آسمان وزمین کی تخلیق کے دن ؟ معراج کی رات قلم کی آواز؟دانتوں کی صفائی کے بارے میں چند سوالات



نماز میں سر ڈھانکنا ؟
سوال:رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کاسر ڈھانکنے کے سلسلہ میں کیامعمول تھا؟کیا آپؐ ہمیشہ ننگے سر نماز پڑھتے تھے یا سر ڈھانک کر؟ان ہر دو اعمال میں سے کون سا عمل سنت ِنبویؐ کے زیادہ قریب ہے یااجر و ثواب کے لحاظ سے کون سا عمل دوسرے سے بڑھ کر ہے؟ (ماسٹر لال خان )
جواب : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و عمل سے دونوں طرح نماز پڑھنا ثابت ہے :
أن النبي ﷺ صلی في ثوب واحد قد خالف بین طرفیه
''نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہی کپڑا اوڑھ کر نماز پڑھی جس کے پڑھنے کی صورت یہ تھی کہ کپڑے کے دونوں سرے اُلٹے کرکے دوسرے کندھے پر ڈال لیے۔'' 1

اس سے صاف ظاہر ہے کہ سر ننگا تھا۔ نیزبلوغ المرام باب شروط الصلاة میں ارشادِ نبویؐ ہے کہ جب کپڑا فراخ ہو تو اوڑھ لے، یعنی صحیح بخاری اورصحیح مسلم کی روایت میں اوڑھنے کا طریقہ بتایا ہے کہ کپڑے کی دونوں طرفین خلاف طور پر کرے۔2 یہ قولی حدیث کی مثال ہے ،جبکہ پہلی حدیث کا تعلق عمل سے ہے۔ اس بارے میں وارد تمام احادیث کی روشنی میں یہی نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ سرڈھانک کر یا ننگے سر نماز پڑھنے کاجواز ہے، کسی ایک جانب کو ترجیح دینا بلا دلیل ہے، تاہم شریعت میں عورت کے لئے سرڈھانکنا ضروری قرا ردیا گیا ہے۔ ننگے سر اس کی نماز نہیں ہوتی۔ چنانچہ صحیح حدیث میں ہے:

أن النبيﷺ قال لا یقبل اﷲ صلاة حائض إلا بخمار 3
''اللہ تعالیٰ بالغہ عورت کی نماز بلااوڑھنی کے قبول نہیں کرتا۔''

اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ مرد کے لئے نماز میں سرڈھانکنا ضروری نہیں، اس کو دونوں طرح اختیار ہے۔ لہٰذا دونوں صورتوں میں اجر و ثواب برابر ہے، تفریق کی کوئی وجہ نہیں۔

نماز میں مقتدی کی قراء ت رہ جائے تو...
سوال: ایک شخص نے ظہر کی نماز کے لئے تکبیر کہی۔ نماز پڑھنے کے بعد جب امام نے سلام پھیرا تو یہی شخص پانچویں رکعت کے لئے کھڑا ہوگیا۔ پوچھنے پراس نے بتایا کہ میری پہلی رکعت میں سورة الفاتحہ رہ گئی تھی، اس لئے میں وہ رکعت پڑھنے کے لئے کھڑا ہوا تھا۔سوال طلب امر یہ ہے کہ کیا تکبیر کہنے والے کا پانچویں رکعت کے لئے کھڑا ہونا درست ہے؟
جواب :ایسے تساہل پر رکعت لوٹانے کی ضرورت نہیں جس کی دلیل یہ حدیث ہے کہ ایک دفعہ حضرت عمرؓ مغرب کی پہلی رکعت میں قراء ت کرنا بھول گئے اور دوسری رکعت میں سورة فاتحہ دو دفعہ پڑھ بیٹھے۔ نماز سے فراغت کے بعد انہوں نے سجودِ سہو کیے ۔

ایک اور موقع پر وہ کلی طور پر مغرب کی نماز میں قرا ء ت کرنا بھول گئے تو نماز دوبارہ پڑھائی اور ساتھ یہ فرمایا کہ لا صلاة لیست فیھا قراء ة 4''وہ نماز ہی نہیں جس میں قراء ت نہیں۔'' حضرت عمرؓ کے دونوں واقعات سے معلوم ہوا کہ بالکل قراء ت نہ کرنے کی صورت میں تو نماز دوبارہ پڑھنا ہوگی، البتہ کچھ کمی کی صورت میں دوبارہ پڑھنے کی ضرورت نہیں۔ صرف سجودِ سہو پراکتفا ہوسکتا ہے،لیکن مقتدی ہونے کی صورت میں میرے خیال میںاس کی بھی ضرورت نہیں۔ واللہ أعلم بالصواب

بلند آواز سے آمین کہنا؟
سوال:کیا کسی صحیح حدیث میں آتا ہے کہ صحابہ کرامؓ پیغمبر اسلام کے پیچھے اونچی آواز میں آمین کہتے تھے ؟
جواب:ہاں احادیث سے ثابت ہے کہ صحابہ کرامؓ آپؐ کی اقتدا میں آمین بآوازِ بلند پکارتے تھے۔ صحیح بخاری میں ہے کہ ''عبداللہ بن زبیرؓ اور ان کے مقتدی اتنی بلند آواز سے آمین کہاکرتے تھے کہ مسجد گونج اُٹھتی تھی۔''5

ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

إذا أمّن الإمام فأمّنوا
''جب امام آمین کہے تو تم بھی آمین کہو۔'' 6

اور صحیح بخاری کی ہی ایک دوسری روایت کے الفاظ یوں ہیں:
إذا أمن القاري فأمّنوا

''جب قاری آمین کہے تو تم بھی آمین کہو۔'' 7

ظاہر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم امام تھے اور صحابہ ؓ مقتدی تھے، سب اکٹھے آمین پکارتے تھے۔

معراج پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کو نسا قلم چلتا ہوا سنائی دیا؟
سوال:صحیح بخاری میں آتا ہے کہ جب پیغمبر اسلامؐ معراج پر گئے تو وہاں اُنہوں نے قلم چلنے کی آواز سنی تویہ کونسا قلم چل رہا تھا پھر اللہ کے رسولؐ کو اس کی کیسے آواز سنائی دی؟
جواب: اس سے مراد وہ فیصلہ جات ہیں جو فرشتے رقم کررہے تھے۔فتح الباری میں ہے: والمراد ما تکتبه الملائکة من أقضیة اﷲ سبحانہ وتعالی(8) اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو قلم چلنے کی آواز سنائی سو آپ نے سن لی۔{نَّ ٱللَّـهَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ وَأَنَّ ٱللَّـهَ قَدْ أَحَاطَ بِكُلِّ شَىْءٍ عِلْمًۢا ﴿١٢﴾...سورة الطلاق} ''تاکہ تم جان لو کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے اور یہ کہ اللہ ہر چیز کو اپنے علم سے احاطہ کئے ہوئے ہے۔''

آسمان وزمین کی تخلیق میں چھ دن کونسے مراد ہیں؟
سوال: اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے کہ ہم نے عرش اور زمین کو چھ دن میں بنایا تو چھ دن سے کیا مراد ہے ؟
جواب: چھ دنوں میں اختلاف ہے، ایک قول میں اس سے دنیا کے دن مراد ہیں،جبکہ دوسرے قول میں آخرت کے دن مقصود ہیں، مجاہد کا قول یہی ہے۔9
قیل ھذہ الأیام من أیام الدنیا وقیل من أیام الآخرة 10

حقیقت ِحال اللہ بہتر جانتا ہے، لیکن بظاہر اس سے دنیاوی دن مراد ہونے چاہئیں،کیونکہ قرآن کریم عربوں کے فہم کے مطابق نازل ہوا ہے۔

زیب وزینت کے بعض حرام طریقے
سوال: صحیح بخاری میں عبداللہ بن مسعودؓ کی حدیث ہے کہ
''آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے چوٹلہ لگانے اور لگوانے والی، گودنے اور گدوانے والی عورت پر لعنت کی ہے کیونکہ اللہ نے چوٹلہ لگانے اور لگوانے والیوں پر، گودنے اور گدوانے والیوں پر،چہرے کے بال نکالنے والیوں پر اور حسن کیلئے دانتوں کو کشادہ کرانے والیوں پر لعنت کی جو اللہ کی خلقت کو بدلتی ہیں اور مجھے کیا ہے جو میں ان پر لعنت نہ کروں جن پر اللہ تعالیٰ کے رسول ؐنے لعنت کی اور قرآن میں اس کی دلیل یہ ہے:{وَمَا آتٰکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہٗ} '' 11
تو بتائیے کہ چوٹلے، بال گودنے، گدوانے،چہرے کے بال نکالنے اور حسن کے لئے دانت کشادہ کرنے سے کیا مراد ہے؟
جواب: دانت کشادہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ سامنے ملے ہوئے دانتوں کو ریتی وغیرہ سے رگڑ کر کشادگی پیدا کرکے خوبصورت بنانا تاکہ بڑی عمر کی عورت چھوٹی نظر آئے۔ ایسا کرنا حرام ہے اور گودنے اور گدوانے سے مراد یہ ہے کہچہرے، ہونٹوں یا ہاتھوں وغیرہ میں سوئی لگائی جائے یہاں تک کہ خون بہہ جائے پھر اس کو چونے یا سرمہ وغیرہ سے بھر دیا جائے۔ اس طرح خون رکنے سے یہ جگہ نجس ہوجاتی ہے، ممکنہ حد تک اس کا ازالہ ضروری ہے، اگرچہ زخم لگا کر ہی اس کو کیوں نہ زائل کیا جائے، الا یہ کہ عضو کے تلف یا بیکار ہونے کا ڈر ہو، ایسی صورت میں گناہ کے ازالہ کے لئے توبہ کافی ہے۔ یاد رہے کہ یہ حکم مرد اور عورت دونوں کے لئے یکساں ہے۔ اور چہرے سے بال نکالنے کا مطلب یہ ہے کہ کسی آلہ کے ذریعے چہرے سے بال اُکھیڑے جائیں،یہ بھی منع ہے۔ بعض اہل علم کا خیال ہے کہ یہ حکم پلکوں کے بالوں کے ساتھ خا ص ہے، ان کو اوپر یا برابر کرنا اصل خلقت میں تبدیلی ہے، اس لئے منع ہے۔ بالوں میں بال ملانا چاہے اپنے ہوں یا کسی اور عورت کے یا مصنوعی اورکسی دوسرے سے ملانے کا تقاضا کرنا سب حرام ہیں۔ آج کل عورتوں میں یہ برے فیشن عام ہیں جبکہ نبی کریمؐ نے ایسا کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے۔ اللہ ربّ العزت توبہ کرنے کی توفیق بخشے۔ آمین!

دانتوں کی صفائی پر چند سوالات
سوال: دانت، منہ اور مسوڑھوں کی صفائی مسواک کی بجائے ٹوتھ برش سے کرنا اور اس مقصد کے لئے ٹوتھ پیسٹ کا استعمال شرعی لحاظ سے کیسا ہے؟ کیااس عمل سے ثواب حاصل ہوگا؟ کیا ٹوتھ برش مسواک کا نعم البدل ہوسکتا ہے اور سنت پر عمل ہوجائے گا؟
جواب:اہل علم کی اصطلاح میں مسواک کا اطلاق ہر اس آلے پر ہوتا ہے جس سے دانتوں کی صفائی ہو، چاہے لکڑی ہو یا ٹوتھ برش وغیرہ۔بوقت ِضرورت صفائی اُنگلی سے بھی ہوسکتی ہے۔(12) غرضیکہ اس کے لیے کوئی آلہ مخصوص نہیں۔ ٹوتھ پیسٹ کے استعمال کا کوئی حرج نہیں بشرطیکہ اجزا میں کوئی حرام شے شامل نہ ہو۔ اگر اس فعل کو ثواب کی نیت سے کرتا ہے تو یقینا اجروثواب ملے گا اور سنت پر عمل بھی ہوجائے گا۔

سوال:روزے کی حالت میں پیسٹ (Paste) کے ساتھ دانت برش کرنا کیسا ہے؟ بعض علما کہتے ہیں کہ روزے دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کو بہت پیاری ہے (پسند ہے) تو کیا روزے کی حالت میں مسواک ؍برش کا استعمال ترک کردینا چاہئے؟
جواب:روزے کی حالت میں پیسٹ کے ساتھ دانت برش کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ امام شوکانی نے نیل الاوطار (1؍22) میں ان لوگوں کی تردید کی ہے جو بحالت ِروزہ مسواک کے قائل نہیں۔ فرماتے ہیں:
فإن السواك نوع من التطھر المشروع لأجل الرب سبحانه لأن مخاطبة العظماء مع طهارة الأفواہ تعظیم لا شك فیه ولأجله شرع السواك ولیس في الخلوف تعظیم ولا إجلال
''مسواک اﷲ کی رضا کی خاطر طہارت و پاکیزگی کی مسنون نوع ہے، کیونکہ بڑوں کے ساتھ ہم کلام ہونے سے پہلے منہ صاف کرنے میں بلاشبہ ان کی تعظیم کا پہلوپایا جاتا ہے۔ اس لئے تو مسواک کو مشروع قرار دیا گیا ہے اور بو میں نہ کوئی تعظیم ہے اور نہ عزت و اکرام۔ ''

بحث کے اختتام پر وہ رقم طراز ہیں ''فالحق أنه یستحب السواك للصائم أول النهار وآخرہ وھو مذھب جمهور الأئمة''''حق بات یہ ہے کہ روزے دار کیلئے دن کے پہلے اور آخری حصہ میں مسواک کرنا مستحب ہے اور یہی جمہور ائمہ کا مسلک ہے۔''

روزہ دار کے منہ کی بو کے بارے میں وارد حدیث میں لفظ خلوف سے وہ طبعی ومعنوی بو مراد ہے جو کھانے پینے میں وقفہ پڑجانے کی وجہ سے لاحق ہوتی ہے، اس کا تعلق عدمِ مسواک سے نہیں۔ ویسے بھی بعض روایات میں اس بو کے بارے میں قیامت کے دن کی تصریح ہے: أطیب عنداﷲ یوم القیامة 13

مصنوعی دانتوں کے متعلق چند مسائل
سوال: آرائش و زیبائش اور خوبصورتی بڑھانے کے لئے دانتوں کو تراشنا اور باریک یا برابر کرنا شرعاً کیسا ہے؟
جواب: خوبصورتی کے لئے دانتوں کو تراشنا، باریک یا برابر کرنا منع ہے ۔ تفصیل کے لئے دیکھیں: صحیح بخاری باب المتفلجات للحسن، فتح الباری (10؍372) اور سنن أبي داود ، باب في صلة الشعر14

سوال: اگر اصل دانت ضائع ہوجائیں توکیا سونے، چاندی یا دیگر دھاتوں کے مصنوعی دانت بنوا کر لگائے جاسکتے ہیں؟کیااس سے وضو اور غسل میں کوئی خلل پڑے گا۔
جواب:اصلی دانت ضائع ہونے کی صورت میں مصنوعی دانت لگائے جاسکتے ہیں۔ سنن أبو داود میں باب ماجاء في ربط الأسنان بالذھب۔ سونے چاندی کے قائم مقام اگر کوئی دوسری شے ہوسکتی ہے تو پھر ان سے احتراز کرنا چاہئے۔ 15
دانت اگر پختہ لگائے گئے ہیں تو اس حالت میں وضو یا غسل درست ہوگا اور اگر بآسانی اُتر سکتے ہیں تو انہیں اُتار کر وضو یاغسل کرنا چاہئے۔

سوال:کیا مرد حضرات سونے کے مصنوعی دانت لگوا سکتے ہیں اور اس فن کو ذریعہ روزگار بنانا شرعاً کیسا ہے؟
جواب: بوقت ِضرورت مرد سونے کا دانت لگوا سکتا ہے۔ بہر حال مسلم معاشرے میں سونے کے دانت لگانے کو ایک صنعت کا درجہ نہیں دینا چاہئے۔

سوال: اگر کسی شخص نے سونے یا کسی اور قیمتی دھات کے مصنوعی دانت لگوائے ہوں اور وہ فوت ہوجائے تو کیا ان دانتوں کو نکال کر استعمال میں لایا جاسکتاہے؟ اگر دفناتے وقت دانت نکالنا مشکل ہو تو کیا اسے مصنوعی دانتوں سمیت دفنایا جاسکتا ہے؟
جواب: وفات کی صورت میں ایسے دانت کو نکال کر استعمال میں لایا جاسکتا ہے۔ حدیث میں مال ضائع کرنے سے منع کیا گیا ہے اور اگر وہ کسی وجہ سے اُتر نہ سکتے ہوں تو اسی حالت میں میت کو دفن کردیاجائے : {ا يُكَلِّفُ ٱللَّـهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا...﴿٢٨٦﴾...سورۃ البقرۃ}


حوالہ جات
1. صحیح بخاری:341
2. متفق علیہ
3. بلوغ المرام: باب شروط الصلاة
4. فتح الباری :3؍90
5. بخاری؛کتاب الأذان،باب جهر الإمام بالتأمین
6. صحیح بخاری:780
7. صحیح بخاری:6402
8. (1؍462)
9. فتح القدیر، شوکانی :4؍508
10. زبدةةالتفسیر ص201
11. رقم: 5476
12. نیل الاوطار :1؍121

13. نیل الاوطار :4؍221
14. عون المعبود :4؍127
15. عون المبود:4؍148