میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

14؍جون 2006ء کے روزنامہ 'جنگ' میں مکمل دو بڑے صفحات 3،4 پر حدود قوانین کے بارے میں کئی ایک سفارشات پیش کی گئی ہیں۔ روزنامہ جنگ کا اس طرح اس ایشو کو اُٹھانا، اس کے لئے مستقل دو صفحات 3 اور4 کو مختص کرنا اور اوّل وآخر صفحات پر دو بڑی سرخیاں لگانے سے جہاں اس ابلاغی گروپ کے بارے میں شکوک و شبہات پختہ ہو رہے ہیں، وہاں ان صفحات میں شائع ہونے والی سفارشات کے متن نے بھی اس پوری ابلاغی مہم کا پول کھول دیا ہے۔

حدود قوانین کے بارے میں یہ تمام تر مہم کسی مثبت مقصد کے بجائے محض مغرب نوازی اور پاکستان میں اخلاق باختگی کو فروغ دینے کا ذریعہ نظر آتی ہے۔افسوس کہ اس عمل میں بعض نام نہاد دانشور بھی ملے ہوئے ہیں۔ موزوں الفاظ اورخوبصورت جملوںمیں چھپی مغربی تہذیب کی یہ دعوت کسی گہری نظر رکھنے والے صاحب ِعلم ودانش سے مخفی نہیں رہ سکتی جس کو ملکی ضروریات اور خواتین سے امتیاز کے پردے میں آگے بڑھایا جارہا ہے ... شواہد آگے ملاحظہ ہوں۔

سب سے پہلے یہ واضح رہنا چاہئے کہ اسلام میں زنا کا تصور مغرب کے تصورِ زنا سے بالکل مختلف ہے۔ اسلام نے جنسی تعلقات کو صرف میاں بیوی تک محدود کیا ہے اور اس تعلق کے بغیر جنسی مواصلت کو سنگین جرم قرار دیا اور اس کی کڑی سزا تجویز کی ہے۔ جبکہ مغرب میں نکاح اور شادی کا ادارہ ختم ہونے کے قریب پہنچ چکا ہے۔ مرد عورت شادی کے بغیر گرل فرینڈاور بوائے فرینڈ کی حیثیت سے ساتھ ساتھ رہتے اور آزادانہ جنسی تعلقات قائم کرتے ہیں۔ عورتیں کئی غیر مردوں سے جنسی تعلقات رکھتی ہیں(1) اوریہی رویہ مردوں کا بھی ہے۔

جدید مغربی تہذیب میں نکاح کی حیثیت وقتی رضامندی کو دی گئی ہے جو شادی سے پہلے حاصل ہو تو جنسی تعلقات میں کوئی مضائقہ نہیں اور نکاح کے بعد بھی اگر بیوی رضامند نہ ہو تو وہ شوہر کے خلاف زنا بالجبر کا مقدمہ کراسکتی ہے۔ وہاں زنا صرف اسی صورت میں جرم ہے کہ اس میں فریقین کی رضامندی نہ پائی جائے، نکاح کے بغیر جنسی تعلق کو زنا ہی نہیں سمجھا جاتا۔

زنا بالرضا اور زنا بالجبر کی تقسیم؟
مغرب میں اساسی طورپر زنا کی دو صورتیں ہیں: ایک جائز اور دوسرا جرم۔ دوسری طرف اسلام ان دونوں کو جرم قرار دیتا اور بنیادی طورپر ان میں کوئی فرق نہیں کرتا۔ قرآن وسنت اور اسلامی فقہی ذخیرہ میں ان دونوں جرائم کو علیحدہ علیحدہ زیر بحث بھی نہیں لایا جاتا اور بیوی کے علاوہ کیا جانے والاجنسی فعل 'زنا' ہونے کے ناطے ایک سنگین جرم قرار پاتا ہے۔ اگر عورت کے بیان یا قرائن کے ذریعے اس پر جبر کا علم ہوجائے تو اس صورت میں عورت کو نہ صرف بری قرار دیا جاتا ہے بلکہ حق عصمت پر دست درازی کی وجہ سے اس کو تاوان بھی ادا کیا جاتا ہے۔ تفصیلات کے لئے دیکھئے حواشی صفحہ نمبر: 5، 9

اسلامی شریعت کا یہی اُسلوب حدود قوانین میں بھی اپنایا گیا ہے۔ دوسری طرف پیش نظر مجوزہ ترامیم میں مغرب کی طرح زنا کو دو مستقل جرائم میں تقسیم کیا گیا ہے جس کے پس پردہ یہ مغالطہ کارفرما ہے کہ قرآن کریم میں درج زنا کی سزا دراصل زنا بالرضا کی ہے، اور قرآن میں درج نصابِ شہادت بھی اسی کے ساتھ مخصوص ہے۔ ایسے ہی زنا بالجبرایک علیحدہ جرم ہے جس کی سزا اور طریقۂ ثبوت ودیگر تفصیلات کا قرآن میں کوئی تذکرہ نہیں۔ فکر ونظر کا یہ ایسا بنیادی اختلاف ہے جس کی بنا پر اُٹھنے والی تمام عمارت ہی ٹیڑھی ہوجاتی ہے۔یہ موقف بالکل نیا ہے، جس کے پردے میں مغربی تہذیب کے راستے ہموار ہوتے ہیں۔

روزنامہ جنگ کی شائع کردہ تمام سفارشات کا تعلق بھی اسی امر سے ہے کہ زنا بالرضا اور زنا بالجبر کو علیحدہ جرائم تصور کیا جائے اور پہلے کے لئے قانونی پابندیاں اور پیچیدگیاں اس قدر سخت کردی جائیں کہ زنا بالرضا کی سزا دینا ہی ممکن نہ رہے، جبکہ زنا بالجبر کو ایک عام جرم بنا کر اس کی سزا کو قابل عمل بنانے کے اقدامات کئے جائیں۔ ان سفارشات کی شرعی حیثیت سے قطع نظر مذکورہ پس منظر میں ان کا ایک تقابلی مطالعہ پیش خدمت ہے، البتہ درج ذیل نکات کو بہتر طورپرسمجھنے کے لئے روزنامہ 'جنگ' کے محولہ بالا صفحات کا مطالعہ مناسب ہوگا :
(1) سفارش نمبر ایک میں ہے کہ زنا بالرضا کا مقدمہ اس وقت تک درج نہ کیا جائے جب تک شکایت درج کرانے والا اپنے ساتھ چار گواہ لے کر نہ آئے اور وہ وقوعہ زنا پر تحریری گواہی دیں جبکہ سفارش نمبر 8 میں ہے کہ زنا بالجبر کی صورت میں محض قرائن، سائنس اور میڈیکل کے علم کی گواہی کافی سمجھی جائے اور ایسے ثبوت کے بعد مجرم پر 'حد' کا اطلاق ہونا چاہئے۔

دونوں میں فرق کی و جہ بھی خود مرتبین کے اپنے الفاظ (مسئلہ نمبر 8) میں ملاحظہ فرمائیے:
''آج تک عصمت دری کے کسی ملزم پر حد کا اطلاق نہیں کیا گیا، اس کی وجہ یہ ہے کہ عدالتوں میں ایسا کوئی بھی مقدمہ نہیں ہے جس میں چار متقی، ایمان دار اور سچے گواہ دستیاب ہوں۔ ''

(2)سفارش نمبر3 میں ہے کہ زنا بالرضا کی صورت میں ملزمہ کی بے گناہی کی صورت میں عدالت از خود قذف کا مقدمہ درج کرے، کسی نئی درخواست کا انتظار نہ کیا جائے جبکہ سفارش نمبر 7 کی رو سے زنا بالجبر کی صورت میں از خود قذف کا مقدمہ درج نہ کیا جائے بلکہ الگ سے کیس دائر کرنا ہوگا۔ (اس فرق کا مقصد زنا بالرضا کی صورت میں مدعی کو ہراساں کرنا ہے)

(3) سفارش نمبر 4 یہ ہے کہ زنا بالرضا کی صورت میں حمل کو کافی ثبوت قرار نہ دیا جائے جبکہ سفارش نمبر8 کی رو سے زنا بالجبر میں سائنس اور میڈیکل کے علم کی گواہی کافی سمجھی جائے۔

(4) سفارش نمبر5 یہ ہے کہ زنا بالرضا میں جہاں چار گواہیاں پوری نہ ہوں، وہاں موجودہ قانون میں درج تعزیر کی سزا دینا درست نہیں، اس صورت میں سزا کا خاتمہ کیا جائے۔(مقصد یہ ہے کہ زنا بالرضا پر حد کی سزا کی طرح، کمتر گواہیوں کی صورت میں تعزیر کو بھی ناممکن بنا دیا جائے تاکہ زنا بالرضا کرنے والوں کو پورا قانونی تحفظ حاصل رہے )

(5) سفارش نمبر6یہ ہے کہ زنا بالرضا کی سزا دیتے ہوئے معاشرے کے حالات وواقعات اور ماحول کو پیش نظررکھا جائے۔ (مقصود یہ ہے کہ اگر معاشرے میں فحاشی یا بے حیائی زیادہ ہو تو اس صورت میں اس سزا کو معطل کردیا جائے جبکہ قانون کے نفاذ کا مقصد ہی جرم کا خاتمہ ہوتا ہے)

مندرجہ بالا نکات میں واضح طورپر زنا بالرضا اور زنا بالجبر میں فرق کیا گیا ہے۔ایسا تو ممکن نہیں کہ اسلامی معاشرے میں زنا جیسی سنگین برائی کو برداشت کرلیا جائے، لیکن اس کی سزا کو ناقابل عمل بنا کر عملاً زنا کی سزا کو معطل کیا جاسکتاہے۔ چنانچہ مذکورہ بالا سفارشات میں زنا بالرضا کی سزا کو مشکل سے مشکل تر اور دوسرے کی سزا کو آسان تر اور قابل عمل بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ جبکہ خود انہی سفارشات میں اس امر کا اعتراف بھی موجود ہے کہ پہلے شریعت ِاسلامیہ میں ان دونوں میں کوئی فرق نہیں رکھا جاتا تھا ، چنانچہ سفارش نمبر 9 میں درج یہ الفاظ ملاحظہ ہوں: ''ہم یہ اجتہاد بھی کرسکتے ہیں کہ بدکاری اور زنا بالجبردوالگ جرائم ہیں۔''

چند قابل اعتراض اُمور
روزنامہ 'جنگ' کے ان دوصفحات میں بہت سی باتیں خلافِ حقیقت اور قابل اعتراض بھی ہیں، مثلاً
صفحہ 3 پر جملہ سفارشات کو علما کی متفقہ سفارشات قرار دیا گیا ہے جبکہ 11 میں سے صرف اوّلین 3 سفارشات کے بارے میں اتفاقِ رائے پایا جاتا ہے اور وہ بھی جزوی حد تک مثلاً علما کا موقف یہ تھا کہ مرد وزَن ہر دو کو قید کی سزا دینا اسلام کی رو سے مناسب نہیں لیکن سفارش نمبر3 میں یہ قرار دیا گیا ہے کہ ''زنا کے الزام میں 'عورتوں' کو جیل نہیں بھیجا جائے گا۔''

اس دعویٰ کے خلافِ حقیقت ہونے کا مرتبین کو بھی احساس ہے چنانچہ صفحہ 4کے آغاز پر بڑی سرخی میں یہ اعلان کیا گیا ہے کہ مندرجہ ذیل سفارشات کے بارے میں اجتہاد ہونا چاہئے لیکن اس اعلان کے باوجود سفارشات کا نمبرشمار 5 تا 11 اسی امر کا آئینہ دار ہے کہ یہ متفقہ سفارشات کا ہی تسلسل ہے۔

سفارش نمبر9 میں درج یہ جملہ مرتبین کی اُلجھی ذہنیت کی غمازی کرتا ہے :
''اس طرح زنا اور بدکاری کو ایک ہی درجے میں رکھا گیا ہے۔''

بعض باتیں محض مرتبین کی ذاتی ذہنی اُلجھنیں ہیں، ان کے ذریعے مسئلہ کو بلاوجہ طول دیا جارہا ہے مثلاً یہ دعویٰ کہ ''زنا بالجبر کے بارے میں 4 گواہوں کا ملنا ممکن نہیں۔اگر چار گواہ ہوں گے تو وہ جبری زنا کو روکیں گے، نہ کہ اس کی گواہی دیں گے۔'' محض خام خیالی ہے۔

اپنے اس زعم باطل کے بعد وہ لکھتے ہیں کہ
''علم اور تجربے سے معلوم ہوچکا ہے کہ زنا کو اس طرح ثابت نہیں کیا جاسکتا، ہم اسلام کے نام پر کسی ایسے قانون کے استعمال کی اجازت نہیں دے سکتے جس سے مکروہ جرائم میں ملوث مجرم انصاف کے کٹہرے میں نہ لائے جاسکیں۔'' (مسئلہ نمبر 8)

اس عبارت سے یہ پتہ چلتا ہے کہ مرتبین کا خیال ہے کہ چار گواہ مل نہیں سکتے، یہی وجہ ہے کہ زنا بالرضا کی سزا کو معطل کرنے کے لئے اُنہوں نے مقدمہ درج کرانے سے قبل ہی چار تحریری شہاد توں کی شرط عائد کردی ہے۔ حالانکہ اوّل تو یہ خیال بھی درست نہیں کیونکہ خود دورِ نبویؐ میں ایک یہودی کو رجم کرنے کے واقعہ میں چار گواہ میسر آئے تھے۔2

جہاں تک یہ رائے ہے کہ زنا بالجبر میں نہیں مل سکتے تو یہ بھی محض خام خیالی ہے، کیونکہ ممکن ہے کہ مجبور عورت کی چیخ وپکار سن کر یا اس کو تلاش کرتے ہوئے گواہ اس مرحلہ پر پہنچے ہوں جب فعل زنا واقع ہوچکا ہو، یا بعض اوقات کچھ وڈیرے یا باغی لوگ کھلم کھلا جبری زنا کا ارتکاب کرتے ہیں، اور موقع پر موجود لوگ اپنی کمزوری یا گولی کے خوف کے تحت ان کو روکنے پر قادر نہیں ہوتے۔ بعض قبائلی جرگے بھی ایسے غیر اسلامی فیصلے کردیتے ہیں اور بعض اوقات انتقام کے لئے کسی خاندان کو رسوا کرنے کے لئے بھی یہ مکروہ فعل انجام دیا جاتا ہے۔گھروں میں آنے والے بعض ڈاکو بھی ایسا ہی کرتے ہیں۔ اس لئے یہ فقط مرتبین کی ذہنی اُلجھن ہے، جس کا عملی زندگی سے کوئی تعلق نہیں اور اس کے ذریعے قرآن کے مقدس قوانین کو ناقابل عمل قرار دینے کی جسارت کی جارہی ہے۔

 یہ ترامیم عورتوں کی بے جا حمایت کے نام پر مرتب کی گئی ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایک صنف کے خلاف امتیازی قوانین کے نام سے دوسری صنف کے خلاف امتیازی قوانین کی راہ ہموار کی جارہی ہے ... مثلاً
سفارش نمبر 3 :''عورتوں کو جیل نہ بھیجا جائے۔''
سفارش نمبر4 : ''قذف کی سزا صرف مردوں کے لئے مخصوص کی گئی ہے۔''

اور تمام سفارشات کا مرکزی خیال کہ زنا بالجبر اور زنا بالرضا کو علیحدہ علیحدہ رکھا جائے، یہ تقسیم بھی محض عورت کی رضامندی یا عدمِ رضامندی کی بنا پر ہے، وگرنہ اسلام میں زنا کی سزا کو اس تقسیم کی بجائے کنوارے اور شادی شدہ مرد وزن میں تقسیم کیا گیا ہے، جس کا ان مکمل دو صفحات میں کہیں تذکرہ ہی نہیں ہے ، کیونکہ اسکے مرتبین میں حدرجم کے منکرین بھی شامل ہیں۔

دونوں صفحات کے نیچے نمایاں انداز میں حکومت کو دوبار جھنجوڑا گیا ہے :
''پارلیمنٹ کب سوچے گی؟''

اس سے واضح پتہ چلتا ہے کہ جنگ اور جیو کی اس مشترکہ مہم کا واحد مقصد حدود قوانین میں تبدیلی کرانا ہے، نہ کہ وہ معصوم خواہش جو لگاتار ان پروگراموں کے آغاز میں دہرائی جاتی رہی:
''جن ایشوز نے معاشرے کو تقسیم کردیا ہے، ہم ان میں اتفاقِ رائے پیدا کر نا چاہتے ہیں۔''

'ذرا سوچئے' کا 'لوگو' بھی قابل اعتراض ہے۔ جس میں دو ترازو کے دو پلڑوں کو غیر متوازن دکھانے کے علاوہ ترازو میں رسّی کی بجائے خاردار زنجیراستعمال کی گئی ہے۔ جیو پر آنے والے اشتہارات میں بھی عورتوں کے پائوں میں زنجیریں دکھا کر اُنہیں مظلوم ثابت کیا جاتا رہا ہے۔ غور کا مقام ہے کہ یہ زنجیریں کس کو قرار دیا جارہا ہے۔کہیں اس کے ذریعے اسلام کے قوانین کو نعوذ باللہ ظالمانہ اور وحشیانہ قرار دینے کی جسارت تونہیں کی جارہی؟

مزید سوال یہ ہے کہ 'جیو' نے حدود قوانین کو انسانی کہہ کراس پر بحث کا آغاز کیا تھا۔ اب کیا جنگ اور دی نیوز کے زیر بحث صفحات پردرج سفارشات خدا کی طرف سے نازل شدہ ہیں؟؟ اگر سابقہ قانون پر چند مغرب نواز حلقوں کو اعتراض ہے تو مذکورہ ترامیم تومعاشرے کی پوری ساخت کو تبدیل کرنے کے لئے ہیں اور سرتاپا قابل اعتراض ہیں۔

حدود قوانین کے خلاف آغاز میں درج یہ پروپیگنڈا بھی خلافِ حقیقت ہے کہ
''حدود آرڈیننس پر ہر مکتبہ فکر کی طرف سے تنقید ہوتی رہی۔''

''زنا آرڈیننس اس کا ایک انتہائی متنازع حصہ ہے جس کا کھلم کھلا غلط استعمال ہوا، اس قانون کی بہت مذمت کی گئی، بیشتر علما اور دانشوروں کا کہنا ہے کہ زنا آرڈیننس میں قرآن وسنت کی تعلیمات کی غلط توجیہ وتشریح کی گئی ہے۔''

حالانکہ عوام الناس، سماجی حلقوں اور مذہبی جماعتوں نے ہمیشہ اس کا خیرمقدم کیا ہے، ملک میں مٹھی بھر مغرب نواز طبقہ اور مغربی امداد سے چلنے والی این جی اوز ہی اس کی مخالف رہی ہیں۔ یہ قوانین اسلامی نظریاتی کونسل جیسے معتبر ادارے کے زیر نگرانی مرتب کئے گئے ہیں ، اورنامور علما اور دانشوروں کی شبانہ روز جدوجہد کا نتیجہ ہیں ۔ عوام سے رائے لے کر اُنہیں نافذ کیا گیا اورمتعدد بار اسلامی نظریاتی کونسل حدود قوانین کو عین اسلامی قرار دے چکی ہے، علماے دین اور مذہبی جماعتوں کا موقف بھی یہی رہاہے، جیسا کہ مجلس عمل نے اپنے حالیہ اجلاس میں بھی اسی عزم کو دہرایا ہے۔ (اجلاس : منعقدہ اسلام آباد ، مؤرخہ 12؍جون)

جنگ اور جیو کمرشل ذرائع ابلاغ ہیں، ماضی میں ایسا اتفاق کبھی نہیں ہوا کہ بہبودِ عامہ کے لئے ان کے کئی مکمل صفحات اور بیسیوں اشتہارمختص کردیے گئے ہوں۔ ایک پروگرام کو دن میں کئی کئی بار دکھایا جاتا ہو، ان کے لئے ویب سائٹیں بنائی جائے اور ان کے بڑے بڑے بورڈ چوراہوں پر لگائے جائیں۔ غور طلب امر یہ ہے کہ اس تمام تر مہم میں لگایا جانے والا کروڑوں روپیہ کہاں سے فراہم ہوااور اس کے پس پردہ کیا مقاصد کارفرما ہیں؟

یہ سلگتے سوالات ہر غور وفکر کرنے والے شخص کے ذہن میں ہیں اور اپنا جواب مانگتے ہیں!!

حوالہ جات
1. چونکہ مغرب میں مرد خود بھی کسی ایک عورت کو اپناتے نہیں اور اس تک محدود نہیں رہتے، اس لئے وہاں بیوی ماں ، بہن اور بیٹی کے بارے میں غیرت کھانے کا تصور بھی موجودہ نہیں رہا۔ مسلم معاشروں میں مرد و زَن میں غیرت کے جذبہ کا پایا جانا اسی لئے اُنہیں اجنبی معلوم ہوتا ہے اور پاکستان میں گذشتہ برس غیرت کے خاتمے کے لئے قانون سازی کا مقصود ومدعا بھی یہی ہے۔جبکہ غیرت ایک اسلامی جذبہ ہے اور مسلمان بے غیرت نہیں ہوتے، اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آپ کو سب سے زیادہ غیرت مند قرار دیا ہے، لیکن دلچسپ امر یہ ہے کہ انگریزی میں غیرت کا متبادل کوئی لفظ ہی موجود نہیں کیونکہ یہ جذبہ ہی وہاں اجنبی ہے۔

2. سنن ابو داود: 3862