فہرست مضامین

میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

(ڈاکٹر ہٹی (PHILIP K. HITTI) عربی زبان اور تاریخ کے مشہور ماہر ہونے کی حیثیت سے مغربی دنیا میں مشرقِ قریب کے مسائل پر سند سمجھے جاتے ہیں۔ انہوں نے عرب اور اسلام کے موضوعات پر متعدد کتابیں لکھی ہیں اور مختلف انسائیکلو پیڈیا کے مقالہ نگار ہیں۔ ان کی کتابیں یورپ اور ایشیا کی مختلف زبانوں میں ترجمہ ہوتی رہی ہیں۔ وہ مختلف یونیورسٹیوں میں اعلیٰ عہدے پر فائز رہے ہیں۔

اسلام اور مغرب (ISLAM AND THE WEST) ڈاکٹر ہٹی کی کتاب ہے جو ۱۹۶۲ء میں امریکہ سے شائع ہوئی ہے۔ اس کتاب کے 190 صفحات ہیں اور اس کا موضوع عیسائی دنیا اور اسلام کے تمدنی تعلقات کی تاریخ ہے جس میں باز نطینی سلطنت کے وقت سے لے کر اب تک مختلف قسم کے اتار چڑھاؤ پائے جاتے ہیں۔ موصوف نے ترجموں کی مدد سے نہیں بلکہ اصل ماخذ سے براہ راست استفادہ کر کے یہ کتاب تیار کی ہے۔

کتاب کے دو حصے ہیں۔ پہلے حصہ کے ابتدائی تین ابواب میں اسلام کی بالترتیب مذہب، ریاست اور کلچر کی حیثیت سے تعارف ہے۔ چوتھا باب ہے ''اسلام مغربی لٹریچر میں'' پانچویں اور چھٹے باب میں بالترتیب مشرق کا مغرب پر اور مغرب کا مشرق پر نفوذ و اثر دکھایا گیا ہے۔ ساتویں باپ میں اس تحریک کا مختصر تعارف جو اسلام اور مغربی تہذیب کے درمیان مطابقت پیدا کرنے کے لئے مختلف اسلامی ملکوں میں جاری ہے۔ کتاب کے دوسرے حصے میں قرآن اور دوسری قدیم کتابوں سے اسلام اور اسلامی تاریخ اور اسلامی شخصیتوں کے بارے میں اقتباسات نقل کئے ہیں۔ یہ اقتباسات کل ۲۹ ہیں۔

ذیل میں کتاب کے چوتھے باب (ISLAM IN WESTERN LITERATURE) کا ترجمہ دیا جا رہا ہے۔ اس معذرت کے ساتھ کہ نقل کفر کفر نہ باشد)

قرونِ وسطیٰ کے مغربی لٹریچر میں پیغمبر اسلام کو عام طور پر جعل ساز اور جھوٹے پیغمبر کی حیثیت سے متعارف کرایا جاتا تھا۔ قرآن پاک ان کی ایک بناوٹی کتاب اور اسلام ایک نفس پرستانہ طریق حیات تھا۔ دنیا میں بھی اور دوسری زندگی میں بھی۔ اس زمانے میں مذہب، اسلام اور عیسائیت دونوں کے درمیان دشمنی کی سب سے بڑی وجہ تھی۔ دونوں طرف سے یہ دعویٰ کیا جاتا تھا کہ ان ہی کا مذہب تمام صداقتوں کا واحد خزانہ ہے مگر سیاسی اور فوجی تصادم، نظریاتی تصادم سے بھیزیادہ سخت ثابت ہوا۔

محمد ﷺ کے بعد ڈیڑھ صدی تک ان کے پیرو پہلے مدینہ پھر دمشق اور اس کے بعد بغداد سے نکل کر باز نطینی سلطنت کو روندتے رہے یہاں تک کہ بڑھتے ہوئے مسیحیت کے مشرقی دار السلطنت کے دروازے تک پہنچ گئے۔ قسطنطنیہ کے سقوط (۱۴۵۳؁ء) کے بعد چار صدیوں میں مسلم سلجوق اور عثمانی ترک اپنی ہمسایہ مسیحی طاقتوں کے لئے سب سے بڑا خطرہ بن گئے۔ ۷۱۱ ؁ھ سے شروع ہو کر تقریباً آٹھ سو برس میں مسلمان اسپین کے ایک حصہ پر قابض ہو چکے تھے۔ اور انہوں نے فرانس تک دھاوا بول دیا تھا۔ سسلی دو صدیوں تک ان کے قبضہ میں رہا اور اٹلی کے خلاف ایک فوجی اڈے کا کام کرتا رہا۔ بارھویں اور تیرھویں صدی کے دوران میں مغربی اقوام مسلمانوں کی زمین پر صلیبی جنگ لڑتی رہیں۔ ان صلیبی لڑائیوں کی یاد آئندہ نسلوں میں باقی رہی۔

زرتشت، بدھ ازم اور دوسرے کم ترقی یافتہ مذاہب کی کبھی اس طرح سے نفرت اور تحقیر نہیں کی گئی جیسا کہ اسلام کے ساتھ پیش آیا۔ وہ قرونِ وسطیٰ کے مغرب کے لئے کوئی خطرہ نہیں تھے اور نہ انہوں نے مقابل میں آنے کی کبھی کوشش کی۔ اس لئے یہ بنیادی طور پر خوف، دشمنی اور تعصب تھا جس نے اسلام کے بارے میں مغرب کے نقطۂ نظر کو متاثر کیا۔ اسلام کا عقیدہ ایک دشمن عقیدہ تھا۔ اس لئے وہ غلط نہ ہو جب بھی شبہ کی نظر سے دیکھا جانا لازمی تھا۔

پھر زبان کا روک بھی تھا۔ مسیحیت اور دنیائے اسلام کے درمیان سیاسی اور فوجی تصادم کے چھ سو سال تک یورپ قرآن کی زبان کے باقاعدہ مطالعہ کی سہولت سے محروم رہا۔ اس پوری مدت میں لاطینی زبان کا کوئی عالم یورپ میں ایسا نہیں ملتا جو عربی زبان پر عبور رکھتا ہو۔ قرآن کی زبان سے اس بے خبری نے قرآن کے بارے میں غلط تعارف کو پھیلنے کا موقعہ دے دیا۔

قرونِ وسطیٰ اور اس کے بعد کی مسیحیت نے جن تحریری یا زبانی ذرائع سے اسلام کے بارے میں اپنا تصور قائم کیا وہ وہی تھا جو صلیبی جنگوں کے دوران وجود میں آئے یا ان ممالک کی معرفت ملے جن سے اسلام کی لڑائی پیش آچکی تھی۔ مسیحی علماء اور پادریوں نے اسی کے ذریعہ سے اسلام کی تصویر بنائی۔ اسلام کی اس یورپی تصویر اور اس کی حقیقی اسلامی تصویر میں کوئی مشابہت محض اتفاقی ہے۔ شام کے مشہور عیسائی عالم سینٹ جان آف دمشق (م ۷۴۹؁ھ) کو بازنطینی روایات کا بانی کہا جاتا ہے۔ جان نوجوانی کی عمر میں بنو امیہ کے دربار میں حاضر ہوا۔ وہ عربی، سریانی اور یونانی زبانیں جانتا تھا اور اپنے زمانے کے اہلِ علم میں ممتاز درجہ رکھتا تھا۔ اس نے اپنی کتاب میں اسلام کا تعارف ایک بت پرستانہ مذہب کی حیثیت سے کیا ہے جس میں ایک جھوٹے رسول کی پرستش ہوتی ہے۔ اس کے بیان کے مطابق محمد ﷺ نے ایک آرین راہب کی سرپرستی میں بائیبل کی مدد سے اپنے اصول وضع کیے۔ یہ اسلام کے متعلق عیسائیت کے قدیم اور عام تصوّر کی ایک مثال تھی چنانچہ ڈانٹے (م ۱۳۲۱؁ء) نے اپنی مشہور کتاب میں محمد ﷺ اور علیؓ کو نویں جہنم کے سپرد کر دیا جو تفرقہ پردازوں اور رسوا کن اعمال کرنے والوں کے لئے مخصوص ہے۔ العیاذ باللہ۔

باز نطینیوں میں پہلا شخص جس نے محمد ﷺ کا باقاعدہ ذکر کیا اور اسلام پر گفتگو کی وہ مورخ تھیوفین (THEO PHANE) ہے جس کا زمانہ ۸۱۸-۷۵۷ ہے وہ ایک خانقاہ کا بانی بھی تھا۔ تھیوفین بغیر کسی حوالے کے محمد ﷺ کو مشرقی باشندوں کا حکمران اور ایک بناوٹی رسول لکھتا ہے۔ ڈانٹے کا ایک ہم عصر مسیحی جس نے بغداد کا سفر بھی کیا تھا اس نے یہ نظریہ پیش کیا کہ شیطان جب خود مشرقی ممالک میں عیسائی مذہب کی ترقی کو روک نہ سکا تو اس نے اپنی طرف سے ایک آسمانی کتاب تیار کی اور ایک ابلیس فطرت آدمی کو اپنے وسیلے کے طور پر استعمال کیا۔ یہ آسمانی کتاب قرآن اور وسیلہ محمد ہیں۔ العیاذ باللہ۔

عبد المسیح ابن اسحاق الکندی ایک مشرقی عیسائی تھا اس کو اسپین میں ایک سید زادہ مسلمان نے تحریری طور پر اسلام قبول کرنے کی دعوت دی۔ اس واقعہ نے عرب کے اس عیسائی کو موقع دیا کہ وہ عیسائیت کا دفاع کرے اور اسلام پر حملہ آور ہو۔ الکندی نے محمد ﷺ کو ایک شہوت پرست اور ایک قاتل کی حیثیت سے پیش کیا جن کی کتاب محض مصنوعی الہامات کا مجموعہ تھی اور جن کا مذہب دھوکے، تشدد اور نفرت پرستانہ تعلیمات کی چاٹ دلا کر پھیلایا گیا۔

ان باتوں کے نتیجے میں عیسائی دنیا میں محمد ﷺ کے خلاف کچھ ایسی فضا پیدا ہو گئی تھی کہ کوئی افسانہ خواہ وہ کتنا ہی عجیب ہو اور اس کی کوئی اصل نہ ہو فوراًقبول کر لیا جاتا تھا اور بیان کیا جاتا تھا۔ قرطبہ کا ایک بشپ ایولوگس (EULOGIUS) جو اپنے وقت کا بڑا عالم تھا ایک لاطینی تحریر کے حوالے سے جو ایک عیسائی راہب نےتیار کی تھی لکھتا ہے کہ محمد کی وفات کے بعد ان کے اصحاب فرشتوں کا انتظار کر رہے تھے جو اتریں اور ان کے جسم کو اوپر لے جائیں مگر اس کی بجائے کتے آئے اور ان کے جسم کو کھا گئے اس لئے مسلمان ہر سال بڑے پیمانے پر کتوں کو ہلاک کرتے ہیں۔ ایولوگس سپین کے مسلم دار السلطنت میں رہتا تھا وہ معمولی کوشش سے جان سکتا تھا کہ اس پورے افسانے میں صرف اتنی سی حقیقت ہے کہ مسلمان کتے کو ایک ناپاک جانور سمجھتے ہیں۔

لاطینی زبان سے یہ کتے کا افسانہ فرانسیسی میں بھی پہنچا چنانچہ ایک قدیم فرانسیسی نظم میں کتے اور سور کو دکھایا گیا ہے کہ وہ محمد ﷺ کے جسم کو کھا رہے ہیں۔ سور کی یہ روایت عوام میں بہت مقبول ہوئی اور قرآن میں سور کی حرمت کی بہت آسان توجیہ بن گئی (حالانکہ سؤر کی حرمت آپ کی وفات سے بہت پہلے کا واقعہ ہے۔ دروغ گورا حافظہ نہ باشد۔ وحید الدین) اسی طرح یہ بھی کہا گیاکہ محمد ﷺ کا تابوت زمین و آسمان کے درمیان فضا میں معلق ہے اور لوگوں نے اس پر یقین کر لیا۔

بارھویں اور تیرھویں صدی میں صلیبی جنگوں کے ذریعے اسلام کو مغلوب کرنے کی کوشش جب ناکام ہو گئی تو مسیحی حلقہ میں ایک رجحان اُبھرا اسلام کو تبلیغ و تحریص کے ذریعے تباہ کیا جائے۔ بے دخلی کی کوشش کی جگہ عقیدہ کی تبلیغ نے لے لے۔ مشنری تحریک وجود میں آئی۔ کار ملی رہبانوں کا حلقہ (CARMELITE FRIER ORDER) ایک صلیبی ہی نے ( ۱۱۵۴؁ء) ماؤنٹ کارمل پر قائم کیا تھا ۔

فرانسس کن نے اس کی پیروی کی۔ ۱۲۱۹؁ء میں سینٹ فرانسس آف اسیسی قاہرہ گئے اور اپنی فرانسس کن مشنری سرگرمیوں کا آغاز کیا مگر اس دور کی سب سے بڑی مشنری تحریک ایک اسپینی تحریک تھی جو ریمنڈ لل (RAYMOND LULL) نے شروع کی جس کا زمانہ ۱۳۱۵ء-۱۲۳۵ ہے۔ لل نے روحانی صلیبی جنگ (SPIRITUAL CRUSADES) کے لئے بہت دانشمندانہ نقشے بنائے جس کا مقصد مسلمانوں کو عیسائی بنانا تھا۔ بحث و مناظرہ اور استدلال کے ذریعے کامیاب ہونے کے بارے میں اس کا یقین آخر وقت تک قائم رہا۔ اس کی تیاری کے لئے اس نے عربی پڑھی اور اپنی خانقاہ میں اس کا درس دنیا شروع کیا۔ جو اس نے مرامر (MERAMAR) میں قائم کی تھی۔ اس کی عربی زبان اور اسلام سے واقفیت اس زمانہ میں اپنی مثال نہیں رکھتی تھی مگر ٹیونس میں اس کی مشنری سرگرمیاں ناکام ہو گئیں۔ توحید پرست مسلمانوں کے ذہن میں تثلیث کا عیسائی عقیدہ بٹھانے کی کوشش اتنی فضول تھی کہ بالآخر اس نے اسلام پر حملہ کرنا شروع کیا۔ وہ گلیوں میں نکل کر چلاتا پھرتا تھا۔ ''عیسائیوں کا عقیدہ صحیح ہے اور مسلمانوں کا عقیدہ غلط ہے۔'' ٹیونس میں ایک مشتعل مجمع نے اس پر حملہ کیا اور پتھر مارنے شروع کیے یہاں تک کہ وہ ہلاک ہو گیا۔

عیسائیت اور اسلام میں زبان کا روک پہلی بار اس وقت ٹوٹا جب فرانس میں قرآن کا ترجمہ لاطینی زبان میں کیا گیا۔ یہ بیرون زبان میں قرآن کا پہلا ترجمہ ہے۔ یہ ترجمہ تخمیناً ۱۱۴۱؁ء میں کیا گیا اور اس کے کرنے والے تین عیسائی اور ایک عرب کا باشندہ تھا۔ اس ترجمۂ قرآن کے ساتھ ایک ضمیمہ اس عنوان کے ساتھ لگا ہوا تھا۔ ''مسلمانوں کے عقائد کی تردید۔'' اس کے بعد ۱۶۴۹؁ء میں سیورڈورئر (SIEURDURYER) نے اس ترجمہ کی مدد سے قرآن کو فرانسیسی زبان میں منتقل کیا۔ یہ شخص اسکندریہ میں فرانسیسی کو نسل رہ چکا تھا۔ پھر اس سال سیورڈورئر نے براہِ راست عربی زبان سے فرانسیسی زبان میں قرآن کا ترجمہ کیا اور اس کے بعد اس کو محمد ﷺ کا قرآن (THE ALQURAN OF MOHOMET) کے نام سے انگریزی میں منتقل کیا۔ اس ترجمہ کی اشاعت کا مقصد مترجم کے الفاظ میں ان تمام لوگوں کو مطمئن کرنا تھا جو ترکی کے کھوکھلے مذہب (TURKISH YANITIES) کے جاننے کے خواہش مند تھے۔ لفظ (MOHOMET) خود محمد ﷺ کی بگڑی ہوئی صورت ہے۔ آکسفورڈ انگلش ڈکشنری میں اس کی اٹھارہ شکلیں بتائی گئی ہیں اسی طرح MAHOUND کی سترہ شکلیں۔ MOHAMMAD کی پانچ۔ اور (MUHAMMED کو لے کر ایک ہی نام کی اکتالیس شکلیں ۔ قرآن کا یہ گمنام ترجمہ الیگزینڈر روس (ALEXANDER ROSS) کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔ سپین می نام نہاد مورز (MOORS) کے زوال کے بعد عثمانی ترک دشمن مذہب (اسلام) کے علمبردار نظر آرہے تھے۔ مارٹن لوتھر نے پہلے یہ خیال کیا کہ یہ ترکوں کو مسیحیت کے گناہوں کی پاداش میں خدا کا بھیجا ہوا عذاب سمجھ کر گوارا کرنا چاہئے مگر ۱۵۳۹؁ء میں جب ترک وانا کے دروازوں تک پہنچ گئے تو اس نے اپنے ذہن کو بدل دیا اور یہ تبلیغ کی کہ ان کافروں کے خلاف جنگ کرنے کی ضرورت ہے۔

قرآن کا پہلا انگریزی ترجمہ براہِ راست عربی زبان سے ۱۷۳۴؁ء میں کیا گیا اور اس کا ترجمہ جارج سیل (GEORGE SALE) کا تھا۔ سیل عیسائی علوم کی ترقی کی انجمن کا ایک رکن تھا اور اس نے شامی علما کی مدد سے عربی زبان سیکھی تھی۔ سیل کا ترجمہ انگریزی دنیا میں ڈیڑھ صدی تک چھایا رہا۔

سترھویں صدی میں ایک نیا سنگِ میل پیدا ہوا جب آکسفورڈ یونیورسٹی نے عربی کی تعلیم کے لئے ایک نشست اپنے یہاں مخصوص کی اور ایڈورڈ پکاک (EDWARD PEACOCK) کو ۱۶۳۲؁ء میں اس منصب پر مقرر کیا۔ پکاک چھ سال تک شام میں پادری کی حیثیت سے رہ چکا تھا اور عربی میں دستگاہ اور اسلام کی براہِ راست معلومات حاصل کر چکا تھا۔ پکاک خود غالباً اپنی صدی کا سب سے بڑا یورپی عربی دان تھا۔ اس نے متعدد کتابیں ایڈٹ یا تصنیف کیں۔ اس نے قارئین کو یقین دلایا کہ معلّق تابوت کا افسانہ مسلمانوں کے لئے ایک مضحکہ خیز بات ہے جس کو وہ صرف عیسائیوں کی ایجاد سمجھتے ہیں۔ اس نے مزید اس مروجہ کہانی کو چیلنج کیا کہ اسلام کے بانی نے ایک سفید کبوتر کو تربیت دے رکھی تھی کہ وہ ان کے کندھے پر بیٹھا رہے اور کان کے اندر پڑے ہوئے دانے کو چگنے کے لئے کان میں چونچ مارتا رہے۔ اس سے وہ اپنے متبعین کو یہ یقین دلانا چاہتے کہ کبوتر کے ذریعہ سے روح القدس ان کا الہام کر رہا ہے۔ یہ افسانہ اس قدر مشہور ہوا کہ وہ انگریزی ادب میں شامل ہو گیا۔ چنانچہ شیکسپیئر کے ایک کردار کی زبان سے ہم سنتے ہیں۔

WAS MAHOMET INSPIRED BY A DOVE?

THOU WITH AN EAGLE ART INSPIRED THEN.

شکسپیئر سے بہت پہلے جان لڈ گیٹ (JOHN LYDGATE) (م ۱۷۵۱؁ء) اس کبوتر کا رنگ تک جانتا تھا۔ اس کے بیان کے مطابق کبوتر کا رنگ دودھیا سفید تھا۔ پھر یہ یقین یہاں تک بڑھا کہ اٹھارھویں صدی کے ایک کبوتروں کے ماہر نے ایک خاص قسم کے کبوتر کا نام MAUMMET رکھ دیا جو دراصل لفظ محمد کی بگڑی ہوئی شکل تھی۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ کبوتر عیسائیوں کے ہاں تو روح القدس کی علامت ہے (لوقا ۲۲:۳) مگر اسلام میں اس کی کوئی اصل نہیں۔

اسی طرح مومٹ (MAUMET) کا لفظ بت کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ وہ شخص جس نے کعبہ میں سینکڑوں بتوں کو توڑا، جس کے پیر و فخر کرتے ہیں کہ وہی صرف حقیقتاً توحید پرست ہیں اور کسی قسم کے بت یا مورتی کو تسلیم نہیں کرتے۔ وہی شخص مغربی من گھڑت میں ایک خدا اور ایک بت بن گیا قرونِ وسطیٰ کی انگریزی روایات میں مہون (MAHOUN) بار بار پرستش کا ایک مظہر قرار دیا گیا ہے۔ یہ مان لیا گیا تھا کہ ترکوں اور مسلمانوں کے یہاں اس کی پوجا ہوتی تھی۔

مومٹ کی طرح قرآن بھی الکرون (ALKARON) کے نام سے مسلمانوں کا ایک بت قرار پایا مغربیوں کو یقین دلایا گیا کہ مسلمان اپنے بتوں کے آگے عبادتی رسوم منعقد کرتے ہیں جن میں لوبان جلایا جاتا ہے اور نر سنگھا پھونکا جاتا ہے۔ اسی طرح سورج (APOLLO) ان کا دوسرا دیوتا تھا۔ ایک فرانسیسی مصنف کے بیان کے مطابق ۷۷۸؁ء میں شارلی مین کی فوجوں سے مسلمانوں کو شکست ہوئی تو انہوں نے اپنا غصہ سورج دیوتا کے اوپر نکالا اور اس پر پل پڑے۔ ایک اور ایلزبتھ کے دور کا نامور مصنف فرانسس بیکن (FRANCIS BACON) محمد کو عطائی (MOUNT BANK) قرار دیتا ہے۔ اس نے اپنے مقالہ ''ہمت و استقلال'' (BOARDNESS) میں نقل کیا ہے۔

''محمد ﷺ نے لوگوں کو یقین دلایا کہ وہ ایک پہاڑی کو بلائیں گے اور وہ ان کے پاس چلی آئے گی۔ لوگ جمع ہوئے۔ محمد ﷺ نے پہاڑی کو اپنے پاس آنے کو کہا۔ وہ بار بار پکارتے رہے اور جب پہاڑی اپنی جگہ کھڑی رہی تو وہ ذرا بھی نہ شرمائے بلکہ انہوں نے کہا۔ اگر پہاڑی محمد ﷺ کے پاس نہیں آسکتی تو محمد ﷺ تو پہاڑی تک جا سکتے ہیں ۔''

مگر حقیقت یہ ہے کہ اسلام میں اس واقعہ کی کوئی اصل موجود نہیں ہے۔ تاہم قرونِ وسطیٰ کے تمام مصنفین نے اس خلافِ اسلام انداز کو نہیں اپنایا تھا۔ صلیبی دور کا ایک بشپ جس کی پیدائش شام میں ہوئی تھی۔ ولیم آف ٹریپولی (WILLIAM OF TRIPOLI) نے ۱۲۷۰؁ء میں ایک رسالہ لکھا جس میں اگرچہ محمد کو وہ جھوٹے رسول کی حیثیت سے تسلیم کرتا ہے مگر آپ کے حالات میں دشنام طرازی اور افسانوی حصے کو بہت کم کر کے پیش کیا ہے۔ اسی طرح ۱۶۷۹؁ء میں ایک انگلش پادری لینکلاٹ ڈیسن (LANCELOT ADDISON) نے ایک کتاب لکھی جس میں اس نے ان من گھڑت اجزاء کو الگ کرنے کی کوشش کی جو محمد کے نام سے وابستہ ہو گئے تھے۔ بعض بعض مواقع پر اس نے پہلے کسی واقعہ کی افسانوی تصویر کو نقل کیا ہے اور اس کے بعد تاریخی حقیقت کو بیان کیا ہے۔ اڈیسن کے ایک ہم عصر ہمنصری پرائیڈکس (HUMPHRAY PRIDEAUX) نے آپ کی مکمل سوانح حیات لکھی جس میں کبوتر کے حصہ اور اسی طرح بہت سی دوسری کہانیوں کو یہ کہہ کر رد کر دیا کہ ان کو صحیح ماننے کے لئے کوئی واقعی بنیاد موجود نہیں ہے۔ تاہم اس سوانح حیات کا مقصد یہ ثابت کرنا تھا کہ اسلام ایک مکّارانہ مذاہب (FRANDULENT RELIGION) کا معیاری نمونہ نہیں ہے۔ یہ سوانح عمری ایک صدی تک مغربی حلقوں میں مستند سمجھی جاتی تھی۔

زیادہ رواداری کا نقطۂ نظر اٹھارھویں صدی میں پیدا ہوا۔ اس زمانہ میں مغرب کے عربی دانوں نے اسلام کے متعلق زیادہ قابلِ اعتماد ذرائع کا ترجمہ کیا۔ سیاح اور تاجر زیادہ اچھے تاثرات لے کر لوٹے اور سفیروں اور مشنری کے عہدیداروں نے بھی اضافۂ معلومات میں حصہ لیا۔ مثال کے طور پرجارج سیڈیز (GORGE SANDYS) جس نے قسطنطنیہ، مصر اور فلسطین کی زیارت کی تھی۔ وہ ۱۲۱۵؁ء میں اپنے سفر کی روداد لکھتے ہوئے مسلمانوں کی اور بہت سی چیزوں کے ساتھ زکوٰۃ کی تعریف کرتا ہے جو عیسائی اور یہودی غرباء کو دی جاتی تھی۔ تاہم زیادہ تر مثالوں میں لوگ ذاتی تحقیق سے زیادہ روایتی معلومات ہی پر اکتفا کرتے رہے حتیّٰ کہ متخصصین پروفیسروں تک کا یہ حال تھا کہ پیدائشی طور پر سنی سنائی روایات کو دہرا دیا کرتے تھے۔ پکاک کا جانشین جوزف وائٹ (JOSEPH WHITE) ۱۷۸۴؁ء میں اپنے مشہور بمپئین لیکچرز (BAMPTON LECTURES) میں مسیحیت کی حإایت کرتے ہوئے جب اسلام پر آیا تو محمد ﷺ کے لئے اس کے پاس جو لفظ تھا وہ وہی عام روایتی لفظ تھا۔ مکار اور فریبی (IMPOSTER) اسی طرح اور بد کے ممتاز علماء مثلاً ولیم میور (ایڈبنزا یونیورسٹی)ڈاوڈ ایس، مارگولیتھ (آکسفورڈ) ہنری لامنز (بیروت یونیورسٹی) کے یہاں بھی قدیم رجحانات کے آثار ملتے ہیں۔

مقالہ نگاروں اور مؤرخوں کے ہاتھ محمد، قرآن اور اسلام کا معاملہ اس سے بہتر رہا جو پہلے مذہبی علماء، ناول نگاروں اور شاعروں کے ہاتھ میں اس کا حشر ہوا تھا۔ اس سلسلے میں پہلا قابلِ ذکر نام سائمن آکلے (SIMON OCKLEY) کا ہے جو کیمبرج یونیورسٹی میں عربی کا پروفیسر تھا۔ اس نے مسلمانوں کی تاریخ پر دو جلدوں میں ایک کتاب لکھی ہے۔ اگرچہ کیمبرج کا یہ عالم بھی مکار (IMPOSTER) کو محمد کے ہم معنی لفظ کے طور پر استعمال کرتا ہے اور اسلام اور توہمات اس کے یہاں مرادف الفاظ ہیں مگر مخصوص تاریخی واقعات کے بیان میں اس نے راست گوئی سے کام لیا ہے۔ شام کی فتح کا حال بتاتے ہوئے مثال کے طور پردہ باز نطینیوں کی غارت گری اور دغا بازی کا مقابلہ ابو بکرؓ کی فوجوں کی شجاعت اور ان کے اعلیٰ رویہ سے کرتا ہے جن کو خلیفہ کی ہدایت تھی کہ کسی عورت یا بچہ کو قتل نہ کریں۔ کھجوروں کے درخت نہ کاٹیں اور نہ کھیت کو نقصان پہنچائیں۔ آکلے کی اس کتاب نے مستند درجہ حاصل کیا اور گبن کے ظہور سے پہلے تک عرب تاریخ پر بنیادی ماخذ سمجھی جاتی رہی۔

ایڈورڈ گبن (ADWARD GIBBON) جو جدید انگریزی تاریخ کا بانی ہے اس نے اپنی مشہور کتاب ''لسطنتِ روما کا زوال'' کی پانچویں جلد کے پچاسویں باب کو اس موضوع کے لئے مخصوص کیا ہے۔ اپنے اعتراف کے مطابق وہ ''مشرقی زبانوں سے مکمل طور پر ناواقف'' تھا اس لئے قدرتی طور پر اس کا ماخذ وہی کتابیں تھیں جو اس سے پہلے یورپ میں لکھی گئی تھیں اور اس بنا پر اس کی ترجمانی بھی واقعہ کے مطابق نہ ہو سکی۔ تاہم اس نے بہت سی روایات کو غلط قرار دیا۔ مثلاً اس نے کہا کہ مکار نبی کا لقب ایک خطرناک اور ناقابلِ اعتبار (PRILONS AND SLIPPERY) چیز ہے۔

فرانس میں والیئر پیدا ہوا جو بحیثیت موّرخ زیادہ محتاط ہے مگر بحیثیت المیہ نگار۔ (TRAGEDIAN) محتاط نہیں تھا۔ اپنی تاریخی کتاب (۱۷۵۶؁ء) میں وہ محمد ﷺ کا ذکر رواداری کے ساتھ کرتا ہے وہ محمد کا مقابلہ کرامویل (CROMWELL) سے کرتا ہے۔ ان کے کارناموں کو انگلینڈ کے نجات دہندہ (کرامویل) سے زیادہ عظیم قرار دیتا ہے مگر اپنے المیہ ناٹک (TRAGEDY) ۱۷۴۲؁ء میں محمد ﷺ کو قرنِ وسطی کے لباس میں مکار، ظالم اور عیاش بنا کر پیش کرتا ہے۔ اگرچہ یہ بھی حقیقت ہے کہ والیئر کا اسلام پر حملہ، عمومی طور پر اس کے مخالفِ مذہب ہونے کا نتیجہ تھا۔ والٹر کا انحصار انگریزی ماخذ پر تھا۔ خاص طور پر سیل کا ترجمہ قرآن۔ کیونکہ وہ انگلینڈ میں رہا تھا اور انگریزی زبان سیکھی تھی۔

والٹر سے زیادہ جرمن شاعر گوئٹے (۱۸۳۲-۱۷۴۹ء) وہ شخص تھا جو جدید سپرٹ اور نئے بین الاقوامی نقطۂ نظر کا پیغامبر بنا۔ گوئٹے نے اپنی زندگی میں محمد کے حالات پر ایک نظم شروع کی مگر وہ اس کو مکمل نہ کر سکا۔ گوئٹے یہ یقین کرنے کے لئے تیار نہ تھا کہ عربی پیغمبر ایک مکار شخص تھا۔ سعدی کی گلستان کے جرمن ترجمے نے خاص طور پر گوئٹے کو بہت متاثر کیا۔ ۱۸۱۲؁ء میں حافظ کے کلام کا جرمن زبان میں ترجمہ ہوا تو گوئٹے کو اس میں حکمت، تقدس اور سلامتی نظر آئی جو اس کے خیال میں مغرب کو خاص طور پر درکار تھی۔

اسلامی کلچر کے بارے میں مغربی علماء کا بدلا ہوا نقطۂ نظر جس کا آغاز انگریز اور فرانسیسی پروفیسروں نے کیا تھا اور جرمن اور دوسرے ادیبوں اور شاعروں نے جس کو تقویت دی تھی وہ انیسویں صدی کے وسط تک بالکل واضح ہو گیا۔ کارلائل کا محمد ﷺ کو پیغمبرانہ ہیرو کے کردار کے لئے منتخب کرنا بیک وقت نئے رجحان کی طرف اشارہ تھا اور اس میں اضافہ کرنے والا بھی تھا۔ کار لائل کی کتاب میں مشکل سے کوئی ناخوشگوار فقرہ ہو گا۔ ''درحقیقت یہ کتاب اس لئے قابلِ تنقید ہو سکتی ہے کہ وہ غیر تنقیدی ہے۔'' محمد ﷺ ایک سازشی مکار ہیں، وہ جھوٹ کا مجسمہ ہیں، ان کا مذہب محض عطائی نسخوں کا مجموعہ ہے۔

اس قسم کی باتیں کار لائل کو گوارا نہیں تھیں۔ اس کا ہیرو (محمد ﷺ) واقعی ایک انسان تھا سچا انسان۔

اسلام اور محمد ﷺ۔ مغربی لٹریچر میں

(ڈاکٹر ہٹی (PHILIP K. HITTI) عربی زبان اور تاریخ کے مشہور ماہر ہونے کی حیثیت سے مغربی دنیا میں مشرقِ قریب کے مسائل پر سند سمجھے جاتے ہیں۔ انہوں نے عرب اور اسلام کے موضوعات پر متعدد کتابیں لکھی ہیں اور مختلف انسائیکلو پیڈیا کے مقالہ نگار ہیں۔ ان کی کتابیں یورپ اور ایشیا کی مختلف زبانوں میں ترجمہ ہوتی رہی ہیں۔ وہ مختلف یونیورسٹیوں میں اعلیٰ عہدے پر فائز رہے ہیں۔

اسلام اور مغرب (ISLAM AND THE WEST) ڈاکٹر ہٹی کی کتاب ہے جو ۱۹۶۲ء میں امریکہ سے شائع ہوئی ہے۔ اس کتاب کے 190 صفحات ہیں اور اس کا موضوع عیسائی دنیا اور اسلام کے تمدنی تعلقات کی تاریخ ہے جس میں باز نطینی سلطنت کے وقت سے لے کر اب تک مختلف قسم کے اتار چڑھاؤ پائے جاتے ہیں۔ موصوف نے ترجموں کی مدد سے نہیں بلکہ اصل ماخذ سے براہ راست استفادہ کر کے یہ کتاب تیار کی ہے۔

کتاب کے دو حصے ہیں۔ پہلے حصہ کے ابتدائی تین ابواب میں اسلام کی بالترتیب مذہب، ریاست اور کلچر کی حیثیت سے تعارف ہے۔ چوتھا باب ہے ''اسلام مغربی لٹریچر میں'' پانچویں اور چھٹے باب میں بالترتیب مشرق کا مغرب پر اور مغرب کا مشرق پر نفوذ و اثر دکھایا گیا ہے۔ ساتویں باپ میں اس تحریک کا مختصر تعارف جو اسلام اور مغربی تہذیب کے درمیان مطابقت پیدا کرنے کے لئے مختلف اسلامی ملکوں میں جاری ہے۔ کتاب کے دوسرے حصے میں قرآن اور دوسری قدیم کتابوں سے اسلام اور اسلامی تاریخ اور اسلامی شخصیتوں کے بارے میں اقتباسات نقل کئے ہیں۔ یہ اقتباسات کل ۲۹ ہیں۔

ذیل میں کتاب کے چوتھے باب (ISLAM IN WESTERN LITERATURE) کا ترجمہ دیا جا رہا ہے۔ اس معذرت کے ساتھ کہ نقل کفر کفر نہ باشد)

قرونِ وسطیٰ کے مغربی لٹریچر میں پیغمبر اسلام کو عام طور پر جعل ساز اور جھوٹے پیغمبر کی حیثیت سے متعارف کرایا جاتا تھا۔ قرآن پاک ان کی ایک بناوٹی کتاب اور اسلام ایک نفس پرستانہ طریق حیات تھا۔ دنیا میں بھی اور دوسری زندگی میں بھی۔ اس زمانے میں مذہب، اسلام اور عیسائیت دونوں کے درمیان دشمنی کی سب سے بڑی وجہ تھی۔ دونوں طرف سے یہ دعویٰ کیا جاتا تھا کہ ان ہی کا مذہب تمام صداقتوں کا واحد خزانہ ہے مگر سیاسی اور فوجی تصادم، نظریاتی تصادم سے بھیزیادہ سخت ثابت ہوا۔

محمد ﷺ کے بعد ڈیڑھ صدی تک ان کے پیرو پہلے مدینہ پھر دمشق اور اس کے بعد بغداد سے نکل کر باز نطینی سلطنت کو روندتے رہے یہاں تک کہ بڑھتے ہوئے مسیحیت کے مشرقی دار السلطنت کے دروازے تک پہنچ گئے۔ قسطنطنیہ کے سقوط (۱۴۵۳؁ء) کے بعد چار صدیوں میں مسلم سلجوق اور عثمانی ترک اپنی ہمسایہ مسیحی طاقتوں کے لئے سب سے بڑا خطرہ بن گئے۔ ۷۱۱ ؁ھ سے شروع ہو کر تقریباً آٹھ سو برس میں مسلمان اسپین کے ایک حصہ پر قابض ہو چکے تھے۔ اور انہوں نے فرانس تک دھاوا بول دیا تھا۔ سسلی دو صدیوں تک ان کے قبضہ میں رہا اور اٹلی کے خلاف ایک فوجی اڈے کا کام کرتا رہا۔ بارھویں اور تیرھویں صدی کے دوران میں مغربی اقوام مسلمانوں کی زمین پر صلیبی جنگ لڑتی رہیں۔ ان صلیبی لڑائیوں کی یاد آئندہ نسلوں میں باقی رہی۔

زرتشت، بدھ ازم اور دوسرے کم ترقی یافتہ مذاہب کی کبھی اس طرح سے نفرت اور تحقیر نہیں کی گئی جیسا کہ اسلام کے ساتھ پیش آیا۔ وہ قرونِ وسطیٰ کے مغرب کے لئے کوئی خطرہ نہیں تھے اور نہ انہوں نے مقابل میں آنے کی کبھی کوشش کی۔ اس لئے یہ بنیادی طور پر خوف، دشمنی اور تعصب تھا جس نے اسلام کے بارے میں مغرب کے نقطۂ نظر کو متاثر کیا۔ اسلام کا عقیدہ ایک دشمن عقیدہ تھا۔ اس لئے وہ غلط نہ ہو جب بھی شبہ کی نظر سے دیکھا جانا لازمی تھا۔

پھر زبان کا روک بھی تھا۔ مسیحیت اور دنیائے اسلام کے درمیان سیاسی اور فوجی تصادم کے چھ سو سال تک یورپ قرآن کی زبان کے باقاعدہ مطالعہ کی سہولت سے محروم رہا۔ اس پوری مدت میں لاطینی زبان کا کوئی عالم یورپ میں ایسا نہیں ملتا جو عربی زبان پر عبور رکھتا ہو۔ قرآن کی زبان سے اس بے خبری نے قرآن کے بارے میں غلط تعارف کو پھیلنے کا موقعہ دے دیا۔

قرونِ وسطیٰ اور اس کے بعد کی مسیحیت نے جن تحریری یا زبانی ذرائع سے اسلام کے بارے میں اپنا تصور قائم کیا وہ وہی تھا جو صلیبی جنگوں کے دوران وجود میں آئے یا ان ممالک کی معرفت ملے جن سے اسلام کی لڑائی پیش آچکی تھی۔ مسیحی علماء اور پادریوں نے اسی کے ذریعہ سے اسلام کی تصویر بنائی۔ اسلام کی اس یورپی تصویر اور اس کی حقیقی اسلامی تصویر میں کوئی مشابہت محض اتفاقی ہے۔ شام کے مشہور عیسائی عالم سینٹ جان آف دمشق (م ۷۴۹؁ھ) کو بازنطینی روایات کا بانی کہا جاتا ہے۔ جان نوجوانی کی عمر میں بنو امیہ کے دربار میں حاضر ہوا۔ وہ عربی، سریانی اور یونانی زبانیں جانتا تھا اور اپنے زمانے کے اہلِ علم میں ممتاز درجہ رکھتا تھا۔ اس نے اپنی کتاب میں اسلام کا تعارف ایک بت پرستانہ مذہب کی حیثیت سے کیا ہے جس میں ایک جھوٹے رسول کی پرستش ہوتی ہے۔ اس کے بیان کے مطابق محمد ﷺ نے ایک آرین راہب کی سرپرستی میں بائیبل کی مدد سے اپنے اصول وضع کیے۔ یہ اسلام کے متعلق عیسائیت کے قدیم اور عام تصوّر کی ایک مثال تھی چنانچہ ڈانٹے (م ۱۳۲۱؁ء) نے اپنی مشہور کتاب میں محمد ﷺ اور علیؓ کو نویں جہنم کے سپرد کر دیا جو تفرقہ پردازوں اور رسوا کن اعمال کرنے والوں کے لئے مخصوص ہے۔ العیاذ باللہ۔

باز نطینیوں میں پہلا شخص جس نے محمد ﷺ کا باقاعدہ ذکر کیا اور اسلام پر گفتگو کی وہ مورخ تھیوفین (THEO PHANE) ہے جس کا زمانہ ۸۱۸-۷۵۷ ہے وہ ایک خانقاہ کا بانی بھی تھا۔ تھیوفین بغیر کسی حوالے کے محمد ﷺ کو مشرقی باشندوں کا حکمران اور ایک بناوٹی رسول لکھتا ہے۔ ڈانٹے کا ایک ہم عصر مسیحی جس نے بغداد کا سفر بھی کیا تھا اس نے یہ نظریہ پیش کیا کہ شیطان جب خود مشرقی ممالک میں عیسائی مذہب کی ترقی کو روک نہ سکا تو اس نے اپنی طرف سے ایک آسمانی کتاب تیار کی اور ایک ابلیس فطرت آدمی کو اپنے وسیلے کے طور پر استعمال کیا۔ یہ آسمانی کتاب قرآن اور وسیلہ محمد ہیں۔ العیاذ باللہ۔

عبد المسیح ابن اسحاق الکندی ایک مشرقی عیسائی تھا اس کو اسپین میں ایک سید زادہ مسلمان نے تحریری طور پر اسلام قبول کرنے کی دعوت دی۔ اس واقعہ نے عرب کے اس عیسائی کو موقع دیا کہ وہ عیسائیت کا دفاع کرے اور اسلام پر حملہ آور ہو۔ الکندی نے محمد ﷺ کو ایک شہوت پرست اور ایک قاتل کی حیثیت سے پیش کیا جن کی کتاب محض مصنوعی الہامات کا مجموعہ تھی اور جن کا مذہب دھوکے، تشدد اور نفرت پرستانہ تعلیمات کی چاٹ دلا کر پھیلایا گیا۔

ان باتوں کے نتیجے میں عیسائی دنیا میں محمد ﷺ کے خلاف کچھ ایسی فضا پیدا ہو گئی تھی کہ کوئی افسانہ خواہ وہ کتنا ہی عجیب ہو اور اس کی کوئی اصل نہ ہو فوراًقبول کر لیا جاتا تھا اور بیان کیا جاتا تھا۔ قرطبہ کا ایک بشپ ایولوگس (EULOGIUS) جو اپنے وقت کا بڑا عالم تھا ایک لاطینی تحریر کے حوالے سے جو ایک عیسائی راہب نےتیار کی تھی لکھتا ہے کہ محمد کی وفات کے بعد ان کے اصحاب فرشتوں کا انتظار کر رہے تھے جو اتریں اور ان کے جسم کو اوپر لے جائیں مگر اس کی بجائے کتے آئے اور ان کے جسم کو کھا گئے اس لئے مسلمان ہر سال بڑے پیمانے پر کتوں کو ہلاک کرتے ہیں۔ ایولوگس سپین کے مسلم دار السلطنت میں رہتا تھا وہ معمولی کوشش سے جان سکتا تھا کہ اس پورے افسانے میں صرف اتنی سی حقیقت ہے کہ مسلمان کتے کو ایک ناپاک جانور سمجھتے ہیں۔

لاطینی زبان سے یہ کتنے کا افسانہ فرانسیسی میں بھی پہنچا چنانچہ ایک قدیم فرانسیسی نظم میں کتے اور سور کو دکھایا گیا ہے کہ وہ محمد ﷺ کے جسم کو کھا رہے ہیں۔ سور کی یہ روایت عوام میں بہت مقبول ہوئی اور قرآن میں سور کی حرمت کی بہت آسان توجیہ بن گئی (حالانکہ سؤر کی حرمت آپ کی وفات سے بہت پہلے کا واقعہ ہے۔ دروغ گورا حافظہ نہ باشد۔ وحید الدین) اسی طرح یہ بھی کہا گیاکہ محمد ﷺ کا تابوت زمین و آسمان کے درمیان فضا میں معلق ہے اور لوگوں نے اس پر یقین کر لیا۔

بارھویں اور تیرھویں صدی میں صلیبی جنگوں کے ذریعے اسلام کو مغلوب کرنے کی کوشش جب ناکام ہو گئی تو مسیحی حلقہ میں ایک رجحان اُبھرا اسلام کو تبلیغ و تحریص کے ذریعے تباہ کیا جائے۔ بے دخلی کی کوشش کی جگہ عقیدہ کی تبلیغ نے لے لے۔ مشنری تحریک وجود میں آئی۔ کار ملی رہبانوں کا حلقہ (CARMELITE FRIER ORDER) ایک صلیبی ہی نے ( ۱۱۵۴؁ء) ماؤنٹ کارمل پر قائم کیا تھا ۔

فرانسس کن نے اس کی پیروی کی۔ ۱۲۱۹؁ء میں سینٹ فرانسس آف اسیسی قاہرہ گئے اور اپنی فرانسس کن مشنری سرگرمیوں کا آغاز کیا مگر اس دور کی سب سے بڑی مشنری تحریک ایک اسپینی تحریک تھی جو ریمنڈ لل (RAYMOND LULL) نے شروع کی جس کا زمانہ ۱۳۱۵ء-۱۲۳۵ ہے۔ لل نے روحانی صلیبی جنگ (SPIRITUAL CRUSADES) کے لئے بہت دانشمندانہ نقشے بنائے جس کا مقصد مسلمانوں کو عیسائی بنانا تھا۔ بحث و مناظرہ اور استدلال کے ذریعے کامیاب ہونے کے بارے میں اس کا یقین آخر وقت تک قائم رہا۔ اس کی تیاری کے لئے اس نے عربی پڑھی اور اپنی خانقاہ میں اس کا درس دنیا شروع کیا۔ جو اس نے مرامر (MERAMAR) میں قائم کی تھی۔ اس کی عربی زبان اور اسلام سے واقفیت اس زمانہ میں اپنی مثال نہیں رکھتی تھی مگر ٹیونس میں اس کی مشنری سرگرمیاں ناکام ہو گئیں۔ توحید پرست مسلمانوں کے ذہن میں تثلیث کا عیسائی عقیدہ بٹھانے کی کوشش اتنی فضول تھی کہ بالآخر اس نے اسلام پر حملہ کرنا شروع کیا۔ وہ گلیوں میں نکل کر چلاتا پھرتا تھا۔ ''عیسائیوں کا عقیدہ صحیح ہے اور مسلمانوں کا عقیدہ غلط ہے۔'' ٹیونس میں ایک مشتعل مجمع نے اس پر حملہ کیا اور پتھر مارنے شروع کیے یہاں تک کہ وہ ہلاک ہو گیا۔

عیسائیت اور اسلام میں زبان کا روک پہلی بار اس وقت ٹوٹا جب فرانس میں قرآن کا ترجمہ لاطینی زبان میں کیا گیا۔ یہ بیرون زبان میں قرآن کا پہلا ترجمہ ہے۔ یہ ترجمہ تخمیناً ۱۱۴۱؁ء میں کیا گیا اور اس کے کرنے والے تین عیسائی اور ایک عرب کا باشندہ تھا۔ اس ترجمۂ قرآن کے ساتھ ایک ضمیمہ اس عنوان کے ساتھ لگا ہوا تھا۔ ''مسلمانوں کے عقائد کی تردید۔'' اس کے بعد ۱۶۴۹؁ء میں سیورڈورئر (SIEURDURYER) نے اس ترجمہ کی مدد سے قرآن کو فرانسیسی زبان میں منتقل کیا۔ یہ شخص اسکندریہ میں فرانسیسی کو نسل رہ چکا تھا۔ پھر اس سال سیورڈورئر نے براہِ راست عربی زبان سے فرانسیسی زبان میں قرآن کا ترجمہ کیا اور اس کے بعد اس کو محمد ﷺ کا قرآن (THE ALQURAN OF MOHOMET) کے نام سے انگریزی میں منتقل کیا۔ اس ترجمہ کی اشاعت کا مقصد مترجم کے الفاظ میں ان تمام لوگوں کو مطمئن کرنا تھا جو ترکی کے کھوکھلے مذہب (TURKISH YANITIES) کے جاننے کے خواہش مند تھے۔ لفظ (MOHOMET) خود محمد ﷺ کی بگڑی ہوئی صورت ہے۔ آکسفورڈ انگلش ڈکشنری میں اس کی اٹھارہ شکلیں بتائی گئی ہیں اسی طرح MAHOUND کی سترہ شکلیں۔ MOHAMMAD کی پانچ۔ اور (MUHAMMED کو لے کر ایک ہی نام کی اکتالیس شکلیں ۔ قرآن کا یہ گمنام ترجمہ الیگزینڈر روس (ALEXANDER ROSS) کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔ سپین می نام نہاد مورز (MOORS) کے زوال کے بعد عثمانی ترک دشمن مذہب (اسلام) کے علمبردار نظر آرہے تھے۔ مارٹن لوتھر نے پہلے یہ خیال کیا کہ یہ ترکوں کو مسیحیت کے گناہوں کی پاداش میں خدا کا بھیجا ہوا عذاب سمجھ کر گوارا کرنا چاہئے مگر ۱۵۳۹؁ء میں جب ترک وانا کے دروازوں تک پہنچ گئے تو اس نے اپنے ذہن کو بدل دیا اور یہ تبلیغ کی کہ ان کافروں کے خلاف جنگ کرنے کی ضرورت ہے۔

قرآن کا پہلا انگریزی ترجمہ براہِ راست عربی زبان سے ۱۷۳۴؁ء میں کیا گیا اور اس کا ترجمہ جارج سیل (GEORGE SALE) کا تھا۔ سیل عیسائی علوم کی ترقی کی انجمن کا ایک رکن تھا اور اس نے شامی علما کی مدد سے عربی زبان سیکھی تھی۔ سیل کا ترجمہ انگریزی دنیا میں ڈیڑھ صدی تک چھایا رہا۔

سترھویں صدی میں ایک نیا سنگِ میل پیدا ہوا جب آکسفورڈ یونیورسٹی نے عربی کی تعلیم کے لئے ایک نشست اپنے یہاں مخصوص کی اور ایڈورڈ پکاک (EDWARD PEACOCK) کو ۱۶۳۲؁ء میں اس منصب پر مقرر کیا۔ پکاک چھ سال تک شام میں پادری کی حیثیت سے رہ چکا تھا اور عربی میں دستگاہ اور اسلام کی براہِ راست معلومات حاصل کر چکا تھا۔ پکاک خود غالباً اپنی صدی کا سب سے بڑا یورپی عربی دان تھا۔ اس نے متعدد کتابیں ایڈٹ یا تصنیف کیں۔ اس نے قارئین کو یقین دلایا کہ معلّق تابوت کا افسانہ مسلمانوں کے لئے ایک مضحکہ خیز بات ہے جس کو وہ صرف عیسائیوں کی ایجاد سمجھتے ہیں۔ اس نے مزید اس مروجہ کہانی کو چیلنج کیا کہ اسلام کے بانی نے ایک سفید کبوتر کو تربیت دے رکھی تھی کہ وہ ان کے کندھے پر بیٹھا رہے اور کان کے اندر پڑے ہوئے دانے کو چگنے کے لئے کان میں چونچ مارتا رہے۔ اس سے وہ اپنے متبعین کو یہ یقین دلانا چاہتے کہ کبوتر کے ذریعہ سے روح القدس ان کا الہام کر رہا ہے۔ یہ افسانہ اس قدر مشہور ہوا کہ وہ انگریزی ادب میں شامل ہو گیا۔ چنانچہ شیکسپیئر کے ایک کردار کی زبان سے ہم سنتے ہیں۔

WAS MAHOMET INSPIRED BY A DOVE?

THOU WITH AN EAGLE ART INSPIRED THEN.

شکسپیئر سے بہت پہلے جان لڈ گیٹ (JOHN LYDGATE) (م ۱۷۵۱؁ء) اس کبوتر کا رنگ تک جانتا تھا۔ اس کے بیان کے مطابق کبوتر کا رنگ دودھیا سفید تھا۔ پھر یہ یقین یہاں تک بڑھا کہ اٹھارھویں صدی کے ایک کبوتروں کے ماہر نے ایک خاص قسم کے کبوتر کا نام MAUMMET رکھ دیا جو دراصل لفظ محمد کی بگڑی ہوئی شکل تھی۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ کبوتر عیسائیوں کے ہاں تو روح القدس کی علامت ہے (لوقا ۲۲:۳) مگر اسلام میں اس کی کوئی اصل نہیں۔

اسی طرح مومٹ (MAUMET) کا لفظ بت کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ وہ شخص جس نے کعبہ میں سینکڑوں بتوں کو توڑا، جس کے پیر و فخر کرتے ہیں کہ وہی صرف حقیقتاً توحید پرست ہیں اور کسی قسم کے بت یا مورتی کو تسلیم نہیں کرتے۔ وہی شخص مغربی من گھڑت میں ایک خدا اور ایک بت بن گیا قرونِ وسطیٰ کی انگریزی روایات میں مہون (MAHOUN) بار بار پرستش کا ایک مظہر قرار دیا گیا ہے۔ یہ مان لیا گیا تھا کہ ترکوں اور مسلمانوں کے یہاں اس کی پوجا ہوتی تھی۔

مومٹ کی طرح قرآن بھی الکرون (ALKARON) کے نام سے مسلمانوں کا ایک بت قرار پایا مغربیوں کو یقین دلایا گیا کہ مسلمان اپنے بتوں کے آگے عبادتی رسوم منعقد کرتے ہیں جن میں لوبان جلایا جاتا ہے اور نر سنگھا پھونکا جاتا ہے۔ اسی طرح سورج (APOLLO) ان کا دوسرا دیوتا تھا۔ ایک فرانسیسی مصنف کے بیان کے مطابق ۷۷۸؁ء میں شارلی مین کی فوجوں سے مسلمانوں کو شکست ہوئی تو انہوں نے اپنا غصہ سورج دیوتا کے اوپر نکالا اور اس پر پل پڑے۔ ایک اور ایلزبتھ کے دور کا نامور مصنف فرانسس بیکن (FRANCIS BACON) محمد کو عطائی (MOUNT BANK) قرار دیتا ہے۔ اس نے اپنے مقالہ ''ہمت و استقلال'' (BOARDNESS) میں نقل کیا ہے۔

''محمد ﷺ نے لوگوں کو یقین دلایا کہ وہ ایک پہاڑی کو بلائیں گے اور وہ ان کے پاس چلی آئے گی۔ لوگ جمع ہوئے۔ محمد ﷺ نے پہاڑی کو اپنے پاس آنے کو کہا۔ وہ بار بار پکارتے رہے اور جب پہاڑی اپنی جگہ کھڑی رہی تو وہ ذرا بھی نہ شرمائے بلکہ انہوں نے کہا۔ اگر پہاڑی محمد ﷺ کے پاس نہیں آسکتی تو محمد ﷺ تو پہاڑی تک جا سکتے ہیں ۔''
نوٹ

مگر حقیقت یہ ہے کہ اسلام میں اس واقعہ کی کوئی اصل موجود نہیں ہے۔ تاہم قرونِ وسطیٰ کے تمام مصنفین نے اس خلافِ اسلام انداز کو نہیں اپنایا تھا۔ صلیبی دور کا ایک بشپ جس کی پیدائش شام میں ہوئی تھی۔ ولیم آف ٹریپولی (WILLIAM OF TRIPOLI) نے ۱۲۷۰؁ء میں ایک رسالہ لکھا جس میں اگرچہ محمد کو وہ جھوٹے رسول کی حیثیت سے تسلیم کرتا ہے مگر آپ کے حالات میں دشنام طرازی اور افسانوی حصے کو بہت کم کر کے پیش کیا ہے۔ اسی طرح ۱۶۷۹؁ء میں ایک انگلش پادری لینکلاٹ ڈیسن (LANCELOT ADDISON) نے ایک کتاب لکھی جس میں اس نے ان من گھڑت اجزاء کو الگ کرنے کی کوشش کی جو محمد کے نام سے وابستہ ہو گئے تھے۔ بعض بعض مواقع پر اس نے پہلے کسی واقعہ کی افسانوی تصویر کو نقل کیا ہے اور اس کے بعد تاریخی حقیقت کو بیان کیا ہے۔ اڈیسن کے ایک ہم عصر ہمنصری پرائیڈکس (HUMPHRAY PRIDEAUX) نے آپ کی مکمل سوانح حیات لکھی جس میں کبوتر کے حصہ اور اسی طرح بہت سی دوسری کہانیوں کو یہ کہہ کر رد کر دیا کہ ان کو صحیح ماننے کے لئے کوئی واقعی بنیاد موجود نہیں ہے۔ تاہم اس سوانح حیات کا مقصد یہ ثابت کرنا تھا کہ اسلام ایک مکّارانہ مذاہب (FRANDULENT RELIGION) کا معیاری نمونہ نہیں ہے۔ یہ سوانح عمری ایک صدی تک مغربی حلقوں میں مستند سمجھی جاتی تھی۔

زیادہ رواداری کا نقطۂ نظر اٹھارھویں صدی میں پیدا ہوا۔ اس زمانہ میں مغرب کے عربی دانوں نے اسلام کے متعلق زیادہ قابلِ اعتماد ذرائع کا ترجمہ کیا۔ سیاح اور تاجر زیادہ اچھے تاثرات لے کر لوٹے اور سفیروں اور مشنری کے عہدیداروں نے بھی اضافۂ معلومات میں حصہ لیا۔ مثال کے طور پرجارج سیڈیز (GORGE SANDYS) جس نے قسطنطنیہ، مصر اور فلسطین کی زیارت کی تھی۔ وہ ۱۲۱۵؁ء میں اپنے سفر کی روداد لکھتے ہوئے مسلمانوں کی اور بہت سی چیزوں کے ساتھ زکوٰۃ کی تعریف کرتا ہے جو عیسائی اور یہودی غرباء کو دی جاتی تھی۔ تاہم زیادہ تر مثالوں میں لوگ ذاتی تحقیق سے زیادہ روایتی معلومات ہی پر اکتفا کرتے رہے حتیّٰ کہ متخصصین پروفیسروں تک کا یہ حال تھا کہ پیدائشی طور پر سنی سنائی روایات کو دہرا دیا کرتے تھے۔ پکاک کا جانشین جوزف وائٹ (JOSEPH WHITE) ۱۷۸۴؁ء میں اپنے مشہور بمپئین لیکچرز (BAMPTON LECTURES) میں مسیحیت کی حإایت کرتے ہوئے جب اسلام پر آیا تو محمد ﷺ کے لئے اس کے پاس جو لفظ تھا وہ وہی عام روایتی لفظ تھا۔ مکار اور فریبی (IMPOSTER) اسی طرح اور بد کے ممتاز علماء مثلاً ولیم میور (ایڈبنزا یونیورسٹی)ڈاوڈ ایس، مارگولیتھ (آکسفورڈ) ہنری لامنز (بیروت یونیورسٹی) کے یہاں بھی قدیم رجحانات کے آثار ملتے ہیں۔

مقالہ نگاروں اور مؤرخوں کے ہاتھ محمد، قرآن اور اسلام کا معاملہ اس سے بہتر رہا جو پہلے مذہبی علماء، ناول نگاروں اور شاعروں کے ہاتھ میں اس کا حشر ہوا تھا۔ اس سلسلے میں پہلا قابلِ ذکر نام سائمن آکلے (SIMON OCKLEY) کا ہے جو کیمبرج یونیورسٹی میں عربی کا پروفیسر تھا۔ اس نے مسلمانوں کی تاریخ پر دو جلدوں میں ایک کتاب لکھی ہے۔ اگرچہ کیمبرج کا یہ عالم بھی مکار (IMPOSTER) کو محمد کے ہم معنی لفظ کے طور پر استعمال کرتا ہے اور اسلام اور توہمات اس کے یہاں مرادف الفاظ ہیں مگر مخصوص تاریخی واقعات کے بیان میں اس نے راست گوئی سے کام لیا ہے۔ شام کی فتح کا حال بتاتے ہوئے مثال کے طور پردہ باز نطینیوں کی غارت گری اور دغا بازی کا مقابلہ ابو بکرؓ کی فوجوں کی شجاعت اور ان کے اعلیٰ رویہ سے کرتا ہے جن کو خلیفہ کی ہدایت تھی کہ کسی عورت یا بچہ کو قتل نہ کریں۔ کھجوروں کے درخت نہ کاٹیں اور نہ کھیت کو نقصان پہنچائیں۔ آکلے کی اس کتاب نے مستند درجہ حاصل کیا اور گبن کے ظہور سے پہلے تک عرب تاریخ پر بنیادی ماخذ سمجھی جاتی رہی۔

ایڈورڈ گبن (ADWARD GIBBON) جو جدید انگریزی تاریخ کا بانی ہے اس نے اپنی مشہور کتاب ''سلطنتِ روما کا زوال'' کی پانچویں جلد کے پچاسویں باب کو اس موضوع کے لئے مخصوص کیا ہے۔ اپنے اعتراف کے مطابق وہ ''مشرقی زبانوں سے مکمل طور پر ناواقف'' تھا اس لئے قدرتی طور پر اس کا ماخذ وہی کتابیں تھیں جو اس سے پہلے یورپ میں لکھی گئی تھیں اور اس بنا پر اس کی ترجمانی بھی واقعہ کے مطابق نہ ہو سکی۔ تاہم اس نے بہت سی روایات کو غلط قرار دیا۔ مثلاً اس نے کہا کہ مکار نبی کا لقب ایک خطرناک اور ناقابلِ اعتبار (PRILONS AND SLIPPERY) چیز ہے۔

فرانس میں والیئر پیدا ہوا جو بحیثیت موّرخ زیادہ محتاط ہے مگر بحیثیت المیہ نگار۔ (TRAGEDIAN) محتاط نہیں تھا۔ اپنی تاریخی کتاب (۱۷۵۶؁ء) میں وہ محمد ﷺ کا ذکر رواداری کے ساتھ کرتا ہے وہ محمد کا مقابلہ کرامویل (CROMWELL) سے کرتا ہے۔ ان کے کارناموں کو انگلینڈ کے نجات دہندہ (کرامویل) سے زیادہ عظیم قرار دیتا ہے مگر اپنے المیہ ناٹک (TRAGEDY) ۱۷۴۲؁ء میں محمد ﷺ کو قرنِ وسطی کے لباس میں مکار، ظالم اور عیاش بنا کر پیش کرتا ہے۔ اگرچہ یہ بھی حقیقت ہے کہ والیئر کا اسلام پر حملہ، عمومی طور پر اس کے مخالفِ مذہب ہونے کا نتیجہ تھا۔ والٹر کا انحصار انگریزی ماخذ پر تھا۔ خاص طور پر سیل کا ترجمہ قرآن۔ کیونکہ وہ انگلینڈ میں رہا تھا اور انگریزی زبان سیکھی تھی۔

والٹر سے زیادہ جرمن شاعر گوئٹے (۱۸۳۲-۱۷۴۹ء) وہ شخص تھا جو جدید سپرٹ اور نئے بین الاقوامی نقطۂ نظر کا پیغامبر بنا۔ گوئٹے نے اپنی زندگی میں محمد کے حالات پر ایک نظم شروع کی مگر وہ اس کو مکمل نہ کر سکا۔ گوئٹے یہ یقین کرنے کے لئے تیار نہ تھا کہ عربی پیغمبر ایک مکار شخص تھا۔ سعدی کی گلستان کے جرمن ترجمے نے خاص طور پر گوئٹے کو بہت متاثر کیا۔ ۱۸۱۲؁ء میں حافظ کے کلام کا جرمن زبان میں ترجمہ ہوا تو گوئٹے کو اس میں حکمت، تقدس اور سلامتی نظر آئی جو اس کے خیال میں مغرب کو خاص طور پر درکار تھی۔

اسلامی کلچر کے بارے میں مغربی علماء کا بدلا ہوا نقطۂ نظر جس کا آغاز انگریز اور فرانسیسی پروفیسروں نے کیا تھا اور جرمن اور دوسرے ادیبوں اور شاعروں نے جس کو تقویت دی تھی وہ انیسویں صدی کے وسط تک بالکل واضح ہو گیا۔ کارلائل کا محمد ﷺ کو پیغمبرانہ ہیرو کے کردار کے لئے منتخب کرنا بیک وقت نئے رجحان کی طرف اشارہ تھا اور اس میں اضافہ کرنے والا بھی تھا۔ کار لائل کی کتاب میں مشکل سے کوئی ناخوشگوار فقرہ ہو گا۔ ''درحقیقت یہ کتاب اس لئے قابلِ تنقید ہو سکتی ہے کہ وہ غیر تنقیدی ہے۔'' محمد ﷺ ایک سازشی مکار ہیں، وہ جھوٹ کا مجسمہ ہیں، ان کا مذہب محض عطائی نسخوں کا مجموعہ ہے۔

اس قسم کی باتیں کار لائل کو گوارا نہیں تھیں۔ اس کا ہیرو (محمد ﷺ) واقعی ایک انسان تھا سچا انسان۔