قتل غیرت اور اس پر مختلف موقف

اسلام نے جرمِ بدکاری کی سزا 'موت' (بطورِ حد:سنگسار) مقرر کردی ہے، اس کے لئے چار گواہوں کی شہادت کو لازمی قرار دیا گیا ہے جو عدالت میں پیش ہوکر اس بارے میں شہادت دیں گے۔ اس لئے کسی شخص کو قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کرملزم کوقتل کرنے کی اجازت نہیں۔ اگر شوہر اپنی بیوی پربدکاری کا الزام لگائے تو اس کو بھی اسلام کے قانونِ شہادت کے مطابق چار گواہ پیش کرنا ہوں گے، اگر یہ ممکن نہ ہو تو وہ عدالت سے رجوع کرے گا جس پر قرآن کے قانونِ لعان کے ذریعہ قاضی / جج میاں بیوی کے درمیان تفریق کروا دے گا اور ان کو ہمیشہ کے لئے ایک دوسرے سے جدا کردیا جائے گا۔

جمہور علما کا بھی یہی موقف ہے کہ کسی شخص کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کر مرد یا عورت یا دونوں کو قتل کردے۔ اس لئے جہاں تک دفعہ ۳۰۰ تعزیرات کے ترمیمی بل کی توضیح کا تعلق ہے، ان میں کاروکاری، کالاکالی، سیہ کاری، غیرت اور عزت وغیرہ کے نام پر جو قتل کیا جائے گا وہ 'قتل عمد' ہی ہوگا اور اس کی سزا 'موت# ' ہی ہوگی-

بعض مسلمان ملکوں مثلاً مصر، تیونس، لیبیا اور کویت میں کمی سزا کے حالات(Mitigating Circumstances) میں بدکاری کی سزا میں تخفیف کی جاتی ہے۔

اسی طرح شام، لبنان، تیونس اور مراکش میں بھی ناجائز ہم بستری(Unlawful Bed) پر قتل کی سزا میں کمی کی جاتی ہے مگر مکمل طور پر بدکاری کرتے دیکھ لے تو مجرم پر قتل کی سزا لاگو ہوتی ہے۔

البتہ اُردن اور ترکی کے پینل کوڈ میں اگر کوئی شخص اپنی بیوی یا محرمات میں کسی کو حالت بدکاری میں دیکھے اور ان میں سے کسی ایک کو یا دونوں کو قتل کردے تو وہ سزا سے مستثنیٰ سمجھا جائے گا۔ ترکی کو یورپی یونین میں داخلہ کی ایک رکاوٹ بدکاری کے قانون کی موجودگی بھی ہے۔

اسلامی شریعت میں ایک نکتہ نظر اس کے برخلاف بھی پایا جاتا ہے۔ چنانچہ امام ابن تیمیہ  کے نامور شاگرد ابن قیم  جو اُصولِ قانون کے ماہرین میں سے ہیں، حدیث سعد کی تشریح ایک اور انداز سے کرتے ہیں :

" اگر نبی ﷺ سعد کے قتل کو ناپسند کرتے تو آپ ﷺ غیرت کو اپنی طرف پھر حق تعالیٰ کی طرف منسوب نہ فرماتے بلکہ ارشاد فرماتے: "اگر تو نے اس کو قتل کیا تو تجھ کو بھی قتل کردیا جائے گا۔"

اس لئے وہ قتل غیرت کو ناجائز نہیں سمجھتے ہیں۔ایسے ہی بعض علماحضور ﷺ کی ایک حدیث «من رأیٰ منکم منکرًا فلیغیرہ بیدہ» "تم سے جو کوئی برائی کو دیکھے، وہ اسے اپنے ہاتھ (یعنی اپنی قوت) سے روکے۔" اور قرآن کریم کی آیت ﴿فَمَنِ اعتَدىٰ عَلَيكُم فَاعتَدوا عَلَيهِ بِمِثلِ مَا اعتَدىٰ عَلَيكُم...١٩٤ ﴾... سورة البقرت "جو تم پر زیادتی کا مرتکب ہو تو بھی اس کا بدلہ دو جیسی اُس نے تم زیادتی کی ہے۔"کی بنا پر قتل غیرت کو جائز سمجھتے ہیں۔

اس کے ثبوت میں وہ حضرت عمر کا ایک واقعہ پیش کرتے ہیں جب ایک شخص خون آلود تلوار کے ساتھ دوڑتا ہوا خلیفہ اسلام حضرت عمر کے پاس آیا اور آکر ان کے ساتھ کھانے میں شامل ہوگیا۔ اس کے پیچھے چند لوگوں کی ایک جماعت آئی اور انہوں نے شخص مذکور سے قصاص کامطالبہ کیا۔ جب حضرت عمر نے اس شخص سے اس بارے میں دریافت فرمایا تو اس نے کہا: اے امیر المومنین! بلا شبہ میں نے اپنی بیوی کے دونوں رانوں کے درمیان تلوار ماری اگر ان کے درمیان کوئی تھا تو یقینا وہ بھی قتل ہوگیا، جس کی قاتل کے مخالف گروہ نے تصدیق کی تو حضرت عمر نے اس شخص سے تلوار لی اور اسے لہراتے ہوئے قاتل سے کہا: اگر کوئی دوبارہ ایسا کرے تو تم پھر ایسا ہی کرو۔

قانون فوجداری ترمیمی ایکٹ سال ۲۰۰۴ء کی دفعہ ۲ کے ذریعہ موجودہ دفعہ ۳۰۰ تعزیراتِ پاکستان میں وضاحتی شق کا اضافہ کرتے ہوئے قتل غیرت کے نام پر قتل کی جتنی صورتیں بیان کی گئی ہیں، ان سب کے بارے میں ہماری رائے یہ ہے کہ یہ 'قتل عمد' ہے اور مختلف اسلامی ممالک کے قوانین یا فقہا کی آرا کا سہارا لے کر اس کو قتل عمد قرار نہ دینا درست رویہ نہیں۔

مجوزہ ترمیم میں غلط موقف

لیکن ترمیمی بل کے مسودہ نویسیوں نے بل مذکورہ کی دفعات ۳،۴ اور ۷ کی رُو سے موجودہ دفعاتِ تعزیرات ۳۰۰،۳۰۲ اور۳۰۸'ای' میں جو ترامیم کی ہیں، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ترامیم کے مرتبین یا تو قرآن کی تعلیمات سے قطعی طور پر ناواقف ہیں یا پھر انہیں احکامِ الٰہی کو تسلیم کرنے سے انکار ہے۔ کیونکہ انہوں نے ان ترامیم سے مقتول کے وارثوں کا قاتل کو معاف کردینے یا اس سے صلح اور راضی نامہ کرنے کا قرآنی حق بھی ختم کردیا ہے۔ حالانکہ قرآنِ حکیم کی اس آیت ِکریمہ میں صاف طور پر بتلایاگیا ہے :

﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا كُتِبَ عَلَيكُمُ القِصاصُ فِى القَتلَى ۖ الحُرُّ‌ بِالحُرِّ‌ وَالعَبدُ بِالعَبدِ وَالأُنثىٰ بِالأُنثىٰ...١٧٨﴾... سورة البقرة

"اے ایمان والو! تم پر (قانون) قصاص فرض کیا جاتا ہے۔ مقتولین (قتل عمد) کے عوض میں اور (یعنی ہر) آزاد آدمی (قتل کیا جائے ہر دوسرے )آزاد آدمی کے عوض میں اور (اسی طرح ہر )غلام (دوسرے ہر) غلام کے عوض میں اور (اسی طرح ہر) عورت (دوسری ہر) عورت کے عوض میں۔ گویا قاتلین بڑے درجہ کے اور مقتولین چھوٹے درجہ کے ہوں، تب بھی سب سے برابر قصاص لیا جائے گا ، یعنی قاتل کو سزا میں قتل کیا جائے گا۔ ہاں جس قاتل کو اس کے فریق مقدمہ کی طرف سے کچھ معافی ہوجائے (مگر پوری معاف نہ ہو) تو (اس کی وجہ سے وہ سزاے قتل سے تو بری ہوگیا) لیکن دیت یعنی خوں بہا کے طور پر ایک معین مقدار سے مال بذمہ قاتل ہوجائے گا۔ (قانون عفو و دیت) تمہارے پروردگار کی طرف سے سزا میں تخفیف اور رحمت ہے۔" (ترجمہ از معارف القرآن: ج۱/ ص۴۳۵)

مولانا مفتی محمد شفیع اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

"اگر قتل عمد میں قاتل کو پوری معافی دے دی جائے، مثلاً مقتول کے وارث صرف اس کے دو بیٹے ہوں اور ان دونوں نے اپنا حق (قصاص) معاف کردیا تو قاتل پر کوئی مطالبہ نہیں رہا۔ اگر پوری معافی نہ ہو مثلاً دو بیٹوں میں سے ایک نے معاف کیا، دوسرے نے معاف نہ کیا تو قاتل سزاے قصاص سے تو بری ہوگیا، لیکن معاف نہ کرنے والے کو نصف دیت (خون بہا) دلایا جائے گا۔" (معارف القرآن: ج۱/ ص۴۳۶،۴۳۷)

جس طرح ناتمام معافی پر مال واجب ہوجاتا ہے، اسی طرح باہم کسی قدر مال پر مصالحت ہوجائے تب بھی قصاص ساقط ہوکر مال واجب ہوجاتا ہے۔ (ایضاً)

اسی آیت کی تفسیر میں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی بیان کرتے ہیں:

"(معافی میں) بھائی کا لفظ فرماکر نہایت لطیف طریقے سے نرمی کی سفارش بھی کردی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تمہارے اور دوسرے شخص کے درمیان باپ مارے کا بیرہی سہی، مگر ہے تو وہ تمہارا انسانی بھائی لہٰذا اگر اپنے خطا کار بھائی کے مقابلے میں انتقام کے غصے کو پی جاوٴ تو یہ تمہاری انسانیت کے زیادہ شایان شان ہے۔

اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ اسلامی قانونِ تعزیرات میں قتل کا معاملہ قابل راضی نامہ ہے۔ مقتول کے وارثوں کو یہ حق پہنچتا ہے کہ قاتل کو معاف کردیں۔ اس صورت میں عدالت کے لئے یہ جائز نہیں کہ قاتل کی جان لینے پر ہی اصرار کرے۔البتہ جیسا کہ بعدکی آیت میں ارشاد ہوا، معافی کی صورت میں قاتل کو خون بہا اداکرنا ہوگا۔" (تفہیم القرآن:۱ /۱۳۸،۱۳۹)

سید قطب شہید اپنی تفسیر 'فی ظلال القرآن' میں اسی آیت کی تشریح میں لکھتے ہیں:

"اللہ تعالیٰ نے اس اہم ترین معاملے میں دیت کی گنجائش رکھ کر مسلمانوں پر تخفیف اور رحمت کی ہے۔ اس لئے اُنہیں توجہ دلائی گئی ہے کہ وہ اسے اللہ تعالیٰ کا احسانِ عظیم سمجھیں۔ یہ اُمت ِمسلمہ کے ساتھ ایک رعایت ہے جو محض اس لئے کی گئی ہے کہ اگر فریقین کے درمیان راضی نامہ ہوجائے اور دل ایک دوسرے سے صاف ہوجائیں تو اس صورت میں نہ صرف رنجشیں مٹ جائیں گی بلکہ ایک شخص کی زندگی بھی بچ جائے گی۔

قانونِ قصاص و دیت کے نظام سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کس قدر وسیع نقطہ نظر کا حامل ہے اور قانون سازی کے وقت نفس انسانی کے محرکات پر اس کی پوری نظر ہے۔" (تفسیر 'فی ظلال القرآن' مترجم: ج۱/ ص۳۴۶)

اب اس 'آیت ِعفو' کے بارے میں مولانا امین احسن اصلاحی جو متجددین کے امام سمجھے جاتے ہیں، کی تفسیر 'تدبر قرآن' بھی دیکھئے۔ لکھتے ہیں:

"قصاص کے معاملے میں مقتول کے اولیا (وارثوں) کی مرضی کو اسلام نے جو اہمیت دی ہے وہ مختلف پہلووٴں سے نہایت حکیمانہ ہے۔ قاتل کی جان پر مقتول کے وارثوں کو براہِ راست اختیار مل جانے سے ایک تو بہت بڑے زخم کے اندمال کی شکل پیدا ہوجاتی ہے اور دوسرے اگر اس صورت میں نرم رویہ اختیار کریں تو قاتل اور اس کے خاندان پر اس کا براہِ راست احسان ہوتا ہے جس سے نہایت مفید نتائج کی توقع کی جاسکتی ہے۔" ( ج۱/ ص۴۳۴)

اسی آیت کی تفسیر کرتے ہوئے ممتاز نومسلم سکالر علامہ محمد اسد لکھتے ہیں:

"The expression "if something is remitted to a quilty person may refer either to the establishment of the categories of culpable homicide or man slaughter in which case no capital punishment is to be exacted and retribution is to be made by the payment of indemnity called Diyal of the relatives to victim" (The Massage of the Aur'an, p. 36,37)

مذکورة الصدر آیت قرآنی کے الفاظ اتنے واضح اور غیر مبہم ہیں کہ عفو اور دیت کے بارے میں کسی شک و شبہ کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ مستند مفسرین اور قدیم و جدید علوم کے ماہرین نے قانونِ عفو اور صلح کے بارے میں اس آیت کی جوتشریحات کی ہیں، وہ قرآنِ حکیم کے منشا کے عین مطابق ہیں۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس آیت میں خطاب مسلمانوں سے کیا جارہا ہے اور انہیں بتلایا گیاہے کہ قتل کے بارے میں یہ تخفیف اور رعایت رسولِ رحمت کی اُمت کو دی گئی ہے جو ان کے لئے باعث ِرحمت ہے۔ لیکن یہ رعایت تورات میں بنی اسرائیل کو نہیں دی گئی تھی۔ غالباً ان کے ظلم اور شقاوت کی وجہ سے انہیں اس رعایت ِخاص سے محروم کردیا گیا تھا۔

اس فرمانِ خداوندی اور ان مراعاتِ خصوصی کے باوجود فوجداری ترمیمی ایکٹ سال ۲۰۰۴ کے ذریعہ موجودہ قانونِ قصاص و دیت میں جو ترامیم تجویز کی گئی ہیں، ہم یہاں ان کاتجزیہ پیش کریں گے جس سے آپ کو بخوبی اندازہ ہوگا کہ ان مرتبین نے اللہ کے قانون میں کس طرح ترمیم کی کوشش کی ہیں۔ جس سے ان کا مقصد اسلام کی بجائے مغربی تہذیب کورواج دینا ہے۔ یہ ذ ہنی غلامی، جسمانی غلامی کی ترقی یافتہ شکل ہے جو آدمی کو غلامی میں پختہ تر کردیتی ہے۔ اس سے یہ بھی اندازہ ہوگا کہ قتل غیرت کے نام پر دفعہ ۳۰۰ (تعزیراتِ پاکستان) میں وضاحتی شق داخل کرنے کے پس پردہ عزائم کیا ہیں؟

دفعہ ۳۰۰ تعزیراتِ پاکستان کی مذکورہ وضاحت کو بنیاد بنا کر دفعہ۳۰۰ 'اے' کا اضافہ تجویز کیاگیا ہے جوحسب ِذیل ہے :

دفعہ ۳۰۰ 'اے' تعزیراتِ پاکستان کے باب ۱۶ (جو اسلامی قانونِ قتل و قصاص اور دیت سے متعلق ہے) کے باوجود اور کسی بھی موجودہ نافذ العمل قانون کے باوصف تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ ۳۰۶ کی کلاز 'بی' اور 'سی' اور دفعہ ۳۰۷ کی کلاز 'بی' اور دفعہ ۳۱۰ اور ۳۱۱ کا اطلاق بھی دفعہ ۳۰۰ کی اضافہ شدہ وضاحت میں بیان کئے گئے قتل کی ان تمام صورتوں پر نہیں ہوگا جو قتل غیرت کے نام پر کئے جاتے ہیں۔ موجودہ دفعہ ۳۰۶ کو ہم فی الوقت موٴخر کرتے ہیں۔ اس سے پہلے ہم موجودہ دفعہ ۳۰۷کو لیتے ہیں جس میں کہا گیا ہے :

۳۰۷، بی:'ولی'(وارثِ مقتول) عدالت کی تسلی اور اطمینان پر بغیر کسی دباوٴ کے رضاکارانہ طور پر دفعہ ۳۰۹ اور دفعہ ۳۱۰ کے مطا بق اپنے مطالبہ قصاص سے دست بردار ہوسکتا ہے۔

۳۰۷، سی: جب قصاص کا حق مقتول کے ولی الدم (وارث) کی موت پر مجرم کو بطورِ'ولی' حاصل ہوجائے یاجس کو ولی کی موجودگی میں قصاص کا حق نہ ہو تو ایسا شخص بھی قصاص سے مستثنیٰ ہوگا۔

دفعہ۳۰۹ عفو (معافی) سے متعلق ہے۔ اس دفعہ کی رو سے عاقل اور بالغ ولی کو کسی وقت بھی بغیر کسی دیت اور معاوضہ کے قاتل کی جان بخشی کا حق حاصل ہے۔ اس دفعہ میں یہ وضاحت کردی گئی ہے کہ جب مقتول کا کوئی ولی وارث نہ ہو تو حکومت اس کی ولی بن جائے گی یا پھر جب ولی نابالغ اور فاتر العقل ہو تو ایسی صورت میں ان کو قصاص کا حق حاصل نہ ہوگا۔ وارثانِ مقتول میں سے کسی ایک کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ وہ قاتل کو معاف کردے۔ اگر دوسرے وارث معاف نہ کریں تو وہ خون بہا وصول کرنے کے حق دار ہوں گے۔ اس سلسلہ میں مزید تفصیلات بیان کردی گئی ہیں۔

دفعہ ۳۰۲ کی مجوزہ شق 'ڈی' کے اضافہ میں بتلایا گیا ہے کہ غیرت کے تمام قتل جو دفعہ ۳۰۰ کی وضاحت میں بیان کئے گئے ہیں، ان پر صرف قانونِ قصاص ہی لاگو ہوگا۔

دفعہ۳۱۰، صلح مابین فریقین: اس دفعہ کی رو سے عاقل بالغ ولی کسی وقت بھی قتل کے مجرم سے صلح کرسکتا ہے۔ اس کے معاوضہ میں بدلِ صلح وصول کرسکتا ہے۔ اس دفعہ میں بدلِ صلح اور دیت کی تمام شرائط درج ہیں۔

دفعہ۳۳۲ 'اے': اس دفعہ کی رو سے اگر کسی عورت کو غیرت کی وجہ سے اشتعال یا بغیر اشتعال کوئی ضرب لگ جائے تو یہ جرم بھی دفعہ ۳۳۷'این'کی شق 'سی' کی طرح قابل راضی نامہ ہے مگراضافہ شدہ دفعہ۳۳۷ 'اے' کی وجہ سے یہ جرم بھی ناقابل راضی نامہ بنا دیا گیا ہے جس کی رو سے مضروب عورت کو معافی یا راضی نامہ کا حق حاصل نہیں ہوگا۔

موجودہ دفعہ ۳۳۸، 'ای':اس دفعہ کی رو سے باب ۱۵ تعزیراتِ پاکستان اور دفعہ ۳۴۵ ضابطہ فوجداری کے تابع وہ تمام جرائم جن میں (اسلامی قانون کے مطابق معافی، صلح یا راضی نامہ ہوسکتا ہے) مضروب یا وارثانِ مقتول مجرم کو معاف کرسکتے ہیں یا فریقین صلح یا راضی نامہ کرنے کے مجاز ہیں لیکن مجوزہ ترمیمی بل کی دفعہ ۷کی رو سے دفعہ ۳۳۸ 'ای' میں اضافہ کرکے دفعہ ۳۰۰ تعزیرات کی توضیح کے مطابق قتل کی ان تمام صورتوں میں جو غیرت کی وجہ سے یاعزت وناموس کے نام پر کیے جاتے ہیں، ان سب کو ناقابل معافی اور ناقابل راضی نامہ بنا دیا گیا ہے۔ إِنَّا لله وَاِنَّا اِلَيْه رَاجِعُوْنَ

'تعزیرات' کو قرآن وسنت کی رہنمائی سے باہر کرنے کی کوشش

اس طرح یہ ترمیم حق تعالیٰ کی طرف عطا کئے ہوئے حق سے صریحاً انکار ہے۔ ان ترمیمات پر ہی مجوزہ بل کے مرتبین نے اکتفا نہیں کیا بلکہ قانونِ قصاص و دیت کے سلسلہ میں ایک ایسا اقدام کیا ہے جو دین اور آئین و قانون کی بنیادوں کو ہلا کررکھ دے گا۔ انہوں نے موجودہ دفعہ ۳۳۸ 'ایف'کو بھی اپنی ترمیم کا نشانہ بنایاہے۔ اس دفعہ کی رو سے عدالتوں کو تعزیراتِ پاکستان کے باب ۱۶ میں جرائم سے متعلقہ تمام دفعات کو قرآن اور سنت کی روشنی میں رہنمائی حاصل کرکے ان کی تعبیر اور تشریح کا حق حاصل تھا لیکن اس دفعہ ۳۳۸ 'ایف' کو انہوں نے سرے سے منسوخ کردیا ہے۔ اس طرح عدالتوں سے اسلام سے متعلق یہ حق بھی سلب کرلیا ہے۔

اُنہوں نے یہ کارنامہ اس غرض سے سرانجام دیا ہے کہ اس دفعہ۳۳۸ 'ایف' کی موجودگی میں عدالتیں قرآن اور سنت کے جائز قانون کو ناجائز اور قابل راضی نامہ جرائم کو ناقابل راضی نہیں بناسکتیں۔ شاید اُنہیں یہ یاد نہیں رہا کہ اگر اس دفعہ کوتعزیراتِ پاکستان سے نکال بھی دیا جائے اور اسے منسوخ بھی کردیا جائے تو پھر وہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آرٹیکلز ۲، ۲'اے'، ۳۱، ۲۲۷ اور ۲۰۳ 'ڈی' جوسارے دستور کو اپنی آ ہنی گرفت میں لئے ہوئے ہیں کو کہاں لے جائیں گے۔ آرٹیکل ۲کی رو سے ریاست کا سرکاری مذہب اسلام ہے۔آرٹیکل ۲ 'اے' کی رو سے ریاست اور حکومت مسلمانوں کو انفرادی اور اجتماعی زندگی میں قرآن وسنت پرعمل کرانے کی پابند ہے۔ آرٹیکل ۳۱ کی رو سے ہر مسلمان کو اسلامی طرزِحیات اختیار کرنا ہوگا۔ آرٹیکل ۲۰۳ 'ڈی'نے فیڈرل شریعت کورٹ کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ ہر اس قانون کو جو قرآن اور سنت کے خلاف ہو، کالعدم قرار دے۔ پھر آرٹیکل ۲۲۷سے بچ نکلنے کی کیا صورت ہوگی جس کی رو سے موجودہ تمام قوانین کو قرآن و سنت کے مطابق بنایا جائے گا اور کوئی قانون پاکستان میں قرآن و سنت کے خلاف نہیں بنایا جاسکتا۔

اس لئے تعزیراتِ پاکستان کے قانونِ قصاص ودیت میں ترمیمات کا یہ مجوزہ بل آئین کے اسلامی آرٹیکلز کے خلاف اقدامِ قتل سے کچھ کم نہیں۔ دراصل مجوزہ ترمیمی بل کے مرتبین قانونِ الٰہی کے بجائے اپنے خود ساختہ قوانین کو قوم پر مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ یہ حضرات نام نہاد پارلیمنٹ کے ذریعہ اسلامی حدود اور آئینی پابندیوں کو توڑتے ہوئے سیکولر نظامِ حکومت کی حاکمیت ِاعلیٰ کی مسند اقتدار تک پہنچنے کیلئے راہ ہموار کررہے ہیں لیکن مسلمانانِ پاکستان اور خود پارلیمنٹ کے اندر پیروانِ اسلام کی بھاری اکثریت ایسی اقلیتی کوششوں کو ناکام بنا دے گی۔

والد سے قصاص کا مسئلہ

دفعہ ۳۰۶ کی شق 'بی اور سی' کو ہم نے بوجوہ موٴخر کردیا تھا ۔ان شقوں کو ترمیمی بل میں دفعہ ۳۰۰ 'اے' کے ذریعہ ختم کیا جارہا ہے۔ موجودہ دفعہ ۳۰۶کی شق 'بی'میں کہا گیا ہے کہ اگر والد اپنی اولاد یعنی بیٹا، بیٹی ، پوتا، پوتی خواہ وہ کتنی ہی نیچے تک چلی جائے کے قتل کا مرتکب ہو تو قصاص کا حق ساقط ہوجائے گا۔ اسی طرح کلاز 'سی'میں کہا گیا ہے کہ مقتول باپ کے بیٹا، بیٹی، پوتا، پوتی خواہ وہ کتنے ہی نیچے درجہ کا ہو، اس سے قصاص نہیں لیاجائے گا۔ ان دونوں شقوں کو منسوخ کرنے کی تجویز، قرآنِ حکیم، حدیث ِرسولِ ﷺ ، فقہ اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کے خلاف ہے۔ قرآن میں مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے:﴿أَطِيْعُوْا اللهَ وَأَطِيْعُوْا الرَّسُوْلَ﴾ "احکامِ الٰہی اور احکامِ رسول ﷺ کی اطاعت کرو۔" ایسے ہی اولی الامر کی اطاعت بھی رسول ﷺ کے فیصلے کے تابع ہوگی۔

حضرت عمر بن خطاب سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

"باپ کو اس کے بیٹے کے قصاص میں قتل نہیں کیا جائے گا۔" (سنن ابن ماجہ؛۲۶۹۴)

مزید برآں جامع ترمذی اور سنن دارمی میں حضرت ابن عباس سے روایت ہے جس میں رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا: "مساجد میں حدود کا نفاذ نہ کیا جائے اور نہ ہی باپ سے بیٹے کا قصاص لیا جائے۔" حضرت عمر کے دورِ خلافت میں ایک شخص کو لایا گیا جس نے اپنے بیٹے کو قتل کردیاتھا تو آپ نے اس کے بارے میں فیصلہ کرتے ہوئے فرمایا:

"میں تجھ کو قتل کردیتا اگر میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا کہ باپ سے بیٹے کا قصاص نہ لیا جائے۔" (مسند احمد:۱/۲۲،۱۶، سنن بیہقی: ۸/۷۲، دار قطنی: ۳/۱۴۰)

شاہ ولی اللہ نے بھی حضرت عمر کے اس فیصلہ کا ذکر اپنی معروف کتاب إزالة الخفاء میں کیا ہے۔ اس دور کے عظیم محدث شیخ ناصرالدین البانی نے حضرت ابن عباس کی روایات کو حسن اور حضرت عمر کی روایت کو حدیث ِصحیح بتلایا ہے۔جسٹس عبد القادرہ عودہ لکھتے ہیں:

"قصاص کے امتناع کے عمومی اسباب میں سے پہلا یہ ہے کہ مقتول قاتل کا جز ہو ...

ایسے ہی ائمہ اربعہ کے نزدیک باپ بیٹے پر قتل سے کمترکسی بھی جرم کا ارتکا ب کرے تو اس سے قصاص نہیں لیا جائے گا۔" (اسلام کا فوجداری قانون: ۲/۳۹۵،۲۹۵ تا ۲۹۸)

یہاں ہم اپنے ایک اہم کیس کا فیصلہ جو سپریم کورٹ کے فل بنچ نے ہماری ریویو پٹیشن پر صادر کیا ، کا حوالہ دیں گے۔ یہ فیصلہ خلیل الزمان کیس کے نام سے 1993 SCMR2203 میں رپورٹ ہوا ہے جس میں اسی مسئلہ کے بارے میں حدیث اور فقہ کے حوالوں سے بحث کرتے ہوئے قرار دیا گیا ہے کہ باپ سے بیٹے کے قتل پر قصاص نہیں لیاجائے گا۔ فاضل عدالت ِعظمیٰ نے اسلامی قانون کے اس فیصلہ میں'کتاب الاختیار' اور 'بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع' کے حوالے دیے ہیں۔ شق'سی' میں کہا گیا ہے کہ اولاد اپنے باپ، دادا کی ولی (وارثِ مقتول) ہونے کے اُصول کی بنا پر قصاص سے مستثنیٰ ہوگی۔

معلوم ہوتا ہے کہ ترمیمی بل کے مرتبین کو ماں، باپ، بیٹا، بیٹی کے فطری پیار محبت اور شفقت کے رشتوں کا پوری طرح ادراک ہی نہیں۔ انہوں نے اسے سانپ اور سنپولیوں کا رشتہ سمجھ لیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ مادّہ سانپ اپنے بچوں کی پیدائش پر ہی حیوانی بھوک مٹانے کی خاطر خاصی تعداد میں اُن کو ہڑپ کرجاتی ہے۔ ماں باپ اور اولاد کو وہ شاید اسی طرح کی مخلوق سمجھتے ہیں۔ معلوم نہیں ہمارے دورِ جدیدکے ان خودساختہ فقیہانِ مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کو یہ استحقاق کہاں سے حاصل ہوگیا کہ وہ قرآن و سنت اور آئین پاکستان کے خلاف قانون سازی کریں۔ یہ دین و آئین اور اسلام کے خلاف بغاوت ہے۔ کتابِ زندہ قرآن حکیم کی موجودگی میں ایسی ترامیم اپنی موت آپ ہی مر جائیں گی۔

ان حضرات کو کیا یہ علم نہیں کہ بعض لوگ جائیداد بچانے کی خاطر اپنی خواتین کی شادی معاذ اللہ قرآن سے کرکے ان کو زندہ درگور کردیتے ہیں، اس بارے میں وہ کیوں قانون سازی نہیں کرتے؟ کیا انہیں یہ علم نہیں کہ بعض قتل غیرت ،کاروکاری، کالا کالی کے نام پر زمینوں اور جائیداد کے تنازعات کی دشمنیوں کی بنا پر ہوتے ہیں۔ یہ فساد فی الارض زمیندارانہ، جاگیردارانہ اور سرمایہ دارانہ نظام کی پیداوار ہے۔

یہ اس نظام کی ہلاکت خیزخرابیوں کو جڑ سے کاٹنے کے لئے قانون سازی کیوں نہیں کرتے؟ اس کی بجائے یہ اس درخت کی شاخوں کو کاٹنے پر آمادہ ہیں جس کی شاخوں پر یہ خود بیٹھے ہوئے ہیں۔ ان کے لئے ہمارا مخلصانہ مشورہ ہے کہ وہ اپنی عقل نارسا کو حکمت ِالٰہی کے تابع کردیں اور ان غیر اسلامی ترامیم سے دستبردار ہوکر دین و دنیا میں سرخرو ہوجائیں۔

آخر میں ایک غلط فہمی کا ازالہ اظہارِ حقیقت کے طور پر عرض ہے کہ قانون قصاص ودیت جنرل ضیاء الحق مرحوم کی معنوی اولاد(Brain child) نہیں ہے جیسا کہ عام طور پر کہاجارہا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ کئی مرتبہ توجہ دلانے کے باوجود جنرل موصوف وعدہ کرنے کے بعد بھی قصاص ودیت کے قانون کو اپنے ذاتی اور شخصی مفادات کی خاطر ملتوی کرتے رہے۔ اس لیے راقم الحروف نے ورلڈ ایسوسی ایشن آف مسلم جیورسٹس کی جانب سے گورنمنٹ آف پاکستان کے خلاف سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کی۔ ہمارے پینل میں ملک کے ممتاز اور معروف قانون دان راجہ ظفر الحق سابق وزیر قانون، جناب وہاب الخیری، ڈاکٹر ظفر علی راجا، چوہدری عبدالرحمن میاں شیر عالم سینئر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ کے علاوہ لاہورہائیکورٹ،کراچی ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ بار کے معزز اراکین شامل تھے۔معروف علما: مولانا عبد المالک، حافظ عبد الرحمن مدنی اور ڈاکٹر سرفراز نعیمی کی خصوصی معاونت ہمیں حاصل رہی۔سپریم کورٹ کے فل بنچ کے سربراہ جناب جسٹس محمد افضل ظلہ چیف جسٹس پاکستان تھے۔ جسٹس ڈاکٹر نسیم حسن شاہ، جسٹس شفیع الرحمن اور علما جج جسٹس پیر محمد کرم شاہ اور جسٹس محمد تقی عثمانی ان کے ہم نشیں تھے۔ حکومت کی جانب سے جناب یحییٰ بختیار اٹارنی جنرل پاکستان اور ان کی ٹیم پیش ہوئی۔ اس مقدمہ کی سماعت کئی ہفتوں تک جاری رہی۔سپریم کورٹ کے مطالبہ پر ہم نے اپنا مسودئہ قانون قصاص ودیت عدالت میں داخل کیا جو سپریم کورٹ کے ریکارڈ پر موجود ہے۔ اسلامی آئین وقانون کی کمیٹی جس میں ملک اور بیرونِ ملک کے ماہرین ِاسلامی قانون جن میں ڈاکٹر دوالیبی،جناب اے کے بروہی، جناب خالد اسحق اور معروف علما نے بھی اپنی سفارشات سپریم کورٹ کو پیش کر دیں جس پر سپریم کورٹ نے ۱۲/ربیع الاول (سال ۱۹۹۰ء) کو قانون قصاص ودیت کے موجودہ قانون کا اعلان کیا

نوٹ: اسی مضمون کا خلاصہ نوائے وقت (۲۹ اور ۳۰ اکتوبر) میں بھی ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔واضح رہے کہ اس مضمون میں پیش کردہ شرعی آرا مجلس التحقیق الاسلامی کے علمی تعاون سے پیش کی جارہی ہیں۔


 

نوٹ

قتل غیرت کے ’قتل بالارادہ‘ ہونے کے بارے میں تو کوئی شبہ نہیں ، البتہ اس پر قتل عمد کی سزا لاگو کرنا محل نظر ہے کیونکہ یہ ایک جرم کا رد عمل ہے۔ اگر قاتل وہ جرم(یعنی بدکاری کا وقوعہ)ثابت کردے تو اس کو قانون ہاتھ میں لینے کی سزا دی جائےگی اور اگر وہ ثابت نہ کر سکے تو اسے قصاصاً قتل کیا جائے گا۔ مزید برآں نبی کریمﷺ نے قتل غیرت سے منع کیا ہے، گویا آپ کے فرمان کے بعد یہ ایک جرم ہے ، لیکن آپ نے اس کی سزا قتل عمد کی سزا تو قرار نہیں دی، اس بارے میں عدل و انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنا ضروری ہے۔ادارہ