیں اور اپنے دور کے مجتہد تھے۔
(3) مختصر الجامع ازنجم الدین سلیمان بن عبدالقوی طوفی حنبلی (م710ھ)
(4) مختصر الجامع،ازنجم الدین محمد بن عقیل بالسی شافعی (م729ھ)
(5) شرح الترمذي،از شیخ زین الدین عبدالرحمن بن شہاب الدین احمد بن حسن بن رجب بغدادی حنبلی (م 795ھ)آپ اُصولی ،محدث،فقیہ،مشہور واعظ اور علوم کے امام تھے اور بہت سی کتب بھی تصنیف کیں۔
(6) شرح الزوائد،ازحافظ ابن ملقن عمر بن علی بن احمد بن محمد بن عبداللہ السراج أنصارأ أندلسي مصري شافعي(م 804ھ) موصوف حافظ عراقی کے معاصرین میں سے ہیں جنہوں نے بکثرت شروح اور علومِ حدیث میں کتابیں لکھی ہیں۔
(7) العرف الشذي علی جامع الترمذي،ازحافظ عمر بن رسلان البلقینی الشافعي(م805ھ) ــموصوف بھی ابن ملقن اور حافظ عراقی کے ہم عصر علوم حدیث اور کثرتِ تصنیف میں مشہور تھے۔
(8) شرح الترمذي،از حافظ زین الدین عبدالرحیم بن حسین بن عبدالرحیم بن ابی بکر بن ابراہیم عراقی شافعی (م806ھ)جوابن سید الناس کی شرح کا تکملہ ہے، لیکن بقول سیوطی موصوف بھی اس شرح کو مکمل نہیں کر سکے۔آپ لغت،نحو،قراءات،حدیث،فقہ اور اُصول کے ماہر تھے، لیکن علم حدیث میں زیادہ شہرت پائی۔
(9) اللب اللباب فیما یقول الترمذي وفي الباب جو حافظ ابن حجر عسقلانی (م852ھ) کی تصنیف ِلطیف ہے۔
(10) قوت المغتذي،از علامہ جلال الدین سیوطی (م911ھ) جو فن حدیث میں ید طولی رکھتے تھے۔ علاوہ ازیں تفسیر،فقہ،نحو،معانی،بیان اور بدیع کے بھی ماہر تھے۔
(11) شرح الترمذي، از علامہ محمدطاہر (صاحب مجمع البحار) (م986ھ)
(12) شرح الترمذي ،از ابوطیب سندھی (م 1109ھ)
(13) شرح الترمذي از ابوالحسن محمد بن عبدالہادی سندھی مدنی حنفی (م1139ھ) جو تقریباً چالیس جلدوں پر مشتمل ہے ۔
(14) شرح الترمذي،از علامہ سراج احمد سرہندی (شرح فارسی)
(15) نفع قوت المغتذي یہ علامہ سید علی بن سلیمان مالکی شاذلی (م 1298ھ) کی تالیف ہے۔
(16) جائزة الشعوذي یہ علامہ بدیع الزمان(م1310ھ) کی تالیف ہے۔
(17) ہدیة الآموذعي بنکات الترمذي یہ علامہ ابو طیب محمد شمس الحق ڈیانوی عظیم آبادی کی تصنیف ہے۔
(18) الکوکب الدري یہ مولانا رشید احمد گنگوھی (م1323ھ) کی ہے جس میں صرف اختلافی مسائل پر بحث ہے۔
(19) التقریر للترمذي یہ شیخ مولانا محمود حسن دیوبندی (م 1339ھ)کی تصنیف ہے ۔
(20) العرف الشذي یہ علامہ سید محمد انور شاہ کشمیری حنفی(1352ھ) کی تصنیف ہے۔
(21) تحفةالأحوذي عظیم شرح علامہ محمد عبد الرحمن محدث مبارکپوری کی ہے (م1353ھ)
(22) التعلیقات علی الترمذي یہ شیخ احمد شاکر کی تصنیف ہے۔جس میں خاص طور پر جامع ترمذی کے متن کی تصحیح کا التزام کیا گیا ہے،لیکن افسوس کہ وہ مکمل نہ کر سکے اگرچہ باقی ماندہ پر شیخ فواد عبد الباقی نے کام شروع کیا،لیکن اُنہوں نے زیادہ تر احادیث کی تخریج پر اکتفا کیا اور متن کی تصحیح کاوہ التزام نہ کر سکے جو احمد شاکر نے کیا تھا، بعد میں اس کام کو شیخ ابراہیم عطوہ اُستاذ جامعہ ازہر نے پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔(صحاحِ ستہ اور ان کے مؤلفین)
(23) معارف السنن،ازمحمد یوسف بنوری حنفی ،مقیم کراچی
(24) رشّ السحابیہ ایک معاصر مؤلف مولانا فیض الرحمن ثوری مد ظلہ العالی کی وفي البابکی احادیث کی تخریج ہے۔
(25) نزول الثوريیة مدرسہ دار الہدی پٹنہ کے پرنسپل مولانا اصغر حسین نے حنفی نقطہ نظر سے طلبا کے استفادہ کے لیے ترمذی کی احادیث کے متعلق مختلف قسم کے سولات اور ان کے جوابات لکھے ہیں۔
(26) جائزة الأحوذي علی سنن الترمذي یہ محترم حافظ ثناء اللہ مدنی حفظہ اللہ شیخ الحدیث جامعہ لاہور الاسلامیہ کی تالیف ہے اور اس کی ایک جلد طبع ہو چکی ہے۔

'جامع 'میں امام ترمذی کی بعض عادات اور اُسلوب ِبیان
جامع ترمذی کا مقام گو صحیح بخاری ومسلم کے بعد ہے، تاہم اس میں بعض ایسے فوائد موجودہیں جن سے دیگر جملہ کتب ِحدیث یکسر خالی ہیں۔ چنانچہ صاحب تحفة الأحوذي فرماتے ہیں کہ '' امام ترمذی کے جامع میں چند اُسلوب اور عادات درج ذیل ہیں :

(1) آپ اس باب کا عنوان قائم کرتے ہیں جس میں کسی صحابی سے ایسی مشہور حدیث وارد ہوئی ہو جس کی سند اس صحابی تک صحیح ہو اور وہ کتب ِصحاح میں بھی بیان کی گئی ہوپھر اس باب میںوہی حکم کسی دوسرے صحابی کی حدیث سے بیان کرتے ہیں اور وہ حدیث اس صحابی سے کتب ِصحاح میں موجود نہیں ہوتی اور اس حدیث کی سند بھی ما قبل حدیث کی سند سے مختلف ہوتی ہے مگر اس کا حکم صحیح ہوتا ہے۔ پھر اس کے بعد امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ وفي الباب عن فلان وفلان کہہ کر صحابہ کی ایک جماعت کے نام ذکر کرتے ہیں جن سے اس معنی کی روایات وارد ہوتی ہیں اور ان میں اس صحابی کا نام بھی بیان کردیتے ہیں جس کی حدیث سے باب کا حکم اخذ کیا گیا ہوتا ہے اور وہ باب کی اصل حدیث کے بعد بیان کی گئی ہوتی ہے۔اس طریق کار سے امام ترمذی کے پیش نظر مندرجہ ذیل مقاصد ہوتے ہیں :
1۔ علما اس غیرمشہور حدیث پر مطلع ہوجائیں۔
2۔ حدیث کی سند میں موجود علت کا اظہار کرنا مقصود ہوتا ہے۔
3۔ اس حدیث میں الفاظ کی کمی وبیشی کا بیان مقصود ہوتا ہے۔

(2) امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ پہلے باب کا عنوان قائم کرتے ہیں پھر اسکے تحت ایک یا ایک سے زائد احادیث بیان کرتے ہیں۔اگر کسی میں کوئی کلام ہو تواس کی وضاحت کر دیتے ہیں۔اس کے بعد وفي الباب عن فلان وفلانسے اس کے متعدد طرق کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

امام سیوطی رحمۃ اللہ علیہ تدریب الراوی میں فرماتے ہیں:
'' امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ کی اس سے مراد باب میں مذکورہ متعین حدیث نہیں ہوتی بلکہ دیگر وہ احادیث مراد ہوتی ہیں جن کا اس باب میں ذکرکرنا مناسب ہوتا ہے۔''

امام عراقی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ یہی بات صحیح ہے، اگرچہ بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ جن صحابہ کے نام بیان کرتے ہیں وہ بعینہٖ اس حدیث کوبیان کرنے والے ہوتے ہیں جسے امام صاحب نے بابکے تحت بیان کیا ہوتا ہے حالانکہ بات ایسے نہیں ہے بلکہ کبھی ایسے ہوتا ہے اور کبھی امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ کی مراد کوئی اور حدیث ہوتی ہے جسے اس باب میں بیان کرنا مناسب ہوتا ہے۔

(3) عموماً امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ وفي الباب عن فلان وفلان کہتے ہیں یعنی صحابہ کے نام ذکر کرتے ہیں لیکن کبھی کبھی عن فلان عن أبیہ کہہ دیتے ہیں یعنی صحابی کے بیٹے کا نام ذکر کرتے ہیں جو اپنے باپ سے راویت کر رہا ہوتا ہے، مثال کے طور پر امام ترمذی باب لاتقبل صلوٰة بغیر طہورمیں فرماتے ہیں: وفي الباب عن أبي الملیح عن أبیه ان کا یہ فعل مندرجہ ذیل وجوہات کی بنا پر ہوتا ہے:
1۔ اس سے یہ بتانا مقصود ہوتا ہے کہ بعض صحابہ ایسے بھی ہیں جن سے صرف ان کابیٹا ہی روایت کرتاہے، بیٹے کے سوا کسی اور کی روایت ان سے ثابت نہیں جیسا کہ أبوالملیح ہے۔ ان کے والد کانام أسامة بن عمیر ہذلي بصري ہے۔
2۔صحابی کے نام میں اختلاف کی وجہ سے اس کے بیٹے کا ذکر کردیتے ہیں۔
3۔صحابی کے والد کے نام یا نسب وغیرہ میں اختلاف کی وجہ سے بیٹے کا نام لیتے ہیں۔
4۔صحابی کا نام صرف ان کے بیٹے کے نام سے مشہور ہوتا ہے۔

(4) امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ کی عام عادت یہ ہے کہ وہ جب کسی باب میں کسی صحابی سے باب کی اصل مشہورحدیث بیان کرتے ہیں تواپنے اس قول وفي الباب کے بعد اسی صحابی کا نام نہیں دہراتے، مثال کے طور پر جب کسی باب میں حضرت ابوہریرہؓ سے کوئی حدیث بیان کرتے ہیں تو اس کے بعد یہ نہیں کہتے: وفي الباب عن أبي ہریرة

(5) بعض اوقات امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ باب کا عنوان قائم کرتے ہیں۔ پھرباب کی حدیث بیان کرنے کے بعد کہتے ہیں: وفي الباب عن فلان یعنی صحابی کا نام ذکر کرتے ہیں۔ پھر اسی صحابی سے وہ حدیث بیان کرتے ہیں جس کی طرف اُنہوں نے اپنے اس قول ''وفي الباب عن فلان''کے ساتھ اشارہ کیا ہوتا ہے۔ ان کے اس فعل سے ظاہر یہ ہوتا ہے کہ اس مشار الیہ صحابی کی حدیث سے ان کی مراد وہ حدیث ہوتی ہے جسے وہ بعد میں ذکر کر دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر وہ باب زکاة البقرمیں ابن مسعودؓ کی مرفوع حدیث في ثلاثین من البقر تبیع بیان کرنے کے بعد فرماتے ہیں وفی الباب عن معاذ بن جبل ؓپھر ان سے یہ حدیث بیان کرتے ہیں کہ اُنہوں نے کہا: بعثني النبي إلی الیمن فأمر ني أن آخذ من کل ثلاثین بقرة تبیعا ii


حوالہ جات
1. مقدمة تحفة الأحوذي:ص٢٧١
2. تذکرة الحفاظ ٦٣٤٢،کشف الظنون ٥٥٩١
3. جامع الأصول١٢٩١
4. مقدمة تحفة،ص ٢٨١،٢٨٢
5. حجة اﷲ البالغة،١٥١
6. بستان المحدثین،ص ١٨٥
7. مقدمة تحفة،ص ٢٨١،٢٨٢
8. مقدمة عارضة الأحوذي،ص ٥،٦
9. صفحہ ١٦
10. کشف الظنون: ٥٥٩١
11. تدریب الراوی: ١٧١١
12. مقدمہ تحفة،ص ٢٨٨
13. شروط الأئمة الخمسة،ص ٤٩
14. مقدمة تحفة الأحوذي،ص ٢٩٢۔٣٠٤
15. صحاح ستہ اور ان کے مؤلفین،ص ١٥٠،١٥١

i.مقدمہ تحفة الأحوذي: ص293
ii.مقدمہ تحفة :ص305،307