فہرست مضامین

میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

ایک مسلمان گھرانے کے چشم و چراغ اور ایک صوفی باپ کے فرزند ارجمند کی حیثیت سے علامہ اقبال کا نبی اکرم سے گہرا قلبی لگاؤ یوں تو ایک فطری بات ہے لیکن جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ یہ جذبہ نہ صرف ان کی پوری زندگی کو محیط ہے بلکہ ان کی زندگی کا وہ تخلیقی جوہر ہے جو ماہ و سال گزرنے کے ساتھ ساتھ برابر اور متواتر ترقی کرتا چلا گیا۔ یہاں تک کہ آخرِ عمر میں ان کی پوری شخصیت اسی ایک جذبے میں مرتکز ہو کر مہبطِ انوارِ محمدیہ بن گئی اور آپ نے اپنی زندگی کو کاملاً ایک جذبے کی نذر کر دیا تو بات فقط اثرات اور میراثِ پدر تک ہی محدود نہیں رکھی جا سکتی! بالخصوص ایسی صورت میں جبکہ ہماری گفتگو ایسی شخصیت کے بارے میں ہو جس کا شمار اپنے عہد کے چوٹی کے فلاسفہ میں ہوتا ہو۔ جو مزاجِ عصر کو بدلنے کا عزم رکھتا ہو۔ جس کا دعویٰ یہ ہو کہ آنحضرت ﷺ کی ذاتِ اقدس سے اس کے جذبے کو ہی تسکین نہیں ملی بلکہ اس کی عقل نے بھی اپنی مراد یہی سے پائی ہے۔ جس کا عقیدہ یہ ہو کہ ہم آج بھی آنحضرت ﷺ کی ذاتِ اقدس سے اسی طرح مستفید ہو سکتے ہیں جس طرح آپ ﷺ کی زندگی میں صحابہ کرام ہوا کرتے تھے۔ جس نے اپنے کامل شعور کے ساتھ گواہی دی ہو کہ انسانیت کا یہی وہ مقام ہے جس میں عیشِ دوام کا سراغ ملتا ہے۔ جس کے نزدیک نبی کی ذات خدا سے بھی محبوب تر ہو اور نبی کریم ﷺ کی ذات اقدس کے لئے جذبات شکر گزاری کے لئے جس کے وجود کا ذرہ ذرہ چھلکا پڑتا ہو۔

اقبال اور حب رسول:

سید ابو الحسن ندوی نے علامہ اقبال کی شخصیت کے چار تخلیقی عنصر گنوائے ہیں اور ان میں حبِّ رسول کو بجا طور پر ایک اہم عنصر کی حیثیت دی ہے۔ علامہ اقبال کو ذاتی طور پر جاننے والے سبھی لوگوں نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ سیرتِ اقبال میں حُبّ رسول کا عنصر اتنا قوی تھا کہ کوئی بھی ملنے والا اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ حکیم عبد المجید قرشی مرحوم نے لکھا ہے کہ جب تک علامہ اقبال کو قریب سے نہ دیکھا جائے اس شیفتگی اور عشق کا اندازہ لگانا مشکل ہے جو ان کو پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام سے تھی۔ آخر عمر میں تو رسول اللہ ﷺ کی محبت میں ان کا دل اس قدر رقیق ہو گیا تھا کہ حضور ﷺ کا نام زبان پر آتے ہیں اشک بار ہو جاتے اور بسا اوقات اس قدر رقت طاری ہو جاتی کہ ہم جلیسوں کو ان کی زندگی کے بارے میں تشویق لاحق ہو جاتی۔ آپ کے ایک قریبی دوست غلام بھیک نیرنگ نے علامہ اقبال کے حالات کے بیان میں لکھا ہے کہ حضور ﷺ سرور کائنات سے ان کے قلبی تعلق کے پیش نظر میں نے خاص خاص لوگوں سے بطور راز کہہ رکھا تھا کہ اگر علامہ اقبال حضور ﷺ کے مرقد پاک پر حاضر ہوئے تو زندہ واپس نہیں آئیں گے۔ آنحضرت ﷺ کی تعظیم و توقیر کے بارے میں ان کا آبگینۂ احساس اس قدر نازک تھا کہ اگر کوئی مسلمان حضور ﷺ کا نام ان کے سامنے درود شریف پڑھے بغیر زبان پر لاتا تو اس قدر تکلیف محسوس کرتے کہ بسا اوقات پوری رات اس کرب اور تکلیف میں گزر جاتی۔ پاسِ ادب کا اپنا یہ عالم تھا کہ علالت کے آخری ایام میں حضور ﷺ کا نام زبان پر لانےسے پہلے اس بات کا پورا پورا اطمینان کر لیتے کہ حواس اور بدنی حالت میں کوئی خرابی تو نہیں۔ حضور ﷺ پر مکمل اعتماد و یقین کی کیفیت کا ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے سید نذیر نے لکھا ہے۔ کہ ایک بار جب آپ کے سامنے حضرت ابو سعید خدری کی اس روایت کا ذکر آیا کہ حضور ﷺ رسالت مآب اپنے بعض احباب کے ساتھ اُحد پر تشریف لے گئے اور اُحد کانپ اُٹھا تو حضرت علامہ فرمانے لگے۔ ''یہ محض استعارہ نہیں ہے۔'' اور پھر درد کی تکلیف کے باوجود ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے فرمایا۔ ''MIND YOU! IT IS NO METAPHOR''

اقبال اور حُبِ رسول کی پرورش:

ڈاکٹر عبد الحمید ملک راوی ہیں کہ ایک بار انہوں نے حضرت علامہ سے استفسار کیا کہ حضور ﷺ سرورِ کائنات سے محبت کا گنجِ گراں مایہ انہیں کیسے ملا تو آپ نے بلا توقف ارشاد فرمایا کہ درود شریف کے ورد کی کثرت کی برکت سے۔ اس بات کی طرف ان کی شاعری میں بھی اشارہ ملتا ہے۔

کافرِ ہندی ہوں میں دیکھ میرا ذوق و شوق

لب پہ درود و صلوٰت دل میں درود و صلوٰت

لیکن درود شریف کی کثرت کے ساتھ ساتھ نبوتِ محمدیہ ﷺ کی معنوی حیثیت پر غور و خوض بھی زندگی بھر آپ کا مستقل وظیفہ رہا جو آپ کے لوحِ دل پر عظمتِ رسول کے نقوش اجاگر کر کے ''جذبۂ حبِ رسولﷺ'' کی پرورش کرتا رہا۔ خواجہ عبد الوحید صاحب کی ڈائری کے ایک ورق (مورخہ ۴؍ جولائی ۱۹۳۶؁ء) کے یہ الفاظ خاص طور پر قابلِ توجہ ہیں۔

''آپ نے نبوت پر عمومی اور نبوتِ محمدیہ پر خصوصی روشنی ڈالی۔ حضرت علامہ کا یہ پختہ خیال ہے کہ نبوتِ محمدیہ کی معنوی حیثیت کو ابھی تک انسان نہیں سمجھا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ بعض بزرگانِ سلف بھی اس کی کنہ کو نہیں پہنچے۔ وہ مدعی تھے کہ خود ان کو اس حقیقت کو سمجھنے کی توفیق حاصل ہوئی ہے اور اس موضوع پروہ تفصیل سے اپنی مجوزہ کتاب ''تمہید القرآن'' میں روشنی ڈالیں گے۔ عبد المجید سالک نے اپنے بیان میں اس سے ملتی جلتی بات کہی ہے۔ جس سے اس بات کی مزید تصدیق ہوتی ہے۔ فرماتے ہیں:

''وہ حضور ﷺ کی ذاتِ والا کو ساری کائنات سے افضل جانتے تھے اور ہر مسلمان جانتا ہی ہے لیکن عام مسلمانوں کے ماننے اور ان کے ماننے میں فرق یہ تھا کہ مسلمان اعتقاداً کہتے ہیں۔

؎ بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر

لیکن حضرت علامہ حقیقتاً اس عقیدے کو تسلیم کرتے تھے اور جب اس موضوع پر گفتگو فرماتے تو القاد الہام، مقامِ نبوت، انسانیت کاملہ، توازنِ جذبہ و ادراک اور حریتِ انسان کے مسائل پر نفسیاتِ جدید کی رو سے ایسی سر حاصل بحث فرماتے کہ کسی مخالف کو بھی حضور کے انسان کامل ہونے میں شبہ کی گنجائش باقی نہ رہتی۔''

غرض یہ کہ علامہ اقبال اپنے ذکر و فکر اور علم و عرفان انوارِ محمدیہ سے ہمیشہ مستنیز ہوتے رہے اور ان کا دل تجلیاتِ محمدیہ سے طُور بنا رہا۔ محبت کے انہیں جذبات سے سرشاری کی کیفیت میں وہ ایک مجذوبانہ کیفیت سے پکار اُٹھتے ہیں۔

بکوئے تو گدازِ یک نوابس مرا ایں ابتدا ایں انتہا بس

خراب جرات آں رند پا کم خدارا گفت مارا مصطفےٰ بس

اقبال کی دینی فکر اور اسوۂ رسول:

راقم الحروف کی ناچیز رائے میں امورِ دینیہ میں علامہ اقبال کی صحتِ بصیرت اور سلامتیٔ فکر کا راز فقط اس ایک نقطے میں مضمر ہے کہ آپ ''دین ہمہ اوست'' کی رمز سے آشنا تھے۔ اس نکتے کی معنویت یوں سمجھ میں آسکتی ہے کہ اسلام کی حقیقت اگر کلمہ طیبہ میں سمٹ آئی ہے تو آپ ﷺ نے اس کے دوسرے ٹکڑے یعنی محمد رسول اللہ کی اہمیت کو اچھی طرح دلنشین کر لیا تھا جو اس کے پہلے ٹکڑے یعنی لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کی صحت کی واحد ضمانت ہے کیونکہ توحید وہی معتبر ہے جس پر پیغمبر کی مہر تصدیق ثبت ہو۔ حضرت مجدد الفِ ثانی کا یہ قول آبِ زر سے لکھنے کے قابل ہے کہ ''خدارا بایں طور می شناسم کہ خدائے محمد است'' بلاشبہ اگر مقصدِ توحید ''خدائے محمد'' نہ ہو تو وہ کسی نہ کسی کا بُت ہے خدا ہرگز نہیں ہے۔

غور سے دیکھا جائے تو شریعت اور طریقت میں جتنی بھی لغزشیں بعض علماء اور صوفیاء کی ذہنی اور روحانی نارسائیوں کے باعث سرزد ہوئی ہیں ان سب کا بنیادی سبب بالآخر یہی قرار پاتا ہے کہ یہ لوگ مقامِ رسول کی حقیقت تک رسائی حاصل کرنے میں کسی نہ کسی وجہ سے ناکام رہ گئے تھے۔ بعض علماء نے حفاظتِ توحید کے جوش میں محمد رسول اللہ کا ترجمہ ''محمد فقط رسول ہیں خدا نہیں'' کرتے ہوئے اس ٹکڑے کے معانی کو بشریت پر زور دینے کی غرض سے الوہیت کی نفی تک محدود کر دیا جس کی وجہ سے (معاذ اللہ) پیغمبر کی حیثیت ایک چٹھی رسان پیغام بر (یعنی فقط ایک ذریعہ) سے زیادہ متصور نہ ہو سکی اور شریعت ایک مردہ و بے جان قوانین کا مجموعہ بن کر رہ گئی اس طرح بعض صوفیا عرفانِ ذات باری تعالیٰ کے شوق میں گمراہ بلکہ بدراہ ہو کر (معاذ اللہ) یہاں تک کہہ گزرے۔

پنجہ در پنجۂ خدا دارم من چہ پروائے مصطفے دارم (شیخ ملا)

اور یہ بد مستی بھی پیغمبر یا اس کی لائی ہوئی شریعت کو محض ایک ذریعہ سمجھنے ہی کا نتیجہ تھی۔ یہ علماء اور صوفیاء خدا کی محبت کے زعمِ باطل میں یہ سادہ سی حقیقت فراموش کر گئے کہ پیغمبر کی ذات ہی خدا رسیدگی کا واحد اور ناگزیر وسیلہ ہے اور جس خدا کی محبت کے یہ مدعی ہیں وہ خود فرماتا ہے قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہ جس کی رو سے فَاتَّبِعُوْنِیْ کی شرط پوری نہ ہو تو محبت کا جذبہ بھی نارسا ہے خواہ یہ جذبۂ محبت اپنی طلب میں کتنا ہی صادق کیوں نہ ہو۔ لیکن شوقِ اتباع کا جذبہ اگر قوی ہو تو خدا کا محبوب بن جانا بھی دشوار نہیں ہے۔ اس لئے اگر علامہ اقبال حبِ رسول پر زور دیتے ہوئے یہ فرماتے ہیں۔

قوت قلب و جگر گردد نبی ﷺ از خدا محبوب ترگردد نبی ﷺ

تو یہ دین کی اصل پاکیزگی کی طرف لوٹانے کی ایک عملی صورت ہے۔ نبی ﷺ کی ذات سے اخلاص و محبت کا رشتہ قائم ہو جائے تو یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ خدا طلبی کا داعیہ بیدار نہ ہو اور رفتہ رفتہ اَشَدُّ حُبًّا لِلّٰہ کی کیفیت پیدا نہ ہو جائے۔

در حقیقت علامہ اقبال کی مذہبی بصیرت نے انہیں آغاز میں ہی اس نتیجے تک پہنچا دیا تھا کہ عملی حیثیت سے مذہب کی حقیقت رسول ہی کی شخصیت کا اظہار و انکشاف ہے جسے ہم شریعت اور طریقت کے دو نام دے دیتے ہیں۔ ۱۹۰۹؁ء میں ہندوستان ریویو میں آپ کا ایک مقالہ ''اسلام۔ ایک اخلاقی اور سیاسی نصب العین کی حیثیت سے'' (ISLAM AS A MORAL AND POLITICAL IDEAL) کے عنوان سے شائع ہوا جو آپ کی نہایت ابتدائی تحریروں میں سے ہے۔ اس میں آپ بڑی صراحت اور وضاحت سے لکھتے ہیں۔

''جب میں یہ کہتا ہوں کہ مذہب در حقیقت کسی قوم کے تجرباتِ زندگی کا وہ مجموعہ ہوتا ہے جو ایک عظیم شخصیت کے ذریعے ایک قطعی اظہار کی شکل اختیار کرتا ہے تو میں حقیقتِ وحی کو ہی سائنس کی زبان میں بیان کر رہا ہوتا ہوں۔

گویا ان کے نزدیک قوم میں سیرتِ رسول کے نفوذ کا ہی دوسرا نام مذہب ہے۔ حقیقت مذہب کے بارے میں ان کا یہ نظریہ غور و فکر کے ساتھ ساتھ پختہ سے پختہ تر ہوتا چلا گیا۔ چنانچہ اپنی زندگی کے آخری دنوں میں وقت کے ایک جید عالمِ دین سے خطاب کرتے ہوئے انہیں اس رمزِ دیں کی وضاحت کرنی پڑی۔

مصطفےٰ برساں خویش را کہ دیں ہمہ است

اگر بہ او نہ رسیدی تمام بو لہبی است

اقبال کی فلسفیانہ فکر اور اسوۂ رسول:

ایک فلسفی کی حیثیت سے علامہ اقبال کی دلچسپی کے موضوعات زیادہ تر وہ مسائل تھے جو انسان کی عملی زندگی سے تعلق رکھتے ہیں۔ چنانچہ وہ ایسے فلسفیوں پر افسوس ظاہر کرتے ہیں جو زندگی کے مسائل کو نظر انداز کر کے ما بد الطبیعاتی مسائل کو اپنی غور و فکر کا موضوع بناتے ہیں۔

حکیماں گرچہ صد پیکر شکستند مقیمِ سومنات بود و مستند

چساں افرشتہ و یزداں بگیر ند ہنوز آدم بفترا کے نہ بستند

آپ کے نزدیک فلسفی کو اپنے غور و فکر میں با مقصد اور افادیت پسند ہونا چاہئے جو فلسفی انسان کے قوائے عملیہ کو مہمیز کرنے کے بجائے قوائے عقلیہ کو جلا دینے کی فکر کرے وہ آپ کے خیال میں حقائقِ دین سے بے بہرہ رہتا ہے خواہ وہ رازی ہی کیوں نہ ہو۔

زرازی معنیٔ قرآن چہ پُرسی ضمیرِ ما بآیاتش دلیل است

خرد آتش فروزد دل بسوزد ہمیں تفسیرِ نمرود و خلیل است

اس لئے علامہ اقبال نے اپنے غور و فکر کا مرکز و محور خودی یا انسانی ذات کو بنایا۔ پھر چونکہ ان کا مقصد انسان کے قوائے عمل کو انگیز کرنے کا تھا اس لئے انہیں ذاتِ انسانی کی ابتدا سے کہیں زیادہ دلچسپی اس کی انتہا کے بارے میں تھی۔ وہ مقدرِ انسانی کے رازداں بننا چاہتے تھے۔ ان کے نزدیک انسان کا انتہائی حصول کمال اس کی سیرت (CHARACTER) ہے۔ وقتِ نظر سے دیکھا جائے تو قرآن کا موضوع بھی تشکیل سیرت ہی ہے۔ قرآن میں اگرچہ خدا، فرشتے، آخرت، جنت دوزخ، قیامت، حشرنشر وغیرہ ما بعد الطبیعاتی حقائق کا ذکر آتا ہے اور بہت کثرت سے آتا ہے لیکن قرآن میں ان حقائق کی ماہیت اور حقیقت پر عملی اور عقلی بحث نہیں کی گئی اور ہر چند ہمارے علماء اور مفسرین نے ان پر عقل کی حاشیہ آرائی بہت کی ہے لیکن ان کی ساری کوششوں کے باوجود ان کی حقیقت کھلتی نہیں لیکن اس کے برعکس قرآن میں انسان کی سیرت سازی اور تشکیل معاشرہ کے بارے میں جو تفصیلات بیان کی گئی ہیں ان کو غور و فکر کا موضوع قرار دیا جائے تو زندگی کے عملی مسائل حل کیے جا سکتے ہیں۔ علامہ اقبال اس نکتے سے بخوبی آگاہ تھے۔ فرماتے ہیں:

گدائے جلوہ رفتی برسرِ طور کہ جانِ توزخود نا محرمے ہست

قدم در جستجوئے آدمے زن خدا ہم در تلاشے آدمے ہست

چنانچہ ان کے نزدیک قرآن کا موضوع ہی ''تلاشِ آدم'' اور ''آدم گری'' ہے جس کا نمونۂ کمال ہمیں اسوۂ رسول میں ملتا ہے۔ اس لحاظ سے بھی دیکھا جائے تو آنحضرت ﷺ سے محبت استوار کرنا سیرت سازی کا ایک ناگزیر تقاضا قرار پاتا ہے جس پر علامہ اقبال کا زور دینا بالکل بجا ہے۔

نگاہِ عشق و مستی میں وہی اوّل وہی آخر

وہی قرآن وہی فرقاں وہی یٰسین وہی طٰہٰ

رشید احمد صدیقی نے ایک جگہ کہا ہے کہ علامہ اقبال پر ایک بڑے مذہب کی گرفت اتنی نہیں جتنی کہ ایک بڑی شخصیت ﷺ کی لیکن حق تو یہ ہے کہ علامہ اقبال نے اپنے مذہبی تصورات میں شخصیت ﷺ سے الگ ہو کر دین کے بارے میں کبھی سوچا ہی نہیں۔ ؎

تو فرمودی رہِ بطحا گرفتیم وگرنہ جُز تو مارا منزلے نیست

اور یہی ان کی راست فکری کی دلیل ہے جو انہیں فلسفی ہوتے ہوئے بھی کٹر سے کٹر راسخ العقیدہ مسلمانوں میں بھی معزز و محترم بناتی ہے۔

تصوف کے بارے میں اقبال کا نقطۂ نظر اور اسوۂ رسول:

تصوف کی طرف آئیے تو یہاں بھی علامہ اقبال کا منفرد نقطۂ نظر انہیں اس راستے پر ڈالتا ہے جس کی آخری منزل عبدہ یعنی اسوۂ رسول ہے۔ پروفیسر اینماری شمل نے تصوف کی دو بڑی قسمیں بیان کی ہیں جن میں سے ایک کو وہ تصوف ابدیت (MYSTICISM OF ETERNITY) کا نام دیتی ہیں اور دوسرے کو تصوف عبدیت (MYSTICISM OF PERSONALITY) کا۔ اول الذکر کا تعلق گیان دھیان اور مراقبوں سے ہے اور اس کی آخری منزل نروان یا وحدت الوجود ہے۔ آخر الذکر کا تعلق تعمیر سیرت سے ہے جس سے ایک پختہ شخصیت معرضِ وجود میں آتی ہے اور علامہ اقبال اسی دبستانِ تصوف سے تعلق رکھتے ہیں۔ عبد المجید سالک نے علامہ اقبال ے حالات کے بیان میں ایک دلچسپ واقعہ بیان کیا ہے جس سے تصوف کے بارے میں ان کے مخصوص نقطۂ نظر کی وضاحت ہوتی ہے وہ لکھتے ہیں۔

''میں شام کے وقت حسبِ معمول حاضر خدمت تھا کہ ایک بزرگ فقیر حضرت کے پاس آئے۔ باتیں شروع ہوئیں حضرت نے فرمایا۔ ''سائیں جی میرے لئے دعا کیجیے۔'' وہ کہنے لگے۔ کیا آپ کو دولت مطلوب ہے'' فرمانے لگے نہیں مجھے دولت کی ہوس نہیں۔ درویش آدمی ہوں اللہ مجھے ضرورت کے مطابق عطا کر دیتا ہے۔'' پھر فقیر نے پوچھا۔ کیا دنیا میں عزت و جاہ کے طلبگار ہو؟'' حضرت نے فرمایا۔ نہیں وہ بھی اللہ کے فضل سے حاصل ہے۔ میں کسی اونچے رتبے کا طالب نہیں۔'' سائیں جی نے پوچھا تو پھر کیا خدا سے ملنا چاہتے ہو؟''

اس پر ضرت کی آنکھوں میں خاص چمک پیدا ہوئی۔ فرمانے لگے ''خدا سے ملنا! سائیں جی خدا خدا کرو۔ میں بندہ وہ خدا! میرا اس کا واسطہ صرف بندگی کا ہے۔ ملنا کیا معنی؟ اگر مجھے معلوم ہوجائے کہ خدا مجھے ملنے آرہا ہے تو میں بیس کوس بھاگ جاؤں۔ اس لئے کہ دریا قطرے سے ملے گا تو قطرہ غائب ہو جائے گا۔ میں قطرہ کی حیثیت سے قائم رہنا چاہتا ہوں اور اپنے آپ کو مٹانا نہیں چاہتا بلکہ قطرہ رہ کر اپنے آپ میں دریا کے خواص پیدا کرنا چاہتا ہوں۔

اس پر سائیں بے خود ہو کر جھومنے لگے اور کہنے لگے ''واہ اقبال۔ جیسا سنتے تھے ویسا ہی پایا تو خود آگاہ مشرب ہے تجھے کسی فقیر کی دعا کی کیا ضرورت ہے۔''

خواجہ حسن نظامی کے نام جو خط آپ نے ۳۰؍ دسمبر ۱۹۱۵ء کو لکھا اس میں تصوف کے بارے میں آپ کے نقطۂ نظر کی مزید وضاحت ہوتی ہے اور اس تحریر کی روشنی میں آپ کا مؤقف پوری طرح سے سمجھا جا سکتا ہے۔ اس خط سے چیدہ چیدہ اقتباسا ت یہاں نقل کیے جاتے ہیں۔

آپ کے تصوف کی اصطلاح میں اگر اپنے مذہب کو بیان کروں تو یہ ہو گا کہ شانِ عبدیت انتہائی کمال روح انسانی کا ہے۔ اس سے آگے اور کوئی مرتبہ نہیں ہے۔

اصل بات یہ ہے کہ صوفیا کو توحید اور وحدت الوجود کا مفہوم سمجھنے میں بڑی غلطی ہوئی ہے۔ یہ دونوں اصطلاحیں مترادف نہیں ہیں۔ مقدم الذکر کا مفہوم مذہبی ہے اور مؤخر الذکر کا مفہوم خالص فلسفیانہ ہے۔ توحید کی ضد کثرت نہیں ہے جیسا کہ بعض صوفیاء سمجھتے ہیں بلکہ شرک ہے۔ ہاں وحدت الوجود کی ضد کثرت ہے۔۔۔۔۔۔

اسلام کی تعلیم نہایت صاف اور واضح اور روشن ہے۔ یعنی عبادت کے لائق صرف ایک ذات ہے۔ باقی جو کثرتِ عالم میں نظر آتی ہے وہ سب کی سب مخلوق ہے، گو علمی اور فلسفیانہ اعتبار سے اس کی حقیقت ایک ہی کیوں نہ ہو۔ چونکہ صوفیاء نے فلسفہ اور مذہب کے دو مختلف مسائل (وحدت الوجود اور توحید) کا ایک ہی سمجھ لیا اس لئے ان کو یہ فکر لاحق ہوئی کہ توحید کو ثابت کرنے کا کوئی اور طریقہ ہونا چاہئے جو عقل اور ادراک کے قوانین سے تعلق نہ رکھتا ہو۔ اس غرض کے لئے حالت سکر ممد و معاون ہوتی ہے اور اور یہ ہے اصل سلسلۂ حال و مقامات کی۔۔۔۔۔

''قرآن تعلیمات کی روشنی میں یا اس کی رو سے وجود فی الخارج (کائنات) کی ذات باری کے ساتھ اتحاد یا غیریت کی نسبت نہیں ہے بلکہ مخلوقیت کی نسبت ہے (یعنی خدا خالق ہے اور کائنات مخلوق اور مخلوق کے مابین مغائرت کلّی ہے)

اس مسئلہ وحدت الوجود پر بحث کرتے ہوئے خان محمد نیاز الدین خاں کے نام اپنے ایک خط میں لکھتے ہیں۔

میرا مذہب تو یہ ہے کہ یہ سارے مباحث مذہب کا مفہوم غلط سمجھنے سے پیدا ہوتے ہیں مذہب کا مقصود عمل ہے نہ (کہ)انسان کے عقلی تقاضوں کو پورا کرنا۔''

۱۹۱۶؁ء میں اسلام کے اسی پہلو کی وضاحت کرنے کے لئے تصوف کی تاریخ پر ایک کتاب لکھنے کا منصوبہ بھی ان کے پیش نظر رہا۔ خان نیاز الدین خاں مرحوم کے نام ایک خط سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اس کتاب کے دو باب لکھے جا چکے تھے۔ اس خط میں وہ نیاز الدین صاحب کو لکھتے ہیں۔

تصوف کے ادبیات کا وہ حصہ جو اخلاق و عمل سے تعلق رکھتا ہے نہایت قابلِ ہے کیونکہ اس کے پڑھنے سے طبیعت میں سوز و گداز کی حالت طاری ہوتی ہے۔ فلسفہ کا حصہ محض بیکار ہے اور بعض صورتوں میں میرے خیال میں تعلیم قرآن کے مخالف۔ اسی فلسفہ نے متاخرین صوفیہ کی توجہ صور و اشکال عینی کے مشاہدہ (کی) طرف کر دی اور ان کا نصب محض غیبی اشکال کا مشاہدہ بن گیا۔ حالانکہ اسلامی نقطۂ خیال سے تزکیۂ نفس کا مقصد ازدیاد یقین و استقامت ہے۔ اخلاقی ادار عملی اعتبار سے متصوفین اسلامیہ کی حخایات و مقولات کا مطالعہ نہایت مفید ہے لیکن دین کی اصل حقیقت ائمہ اور علماء کی کتابیں پڑھنے سے ہی کھلتی ہے اور آج کل زمانے کا اقتضاء یہ ہے کہ علم دین حاصل کیا جائے اور اسلام کے عملی پہلو کو نہایت وضاحت سے پیش کیا جائے۔ حضرات صوفیہ خود کہتے ہیں کہ شریعت ظاہر ہے اور تصوف باطن۔ لیکن اُس پُر آشوب زمانے میں وہ ظاہر جس کا باطن تصوف ہے معرضِ خطر میں ہے جیسے کہ اسلامی فتوحات کے وقت ہندوستان میں تھی یا ان فتوحات کے اثر سے ہو گئی تھی۔ چنانچہ آپ نے اس حقیقت کو ذہن نشین کرانے پر بہت زور دیا ہے کہ شریعت ہی اصل طریقت ہے۔ فرماتے ہیں:

در شریعت معنیٔ دیگر مجو غیر ضو در باطنِ گوھر مجو

ایں گہررا خود خدا گوہر گر است ظاہرش گو ہر بطونس گوہرا ست

غور سے دیکھا جائے تو در حقیقت یہ بھی اتباعِ رسول پر ہی زور دینے کا طریقہ تھا۔ مروجہ تصوف کی اصلاح کی غرض سے آپ نے بار بار امت مسلمہ کو اس بات کی طرف متوجہ کیا کہ وہ شریعت کو مضبوطی سے تھام لیں کیونکہ طریقت شریعت میں ہی اخلاص پیدا کرنے کا دوسرا نام ہے۔

پس طریقت چیست اے والا صفات شرع راد یدن بہ اعماقِ حیات

--------------------

از شریعت احسن التقویم شو وارثِ ایمان ابراہیم شو

--------------------

از جدائی گرچہ جاں آید بہ لب وصل او کم جو رضائے او طلب

مصطفےٰ دار از رضائے او خبر نیست در احکام دیں چیزے دگر

--------------------

طنیت پاک مسلماں گوہر است آب و تابش ازیمِ پیغمبر است

آب نیسیانی بہ آغوشش درآ درمیان قلزمش گوہر بر آ

درجہاں روشن تراز خورشید شو صاحبِ تابانیٔ جاوید شو

اور جہاں کہیں آپ نے خالص تصوف کی زبان استعمال کی وہاں بھی آنحضرت ﷺ کی ذات گرامی کو ہمیشہ سامنے رکھا ہے۔ یہاں تک کہ آپ نے وحدت الوجود کے ''مقام'' یا ''جال'' یا ''واردات'' کے لئے ہمہ اوست کی اصطلاح کے مقابلے میں دین ہمہ اوست کے مقام، حال اور واردات کو دین کی آخری منزل قرار دیا۔ جس کی وجہ سے تصوف میں پیدا ہونے والی خرابیوں کی اصلاح ممکن ہوئی۔

می نہ دانی عشق از کجاست ایں شعاعِ آفتاب مصطفےٰ است

--------------------

زندۂ تانور اودر جان تست ایں نگہدارندۂ ایمان تست

--------------------

فقر و ذوق و شوق و تسلیم و رضا ست ما امینیم ایں متاع مصطفےٰ است

--------------------

معنیٔ دیدار آں آخر زماں ﷺ حکم اوؐبر خویشتن کروں رواں

اقبال کا فلسفہ خودی اور اسوۂ رسول:

علامہ اقبال کے فلسفۂ خودی کا بغائر مطالعہ بھی اس حقیقت کو منشکف کر دیتا ہے کہ جس چیز کو علامہ اقبالؒ ''خودی'' یا مقام خویش'' سے تعبیر کرتے ہیں وہ تعلق باللہ اور اتباعِ رسول کے سوا کچھ اور نہیں۔

مقامِ خویش اگر خواہی دریں دیر بحق دل بند و راہ مصطفےٰؐ رو

آپ کے نزدیک مثالی خودی کا باطن للہیت اور ظاہر اتباعِ رسول سے عبادت ہے۔

خودی کی خلوتوں میں کبریائی خودی کی جلوتوں میں مصطفائی

ظفر احمد صدیقی کے نام اپنے ایک خط میں فرماتے ہیں۔

''دین اسلام جو ہر مسلمان کے عقیدے کی رُو سے ہر شے پر مقدم ہے ۔ نفس انسانی اور اس کی مرکزی قوتوں کو فنا نہیں کرتا بلکہ ان کے عمل کی حدود متعین کرتا ہے۔ ان حدود کے متعین کرنے کا نام اصطلاح اسلام میں شریعت یا قانونِ الٰہی ہے۔ خودی خواہ ہٹلر کی ہو یا مسولینی کی قانونِ الٰہی کی پابند ہو جائے تو مسلمان ہو جاتی ہے۔

بہرحال حدودِ خودی کے تعین کا نام شریعت ہے اور شریعت کو اپنے قلب کی گہرائیوں میں محسوس کرنے کا نام طریقت ہے۔ جب احکامِ الٰہی خودی میں اس حد تک سرایت کر جائیں کہ خودی کے پرائیویٹ امیال و عواطف باقی نہ رہیں اور صرف رضائے الٰہی اس کا مقصود ہو جائے تو زندگی کی اس کیفیت کو بعض اکابر صوفیۂ اسلام نے فنا کہا ہے اور بعض نے اس کا نام بقا رکھا ہے۔''

جیسا کہ ہم اس سے پہلے بھی تفصیل کے ساتھ لکھ آئے ہیں کہ شریعت کی محسوس شکل اسوۂ رسول ہی ہے۔ فلسفۂ خودی کی رُو سے اگر شریعت نام ہے خودی کے استحکام کا تو اس کا ٓخری معیار سیرتِ رسول ہے اور یہی وجہ ہے کہ علامہ اقبال کی شاعری میں ''مصطفیٰﷺ'' اور ''عبدہ'' کے الفاظ رفتہ رفتہ شعری علامات میں ڈھل جاتے ہیں جو خودی کی نشوونما، استحکام اور ترقی کا کمال اور ذات انسانی کی معراج کے طور پر ان کی شاعری میں استعمال ہوئی ہیں۔

سوال

از تو پُرسم گرچہ پُرسیدن خطاست سِرّ آں جوہر کہ نامش مصطفےٰؐ است

آدمے یا جوہرے اندر وجود آنکہ تابدگاہے گاہے در وجود

جواب

عبدہٗ از فہم تو بالا تر است زانکہ اوہم آدم وہم جوہر است

جوہر او نے عرب نے اعجم است آدم است وہم زآدم اقدم است

------------------

کس زسرِ عبدہٗؐ آگاہ نیست عبدہٗؐ جز سِرّ الا اللہ نیست

------------------

تازہ مرے ضمیر میں معرکہ کہن ہوا عشق تمام مصطفےٰؐ عقل تمام بو لہب

------------------

ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز چراغ مصطفوی سے شرار بو لہبی

------------------

ہر کجا بینی جہانِ رنگ و بو آنکہ از خاکش بروید آرزو

یاز نورِ مصطفیٰؐ اور ابہا ست یا ہنوز اندر تلاشِ مصطفےٰؐ است

انسان کے بارے میں علامہ اقبال کا نقطۂ نظر یہ تھا کہ اگرچہ یہ خاکی نژاد ہے لیکن نوری صفات پیدا کر سکتا ہے۔ اگرچہ یہ ایک ذرا سی آبجو ہے لیکن یہ آبجو بحرِ بیکراں بننے کی صلاحت سے بہرہ ور ہے۔

تو می گوئی کہ آدم خاک زاد است اسیرِ عالمِ کون و فساد است

ولے فطرت زاعجاز کہ دارد بنائے بحر بر جوئش نہاد است

لیکن اس آبجو کو بحرِ بیکراں میں تبدیل کرنے کے لئے جو پروگرام وہ تجویز کرتے ہیں اس کا خلاصہ یہ ہے۔

مصطفیٰؐ بحر است موج او بلند خیزد ایں دریا بجوئے خویش بند

اقبال کا ذوق شاعری اور اسوۂ رسول:

ہر شاعر فطری طور پر حسن سے متاثر ہوتا ہے جو اس کے اندر شعر گوئی کی تحریک پیدا کرتا ہے۔ علامہ اقبال جس قسم کے حسن سے سب سے زیادہ متاثر تھے وہ اخلاق و کردار اور شخصیت و سیرت کا حسن تھا جسے آپ نے ''خودی'' کی فلسفیانہ اصطلاح کا نام دیا۔ اس لئے آپ کی شاعری کا موضوع خودی یا دوسرے الفاظ میں حسنِ سیرت و کردار ہے۔ لیکن حسن سیرت و کردار کا جو کامل نمونہ عمر بھر آپ کی شاعری کے لئے زبردست تخلیقی تحریک بنا رہا۔ وہ آنحضرت ﷺ کی ذاتِ گرامی تھی جس میں جلال و جمال اور فقر و شاہی، زہد و جہاد، کی وہ ساری رعنائیاں اور تابانیاں سمٹ آئی ہیں۔ جن کی علامہ اقبال کے شاعرانہ تخیل اور ذوقِ حسن کو تلاش تھی۔ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ وہ جہاں کہیں بھی حسنِ سیرت کی کوئی چمک دیکھتے ہیں اس میں انہیں اسوۂ رسول کے فیض ہی کی جھلک نظر آتی ہے۔

شوکت سنجر و سلیم تیرے جلال کی نمود

فقر جنید و بایزید تیرا جمال بے نقاب

---------------

می ندانی عشق و مستی از کجاست ایں شعاع آفتاب مصطفےٰؐ است

---------------

زندۂ تانورِ اُو درجان تست ایں نگہدارندۂ ایمان تست

---------------

فقر ذوق و شوق و تسلیم و رضاست ما امینیم ایں متاع مصطفےٰؐ است

اقبال کا تصوّرِ آزادی اور اسوۂ رسول:

اگرچہ علامہ اقبال کے پیش نظر جو مقصد تھا وہ مسلمانوں کو انگریزوں کی سیاسی غلامی سے نجات دلانے کا مسئلہ تھا لیکن آپ نے اس مقصد کے لئے جو پروگرام مسلمانوں کے سامنے پیش کیا وہ ایک سیاسی مسئلہ کے سیاسی حل تک محدود نہیں رہا بلکہ ان میں آزادی کی ایسی نفسیات پیدا کرنا مقصود تھا جو انہیں سوا اللہ کی ہر قسم کی غلامی سے نجات دلائے اور ان کی پوری قومی زندگی میں ایک نفسیاتی اور روحانی آزادی کی راہ ہموار کر کے اسلام کی اصل پاکیزگی کی طرف رہنمائی کرے۔ اس غرض کے لئے آپ نے عقیدۂ ختم نبوت کی نفسیاتی اہمیت پر زور دیا۔ آپ کے نزدیک یہ عقیدہ انسان کو ہر قسم کی روحانی غلامی سے نجات دلاتا ہے کیونکہ اس سے یہ یقین لازم آتا ہے کہ انسانی تاریخ میں فوق الفطرت سرچشمہ کا منصب ختم ہو چکا ہے اور ہر باطنی واردات اب آزادانہ تنقید پر پرکھی جانے کے قابل ہے۔ اس عقیدہ کی وجہ سے انسان کے اندروجی تجربات میں علم کی نئی راہیں کھلتی ہیں۔ لیکچرز میں ایک جگہ لکھتے ہیں۔

جس طرح لا الٰہ کا عقیدہ فطرت کی تمام قوتوں سے الوہیت کا لباس اتار پھینکتا ہے اور انسان کے بیرونی تجربات میں تنقیدی مشاہدہ کی روح پیدا کرتا ہے (بالکل اسی طرح) باطنی واردات خوا وہ کتنی ہی غیر فطری اور غیر معمولی کیوں نہ ہوں مسلمان کے لئے بالکل فطری تجربہ ہے جو دوسرے مشاہدات کی طرح تنقید کی زد میں آتا ہے۔''

ایک دوسرے مقام پر ''نبوت پر ایک نوٹ'' میں تحریر فرماتے ہیں۔

ایک کامل الہام اور وحی کی غلامی قبول کر لینے کے بعد کسی اور الہام و وحی کی غلامی حرام ہے۔ بڑا اچھا سودا ہے کہ ایک غلامی سے باقی سب غلامیوں سے نجات ہو جائے اور لطف یہ ہے کہ نبی آخر الزمان کی غلامی، غلامی نہیں بلکہ آزادی ہے کیونکہ اس کی نبوت کے احکام دینِ فطرت ہیں یعنی فطرت صحیحہ ان کو خود بخود قبول کرتی ہے۔ فطرت صحیحہ کا انہیں خود بخود قبول کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ احکام زندگی کی گہرائیوں سے پیدا ہوتے ہیں اس واسطے عین فطرت ہیں ایسے احکام جن کو ایک مطلق العنان حکومت نے ہم پر عاید کر دیا ہے اور جن پر ہم محض خوف سے عمل کرنے پر مجبور ہوں اسلام کو دین فطرت کے طور پر REALISE کرنے کا نام تصوف ہے اور ایک اخلاص مسند مسلمان کا یہ فرض ہے کہ وہ اس کیفیت کو اپنے اندر پیدا کرے۔''

اقبال کا تصور ملت اور رسول آخر الزمان:

علامہ اقبال نے رسالت کے ملت ساز پہلو کو اس صراحت اور وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے جو شاید ان سے پہلے کسی بھی عالمِ دین سے ممکن نہ ہو سکا تھا اور علامہ اقبال کے ساتھ کیا ہے جو شاید ان سے پہلے کسی بھی عالمِ دین سے ممکن نہ ہو سکا تھا اور علامہ اقبال کو بھی اس بات کا احساس تھا چنانچہ خواجہ عبد الوحید صاحب کی ڈائری کا وہ ورق جسے ہم اوپر نقل کر رہے ہیں اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ان پر یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں تھی کہ عقیدۂ توحید بحذف عقیدۂ ختم رسالت ملت کی شیرازہ بندی نہیں کر سکتا۔ جہاں تک نبوت اور ختم رسالت کے منصب کی سماجی اہمیت کا تعلق ہے وہ بجا طور پر اس پر بڑی شدت کے ساتھ اصرار کرتے تھے چنانچہ آپ نے یہ نکتہ نہایت شرح و بسط کے ساتھ واضح کیا کہ تصدیق و تکذیب رسالت ہی سے ایمان اور کفر کا امتیاز کیا جا سکتا ہے فرماتے ہیں۔

''اسلام لازماً ایک دینی جماعت ہے جس کے حدود مقرر ہیں: یعنی وحدت الوہیت پر ایمان انبیاء پر ایمان او رسول کریم کی ختم رسالت پر ایمان۔ دراصل یہ آخری یقین ہی وہ حقیقت ہے جو مسلم اور غیر مسلم کے درمیان وجہ امتیاز ہے۔ ہمارا ایمان ہے کہ اسلام بحیثیتِ دین کے خدا کی طرف سے ظاہر ہوا لیکن اسلام بحیثیت سوسائٹی کے رسول کریم کی شخصیت کا مرہونِ منت ہے۔''

(ملت) کے اندرونی استحکام کے لئے ناگزیر ہے کہ ان انتشار انگیز قوتوں (یعنی قادیانیت کے فتنہ اجزائے نبوت) سے محترز رہا جائے جو اسلامی تحریکات کے بھیس میں پیش ہوتی ہیں۔۔۔ اس طرزِ عمل میں (وجودِ مِلّی کی) حیاتیاتی قدر و قیمت مضمر ہے۔''

غرضیکہ آپ نے منصب نبوت کے ملّت ساز کردار اور عقیدہ ختم نبوت کے ذریعے وحدتِ انسانیت کی تشکیل کے موضوع پر آپ نے اپنے شعار میں نہایت بلیغ اشارات کیے ہیں۔

اُمّتے از ما سوا بیگانۂ پر چراغ مصطفےٰؐ پروانہ

-----------------

حق تعالیٰ پیکرِ ما آفرید وزرسالت درتنِ ماجاں دمید

ماز حکم نسبت او ملّتیم اہل عالم را سراپا زحمتیم

ازمیان بحر او خیزیم ما مثل موج از ہم نمی ریزیم ما

از رسالت ہم نوا گشتیم ما ہم نوا، ہم مدعا گشتیم ما

تانہ ایں وحدت زدست مارود ہستی ما با ابد ہمدم شود

-----------------

دل بہ محبوب حجازی بستہ ایم زیں سبب بایکد گر پیوستہ ایم

-----------------

پس خدا برما رسالت ختم کرد برسولِ مارسالت ختم کرد

رونق از ما محفل ایام را اُو رُسل را ختم ما اقوام را

خدمت ساقی گری باما گزاشت دادمارا آخریں جامے کہ داشت

لا نبی بعدی زا احسانِ خدا است پردۂ ناموسِ دین مصطفیٰؐ است

قوم را سرمایۂ وحدت ازو حفظ سرِ وحدت ملت ازو

حق تعالیٰ نقش ہر دعویٰ شکست تا ابد اسلام را شیرازہ بست

دل زغیر اللہ مسلماں برکند نعرۂ لا قوم بعدی می زند

علامہ اقبال نے جدید ترین علمی زبان میں نبوت اور ختم نبوت کے نفسیاتی، تمدنی اور سماجی مضمرات کو اس قدر تشریح اور صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے کہ اگر وہ یہ نہ کرتے تو ہندوستان میں مسلمانوں کے ملی اور قومی تشخص کرنا قابلِ تلافی نقصان پہنچ جانے کا اندیشہ تھا۔

علامہ اقبال کی خوش قسمتی کہ آپ آنحضرت ﷺ کی ذات گرامی کے انوار و تجلیات سے زیادہ سے زیادہ فیض یاب ہوئے اور بالآخر انہیں میں جذب ہو کر رہ گئے۔

سینا ست کہ فاران است یا رب چہ مقام سات ایں

ہر ذرّہ وجود من، چشمے است و تماشا مست

یہی وجہ ہے کہ آپ نے آنحضرت ﷺ کی ذاتِ گرامی کو خراج عقیدت پیش کرنے کی غرض سے جو اشعار کہے ہیں ان میں جذبے کی حدت اپنے پورے عروج پر ہے اور ایسا کیوں نہ ہوتا جب کہ ان کے دیدۂ بینا کے سامنے وہ سارے جلوے بے نقاب ہو رہے تھے جن کی اقبال کی مذہبی لوگ، صوفیانہ مزاج، حکیمانہ جستجو اور شاعرانہ ذوق کو تلاش تھی۔ باپ اگرچہ شعر میں کہی گئی ہے لیکن یہ ان کا قال نہیں بلکہ حال ہے کہ:

ذکر و فکر و علم و غرفانم توئی کشتی و دریا و طوفانم توئی


حوالہ و حاشیے