اسلام کے واضح اور پاکیزہ احکام مصائب و آلام سے دوچار انسانیت کے لئے راحت وسکون اور فرحت و انبساط کا باعث ہیں۔ دنیا اور آخرت کی تمام بھلائیاں اور کامیابیاں ان میں پوشیدہ ہیں۔ اسلام کی یہ عظمت و رِفعت ابلیس اور اس کے پیروکاروں کے دل و دماغ میں نوکدار کانٹوں کی مانند چبھن پیدا کرتی ہے۔ چنانچہ اس اذیت سے نجات حاصل کرنے اور اپنے اصل مقصدکی بجاآوری کے لئے شیطان کا گروہ ہروقت اس جدوجہد میں مگن ہے کہ جیسے بھی ممکن ہو، ابن ِآدم کو راہِ راست سے منحرف کرکے اسلام سے بیزار کردیا جائے اور انہیں لذت کے سرور میں مبتلا کرکے اسلام کی تعلیمات اور حق و صداقت کی پہچان سے اس قدر دور کردیا جائے کہ مخلوق اپنے پیدا کرنے والے کو بھول کر اس کی یاد سے غافل ہوجائے۔

پس نیکی اور بدی کے مابین یہ جنگ اُسی روز سے جاری ہے جس دن ابلیس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے باوجود حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے سے انکار کردیا تھا۔ اس عدمِ اطاعت پرخالق ِکائنات نے شیطان کے مہلت طلب کرنے پر اسے یومِ آخرت تک مہلت عطا فرمائی تاکہ وہ انسان کو اپنی خوش نما اور دل فریب چالوں کے پھندے میں پھنسا کر سیدھے راستے سے بھٹکا سکے۔ چنانچہ سب سے پہلا اور مہلک ترین داوٴ جو شیطان نے کھیلا، یہ تھا کہ اس نے دھوکا دہی اور کذب بیانی کے ساتھ آدم و حوا علیہما السلام کو اس درخت کے چکھنے پرمجبور کردیا جس کے پاس جانے سے بھی اللہ نے منع فرمایا تھا۔ اس نافرمانی اور معصیت کے نتیجے میں آدم و حوا کے ستر ایک دوسرے کے سامنے کھل گئے اور وہ فطری شرم و حیا کی بنا پر اپنے برہنہ جسموں کو پتوں سے چھپانے لگے۔ اس واقعے کا قرآن حکیم میں یوں تذکرہ کیا گیا:

"اور ہم نے( آدم سے) کہا کہ تم اور تمہاری بیوی بہشت میں رہو سہو اور جہاں سے چاہو (اور جو چاہو) نوشِ جان کرو مگر اس درخت کے پاس نہ جانا ورنہ گناہ گار ہوجاوٴ گے۔ تو شیطان دونوں کو بہکانے لگا تاکہ ان کے ستر کی چیزیں جو ان سے پوشیدہ تھیں، کھول دے اور کہنے لگا کہ تمہیں تمہارے پروردگار نے اس درخت سے صرف اس لئے منع کیا ہے کہ کہیں تم فرشے نہ بن جاوٴ یا ہمیشہ جیتے نہ رہو اور ان سے قسم کھاکر کہنے لگاکہ میں تو تمہارا خیرخواہ ہوں۔

غرض (مردود نے ) دھوکا دے کر ان کو (گناہ کی طرف) کھینچ ہی لیا۔ جب انہوں نے اس درخت (کے پھل) کو کھا لیا تو ان کے ستر کی چیزیں کھل گئیں اور وہ جنت کے (درختوں کے) پتے اپنے اوپر چپکانے (اور ستر چھپانے) لگے۔ تب ان کے ربّ نے ان کو پکارا کہ کیا میں نے تمہیں اس درخت (کے پاس جانے) سے منع نہیں کیا تھا اور بتا نہیں دیا تھا کہ شیطان تمہارا کھلم کھلا دشمن ہے۔" (ترجمہ آیات ، الاعراف:۱۹تا۲۲)

انسان پر اللہ کے انعامات

حضرت آدم علیہ السلام کے بارگاہِ ایزدی میں توبہ کرنے کے بعد انہیں جنت سے نکال کر زمین میں بسا دیا گیا۔ خلیفہ کی حیثیت سے انسان کو اللہ تعالیٰ نے اشرف المخلوقات ہونے کا اعزاز بخشا اور اسے اپنی دیگر مخلوق پر کئی اعتبار سے فضیلت و بزرگی عطا فرمائی، اسے رہنے سہنے کے ڈھنگ سکھائے اور کھانے پینے کے آداب سے آگاہ کیا لیکن ان سب کے علاوہ ایک نعمت ایسی عطا فرمائی جس نے بنی آدم کی عظمت کو حد ِ کمال تک پہنچا دیا اور وہ انسان کا اپنے بدن کو اچھے انداز سے ڈھانپنا اور اس کی جبلت میں شرم و حیا کاموجود ہونا ہے۔ یہ ایسی عظیم اور لازوال نعمت ہے جو قدرت کی جانب سے صرف اور صرف حیوانِ ناطق یعنی انسان ہی کو ودیعت کی گئی اور دیگر مخلوق کو اس سے محروم رکھا گیا۔ چنانچہ لباس کی نعمت کا اللہ پاک نے بطورِ خاص یوں ذکر فرمایا :

"اے بنی آدم! ہم نے تم پر لباس کی نعمت اُتاری تاکہ تمہارا ستر ڈھانکے اور (تمہارے بدن کو) زینت دے اور پرہیزگاری کا لباس سب سے اچھا ہے۔ یہ خدا کی نشانیاں ہیں تاکہ لوگ نصیحت پکڑیں۔" (ترجمہ آیت ، الاعراف:۲۶)

انسانی فطرت میں شرم و حیا کے عناصر کے باوجود اللہ تعالیٰ نے مرد اور عورت کے مابین ایک دوسرے کے لئے کشش پیدا فرما دی اور اسے اتنی قوت عطاکردی کہ جنس ِمخالف کی چاہت انسان کے دل و دماغ پر حاوی ہوگئی۔ مرد نے عورت کے حسن و جمال پر فریفتہ ہوکر زمین میں فساد برپاکیااور خون بہایا توعورت کے اندازِ دلربائی اور اُسلوبِ عشوہ طرازی نے اسے خراجِ تحسین بخشا۔ مرد نے عورت کے حصول کے لئے راہِ ہدایت کو ترک کیا اور اپنے کنبے قبیلے سے ناتا توڑا تو عورت نے اس کی والہانہ انداز میں پذیرائی کی۔ غرض کہ انسانیت اور اخلاق و کردار کی تباہی و بربادی میں ایک سیر اور دوسرا سوا سیر نکلا۔ ابلیس مردود نے عشق و محبت کے اس کھیل کی ہلاکت خیزی کا مشاہدہ کیا تو اس نے اسے برہنگی (Nudity) کی سلگتی ہوئی چنگاری دکھاکر مردو زن کی اکثریت کو لباس سے بے نیاز کرنے کی سازش کی تاکہ انہیں اسی شرمناک حالت میں مبتلا کردیا جائے جو ان کے جد ِامجد حضرت آدم علیہ السلام کے لئے ندامت کا باعث بنی اور جس کی وجہ سے انہیں جنت سے نکلنا پڑا۔ یہی وجہ ہے کہ جب اللہ نے بنی آدم کو شیطان کے مکروفریب سے بچنے کی ہدایت کی تو اس کی اس مذموم سازش کو بطورِ مثال یوں بیان کیا :

"اے بنی آدم! (دیکھنا) کہیں شیطان تمہیں بہکانہ دے جس طرح تمہارے ماں باپ کو (بہکا کر) بہشت سے نکلوا دیا اور ان سے ان کے کپڑے اُتروا دیے تاکہ ان کے ستر ان کو کھول کر دکھا دے۔ وہ اور اس کے بھائی تمہیں ایسی جگہ سے دیکھتے رہتے ہیں جہاں سے تم انہیں نہیں دیکھ سکتے۔ ہم نے شیطانوں کو انہی لوگوں کا رفیق بنا یا ہے جو ایمان نہیں رکھتے۔" (ترجمہ آیت ، الاعراف:۲۷)

آزادئ نسواں کی صداے بازگشت

بلاشک و شبہ عورت کو اللہ نے کائنات کے حسن میں سے ایک کثیر حصہ عطا کیا ہے اور "وجودِ زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ" کے مصداق عورت کی فطری خوبصورتی ، نرمی ونزاکت اور سادگی وبھولپن خالق کائنات کی بے مثال صناعی کا ایک عظیم شاہکار ہے،لیکن افسوس! اللہ کی طرف سے سے عطا کردہ یہ تمام نعمتیں عورت کو راس نہ آسکیں، شیطان کا وار کارگر رہا اور معاشرے میں عریانی وفحاشی کے پھیلاوٴ میں عورت نے سب سے اہم کردار ادا کیا ہے اور کررہی ہے۔ پس واضح ہو کہ سوسائٹی میں فحاشی کے فروغ کا ایک اہم ذریعہ 'آزادئ نسواں' بھی ہے جس کے اہداف و مقاصد میں سے اصل اور بنیادی مقصد معاشرے میں اخلاقی بے راہ روی اور مادر پدر آزادی کو پھیلانا ہے۔ اگرچہ 'آزادئ نسواں' کے علمبردار عورت کو اس کے جائز حقوق دلوانے ہی کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں لیکن اصل حقیقت کیا ہے؟ اس سے عوام الناس کی ایک بڑی تعداد ناواقف ہے...!!

آزادیٴ نسواں کی تحریک مصر میں!

'عورت کی آزادی' عہد ِحاضر ہی کا المیہ نہیں بلکہ اس کی پکار اس وقت سے دنیا کے گوشے گوشے میں گونج رہی ہے، جب اس پتھر کے دور کے انسان پر دنیوی ترقی کے در وا ہوئے اور اس نے مادّی ارتقا کے لئے جدت کا لبادہ اوڑھا۔ تجارت و معیشت میں روز افزوں بڑھوتری کے لئے مختلف اقوام نے عورت کو گھر کی محفوظ اور پرسکون چار دیواری سے باہر نکالا لیکن وقتی کامرانی کے باوجود دائمی ناکامی و تنگ دستی اور ذلت و پریشانی نے ان کے قدم چومے۔ چنانچہ تاریخ گواہ ہے کہ علم و ترقی اور تہذیب و تمدن کے گہواروں روم اور یونان نے جب خاتونِ خانہ کو 'زینت ِمجلس' بنا دیا تو کاتب ِتقدیر نے اس عظیم اخلاقی اور معاشرتی گناہ کی پاداش میں انہیں صفحہٴ ہستی سے حرفِ غلط کی طرح مٹا دیا۔ دانش مندی کا تقاضا تو یہ تھا کہ پوری دنیا کے انسان بالعموم اور مسلمان بالخصوص اس سے عبرت پکڑتے لیکن افسوس!یہ بھی لذتِ نفس کی آرزو میں اسی رو میں بہہ گئے جس کی تندی و تیزی نے ان سے پہلے کی قوموں کو نیست و نابود کردیا تھا۔ یوں گمراہیوں کی شب ِتاریک میں جلتے ہوئے واحد چراغِ ہدایت نے بھی تہذیب مغرب کی پیروی میں اپنی روشنی گل کردی اور آج کیفیت یہ ہے کہ تقریباً تمام اسلامی ممالک اس تباہ کن اورہلاکت خیز فتنے کی زد میں آکر 'آزادئ نسواں' کا راگ الاپنے میں مشغول ہوگئے ہیں۔ اسلامی ممالک میں آزادئ نسواں کی صداے بازگشت سب سے پہلے مصر میں، پھر ترکی ، ایران اور افغانستان میں شروع ہوئی۔ مصر میں خصوصی طور پر تحریک ِآزادئ نسواں نے خدیو اسماعیل پاشا کے عہد ِحکومت (۱۸۶۳ء تا ۱۸۷۹ء) میں زور پکڑا اور عورتوں کے لئے جدید مغربی طرز کے سکول کھلنے لگے۔ آزادی کی اس تحریک میں جو بعد میں بہت پھیل گئی، مصر کے معروف ادیب اور سماجی مصلح قاسم امین (۱۸۶۳ء تا ۱۹۰۸ء) نے بڑا حصہ لیا۔ قاسم امین نے، جنہیں مُحرِّرالمرأة (عورت کو آزادی دلانے والا) کا خطاب دیا گیا، آزادئ نسواں کی تائیدو حمایت میں دو کتابیں تحریر المرأة (عورت کی آزادی) اور المرأة الجدیدة (جدید عورت) تصنیف کیں۔

تحریک ِآزادئ نسواں کے افکار و نظریات کی توسیع و اشاعت میں ہدیٰ شعراوی (۱۸۷۹ء تا ۱۹۴۹ء) نے بہت اہم کردار ادا کیا۔ یہ بالائی مصر کے ایک علاقے میں پیدا ہوئیں، پورا نام نور الہدیٰ سلطان تھا،مگر ہدیٰ شعراوی کے نام سے مشہور ہوئیں۔ ابتدائی تعلیم و تربیت قاہرہ ہی میں حاصل کی، حفظ ِقرآن کے ساتھ فرانسیسی زبان میں بھی مہارت حاصل کرلی۔ ۱۳برس کی عمر میں چچازاد بھائی علی شعراوی سے نکاح ہوا اور رخصتی عمل میں آئی، لیکن ایک سال بعد ہی سات سال کے لئے شوہر سے علیحدگی ہوگئی۔ اس دوران یہ تحریک ِآزادئ نسواں سے متعارف ہوئیں۔ ۱۹۰۹ء میں قاہرہ یونیورسٹی میں پہلی بار خواتین کے لئے خواتین کے ذریعے لیکچرز کا اہتمام کیا۔ ۱۹۱۴ء میں خواتین کے اندر مغربی اندازِ زندگی پیدا کرنے کے لئے الاتحاد النسائي التہذیبی کی بنیاد رکھی اور اسی مقصد کے لئے ایک دوسری انجمن کا قیام بھی عمل میں لایا گیا۔ ان تنظیموں کا مقصد ادب و ثقافت کے خوشنما نعروں کے پردے میں مصری خواتین کو اسلام کے خلاف بغاوت پرآمادہ کرنا تھا۔ چنانچہ میاں اور بیوی نے مل کر اس فتنے کو خوب ہوا دی۔ ۱۹۱۹ء میں خواتین کی ایک احتجاجی ریلی منظم کرنے کے بعد وفد پارٹی کی خواتین شاخ لجنة الوفد المرکزیة للسیدات (خواتین کے لئے مرکزی وفد کی کمیٹی) کی مرکزی صدر مقرر کردی گئیں۔ ۱۹۲۳ء میں آزادی کے حصول کے بعد شعراوی نے 'الاتحاد النسائی المصری' کی تاسیس کی اور اس کی صدر مقرر ہوکر مصر میں پہلی تحریک ِنسواں کی بھرپور قیادت کی۔ اسی سال روم کی ایک بین الاقوامی خواتین کانفرنس میں شرکت کے بعد وطن واپس آئیں تو ایک سیاسی مظاہرے میں شرکت کرتے ہوئے پہلی مرتبہ عوام کے سامنے چہرے کا نقاب نوچ کر پھینک دیا، اس کے بعد بے حجابی ان کا شعار بن گیا۔

۱۹۲۴ء میں انہوں نے خواتین کے مفت علاج کے لئے 'دارالتعاون الاصلاحی' (اصلاحی تعاون کا گھر) کا سنگ ِبنیاد رکھا۔ ۱۹۲۵ء میں فرانسیسی زبان میں ایک ماہنامہ (Egyptienne) جاری کیا۔ ۱۹۳۷ء میں عربی زبان میں ماہنامہ المصریة کابھی آغاز کردیا گیا۔ ان دونوں رسالوں نے تحریک ِآزادئ نسواں کے افکار ونظریات کی خوب اشاعت کی اور پردے سے متعلقہ اسلام کے روایتی تصورات پر حملے کئے۔

اسلامی جمہوریہ مصر میں تحریک ِآزادئ نسواں کی مخالفت بھی بہت ہوئی۔ چنانچہ مصری خواتین کو اسلام کے نظام ستروحجاب سے آگاہ کرنے اور اجنبی مردوں سے ان کے آزادانہ میل جول کے خلاف 'الاخوان المسلمون' کی خواتین شاخ الأخوات المسلمات نے بہت اہم کردار ادا کیا۔ اس کے علاوہ نعمت صلاتی نے التبرج اور مصر کے نامور محقق اور ماہر انشا پرداز محمد فرید وجدی (۱۸۷۸ء تا ۱۹۵۴ء) نے المرأة المسلمة لکھ کر اسلام کے نظامِ عفت و عصمت کاموثر انداز میں دفاع کیا۔اسی کتاب کا ترجمہ برصغیر میں اسی دور میں مولانا ابوالکلام آزاد نے' مسلمان عورت' کے نام سے کیا۔

مصر کے نامور عالم اور صاحب 'تفسیر المنار' جناب سید رشید رضا نی حقوق النساء في الاسلامکے عنوان سے اسی موضوع پر ایک اہم کتاب تالیف کی، اس کتاب کی تحقیق وتخریج بیسویں صدی کے نامور محدث علامہ محمد ناصر الدین البانی نے کی۔اس دور میں نامور اہل علم نے اس موضوع کی اہمیت کو محسوس کرتے ہوئے اس موضوع پر اسلامی نکتہ نظر کی وضاحت میں عربی اور دیگر زبانوں میں کئی کتب تالیف کیں۔

الاخوانکی ایک اہم ادیبہ اور مصنفہ زینب الغزالی (پیدائش: ۲جنوری ۱۹۱۷ء) نے بھی تحریک ِآزادئ نسواں کے سیلابِ بلاخیز کے آگے بندھ باندھنے میں کارہاے نمایاں سرانجام دیے۔ زینب نے نوجوانی میں ہدیٰ الشعراوی کی تحریک ِنسواں میں شمولیت اختیار کی، مگر جلدی ہی یہ حقیقت سمجھ میں آگئی کہ یہ تحریک آزادی اور حقوق کے نام پر خواتین کو گمراہ کررہی ہے اور یہ کہ اسلام نے خواتین کو ہر قسم کے حقوق فراہم کئے ہیں، اس لئے مزید کسی تنظیم یا نظام سے وابستگی فضول ہے۔۱۹۳۶ء میں ۱۸ برس کی عمر میں آپ نے جماعة السیدات المسلماتکی بنیاد رکھی اور مسلم خواتین و طالبات کو اسلام کیلئے جدوجہد پراُبھارا۔ حکومت نے اس تنظیم کی مقبولیت اور توسیع کو محسوس کرتے ہوئے ۱۹۶۴ء میں اس پر پابندی لگا دی۔ اس وقت اس کے ارکان کی تعداد ۳۰ لاکھ کے قریب تھی جو بلا شبہ ایک حیرت انگیز امر ہے۔

'آزادئ نسواں' کے پس پردہ کھیلا جانے والا عریانی و فحاشی کایہ گندا کھیل انسانیت کی روحانیت کے لئے کس قدر زہر ناک ہے ؟ اس کا اندازہ اس حقیقت سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ یورپ وامریکہ روحانی اعتبار سے مکمل طور پر تباہ ہوچکے ہیں۔ ان ممالک کے افراد کی ازدواجی زندگی اطمینان اور سکون سے بالکل خالی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ مغربی ممالک میں نکاح کو ایک غیر ضروری چیز تصور کیا جاتا ہے۔ مغربی اقوام مادر پدر آزادی کے زیر سایہ ہمیشہ ایک ہی بدن سے شہوانی تسکین حاصل کرنے کو کوتاہ نظر ی اور قدامت پسندی کا مظہر سمجھتی ہیں۔ اسی بنا پر مغربی معاشرہ شہوانیت پرستی کے سیلاب میں بہہ کر انسانیت سے اس قدر دور ہوچکا ہے کہ بلا شک و شبہ شرم و حیا اور عفت و آبرو کے لحاظ سے ان میں اور حیوانات میں کچھ واضح فرق باقی نہیں رہا۔ ان کے اخلاقی اور روحانی زوال کی عکاسی یہ رپورٹ کرتی ہے کہ امریکہ میں ہر چھ منٹ کے بعد عصمت دری کا ایک واقعہ پیش آتا ہے اور یورپ کے مہذب ترین ملک سویڈن میں ستر فیصد لڑکیاں شادی سے قبل حاملہ ہوجاتی ہیں۔

غرضیکہ مغربی ممالک کو بدکاری اور آبروباختگی کا بھیانک عفریت اس سرعت سے ہڑپ کررہا ہے کہ ان کا خاندانی نظام تباہی کے دہانے کو چھو رہا ہے، میاں بیوی کے درمیان پیار ومحبت کے جذبات مفقود ہیں تو جنم لینے والے بچے ماں کی ممتا سے محروم ہیں۔ لیکن گرل فرینڈ اور بواے فرینڈ کی تلاش میں سرگرداں مغرب ان مہلک اور جان لیوا امراض کی تشخیص کرنے سے قاصر ہے کیونکہ 'کنویں کے مینڈک'کی مانند اس کی نگاہ میں زندگی کا مفہوم صرف اور صرف 'عیاشی اور نفس پرستی' ہی میں پوشیدہ ہے۔

بے شک جنس ِمخالف کی جانب میلان اور شہوانی جذبات کی تسکین ایک فطری خواہش ہے جس کے جراثیم ہر اچھے اور برے انسان میں پائے جاتے ہیں لیکن اسلام اس کی غیر فطری اور خلافِ انسانیت تسکین سے روکتا ہے، تاکہ معاشرے میں اعتدال اور توازن برقرار رہے اور ایسا نہ ہو کہ انسان ابلیس کی ہر دعوتِ گناہ پر لبیک کہتے ہوئے خود اپنے فطری تقاضوں کو پاوٴں تلے روند ڈالے۔ چونکہ اسلام دین فطرت ہے، اس لئے اس کے تمام احکام پر عمل پیرا ہونا انسانی طبیعت کا ایک اہم جزو ہے۔ چونکہ شہوانی خواہشات کی تکمیل فطرت کا حصہ ہے،اس لئے جب انسان اپنی شہوانی آرزووٴں کو افراط و تفریط کے بجائے اسلام کے بتائے ہوئے جائز طریقوں سے پورا کرتا ہے تو فطرت کی اتباع کرنے کی بنا پر ان کا توازن درست رہتا ہے اور اس تعلق میں خوبصورتی برقرار رہتی ہے لیکن جب انسان فطرت کی مخالفت کرتے ہوئے اپنی شہوت کی آسودگی کے لئے ممنوع اور ناجائز ذرائع استعمال کرنے سے بھی نہیں چوکتا تواس کے جنسی میلانات رفتہ رفتہ کم ہوتے چلے جاتے ہیں۔حتیٰ کہ سرشت سے اس بغاوت کے نتیجے میں ایک مرحلہ ایسا آجاتا ہے کہ جب انسان کی شہوت بالکل ختم ہوجاتی ہے اور پھر وہ اپنے برے کاموں پر کف ِافسو س ملتا رہ جاتا ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جو شخص جتنا پرہیزگار اور متقی ہوگا اس میں جنسی قوت اتنی ہی زیادہ ہوگی۔اس کی وجہ ایسے شخص کا اپنی اس صلاحیت کو جائز محل میں صرف کرنا ہی ہے !!

فحاشی کی مذمت

عصرحاضر میں مسلمانوں کے اخلاق و کردار کی پستی کا ایک تاریک پہلو یہ بھی ہے کہ ہم عریانی و فحاشی یا عرفِ عام میں بے پردگی کو ایک غیر اہم مسئلہ تصور کرتے ہیں، حالانکہ اللہ تعالیٰ قرآن حکیم(النور :۱۹) میں ارشاد فرماتا ہے:

"جو لوگ اس بات کوپسند کرتے ہیں کہ موٴمنوں میں بے حیائی پھیلے، انہیں دنیا اور آخرت میں دکھ دینے والا عذاب ہوگا اور تم نہیں جانتے۔"

"اور ایمان والی عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں اور اپنی آرائش و زیبائش کو ظاہر نہ کریں مگر جو اس میں سے کھلا رہتا ہو اور اپنے سینوں پر اوڑھنیاں اوڑھے رہا کریں۔" (النور :۳۱)

ایک دوسرے مقام پر یوں فرمایا:

"اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور جس طرح (پہلے) جاہلیت کے دنوں میں اظہارِ زینت کرتی تھیں، اس طرح (اب) زینت نہ دکھاوٴ اور نماز پڑھتی رہو اور زکوٰة دیتی رہو اور اللہ کے رسول کی پیروی کرتی رہو۔" (الاحزاب:۳۳)

جو لوگ عریانی و فحاشی کو صرف ایک معاشرتی برائی سمجھتے ہیں اور اس کے نقصانات اور برے اثرات کو نوجوان نسل کے اخلاق وکردار کے لئے اتنا تباہ کن خیال نہیں کرتے وہ درحقیقت اس کے نقصانات کا حقیقی ادراک نہیں کرتے۔حقیقت تو یہ ہے کہ بے پردگی اور اخلاقی بے راہ روی ہی بہت سی برائیوں اور گمراہیوں کی جڑ ہے۔ جب کسی بے پردہ عورت پرمرد کی نظر پڑتی ہے تو اس کے دل و دماغ میں ہیجان برپا ہوجاتاہے، اس عورت کی یاد مرد کی عبادت میں خلل انداز ہوتی ہے اور وہ شخص آہستہ آہستہ یادِ خداوندی سے غافل ہوکر راہِ راست سے بھٹک جاتا ہے۔ اس گمراہی کاذمہ دار کون ہے ؟

حافظ ابن قیم نے ذکر کیا ہے کہ" مصر میں ایک نوجوان رہتا تھا، وہ مسجد میں اذان دیتا اور نماز پڑھتا تھا۔ اس کے چہرے پر عبادت کا نور عیاں تھا۔ ایک روز وہ حسب ِمعمول مسجد کے مینار پر اذان دینے کے لئے چڑھا تو مسجد کے پڑوس میں ایک خوبصورت عیسائی لڑکی پر اس کی نگاہ پڑگئی۔ مینار سے اتر کر وہ اس کے گھر چلا گیا۔ لڑکی نے پوچھا کہ : تم یہاں کیسے آئے ہو؟ اس نوجوان نے کہاکہ تمہاری محبت مجھے یہاں کھینچ لائی ہے۔ لڑکی نے کہا کہ میں تمہاری آرزو کبھی پوری نہیں کرسکتی۔ لڑکے نے کہا: میں تم سے نکاح کرنا چاہتا ہوں۔ لڑکی نے کہا: یہ کیسے ہوسکتا ہے، تم مسلمان ہو اور میں عیسائی۔ لڑکے نے کہاکہ میں عیسائیت اختیار کرلیتا ہوں۔ چنانچہ وہ عیسائی ہوگیا اور ان کے ساتھ رہنے لگا۔ ایک رات وہ سونے کے لئے مکان کی چھت پر گیا، پاوٴں پھسلا تو نیچے آگرا اور مر گیا۔ یوں اس لڑکے نے ایمان سے تو ہاتھ دھویا ہی تھا، اس لڑکی سے نکاح پر بھی قادر نہ ہوسکا۔" یعنی حال اس شعر کے مصداق ہوگیا
نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم     نہ اِدھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے

جس شخص میں غیرت و حمیت اور عفت و آبرو کی حفاظت کے جراثیم ہی ختم ہوجائیں، اسے انسان کہلانے کا کوئی حق نہیں،کیونکہ شرم و حیا ہی انسانیت کا طرہٴ امتیاز ہے اور اسی سے فرد کو اپنی بقا اور سلامتی کا پیغام ملتا ہے۔اسی لئے اسلام نے بھی اپنی تعلیمات میں حیا کی اہمیت پر بہت زور دیا ہے۔ چنانچہ نبی اقدسﷺنے ارشاد فرمایا: "حیا ایمان کا حصہ ہے۔" ( بخاری)

نیز فرمایا: "گذشتہ انبیا کے کلام میں سے یہ بھی ہے کہ شرم و حیا رخصت ہوجائے تو پھر جو چاہے کرو۔" (صحیح بخاری)

خود آپﷺ کے متعلق حضرت ابوسعید خدری بیان فرماتے ہیں کہ "نبی1 پردہ نشین کنواری لڑکی سے بھی زیادہ حیادار تھے۔ " (صحیح بخاری، کتاب الادب)

جوشخص اپنی بیوی،بہن یا ماں کے اجنبی افراد سے ملنے پر خوشی محسوس کرتا ہے، وہ کتنا بے غیرت ہے، وہ آرزو رکھتا ہے کہ لوگ اس کی گھریلو خواتین کی خوبصورتی کا اعتراف کریں، حالانکہ ایسی عورتیں جوغیرمردوں کے سامنے اپنا حسن و جمال ظاہر کرتی ہیں، درحقیقت انسانیت کا بدصورت طبقہ ہیں۔ زمین پر چلنے والے بے زبان جانور اور رینگنے والے بے حیثیت کیڑے مکوڑے ان سے کئی گنا بہتر ہیں، کیونکہ ایسی عورتیں ابلیس کی فرمانبرداری کو اللہ کی اطاعت پر ترجیح دیتی ہیں اور اس راستے کو اختیار کرکے اللہ کے غضب کو دعوت دیتی ہیں جس کی منزل دوزخ کی بھڑکتی ہوئی آگ ہے۔ ان ہی کے متعلق آپ نے ارشاد فرمایا: "دوزخیوں کی دو قسمیں ہیں جنہیں میں نے نہیں دیکھا۔ ایک وہ لوگ جن کے پاس بیل کی دم کی مانند کوڑے ہیں جن سے وہ لوگوں کومارتے ہیں اور دوسری وہ عورتیں ہیں جو کپڑے پہننے کے باوجود ننگی ہیں (لباس اتناباریک پہنتی ہیں) یہ خود بھی لوگوں کی طرف مائل ہوتی ہیں اور انہیں بھی اپنی جانب جھکاتی ہیں۔ ان کے سربختی اونٹ (ایک قسم) کی کوہان کی مانند ایک طرف جھکے ہوئے ہیں۔ یہ جنت میں داخل نہ ہوں گی بلکہ اس کی خوشبو بھی نہ سونگھ سکیں گی۔" (صحیح مسلم، کتاب اللباس)

ان عورتوں کی پہچان یہ ہے کہ ان کے دل ہمیشہ حقیقی راحت و سکون کو ترستے رہتے ہیں۔ ایسی عورتوں کی ہر مسکراہٹ میں درد و غم کاسمندر موجزن ہے، ان کی ہر مسرت و شادمانی میں حسرت و ندامت کی پرچھائیں ہوتی ہیں، ان کی ہر حالت میں بے اطمینانی اور کرب کا شائبہ ہوتا ہے اور ان کی ہر آرزو میں فطرت سے بغاوت کی صدا شامل ہوتی ہے!!

دورِ حاضر میں عریانی و فحاشی کے فروغ اور بحیثیت ِمجموعی انسان کے اخلاق و روحانی زوال کے اس الم انگیز اور افسوسناک تجزیے کے بعد سوال یہ ہے کہ پوری دنیا کے انسانوں کو بے راہ روی اور مادر پدر آزادی کے اس تباہ کن بھنور سے کیسے نکالا جائے؟

یہ سوال پوری اُمت ِمسلمہ کے مصلحین کے لیے لمحہ فکریہ ہے کیونکہ جو معاشرہ عریانی و فحاشی کے ذریعے بدکاری کے عذاب میں مبتلا ہوجائے اور جس قوم کے افراد شہوانیت پرستی اور نفسیاتی چاہتوں ہی کو سب کچھ سمجھ لیں، ان پروقتی دعوت و تبلیغ اور وعظ و نصیحت کا اثر انداز ہونا اگر ناممکن نہیں تو انتہائی مشکل ضرور ہے کیونکہ نفس کے فتنے کی شدت سے صرف وہی لوگ باخبر ہیں جو اس کا کڑوا مزا چکھ چکے ہوں۔ یہ سوال اس قدر فکر انگیز ہے کہ انتہائی سوچ بچار کے باوجود ہم اس کا جواب تلاش کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔لہٰذا ہم کسی اور صاحب ِغوروتدبر کو دعوت فکر و نظر دیتے ہیں کہ وہ ابلیس کی اس موٴثر، دلکش اور کشش انگیز سازش کا توڑ تلاش کریں جو آج کے انسان کو اس حقیقی انسانیت سے روشناس کراسکے جسے اللہ نے دیگر تمام مخلوق پرفضیلت و بزرگی عطا فرمائی ہے-