میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

ملک میں اس وقت بعض مخصوص مقاصد کے تحت حدود آرڈیننس کا میڈیا ٹرائل جاری ہے۔ ماہنامہ محدث نے گذشتہ سالوں میں قانونِ توہین رسالت کے علاوہ حدود آرڈیننس پر بھی متعدد ایسے مضامین شائع کئے جن میں قانونی وابلاغی حلقوں کے اعتراضات کا تفصیلاًجواب دیا گیا ہے۔ صرف 2004ء میں حدود آرڈیننس پر تین تفصیلی مضامین شائع ہوئے: جنوری 2004ء میں 'حدود آرڈیننس کا بدستور نفاذ یا استرداد؟' جون 2004ء میں 'حدود قوانین، انسانی حقوق اور مغرب کا واویلا' اور نومبر 2004ء میں 'قتل غیرت کے نام پر قرآن وسنت سے متصادم قانون سازی۔' تازہ ابلاغی معرکہ کی حقیقت ِحال کو جاننے کے لئے قارئین کو محدث کے ان سابقہ مضامین کا مطالعہ کرنا مفید ہوگا، بالخصوص جون 2004ء میں شائع ہونے والا ڈاکٹر ظفر علی راجا کا مضمون۔ مطالعے کے لئے ان مضامین کو محدث کی ویب سائٹ پر بھی دوبارہ لنک Linkکردیا گیا ہے۔زیر نظر مضمون اسلام آباد کے ادارے ویمن ایڈ ٹرسٹ کی طرف سے حدود قوانین پر اعتراضات کا جواب دینے کی ایک قابل قدر کاوش ہے جس کی اہمیت موجودہ حالت میں دو چند ہوجاتی ہے۔ اس مضمون کے حواشی میں ڈاکٹر ظفر علی راجا کے تحریر کردہ بعض مفید نکات اور نظائر کا بھی اضافہ کردیا گیا ہے ۔ مدیر



کیا اس آرڈی نینس کو جلدی میں مدوّن و نافذ کیا گیا؟
حد زناآرڈی نینس پر سب سے پہلا اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ یہ قوانین اچانک منظرعام پرآئے،جن پر نہ توکسی بحث کی ضرورت محسوس کی گئی اورنہ کسی سطح پرکوئی تبادلہ خیال یاغورو خوض کیا گیا۔ نیز ان کے نفاذ کے ممکنہ نتائج کے تجزیے کا بھی کوئی اہتمام نہیں کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ کسی کو معلوم نہیں کہ ان کا مصنف کون ہے؟ 1

جو لوگ حقیقت ِحال سے واقف ہیں ، وہ یہ جانتے ہیں کہ یہ محض ایک غلط فہمی ہے۔ جناب شریف الدین پیرزادہ، جناب اے کے بروہی، ڈاکٹر خالداسحق، جسٹس (ر)اے کے صمدانی، جسٹس (ر) محمد افضل چیمہ، جسٹس (ر) صلاح الدین، مولانا تقی عثمانی، جسٹس (ر) پیر کرم شاہ ازہری اور ڈاکٹر محموداحمدغازی جیسی نمایاں شخصیات نے اسلامی نظریاتی کونسل میں مسلسل چودہ ماہ تک بحث و مباحثہ کے بعد سفارشات کو حتمی شکل دی۔ان سفارشات کی بنیاد پر ہی 1979ء میں حدود کے قوانین کا نفاذ کیا گیا۔ 2

شام کے سابق سپیکر ڈاکٹر معروف دوالیبی، معروف شامی سکالر ڈاکٹر مصطفی زرقا اور سوڈان کے سابق اٹارنی جنرل سے بھی حد ِزنا آرڈی نینس کے بارے میں رائے لی گئی۔اس آرڈی نینس کے مسودّہ کو عوامی رائے معلوم کرنے کے لئے مشتہر بھی کیا گیا تھا۔ پاکستان میں رائج دیگر قوانین کے بارے میں تو شایدیہ اعتراض کیا جاسکے کہ اکثر قوانین وزارتِ قانون و پارلیمانی اُمور کی غلام گردشوں میں تدوین کے مراحل طے کرتے ہیں اور کسی صبح اچانک نافذ کردیے جاتے ہیں لیکن حدود کے قوانین کے بارے میں ایسا اعتراض سراسر لاعلمی پر مبنی ہے۔(i)

کیااس آرڈی نینس کو غیر جمہوری اندازمیں نافذ کیا گیا؟
ایک اعتراض یہ ہے کہ فردِ واحد یعنی جنرل ضیاء الحق نے غیر جمہوری انداز میں اس قانون کو نافذ و جاری کیا۔

جمہوری اداروں کی عدم موجودگی میں قانون سازی کا عمل بہرحال فردِ واحد کی صوابدید پر منحصر ہوتا ہے اور کسی بھی قانون کی تشکیل سے قبل اس پر عوامی نمائندوں کی جانب سے ضروری بحث و مباحثہ کا رسمی عمل ممکن نہیں ہوتا لہٰذا یہ ابہام قائم رہتا ہے کہ ان قوانین کوعوام کی کس قدر تائید حاصل ہے۔تاہم حدود قوانین کے حوالے سے یہ بحث اب اس اعتبار سے غیر متعلق ہوچکی ہے کہ 1979ء میں ان کے اجرا کے بعد، 1985ء میں آٹھویں ترمیم کے ذریعے یہ قوانین جمہوری طور پر منتخب اسمبلی نے منظور کرلیے تھے اورا س کے بعد ملک میں اکتوبر 2002ء میں ہونے والے انتخابات کے ذریعے پانچویں مرتبہ پارلیمنٹ قائم ہوچکی ہے اور منتخب اداروں نے اگر ان قوانین کو مسلسل جاری رکھا ہے تو یہ منتخب اداروں کی طرف سے ان قوانین کو جواز عطا کرنے کی ہی ایک صورت ہے۔

کیامثالی اسلامی معاشرہ کے قیام کے بغیر حد ِزنا آرڈی نینس کا نفاذ مناسب ہے ؟
کہا جاتا ہے کہ جس معاشرے میں فحاشی اور عریانی عروج پر ہو، میڈیا کے زیر اثر نوجوان نسل تیزی سے بے راہ روی کا شکار ہورہی ہو تو ان حالات میں حد ِزنا کی سخت سزاؤں کا نفاذ غیر مناسب ہے۔ لہٰذا جب تک بُرائی پر آمادہ کرنیوالے تمام عناصر کا قلع قمع نہیں کردیا جاتا اور ایک مثالی اسلامی معاشرہ وجود میں نہیں آجاتا اس وقت تک اس قانون کو ختم کردینا چاہئے۔

عملی طور پر انسانی معاشرے میں مثالی اسلامی معاشرے کا قیام ایک مشکل بات ہے۔نیز اس بات کا تعین کرناکہ معاشرہ مثالی بن چکا ہے یا نہیں ؟ بھی ممکن نہیں ۔ اسلام نے جس مثالی معاشرے کی تصویر کشی کی ہے وہ دراصل ایک ہدف ہے جس کے حصول کے لئے مسلسل جدوجہد کرنا ضروری ہے۔دورِ حاضر میں جو معاشرے مہذب کہلاتے ہیں وہاں بھی چوری، ڈاکہ، فراڈ اور خواتین کی بے حرمتی جیسے واقعات بڑی تعداد میں وقوع پذیر ہوتے ہیں ، اس لئے یہ اعتراض محض فرار کا ایک راستہ ہے۔ دراصل معاشرے سے برائیوں کا قلع قمع کرنے کے لئے اور اسے مثالی معاشرہ بنانے کے لئے ہی قوانین بنائے اور نافذ کئے جاتے ہیں ۔ حد زنا کا قانون بھی معاشرے کوپاکیزہ بنانے کے لئے بنایا گیا ہے۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ موجودہ حالات میں جب بہت سے عناصر لوگوں کو جرمِ زنا کے ارتکاب پر مجبور کررہے ہیں تو سنگساری یا کوڑوں جیسی سخت سزا کا قانون نامناسب ہے۔ لیکن ہمارے خیال میں مسئلہ کا حل یہ ہرگز نہیں کہ اس قانون کو ہی ختم کردیا جائے بلکہ دراصل ان عناصر کا خاتمہ ہونا چاہئے جومعاشرے کو بُرائی کی آماج گاہ بنا رہے ہیں ۔

یہاں یہ بات بھی ذہن نشین کرنا ضروری ہے کہ حد زنا کا قانون کوئی جامد قانون نہیں ۔ دراصل یہ عدالتوں کا کام ہے کہ وہ مقدمہ کی تفصیلات، واقعات کا پس منظر، جرم کے محرکات اور ملزم کے حالات کو پیش نظر رکھ کر مقدمہ کا فیصلہ اور سزاکا تعین کریں ۔ شریعت ِاسلامی میں ذرا سا شبہ بھی حد زنا کی سزاکوساقط کردیتاہے۔ شریعت کا مستقل اُصول ہے کہ ''شبہات کی بنا پر حدود ساقط ہوجاتی ہیں ۔'' ان شبہات سے فائدہ اٹھا کر 1979ء سے لے کر اب تک حد کی سزا پاکستان میں نافذ نہیں کی گئی لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ان مقدمات میں تمام ملزموں کو بری کردیا جاتاہے بلکہ عدالت کو مقدمہ کے حالات کے مطابق تعزیری سزادینے کا اختیار حاصل ہے۔ لہٰذا ہم کہہ سکتے ہیں ایک قانون کو ختم کرنے کی بجائے معاشرے کو مثالی معاشرہ بنانے کی طرف پیش رفت کی جائے اور افراد کی اصلاح و تربیت کرنے پر زور دیا جائے۔

کیا سزا کے لئے بلوغت کو معیار بنانا درست نہیں ؟
حد زنا آرڈی نینس کی دفعہ نمبر 5 اور 10 کے مطابق ہر عاقل و بالغ شخص جوجرمِ زنا کا ارتکاب کرے گا، وہ ان دفعات میں دی گئی سزا کا مستحق قرار پائے گا۔ اس پر مندرجہ ذیل اعتراضات کئے جاتے ہیں :
(1)  پہلا اعتراض تو یہ ہے کہ ہمارے ملک میں عموماً 8؍9 سال کی عمر کی بچیاں بھی بلوغت کی عمر کو پہنچ جاتی ہیں جو جسمانی طور پرتو بے شک بالغ ہوتی ہیں لیکن ذہنی طور پر اتنی پختہ نںیو ہوتیں کہ اس جرم کی نوعیت اوراس کے نتائج کو سمجھ سکیں ۔ ایسی معصوم بچیوں کو ان دفعات کے تحت سزا دینا بڑا ظلم ہے۔
(2)  دوسرا اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ چونکہ فطری طور پر ایک بچی جلدی بلوغت کی عمر کو پہنچ جاتی ہے تو وہ بچے کی نسبتاً جلد سزا کی مستحق قرا رپاتی ہے۔ یہ بھی ایک طرح کا امتیازی سلوک ہے جوعورت کے ساتھ روا رکھا گیاہے۔

ان اعتراضات کے حوالے سے ہم عرض کرنا چاہیں گے کہ کسی بھی قانون کا بنیادی مقصد معاشرے کو جرائم سے پاک کرنا اور افرادِ معاشرہ کو ان جرائم کے ارتکاب سے باز رکھنا ہے۔ جامع اور نقائص سے پاک قانون وہی ہوسکتا ہے جو جرم کے ارتکاب کی تمام امکانی صورتوں کا راستہ روکنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جسمانی طور پر بلوغت کی عمر کو پہنچنے کے بعد کوئی بھی بچہ یا بچی جنسی خواہش کو پورا کرنے کی صلاحیت حاصل کرلیتے ہیں ۔ اس لئے ایسا کوئی قانون موجود ہونا چاہئے جو اُنہیں اس جرم کے ارتکاب سے باز رکھ سکے۔ اگر کسی معاشرے میں ایسا کوئی قانون موجود نہیں تو یہ اُس معاشرے کے قانونی نظام میں ایک سقم ہے جسے بہرحال دور کیاجانا چاہئے۔

جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ بچیاں جسمانی طور پر تو بالغ ہوجاتی ہیں لیکن ذہنی طور پر اتنی پختہ نہیں ہوتیں کہ جرم کی نوعیت اور اس کے نتائج کو سمجھ سکیں ۔ اس سلسلہ میں ہماری رائے یہ ہے کہ اُنہیں سزا سے مستثنیٰ قرار دینے کو عمومی اُصول نہیں بنایا جاسکتا کیونکہ اس طرح کم عمر بچے جرائم پیشہ افراد کے ہاتھوں میں کھلونا بن جائیں گے۔ تاہم عدالتوں کی یہ مستقل ذمہ داری ہے کہ وہ کسی بھی مقدمہ کا فیصلہ کرتے وقت اس بات کو ملحوظ رکھیں کہ ملزم ذہنی طور پر کتنا پختہ ہے اور ہر مقدمہ کی نوعیت کے مطابق کسی بھی ملزم کو سزا میں رعایت دی جاسکتی ہے یا اسے سزا سے مستثنیٰ قرار دیا جاسکتا ہے۔ یہی بات تعزیراتِ پاکستان دفعہ نمبر 83 میں بھی بیان ہوئی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں :
''7 سال سے 12 سال کی عمر کا بچہ جواتنی پختہ سوچ کا مالک نہ ہوکہ اپنے رویے کی نوعیت اور اس کے نتائج کو اچھی طرح سمجھ سکے، اگر کسی جرم کا ارتکاب کرتا ہے تو وہ جرم تصور  نہيں ہوگا۔''

مذکورہ بالا دفعہ کے مطالعہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ 7 سال سے 12سال تک کی عمر کا بچہ صرف اس صورت میں فوجداری مسئولیت سے مستثنیٰ ہے جب عدالت اس بات پرمطمئن ہو کہ وہ اتنی پختہ سوچ کا مالک نہیں ہے کہ اپنے رویے کی نوعیت اور اس کے نتائج کواچھی طرح سمجھ سکے۔ اسی طرح جو بچہ 12 سال سے زیادہ عمر کا ہے، وہ فوجداری مسئولیت سے مستثنیٰ نہیں ہے اور اسے جرم کے ارتکاب پر سزا دی جائے گی۔

جہاں تک دوسرے سوال کا تعلق ہے تو اسے امتیازی سلوک ہر گز قرار نہیں دیاجاسکتا۔ اس لئے کہ بلوغ کی عمر کو پہنچنے کے بعد ایک بچی یا بچہ اس جرم کے ارتکاب کی صلاحیت حاصل کرلیتے ہیں لہٰذا اس جرم کے ارتکاب کاراستہ روکنے کے لئے ضروری ہے کہ قانون موجود ہو۔ اس بات کو ہم اس طرح بھی سمجھ سکتے ہیں کہ مثال کے طور پر اگریہ قانون بنایا جائے کہ لڑکا ہو یا لڑکی 12 سال کی عمر سے قبل سزا سے مستثنیٰ ہوں گے تو ایسی صور تِ حال میں اگر کوئی بھی لڑکا یا لڑکی اس جرم کا ارتکاب 12 سال کی عمر سے قبل کرتے ہیں تو اس کا سدباب کیسے ممکن ہوگا؟ یہ اس قانون میں موجود ایک سقم کہلائے گا۔نیز ایک تکنیکی مسئلے کو خواہ مخواہ خواتین سے امتیازی سلوک قرار دینا کسی طرح بھی درست نہیں ۔

ہم یہاں اس بات کا ذکر ضروری سمجھتے ہیں کہ بچوں کے حوالے سے سب سے پہلے قانون سازی اسلام نے کی۔ اسلامی شریعت میں ولادت سے لے کر بلوغت تک ادراک و اختیار کی تکمیل کے مختلف مراحل کے لحاظ سے بچوں کے احکام مختلف ہیں ۔ ولادت سے لے کر سن بلوغ تک انسان کئی مراحل سے گزرتا ہے ۔ پہلا مرحلہ جس میں اِدراک موجود نہیں ہوتا تو وہ ناسمجھ بچہ یعنی 'صبی غیر ممیز' ہے۔ یہ مرحلہ 7سال تک جاری رہتا ہے۔ اگر بچہ 7سال کی عمر سے قبل کوئی جرم کرے تو اسے کوئی سزانہ دی جائے اورایسا بچہ فوجداری مسئولیت سے مستثنیٰ ہوگا۔ دوسرا مرحلہ 7 سال کے بعد سے شروع ہوکر بلوغ پرختم ہوتا ہے۔ یہ سمجھداربچہ یا 'صبی ممیز' کہلاتا ہے۔ یہ بھی فوجداری مسئولیت سے مستثنیٰ ہے، اسے کسی جرم کے ارتکاب پر سزا نہیں دی جائے گی، تاہم اسے ایسی تادیبی سزا دی جاسکتی ہے جس کا مقصد تنبیہ اور سرزنش ہو۔ تیسرا مرحلہ بلوغ کے بعد شروع ہوتا ہے، ایسا فرد جرم کے ارتکاب پرسزا کا مستحق ہوتاہے، اس کے لئے عمر کی کوئی قید نہیں بلکہ علاماتِ بلوغ کے ظاہر ہوتے ہی یہ مرحلہ شرو ع ہوجاتا ہے۔ 3

کیا سابقہ قانون اس آرڈی نینس سے بہتر تھا؟
ایک خیال یہ ہے کہ چونکہ پاکستان کی خواتین یہاں کے مخصوص معاشرتی پس منظر کی وجہ سے پوری طرح آزاد اور خود مختار نہیں ہوتیں ، اس لئے ان غیر مساوی حالات میں زنا کے مقدمات میں عورت کوملزم بنانا درست نہیں ، لہٰذا سابقہ قانون حد زنا آرڈی نینس کی نسبت بہتر تھا، اسے بحال کیا جائے۔

سابقہ قانون یعنی تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ نمبر 497 کے مطابق زنا کے مقدمات میں صرف مرد ملزم ہوتا تھا اور وہ بھی اس صورت میں جب وہ کسی شادی شدہ عورت سے اس کے شوہر کی اجازت یا اس کی ملی بھگت کے بغیر اس جرم کا ارتکاب کرتا۔ بالفاظ دیگر زنا بذاتِ خود کوئی جرم نہ تھا بلکہ یہ صرف اس لئے جرم تھا کہ شوہر کے حق میں کسی دوسرے نے مداخلت کی ہے۔ اسی طرح کنواری ، بیوہ اورمطلقہ خواتین کے ساتھ ان کی مرضی سے فعل زنا کا ارتکاب کوئی جرم نہ تھا۔اس دفعہ کے تحت دراصل معاشرے کے بدکردار اور بیمار ذہنیت کے حامل افراد کو کھلی چھٹی دے دی گئی تھی جو کہ ہماری معاشرتی اقدار اوراسلامی تعلیمات سے متصادم تھی چنانچہ جو لوگ جائز نکاح کے بغیر جنسی تعلقات قائم کرنا درست سمجھتے ہیں ، ان کی جانب سے یہ مطالبہ تو قابل فہم ہے لیکن جو لوگ نکاح کے بغیر جنسی تعلقات کو غلط سمجھتے ہیں ، اُنہیں معلوم ہونا چاہئے کہ سابقہ قانون میں ایک ایسا سقم موجود تھا جسے دور کرنا ضروری تھا۔ اسلام زنا کو معاشرے کیلئے سخت نقصان دہ سمجھتا ہے اوراسے مطلقاً حرام قرار دیتا ہے۔ ارشاد باری ہے:
وَلَا تَقْرَ‌بُوا ٱلزِّنَىٰٓ ۖ إِنَّهُۥ كَانَ فَـٰحِشَةً وَسَآءَ سَبِيلًا ﴿٣٢...سورۃ بنی اسرائیل
''زنا کے پاس بھی نہ پھٹکو کیونکہ وہ بے حیائی ہے اوربہت بُرا راستہ ہے۔''

نیز فرمایا کہ
ٱلزَّانِيَةُ وَٱلزَّانِى فَٱجْلِدُوا كُلَّ وَ‌ٰحِدٍ مِّنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ...﴿٢...سورۃ النور
''زانی عورت اور زانی مرد ہر ایک کو 100، 100 کوڑے مارو۔''

جرمِ زنا کو حرام قرا ردیتے ہوئے اس پر سخت ترین سزا تجویز کرنے کی وجہ یہ ہے کہ شریعت اسلامیہ فرد اور معاشرے کو ان قباحتوں سے بچانا چاہتی ہے جو اس فعل کا لازمی نتیجہ ہیں ۔ یہ نتائج مندرجہ ذیل ہوسکتے ہیں :
(1) ایک زانی اپنے آپ کو امراضِ خبیثہ کے خطرے میں مبتلا کرتا ہے اوراس طرح وہ نہ صرف اپنی جسمانی قوتوں کی اجتماعی افادیت میں نقص پیدا کرتا ہے بلکہ معاشرے اور نسل کوبھی نقصان پہنچاتا ہے۔ ایڈز جیسی بیماریوں کے پھیلنے سے آج مغرب خود پریشان ہے اور اس بات کی تبلیغ پر مجبور ہے کہ لوگ اپنے آپ کوصرف اپنی قانونی بیوی تک محدود رکھیں ۔بعض امراض تو ایسے ہیں جونسل در نسل منتقل ہوتے ہیں ۔
(2) ایک زانی کے لئے ان اخلاقی کمزوریوں سے بچنا ناممکن ہے جن کا اس کے کردارمیں پیدا ہونا اس فعل کا لازمی نتیجہ ہے۔بے حیائی، فریب کاری، جھوٹ، بدنیتی، خود غرضی، خواہشات کی غلامی، ضبط ِنفس کی کمی، خیالات کی آوارگی اوربے وفائی جیسی برائیاں زانی میں پیدا ہوجاتی ہیں اور اگر کسی معاشرے میں یہ برائیاں عام ہوجائیں تو ان کی سب سے پہلی زد خاندان کے استحکام اور خوشیوں پرپڑتی ہے جوکسی بھی معاشرے کی بنیاد ہے اور پھر وسیع تر سطح پر اس معاشرے کا آرٹ و ادب ، تفریحات اورکھیل ، علوم وفنون ، فوجی خدمات اور نظام تہ و بالا ہوکر رہ جاتے ہیں ۔
(3) جوشخص یہ کہتا ہے کہ ایک جوان مرد کو 'تفریح' کا حق (ii)حاصل ہے، وہ گویاساتھ یہ بھی کہتا ہے کہ معاشرے میں جسم فروش عورتوں کاطبقہ مستقل طور پر موجود رہنا چاہئے۔
(4) معاشرے میں زنا کے عام ہونے سے نکاح کی اہمیت کم ہوجاتی ہے۔ جس معاشرے میں ذمہ داریاں قبول کئے بغیر خواہشاتِ نفس کی تسکین کے مواقع حاصل ہوں وہاں افراد نکاح کرکے اپنے سربھاری ذمہ داریوں کا بوجھ کیوں ڈالیں گے؟
(5) زنا کے عام ہونے سے معاشرے کو ایک بڑی تعداد میں بن باپ کے بچے ملتے ہیں جن کا خیرمقدم کرنے کے لئے نہ ماں تیار ہوتی ہے، نہ باپ اور نہ ہی معاشرہ انہیں قبول کرتا ہے۔ وہ ایک مطلوب چیز کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک ناگہانی مصیبت کی حیثیت سے والدین کے درمیان آتا ہے۔ اسے باپ کی محبت اور وسائل میسر نہیں ہوتے۔ ایسے بچے ناقص اور نامکمل انسان بن کر اُبھرتے ہیں اور معاشرے کیلئے ایک بوجھ بن جاتے ہیں ۔
(6) زنا کے ذریعے ایک خود غرض انسان جس عورت کو ایک بچے کی ماں بنا دیتا ہے، اس عورت کی زندگی ہمیشہ کے لئے تباہ ہوجاتی ہے اور اس پر ذلت اور نفرتِ عامہ کا ایسا پہاڑ ٹوٹ پڑتا ہے کہ جیتے جی وہ اس کے بوجھ کے نیچے سے نہیں نکل سکتی۔ ایک جائز بچے کی ماں اورایک ناجائز بچے کی ماں کو معاشرہ کبھی بھی مساوی درجہ دینے کے لئے تیار نہیں ہوتا اورحقیقت میں وہ مساوی ہو بھی کیسے سکتی ہیں ؟ 4

جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ مخصوص معاشرتی پس منظر کی وجہ سے پاکستان کی خواتین پوری طرح آزاد اور خود مختار نہیں ہوتیں ، اس لئے ان غیر مساوی حالات میں زنا کے مقدمات میں عورت کوملزم بنانا درست نہیں ! اسے ایک عمومی اُصول نہیں بنایا جاسکتا کیونکہ اگر اسے عمومی اُصول بنایا جائے تو ایسی صورت میں معاشرے کو برائیوں سے بچانا ممکن نہیں رہتا اور بدکردار لوگوں کو اس جرم کے ارتکاب کے لئے ایک جواز ہاتھ آجاتا ہے۔نیز محض جنس کی بنیاد پر ایک فریق کو جرم سے مستثنیٰ قرار دینا کیونکر درست ہوسکتا ہے۔ یہ خود ایک امتیازی سلوک ہے جس کا کوئی جواز نہیں ہوسکتا اور یہ آئین پاکستان کی بھی خلاف ورزی ہے۔ تاہم عدالتوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ کسی بھی مقدمہ کی سماعت کے دوران اس بات کا خیال رکھیں کہ آیا یہ جرم عورت کی آزاد مرضی سے وقوع پذیر ہوا ہے یا اس میں عورت پر کسی بھی درجے کا جبر موجود تھا۔

کیا سنگساری کی سزا غیر اسلامی ہے ؟
ایک رائے یہ ہے کہ اس آرڈی نینس میں بیان کردہ سنگساری کی سزا غیر قرآنی اور غیراسلامی ہے کیونکہ قرآنِ مجید کی جس آیت میں جرمِ زنا پر حد کی سزا مقرر کی گئی ہے، اس میں صرف کوڑوں کی سزا مذکور ہے۔(5) ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
ٱلزَّانِيَةُ وَٱلزَّانِى فَٱجْلِدُوا كُلَّ وَ‌ٰحِدٍ مِّنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ...﴿٢...سورۃ النور
''زانی عورت اور زانی مرد ہر ایک کو 100، 100 کوڑے مارو۔''

یہ بات صحیح ہے کہ مذکورہ آیت میں جرمِ زنا کی سزا سنگسار کرنا نہیں ہے بلکہ سو کوڑے مارنا ہے لیکن سنگسار کرنے کی سزا کا جواز ہمیں سنت ِرسولؐ سے ملتا ہے۔بکثرت معتبر روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ آپؐ نے نہ صرف قولاً شادی شدہ زانی کی سزا سنگساری تجویز فرمائی بلکہ آپؐ نے عملاً متعدد مقدمات میں یہی سزا نافذ بھی فرمائی۔ اگرسنگساری سے متعلق احادیث کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ ، حضرت علیؓ، حضرت عبداﷲ بن مسعودؓ، حضرت انس بن مالکؓ، حضرت ابوہریرہؓ، حضرت عبداللہ بن عباسؓ سمیت اکیاون صحابہ کرامؓ نے ان احادیث کو نقل کیا ہے۔(6) اس طرح یہ سزا سنت ِمتواترہ سے ثابت ہوجاتی ہے۔ (سنت ِمتواترہ وہ سنت ہے جسے اتنے لوگوں نے روایت کیا ہو کہ ان کا جھوٹ پر متفق ہونا ممکن نہ ہو) فقہا کا اس بات پر بھی اتفاق ہے کہ سنت ِمتواترہ کا حکم بھی قرآن کے حکم کی طرح ہے۔ اسی طرح غامدیہؓ، ماعزؓ، عسیف اور یہودیوں کے ایک مقدمہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سزا عملاً نافذ بھی فرمائی۔

غامدیہؓ قبیلہ غامد کی عور ت تھی۔ اس نے آکر چار مرتبہ اقرار کیاکہ وہ زنا کی مرتکب ہوئی ہے اور اسے ناجائز حمل ہے۔ آپؐ نے اسے پہلے اقرا رپر فرمایا: ''واپس چلی جاؤ، اللہ سے معافی مانگو اور توبہ کرو۔'' مگر اس نے کہا: ''یارسول اﷲؐ! کیا آپ مجھے ماعز ؓ کی طرح ٹالنا چاہتے ہیں ، میں زنا سے حاملہ ہوں ۔''
آپؐ نے فرمایا: ''اچھا تم نہیں مانتی تو چلی جاؤ اور وضع حمل کے بعد آنا۔''
وضع حمل کے بعد وہ بچے کوساتھ لے کر آئی اور کہا: ''اب مجھے پاک کردیجئے۔''
آپؐ نے فرمایا: '' جاؤ اور اسے دودھ پلاؤ، دودھ چھوٹنے کے بعد آنا...''

پھر وہ دودھ چھڑانے کے بعد آئی اور ساتھ روٹی کا ایک ٹکڑا بھی لے آئی۔ بچے کو روٹی کا ٹکڑا کھلا کر آپ کودکھایا اور عرض کیا: ''یارسول اﷲؐ اب اس کا د ودھ چھوٹ گیاہے اور دیکھئے یہ روٹی کھانے لگا ہے۔'' تب آپؐ نے بچے کو پرورش کے لئے ایک شخص کے حوالے کیا اور اس کو سنگسار کرنے کا حکم دیا۔ 7

متعدد صحابہؓ سے مروی ہے کہ آپؐ نے فرمایا:
''کوئی مسلمان شخص جو گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں ، اس کا خون تین صورتوں کے سوا کسی صورت میں حلال نہیں ہے۔ ایک یہ کہ جان کے بدلے جان لی جائے (یعنی قصاصاً کسی کو قتل کیاجائے) دوسرا شادی شدہ شخص زنا کرے۔ تیسرا کوئی شخص اپنا دین چھوڑ دے اوراپنی جماعت سے جدا ہوجائے۔'' 8

ایک اور حدیث میں ہے کہ آپؐ نے فرمایا:
''اولاد اس کی جس کا بستر ہو اور زانی کے لئے پتھر ہیں ۔'' 9

خلفاے راشدین کا عمل اور فقہاے اُمت کا اتفاق : آپؐ کے دور کے بعد چاروں خلفاے راشدینؓ نے نہ صرف اس سزا کے شرعی ہونے کا باربار اعلان کیا بلکہ اپنے اپنے دور میں یہ سزا نافذ بھی کی۔ صحابہ کرامؓ اور تابعین رحمۃ اللہ علیہ میں یہ مسئلہ بالکل متفق علیہ تھا۔کسی ایک شخص کا بھی کوئی قول ایسا موجود نہیں ہے جس سے یہ نتیجہ نکالا جاسکے کہ کسی کو اس سزا کے ثابت شدہ حکم شرعی ہونے میں کوئی شک تھا۔ ان کے بعد بھی تمام زمانوں اور ملکوں کے فقہائے اُمت اس بات پر متفق رہے ہیں کہ جرمِ زنا پر شادی شدہ شخص کے لئے سنگساری کی سزا سنت ِثابتہ ہے اور کوئی صاحب ِعلم اس کا انکار نہیں کرسکتا۔

اُمت ِمسلمہ کی پوری تاریخ میں سواے خوارج اور بعض معتزلہ کے کسی نے بھی اس کا انکارنہیں کیا اور اُن کے انکار کی وجہ بھی یہ نہیں تھی کہ وہ اسے سنت ِمتواترہ سے ثابت نہیں سمجھتے تھے بلکہ ان کا کہنا یہ تھا کہ چونکہ مذکورہ آیت میں ہر طرح کے زانی کی سزا 100 کوڑے مقرر کی گئی تھی، لہٰذا شادی شدہ زانی کے لئے الگ سزا تجویز کرنا قانونِ خداوندی کے خلاف ہے۔حالانکہ اُنہوں نے یہ نہیں سوچا کہ قرآن کے الفاظ جو وزن رکھتے ہیں ، وہی وزن ان کی اس تشریح کا بھی ہے جو آپؐ کی سنت مطہرہ سے ثابت ہے۔

خوارج اور بعض معتزلہ کی دلیل کودرست نہیں کہا جاسکتا کیونکہ بے شمار قرآنی احکامات ایسے ہیں جن کی تشریحہ میں سنت سے ملتی ہے۔مثال کے طور پر قرآن مجید میں چو رکے ہاتھ کاٹنے کا حکم مطلق ہے اورکہیں بھی چور ی شدہ چیز کی حد مقرر نہیں کی گئی۔ اس کی تشریح ہمیں سنت سے ملتی ہے۔ اگر ہم سنت میں مذکور تشریح کو درخورِ اعتنانہ سمجھیں تو ایک سوئی یا ایک بہت معمولی چیز کی چوری پربھی ہمیں چور کا ہاتھ کاٹنا پڑے گا۔اسی طرح قرآنِ مجید میں محرمات کے ذکر میں صرف رضاعی بہن اوررضاعی ماں کو محرم قرار دیا گیا ہے جبکہ رضاعی بیٹی کی حرمت سنت میں مذکور ہے۔اسی طرح قرآن میں صرف دو بہنوں کو ایک شخص کے نکاح میں جمع کرنے سے منع کیاگیا ہے جبکہ خالہ بھانجی اورپھوپھی بھتیجی کو ایک شخص کے نکاح میں جمع کرنے کے بارے میں کوئی حکم قرآن میں مذکور نہیں ۔اس کا حکم بھی ہمیں سنت میں ملتا ہے۔ اسی طرح قرآنِ مجید ہمیں حکم دیتا ہے کہ خریدوفروخت کرتے وقت گواہ بنالو۔اب اگر ہم خوارج اور معتزلہ کے استدلال کو صحیح مان لیں تو وہ تمام خریدوفروخت ناجائز ہوجاتی ہے جو دن رات ہماری دوکانوں پرگواہوں کی غیر موجودگی میں ہوتی ہے۔ یہ صرف چند مثالیں ہیں ، اس طرح کی بے شمار مثالیں ہمیں قرآن و سنت میں ملتی ہیں ۔10

یہ بھی کہا جاتاہے کہ سنگساری کی سنت ِمذکورہ کے تمام فیصلے سورئہ نور کی مذکورہ آیت کے نزول سے پہلے کے ہیں لیکن یہ سوال بھی محض ایک غلط فہمی کا نتیجہ ہے۔احادیث کے مطالعے سے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ سورة النور کی مذکورہ آیت کے نزول کے بعد بھی آپؐ نے سنگسار کرنے کا حکم نافذ فرمایا۔ سورئہ نور کا نزول 5 ہجری میں غزوة بني المُصطلقکے بعد اس وقت ہوا جب بعض منافقین نے حضرت عائشہؓ پرتہمت لگائی تھی جبکہ آنحضرت ؐ کے عہد ِمبارک میں رجم کا جو سب سے پہلا واقعہ ہوا تھا، وہ یہودیوں کا واقعہ تھا جو 8 ہجری میں فتح مکہ کے بعد پیش آیا۔

اس سلسلہ میں ایک خیال یہ بھی ظاہر کیاجاتاہے کہ مذکورہ آیت میں بیان کردہ سزا عام ہے جس میں شادی شدہ یا غیر شادی شدہ میں کوئی فرق نہیں ہے۔ اگر مذکورہ بالا احادیث کی بنیاد پر سنگساری کی سزا کو حکم شرعی مان لیاجائے تو اس سے لازم ہوجائے گاکہ حدیث نے قرآنِ کریم کی اس آیت کومنسوخ کردیا نیز یہ خیال کہ سنت میں شادی شدہ زانی کے لئے سنگساری کی جو سزا تجویز کی گئی ہے وہ سورة النور کی مذکورہ آیت سے متصادم ہے ، بھی غلط فہمی کا نتیجہ ہے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ سورة النورکی مذکورہ آیت عام ہے اور سنت میں مذکور حکم خاص صورت کے ساتھ مخصوص ہے۔ اورفقہ کا اُصول یہ ہے کہ جہاں ایک جگہ حکم عام ہو اور دوسری جگہ خاص تو اُن کو نہ تو باہم متصادم سمجھا جائے گا اورنہ ہی یہ کہا جائے گا کہ ایک قانون نے دوسرے قانون کو منسوخ کردیا۔اس کی دو توجیہات ممکن ہیں :ایک یہ کہ سنت نے سورة النور کی آیت میں تخصیص پیدا کرکے اس کے حکم کو غیر شادی شدہ زانی کی حد تک محدود کردیااور دوسری یہ کہ سنت نے سورة النور کے حکم کو نہ تو منسوخ کیا ہے اور نہ ہی تخصیص کی بلکہ وہ اپنے عموم پربرقرار ہے۔البتہ شادی شدہ زانی بیک وقت دونوں سزاؤں کا حقدار ہوتاہے۔قرآن کی رو سے کوڑوں کا اورسنت کی رو سے سنگساری کی سزا کا، لیکن فقہ کا اُصول یہ ہے کہ ''چھوٹی سزا بڑی سزامیں مدغم ہوجاتی ہے۔'' لہٰذا عملاً صرف سنگساری کی سزا دی جائے گی۔ قرآن کے عموم کی تخصیص سنت ِمتواتر کے ذریعے بالاجماع جائز ہے اور اس مسئلہ پر کسی کا بھی اختلاف نہیں ہے۔ 11

اس بحث کی مثال اگر ہم موجودہ دور سے لیناچاہئیں تو تعزیرات ِپاکستان کی دفعہ نمبر379 میں چور کی سزا 3 سال تک قید یا جرمانہ یا دونوں تجویز کرتی ہے، اس میں ہر طرح کاچور شامل ہے خواہ اس نے کسی رہائشی مکان سے چوری کی ہو یا دوکان سے۔ جبکہ دفعہ نمبر380 میں یہ کہا گیا ہے کہ جو شخص کسی رہائشی مکان میں چوری کا ارتکاب کرے تو اس کی سزا7 سال قید تک ہوسکتی ہے۔اس دفعہ میں ایک خاص قسم کی چوری کا ذکر ہے جو دفعہ نمبر379 کے عموم میں بھی داخل تھی تو کیا اب یہ کہا جاسکتا ہے کہ دفعہ 380 دفعہ 379 سے متصادم ہے یا دفعہ 380 نے دفعہ 379 کو منسوخ کردیا۔ یہی صورت حال زانی کی سزا کے سلسلہ میں واقع ہوئی ہے۔ 12

کیا سنگساری اور کوڑوں کی سزائیں ظالمانہ ہیں ؟
ایک اعتراض یہ کیاجاتا ہے کہ حدود کی سزائیں ظالمانہ اور سخت ہں اور بعض لوگ تو اُنہیں وحشیانہ بھی قرار دیتے ہیں ۔

انسانی نفسیات یہ ہے کہ وہ زندگی کے ہر معاملے میں فائدے اورنقصان کا موازنہ کرتا ہے اگر فائدے کا پہلو غالب ہوتا ہے تو کرگزرتا ہے اور اگر نقصان کا پہلو غالب ہوتاہے تو گریز کرتاہے۔چنانچہ انسان ارتکابِ جرم میں بھی اسی اصول کو پیش نظر رکھتا ہے۔ اگر اسے فائدے کی اُمید زیادہ اور سزا کی کم تو وہ اس جرم کا ارتکاب کر گزرے گا اور اگر اس کی سزا شدیدہوگی تو وہ اس جرم سے دور رہے گا۔ شریعت ِاسلامیہ نے ہی انسانی نفسیات کو مدنظر رکھتے ہوئے سزائیں مقرر فرمائی ہیں ۔جو جرائم معاشرے کے لئے خطرناک ہیں ، ان پرنرمی برتنا معاشرے کے لئے زیادہ نقصان دہ ہوسکتا ہے اس لئے اس میں زیادہ سخت سزائیں تجویز کی گئی ہیں ۔ 13

سنگساری کی سزا: جہاں تک سنگساری کی سزا کا تعلق ہے، اس کے بارے میں یہ خیال ظاہر کیا جاتاہے کہ یہ ایک تکلیف دہ طریقہ ہے۔ یہاں یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ سنگساری کی سزا دراصل سزاے موت ہی ہے اور قوانین عالم میں متعدد جرائم کی سزاموت تجویز کی گئی ہے۔ سزاے موت کے لئے مختلف طریقے اختیار کئے جاتے ہیں مثلاً پھانسی دینا، تلوار سے قتل کرنا، گیس کے ذریعے مارنا، بجلی کے جھٹکے سے مارنا، گولی سے مارنا یا پتھروں سے مارنا وغیرہ۔ یہ سب موت کے طریقے ہیں لیکن موت اپنی جگہ ایک ہی ہے۔ اگر کسی کا یہ خیال ہے کہ گولی سے موت جلد واقع ہوجاتی ہے اور پتھروں سے ہر صورت میں موت دیر سے آتی ہے تو ایسا شخص کھلی غلطی میں مبتلاہے۔ بعض اوقات گولی بھی صحیح مقام پر نہیں لگتی اور موت میں تاخیر ہوجاتی ہے اور پتھر مقامِ قتل پر لگ جاتے ہیں اورموت فوراً واقع ہوجاتی ہے۔ اسی طرح گولی مارنے والے کم تعداد میں ہوتے ہیں اور ان کی گولیاں بھی محدود ہوتی ہیں جبکہ پتھر مارنے والوں کی تعداد کثیر ہوتی ہے اوروہ اس وقت تک مارتے رہتے ہیں جب تک اس شخص کی موت واقع نہ ہوجائے۔ذرا تصور کیجئے کہ ایک آدمی کو سینکڑوں لوگ پتھروں سے مار رہے ہوں تو کیا وہ گولی کی موت سے جلدی نہیں مرجائے گا۔تجربے سے یہ بات ثابت ہے کہ اکثر اوقات پھانسی کی رسی سے موت جلد واقع نہیں ہوتی۔ اسی طرح گیس اوربجلی کے جھٹکے دینے سے بھی موت میں تاخیر ہوجاتی ہے۔

اس سزا کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ موت کے بارے میں یہ سوچناکہ جلد واقع ہوجائے، نظریۂ سزا کے سراسر منافی ہے کیونکہ موت میں اگر تکلیف اورعذاب کا پہلونہ رہے تو یہ سب سے معمولی سزا بن جائے۔ کیونکہ لوگ بذاتِ خود موت سے اتنا نہیں ڈرتے جتنا مرنے کی تکلیف سے ڈرتے ہیں ۔ یہ بات درست ہے کہ مرنے والے کے لئے تکلیف اورعذاب کی کوئی اہمیت نہیں لیکن معاشرے کے دیگر افراد کومتنبہ اور خوف زدہ کرنے کے لئے اس تکلیف کا ہونا ضروری ہے۔ 14

اسی طرح جو لوگ زانی کی سزاے موت سے اس قدر گھبراتے ہیں وہ اگر اعداد وشمار کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ زنا کی وجہ سے ہونے والے قتل کی تعداد دیگر وجوہات کی بنا پر ہونے والے قتل سے نصف ہوتی ہے۔عملاً صورتِ حال یہ ہے کہ اگر کوئی اپنی بیوی یابیٹی کو کسی کے ساتھ ملوث دیکھتا ہے تو دونوں کو خود قتل کردیتا ہے اور بعض اوقات قتل کے ایسے طریقے اختیار کئے جاتے ہیں جوشدتِ تکلیف میں سنگسارکرنے سے بھی زیادہ سخت ہیں ۔ اس صورت حال میں سنگسار کئے جانے کی سزا کو اختیارکرنا اس واقعی صورتِ حال کا اعتراف ہے۔ 15

کوڑوں کی سزا: کوڑوں کی سزا کی خصوصیت یہ ہے کہ اس کا رُخ مجرم کی مادّی حساسیت کی طرف ہوتاہے۔ جس چیز سے مجرم زیادہ ڈرتے ہیں ، وہ جسمانی اذیت ہے۔ اس لئے ان کو خوفزدہ کرنے کے لئے اس نفسیا ت سے فائدہ اُٹھانا چاہئے۔ یہ تصور کہ یہ سزا احترامِ انسانیت کے منافی ہے، ایک بے بنیاد بات ہے۔جب مجرم نے اپنا احترام خود ملحوظ نہیں رکھا تو اس کے احترام کودلیل نہیں بنایاجاسکتا۔(16) نیز ایک یا دو اشخاص کو شدید جسمانی اذیت پہنچاکر لاکھوں اشخاص کواخلاقی اورمعاشرتی نقصان سے بچا لینااس سے بہتر ہے کہ مجرم کو تکلیف سے بچا کر اس کی پوری قوم کو ایسے نقصان میں مبتلا کردیاجائے جو آنے والی بے گناہ نسلوں پر بھی اثر انداز ہوتے رہیں ۔ اسی طرح جو لوگ اسلامی سزا کو وحشیانہ قرار دیتے ہیں ، وہ دراصل معقولات کی بجائے محسوسات کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں ۔جونقصان ایک فرد پر مرتب ہوتاہے وہ چونکہ محدود شکل میں محسوس طور پر ان کے سامنے آتا ہے، اس لئے وہ اسے ایک امر عظیم سمجھتے ہیں ۔اس کے برخلاف وہ اس نقصان کی اہمیت کا ادراک نہیں کرتے جو وسیع پیمانہ پر پورے معاشرے اور آئندہ نسلوں پر مرتب ہوتا ہے۔(17) جو لوگ اسلامی سزاؤں کو وحشیانہ یا سخت قرار دیتے ہیں انہیں مذکورہ آیت کا یہ حصہ بھی ذہن میں رکھنا چاہئے :
وَلَا تَأْخُذْكُم بِهِمَا رَ‌أْفَةٌ فِى دِينِ ٱللَّهِ...﴿٢...سورۃ النور
''اور تم لوگوں کو ان دونوں پر اللہ کے دین کے معاملہ میں ذرا رحم نہ آئیـ۔''

یہ دراصل اللہ تعالیٰ کی تنبیہ ہے کہ زانی اور زانیہ پرمیری تجویز کردہ سزا نافذ کرنے میں مجرم کے لئے رحم اور شفقت کا جذبہ تمہارے ہاتھ نہ پکڑے۔ اس بات کو مزید وضاحت کے ساتھ نبی کریمؐ نے اس حدیث میں بیان فرمایا ہے کہ
''قیامت کے روز ایک حاکم لایاجائے گاجس نے حد میں ایک کوڑا کم کردیا تھا۔'' پوچھا جائے گا ''یہ حرکت تو نے کیوں کی''؟
وہ عرض کرے گا : ''آپ کے بندوں پر رحم کھاکر''
ارشاد ہوگا: ''تو ان کے حق میں مجھ سے زیادہ رحیم تھا''
پھر حکم ہوگا:''لے جاؤ اسے دوزخ میں ''
ایک اورحاکم لایا جائے گا جس نے حد پر ایک کوڑے کا اضافہ کردیا تھا۔ پوچھا جائے گا
''تو نے یہ کس لئے کیا تھا...؟''
وہ عرض کرے گا ''تاکہ لوگ آپ کی نافرمانیوں سے باز رہیں ۔''
ارشاد ہوگا: ''اچھا تو ان کے معاملے میں مجھ سے زیادہ منصف تھا۔''
پھر حکم ہوگا: ''اسے لے جاؤ دوزخ میں ...'' 18

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حدود کے مقدمات میں مجرم کو وہی سزا دی جائے گی جو اللہ نے تجویز کی ہے۔سنگساری اور کوڑوں کی سزا کی بجائے کوئی اور سزا دینا اگر رحم اور شفقت کی بنیاد پر ہو تو معصیت ہے اور اگر اس خیال کی بنا پر ہوکہ سنگساری اور کوڑوں کی سزا ایک وحشیانہ سزا ہے تو یہ قطعی کفر ہے جو ایک لمحہ کیلئے بھی ایمان کے ساتھ ایک سینے میں جمع نہیں ہوسکتا۔

کوڑوں کی سزا کوئی نئی سزا نہیں ہے جو پہلی مرتبہ متعارف کروائی جارہی ہو۔ اس وقت بھی امریکہ اورانگلینڈ جیسے ممالک میں بعض جرائم کے لئے کوڑوں کی سزا مقرر ہے حتیٰ کہ پاکستان کی جیلوں میں آج بھی یہ سزا دی جارہی ہے اور عدالت ہی نہیں بلکہ جیل کا ایک سپرنٹنڈنٹ بھی ایک قیدی کو 30 تک کوڑوں کی سزا دینے کا مجاز ہے۔ کوڑوں کی کم از کم تعداد 15 مقرر کی گئی ہے۔کوڑے قسطوں کی بجائے ایک ہی دفعہ لگائے جاتے ہیں اورجسم کے ایک مخصوص حصے پرلگائے جاتے ہیں ۔ اس سلسلہ میں یہ اُصول وضع کیاگیا ہے کہ کوڑوں کی سزا ایسی ہونی چاہئے جو قیدی کو آئندہ جرم کا ارتکاب کرنے سے باز و ممنوع رکھ سکے نیز 16 سال سے کم عمر قیدیوں کوبھی 15 تک کوڑوں کی سزا دی جاسکتی ہے۔(19) یہاں شریعت اسلامی میں کوڑوں کی سزا کے اجرا کے طریقہ کار کے بارے میں احکامات کو بیان کرنا بھی مفید ہوگا۔

سزا ے قید کے ساتھ تقابل: ہمارے ملک میں رائج دیگر قوانین کی سزا بنیادی سزا ہے جب کہ شریعت میں سزاے قید ایک ثانوی سزا ہے جوصرف معمولی جرائم میں دی جاتی ہے ۔ہر صاحب ِبصیرت بآسانی یہ جان سکتا ہے کہ قید کی سزا جرائم کی بیخ کنی کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔جیلیں قیدیوں سے اَٹی پڑی ہیں ، گنجائش سے کہیں زیادہ افراد اپنے اہل وعیال سے دور جیل میں اس طرح پڑے ہیں جس طرح کوئی جانور پنجرے میں پڑا ہو یا کوئی مردہ قبر میں لیٹا ہو۔قیدیوں کے اہل وعیال اور ان کے بچوں کی دیکھ بھال کرنے والا اور ان کی بنیادی ضرورت پوری کرنے والا کوئی نہیں اور وہ الگ نا کردہ گناہوں کی سزا اپنے سرپرست سے محرومی کی صورت میں بھگت رہے ہیں ۔پاکستان کی جیلوں میں قیدیوں کا اندازہ مندرجہ ذیل جدول سے کیا جا سکتا ہے۔

2002ء میں جیلوں میں قیدیوں کے اعداد وشمار یہ تھے کہ پنجاب کی 30 جیلوں میں 49301، سندھ کی 16 جیلوں میں 18400، سرحد کی 21 جیلوں میں 9515، بلوچستان کی 10 جیلوں میں 2674 اور شمالی علاقہ جات + آزاد کشمیر کی 9 جیلوں میں 2462 قیدی موجود تھے۔ یعنی ملک بھر کی 86 جیلوں میں 82352 قیدی، جبکہ گنجائش محض 36290 قیدی کی تھی۔

غور کریں کہ ان دونوں سزاؤں میں سے کس میں زیادہ سختی ہے کوڑے لگا دینے میں جس کے بعد وہ آدمی آزادی سے اپنے اہل و عیال میں رہے یا سزاے قید میں کہ اس کی آزادی شرافت ، انسانیت اورمردانگی سب کچھ سلب کرلیا جائے۔ ایک قیدی جیل خانے کی زندگی اور وہاں کے اخلاقی فساد، ضیاعِ صحت، بیکاری اورکاہلی کی عادات کے ساتھ پہلے سے بڑا مجرم بن کرباہر آئے۔ 20

کیا حد زنا آرڈی نینس میں عورت گواہی کے حق سے محروم ہے؟
حد زنا آرڈی نینس کی دفعہ نمبر 8(ب) کے حوالے سے ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ حدود کے مقدمات میں عورت کو گواہی کے حق سے محروم کردیا گیا ہے جو کہ عورتوں کے ساتھ شدید ناانصافی اورامتیازی سلوک ہے۔ اگر ایک عورت کو کسی ایسی جگہ پر ظلم کا نشانہ بنایا جاتاہے جہاں صرف عورتیں گواہ موجود ہیں تو ایسی صورت میں ظالم شخص صرف اس لئے سزا سے بچ جائے گا کہ کوئی مرد گواہ دستیاب نہیں ۔ 21

ثبوتِ جرم زنا کے لئے چار گواہوں کی شرط قرآن حکیم کی سورة النساء آیت نمبر 15 اور سورة النور کی آیت نمبر 4 کی بنیاد پر قانون میں شامل کی گئی ہے۔ بادی النظر میں دفعہ 8 کے مطالعہ سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ عورتوں کو گواہی کے حق سے محروم کرنے کی حد تک یہ ایک امتیازی قانون ہے لیکن اس قانون کے پردے میں چھپی ہوئی مصلحت پر غور کیا جائے تو ثابت ہوتا ہے کہ خواتین کی عزت و تکریم کے پیش نظر ہے۔ اور عصر جدید میں جب جرح کے دوران چشم دید خواتین سے جرم زنا سے متعلق لوازمات اور جرم کے عمل سے متعلق مخصوص سوالات عزت دار مسلمان خواتین کے لئے ذہنی کوفت کا سبب بن سکتے ہیں اور بھری عدالت میں درست واقعات کے واضح بیان میں ہچکچاہٹ کا موجب بن سکتے ہیں ۔ اس طرح خواتین کی فطری شرم و حیا کی وجہ سے مجرم سزا سے بچ سکتا ہے۔ نیز یہ کہ زنا بالرضا کی صورت میں چار مرد گواہوں کا میسر نہ آنا عورتوں کو سزا سے بچانے میں بھی ممدو معاون ثابت ہوتا ہے اور ان کے لئے سہولت کا باعث بنتا ہے۔

زنا بالجبر کا معاملہ البتہ زنا بالرضا سے مختلف ہے۔ اس جرم میں عورت صریحاً زیادتی کا نشانہ بنتی ہے جن حالات میں یہ جرم سرزد ہوتا ہے ان میں عام طور پر چار غیر جانبدار مرد گواہوں کا موجود ہونا بھی ممکن نہیں ہوتا۔

ان تمام معاملات اور عورتوں کی گواہی کے حوالے سے اعلیٰ عدالتوں کے بہت سے فیصلے منظر عام پر آچکے ہیں ۔ قانونِ شہادت مجریہ 1984ء اورعدالتی فیصلہ جات کاجائزہ لیا جائے تو یہ بات عیاں ہوجاتی ہے کہ این جی اوز کا یہ پروپیگنڈا کہ حد زنا آرڈیننس کے ذریعے عورتوں کو گواہی کے حق سے محروم کردیاگیاہے، درست نہیں ہے۔

(1) قانونِ شہادت 1984 کے آرٹیکل 17 کی ذیلی دفعہ' 2 بی' میں صراحت کی گئی ہے کہ
''حد زنا کے نفاذ سے قطع نظر، زنا کے مقدمے میں عدالت ایک مرد یا ایک عورت کی گواہی پر تعزیر کی سزا دے سکتی ہے۔ (یاد رہے کہ یہ سزا 10 سے 25 سال قید بامشقت اور جرمانہ ہے)''
(2) عدالت کو یہ بھی اختیارات حاصل ہیں کہ وہ اگر مناسب سمجھے تو جرمِ زنا کے اثبات کے لئے گواہوں کی تعداد اوراہلیت کے متعلق بھی فیصلہ کرے۔ عدالت عالیہ نے ایک مقدمہ میں اس اُصول کی حسب ِذیل الفاظ میں صراحت کی ہے :
''قرآن و سنت کے ساتھ ساتھ مقدمہ کے حالات و واقعات کے پیش نظر گواہوں کی تعداد اور اہلیت کے تعین کا اختیار عدالت کو حاصل ہے۔'' (1992ء پاکستان کریمنل لاء جرنل صفحہ1520)
(3) سپریم کورٹ، آزادکشمیر نے قصاص اور زنا کے مقدمات میں عورت کی گواہی کے حوالے سے مندرجہ ذیل اُصول بیان کیا :
''قصاص اور نفاذِ حدود کے مقدمات میں بھی چار مرد گواہوں کی شہادت کے بعد مزید شہادت کے لئے عورتوں کی گواہی میں کوئی امر مانع نہیں ہے۔''
(پی ایل ڈی1979ء سپریم کورٹ (آزاد جموں کشمیر) صفحہ 56)
اس فیصلے سے یہ امر واضح ہوتاہے کہ اگر خواتین یہ محسوس کریں کہ حد زنا کے کسی مقدمہ میں چار مرد گواہ غلط بیانی سے کام لے رہے ہیں یا درست گواہی نہیں دے رہے ہیں تو واقعہ کی چشم دید گواہ عورتیں بھی عدالت کے روبرو گواہی دے سکتی ہیں ۔ اور اصل حقائق کو عدالت کے علم میں لانے کا حق رکھتی ہیں ۔
(4) 1979ء میں ایک زنا بالجبر کے ایک مقدمے کافیصلہ تحریر کرتے ہوئے کراچی ہائی کورٹ نے صرف ایک مظلومہ عورت کے بیان کو کافی گردانا اور قرار دیا کہ
''زنا بالجبر کے کیس میں مقدمہ کے حالات و واقعات کے پیش نظر زیادتی کا شکار ہونے والی عورت کے بیان پر ملزم کو سزا دی جاسکتی ہے۔'' (پی ایل ڈی 1979ء کراچی، صفحہ 147)
(5) وفاقی شرعی عدالت نے خود بھی بہت سے مقدمات میں عورتوں کی گواہی پر زنا بالجبر کے ملزمان کو سزائیں سنائی ہیں اور عورتوں کے گواہی کے حق کو تسلیم کیاہے اور اس سلسلے میں اسلامی فقہ کے اصولوں پر انحصار کیاہے۔ جس کا ثبوت وفاقی شرعی عدالت کی مندرجہ ذیل نظیر سے ملتا ہے۔ متعلقہ مقدمے کا فیصلہ کرتے ہوئے وفاقی شرعی عدالت نے قرار دیا ہے کہ
''حدود و قصاص کی متعین سزاؤں میں اگر چہ بالعموم فقہا مردوں کی عینی شہادت کو لازم سمجھتے ہیں لیکن حدود سے فروتر تعزیری سزاؤں میں مردوں کی چشم دید شہادت اور شہادت بالقرائن کو بھی ائمہ سلف نے قابل قبول قرار دیا ہے۔'' (پی ایل ڈی1982 وفاقی شرعی عدالت ص 113)

جرم زنا سے متعلق قانون کے تحت عورتوں کی گواہی کا حق تسلیم اور مستند ہونے سے متعلق اور بھی بہت سے فیصلہ جات کا حوالہ دیا جاسکتا ہے۔ لیکن مذکورہ بالا مختصر بحث سے یہ ثابت کرنا مقصود ہے کہ یہ کہنا غیردرست ہے کہ زنا سے متعلق جرائم کے مقدمات میں عورت کو گواہی کے حق سے محروم کردیاگیاہے۔ بات صرف اتنی ہے کہ اگر تزکیہ الشہود کے معیار پر پورا اترنے والے چار مرد گواہ موجود نہ ہوں تو ملزم کوسنگسار کے ذریعے سزاے موت اور کوڑوں کی سزا نہیں دی جاسکتی۔ البتہ عورتوں سمیت دیگر گواہوں کی شہادت پر اسے دس سے پچیس سال تک قید سخت اور جرمانے کی سزا سنائی جاسکتی ہے اور یہ سزا اس سزا سے دوگنا ہے جو سابقہ قانون میں تجویز کی گئی تھی۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ حدود قوانین میں عورت کو گواہی کے حق سے محروم نہیں کیاگیاہے بلکہ ان قوانین کے توسط سے ایک عورت کی گواہی پر مجرم کو سابقہ قانون کی نسبت دوگنا زیادہ سزا کے مواقع میسر آگئے ہیں ۔

 کیا اس آرڈی نینس کا غیرمسلموں پراطلاق درست ہے؟
حد زنا آرڈی نینس کی دفعہ نمبر 8 کے حوالے سے اقلیتوں کے نمائندے بارہا اس بات کا اظہار کرچکے ہیں کہ اُس قانون سازی کا اطلاق غیرمسلموں پر نہیں ہونا چاہئے جس کی بنیاد اسلامی تعلیمات ہیں بلکہ ان کے شخصی قوانین کے مطابق انہیں سزا دی جائے۔ 22

دراصل یہ اعتراض ایک بڑی غلط فہمی کا نتیجہ ہے۔ شخصی قوانین میں تو ہر مذہب سے تعلق رکھنے والے فرد کو یہ مکمل آزادی ہے کہ وہ اپنے مذہب کے مطابق فیصلہ کروائے۔ مثال کے طور پر نکاح و طلاق کے قوانین یاوراثت کے قوانین۔ لیکن وہ ملکی قوانین جن کا تعلق امن و امان اور معاشرے سے جرائم کی بیخ کنی سے ہوتا ہے، ان کااطلاق بلا تمیز سب شہریوں پر کیا جاتا ہے چاہے وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتے ہیں ۔ پوری دنیا میں یہی اُصول رائج ہے۔مثال کے طور پرایک مسلمان عورت امریکہ میں اگر ظلم کا شکار ہوتی ہے تو وہ یہ مطالبہ نہیں کرسکتی کہ ظالم کو سزا اسلامی قوانین کے مطابق دی جائے، بلکہ وہاں کے ملکی قانون کا اطلاق ہوگا۔ دوسری بات یہ بھی ہے کہ اسلامی سزاؤں کا مقصد جرم کا سدباب اور ان کی بیخ کنی ہے۔ اگر یہ اصول اپنا لیا جائے کہ مسلمانوں کوتو زنا کے جرم میں کوڑے مارے جائیں اور غیر مسلموں کو اس حد سے مستثنیٰ قرار دے دیا جائے تو اس سے اس جرم کے ارتکاب کا ایک دروازہ کھل جائے گا اور معاشرے میں ان جرائم کی تعداد میں اضافہ ہوجائے گا۔ سزا دینے کا مقصد جرم کا سدباب کرنا اور مجرم پر سزا نافذ کرکے دوسروں کو تنبیہ کرنا ہے۔چونکہ یہ سزائیں ملکی قوانین کے تحت مقرر کی گئی ہیں لہٰذا مسلم اور غیر مسلم دونوں کو جرم کاارتکاب کرنے پر دی جائیں گی۔(iii)

 عیسائیوں کے قانونِ طلاق کا مسئلہ
ایک سوال یہ بھی اُٹھایا جاتا ہے کہ عیسائیوں کے قانونِ طلاق 1869ء کی دفعہ نمبر 10 کے مطابق کوئی بھی عیسائی عورت طلاق کا مطالبہ کرتی ہے تو اسے اپنے شوہر پرنہ صرف زناکا الزام لگانا پڑتا ہے بلکہ اسے ثابت بھی کرنا پڑتا ہے۔ ایسی صورت میں حدود کے قوانین کا غیر مسلموں پر اطلاق ہونے کا مطلب یہ ہوا کہ عیسائیوں کے طلاق کے ہر مقدمہ میں ایک فریق کو حد زنا یاحد قذف کی سزا(iv) کا سامنا کرناہوگا۔ 23

دراصل عیسائیوں کے قانونِ طلاق میں زنا اور قذف کے الزام کوثابت کرنے کے لئے وہ معیارِ ثبوت درکار نہیں ہے جو حدود کے قوانین میں درکار ہے، اس لئے عیسائیوں کے ہر مقدمہ طلاق میں حد زنا یا حد قذف کے نفاذ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ دوسری بات یہ ہے کہ یہ عیسائیوں کے قانون کی خامی ہے نہ کہ حد زنا آرڈی نینس کی !

 کیا حد زنا ایک بے فائدہ قانون ہے؟
یہاں اس اعتراض کو زیر بحث لانا مفید ہوگا کہ پاکستان میں آج تک کبھی حد زنا آرڈی نینس کی دفعہ نمبر 5 کے تحت حد کی سزا نافذ نہیں ہوئی جبکہ پوری اسلامی تاریخ میں معدودے چند واقعات میں حد کی سزا نافذنہیں کی گئی۔ لہٰذا اس طرح کی قانون ساز ی کا کیافائدہ جو عملی طور پر نافذ نہ کی جائے۔

یہ اعتراض بھی دراصل غلط فہمی کا نتیجہ ہے اوراس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ شریعت کا مطمح نظر ہرگزیہ نہیں کہ بڑی تعداد میں لوگوں کو سخت سزائیں دی جائیں بلکہ حد کی سزا دراصل ایک انسدادی تدبیر ہے تاکہ بے حیائی معاشرے میں اس حد تک نہ پھیل سکے کہ لوگ اس جرم کا ارتکاب اس طرح کھلم کھلا کریں کہ چارگواہ بھی دستیاب ہوجائیں ۔(v) مغرب میں جہاں یہ انسدادی تدبیر موجود نہیں ہے، وہاں حالت یہ ہے کہ لوگ علیٰ الاعلان زنا کاری کاارتکاب کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ،جہاں چار نہیں بلکہ سینکڑوں گواہ میسر ہوسکتے ہیں لیکن کوئی قانون ایسانہیں جو اُنہیں اس کھلی بے حیائی سے باز رکھنے کے لئے آگے بڑھے۔

کیا مظلوم خاتون کو ملزمہ بنانا درست ہے ؟
حد زناآرڈی نینس پر ایک اعتراض یہ کیاجاتاہے کہ زیادتی کا شکار خاتون جب رپورٹ درج کروانے کے لئے تھانہ جاتی ہے تو اسے زنا بالرضا کا ملزم گردانتے ہوئے دھر لیاجاتاہے اور اگر وہ رپورٹ درج نہیں کرواتی تو بعد ازاں حاملہ ہونے کی صورت میں اس پر مقدمہ قائم کیا جاتا ہے۔اس طرح اس قانون کو خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ 24

ہمارے ہاں تھانوں میں عام طور پر اسی بات کا چلن ہے لیکن اس میں قصور حد زنا آرڈی نینس کا نہیں بلکہ اُن قانون نافذ کرنے والے اداروں کا ہے جو اس قانون کا سہارا لے کر خواتین کوبدنامی، قید اور مقدمہ بازی کا عذاب جھیلنے پر مجبور کرتے ہیں ۔ اس کی سب سے بڑی مثال زعفران بی بی کیس ہے جس میں زعفران بی بی نے اپنے ساتھ ہونے والے ظلم کی رپورٹ متعلقہ تھانے میں درج کروائی جس میں اس نے واضح طور پر یہ موقف اختیار کیا کہ اس کے ساتھ زنا بالجبر کاارتکاب کیاگیا ہے لیکن بعد ازاں اس کا طبی معائنہ کروانے کے بعد اسے بھی اس مقدمہ میں شریک ِملزم بنا (vi)دیا گیا۔ 25

اس حوالے سے قانون نافذ کرنے والے بہت سے ادارے دیگر قوانین کا غلط استعمال کرتے ہیں لیکن اس بنا پر قوانین کو ختم نہیں کیا جاتا۔ اس مسئلہ کے حل کے لئے قانون کاغلط استعمال کرنے والوں کی تربیت اور تادیب کاخاطرخواہ انتظام کرنے کی ضرورت ہے۔

ہماری رائے میں اس آرڈی نینس کے تحت مقدمات کے اندراج سے لے کر تکمیل تفتیش تک کے تمام اختیارات پولیس سے واپس لے لئے جائیں ۔ایسے تمام مقدمات استغاثہ کی صورت میں براہِ راست عدالت میں دائر کئے جائیں اور عدالت خود ان مقدمات کی تفتیش کرے اورصرف انتہائی ضرورت کے تحت کوئی بھی معاملہ کسی تفتیشی ایجنسی کو بھیجاجائے تاکہ اس بات کا یقین کرلیاجائے کہ اس ایجنسی کے متعلقہ اہل کار دیانتدار اور امین ہونے کی شہرت رکھتے ہوں نیز ایسے مقدمات کی تفتیش اور سماعت کے لئے میعاد کا تعین کردیاجائے۔

 خواتین کے خلاف دفعہ16 کے تحت مقدمات کا اندراج کیوں ؟
اس دفعہ(vii) کے الفاظ پرتھوڑا سا بھی غور کیاجائے تو یہ بات واضح طور پرسامنے آتی ہے کہ اس کااطلاق خواتین پر نہیں ہوتا بلکہ اس مرد پر ہوتا ہے جو بُری نیت کے ساتھ کسی عورت کوبہلا پھسلا کر لے جاتا ہے۔وفاقی شرعی عدالت اپنے متعدد فیصلوں میں اس دفعہ کے الفاظ کی تشریح کے دوران یہ اُصول طے کرچکی ہے کہ اس دفعہ کااطلاق صرف مردوں پرہوتا ہے اور خواتین پر اس دفعہ کے تحت نہ تو مقدمہ قائم کیا جاسکتا ہے اورنہ ہی اُنہیں سزا دی جاسکتی ہے۔(26) لیکن عملی طورپر کیا ہورہا ہے، اسکا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ دفعہ 16 کے تحت عورتوں کو غلط طور پر ملوث کرنے کے راولپنڈی میں 37فیصد اور اسلام آباد میں 43 فیصد واقعات ہوتے ہیں ۔

اتنی بڑی تعداد میں اس دفعہ کا خواتین کے خلاف غلط استعمال لمحہ فکریہ ہے اور فوری طور پراس کا سدباب ہونا چاہئے، تاہم یہ بات واضح کرنا ضروری ہے کہ اس میں اس دفعہ کا کوئی قصور نہیں ہے اور حد زناآرڈی نینس کوموردِ الزام ٹھہرانا سراسر ناانصافی ہے۔ اس کی اصل ذمہ دار پولیس اور ہمارا گھسا پٹا عدالتی نظام ہے۔

بے شک بعد ازاں مقدمہ کی کارروائی کے دوران عدالتیں اس دفعہ کا عورتوں پراطلاق نہ ہونے کی بنیاد پر اُنہیں 'باعزت' بری کردیتی ہیں لیکن تفتیش و عدالتی طریق کارکی خامیوں کی بنا پر ایسی عورت کو ایک لمبے عرصے تک جیل کی ہوا کھانی پڑتی ہے۔ یا اگر خوش قسمتی سے اس کی ضمانت کا بندوبست ہوجائے تو پیشیاں بھگتنے کے لئے کچہری کے دھکے کھانے پڑتے ہیں ۔ مثال کے طور پرایک مقدمہ میں گلشن رانی نامی ایک عورت ڈیڑھ سال کے عرصہ تک جیل میں رہی اور بعد ازاں اسے اس بنا پربری کردیاگیا کہ اس دفعہ کا اطلاق عورتوں پرنہیں ہوتا۔

اس معاملے کا یہ پہلو بھی قابل توجہ ہے کہ ولی کی رضا مندی کے بغیر نکاح کرلینے کے بعد بہت سے مقدمات میں خاتون معاشرتی اور خاندانی دباؤ کی بنا پرلڑکے پر الزام دھر دیتی ہے کہ اس نے اس کے ساتھ جبراً نکاح کیا۔یوں اس مرد کو اور بعض واقعات میں اس کے پورے خاندان کو اغوا اور زنا کے مقدمات کا سامنا کرناپڑتا ہے۔

حد زنا آرڈی نینس کا خواتین کے خلاف غلط استعمال کیوں ؟
اس آرڈی نینس کی دفعات کو خواتین کے خلاف غلط طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔خواتین کو محض ذاتی رنجشوں کی بنیاد پر انتقام کانشانہ بنانے کے لئے حدود کے مقدمات میں پھنسایا جاتا ہے۔ جیلوں میں بندخواتین میں 80 فیصد سے90 فیصد خواتین کے خلاف اس آرڈی نینس کے تحت مقدمات درج ہوتے ہیں ۔ 27

حد زناآرڈی نینس کی دفعہ نمبر 20 کے تحت چونکہ ضابطہ فوجداری 1898ء کی دفعات کا اطلاق حد زنا آرڈی نینس پربھی ہوتا ہے اور جو طریقہ کار دیگر مقدمات میں مقدمہ کے اندراج سے لے کر مقدمہ کی سماعت تک اختیارکیاجاتاہے، وہی اس آرڈی نینس کے تحت مقدمات کی سماعت کے لئے بھی اختیار کیاجاتاہے اور اس کے لئے الگ سے کوئی ضابطہ یا طریقہ کاروضع نہیں کیا گیا لہٰذا مقدمہ کے اندراج سے تکمیل تفتیش تک پولیس کو بے پناہ اختیارات حاصل ہیں ۔ ہماری موجودہ پولیس نے جس طرح دیگر جرائم کے اندر رشوت ستانی، اقربا پروری، ناانصافی اور تشدد کا بازار گرم کررکھا ہے، اس آرڈی نینس کے تحت درج ہونے والے مقدمات میں بھی وہ سارا کھیل کھیلا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حد زنا آرڈ نینس آج شدید تنقید کی زد میں ہے اورپولیس کے کردار کوبھی حد زنا آرڈی نینس کے کھاتہ میں ڈال دیا جاتا ہے۔اصل خرابی یعنی پولیس کے کردار کوٹھیک کرنے کے بجائے اس آرڈی نینس کو منسوخ کرنے کے لئے اتناشور مچایا جارہا ہے کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی۔

پولیس کوجو اختیارات ضابطہ فوجداری کے تحت دیئے گئے ہیں ، پولیس اُن اختیارات کا نہ صرف غلط استعمال کرتی ہے بلکہ اس نے اپنے لئے مزیداختیارات بھی وضع کرلئے ہیں ۔ حد زناآرڈی نینس کی آڑ میں گھروں کے اندر چھاپے مارنا، راہ چلتے لوگوں کو روک کر ان کے نکاح نامے چیک کرنا، محض شک کی بنیادپرلوگوں کو خاص طور پر خواتین کو گرفتار کرنا اورمظلوم خواتین کو بھی شریک ملزم گردانتے ہوئے ملزمہ بنا دینا روز کا معمول ہے جس سے پاکستان کا ہر شہری بخوبی واقف ہے۔اسی طرح ایسے جرائم کے تحت گرفتار ہونے والی خواتین پر پولیس حراست کے دوران جنسی تشدد کی خبریں بھی آئے روز اخبارات میں شائع ہوتی ہیں ۔

ضابطہ فوجداری کی دفعہ نمبر173 واضح طور پرتفتیش کے لئے 15 دن کی مدت کا تعین کرتی ہے لیکن پولیس اس دفعہ کی واضح خلاف ورزی کرتے ہوئے مہینوں اور بعض کیسوں میں سالوں تک تفتیش مکمل نہیں کرتی۔ کبھی تو سرے سے چالان عدالتوں کوبھیجا ہی نہیں جاتا اوراگر خوش قسمتی سے جلدی بھیج بھی دیا جائے تو وہ نامکمل ہوتاہے۔ نیز پولیس کے گواہوں کی عدم دلچسپی، عدالتی سمنوں کو اتنی اہمیت نہ دینا، شہادت کیلئے وقت پر عدالت میں پیش نہ ہونا، ان وجوہات کی بنیاد پر بھی اس آرڈی نینس کے تحت مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر ہوجاتی ہے۔

اس کی ایک اور وجہ یہ ہے کہ حد زنا آرڈی نینس ہی نہیں بلکہ ہمارا پورا نظام بااثر اور صاحب ِثروت افراد کے ہاتھوں میں کھلونا بن کے رہ گیا ہے جسے زیردستوں اور معاشرے کے کمزور طبقات پر ظلم ڈھانے کے لئے استعمال کیاجاتاہے۔ قوانین کو ختم کرنے کی بجائے خرابی کے اصل محرکات کوتلاش کرنا چاہئے اور ان کی بیخ کنی کیلئے مؤثر اقدامات کئے جانے چاہئیں ۔

ہم یہاں اس امر کا ذکر کرنا بھی ضروری سمجھتے ہیں کہ ضابطہ فوجداری کو وفاقی شرعی عدالت کے دائرئہ اختیار سے باہر رکھا گیاہے جس کی وجہ سے وفاقی شرعی عدالت آج تک اس ضابطہ کی قباحتوں اور خامیوں کو دور کرنے کے لئے کوئی عملی تجاویز دینے سے قاصر رہی ہے۔اگر یہ کہا جائے کہ دراصل حد زنا آرڈی نینس ناکام نہیں ہوا بلکہ انگریز کا بنایاہوا 1898ء کا گھسا پٹا ضابطہ فوجداری ناکام ہوا ہے تو غلط نہ ہوگا۔

جہاں تک اس بات کاتعلق ہے کہ جیلوں میں 80 فیصد سے 90 فیصد خواتین کے خلاف حد زناآرڈی نینس کے تحت مقدمات درج ہوتے ہیں ،یہ درست نہیں ، بلکہ ستمبر 2003ء میں لئے گئے اعداد وشمار کے ایک جائزہ سے پتہ چلتا ہے کہ یہ دعویٰ مبالغہ آرائی پر مبنی ہے۔
سنٹرل جیل کراچی کی 280خواتین قیدیوں میں حدود کی ملزمہ خواتین 80تھیں ، یعنی 28 فیصد
اڈیالہ جیل، پنڈی کی 125خواتین قیدیوں میں حدود کی ملزمہ خواتین 31 تھیں ، یعنی 24 فیصد
کوٹ لکھپت لاہور جیل کی 97خواتین قیدیوں میں حدود کی ملزمہ 48 تھیں ، یعنی 49 فیصد

جس کا خلاصہ یہ ہے کہ کل 502 خواتین میں 159 یعنی 31 فیصد خواتین کو حدود کی بنا پرمقدمات کا سامنا کرنا پڑا۔ایسے ہی جولائی 2003ء میں صوبہ سرحد میں خواتین قیدیوں کی تفصیلات کا جائزہ لیا گیا تو کل 172 قیدی خواتین میں 52 یعنی 32 فیصد خواتین حدودکے مقدمات کا سامنا کررہی تھیں ۔

نکاح پرنکاح کے مقدمات کا مسئلہ
ایک شادی شدہ عورت جب اپنے شوہر کے ظلم و ستم کا شکار ہوتی ہے یا اپنی ازدواجی زندگی سے مطمئن نہیں ہوتی تو اس کے لئے اس بات کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا کہ یا تو وہ اسے اپنی قسمت کا لکھا ہوا سمجھ کر رو دھو کر ساری زندگی گزاردے یا پھر اپنے والدین یابھائیوں کے ہاں جاکر اپنے شوہر سے طلاق لینے کے لئے چارہ جوئی کرے۔ عام طور پر ہمارے عدالتی نظام کی پیچیدگیوں نیز ہمارے معاشرے میں عورتوں کے عدالت میں جانے کومعیوب سمجھنے کاتصور اُنہیں عدالت میں جانے سے باز رکھتا ہے اور عام طور پر برادری یا علاقہ کے مؤثر افراد کو جرگہ کی صورت دے کر طلاق لے لی جاتی ہے۔لیکن عائلی قوانین سے عدمِ واقفیت اور مسلم فیملی لا آرڈی نینس کی دفعہ نمبر 7 میں دیئے گئے طریقہ کار کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے ایسی خواتین پہلے شوہر سے اپنی طلاق کو ثابت نہیں کرپاتیں ۔

مسلم فیملی لا آرڈی نینس کی دفعہ نمبر 7 کے تحت ایک مرد کے لئے ضروری قرار دیا گیا ہے کہ وہ اپنی بیوی کو تحریری طلاق دینے کے بعد اس کی ایک نقل ثالثی کونسل کو بھی ارسال کرے اور 90 دن گزرنے کے بعد سر ٹیفکیٹ طلاق حاصل کرے جوکہ طلاق کاقطعی ثبوت ہوتاہے۔ لیکن کبھی تو جان بوجھ کر اور کبھی قانون سے عدم واقفیت کی بنا پر وہ ایسا نہیں کرتا۔اگرچہ اسی دفعہ میں اس بات کاذکربھی موجود ہے کہ جو شوہر ثالثی کونسل کو طلاق کا نوٹس نہیں بھیجے گا، اسے ایک سال قید اور جرمانہ کی سزا دی جائے گی۔ لیکن بعض پیچیدگیوں کی بنا پر اس پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔ نیز عورت کو یہ حق نہیں دیا گیا کہ وہ ثالثی کونسل کو طلاق سے متعلق نوٹس بھیج سکے جس کی وجہ سے وہ خود ایسا نوٹس بھیج کر طلاق سر ٹیفکیٹ حاصل کرنے کے قابل نہیں ہوتی۔

حد زناآرڈی نینس کے تحت درج ہونے والے مقدمات میں سے ایک بڑی تعداد ان مقدمات کی ہے جن کا اندراج ان خواتین کے خلاف کیا جاتا ہے جو پہلے خاوند سے طلاق لینے کے بعد دوسری شادی کرلیتی ہیں لیکن طلاق کا قطعی ثبو ت نہ ہونے کی وجہ سے ایسے مقدمات کا سامناکرتی ہیں ۔ مثال کے طورپر اڈیالہ جیل راولپنڈی میں طاہرہ نامی ایک عورت بند ہے اس کی پہلی شادی1988ء میں اپنے چچازاد سے ہوئی جو بعد ازاں گھریلو ناچاقی کے نتیجہ میں زبانی طلاق پر منتج ہوئی۔ طاہرہ تقریباً چھ ماہ اپنے والدین کے گھر رہی اور پھر ایک دوسرے شخص سے نکاح کرنے کے بعد اس کے ساتھ رہنے لگی۔ اس نکاح کے تقریباً ڈھائی سال گزرنے کے بعد اس کے سابقہ شوہر نے اس کے خلاف نکاح پر نکاح کرنے کا مقدمہ درج کروایادیااور وہ تقریباً تین سال سے اپنے پانچ سالہ بیٹے اور شوہر کے ساتھ جیل میں ہے، وجہ صرف یہ ہے کہ اس کے پاس پہلے شوہر سے طلاق کا کوئی تحریری ثبوت موجود نہیں ۔

سوال یہ ہے کہ اس میں قصور کس کا ہے حدزناآرڈی نینس کا یامسلم فیملی لا آرڈی نینس 1961ء کا ؟


حوالہ جات
1. 'حدزنا آرڈیننس پر تنقید' از جسٹس فقیر محمد PLD2000،ص 30
2. 'پاکستان میں قوانین کو اسلامیانے کا عمل' از ڈاکٹر محمود احمد غازی،ص 26،شریعہ اکیڈمی، اسلام آباد
3. اسلام کا فوجداری قانون از عبدالقادر عودہ،مترجم پروفیسر ساجد الرحمن صدیقی،ج1ص 712،طبع مئی 1991ء
4. 'پردہ' از سید ابو الاعلیٰ مودودی،ص 162،اسلامک پبلی کیشنز،اشاعت چھتیسویں ،نومبر 1991ئ
5. رپورٹ خواتین حقوق کمیشن،اگست 1997ئ،ص 74
6. عدالتی فیصلے ازجناب جسٹس مولانا محمد تقی عثمانی ج1،ص 44
7. سنن ابی داود،ترجمہ از علامہ وحید الزماں ،حدیث نمبر:1033،اشاعت 1983ئ
8. صحیح بخاری،باب النفس بالنفس
9. صحیح بخاری،ترجمہ از علامہ وحید الزماں ،حدیث:739
10. تفہیم القرآن از سید ابو الاعلیٰ مودودی،ج 3ص 327
11. ارشاد الفحول از علامہ شوکانی ،ص 157
12. عدالتی فیصلے از جناب جسٹس مولانا محمدتقی عثمانی،ج1ص 24،25
13. اسلام کا فوجداری قانون(مترجم) از عبد القادر عودہ،ج 2ص 38،39
14. اسلام کا فوجداری قانون :ج2ص 37
15. ایضاً: ج2ص33
16. ایضاً
17. 'پردہ' از سید ا بو الاعلیٰ مودودی،ص 277،278
18. تفسیر کبیر : ج 6ص 225
19. Rule of Superintendence in management of Prisons in Pakistan. Chapter No.23,Rules No. to 579
20. اسلام کا فوجداری قانون از عبد القادر عودہ، مترجم پروفیسر ساجد الرحمن صدیقی،ج2ص 89
21. رپورٹ خواتین حقوق کمیشن،ص 73
22. رپورٹ خواتین کمیشن،ص 74
23. رپورٹ خواتین کمیشن،ص 74
24. رپورٹ کمیشن ،ص 72
25. زعفران بی بی بنام سرکار PLD 2002 FSC. 1
26. نور محمد بنام سرکار(PCr.LJ.2140)،مسماة فوزیہ بنام سرکار صلی اللہ علیہ وسلم 1995 PCr.LJ.
27. رپورٹ خواتین حقوق کمیشن 1997ئ،ص 71

i. اسلامی نظریاتی کونسل کے سابق چیئرمین ڈاکٹر ایس ایم زمان نے روزنامہ 'انصاف' لاہور (مؤرخہ 28 مئی 2004ء کو) انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ طویل غوروخوض کے بعد اسلامی نظریاتی کونسل نے اس قانون کا اوّلین مسودہ تیار کیا تھا اور پھر قاعدے کے عین مطابق وزارتِ قانون پاکستان نے اس کا حتمی مسودہ مرتب کیا تھا۔

ii. نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے ہی ایک شخص کو جو اسلام کے ساتھ زناکی اجازت مانگ رہا تھا، سمجھانے کی یہ حکمت عملی اختیار کی کہ کیا تم پسند کرتے ہوکہ تمہاری ماں ، بہن ، بیٹی یا پھوپھی کے ساتھ کوئی غیرمرد زنا کرے۔ اس نے کہا ہرگز نہیں ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ لوگ بھی اس کو ایسے ہی گوارا نہیں کرتے،جس سے تم زنا کرو گے ، وہ بھی تو کسی کی بہن یا بیٹی ہوگی۔ (مسند احمد5 256، ' حدیث صحیح')

iii. وفاقی شرعی عدالت نے زعفران بی بی کیس میں فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ
''حدود قوانین ایک اسلامی ریاست کے شہریوں کو بلا تفریق جنس، دولت، مذہب، ذات، رنگ و زبان وغیرہ پرامن زندگی گزارنے کی ضمانت مہیا کرتے ہیں اور ان کے بنیاد ی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور دیگر تجاوزات کے مقابلے میں تحفظ فراہم کرتے ہیں ۔'' (PLD 2002 FSC-1)

iv. یہ بات تو عیسائی بیوی کے حق میں جاتی ہے کہ اگر وہ خاوند پر زناکاری کا الزام ثابت کردے تو طلاق کے ساتھ ساتھ اسے مجرم کو جرمِ زنا کی مروّجہ سزا دلوانے کا استحقاق بھی حاصل ہوجائے۔ اسی طرح حدود قوانین کے ذریعے ایک عیسائی خاوند کو بھی یہ قانونی حق حاصل ہوگیا ہے کہ اگر اس کی بیوی اس پر زنا کاری کا جھوٹا اور بے بنیاد الزام لگاتی ہے تو وہ اسے اس گھناؤنے طرزِ عمل پر عدالت کے کٹہرے میں لاسکے۔ حقیقت ِحال یہ ہے کہ حدود قوانین عیسائیوں کے قانونِ طلاق میں مداخلت یا مشکلات پیدا کرنے کے بعد، طلاق کے مقدمے کافیصلہ ہوجانے کے بعد مبنی برحق موقف رکھنے والے فریق کو مزید دادرسی کے مواقع مہیا کرتا ہے۔ مذکورہ بالا اعتراض ایک اور بنیاد پر بھی اپنی 'ہمہ گیری' سے محروم ہوجاتاہے۔ اور وہ یہ کہ بہت سے عیسائی ممالک میں بھی 'روشن خیال' عیسائی فرقوں نے طلاق کے قانون میں اوپر بیان کردہ واحد و جہ میں وسعت پیدا کرلی ہے اور اب خاوند پر زنا کاری کا جھوٹایا سچا الزام لگائے بغیر متعدد دیگر موجبات کی بنا پر بھی عدالتوں کے ذریعے خاوند سے قانونی علیحدگی کا حکم نامہ حاصل کیا جاسکتا ہے۔

v. اس طرح زنا کرنا کہ چار گواہ میسر ہوجائیں ، کی اسلام میں سنگین سزا محض زناکاری سے زیادہ اس بغاوت کی ہے جو اللہ کو سخت ناپسند اور معاشرے میں بھی انتشار کا باعث بنتی ہے۔
vi. اسلام کی رو سے ایسی عورت کے بیان اور قرائن سے تصدیق ملنے پر اس عورت کو نہ صرف معافی دی جائے گی بلکہ حضرت عمر نے ایسی عورت کو تحائف اور دل جوئی کے کلمات کے ساتھ واپس کیا۔( مصنف ابن ابی شیبہ : 28500، مصنف عبدالرزاق: 13663) کنواری عورت سے اگر کوئی زنا بالجبر کرے تو امام زہری کے قول کے مطابق زانی پر حد کے علاوہ کنواری کا صداق دینا بھی واجب کیا جائے گا۔(مصنف عبد الرزاق: 13656) سابقہ حاشیہ :حضرت علی اور ابن مسعودکے نزدیک کنواری اور شادی شدہ عورت ہر دو سے زنا کے مجرم کو مہر مثل ادا کرنے کا پابند بھی کیا جائے گا۔ (مصنف عبد الرزاق : 13657)
وفاقی شرعی عدالت نے زعفران بی بی کیس میں حسب ِذیل صراحت کی ہے :
''اگر کسی عورت کو زنا پر مجبور کیا جائے تو اس جرم کے سرزد ہونے کے بعد زیادتی کا شکار عورت کو کسی طرح کی سزانہیں دی جاسکتی، چاہے وہ حد ہو یا تعزیر، البتہ دوسرا فریق جو زیادتی کا مرتکب ہوا ہے وہ نفاذ ِحد یا تعزیری سزا کا مستحق ہے۔'' (پی ایل ڈی 2002ء وفاقی شرعی عدالت ، صفحہ نمبر 1)
اس فیصلہ میں یہ بھی قرار دیاگیا ہے کہ
''اگر کوئی غیر شادی شدہ عورت یا شادی شدہ خاتون جس کی رسائی اس دوران اپنے شوہر تک نہیں تھی، حاملہ پائی جاتی ہے اور یہ موقف اختیار کرتی ہے کہ یہ حمل زنا بالجبر کی وجہ سے قرار پایا ہے تو اس پر نفاذِ حد کی سزا لاگو نہیں کی جاسکتی،جب تک کہ اسے وہ تمام حالات بیان کرنے اور سچائی ثابت کرنے کاموقع نہ دیاجائے۔ اور یہ بات نکھر کر سامنے نہ آجائے کہ اس جرم میں اس کی بلا جبر و اکراہ رضا مندی شامل تھی۔''

vii. دفعہ 16 کامتن یہ ہے: ''جو کوئی کسی عورت کو اس نیت کے ساتھ بہلا پھسلاکر لے جاتا ہے کہ وہ اس شخص سے مباشرت کرے گی یا اس (مباشرت کی ) نیت سے اسے چھپا کر رکھتا ہے یاقید کرتا ہے تو اسے سات سال تک قید، 30 تک کوڑوں اور جرمانے کی سزا دی جاسکے گی۔''

133A2-8B000-72060315