میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

مسلم دنیا کو بالعموم اور اہم اسلامی ممالک کو بالخصوص ان دنوں مغرب کی طرف سے شدید تعلیمی یلغار کا سامنا ہے۔ نیو یارک کے بم دھماکوں کے بعدسے مسلم دنیا میں امریکہ مخالف جذبات کے خاتمے کے لئے گلوبلائزیشن کے نام پر نیوورلڈآرڈر کو عملاً نافذ کیا جارہا ہے۔ تعلیم کے میدان میں جاری اس معرکے کو جہاں عالمی سیاست کے ذریعے تقویت دی جارہی ہے وہاں مسلم قوموں کی ذہنیت میں تبدیلی کا یہ عمل ذرائع ابلاغ کے ذریعے بھی پورا کیا جارہا ہے۔ ایسا صرف پاکستان میں ہی نہیں کہ یہاں نظامِ تعلیم کو ملک وملت دشمن گروہ آغاخانیوں کے سپرد کیا گیا ہو، تعلیمی نصاب سے اسلامیات کے خاتمے کی باتیں ہو رہی ہوں، انگریزی کا فروغ اور اسے پہلی کلاس سے لازمی قرار دیا جارہا ہو اور عربی کو دیس نکالا دینے کے لئے عربی کو اختیاری مضمون بنایا اور عربی اساتذہ کی آسامیوں کا اعلان ہی بند کردیا گیا ہو بلکہ تعلیمی رجحانات میں یہ تبدیلی خصوصاً سعودی عرب، کویت، مصر اور یمن میں بھی امریکی دبائو پر عمل میں لائی جارہی ہے۔ حج کے موقع پر سعودی عرب کے دورے میں راقم نے ریاض میں بہت سے نئے خواتین کالج اور یونیورسٹیاں کھلتی دیکھیں۔ کویت کے 35 سالہ قدیم نصاب میں دو برس قبل بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں کی جا چکی ہیں، یہی صورتحال دیگر مسلم ممالک میں بھی ہے۔

کسی قوم کی تبدیلی میں دو عناصر بنیادی اہمیت رکھتے ہیں اور یہ دونوں عناصر' تعلیم' کے ہی دو مراحل ہیں۔ ایک وہ تعلیم ہے جوانسان درسگاہوں میں حاصل کرتا ہے اور دوسری وہ تعلیم جس سے ابلاغ اور میڈیا کے نام پر قبر تک انسان کا ساتھ برقراررہتا ہے۔امریکہ اور یورپ یہ جان چکے ہیں کہ وہ قوت کے ذریعے اگر اپنے استعماری مقاصد پورے کرتے ہیں تو اس کے نتیجے میں مسلمانوں میں شدید ردّ ِعمل پیدا ہوتا ہے، اس لئے ان کی نظر میں تبدیلی قوت کی بجائے اس ڈھنگ پر کی جائے کہ سوچنے سمجھنے کے پیمانے ہی بدل جائیں اور اسی مقصد کے لئے عالم اسلام میں یہ نیا سٹیج سجایا گیا ہے۔ اگر کسی قوم کے ذہن اور خیالات غیروں سے مستعار لئے ہوئے ہوں، مرعوبیت اور محکومیت کو ان کی جڑوں میں پیوست کردیا گیا ہو تواس قوم کے احیا کے امکانات معدوم تر ہوجاتے ہیں۔

پاکستان میں اسلامیات کی تعلیم کا موضوع کچھ عرصہ سے کافی حساسیت اختیار کرگیاہے۔ حکومت ِوقت امریکی اشاروں پر نونہالانِ قوم کو غیروں کے سپرد کرنے میں والہانہ پن کا مظاہرہ کررہی ہے۔ بالخصوص گذشتہ ماہ 10 جون کو وفاقی وزیر تعلیم کے صوبائی وزراء تعلیم کی 10ویں کانفرنس میں نئی قومی تعلیمی پالیسی پیش کرنے کے بعد یہ موضوع دوبارہ بحث ومباحثہ کا مرکز بن گیا ہے۔ اس موقعہ پر 11 جون کے اخبارات میں جلی سرخیوں سے شائع ہونے والا وفاقی وزیر تعلیم کا یہ بیان مغالطہ آمیز ہے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ ''اسلامیات پہلی سے بارہویں جماعت تک پڑھائی جائے گی۔'' جبکہ بعض اخبارات میں اشاروں کنایوں سے یہ خبریں بھی شائع ہوئی ہیں کہ اسلامیات کا مضمون پہلی اور دوسری کلاس سے ختم کردیا گیا ہے۔ روزنامہ 'خبریں' نے تو دورانِ اجلاس اسی بنا پر صوبہ سرحد اور بلوچستان کے وزراے تعلیم کے واک آوٹ کا بھی تذکرہ کیا ہے۔ علاوہ ازیں اسلامیات کے نصاب سے طریقۂ نماز کو بھی ختم کیا جا چکا ہے، یہ خبر روزنامہ 'اوصاف' نے 11؍ جون کو شائع کی۔ بعد میں دیگر اخباری ذرائع سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ عربی کو بھی لازمی کی بجائے اختیاری مضمون کی حیثیت دے دی گئی ہے۔

اسلامیات کو پہلی کلاسوں سے نکالنے کی ضرورت کیا ہے؟ ا س کے لئے ہمیں تعلیم کے بعض عصری تصورات پرنظر ڈالنا ہوگی۔ سیکولر دانشوروں کے نزدیک انسان پر پہلا حق اس ریاست کاہے، جہاں وہ پیدا ہوا اور جس سے اس کے والدین فائدہ اُٹھاتے ہیں۔ انسان کو اپنے وطن کی خدمت کو اپنا پہلا مقصد بنانا چاہئے اور اس کی تعلیم کو ریاستی مفادات کے تابع ہونا چاہئے۔ ان کے خیال میں ریاست کو آگے بڑھنے کے لئے جس طرح کے انسان درکار ہیں، ان کی تیاری میں خاندان یا مذہب کو کوئی دخل نہیں دینا چاہئے۔

راقم کے دورئہ امریکہ میں واشنگٹن میں ایک مسلمان باپ اظہر حسین سے میرا مکالمہ ہوا۔ وہ دین دار آدمی امریکی سکول کی انتظامیہ سے یہ بات کرنے آیا تھا کہ اس کی چھوٹی بچی کو دوسرے لڑکوں کے ساتھ دوستی کا ماحول اور ترغیب نہ دی جائے کیونکہ یہ امر اس کے دینی نظریات کے خلاف ہے اور مسلم تہذیب میں لڑکیوں کی دوستی لڑکیوں سے ہی ہوتی ہے۔سکول انتظامیہ نے جواباً اسے کہا کہ آپ اپنی بچی کو اپنے ذاتی رجحانات کے تابع رکھنا چاہتے ہیں جبکہہم 'انفرادیت پسندی' پر یقین رکھتے ہیں۔ آپ بچی کو لے جاسکتے ہیں، اس طرح کی پابندی کوئی امریکی سکول قبول نہیں کرسکتا۔ اس واقعہ سے بخوبی پتہ چل جاتا ہے کہ جدید دنیا میں بچے کی تربیت کا حق ریاست کے سپرد کردیا گیا ہے تاکہ وہ اپنے زیر نگرانی سکولوں اور نظامِ تعلیم کے ذریعے اپنی صوابدید کے مطابق بچوں کو مستقبل میں ریاست کامفید شہری بناسکے۔

دوسری طرف اسلام بچے پر سب سے پہلا حق اللہ تعالیٰ کا قرار دیتا ہے، کیونکہ وہ اللہ ہی انسان کاخالق ومالک ہے، انسان کی تمام صلاحیتیں اسی کی عطا کردہ ہیں، اس نے دنیا میں انسان کو اپنی عبادت اور خیر وشر کے ایک امتحان سے گزرنے کے لئے پیدا کیا جس پر قرآنِ کریم کی بیسیوں آیات شاہد ہیں۔اسلام کی نظر میں انسان کی تعلیم ایسی ہونی چاہئے جو اسے اللہ کی ہدایات کے مطابق زندگی گزارنا سکھائے۔ مغرب اسی دنیا کے مفاد (عاجل)کو پیش نظر رکھتا ہے لیکن اسلام اس دنیا کے نتائج کو آخرت سے مربوط کرتا اور آخرت میں بہتر انعامات کا وعدہ(آجل) دیتا ہے۔ گویا دونوں کے ہاں زندگی کے بنیادی نظریات میں ہی فرق ہے۔

تعلیمی نظریات ایک لمبا موضوع ہے۔جس پر بہت سی تفصیلات اور متعدد نکتہ ہائے نظر پائے جاتے ہیں،ہرایک کے اپنے دلائل ہیں لیکن افسوس اس وقت ہوتا ہے کہ جب اسلام کا نام لینے والے بعض دانشور بھی تعلیم کے نام پر مغربی افکار کی 'جگالی' کرتے نظر آتے ہیں۔ یہ لوگ انسان کو مذہب کی رہنمائی سے نکال کر ریاست کے قبضے میں دینا چاہتے ہیں جس پر خود چند انسانوںکا قبضہ وتسلط ہے۔ آسان الفاظ میں اسلام اگر ہمیں صر ف اللہ کی اطاعت کا پابند کرتا ہے تو یہ نام نہاد 'دانش باز' ریاست کے نام پر ہمیں اپنے جیسے کئی انسانوں کا غلام بننے اور دنیاوی مفادات کے تابع زندگی گزارنے کی دعوت دیتے ہیں۔

حکومت کی حالیہ پالیسی میں اسلامیات کے حوالے سے کئے جانے والے اقدامات بالکل ناروا ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ بات غور طلب ہے کہ اسلامیات کو ابتدائی کلاسوں سے نکالنے سے کیامقصد پورا ہوتا ہے ؟ اس کی ضرورت یا فائدہ کیا ہے کہ بچے کو بنیادی عقائد، اللہ تعالیٰ اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقدس ناموں سے محروم کردیا جائے؟ کیا یہ اسی سیکولر ازم کا کرشمہ ہے جس کی رو سے اجتماعی میدانوں مثلاًسرکاری تعلیم وغیرہ میں مذہبی تفصیلات کو ممنوع قرار دیا گیا ہے اور اسے ہرشخص کی ذاتی صوابدید پرچھوڑ دیا جاتا ہے۔ مغرب میں یہ نظریہ ماضی میں یہودیوں نے بڑے شد ومد سے پیش کیا کیونکہ خود اُنہوں نے اپنے بچوں کی گھروں میں دینی تعلیم کی روایات پختہ کررکھی تھیں۔ حال ہی میں امریکہ میں جب دینی تعلیم کو سرکاری سکولوں میں دینے کی بات ہوئی تو اس وقت بھی امریکہ میں یہودی لابی نے پوری قوت سے اس نظریہ کی تردید کی اور یہ موقف اختیار کیا کہ امریکی ریاست کے شہری کسی مذہب کے فروغ کے لئے ٹیکس ادا نہیں کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ میں مذہبی تعلیم سرکاری نظام تعلیم کی بجائے ہزاروں پرائیویٹ مذہبی سکول (دینی مدارس)میں دی جاتی ہے۔ ہر مالی استطاعت رکھنے والا سرکاری نظامِ تعلیم کو چھوڑ کر مذہبی سکولوں میں اپنے بچے داخل کرانے کو ترجیح دیتا ہے اور مستقبل کی امریکی قیادت انہی سکولوں سے نکل رہی ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ یہ سکول ابتدائی کلاسوں کے ہی ہیں، ثانوی مراحل کے نہیں جس سے مذہبی تعلیم کے مرحلہ کا بھی علم ہوجاتا ہے۔

یہاں یہ امر بھی خصوصی توجہ کا مستحق ہے کہ کیا ضرورت ہے کہ اخلاقیات کو اس ذاتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے کاٹ کر سکھایا جائے جن کا مقصد ِبعثت ہی مکارمِ اخلاق کی تکمیل تھا؟ اس سے کونسے مذموم مقاصد پورے ہوتے ہیں؟ مسلمانوں کی نظر میں اخلاقیات کی میزان خود دین اسلام کے ذریعے ہی قائم ہوتی ہے۔ اگر اخلاقیات کی اس مسلمہ بنیاد کو چھوڑ کر خود ساختہ تصورِ اخلاق وضع کرلیا جائے تو بے حیائی، فحاشی، آزادانہ اختلاط اور بدکاری وغیرہ کو بھی اخلاقیات کے زمرے سے باہرنکالنا ممکن نہیں رہتا۔

طریقہ نماز کا خاتمہ بھی ایک ذومعنی اقدام ہے۔پاکستان کی تعلیمی پالیسیاں آغاز سے ہی محض اسلام سے ذہنی محبت اور دلی وابستگی تک محدود رہی ہیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ پاکستان کے مسلمان آج بھی ذہنی اور جذباتی حد تک تو اسلام سے گہرا لگائو رکھتے ہیں لیکن چونکہ ان پالیسیوں میں اسلامی احکامات کو عملاً اختیار کرنے کا ہدف کبھی پیش نظر نہیں رکھا گیا، یہی وجہ ہے کہ اس گہری جذباتی وابستگی کے ساتھ عملاً پاکستانیوں کی اکثریت نہ صرف اسلامی احکام ومسائل سے لاعلم ہے بلکہ اس وجہ سے ان پر عمل بھی نہیں کر پاتی۔چنانچہ اسی پالیسی کو آگے بڑھاتے ہوئے بچے کچھے اسلامی احکامات کو بھی اسلامیات کے نصاب سے خارج کیا جارہاہے۔

اسلامیات کے نصاب کو مستقل طورپر نہ پڑھانے کی بجائے اسے دیگر مضامین میں جذب کردینے سے بھی پالیسی سازوں کے اس تحفظ کا اظہار ہوناہے کہ وہ اسلامیات کو نظراندازکرنا اور طلبہ کے ذہن سے اس کی اہمیت کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔

در اصل آغاز سے مذہبی تعلیم کا خاتمہ ایک تدریجی عمل کا آغاز ہے جس میں مستقبل کا منظرنامہ بخوبی نظر آرہا ہے۔حکومت ِوقت نے اِس تعلیم کے خاتمے کی وجہ بیان کرتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ اس تعلیم سے فرقہ واریت پیدا ہوتی ہے۔ ہماری نظرمیں فرقہ واریت کی بجائے اُنہیں اس کے لئے زیادہ موزوں لفظ 'مذہبی منافرت' استعمال کرنا چاہئے تھا۔ کیونکہ فرقہ واریت کا اطلاق تو مسلمانوں کے مابین ہوتا ہے جبکہ عقائد کے خاتمہ اور اخلاقیات کو اسلام سے کاٹ کر پڑھا دینے سے مسلم اور غیر مسلم کا تشخص ہی مٹنا شروع ہوجاتا ہے۔ مذہبی بنیادوں پر قوم کی یہ تقسیم جدیدتصورِ ریاست کے لئے جو وطن کی بنیاد پر قائم ہے، ناقابل قبول ہے اور اسی کے خاتمے کی راہ ہموار کی جارہی ہے، لیکن یاد رہے کہ ایسا کرنا پاکستان کے مقصد وجود اور نظریہ پاکستان سے کھلا انحراف ہوگا کہ اس خطہ کا اسلامی تشخص ہی ختم کردیا جائے۔

بچپن کی تعلیم کی اہمیت مسلمہ ہے۔انسان اپنے ماضی کا اسیر ہے، بالخصوص اس کے بچپن کے چند سال جس ماحول میں بسر ہوئے ہیں،اس سے وہ ساری زندگی باہر نکل نہیں پاتا۔ مثال کے طورپر ان سالوں میں اگر اسے نظراندازی کی اذیت یا غربت کی تکلیف سے دوچار ہونا پڑا ہو تو زندگی بھر وہ لاشعوری طورپر ان کے تدارک میں لگا رہتا ہے۔ ایسے ہی بچپن میں انسان کی سیکھنے کی صلاحیت انتہائی تیز ہوتی ہے اور علم کے کسی شعبہ میں سب سے پہلا جو تعارف اسے حاصل ہوتا ہے، وہ اس کے دل ودماغ میں جڑ پکڑ جاتا ہے۔ عمر کے اس دو رمیں جب انسان کسی نظریے کے تجزیے کے قابل نہیں ہوتا، کچے ذہن کو ملنے والی تمام معلومات اس کے ذہن کی بنیادی ساخت کو تشکیل دیتی ہیں۔ عربی زبان کا ایک مقولہ ہے : العلم في الصغر کالنقش علی الحجر ''بچپن کا علم پتھر پر لکیر کی مانند ہے۔''

انسان کی فکر ونظرکے زاویے اوائل عمری میں ایک رخ اختیار کرلیتے ہیں، نفسیات کے ماہرین کے نزدیک انسان اپنی فکری شخصیت کا بیشترحصہ اپنی زندگی کے پہلے عشرے میں پورا کرلیتا ہے، اس کے بعد مزید علمی تفصیلات کو اسی کی روشنی میں پرکھتا اور اختیار کرتا ہے۔

چند برس قبل راقم کو اسلام آباد میں ہائر ایجوکیشن بورڈ کے چیئرمین سے ایک مسجد میں ملاقات کا موقع ملا۔ موصوف نیک خیالات کے حامل تھے اور طلبہ میں دین سے دوری کا شکوہ کررہے تھے۔ میں نے ان سے عرض کیا کہ آپ ایک ذمہ دار عہدے پرموجود ہیں، آپ خود اس سلسلے میں کیوں اقدام نہیں کرتے؟ تو چیئرمین صاحب کا جواب یہ تھا کہ بچے جب ہمارے زیر نگرانی تعلیمی مرحلے میں داخل ہوتے ہیں، اس وقت تک وہ ایک ذہن بنا چکے ہوتے ہیں ، اس مرحلہ پر ان کو دین کے قریب لانا ہمارے لئے ممکن نہیں رہتا۔ یہ بات تو اس دورکے ایک ماہر تعلیم کی ہے، مسلم تاریخ کے نامور ماہرین تعلیم و سماجیات کی آرا بھی ملاحظہ فرمالیجئے:
علامہ ابن خلدون نے اپنی مشہور زمانہ تصنیف مقدمة میں بچوں کے لئے تعلیم قرآن کی ضرورت او رحفظ ِقرآن کی اہمیت پر خوب تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ ان کا موقف یہ ہے کہ ''بلادِ اسلامیہ میں قرآنِ کریم کی تعلیم کو تمام مراحل تعلیم کی اساس ہونا چاہئے کیونکہ یہ دین اسلام کا وہ بنیادی نامہ ٔہدایت ہے جو عقیدہ میں پختگی اور ایمان میں رُسوخ پیدا کرتا ہے۔''

مشہور اسلامی ماہر اجتماعیات ابن سینا نے بھی اپنی کتاب السیاسة میں ''بچے کی تعلیم کا قرآن کریم سے آغاز کرنے کی نصیحت کی ہے جیسے ہی جسمانی اور عقلی طورپر بچہ اس کے اہل ہوجائے تاکہ وہ دنیا کی بہترین زبان (عربی) سے مانوس ہوجائے اور ا س کے دل میں ایمان کے بنیادی تصورات جڑ پکڑ جائیں۔''

امام غزالی نے إحیاء علوم الدین میں سکول میں بچے کی تعلیم کی ترتیب بیان کرتے ہوئے سب سے پہلے قرآنِ کریم، فرامین نبویہؐ، نیک لوگوں کی حکایتیں اور فقہی احکام کی تعلیم کو پیش کیا ہے۔1

موقر جریدہ روزنامہ 'نوائے وقت' کے ایک مراسلہ میں بھی یہی بات کہی گئی ہے :
''اسلامیات کو غیرضروری سمجھ کر تیسری کے بعد کیوں پڑھایا جائے، حساب خاصا مشکل مضمون ہے، دو اور دو چارکرنے کا علم بھی تیسری کے بعد دیا جاسکتا ہے۔ سائنس میں آئے دن نظریات بدلتے رہتے ہیں، سائنس بھی تیسری کے بعد پڑھائی جاسکتی ہے۔ کلمہ پڑھانے، اللہ کی پہچان اور رسول کی محبت ہی تیسری کے بعد کیوں؟ سیکھنے کے لئے ابتدائی عمر ہی بہترین ہے، بعد میں بچے کا ذہن کھیل کوداور دیگر مشاغل میں لگ جاتاہے۔ پانچ سال کے بچے کو جو سکھایاجائے، اس کا ذہن کمپیوٹر کی طرح اسے تادمِ آخرمحفوظ رکھتا ہے۔ '' 2

ذیل میں ہم اسلامی شریعت کی بعض نصوص کا تذکرہ کرتے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے ہر مسلمان کی رہنمائی کے لئے نازل فرمایا ہے۔ وہ راسخ العقیدہ مسلمان جنہیں ایمان کی دولت نصیب ہے، اُن کے لئے فرامین نبوی اور اُسوئہ حسنہ آنکھوں کاسرمہ ہے اور اُنہیں اللہ کی آیات سے ہی دلی سکون واطمینان نصیب ہوتا ہے، رہے دانشور تو ان کے پاس تاویلاتِ فاسدہ اور توجیہاتِ نادرہ کا ایک انبار ہے، جس میں وہ حیران پھرتے ہیں۔

'بچپن میں مذہبی تعلیم ' شریعت ِاسلامیہ کی نظر میں
اللہ تعالیٰ نے ہر مسلمان پر اس قدر دینی علم سیکھنا ضروری قرار دیا ہے جس حد تک اسے اپنی زندگی میں واسطہ پیش آئے تاکہ ان مسائل میں وہ شرع کی رعایت رکھ سکے اور اس کے لئے دینی احکام بجا لانا ممکن ہوسکے۔ (اس کی تفصیل پرمستقل مضمون 'محدث' میں ملاحظہ فرمائیں)

ہمارے پیش نظر مسئلہ یہ ہے کہ یہ تعلیم کس مرحلہ پر دی جائے؟ اس سلسلہ میں بطورِ خاص نماز اور دینی عقائد کی تعلیم کا بھی انکار کیا جاتا ہے، کیونکہ ہماری حکومت نے بچپن میں نماز کی تعلیم کا خاتمہ کرنے کی بات کی ہے اور بعض نام نہاد دانشورں اور سرکاری ملائوں نے مذہبی تعلیم کو محض اخلاقیات تک محدود کرکے عقائد کی تعلیم کو بھی خارج قراردینے کا موقف پیش کیا ہے ، ذیل میں ہم ان آیات اور احادیث کو پیش کرتے ہیں جن سے ان تینوں مسائل پر اسلامی نقطہ نظر کا تعین ممکن ہوسکے گا :

(1) اس دینی تربیت کا آغاز بچے کی ولادت سے ہی ہوجاتا ہے، جب پیدائش کے بعد اس کے کان میں اذان دی جاتی ہے، حدیث ِنبوی ہے کہ
رأیت رسول اﷲ ﷺ أذَّن في اُذن الحسن بن علي حین ولدته فاطمة
''میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کودیکھاکہ آپ نے حضرت حسنؓ بن علیؓ کے کان میں اذان(i) دی، جب اُنہیں سیدہ فاطمہؓ نے جنم دیا۔''3

بچے کے کان میں اذان کہنے کی حکمت بیان کرتے ہوئے علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
''بچے کے کان میں سب سے پہلے اذان، جس میں ربّ کریم کی کبریائی،عظمت وجلال اور کلمہ شہادت کا تذکرہ ہے، کی آواز پہنچانے کا مقصد یہ ہے کہ جس طرح دنیا سے جاتے ہوئے انسان کو کلمہ توحید کی تلقین کی جاتی ہے، اس طرح دنیا میں آتے ہوئے بھی اسلام کی پاسداری کی یاددہانی کرائی جاتی ہے۔ اور اس یاددہانی کا بچے کے دل پر اثر ہوتا ہے، چاہے اس وقت وہ شعور نہ رکھتا ہو۔'' پھر اُنہوں نے دیگر فوائد کا بھی تذکرہ کیاہے ۔ 4

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ بچے کو سب سے پہلے اسلام کے بنیادی عقائد مثلاً اللہ کی کبریائی اور وحدانیت، نبی کی رسالتؐ اور نماز کی دعوت دی جاتی ہے۔

(2) بعض دانشوروں کو اس بات پر اعتراض ہے کہ بچے کو سب سے پہلے اسلامی عقائد کی تعلیم کیوں دی جاتی ہے تو اُنہیں علم ہونا چاہئے کہ ان عقائد کی تعلیم تو ولادت سے بھی پہلے ہر انسان کی سرشت میں داخل کی گئی ہے اور اس سے اسکا اقرار بھی لیا جا چکاہے، قرآن میں ہے:
وَإِذْ أَخَذَ رَ‌بُّكَ مِنۢ بَنِىٓ ءَادَمَ مِن ظُهُورِ‌هِمْ ذُرِّ‌يَّتَهُمْ وَأَشْهَدَهُمْ عَلَىٰٓ أَنفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَ‌بِّكُمْ ۖ قَالُوا بَلَىٰ ۛ شَهِدْنَآ ۛ أَن تَقُولُوايَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ إِنَّا كُنَّا عَنْ هَـٰذَا غَـٰفِلِينَ ﴿١٧٢...سورۃ الاعراف
''جب تیرے ربّ نے بنی آدم کی پشتوں سے ان کی اولادوں کو نکالا تھا اور انہیں خود ان کے اوپر گواہ بناتے ہوئے پوچھا تھا: کیا میں تمہارا ربّ نہیں ہوں؟ تو اُنہوں نے کہا: کیوں نہیں، ہم اس کی شہادت(ii) دیتے ہیں، یہ ہم نے اس لئے کیا کہ کہیں تم قیامت کے روز یہ نہ کہہ دو کہ ہم تو اس بات سے بے خبر تھے۔''5

(3) حضرت ابن عباسؓ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں اپنا واقعہ ذکر کیا ہے کہ میں ایک دن سواری پرنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بیٹھا تھا تو آپ نے فرمایا:

یا غلام! أعلِّمك کلمات: احفظ اﷲ یحفظك،احفظ اﷲ تجدہ تجاهك، وإذا سألت فاسئل اﷲ وإذا استعنت فاستعن باﷲ واعلم أن الأمة لو اجتمعت علی أن ینفعوك بشيء لم ینفعوك إلا بشيء قد کتبه اﷲ لك وان اجتمعوا علی أن یضروك بشيء لم یضروك إلا بشيء قد کتبه اﷲ علیك رُفعت الأقلام وجُفَّت المصاحف 6
''اے لڑکے! میں تجھے چند کلمات سکھاتا ہوں: تو اللہ (کے اوامر ونواہی )کی حفاظت کر تو اللہ تیری حفاظت کرے گا، ان کی پابندی کر تو اللہ کی مدد ہمیشہ تیرے ساتھ ہوگی۔ جب بھی مانگنا ہو تو اللہ سے مانگ، جب بھی مدد چاہے تو اللہ سے مدد طلب کر۔ یاد رکھ کہ پوری اُمت مل کر بھی تجھے فائدہ پہنچانا چاہے تو اللہ کی تقدیر سے زیادہ فائدہ نہیں پہنچا سکتی۔او راگر سب مل کربھی تجھے نقصان دینا چاہیں تو اللہ کے لکھے سے بڑھ کرتیرا بال بیکانہیں کرسکتی۔قلم اُٹھا لئے گئے اور(تقدیر کی)کتابیں خشک ہوچکیں۔''

غور فرمائیے کہ اس حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام تر تعلیم عقائداور اللہ پرایمان (یقین، توکل) کی مضبوطی کے بارے میں ہے۔ پھریہ تعلیم اس بچے کو دی جارہی ہے جس کی عمر بہت چھوٹی ہے۔ اس کا پتہ اس بات سے بھی چلتا ہے کہ آپ نے اُنہیں اپنے پیچھے سواری پر بٹھا رکھا تھا جیسا کہ مسند احمد بن حنبل کی روایت نمبر 2804 میں اس کی صراحت بھی موجود ہے اور وہاں غلامکے ساتھ غُلَیم (چھوٹا بچہ)کے الفاظ بھی آئے ہیں۔ صحیح بخاری میں حضرت ابن عباسؓ کا اپنا فرمان بھی موجود ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت وہ ابھی بچے (صبي) تھے۔

(4) عبد اللہؓ بن عباس فرماتے ہیں کہ ''نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت میں 10 برس کا تھا اور میں اس وقت قرآن کریم کی تمام مُحکم آیات سیکھ چکا تھا۔'' 7
مُحکم کا لفظ ان آیات پر بولا جاتا ہے جو متشابہ یا منسوخ نہیں ہیں۔

(5) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانِ گرامی ہے:
افتحوا علی صبیانکم أوّل کلمة بلا إله إلا اﷲ 8
''اپنے بچوں (کی تعلیم یا بولنے) کا آغاز لا إلہ الا اﷲ سے کیا کرو۔''

(6)نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول یہ تھا کہ جب بنو ہاشم کا کوئی بچہ بولنے کے قابل ہوجاتا تو آپ ؐ اس کو یہ آیت سات بار سکھایا کرتے: {وَقُلِ ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ ٱلَّذِى لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا وَلَمْ يَكُن لَّهُۥ شَرِ‌يكٌ فِى ٱلْمُلْكِ... آخر سورہ تک} 9
''تمام تعریفیں اس ذات کی جس نے اولاد نہیں لی اور نہ بادشاہت میں اس کا کوئی شریک ہے''

(7) صحابہ کرامؓ کا معمول یہ تھا کہ سب سے پہلے وہ بچوں کو نماز سکھایا کرتے اور کوشش کرتے کہ سب سے پہلے بچہ جو لفظ بولے وہ لا إله إلا اﷲ ہو۔ 10

یہ تو تفصیل ہے قرآن اورعقائد سکھا نے کی ، جہاں تک احکام سکھانے کی بات ہے تو

(8)عبادات اور نماز کے احکام سکھانے کے بارے میں فرمانِ نبویؐ ہے:
مُروا أولادکم بالصلاة وهم أبناء سبع سنین واضربوهم علیها وهم أبناء عشر سنین وفرقوا بینهم في المضاجع 11
''اپنے بچوں کو سات برس کی عمر میں نماز کا حکم دو، دس برس کے ہو جائیں تو (نماز کے لئے) مارنے سے بھی گریز نہ کرو اور (اس عمر میں) ان کے بستر علیحدہ کردو۔''

(9)حدیث کی کتاب مصنف ابن ابی شیبہ میں یہ عنوان ''بچے کو نماز کا کب حکم دیا جائے؟'' قائم کرکے اس کے تحت مختلف صحابہ کرامؓ کے معمولات ذکر کئے گئے ہیں :
حضرت عبد اللہ بن عباسؓ فرمایا کرتے کہ بچوں کو بھی نماز کے لئے اُٹھایا کرو چاہے وہ ایک سجدہ ہی کریں۔(12) عبد اللہ بن عمرؓ اور ابن سیرین رحمۃ اللہ علیہ بچے کو اس عمر میں نماز سکھایاکرتے جب اسے دائیں او ربائیں کی پہچان ہوجائے۔(13) عبد الرحمن یحصبی کے نزدیک جب بچہ بیس تک گنتی گننا سیکھ جائے تب بچے کو نماز پڑھنے کا حکم دیا جائے۔ (14) ابو اسحق کا معمول یہ تھا کہ 7 سے 10 برس کی عمر کے دوران بچے کو نماز سکھا دیا کرتے۔15

علی رحمۃ اللہ علیہ بن حسینؓ بچوں کو ظہر،عصر اور مغرب،عشاء کو جمع کرکے نماز پڑھنے کا حکم دیا کرتے، اُنہیں کہا گیا کہ یہ تونماز کے اوقات نہیں ہیں تو آپ نے جواب دیا کہ بچوں کے سوجانے سے بہتر ہے کہ ایسے کرلیا جائے۔ 16

عبد اللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ اپنے بچوں کی نمازوں پر نگرانی کیا کرو۔ 17

(10) ربیع ؓبنت معوذ فرماتی ہیں کہ ہم روزہ رکھا کرتیں اور نُصوِّم صبیاننا اپنے بچوں کو بھی روزہ رکھواتیں۔ ان کو ہم روئی کے کھلونے بنادیتیں، جب کوئی بچہ رونے لگتا تو ہم اسے دے دیتیں حتی کہ افطاری کا وقت آپہنچتا۔'' 18

(1) حضرت سعدؓ اپنے بچوں کو حسب ِذیل دعا ایسے ہی سکھایا کرتے جیسا کہ استاد بچوں کو لکھنا سکھاتا ہے اور کہا کرتے کہ ان کلمات کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے بعد پناہ حاصل کیا کرتے:اللهم إني أعوذ بك من الجُبن وأعوذ بك أن أردّ إلی أرذل العمر وأعوذ بك من فتنة الدنیا وأعوذ بك من عذاب القبر 19

اس دور کے بچوں پر حسن تربیت کا اثر دیکھنے کیلئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ واقعہ پڑھئے، ابن عباسؓ کی عمر کا ذکر گزر چکا ہے کہ آپؐ کی وفات کے وقت انکی عمر محض 10 برس تھی۔ یہ واقعہ ممکن ہے ، چند برس پہلے کا ہو اور اس وقت ان کی عمر 7،8 برس ہوگی۔آپ ؓ روایت کرتے ہیں:
''میں نے اپنی خالہ اُمّ المومنین حضرت میمونہؓ کے پاس ایک رات گزاری، اس رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے پاس تھے۔ نبی کریمؐ نے عشا کی نماز پڑھائی،گھرآئے اور چار رکعات پڑھ کر سو گئے، پھر بیدارہوئے تو فرمایا : چھوٹا بچہ سوگیا ہے؟ یا اس سے ملتا جلتا کوئی کلمہ بولا۔ پھر کھڑے ہوئے، میں بھی آپ کے بائیں جانب کھڑا ہوگیا تو آپ نے مجھے دائیں طرف کرلیا۔ پھر آپ نے 5 رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں اور پھر سوگئے... الخ 20

سنن ابو دائود میں اسی واقعہ میں یہ بھی ہے کہ دورانِ نماز آپ نے میرے سر پر اس طرح ہاتھ رکھا کہ آپ کا ہاتھ میرے کان کو چھورہا تھاگویا آپ مجھے بیدار رکھنا چاہتے ہوں۔ 21

ان آیات واحادیث کا یہ مطلب نہیں کہ بچے کو محض عقائداور احکام ومسائل کی تربیت ہی دی جائے بلکہ ہماری حکومت نے چونکہ طریقۂ نماز کو نصاب سے خارج کیا اور بعض دانشوروں نے بچپن میں عقائد کی تعلیم کا انکار کیا ہے، اس لئے اسی حوالے سے احادیث ِنبویؐ کا تذکرہ کیا گیا، البتہ اسلامی شریعت نے ماں باپ پر بچے کو بنیادی تربیت اور اخلاقیات سکھانے کی ذمہ داری بھی عائد کی ہے۔ عمر بن ابو سلمی ذکرکرتے ہیں کہ میں ایک بار بچپن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں بیٹھ کر کھانے میں شریک تھا اور میرا ہاتھ پوری پلیٹ میں گھوم رہا تھا تو آپؐ نے فرمایا:
(13)یا غلام! سمّ اﷲ وکُلْ بیمینك وکل مما یلیك 22
''اے بچے! اللہ کا نام لے کر کھا، دائیں ہاتھ سے اور اپنے سامنے سے۔''

(14)بچیوں کی اچھی تربیت کی فضیلت بھی زبانِ رسالتؐ سے ملاحظہ فرمائیے:
من عال ثلاث بنات فأدبهن وزوّجهن وأحسن إلیهن فله الجنة
''جس مسلمان نے تین بیٹیوں کی اچھی تربیت کرکے ان کی شادی کر دی، ان کے ساتھ حسن سلوک کیا تواس کے لئے جنت ہے۔''23

(15)بچوں کی تربیت کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی اس واقعہ سے بھی حاصل ہوتی ہے جس میں ہے کہ ایک ماں نے اپنے بچے کو کھجور کا جھوٹا لالچ دے کر قریب بلایا، تو آپ نے پوچھا: کیا تم اسے کھجور دینے کا ارادہ رکھتی ہو؟ اس نے نفی میں جواب دیا تو آپ نے فرمایا کہ ''ایسا نہ کرو، اس سے تمہارے نامہ اعمال میں ایک جھوٹ لکھ دیا جاتا ہے۔'' 24

(16)ایسے ہی نعمانؓ بن بشیرؓ کے والد کا قصہ جنہوں نے ایک بیٹے کو تحفہ دے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس پر گواہ ٹھہرانا چاہا تو آپؐ نے پوچھا کہ تم نے باقی اولاد کو بھی ایسا ہی تحفہ دیا ہے،اس نے نفی میں سرہلایا تو آپؐ نے فرمایا کہ تمہیں کیا یہ پسند ہے کہ تمہاری اولاد تم سے برابر حسن سلوک نہ کرے؟ اس نے کہا: ہرگز نہیں تو آپ نے فرمایا کہ ''اپنی اولاد میں برابری سے برتائو کرو... میں ظلم پر گواہ نہیں بن سکتا۔''25

(17)ایسے ہی وہ واقعہ بھی جب کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسنؓ وحسینؓ کو فرطِ محبت سے بوسہ دیا تو آپ کے پاس موجود صحابی اقرع بن حابس تمیمیؓ نے فرمایا:میرے دس بچے ہیں، میں نے تو اُنہیں کبھی پیار نہیں کیا۔ تو آپ نے تبصرہ فرمایا: ''جو دوسروں پررحمت وشفقت نہیں کرتا، اللہ بھی اس پر رحم نہیں کھاتا۔''(26) ایک دیہاتی کو آپ نے فرمایا کہ ''اللہ نے تیرے دل سے ہی محبت وشفقت کھینچ لی ہو تو میں کیا کرسکتاہوں ۔'' 27

مذکورہ بالا آیات و احادیث سے بخوبی علم ہوتا ہے کہ اسلام میں بچپن کی تعلیم وتربیت کی نہ صرف اہمیت ہے بلکہ ہمیں اس کا حکم بھی دیا گیا ہے اور اس تعلیم کو محض اخلاقیات تک محدود نہیں رہنا چاہئے۔ قرآنی آیات اور فرامین نبویؐ کے تذکرے کے بعد اس موضوع پر مزید حیلہ جوئی کی گنجائش باقی نہیں رہتی، البتہ ایک آخری نکتہ یہ باقی رہتا ہے کہ جاوید احمد غامدی نے دینی تعلیم کو نظامِ تعلیم سے نکال کر انفرادی بنیادوں پر پڑھانے کا نظریہ پیش کیا ہے اور اسکی یہ توجیہ پیش کی ہے کہ اوّلاً: یہ والدین کی ذمہ داری ہے، ثانیاً: نصابِ تعلیم میں اسے داخل کرنے سے فرقہ واریت پیدا ہوتی ہے۔ ان کا موقف ہے کہ اخلاقیات کی تعلیم کو،جو تمام مذاہب کے ہاں مسلمہ ہے مختلف مذاہب کے حوالے کی بجائے محض اخلاقیات کے طورپر پڑھایا جائے اورنظامِ تعلیم میں عقائد واحکام یاقرآنِ مجید وغیرہ کی تعلیم کو پرائمری کے بعد اختیار کیا جائے۔

جناب غامدی کا یہ موقف بھی ان کے سابقہ نظریات کی طرح کھوکھلا ہے جس کی گنجائش نہ تو شریعت کی نصوص سے ملتی ہے اور نہ ہی اس کی تائید عمل وتجربہ سے ہوتی ہے۔

حضرت ابن عباسؓ کے سفرمیں پیش آنے والے واقعہ جس میں نبی کریمؐ نے اُنہیں بنیادی عقائد سکھائے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی عمرؓ بن ابی سلمی کو کھانے کے مسائل کی تعلیم دینے سے پتہ چلتا ہے کہ یہ حکم صرف والدین کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ آپؐ نے اسے ادا فرمایا۔

چونکہ دورِ خیرالقرون میں اس طرح کسی باقاعدہ نظامِ تعلیم کی مثال نہیں ملتی جو جملہ مسلمانوں کے لئے ہو، البتہ علومِ اسلامیہ میں رسوخ کے لئے اصحابِ صفہ اور ائمہ اسلاف کے درسِ حدیث و فقہ کا ضرور پتہ چلتا ہے لیکن ان ادوار میں بھی وہ لوگ جو اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کا اعلیٰ انتظام کرنا چاہتے تھے، وہ بعض اساتذہ کو مقرر کرکے ان کے ذریعے یہ مقصد پورا کیا کرتے۔ موجودہ دورمیں انہی اساتذہ کی جگہ ایک باقاعدہ نظامِ تعلیم نے لے لی ہے۔ اُس دورمیں ایسے اتالیقوں کو تعلیم کے لئے دی جانے والی رہنما ہدایات ملاحظہ ہوں :
 علامہ ابن خلدون نے اپنے مقدمہ میں ذکر کیا ہے کہ خلیفہ ہارون الرشیدنے اپنے بیٹے امین کے اتالیق کو یہ ہدایت کی:
''امیرالمومنین نے اپنا جگر گوشہ اوردل کا قرار آپ کے سپرد کیا ہے۔ فَصیِّر یدَک علیہ مبسوطة اپنے ہاتھ کو اس پر کھلا رکھیں (مارنے سے بھی گریز نہ کریں)، آپ کی اطاعت اس پر ازبس لازم ہے۔ جومقامِ (معلم) امیر المومنین نے آپ کے سپرد کیا ہے، اس کے ساتھ ویسے ہی پیش آئیے: أقرئه القرآن وعرفه الأخبار ورَوِّہ الأشعار وعلمه السنن ''اسے قرآن سکھلائیے، احادیث ِمطہرہ کی معرفت دیجئے، اشعار سے سیراب کریں اور اچھی عادات سکھلائیں۔'' الخ 28

 خلیفہ عبد الملک بن مروان نے اپنے بیٹے کے اتالیق کو ہدایت کی:
''علِّمهم الصدق کما تعلمهم القرآن واحملهم علی الأخلاق الجمیلة''
''جس طرح اُنہیں قرآن سکھائیں،ویسے ہی اسے سچ بولنے کی بھی تعلیم دیں اور اخلاقِ جمیلہ کی صفات بھی اس میں راسخ کریں۔''

خلیفہ ہشام بن عبد الملک نے اپنے بیٹے کے اتالیق سلیمان کلبی سے کہا :
''اس کو ادب سکھانے کی ذمہ داری میں آپ کے سپرد کرتا ہوں۔ فعلیك بتقوی اﷲ وأَدِّ الأمانة وأوّل ما أوصیك به أن تأخذہ بکتاب اﷲ آپ اللہ سے ڈرکراس امانت (معلمی) کو ادا کریں۔ سب سے پہلے میں آپ کوجس تعلیم کی پرزور نصیحت کرتا ہوں کہ آپ اسے اللہ کی کتاب کی تعلیم دیں۔'' الخ

راقم نے خصوصیت سے یہاں تین خلفا کی ہدایات کا تذکرہ کیا ہے، یاد رہے کہ ان ہدایات میں سب سے پہلے دینی تعلیم کا بطورِخاص تذکرہ کیا گیا ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ دینی تعلیم کا یہ اہتمام صرف اس دور کے دین دار لوگوں کا معمول نہیں تھا بلکہ اُس دور کے بااثر طبقہ کے تعلیمی رجحانات بھی یہی تھے۔ او ریہ خلفا ان ادوار کے ہیں جو علومِ اسلامیہ اور تمدنی ارتقا کا سنہرا دور کہلاتا ہے ...نیز جاوید احمد غامدی کا تعلیمی نظریہ تجربہ او رعمل کی میزان پربھی پورا نہیں اُترتا:

(1)یہ سیکولر تصور ات کا شاخسانہ ہے جس کی رو سے مذہبی تعلیم کو ریاست کی ذمہ داری سے نکال کر عوام کے سپرد کردیا جائے۔سٹیٹ اور چرچ میں جدائی کا یہ نظریہ مغربی ہے جس کی اسلام یا نظریۂ پاکستان کی رو سے کوئی گنجائش نہیں ہے۔

پھر یہ پاکستان کے 97 فیصد مسلمان اکثریت کا مسئلہ ہے کہ ان کا دین اُنہیں بچپن میں بھی مذہبی تعلیم کا پابندکرتا ہے، پاکستان کے نظامِ تعلیم کو اس کی پاسداری کرنا چاہئے جیسا کہ فرانس میں حجاب پر پابندی کی توجیہ اس حکومت نے یہ اختیار کی کہ ا س سے فرانس کے اکثریتی مذہب یعنی عیسائیت کی حق تلفی ہوتی اور مذہبی امتیاز پیدا ہوتا ہے۔

(2) یہ ذمہ داری والدین کے سپرد کرتے ہوئے عملی صورتحال بھی ہمیں سامنے رکھنی چاہئے کہ پاکستان کے اعلیٰ طبقہ کو تواپنے بچوں کی دینی تعلیم سے کوئی سروکار ہی نہیں ہے، چنانچہ وہ اپنے طورپر اس ذمہ داری کو ادا کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے،جس کا نتیجہ ان بچوں کی اسلامی عقائد سے ناواقفیت کی صورت میں نکلے گا۔ متوسط طبقہ میں گھر کی گاڑی رواں دواں رکھنے کے لئے والد کو کئی کئی مصروفیتوں میں اُلجھنا پڑتا ہے، تب کہیں گھر کے اخراجات پورے ہوتے ہیں۔ ان حالات میں کسی باپ کے پاس اتنی فرصت ہی نہیں کہ بچوں کی تعلیم میں وقت صرف کرے۔ مزید برآں یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ پاکستان کی آبادی کا 60؍ 70 فیصد حصہ بنیادی تعلیم سے بھی آشنا نہیں ہے۔ ان لوگوں کو درست کلمہ بھی پڑھنا نہیں آتا، کجا یہ کہ وہ اپنے بچوں کی دینی تعلیم کی ضرورت پوری کرسکیں۔

غور کریں، اگر بنیادی تعلیم یعنی لکھنے پڑھنے اور حساب کتاب سکھانے کی ذمہ داری ان والدین کے سپرد کر دی جائے تو کتنے فیصد والدین اس کو نبھا سکتے ہیں؟ پھر نا معلوم کیوں دینی علوم کو ہی اس قدر غیراہم قرار دے کر ایسی مضحکہ خیز تجویز پیش کی جاتی ہے۔

(3) بچوں پر نصاب ونظامِ تعلیم کا کافی بوجھ پہلے ہی لاد دیا گیا ہے،بعض سکولوں کے اوقاتِ تعلیم انتہائی لمبے ہیں اور بعض بچے ویسے ہی بورڈنگ سکولوں میں رہائش پذیر ہیں، ایسے ہی کھیلوں، ویڈیو گیمز اورٹی وی پروگراموں نے انہیں اس قد رمصروف کررکھا ہے کہ ان کے پاس مزید تعلیم کے لئے فرصت ہی نہیں بچتی۔ ایسے حالات میں قومی نظام تعلیم کو بچوں کی تمام ضروریات کا کفیل ہونا چاہئے۔ترقی یافتہ دنیا میں تو اب سکول میں ہی بچے کو ہوم ورک بھی کروانے کو رواج دیا جارہا ہے اور ہمارے ہاں تعلیم کے ایک اہم ترین حصہ کو گھر کی مصروفیت اور ذاتی کاوش پرچھوڑا جارہا ہے۔ ایسی دو رنگی کیوں ہے ؟

(4) مذہبی تعلیم کو حکومت کی سرپرستی سے نکال کر گھریلو بنیادوںپرپڑھانے کا نتیجہ فرقہ واریت کے خاتمے کی بجائے فرقہ واریت کے فروغ کی صورت میں برآمدہوگا۔ کیونکہ حکومت خود تو اپنی نگرانی میں مختلف اقدامات یا نصاب کے ذریعے فرقہ وارانہ رجحانات کو کم کرسکتی ہے لیکن والدین جن اساتذہ کو اپنے بچوں کی دینی تربیت کے لئے مقرر کریں گے، موجودہ حکومت اور غامدی صاحب کو تو پہلے ہی مساجدومدارس کے ان فضلا سے فرقہ واریت کے فروغ کا شکوہ ہے۔ اس مرحلے پر یہ دینی تعلیم دینے والے کیونکر یکدم انتہائی روا دار قرار پاجائیں گے؟

الغرض اس نوعیت کی بہت سی اوربھی وجوہات ہیں جن کی بنا پر تعلیم کے حوالے سے یہ دانشوری محض خوبصورت الفاظ کا ایک مرقع اور بلند خواہشات کا ایک خواب تو بن سکتی ہے، لیکن زمینی حقائق کو پیش نظر رکھ کر اسے اختیار نہیں کیا جاسکتا۔ جو حکومت اسے اختیا رکرے گی، ا س کے پیش نظر لازماً دینی تعلیم کا تدریجا ً خاتمہ ہی ہوگا۔ اللہ تعالیٰ اربابِ اقتدار اور ارباب دانش کی فکر ونظر کے زاویے درست فرمائے اور ہمیں اپنے دینی تقاضوں سے عہد ئہ برا ہونے کی توفیق مرحمت فرمائے۔ آمین!


حوالہ جات
1. جلد3؍صفحہ73، طبع دار المعرفہ ،بیروت
2. 11؍جون 2006ئ
3. سنن ابو داود: 5105 'حسن'
4. تحفة المودود:ص 31
5. الاعراف: 172
6. جامع ترمذی: 2516 صحیح
7. صحیح بخاری: 4647
8. شعب الایمان:8649
9. مصنف عبد الرزاق: 7976
10. ایضاً: 3500
11. سنن ابو داود: 495، صحیح
12. رقم:3483
13. (3485، 3495)
14. (3489)
15. (3493)
16. رقم:3494
17. رقم:3497
18. صحیح بخاری: 1824
19. بخاری: 2610
20. بخاری: 114
21. رقم1157
22. صحیح بخاری: 5061
23. سنن ابو داود: 4481، سلسلہ صحیحہ: 294
24. ابو داود: 4991 حسن
25. مسلم: 1623، بخاری: 2507
26. بخاری: 5651
27. صحیح ابن حبان: 5595 صحیح
28. تربیة الأولاد عربی، 1؍144،بیروت1981ئ

i. البتہ بچے کے دائیں کان میں اذان اور بائیں میں اقامت کہنے کی جو حدیث بیہقی ہے، وہ صحیح نہیں ہے بلکہ علامہ البانی نے اسے موضوع قرار دیا ہے۔ (رواء الغلیل: 4014)
ii.سورة الروم کی آیت نمبر ٣٠ کی روسے''اسلام پر عمل کو انسان کی فطرت قرار دیا گیا اور اس فطرت کو کوئی تبدیل نہیں کرسکتا۔''صحیح بخاری میں بھی بتایا گیا ہے کہ ''ہر انسان فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔''(رقم:1319) صحیح ابن حبان میں فطرت کی بجائے 'فطرتِ اسلام' کے لفظ آئے ہیں۔(رقم 132صحیح) ایسے ہی الجامع الصغیر کی میں 'ملت ِاسلام' پر پیدا ہونے کے لفظ آئے ہیں۔(رقم8689 صحیح)
لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ انسان کو اسلامی احکامات کی سرے سے ضرورت ہی نہیں، بلکہ صحیح بخاری کی ہی حدیث نمبر ١٣١٩ کی رو سے ماں باپ انسان کو یہودی، نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔ اس لئے اسلامی احکام کی تعلیم کے ذریعے انسان کو اصل فطرت 'اسلام' کی نشاندہی ، یاددہانی اور تلقین کی جاتی ہے۔