فہرست مضامین

میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰہ۔ قرآن حمید، اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کے الفاظ سے شروع ہوتا ہے۔ الحمد کے معنی ستائش اور سپاس گزاری کے ہیں۔

لِلّٰہ اسی طرح لِلّٰہ کے بھی دو مفہوم ہیں، ایک یہ کہ ستائش گری اور سپاس گزاری کا مستحق صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ دوسرے یہ کہ جہاں کہیں بھی کوئی امر مستوجب ستائش و سپاس ہے اس کا مرجع و مصدر بھی صرف حق تعالیٰ ہے۔

پورے جملے کا مفہوم یہ ہوا کہ:

تمام ستائش اور سارے سپاس صرف ذات وحدہٗ لا شریک کے لئے ہیں۔ اور وہی حقیقۃً ان سب کا مرجع و مصدر بھی ہے۔

گو یہ جملہ ایک ''جملہ خبریہ'' ہے تاہم تلمیح یہ ہے کہ آپ بھی ایسا کہیں بولیں اور گن گائیں۔ جیسے کوئی یہ کہتا ہے کہ: سچ بولنا اچھی بات ہے۔ مدعا یہ ہوتا ہے کہ: سچ بولو! اسی طرح یہ کہنا کہ تمام خوبیاں اللہ کے لئے ہیں۔ اس کا بھی مقصد یہ ہے کہ ہر خوبی کو من جانب اللہ سمجھو اور ہر نعمت پر، خواہ کسی جہت سے حاصل ہو، اللہ کا شکر بجا لاؤ اور اس کی ستائش کرو۔ کتاب اللہ میں جا بجا اللہ کی نعمتوں کا ذکر ہے اور ان پر اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنے کا حکم ہے: قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ (بنی اسراءیل و نمل)

حمد الٰہی کی اہمیت:

حمد الٰہی کی اہمیت اس سے ظاہر ہے کہ کتاب اللہ کا آغاز بھی اسی لفظ سے ہوا ہے اور قرآن حکیم نے یہ انکشاف کیا ہے کہ کوئی شے ایسی نہیں ہے جو حمد الٰہی کی تسبیح نہ کرتی ہو۔

﴿وَاِنْ مِنْ شَيءٍ اِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِه (بنی اسراءیل ۵۴)

شیخ سعدی (ف ۶۹۲؁ھ،۱۲۹۲ء) رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی شہرۂ آفاق کتاب گلستاں کے آغاز میں بتایا ہے کہ:

انسان کے ہر سانس میں دو نعمتیں ہیں۔ سانس اندر جائے تو زندگی کی معاون ہو جاتی ہے اور جب باہر آئے تو موجب فرحت ہو جاتی ہے (یعنی گھٹن دور ہو جاتی ہے) پس جب کہ ہر سانس میں دو نعمتیں ہیں اور ہر نعمت پر شکریہ واجب ہے۔

منت خدائے را عزوجل کہ طاعتش موجب قربتست وبشکر اندرش مزید نعمت، ہر نفسے کہ فرد میرود ممد حیات است و چوں برمی آید مفرح ذات، پس در ہر نفس دو نعمت موجود است و بر ہر نعمتے شکر وا جب (گلستان سعدی ص ۱)

اب آپ غور فرمائیں کہ جب صورتِ حال یہ ہے تو کیسے ممکن ہے کہ انسان اپنے دست و زبان اور قول و فعل سے سپاس کی ذمہ داری اور فریضہ سے عہدہ برآ ہو سکے؟

سب سے زیادہ حمد کرنے والا سب سے بڑا محبوب:

احادیث میں آیا ہے کہ: کوئی شے ایسی نہیں جو حمد الٰہی سے زیادہ اللہ کو محبو ہو۔

گویا کہ حمد کرنے والا اللہ کے نزدیک اس کا محبوب بندہ ہے اور سب سے زیادہ حمد کرنے والا اللہ کا سب سے بڑا محبوب۔ چونکہ رحمۃ للعالمین ﷺ نے سب سے زیادہ رب کی حمد کہی ہے۔ اس لئے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ کا نام نامی ''احمد'' بھی اسی مناسبت سے الہامی نام ہے اور اس کے الہامی ہونے کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ: آپ ﷺ کی ولادت باسعادت سے چھ سو سال پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے آپ ﷺ کی آمد کی بشارت ان الفاظ میں دی تھی کہ:

مُبَشِّرًا بِّرَسُوْلٍ ياْتِي مِنْ بَعْدِ اسْمُه اَحْمَد

''یعنی اے لوگو! میں بحیثیت رسول اللہ، تم کو یہ خوشخبری سناتا ہوں کہ میرے بعد ایک رسول آنے والا ہے جس کا نام ''احمد'' ہے۔''

احمد و محمد ﷺ:

سچی حمد الٰہی کی یہ نشانی ہے کہ زبان پر نامِ خدا رہے، حرکات و سکنات اس دارفتگی پر گواہ ہوں۔ اور اس کی زندگی کے مختلف شئون و مظاہر صفاتِ حمیدہ کے حامل نکلیں گویا کہ وہ حمد قولی ہے اور یہ فعلی و قدرتی۔ ان صفات والا صفات اور مساعی جمیلہ سے جو سراپا بنتا ہے اِسے عربی میں ''احمد و محمد'' کہتے ہیں، ﷺ۔

یا یوں کہیے! کہ آپ ﷺ نے سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی حمد کی تو احمد کہلائے اور اس مقامِ رفیع میں اتنی اونچی پرواز فرمائی کہ اسے دیکھ کر خلقِ خدا کی زبان سے بے ساختہ ''واہ وا'' نکلی تو محمد جیسے الہامی نام کا ظہور ہوا۔ اور دونوں اسماء پاک کی پوری جلوہ گری کے لئے قیامت میں آپ کے لئے جو مقام تجویز کیا گیا اس کا نام بھی مقامِ محمود ٹھہرا۔ ظاہر ہے کہ تینوں میں یہ ہم آہنگی اتفاقی بات نہیں ہو سکتی بلکہ سرتاپا الہامی اور تلمیحی ہے۔

خلقِ خدا میں ایسے بھی لوگ ہو سکتے ہیں جنہوں نے ''حمد الٰہی'' میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہو گی مگر اس کے باوجود یہ مقام بریں کسی دوسرے کے حصے میں نہیں آیا۔ ایک تو یہ بات نکتہ داں اور نکتہ نواز ذات پاک کی ہے کہ وہ جانے اسے آپ ﷺ کا مزید اور کیا بھا گیا۔ دوسری بات یہ ہے کہ دو شخص بات کرتے ہیں اور ایک ہی بات کرتے ہیں مگر بعض داخلی حقائق کی بناء پر ایک کی بات سونے میں تلتی ہے مگر دوسرے کو یہ اعزاز حاصل نہیں ہوتا۔

یہی کیفیت یہاں ہے۔ رحمتِ عالم ﷺ نے ''شمار'' میں شاید دوسروں سے زیادہ حمد نہ کی ہو مگر جس آگہی، احساسِ معیت اور قلب و زبان کی جس پیاس، ذوق اور چاشنی کے ساتھ حمد و ثناء کے زمزمے آپ کے قلب، لہر کی گہرائیوں او زبان اقدس کی بے تابیوں سے ابھرے، وہ شاید یکجا اور کہیں نہ مل سکیں۔ اور یہ اسی قدرتی ہم آہنگی کا نتیجہ ہے کہ قرآن حکیم نے اعلان کیا کہ: جس شخص نے آپ کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی۔

مَنْ يطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللهَ (نساء ع۱۷)

اور حضرت عائشہؓ کو کہنا پڑا کہ:

کَانَ خُلُقُه الْقُرْاٰن (ابو داؤد)

''آپ کا سراپا قرآن تھا۔''

حضرت انسؓ نے چہرۂ اقدس پر نگاہ ڈالی تو بول اُٹھے کہ:

کأنه ورقة مصحف (شمائل ترمذی)

''چہرہ کیا ہے، قرآن کا ورقہ ہے۔''

حق تعالیٰ نے یہ اعلان فرمایا کہ جو مجھ سے ملنا چاہتے ہیں، وہ محمدی رنگ میں میرے حضور حاضر ہوں۔

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِيرًا (احزاب ع۳)

یہ سب باتیں احمد مجتبیٰ، محمد مصطفیٰ ﷺ اور آپ کے مقام محمود کے خصائص عالیہ کا نتیجہ ہیں۔ جو قطعاً بلا سبب نہیں ہیں۔ دنیا میں اگر کوئی نام ''مسمی'' کا عین کہلا سکتا ہے تو یقیناً وہ آپ کے ہی اسمائے گرامی احمد و محمد (ﷺ) ہی ہو سکتے ہیں۔ آپ ﷺ نے جو بات کی قابلِ ستائش کی (احمدؐ) جب نظر آئے تو قابلِ ستائش نظر آئے (محمدؐ) اور جب وقوف فرمایا تو بھی قابلِ ستائش وقوف کیا (مقامِ محمود) زبان زمزمہ سنج (احمد) اطوار معصومانہ اور کامل عبدیت کا حسین مظہر (محمدؐ) ٹھہراؤ باوقار اور مؤدب (مقامِ محمود) جو لوگ آپ کے پاک اسماء کو آپ کے شب و روز کے آئینہ میں دیکھنے کی کوشش کریں گے۔ ان پر ''حقیقت محمدیہ'' پوری طرح منکشف ہو سکتی ہے اور جو لوگ آپ ﷺ کے مکارمِ حیات سے خود بھی شاد کام ہوتے ہیں، وہ آپ ﷺ کے اسماء پاک کی معنی خیزی اور واقعیت کے عینی گواہ بھی ہو سکتے ہیں۔

الغرض: جس قرآن پاک کا عنوان ''الحمد'' ٹھہرا، اسی کتاب پاک کے حامل ''احمد، محمدؐ'' کہلائے۔ یعنی احمد و محمد ''حقیقتِ محمدیہ'' کے جلی عنوان ٹھہرے۔ کتاب اور حاملِ کتاب کے پاک عنوانوں کا ماخذ ''حمد'' ہی ہے۔ حمد جس طرح اللہ کے لئے خاص ہے، احمد و محمد (ﷺ) بھی صرف اپنے اللہ کے ہیں۔ ﷺ۔