انصاف: حدود اللہ اور حدود آرڈیننس میں آپ کیا فرق سمجھتے ہیں ؟
مولانا مدنی:حدود اللہ سے مراد وہ سزائیں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے خود مقرر فرمائی ہیں تاکہ معاشرے سے بدکاری اور بے حیائی ختم ہو اور لوگ امن و امان اور عزت سے زندگی گزار سکیں ۔ اللہ تعالیٰ کل انسانیت کے خالق ہیں اور اللہ کو ہی بہتر علم ہے کہ انسانی معاشرے کو بگاڑ سے بچانے کا طریق کارکیا ہے؟ وہ علاج اللہ نے کتاب و سنت کی شکل میں ہمیں دیا ہے جس میں حدود اللہ بھی شامل ہیں ۔ جبکہ حدود آرڈیننس وہ قانون ہے جو بعض قانون سازوں نے قرآن وسنت کی روشنی میں علماے کرام اور دانش وروں کی مدد سے، اس مقصدکے پیش نظر بنایا ہے کہ سماج دشمن عناصرپرحدود اللہ کو نافذ کیا جاسکے۔

انصاف : حدود اللہ کے نفاذ کا درست طریقہ کیا ہے؟
مولانا مدنی: حدود اللہ کے نفاذ کا مطلب یہ ہے کہ وحی الٰہی(کتاب و سنت) کی بیان کردہ سزاؤں کو جرم کا ارتکاب کرنے والوں پرنافذ کردیا جائے جس کا درست طریقہ یہ ہے کہ جب حدود کا کوئی مقدمہ عدالت میں پیش ہو تو جج وحی کی روشنی میں اجتہاد کرتے ہوئے فیصلہ صادر کرے۔چنانچہ فرمانِ الٰہی ہے :
{وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّـهُ فَأُولَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلْكَـٰفِرُونَ ...﴿٤٤ وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّـهُ فَأُولَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلظَّـٰلِمُونَ ...﴿٤٥﴾...وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّـهُ فَأُولَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلْفَـٰسِقُونَ...﴿٤٧﴾سورۃ المائده}
''جو لوگ ما أنزل اﷲکے مطابق فیصلہ نہیں کرتے وہ ظالم... کافر ...فاسق ہیں ۔ ''

مسلمانوں کی چودہ سو سالہ اسلامی تاریخ میں شریعت کے نفاذ کا یہی طریقہ رہا ہے کہ جج ہمیشہ کتاب و سنت کی نصوص کی پابندی کرتے ہوئے ائمہ فقہا کی تشریحات و اجتہادات کی روشنی میں پیش آمدہ مقدمات کے فیصلے کرتے ہیں ۔آج بھی سعودی عرب اور خلیجی ممالک میں حدود اللہ کو اسی اندازسے نافذ کیا جاتاہے کہ فوجداری جرائم کے فیصلے کتاب و سنت کو سامنے رکھ کر ہوتے ہیں ۔ اس لئے وہاں کوئی بھی حدود اﷲ کو نافذ ہونے کے خلاف آواز نہیں اُٹھاتا بلکہ لوگ سزاکو اپنے گناہوں کا کفارہ سمجھ کر بطیبِ خاطر قبول کرتے ہیں کیونکہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے حد کے نفاذ کوگناہوں کا کفارہ قرار دیا ہے۔

شاہ فیصل رحمۃ اللہ علیہ کے دور میں جب سعودی عرب میں بڑی شدومد سے بعض عرب دانش وروں کی طرف سے یہ تحریک چل رہی تھی کہ جدید انداز میں شریعت کی پہلے تقنین(قانون سازی) ہونی چاہئے پھر ججوں کو اس کا پابندبنا دینا چاہئے کہ وہ اس Legislationکے مطابق فیصلے کریں تو مفتی اکبر شیخ محمد بن ابراہیم آل الشیخ او ران کے شاگردِ رشید شیخ عبدالعزیز بن باز (جو بعد میں سعودی عرب کے مفتی اعظم بنے) نے قرآنِ کریم کی اسی مذکورہ بالا آیت سے استدلال کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ما أنزل اﷲ کے مطابق فیصلہ کرنے کا حکم دیاہے، کیا ہمارا شریعت کی دفعہ وار قانون سازی کرنا ما أنزل اﷲ قرا ر پاسکتا ہے؟ قطعاً نہیں ،کیونکہ اہل علم کا اجتہاد، قدیم یا جدید فقہ تو ہوسکتا ہے، لیکن اس اجتہاد کو ما أنزل اﷲنہیں کہا جاسکتا۔

یہی بات وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس جناب گل محمد رحمۃ اللہ علیہ نے اس وقت کہی تھی جب اعلیٰ سطح کے ایک عدالتی وفد نے اس وقت کے صدر مملکت جناب غلام اسحق خان سے سفارش کی کہ ججوں کو پاکستان میں کتاب و سنت کی بہتر سے بہتر ٹریننگ دینے کے انتظامات کئے جائیں اور اُنہیں مزید اعلیٰ تربیت کے لئے اسلامی ممالک میں بھیجا جائے تاکہ وہ عملاً وہاں حدود اللہ کے نفاذ کا مشاہدہ بھی کرسکیں ۔ میں بھی اس وفد میں شامل تھا۔ جناب غلام اسحق خان نے اس بات کو نظر انداز کرتے ہوئے شریعت کی متفقہ دفعہ وار قانون سازی پر زور دیا تو جناب جسٹس گل محمد خان نے جو جواب دیا، وہ واقعی حدود اﷲ کے نفاذ کا صحیح حل تھا۔ اُنہوں نے فرمایا: ''شریعت اللہ تعالیٰ کی طرف سے (کتاب و سنت کی صورت میں ) بہترین طریقہ پر بیان کردی گئی ہے، اب کیا ہم اپنے الفاظ میں اس سے بہتر کوئی تعبیر پیش کرسکتے ہیں ۔'' یہ سن کر غلام اسحق خان خاموش ہوگئے۔

انصاف: کیا ہمارے مروّجہ قانونی نظام اور عدالتوں کے لئے یہ تصور اجنبی نہیں ، اس پر عمل کس طرح ہوگا؟
مولانا مدنی: یہ تصور پاکستانی قانون میں بالکل نیا نہیں ، ہماری اعلیٰ عدالتوں (Superior Courts) کے بعض فیصلے ایسے موجود ہیں جن میں یہ صراحت کی گئی ہے کہ کتا ب و سنت اپنی معروف شکل میں ہی نافذ ہیں او راگر کوئی متبادل قانون وضع نہیں ہوتا تو کتاب و سنت کا اسی طرح نفاذ ہوگا۔مثال کے طور پر میں آپ کے سامنے 1991ء میں سپریم کورٹ (شریعت بنچ) کا ایک فیصلہ ذکر کرتا ہوں ۔ ہوا یوں کہ فیڈرل شریعت کورٹ نے 1980ء میں قصاص و دیت کے متعلق تعزیراتِ پاکستان اور ضابطہ فوجداری کی 56 دفعات کو قرآن وسنت کے منافی قرار دے رکھا تھا جو حکومت کی طرف سے فیڈرل شریعت کورٹ کے فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کی بنا پرعملاً معطل تھا۔ جب 1990ء میں سپریم کورٹ نے فیڈرل شریعت کورٹ کے فیصلہ کی توثیق کرتے ہوئے حکومت کو 9 ماہ کے اندر اندر نیا قانون لانے کا پابند کردیا تو بینظیر حکومت نے لیت و لعل شرو ع کردی اور 23؍ مارچ 1991ء کو 9 ماہ کی مدت گزر جانے کے باوجود حکومت کا تقاضا تھا کہ اس کی مدت میں غیر معینہ توسیع کردی جائے۔ اسی دوران 2؍اگست 1991ء کو بے نظیر حکومت ختم ہوکر عبوری حکومت قائم ہوگئی۔ اس وقت سپریم کورٹ (شریعت بنچ) کے سربراہ جسٹس افضل ظلہ تھے۔ اب نئی حکومت نے تبدیلی ٔحکومت کا بہانہ بنا کر جب مزید تاریخوں کا مطالبہ کیا تو سپریم کورٹ کے اس فل بنچ نے کہا کہ اب بہت ہوچکا، دس سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے،ہم غیر محدود مہلت دینے کے متحمل نہیں ۔چنانچہ آخری حتمی تاریخ اب 12؍ ربیع الاول مقرر ہے۔ اس دوران حکومت کو چاہئے کہ مذکورہ 56 دفعات کی بجائے قصاص ودیت کا متبادل قانون پیش کرے اور ساتھ یہ وضاحت بھی کردی کہ اگر اس تاریخ تک متبادل قانون نہ لایا گیا تو پھر قرآن و سنت جیسا کچھ بھی ہے، وہی نافذ سمجھا جائے گا اور جج قرآن وسنت کے احکامات کی روشنی میں ہی فیصلے کریں گے۔ اس پرحکومت کے پاس قانون کا جیساکچھ ڈرافٹ تیار تھا، اسے ہی لاگو کردیا گیا۔ لیکن اس ڈرافٹ قانون کی کمزوریوں کے علاج کی غرض سے ایک اہم دفعہ قصاص و دیت آرڈیننس میں یہ رکھی گئی جس سے اس قانون کے اَسقام کا علاج اور اصلاح ممکن ہے ۔یہ دفعہ 338؍ایف ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ اس قانون میں اگر ہمیں کوئی ضمنی مسئلہ درپیش ہو یا کوئی پہلو تشنہ معلوم ہویاکوئی نکتہ قابل اصلاح ہو تو قرآن وسنت کی روشنی میں اسے حل کیا جائے گا۔

بعدمیں لاہور ہائی کورٹ کے بعض ججوں نے اس دفعہ کی روشنی میں کئی اہم فیصلے صادر بھی کئے۔ مثلاً لاہور ہائی کورٹ کے فل بنچ ... جوتین ججوں جسٹس سردار محمدڈوگر، جسٹس خلیل الرحمن خان اور جسٹس خلیل الرحمن رمدے پر مشتمل تھا... کے سامنے یہ مسئلہ پیش ہوا کہ اگر مقتول کے ورثا صلح کرکے قصاص معاف کردیں تو کیا اس کے باوجود بھی قاتل کو کوئی تعزیری سزا دی جاسکتی ہے یانہیں ؟ تو اُنہوں نے یہ فیصلہ دیا کہ قرآن و سنت کی رو سے کسی مزید جرم کے بغیر کوئی تعزیری سزا نہیں دی جانی چاہئے۔ چونکہ ہائی کورٹ خود کوئی قانون سازی یاترمیم نہیں کرسکتا لہٰذا اُنہوں نے اپنے اس آبرزرویشن کو پارلیمنٹ بھیجنے کی سفارش کی کہ اس کے مطابق قانون سازی کی جائے۔

ایسے ہی قصاص و دیت آرڈیننس کے حوالے سے یہ نکتہ پیش آیا کہ اس قانون کی رو سے مقتول کا کوئی بھی وارث قاتل کا قصاص معاف کرسکتا ہے، خواہ بیوی ہو یا خاوندتھا ۔بعض دفعہ ایسے بھی ہوتا ہے کہ عورت کا آشنا اس کے خاوند کو قتل کردیتا ہے ۔پھر وہ عورت ہی اپنے شوہر کی وارث ہونے کے ناطے اپنے آشنا (قاتل) کو معاف کردیتی ہے تو صورتِ حال پیچیدہ ہوجاتی ہے۔ ہمارے ملک میں آشنائی کے ایسے کئی واقعات بھیہوئے۔ ایسی صورتحال میں ہائی کورٹ نے اسی دفعہ 338؍ایف کے تحت یہ سفارش کی کہ یہ بات شریعت کے منافی ہے لہٰذا امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کی رائے کے مطابق میاں بیوی کو آپس میں معافی کا اختیار نہیں ہونا چاہئے، بلکہ معافی کا اختیار مقتول کے صرف ان اولیاء (خاندانی ذمہ داروں ) کو حاصل ہے جو خاندان میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اور یہ رشتہ دار وہ ہیں جنہیں علم وراثت کی اصطلاح میں 'عصبہ 'کہا جاتا ہے مثلاً بھائی، بیٹا، باپ، دادا وغیرہ ۔ خاوند بیوی چونکہ آپس میں عصبہ نہیں ہوتے اور ایک کی وفات کی صورت میں زوجین کا باہمی تعلق کئی اعتبار سے منقطع ہوجاتاہے لہٰذا وہ دونوں ایک دوسرے کا قتل معاف نہیں کرسکتے۔

آپ کو یہ ساری تفصیل بتانے کا مقصد یہ ہے کہ ہم حدود آرڈیننس کے سلسلہ میں بالکل غلط راہ پر چلے جارہے ہیں ۔ ہمارے سوالوں اور اعتراضات کی بنیاد ہی غلط ہے جس کے پس پردہ شرعی حدود کو ختم کرنے کی سازش ہورہی ہے۔چنانچہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ایک غلط سوال تیار کیا گیا کہ کیا حدود آرڈیننس خدائی قانون ہے؟ یعنی حدود آرڈیننس حدو د اللہ نہیں ہیں ؟ ٹیلیویژن والوں نے تمام جواب دینے والوں کو اس کا پابند کیا کہ وہ صرف چند جملوں میں اس کا جواب دیں ۔ حالانکہ سوال یہ ہونا چاہئے تھا کہ ''حدود آرڈیننس کو حدود اللہ کیسے بنایا جائے؟'' کیونکہ ہماری زبان میں بیان کردہ حدود آرڈیننس اللہ نے آسمان سے نازل نہیں کیا بلکہ وہ ہماری طرف سے شریعت کی تعبیر ہے جو قرآن و سنت کی روشنی میں اس وقت کے ماہرین قانون نے تیار کی تھی۔

چنانچہ جب 'جیو' نے مجھ سے یہ سوال کیا تو میں نے کہا: ''ہاں حدود آرڈیننس بعینہٖ حدود اللہ تو نہیں لیکن ان کو حدود اللہ بنایا جاسکتا ہے، اور وہ اس طرح کہ شریعت کو وحی (قرآن وسنت) کے الفاظ میں نافذ سمجھا جائے اور پھر پارلیمنٹ کو جس کی اکثریت شریعت سے نابلد ہونے کی بنا پر اجتہاد کی اہل نہیں ، اس کو اجتہاد کااختیار دینے کی بجائے عدلیہ جو قرآن و سنت کے ماہرین (i)پرمشتمل ہو، کو اجتہاد کا اختیار دے دیا جائے۔ جب مسئلہ پیش آئے تو عدلیہ حدود آرڈیننس کے ساتھ ساتھ کتاب و سنت کو بھی سامنے رکھے اور معاصر اہل علم کی تشریحات کے علاوہ علما کے قدیم اور جدید فقہی ذخیرے اور فتویٰ جات سے بھی استفادہ کرے اور اسلام کے نام پر کئے جانے والے چودہ سو سالہ عدالتی فیصلہ جات سے بھی رہنمائی لے۔ پھر واقعاتی صورت حال اور شرعی دلائل کے تناظر میں جو رائے قرآن وسنت کے مطابق سمجھے، اس کے مطابق فیصلہ کردے ،کیونکہ جج کسی اور کے اجتہاد کا مقلد نہیں ہوتا بلکہ وہ براہِ راست کتاب اللہ اور سنت ِرسولؐ کا پابند ہوتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ بیوروکریسی یا پارلیمنٹ کی قانون سازی اور اجتہادات کا ججوں کو مکلف بناناماہرین عدلیہ پر بے اعتمادی کا اظہارہے۔ ہمارے ملک پاکستان میں حدود آرڈیننس سمیت وہ تمام قوانین جو شریعت کے حوالہ سے نافذ کئے گئے ہیں ، ان کے بارے میں یہ مشکل درپیش ہے کہ اُنہیں انسانوں نے اپنی زبان میں تیار کیاہے، اور پھر ان کا نفاذ ایک خاص طریقے سے ہوتا ہے جس کی وجہ سے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان میں تبدیلیوں کی ضرورت محسوس ہوتی رہتی ہے جب کہ وحی کے الفاظ جامع ہوتے ہیں اور عالمگیر بھی یعنی ہر دور کے بدلتے تقاضوں اور مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت اپنے اندر رکھتے ہیں ۔ میں آپ کے سامنے ایک بہتر تجویز رکھ رہاہوں جو پوری اسلامی تاریخ میں رائج رہی ہے او رپاکستان میں شریعت کی قانون سازی والی صورتِ حال کو عبوری دور کا تقاضا سمجھتا ہوں کیونکہ وہ قانون جو انسانوں کی تعبیر سے دفعہ وار تقنین کی صورت میں یہاں نافذ ہوگا، اس کے اندر یہ مشکل ہمیشہ پیش آئے گی کہ اس قانون میں وقتاًفوقتاً بہت ساری تبدیلیوں کی ضرورت محسوس ہوتی رہے گی ۔اس لئے میرے نزدیک اصل حل یہ ہے کہ قانون بنانے سے پہلے اجتہاد کی بجائے خود قرآن وسنت کا نفاذ فیصلہ کرنیوالے ججوں کو اجتہاد کے قابل بنانے کا زیادہ اہتمام کیا جائے۔

انصاف: حالیہ بحث میں ایک حل یہ پیش کیا جارہا ہے کہ پہلے چار گواہ موجود ہوں تو حدود کا مقدمہ درج کیا جائے،ا س کے بغیر مقدمہ قطعاً درج نہ کیا جائے۔آپ اس بارے میں کیا کہتے ہیں ؟
مولانا مدنی : درحقیقت یہ باتیں ان لوگوں کی طرف سے کہی جارہی ہیں جو دستور، قانون اور اس کے طریق کار سے ناواقف ہیں ۔ ہمارے ہاں دستور کا ایک باقاعدہ پروسیجر ہے، پھر اعلیٰ عدالتی فیصلوں کا ایک لمبا پروسیس ہے جس کا ایک مسلمہ قانونی کردار ہے۔میں ایک عرصہ شریعت کے حوالے سے مروّجہ قوانین اور ضابطہ قانون پڑھاتا رہا ہوں ، اس لئے میرے تجربے کے مطابق حدود آرڈیننس میں کوئی ایسا اضافہ نہیں کیا جاسکتا کہ پورے دستور وقانون کا حلیہ ہی بگڑ جائے، کریمنل کوڈ، پروسیجر کوڈ یا پولیس ایکٹ کا تیا پانچا ہوجائے، اس لئے یہ اضافہ اور ترامیم ناقابل عمل ہیں ۔

مزید یہ کہ پاکستان میں جرم صرف بدکاری کا ہی تو نہیں ہے، حدود کے ہی چار قانون اور ہیں ۔ قصاص ودیت آرڈیننس بھی ہے اور قانونِ شہادت بھی، اسی طرح کے دیگر سنگین جرائم بھی ہیں ۔ مثلاً زنا سے بھی زیادہ سنگین جرم توہین رسالت کا ہے اور یہ جرم ایسا ہے کہ اس کے مرتکب کو سزا دینے کے لئے حکومت کی بھی شرط ضروری نہیں ۔ دیگر عام جرائم کی سزا صرف حکومت ہی دے سکتی ہے ،لیکن توہین رسالتؐ میں اگر حکومت لیت و لعل کرے تو مسلمان کی غیرت قابل مؤاخذہ نہیں ہے۔پھر پاکستان میں بغاوت کا جرم بھی کتنا سنگین ہے؟ ایسے جرائم کے لئے گواہوں کو پیشگی ساتھ لانے کا مطالبہ کیوں نہیں کیا جاتا؟ میری رائے یہ ہے کہ اس طرح کا طریق کار اختیارکرنے سے پورا دستور و قانون ایک تماشہ بن جائے گا۔ ہمیں اپنے ملک کے حالات، دستور اور قانون کی روشنی میں بات کرنا چاہئے۔

پاکستان میں دستور و قانون کے ایک بڑے سیٹ اَپ میں سے ایک قانون جرمِ زنا آرڈیننس VII (1979ئ) بھی ہے۔ اس سلسلے میں قانونی طریقہ کار سے ناواقف دانشور عوام کے سامنے حدود آرڈیننس کی غلط تشریحات کے ذریعے جو اعتراضات پیش کررہے ہیں اس کا حل یہ نہیں ہے کہ کیس رجسٹر ہونے سے پہلے چار گواہ سامنے موجود ہوں ، چاہے وہ عورتیں ہوں یامرد ہوں یا وہ گواہ کس طرح کے ہوں ؟کیونکہ قانون کی زبان عوام کا مسئلہ نہیں او رنہ قانون کے فیصلے میڈیا پر عوام نے کرنے ہیں ۔ قانون کا ماہرانہ مطالعہ کئے بغیرعوام کو کیا معلوم کہ گواہوں کی کیا حیثیت ہے اور گواہی کا انداز کیا ہونا چاہئے اوراس کی شرائط کیا ہیں ؟ اس لئے ایسے تمام مسائل کو اخبارات اور ٹی وی کے ذریعے عوام کا موضوع بنانے کی بجائے قصاص و دیت کے قانون کی طرح حدود آرڈیننس کے اوپر چھتری کی طرح ایک دفعہ رکھ دی جائے کہ اس میں جو بھی ضمنی یا نئے مسائل اُٹھیں گے یا اہل فکر و دانش کو اس پر جو بھی اعتراض ہوں گے وہ فیڈرل شریعت کورٹ کے سامنے پیش کریں جو قرآن و سنت کی روشنی میں اجتہاد کے ذریعہ ان مسائل کا حل تلاش کرے ۔ علاوہ ازیں جس طرح میں کہہ چکا ہوں کہ عدلیہ کو اس قابل بنایا جائے کہ وہ شریعت کی ماہر اور اہلیت ِاجتہادکی حامل ہو۔ ہمارے ملک مںش اس مسئلہ کا فوری حل یہی ہے کہ مذکورہ بالا قانونی دفعہ کے ذریعہ حدود آرڈیننس پر کتاب وسنت کی اتھارٹی قائم کردی جائے، اس کی روشنی میں ایسے جزوی مسائل کا فیصلہ جج کریں ۔

گواہان کی تعداد وغیرہ پر اعلیٰ عدلیہ پہلے بھی فیصلے دے چکی ہے کہ اگر حدود کے متعلق شہادت وغیرہ کے سلسلہ میں کوئی ایسے ناگزیر حالات پیدا ہوں تو اس کا فیصلہ عدالت کرسکتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ آج جو لوگ کبھی توہین رسالت پر اورکبھی عورتوں کے حوالے سے ایسے قوانین پر ...جن کی کم از کم روح شرعی ہے... اعتراض کررہے ہیں تو ان کا مقصد عوام کو پریشان خیالی میں مبتلا کرکے اُنہیں شریعت سے بدظن کرنا اور اینگلو سیکسن لاز اور مغربی تہذیب کا دل دادہ بنانا ہے ۔یہ مذموم مقصد پورا نہیں ہونا چاہئے بلکہ ہمارا قدم کسی قانون کی اصلاح کے ذریعے آگے شریعت کی طرف بڑھنا چاہئے۔

انصاف: کہا یہ جاتا ہے کہ حدود آرڈیننس کے نفاذ کے بعد عورتوں پر ظلم و زیادتی بڑھ گئی؟
مولانا مدنی: اس واویلاکا حقیقت سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔دراصل یہ امر معاشرے میں روزافزوں بے حیائی، مغربی تہذیب کی یلغار کا اثر ہے جو عورت کو بظاہر تحفظ دینے اور درحقیقت اسے سربازارِ ننگا اور رسوا کرنے کا علَم لے کر اُٹھی ہے۔مغرب زدہ لوگوں کو اس بات کی بڑی تکلیف ہے کہ پہلے تعزیراتِ پاکستان میں زنا بالرضا کی کھلی چھٹی تھی لیکن حدود آرڈیننس میں زنابالرضا کو بھی بدکاری اور ناقابل ضمانت جرم قرار دے دیا گیا ہے۔پہلے سزا صرف مرد کو ملتی تھی، بدکاری پر کنواری، بیوہ اور مطلقہ عورت کے لئے کوئی سزا نہ تھی بلکہ خاوند بیوی کی رضا مندی سے اس سے پیشہ بھی کروا سکتا تھا۔ اب حدود آرڈیننس سے عورت کو بھی بدکاری کرنے پر سزا کا حق دار قرار دے دیا گیا ۔ یہ وہ تکلیف ہے جو تہذیب ِمغرب کے ان اسیروں کو بے چین کررہی ہے اور یہ سارا شور اس لئے ہے کہ زنا کاری و بدکاری کو دوبارہ سند ِجواز مل جائے اور اس کے لئے تمام مال و زر اور مواد مغرب کی طرف سے فراہم ہورہا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ ملک میں روزافزوں پولیس دھاندلی او رکرپشن کے نتیجے میں واقعی عورتوں پر ظلم ہوتا ہے تو یہ مردوں پر بھی ہوتاہے، اس میں حدود آرڈیننس کا زیادہ دخل نہیں بلکہ بے لگام پولیس اور کرپٹ انتظامیہ کا قصور زیادہ ہے۔

اگر حدود آرڈیننس میں کوئی سقم ہے تو اس کا علاج یہ قرآنی اصول ہے: {فَإِن تَنَـٰزَعْتُمْ فِى شَىْءٍ فَرُ‌دُّوهُ إِلَى ٱللَّهِ وَٱلرَّ‌سُولِ...﴿٥٩﴾...سورۃ النساء} ''جب تمہارا کسی چیز میں جھگڑا ہوجائے تو اسے اللہ اور اسے کے رسول کی طرف لوٹا دو۔'' اور {وَمَا ٱخْتَلَفْتُمْ فِيهِ مِن شَىْءٍ فَحُكْمُهُۥٓ إِلَى ٱللَّهِ...﴿١٠﴾...سورۃ الشوری}''جس چیز میں تمہارا اختلاف پڑ جائے تو وہاں اللہ کا ہی فیصلہ معتبر سمجھا جائی۔''اس قرآنی اُصول کو حدود آرڈیننس میں بطورِ اتھارٹی اور معیار شامل کردیا جائے اور کتاب وسنت کے مطابق ہونے کا فیصلہ(جو ایک قسم کا اجتہاد ہے)پارلیمنٹ کی بجائے جج کے ہاتھ میں ہونا چاہئے جو درجہ اجتہادپر فائز قرآن و سنت کے علم اور مہارت کی بنیاد پرکیا جائے۔ اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو پھر بھانت بھانت کی یہ بولیاں سننا پڑیں گی کہ جی آرڈیننس میں یہ بات غلط ہے، اسے بدلو۔ فلاں غلط ہے، لہٰذا آرڈیننس کو منسوخ کردو۔

انصاف : اب یہ کہا جارہا ہے کہ چار گواہوں کے بغیر مقدمہ درج نہیں کیا جاسکتا اور دوسرا کہ عورتوں کوجیل میں نہیں رکھا جاسکتا؟
مولانا مدنی:حدود آرڈیننس میں گواہوں کی تعداد اور اہلیت کے تعین کے متعلق ماضی میں بھی ایک فیصلہ عدالت ِعالیہ کر چکی ہے۔ (1992،کریمنل لاء جرنل،ص1530) مقدمہ درج کرنے سے قبل اس طرح کی شرطیں یا اس قسم کی آرا مروّجہ قوانین کے ماہرین کی نظر میں بالکل بے وقعت ہیں ۔ ایک رائے میں دیتا ہوں اور چند آرا آپ قانون سے ناواقف دوسرے لوگوں سے لے لیں ، لیکن اس کا نتیجہ اس کے سوا کچھ نہیں نکلے گا کہ پہلے سے موجودہ اَن گنت آرا میں بعض مزید آرا کااضافہ ہوجائے گا۔ قانونی ماہرین کے لیے بھی ایسے مسائل کے حل کیلئے وہی رہنما اُصول ہے جوقرآن نے بیان کردیاہے کہ ''اللہ ورسول کی طرف لوٹا دو۔''(النساء:59)

آپ توجہ فرمائیں کہ ہماری اسلامی فقہ کے ایک ایک مسئلہ میں اکابر ائمہ کرام کی آرا بھی مختلف ہو جاتی ہیں ، ہم جن کے پاؤں کی خاک کے برابربھی نہیں ہیں ۔دنیا بھر کے اہل علم اپنے فتویٰ میں کتاب وسنت کا یہی اُصول استعمال کرتے ہیں جو سورة النساء میں بیان ہوا ہے۔ہمارے ہاں بھی سپریم کورٹ(شریعت بنچ) یافیڈرل شریعت کورٹ میں جب کوئی قانون زیر بحث آتا ہے کہ آیا وہ قرآن و سنت کے مطابق ہے یا نہیں تو جج اسی اُصول کے تحت فیصلہ کرتا ہے کہ کون سی رائے 'کتا ب و سنت' کے مطابق ہے اور کون سی نہیں ؟ جب پہلے آپ کے پاس ایک طریق کار موجود ہے تو اسے ہر معاملہ میں عام کردیا جائے۔ یہی اصل حل ہے، حدود آرڈیننس کو حدود اللہ بنانے کا۔ ہر جج کو اسی طریقہ کار کے مطابق کام کرنے دیا جائے لیکن اس کے لئے پہلے ججوں کی تقرری (Selection) اورتعیناتی کابھی شرعی معیار مقرر کرنا ضروری ہوگا،چنانچہ ضروری ہے کہ موجودہ اور آئندہ مقرر ہونے والے ججوں کو اس معیار کے مطابق تیارکیاجائے۔

انصاف:اس وقت بجٹ اور دیگر کئی اہم ایشوز زیربحث ہیں تو ان حالات میں حدود کی بحث کو شروع کرنے کا مقصد کیاہے ؟
مولانا مدنی: اس وقت ہمارے ملک کا پورا نظام دگر گوں ہے۔اگرچہ اقتصادی نظام، سیاسی نظام توسب پہلے ہی مغرب سے درآمد شدہ اور اس کے زیر اثر چل رہا ہے،لیکن مغرب کے برعکس محکوم ہونے کے ناطے ہماری عدلیہ، مقننہ، انتظامیہ، فوج،بیورو کریسی اور ہر محکمہ کرپشن کی زد میں ہے۔ ان تمام مسائل کو نظر انداز کرکے حدود آرڈیننس کو میڈیا پر اُچھالنے کی وجہ یقینا یہی ہے کہ سیاست اور معیشت کی طرح ہم اپنی معاشرت کو بھی مغربی تہذیب کے سامنے سرنگوں کردیں اور یہی اس وقت مغرب کی ہم سے ڈیمانڈ ہے اور اس مقصد کے لئے وہ ہمارے بعض نام نہاد علما یا دانشوروں کو خرید رہا ہے۔

ہمارے ہاں جو این جی اوز کا جال بچھا ہے، ان کو پیسہ کہاں سے ملتا ہے؟ ڈاکٹر محمد فاروق کی'حدود آرڈیننس کا تنقیدی جائزہ' کے نام سے ایک معمولی کتاب شائع کرنے کے لئے مبینہ طور پر ایک این جی او(عورت فاؤنڈیشن) کو سات کروڑ روپیہ آخر کس نے دیا ؟اخبارات کے کئی کئی صفحات اور ٹی وی چینل جو اس مقصد کے لئے سرگرم ہے، ان کو فنڈنگ کون کررہا اور کیوں کررہا ہے؟ اور ایک ٹی وی چینل شاہراہوں پر بڑے بڑے بورڈ کیوں لگا رہا ہے؟ حالانکہ شاہراہوں پر اشتہار بازی صحافتی دائرئہ کار میں کبھی شامل نہیں رہی۔ اس کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے؟ یقینا مغرب اور اس کے اشاروں پر ناچنے والوں کا، جوچاہتے ہیں کہ زنا بالرضا کے ثبوت کے لئے ایسی شرطیں عائد کردی جائیں کہ وہ جرم ہی نہ رہ جائے اور اگر رہے بھی قابل مؤاخذہ نہ ہو۔ اور زنا بالجبر کو حرابہ (المائدة :33) کے تحت داخل کرکے اس کو قابل راضی نامہ بناکر عملاً اس کی سزا کوختم کردیا جائے کیونکہ اس سے اگلی آیت {إِلَّا ٱلَّذِينَ تَابُوامِن قَبْلِ أَن تَقْدِرُ‌وا۟ عَلَيْهِمْ...﴿٣٤﴾...سورۃ المائدہ}سے یہی ثابت ہوتا ہے بلکہ اس سے تو یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اگرمجرم گرفتار ہونے سے قبل توبہ کرلے توبے چاری عورت سے پوچھنے کی ضرورت ہی نہیں ہے اور نہ زنا بالجبر کا شکارہونے والی عورت کو راضی کرنے کی ضرورت ہے حالانکہ زنابالجبر کا 'جرم حرابہ' سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ زنا کی سزا قرآن و سنت میں واضح طور پر بیان کردی گئی ہے، اس میں سے زنا بالجبر کو خاص کرکے 'حرابہ' کے تحت داخل کرنے کی کوئی دلیل کتاب وسنت میں موجود نہیں ہے، نہ خلفاء راشدین کے دور میں اس کی کوئی مثال ملتی ہے۔

لہٰذا یہ ایک کھیل ہے جو ایک منظم سازش کے تحت شروع ہوا ہے۔ حدود آرڈیننس پرآج کل اُچھالے جانے والے تمام اعتراضات کے جوابات ہم اپنے مجلے ماہنامہ محدث میں شائع کرتے رہے ہیں ۔میرا موقف تو یہی ہے کہ اصل نکتہ کو مضبوطی سے تھامیں اورحدود آرڈیننس کی جزئیات پر عوامی آرا جمع کرنے کی بجائے اصل شرعی بنیادپر لوگوں کو جمع کریں ۔حل یہی ہے کہ عوام کی بجائے کتاب وسنت کی مطابقت کا اختیار عدلیہ کو دیاجائے، نہ کہ پارلیمنٹ کو کیونکہ جج بہر حال اعلیٰ علمی صلاحیت کی بنیاد پر تو متعین ہوتا ہے جبکہ اراکین پارلیمنٹ صرف ایک حلقہ کے اکثر عوام کے ووٹ سے منتخب ہوتے ہیں ، اُنہیں پورے ملک کا نمائندہ نہیں کہا جا سکتا کجا یہ کہ وہ الہامی شریعت کے نمائندہ قرار پائیں ۔

انصاف: لیکن آج ہمارے جج حضرات بھی جس طرح کے آتے ہیں وہ بھی توسامنے ہے؟
مولانا مدنی: یہ درست ہے کہ عدلیہ کی تقرری میں بھی کرپشن پائی جاتی ہے۔میں کہتا ہوں کہ عدلیہ کی شرعی تعلیم وتربیت کا اہتمام کریں تو یہ کرپشن بھی آہستہ آہستہ ختم ہوجائے گی۔ پوری طرح نہ سہی تو اس کمی کااثر خاص خاص کیسوں کے اندر ایک محدود حد تک رہ جائے گا۔ ایسی عدلیہ کو جیسے پہلے بھی دوسرے معاملات میں گوارا کیا جارہا ہے اور ان کے فیصلوں کو تسلیم کیا جارہا ہے، ایسے ہی حدود کیسوں میں بھی چلایا جاسکتا ہے۔ پھریہ تو ایک عبوری دور ہے اور عبوری دور کی کئی مجبوریاں ہوتی ہیں ۔

آپ کہیں گے کہ جج اجتہاد کرنے کے قابل نہیں ،میں کہتاہوں کہ قرآن و سنت کی اتھارٹی قائم کردو اور پھر اس کے مطابق ججوں کی ٹریننگ شروع کردو اور اس دوران جو عبوری دور ہوگا اس کو ایک خاص وقت تک برداشت کیا جائے جیسا کہ آج برداشت ہورہا ہے، ساتھ ساتھ علماے دین اور بار کے وسیع المطالعہ قانون دانوں کا تعاون چلتا رہے ۔ اصلاحِ احوال کی ایسی کوششیں جاری رہنا چاہئیں ۔

انصاف: حدود آرڈیننس کے سلسلہ کی اُلجھنںع اور ان کا حل آپ نے بیان کردیا ہے۔اب ہم 'جیو' کی بجائے درست سوالات تیارکرسکتے ہیں ۔
مولانا مدنی : جنگ کے نمائندہ عبدالمجید ساجد نے مجھ سے انٹرویو لیتے وقت یہ کہا کہ یہ سب غلط پروپیگنڈہ ہورہا ہے۔ ہم اصل صورتِ حال سے لوگوں کو آگاہ کرنا چاہتے ہیں ۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ ہم آپ کا انٹرویو مکمل شائع کریں گے، لیکن جب جنگ کا جمعہ ایڈیشن آیا تو ایک دو باتیں ذکر کرنے کے علاوہ باقی تمام انٹرویو چھوڑ دیا گیا۔جیساکہ میں نے ذکر کیاکہ جنگ اورجیو نے یہ سوال غلط ترتیب دیا ہے کہ کیا حدود آرڈیننس حدود اللہ ہیں ؟آپ اس کی بجائے یہ سوال لے کر آگے بڑھائیں کہ ''ہم حدود آرڈیننس کو حدود اللہ کیسے بنائیں '' اورمخالفین سے پوچھیں کہ یہ جو تم اس میں ترمیم و اصلاح کی سفارشات پیش کررہے ہو کیا اس سے یہ آرڈیننس خدائی بن جائے گا،یعنی کیا اس طرح حدود آرڈیننس حدود اللہ بن جائے گا؟ نیز اس مسئلہ میں ہمارے ملک کے دستورو قانون اور Anglosaxon Lawکے طریقہ کار کو بھی پیش نظر رکھاجائے اور اسی کے تناظر میں سوالات کئے جائیں ۔

دیکھیں یہ سفارش پیش کی گئی ہے کہ اگر عورت زنابالجبر کی FIRدرج کراتی ہے اور پھر اسے ثابت نہیں کرسکی تو اسے تو خود بخود قذف کی سزا نہیں ہوگی بلکہ اس کے لئے علیحدہ کیس دائر کرنا پڑے گا۔لیکن اگر زنا بالرضا ہو اورمدعی FIRکے وقت چار گواہوں کو لانے میں کامیاب نہ ہوسکے تو کیس دائر کرنے والے پرفوراً قذف کی سزالاگو ہوجائے گی اورالگ کیس دائر نہیں کرنا پڑے گا۔ حالانکہ ہمارے دستور کا بنیادی ڈھانچہ ہی عورت اور مرد میں ایسے امتیاز کی اجازت نہیں دیتا۔ دراصل قذف کی الگ FIRکی وجہ یہ ہے کہ حدود آرڈیننس ایک قانون نہیں بلکہ پانچ قوانین ہیں ۔یعنی جرم زنا آرڈیننس VII الگ ہے اور جرم قذف آرڈیننس VIII ایک مستقل قانون ۔

انصاف: یعنی حدود آرڈیننس پانچ علیحدہ علیحدہ آرڈیننسوں کامجموعہ ہے؟
مولانا مدنی:ہاں ،بالکل ایسا ہی ہے کہ پانچوں الگ الگ قوانین ہیں ۔ زناکا الگ ہے، قذف کا الگ اور شراب کا الگ وغیرہ وغیرہ اور ہمارے ملک کے عام قانونی طریق کار کی مجبوری یہ ہے کہ جب ایک قانون کے تحت پرچہ درج ہوتاہے تو دوسرے قانون سے متعلقہ کیس کی اس پرچے میں سزا نہیں ہوسکتی۔ پھریہ کہنا کہ زنابالرضا ثابت نہ ہونے کی صورت میں قذف کی سزا خود بخود لاگو ہوجائے گی، اسطرح تو پورے دستور ؍ قانون کا تیا پانچہ کرنا پڑتا ہے۔

انصاف: یہ نکتہ انتہائی اہم ہے!!
مولانا مدنی: بالکل، یہ دستوری مجبوری ہے اوربنیادی حقوق کے اعتبار سے امتیازی قانون بھی جس سے پورا قانونی طریق کار متاثر ہوگا۔

انصاف:مجلس عمل(MMA) نے جو موقف اختیار کیاہے کہ حدود آرڈیننس شریعت کے مطابق ہے ، ہم کسی کو چھیڑنے نہیں دیں گے ۔اس بارے میں آپ کیاکہتے ہیں ؟
مولانامدنی: اصل میں ان کے سامنے اس کی روح ہے جوانتہائی مقدس ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم اِس کو بدلنے نہیں دیں گے۔دیکھیں ایک ہوتی ہے کسی چیز کی روح اور ایک ہیں اس کے الفاظ۔ اس قانون کی روح یہ ہے کہ زنابالرضا ہو یازنا بالجبر، ہردوصورتوں میں وہ حرام اور ناقابل معافی جرم ہے۔وہ اس کی روح کی بات کررہے ہیں کہ اسے نہیں بدلنا چاہئے۔ باقی رہے الفاظ تو اگر ان پر قرآن و سنت کی چھتری موجود ہے تو ان میں تبدیلی ہوسکتی ہے۔ تمام ائمہ کرام کی فقہ ہمارے لئے سرمایہ ہے۔ قرآن و سنت کی چھتری تلے ہم ان تمام سے استفادہ کر رہے ہیں ۔ مجلس عمل والوں کو دراصل یہ خطرہ ہے کہ حدود آرڈیننس کو ایک سازش کے تحت ختم کرنے اور زنا کو سند ِجواز مہیا کرنے کا منصوبہ تیار ہے۔ اس لئے وہ سمجھتے ہیں کہ ان حالات میں حدود آرڈیننس کو چھیڑنا کسی طور بھی مناسب نہیں ہوگا۔

انصاف : سمیعہ راحیل قاضی سے ہماری بات ہوئی۔ وہ یہی کہتی ہیں کہ ان حالات میں اس قانون کو چھیڑنا ہی اس کو ختم کرنے کے مترادف ہے۔کیونکہ ان لوگوں کے پاس اکثریت ہے اور یہ لوگ نیک نیت بھی نہیں ہیں ۔
مولانا مدنی:میں سمجھتاہوں کہ حدود آرڈیننس میں قصاص ودیت آرڈیننس کی دفعہ 338؍ایف سے زیادہ واضح کتاب وسنت والی بنیاد کااضافہ ضرور ہونا چاہئے تاکہ اس قانون پرجب بھی کوئی اعتراض یااس میں سقم سامنے آئے تو اسے قرآن و سنت پر پیش کیاجاسکے اور یہ کام اعلیٰ عدلیہ کے قاضی حضرات کے ذریعے ہو جو خود بھی قرآن و سنت کے ماہر اور درجہ اجتہاد پر فائز ہوں یا وہ علما کی راہنمائی میں ایسا کریں ۔ جیسا کہ قصاص ودیت آرڈیننس میں دفعہ 338 ؍ایف کے بارے میں میں بعض اہم فیصلوں کا ذکر کر چکا ہوں ۔ہمارے ملک کے رواج کے مطابق قانون سازی (Legistation)ہماری مجبوری بن چکی ہے۔اس پر اگر قرآن وسنت کی اتھارٹی قانوناً قائم ہوگی تو پھر کوئی خطرہ نہیں ہے۔

میری تجویز کا خلاصہ یہ ہے کہ جب تک ہمارے پاس قرآن و سنت موجود ہے، اس وقت تک تمام ائمہ کی فقہ بھی ہمارے لئے قیمتی سرمایہ ہے اورشریعت کی قانون سازی کی کمزوریوں کا حل بھی موجود ہے۔ورنہ ان شرعی آرڈیننسوں کو قرآن و سنت سے الگ کردیں تو یہ سب بگاڑ ہی بگاڑ ہے، لہٰذا ضروری ہے کہ تمام قوانین پر قرآن کریم کا یہ اُصول قائم رہے {فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَيْئٍ فَرُدُّوْہُ إِلَی اﷲِ وَالرَّسُوْلِ} ''جب کسی مسئلہ میں تمہارا کوئی نزاع ہوجائے تو اسے اللہ اور اس کے رسول کے سامنے پیش کرو۔'' اس طرح ہمارے تمام مسائل حل ہوجائیں گے۔ یہی وہ شرعی طریقہ کار ہے جو چودہ صدیاں چلتا رہا ہے، اس کے احیا کی ضرورت ہے۔یہی بات جسٹس ناصر اسلم زاہد نے بھی کہی کہ '' حدود آرڈیننس کو قرآن کے مطابق بناؤ۔' 'وگرنہ وہی کچھ ہوتا رہے گا جو جسٹس (ر) ڈاکٹر جاوید اقبال نے کہا کہ
''لوگوں کو راضی رکھنے کے لئے ہمیں قانون تو بنانے پڑتے ہیں ،لیکن ان کو مؤثر اور قابل عمل نہیں رکھا جاتا۔ان کی حیثیت زیبائشی اور آرائشی قوانین کی ہوتی ہے۔یہ منافقت اس لئے ضروری ہے کہ ہم علما کو بھی ناراض نہیں کرسکتے، لیکن اسلامی قانون کو مؤثر بھی نہیں کرسکتے۔''

 


i. کہا جا سکتا ہے کہ ہماری عدلیہ کے اکثر ارکان بھی شریعت کے ماہر نہیں ہیں، وہ اجتہاد کیسے کریں گے؟ اگرچہ اس کا صحیح حل تو ماہرین کی تیاری ہی ہے لیکن عبوری دور میں یوں کام چلایا جا سکتا ہے کہ جج حضرات کے ساتھ علماء یا بار میں ایسے عالم حضرات تعاون کریں جن کی مدد سے جج "اجتہاد" کر سکیں۔جج حضرات بہرصورت "میرٹ" پر ہی  Select ہوتے ہیں۔ آج کل فیڈرل شریعت کورٹ اور سپریم کورٹ (شریعت بنچ) میں اسی طرح کام  چلایا جا رہا ہے۔ اسی طرح عام اعلیٰ عدلیہ کے ارکان بھی دستور کی اسلامی دفعات کی روشنی میں عرصہ سے فیصلے کرتے چلے آ رہے ہیں۔