Mohaddis-284-Nov-Dec2004

میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

شرعى اور قانونى نقطہ نظر

پاكستان ميں غيرت كے جرائم كا مسئلہ پانچ برس قبل اپريل ١٩٩٩ء ميں، قومى پريس ميں اُس وقت نماياں ہوا تها جب سمیعہ عمران نامى پشاور كى ايك عورت نے اپنے شوہر كى غير موجودگى ميں گهر سے فرار ہوكر عاصمہ جہانگير كے ادارہ دستك ميں پناہ لى تهى جس كے نتيجے ميں اس عورت كو ماں باپ كے ہمراہ موجود باڈى گارڈ نے گوليوں سے دستك كے د فتر ميں قتل كرديا تها-اس كے بعد سے يہ مسئلہ پاكستانى ذرائع ابلاغ ميں اہم جگہ حاصل كرتا رہا ہے- ان سالوں كے دوران تواتر سے اس مسئلہ كے بارے ميں اين جى اوز نے ہر پلیٹ فارم پر پاكستانى قوانين كو تبديل كرنے اور ايسے مجرم كو سنگين سزا دينے كے مطالبے دهرائے ہيں، مختلف سيمينار اور مظاہرے بهى كئے جاچكے ہيں اور اخبارات اس پر عوامى سروے بهى كروا چكے ہيں-

بالخصوص ان دنوں حكومتى حلقوں ميں بهى ان كے مطالبوں كو وزن حاصل ہوگيا ہے اور يہ مسئلہ قومى اسمبلى ميں زير بحث بهى آچكا ہے كيونكہ دو بل اس كى حمايت ميں پيش كئے گئے تهے- ٨/اكتوبر كے اخبارات ميں يہ خبر نماياں طور پر شائع ہوئى كہ قومى اسمبلى كى قائمہ كميٹى نے قتل غيرت كے متعلق قانون سازى كى حمايت كرتے ہوئے ترمیمى تجاويز پاس كر كے قومى اسمبلى ميں بحث كے ليے پيش كر دى ہيں-٢٧/اكتوبر كے اخبارات ميں يہ خبر شائع ہوئى كہ حكومت نے معمول كى كاروائى سے ہٹ كر اس بل پر بحث شروع كرائى اور چند گهنٹوں ميں اسے منظور كرا ليا-اب يہ بل سينٹ ميں پيش ہونے والا ہے- اسلئے ضرورى ہے كہ قانونى وشرعى نكتہ نظر سے اس كا تفصيلاً جائزہ ليا جائے- اس بارے ميں ہمارے ہاں مختلف قسم كى آرا پائى جاتى ہيں :

اين جى اوز كاموقف

غيرت كے نام پر ہونے والے قتل كے بارے ميں مغرب زدہ اين جى اوز كا مطالبہ يہ ہے كہ اس كو سنگين ترين جرم قرار ديا جائے اور اس كى سزا ميں كوئى رعايت نہيں ہونى چاہئے- جسٹس (ر) ناصر اسلم زاہد كى سربراہى ميں قائم كردہ 'خواتين حقوق كميشن' نے اگست ١٩٩٧ء ميں پيش كردہ اپنى سفارشات ميں قرار ديا :

"غيرت كے مسئلہ پر قاتلانہ واردات كو قانون كے مطابق قتل عمد قرار ديا جائے اور اس كے لئے مناسب قانون سازى كى جائے-" (رپورٹ، باب نمبر ٦)

 پيپلز پارٹى كى ايم اين اے شيرى رحمن نے قومى اسمبلى ميں' خواتين كا تحفظ اور ان كو طاقتور بنانے كا بل ٢٠٠٣ء' پيش كرتے ہوئے يہى مطالبہ دہرايا اور اس پر مزيد اضافہ كياكہ ايسے مجرم كو سزاے موت دى جائے- اسى طرح پيپلزپارٹى كى ٨ خواتين اراكين اسمبلى كے قومى اسمبلى ميں پيش كردہ حاليہ بل ميں بهى يہى مطالبہ دهرايا گيا ہے اور غيرت كے نام پر ہونے والے تمام جرائم كو عام تعزيرات تصور كرنے اور ان كى سنگين سزا دينے كى سفارش كى گئى ہے-

 حكومت يعنى وزارتِ قانون كى طرف سے ايك مسودہ برائے آئينى ترميم بهى اِنہى دنوں عدالت ميں پيش كيا گيا ہے جس ميں جرائم غيرت كو وسيع كرتے ہوئے قتل غيرت، كاروكارى اور سياہ كارى جيسى رسوم كو اس ميں شامل كرنے كا مطالبہ كيا گيا ہے- ايسے ہى غيرت كے جرائم كو زيادہ سے زيادہ سزا دينے اور ديگر مجرموں كو حاصل رعايت سے الگ قرار دينے كى سفارش بهى اس ميں شامل ہے- اس قانون ميں ايسى ترميم بهى تجويز كى گئى ہے جس كى رو سے غيرت كے متعلقہ جرائم ميں معافى اور صلح كى سہولت ميں فريقين كا اختيار ختم ہوجائے گا-

مذكورہ بالا موقف كاحاصل يہ ہے كہ غيرت كے نام پر كيے جانے والے قتل كو عمومى وارداتِ قتل سے بهى زيادہ سنگين جرم تصور كيا جائے اور ايسے مجرم كو زيادہ سے زيادہ سزا دى جائے-

دوسراموقف

اس سلسلے ميں ايك مبہم موقف مسٹرجاويد احمد غامدى كے ادارئہ اشراق كا ہے- اشراق كے مقالہ نگار جناب طالب محسن اپنے مضمون 'غيرت كا قتل' ميں لكھتے ہيں:

"ہمارے ہاں سياسى نظام پر عدمِ اطمينان كى صورت بہت عام ہوتى جارہى ہے اور ہم نظام سے بالا بالا اپنے معاملات كو مرضى سے انجام دينے لگ جاتے ہيں، اسلام نے اس روش كو انتہائى ناپسند كيا ہے-فرمانِ نبوى ہے:

«من خرج من السلطان شبرًا مات ميتة جاهلية»(بخارى:٦٥٣٠)

"جو نظامِ حكومت سے بالشت بهر نكلا، وہ جاہليت كى موت مرا-"

اسلام كے دشمنوں كو ذاتى سطح پر نشانہ بنانا اور غيرت ميں آكر قتل كرنا نظامِ اجتماعى سے انحراف كى مثاليں ہيں اور نبى كريم كے نزديك عدمِ ايمان كا مظہر بهى-

مياں بيوى كے رشتے ميں جب ايسى صورت پيش آئے تو اسلامى قانون ميں ان كے ليے يہ رستہ ركها گياہے كہ وہ لعان كا طريقہ اختيار كريں- شادى ايك معاہدہ ہے اور اس معاہدے كى خلاف ورزى كى اس كے علاوہ كوئى سزا نہيں ہو سكتى كہ يہ معاہدہ توڑ ديا جائے اور يہ حق صرف مرد كو نہيں،عورت كو بهى حاصل ہے-" ( ملخصاً از 'اشراق' اگست ٢٠٠٤ء:ص٤٠،٤١)

 اسى حلقے سے قريبى تعلق ركهنے والے جناب مقبول الرحيم مفتى لكھتے ہيں:

"جس اللہ نے يہ قانون نازل كيا اور جس رسول پر يہ نازل ہوا وہ غيرت اور اس كے جملہ تصورات سے ناواقف نہيں ہيں- وہ غيرت كے علمبرداروں سے زيادہ غيرت مند ہيں، ليكن غيرت كا يہ مطلب نہيں كہ ہر شخص جذبات ميں آكر قانون كو اپنے ہاتھ ميں لے لے اور بلاتحقيق انسانى جانوں كے ضائع كرنے كو اپنا حق سمجھنے لگے-" ('قتل غيرت اور اسلامى تعليمات' : روزنامہ 'انصاف' لاہور بابت ١٨،١٩ جولائى ٢٠٠٠ء دو اقساط )

تيسرا موقف

 اسى سے ملتا جلتا اُدہورا موقف پروفيسر مسز ثريا علوى نے اختيار كيا ہے ، ان كى نظر ميں "قتل غيرت بہرحال قتل عمد ہى ہے اور ان كے الفاظ ميں بيوى كى بدچلنى ديكھ كر مرد خود كارروائى نہ كرے بلكہ معاملہ عدالت تك لائے اور اگر خود قتل ہى كردے تو اس جرم كا ثبوت اسے عدالت كو مہياكرنا پڑے گا، جہاں بيوى كے جرمِ زنا كى صورت ميں اللہ تعالىٰ نے شوہر كو لعان كا قانون عطا فرماياہے، اس صورت كو اختيار كيا جائے-

قتل غيرت بہر حال قتل عمد ہے-كہنے والا اعتراض كر سكتا ہے كہ اس طرح تو آپ NGO's كے مطالبے كو ہى تقويت دے رہى ہيں-مگر سوچنے كى بات يہ ہے كہ وہ قتل غيرت كو قتل عمد قرار دينے كا مطالبہ اس ليے كرتى ہيں تا كہ معاشرہ سيكس فرى بن جائے اور اباحيت پسندى كو فروغ حاصل ہو جب كہ ہمارا مقصد اسلامى تعليمات كو روشناس كرانا ہے ...

افسوس كہ علما بهى آج سے اسى رسم ورواج كے محافظ بنے بیٹھے ہيں-" (كتاب 'جديد تحريك ِنسواں اور اسلام ': ص٤٦٢،٤٦٥،٤٧٥)

اس موضوع پر مذكورہ تينوں موقف ناقص اور مبہم ہيں- پہلے موقف ميں جرائم غيرت كو عام جرائم سے زيادہ سنگين سزا دينے كے مطالبے كى كوئى بنياد نہيں، نيز اس كى سزا كو قتل عمد كى سزا سے بهى سنگين قرار دينا بلاوجہ ہے- اس پر تنقيد كرتے ہوئے محمد عطاء اللہ صديقى لكھتے ہيں :

"١٩٩٩ء ميں عالمى سطح پر غيرت كے نام پر قتل كے خلاف تحريك چلائى گئى-غيرت كے نام پر قتل كالائسنس اسلام بهى نہيں ديتا مگر جس طرح اين جى اوز نے اس كے خلاف جارحانہ پروپيگنڈہ شروع كرركها ہے، اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے كہ ان كا اصل مقصود پاكستانى معاشرے سے غيرت كا جنازہ نكالنا ہے، نہ كہ 'غيرت كے قتل' كے خلاف احتجاج كرنا-

وہ 'غيرت كے نام پر قتل' كے خلاف احتجاج نہيں كرتيں بلكہ خود 'غيرت كا قتل' ان كا مطلوب ومقصود ہے- يہاں يہ نشاندہى بهى دلچسپى سے خالى نہ ہو گى كہ انسانى حقوق كے علمبردار كسى بهى جرم كے لئے موت كى سزا كى تو مخالفت كرتے ہيں مگر غير ت كے قتل كے مجرم كے لئے پاكستان كى مغرب زدہ بيگمات عبرتناك سزاے موت كا مطالبہ تواتر سے كررہى ہيں-"

(' تحريك ِنسواں؛ نظريات و اثرات' ماہنامہ 'محدث' لاہور بابت اپريل ٢٠٠٠ء: ص٦٤)

جہاں تك قتل غيرت كے سلسلے ميں دوسرے موقف كا تعلق ہے تو اس ميں غيرت و حمیت اور فورى اشتعال كے جذبات كو ملحوظ نہيں ركها گيا اور ايسے شخص كو جس كى عزت سربازار رسوا كى گئى ہے،عام مجرم سے كوئى رعايت نہيں دى گئى- دوسرى طرف يہاں ايك مرتكب ِزنا مجرم كو وہى اعزاز عطا كرنے كى كوشش كى گئى ہے جو صرف ايك معصوم مقتول كا حق ہے-

آئيے اس اہم معاشرتى مسئلہ پر قرآن وسنت اورفقہا اسلام كانكتہ نظر ديكهتے ہيں :

اسلام غيرت كے نام پر قتل كى اجازت نہيں ديتا !

سب سے پہلے يہ امر واضح رہناچاہئے كہ اسلام ميں ايسے قتل كى نہ كوئى اجازت ہے اور نہ ترغیب بلكہ اسلام اپنے ماننے والوں سے نظم و ضبط كى پابندى اور اپنے آپ كو قابو ميں ركهنے كا تقاضا كرتا ہے- دورِ نبوى كے اسلامى معاشرے ميں بهى اس نوعیت كے بعض مسائل پيش آئے جن كے بارے ميں پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ نے ہمارى واضح رہنمائى فرمائى-

دورِ نبوى ميں اس نوعيت كے تين مختلف واقعات كا تذكرہ ملتا ہے :

(1) حضرت ابن عباس روايت كرتے ہيں كہ ہلال بن اُميہ نے نبى كريم ﷺ كے پاس جاكر شریك بن سحماء كے ساتھ اپنى بيوى كے ملوث ہونے كا الزام لگايا- نبى نے اس سے كہا: گواہ لاوٴ، ورنہ تم پر حد لگے گى- اس نے كہا: يارسول اللہ ﷺ! ہم ميں سے كوئى آدمى اپنى بيوى كے ساتھ كسى غير شخص كو ديكھ لے تو كيا وہ گواہ تلاش كرتا پهرے- نبى كريم ﷺ نے فرمايا :

گواہ لاوٴ، وگرنہ تمہارى پیٹھ پر حد لگے گى تو ہلال نے كہا: اس ذات كى قسم! جس نے آپ ﷺ كو حق دے كر بهيجاہے، ميں سچ كہہ رہا ہوں، اس لئے ميرى پیٹھ كو حد سے بچانے كے لئے اللہ تعالىٰ ضرور كوئى حكم اتارے گا تو جبريل علیہ السلام آپ پر يہ آيات لے كرنازل ہوئے :

﴿وَالَّذينَ يَر‌مونَ أَزو‌ٰجَهُم وَلَم يَكُن لَهُم شُهَداءُ إِلّا أَنفُسُهُم فَشَهـٰدَةُ أَحَدِهِم أَر‌بَعُ شَهـٰد‌ٰتٍ بِاللَّهِ ۙ إِنَّهُ لَمِنَ الصّـٰدِقينَ ﴿٦﴾ وَالخـٰمِسَةُ أَنَّ لَعنَتَ اللَّهِ عَلَيهِ إِن كانَ مِنَ الكـٰذِبينَ ٧ وَيَدرَ‌ؤُا عَنهَا العَذابَ أَن تَشهَدَ أَر‌بَعَ شَهـٰد‌ٰتٍ بِاللَّهِ ۙ إِنَّهُ لَمِنَ الكـٰذِبينَ ٨ وَالخـٰمِسَةَ أَنَّ غَضَبَ اللَّهِ عَلَيها إِن كانَ مِنَ الصّـٰدِقينَ ٩﴾... سورة النور

"جو لوگ اپنى بيويوں پر بدكارى كى تہمت لگائيں اور ان كا كوئى گواہ بجز ان كى ذات كے نہ ہو تو ايسے لوگوں ميں سے ہر ايك كا ثبوت يہ ہے كہ چار مرتبہ اللہ تعالىٰ كى قسم كہا كر كہيں كہ وہ سچوں ميں سے ہيں اور پانچويں مرتبہ كہ اس پر اللہ كى لعنت ہو ،اگر وه جهوٹوں ميں سے ہے اور اس عورت سے سزا اس طرح دور ہوسكتى ہے كہ وہ چار مرتبہ اللہ كى قسم كہاكر كہے كہ يقینا اس كا خاوند جهوٹ بولنے والوں ميں سے ہے اور پانچويں دفعہ كہے كہ اس پر اللہ كى لعنت ہو اگر اس كا خاوند سچوں ميں سے ہے-" (صحيح بخارى : ٤٧٤٧)

آگے حديث ميں اس واقعہ كى تفصیل ہے كہ نبى كريم نے ان كے مابين لعان كروايا - يا د رہے كہ ہلال لعان كرنے والے اسلام ميں سب سے پہلے شخص ہيں- (صحيح مسلم:٣٧٤٦)

(2) سہل بن سعد سے مروى ہے كہ بنو عجلان كے سردار عويمر عجلانى عاصم بن عدى كے پاس آئے اور ان سے پوچها: اس آدمى كے بارے ميں تمہارى كيا رائے ہے جو اپنى بيوى كے ساتھ كسى مرد كو پائے، كيا وہ اس آدمى كوقتل كردے توجواباً اُسے بهى قتل ہونا پڑے گايا پهر وہ كيا كرے؟ ميرے لئے نبى ﷺ سے يہ مسئلہ پوچهو- عاصم نے نبى كريم سے جب يہ مسئلہ پوچها تو رسول اللہ ﷺ نے اس سوال كو ناپسند كيا ، گويا معيوب سمجھا -

عويمر نے كہا: اللہ كى قسم! ميں اس وقت تك نہيں ركوں گا جب تك رسول اللہ ﷺ سے اس بارے ميں خود نہ پوچھ لوں- پهر عويمر آئے اور انہوں نے بهى نبى كريم سے دريافت كيا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمايا: اللہ تعالىٰ نے تمہارے گهر كے معاملہ ميں قرآن نازل كرديا ہے- پهر نبى كريم نے سورئہ نور كى آيات (٦ تا٩) تلاوت كيں- آگے حديث ميں لعان كروانے كا تذكرہ ہے- (صحيح بخارى:٤٧٤٥)

(3) اس سلسلے ميں سب سے اہم واقعہ حضرت سعد بن عبادہ كا ہے- انصارى سردار حضرت سعد بہت زياده غيور تهے- اوران كى غيرت حد سے بڑهى ہوئى تهى- كہاجاتا ہے كہ

"اُنہوں نے كنوارى عورت كے سوا نكاح نہ كيا اور نہ ان كى طلاق يافتہ عورت سے بعد ميں كسى نے نكاح كرنے كى جرأت كى-" (مصنف عبدالرزاق؛ ١٧٩١٧)

پہلے اس مكالمہ كى روايت حضرت ابو ہريرہ كى زبانى سنئے، يہ تين روايات ہيں:

(i) حضرت سعد بن عبادہ نے نبى كريم ﷺ سے پوچها: يارسول اللہ! اگر كوئى شخص اپنى بيوى كے ساتھ غيرمرد كو رنگے ہاتهوں پكڑلے تو كيا وه اس كو قتل كرسكتا ہے؟ نبى كريم ﷺ نے جواب ديا: 'نہيں' (صحيح مسلم:٣٧٦١)

( (ii اگلى حديث ميں ہے كہ "يارسول اللہ ﷺ! كيا پهر اس (مجرم) شخص كو اتنى مہلت دے كہ چار گواہ لے كر آئے؟ تو نبى كريم ﷺ نے فرمايا: 'ہاں' (صحيح مسلم: ٣٧٦٢)

پهر حضرت سعد نے اپنے حوالے سے پوچها :

( (iii يارسول اللہ ﷺ! اگرميں اپنى بيوى كے ساتھ كسى آدمى كو ديكھ لوں تو كيا چار گواہ لانے سے قبل ميں اس كو كچھ نہيں كہہ سكتا؟ نبى كريم ﷺ نے كہا: بالكل كچھ نہيں- تو سعد كہنے لگے: ميں تو اس سے پہلے پہلے تلوار سے اس كا فيصلہ كردوں گا تو نبى كريم ﷺ نے فرمايا:

«اسمعوا إلى ما يقول سيدكم،إنه لغيور وأنا أغير منه والله أغير مني»

"سنوسنو، اپنے سردار كى بات سنو! يہ بہت غيرت مند شخص ہے حالانكہ ميں اس سے زيادہ غيرت والا ہوں اوراللہ تعالىٰ مجھ سے زيادہ غيرت مند ہيں-" (صحيح مسلم:٣٧٦٣)

( (iv ابوہريرہ كے علاوہ مغيره بن شعبہ بهى يہ واقعہ بيان كرتے ہيں كہ سعد بن عبادہ نے كہا: اگر ميں كسى شخص كو اپنى بيوى كے ساتھ ديكھ لوں تو ميں كسى رعايت كے بغير تلوار سے اس كا كام تمام كردوں گا- يہ بات نبى كريم ﷺ تك بهى پہنچى تو آپ نے فرمايا:

« أتعجبون من غيرة سعد؟ فوالله! لأنا أغير منه والله أغير مني من أجل غيرة الله حرم الفواحش ماظهر منها وما بطن ولا شخص أغير من الله»

"كيا تم سعد كى غيرت پر تعجب كرتے ہو، اللہ كى قسم! ميں اس سے زيادہ غيرت ركهتا ہوں اور اللہ تعالىٰ مجھ سے بهى زياده غيرت مند ہيں- اسى غيرت كى وجہ سے اللہ تعالىٰ نے ظاہر اور مخفى گناہ حرام قرار ديے ہيں اور اللہ سے زيادہ كوئى غيرت مند نہيں ہے- اسى طرح اللہ تعالىٰ سے زيادہ كوئى عذر قبول كرنے والا نہيں ہے... الخ " (صحيح مسلم:٣٧٦٤ و بخارى:٧٤١٦)

نبى كريم ﷺ كے ان فرامين سے بخوبى يہ پتہ چلتا ہے كہ اسلام ميں غيرت كے نام پر قتل كى كوئى اجازت نہيں ہے بلكہ گواہ لانے كى تلقین پائى جاتى ہے اور يہ بات نبى كريم ﷺ كے اپنے الفاظ 'لا' اور'نعم' كى صورت ميں دو ٹوك موجود ہے- البتہ دوسرى طرف اسلام ميں غيرت كو نہ صرف قابل تحسين وصف قرار ديا گيا ہے بلكہ اس ميں شدت كو بهى پسند كيا گيا ہے اور اللہ تعالىٰ نے اسے اپنى صفت قرار ديا ہے- نبى كريم كا فرمانِ ہے:

«يا أمة محمد والله ما من أحد أغير من الله أن يزني عبده أو تزني أمته»

"اے امت ِمحمد يہ! اللہ كى قسم جب اللہ كا كوئى بندہ يا بندى زنا كا ارتكاب كرتے ہيں تو اس مكروہ فعل پراللہ سے زيادہ كسى كو غيرت نہيں آتى-" (صحيح بخارى: ١٠٤٤)

كوئى شخص اپنى عزت و غيرت كے بارے ميں بے پرواہ ہو، ايسا تصور اسلامى معاشرے ميں ناپيد ہے بلكہ بقول حافظ ابن حجر "غيرت' انسانى فطرت ميں شامل ہے اور جو شخص غيرت نہيں ركهتا گويا وہ بدفطرت ہے-" (فتح البارى: ٩/٣٣٠)

الغرض غيرت كا تصور مذاہب اور معاشرتى اقدار سے بالاتر ايك انسانى جذبہ ہے، جس كى مثاليں اسلام كے علاوہ مغربى معاشروں ميں بهى عام ملتى ہيں- تاہم اسلام كى ہدايت و تلقین يہى ہے كہ اپنے ماننے والوں ميں نظم و ضبط پيدا كرے اور اُنہيں قانون كو ہاتھ ميں لينے سے روكے ركهے-جہاں تك نبى كريم كے غيرت وحميت كے جذبات ميں آكر قتل كرنے سے روك دينے كى حكمت كا تعلق ہے تو اس كى وضاحت ايك حديث ميں آئى ہے كہ ايك دفعہ نبى كريم قتل غيرت كے بارے ميں نرم رويہ كا اظہار كرتے كرتے رك گئے اورآپ نے فرمايا:

«كفى بالسيف 'شا'» يريد أن يقول 'شاهدا' فلم يتم الكلمة حتى قال «إذًا يتتابع فيه السكران والغيران»(كنز العمال: ١٣٦١٣)

"تلوار ہى بطورِ'گوا' كافى ہے آپ شاہدكہنا چاہتے تهے (یعنى دونوں برا كام كرتے ہوئے مارے گئے تو ان كا موقعہ پر مارا جانا ہى ان كے جرم كى شہادت ہے) ليكن آپ نے يہ كلمہ پورا نہيں كيا اور فرمايا: يوں تو مدہوش اور زيادہ غيرت مند اس كو معمول ہى بنا ليں گے- " (يعنى يوں تو كشت وخون كا دروازہ كهل جائے گا)

پاكستانى معاشرے ميں قتل غيرت كا پس منظر

پاكستان كے قبائلى علاقہ جات، بالخصوص سندھ اور جنوبى پنجاب كے بعض علاقوں ميں اس نوعیت كے قتل كے واقعات بكثرت ہوتے ہيں اورجب سے عدالتوں نے نكاح كے بارے ميں خاندان كى رائے كونظر انداز كركے صرف لڑكا لڑكى كے بيان كى بنياد پر نكاح كا فيصلہ كرنا شروع كرديا ہے ، عام پاكستانى معاشرے ميں بهى اس نوعيت كے واقعات ميں اضافہ ہوگيا ہے-

قبائلى علاقوں ميں اس نوعیت كے قتل كے فيصلے جرگے يا پنجايتوں كے ذريعے ہوتے ہيں اور اس ميں ظلم كى بہت سى ايسى صورتيں پائى جاتى ہيں كہ بسا اوقات مردوں كے جرم كو نظر انداز كر كے عورتوں كو ايسى ثانوى حيثيت دى جاتى ہے جو اسلامى احكام سے میل نہيں كهاتى- يہ پنچايتى فيصلے كارو كارى يا كالا كالى وغيرہ مقامى رسومات كہلاتى ہيں جنہيں مغرب زدہ اين جى اوز پاكستان كو بدنام كرنے كے لئے بڑها چڑها كر بيان كرتى ہيں-

اس بحث سے كارو كارى يا قبائلى علاقہ جات كى كسى رسم كى حمايت مقصود نہيں،كيونكہ ان كے فيصلے بهى افراط وتفريط اور ظلم پر مبنى ہوتے ہيں ، ما سوا اس پہلو كے كہ ان كے يہاں عزت كے تحفظ كا تصور شدت سے پايا جاتا ہے، ليكن مناسب يہ تها كہ وہ اس كى روك تهام اسلامى شریعت كے مطابق كرتے نہ كہ اپنى سمجھ بوجہ كے مطابق جرم كا علاج زيادتى سے كيا جائے- البتہ اس سخت رويہ كا يہ نتيجہ ضرورہے كہ ايسى سزاؤں كے نتيجے ميں وہاں عصمت درى كے واقعات عام معاشروں سے كم ہيں اورجس تہذيب وتمد ن كے چمپئن مغرب وامريكہ بنے پهرتے ہيں، اس تہذيب ميں بغير نكاح كے جنسى تعلقات نہ صرف يہ كہ معمول كا كام ہے بلكہ مرد وزن كى رضامندى كى صورت ميں اسے جرم ہى نہيں سمجها جاتا-

غيرت كے نام پر قتل كا مسئلہ اور شريعت ِاسلاميہ كے رجحانات

مذكورہ بالا احاديث سے بظاہر تو يہى معلوم ہوتا ہے كہ اسلام ميں غيرت كے قتل كى اجازت نہيں، البتہ ائمہ محدثين اور فقہا كرام نے نبى كريم اور دورِ صحابہ ميں پيش آنے والے واقعات كى روشنى ميں ان احاديث كے مقصد ومدعا ميں اختلاف كياہے-ايسے ہى نبى كے فرمان كے ظاہر ى حكم كى بنا پر اگر اس كو جرم تصور كيا جائے تو پهريہ سوال باقى رہتا ہے كہ اس جرم كى نوعیت كيا ہے؟كيا قتل غيرت كرنے والے كو قتل كا مجرم سمجھا جائے يا قانون كو ہاتھ ميں لينے كا؟كيونكہ نبى كريم نے اس فعل سے روكا تو ہے ليكن اس پر سزاے قتل لاگو نہيں كى گويا آپ كے منع كرنے كے بعد يہ ايك جرم ہے- جرم كے تعین كے بعد اس كى سزاكى نوعیت كا مسئلہ بهى اہم ہے- چنانچہ اس مسئلہ كے ساتھ اسلامى شریعت كے ديگر تصورات اور قرآن وحديث كے احكامات كوملاكر ديكها جائے تو اس بارے ميں چار قسم كے رجحانات ملتے ہيں :

(1) بعض اہل علم قتل غيرت كو تو فرمانِ نبوى كى بنا پر جرم سمجهتے ہيں ليكن دورانِ بدكارى اس فعل كو ناممكن بنانے كى كوشش كرنا خصوصاً مياں بيوى كے لئے اورعموما تمام لوگوں كے لئے ضرورى سمجهتے ہيں- ان كا يہ موقف اپنى ذات كے دفاع يا نہى عن المنكر كے اسلامى تصور كى بنا پر ہے- ان كا كہنا ہے كہ ايسا قتل بذاتِ خود ہى جرم نہيں بلكہ در اصل ايك سنگين جرم كا ردّ عمل ہے اور قرآنِ كريم كا حكم ہے كہ "تم پر جو زيادتى كرے تو اس كى زيادتى كا ويسے ہى اسے جواب دو-" اور اس سلسلے ميں حكومت سے مدد لينے كو بهى ضرورى قرار نہيں ديا گيا-

(2) اگر چہ دورانِ فعل بدكارى ميں شريك مردوزن كونہ روكنے كا موقف كسى اہل علم نے نہيں اپنايا، اس كے باوجود اگر نبى كريم كے فرمان كا يہى تقاضا فرض كر ليا جائے تو ايسى صورت ميں اس جرم كى سزا كے بارے ميں تفصیل ہے-گويا ايسا كرنا تو نہيں چاہئے اور حكومت سے ايسے مجرمين كو سزا دلوانا چاہئے ليكن اگر كوئى غيرت وحمیت ميں قتل كردے تواس كو كيا سزا دى جائے؟ يہى سوال تب بهى پيدا ہوتا ہے جب ايك قاتل وقوعہ بدكارى كے بعد مرتكبین زنا كو قتل كردے- فقہا كا متفقہ موقف يہ ہے كہ قاتل اگر شادى شدہ مقتولين كا بدكارى ميں ملوث ہونا ثابت كردے تو ايسى صورت ميں اس كو قانون كو ہاتھ ميں لينے كى سزا دى جائے گى، نہ كہ قتل كى- اس كى وجہ يہ ہے كہ اس نے جس كو قتل كيا، وہ اسلامى قانون كى نظر ميں بهى قابل گردن زدنى ہى تها- ايسے ہى زنا كى صورت ميں اس كے حق ميں دست درازى ہوئى تهى اور قصاص لينا دراصل اُسى قاتل كا حق تها، جس كے لئے اسے عدالت سے ہى مدد لينا چاہئے تهى-

(3) اس سلسلے ميں تيسرا موقف حنابلہ كا ہے جس ميں علامہ ابن تیمیہ او رابن قیم بهى شامل ہيں- ان كى نظر ميں يہاں مسئلہ قاتل كو حملہ آور سے دفاع كا مسئلہ درپيش نہيں بلكہ كسى مسلمان كى عزت ميں دخل اندازى كرنے والے كى سزا ہى يہ ہے كہ اسے قتل كيا جائے-اس موقف كے شريعت سے اور بهى بہت سے دلائل ہيں جو آگے تفصيل سے آرہے ہيں-

(4)جديد قانونى تصور كى رو سے ايسا قتل جواشتعال كى حالت ميں بے قابو ہوتے ہوئے سرزد ہو جائے تو اس كو ارادتاً قتل كى بجائے قتل خطا سمجھا جائے كيونكہ اس ميں قاتل كا عزم شامل نہيں تها- يہى قانون اس وقت متعدد اسلامى ممالك بشمول پاكستان ميں نافذالعمل ہے اور امريكہ ويورپ ميں فورى اشتعال كے مجرموں كوخصوصى رعايت دى جاتى ہے جس پر اسلامى ممالك او ريورپى عدالتوں كے كئى فيصلے شاہد ہيں-

آئندہ صفحات ميں ان چاروں موقفوں كے دلائل اور تصورات كو بالتفصیل زير بحث لايا جائے گا- پہلے اور تيسرے موقف والوں كے يہ نكتہ نظر اپنانے كى وجہ نبى كريم كى سابقہ احاديث كے مفہوم ميں اختلاف ہونا ہے-البتہ دوسرا موقف بهى جرم وسزا كے حوالے سے انصاف كے تقاضوں كے عين مطابق ہے-ان چاروں موقفوں ميں يہ امر مشترك ہے كہ سب وقوعہ بدكارى كے ثبوت كو بنيادى اہميت ديتے ہيں، اور اسى صورت ميں قتل كو بدكارى كا رد عمل سمجھ كر قاتل كو رعايت ديتے ہيں-

يہاں يہ امر بهى قابل توجہ ہے كہ كسى لفظ كا عام مطلب اس كے مخصوص اصطلاحى مفہوم سے جدا ہوتا ہے- قتل عمد جرم وسزا كى ايك اصطلاح ہے ليكن ہمارے پيش نظر مسئلہ ميں اكثر لوگوں نے اس لفظ كے درست استعمال اور مفہوم ميں غلطى كهائى ہے-جس طرح ہرگواہ كو گواہ ہى كہا جاتا ہے چاہے وہ سچا ہو يا جهوٹا، اس طرح ارادے سے كيا جانے والا ہر قتل امر واقعہ كے اعتبار سے تو قتل عمد ہى ہے، ان ميں جنگ ميں مقابل كو قتل كرنا اور قاضى كے حكم پر مجرم كوقتل كرنا بهى شامل ہے ليكن اگر اس كو سزا كے اعتبا رسے ديكها جائے تو اس كى سزا قتل عمد والى نہيں-

اس كى و جہ يہ ہے كہ اسلام كى نظر ميں اس جرم كى نوعيت وہ نہيں جوبظاہر قتل كى صورت ميں نظر آرہى ہے- عدل وانصاف كا تقاضا يہ ہے كہ نبى كريم كے فرامين سے نہ توغيرت كے جرائم اور قتل كى حوصلہ افزائى ہو اور نہ ہى بدكارى يا بے راہ روى كرنے والوں كو اجازت يا عوامى روك ٹوك سے تحفظ كا كهلا لائسنس مل جائے-ايسے ہى اسلام غيرت كے قتل كے بارے ميں جرمِ قتل اور غيرت دونوں كو اہميت ديتاہے، نہ تو غيرت كو نظرانداز كرتا ہے اور نہ جرمِ قتل كى ترغيب ديتا ہے- اسلام ميں اس جرم كى روك تهام كے ليے حسب ِذيل تدريجى مراحل ہيں :

پہلا مرحلہ

ايسے حالات پيش آنے كى صورت ميں شوہر كا فرض ہے كہ اس برائى كواپنے مختلف انتظامى اختيارات سے روكنے كى كوشش كرے كيونكہ جس طرح اسلام برائى كو پهيلانے اور سربازار اپنى اور اپنى بيوى كى عزت رسوا كرنے كى حمايت نہيں كرتااسى طرح مسلمانوں كو اُن طريقوں كواپنانے كا پابند كرتا ہے جن سے زنا كے امكانات بهى معدوم ہوجائيں-چنانچہ قرآن كريم ميں زنا سے پرہيز كرنے كى بجائے اس كے قريب پھٹكنے سے بهى مسلمانوں كوروكا گيا ہے-(الاسراء: ٣٢)

 اس كى دلیل اوپر بيان كردہ حضرت عويمر عجلانى كا واقعہ ہے ، جس ميں يہ الفاظ ہيں كہ نبى كريم نے اس واقعہ كوناپسند فرمايا اور جواب دينے سے گريز كيا، حتىٰ كہ جب حضرت عويمر نے اس بارے ميں اصرار كيا تو آپ نے اُنہيں 'لعان' كا طریقہ بتايا، جبكہ لعان كى آيات آپ پر اُس سے قبل ہلال بن اُميہ كے واقعہ ميں نازل ہوچكى تهيں-

ايسے ہى ماعز بن مالك كا واقعہ ہے جنہيں نبى نے بار بار زنا كا اعتراف كرنے پر رجم كى سزا تو دى،ليكن شروع ميں اس كے اوّلين تين اعترافوں كونظر انداز كرتے رہے- (مسلم: ٤٤٠٦)

يہ نظر انداز كرنا خصوصاً زناسے متعلق معاملات ميں ہے ،كيونكہ اُس كے تذكرے سے بهى بے حيائى كو فروغ حاصل ہوتا ہے، جب اس برائى كا علم ايك دو افراد كو ہى ہو تب تو اس كو چھپانا اور ديگر ذرائع سے كنٹرول كرنا بہتر ہے، اگر يہ بدكارى متعدد لوگوں كے علم ميں آجائے تو ايسى صورت ميں اس كو چھپانا اور اسلامى عدالت سے بچانا گويا بدكارى كى حوصلہ افزائى كرنا ہے- ايسے ہى جب مسئلہ عدالت ميں پيش ہوجائے تب توگواہى كو چھپانا ايك سنگين جرم ہے-

 اس كى اہم دليل نبى ﷺ كا يہ صريح فرمان ہے جسے ابن عباس نے روايت كيا ہے :

"ايك آدمى آپ ﷺ كے پاس آيا اور كہا: ميرى بيوى چهونے والے كا ہاتھ نہيں روكتى (یعنى اس كے كردار كے بارے ميں شكايت كى) تورسول اللہ ﷺ نے فرمايا: اس كو (طلاق دے كر) الگ كردے- اس نے كہا: مجهے يہ ڈر ہے كہ ميں اس كے بغير رہ نہيں سكوں گا تو آپ ﷺ نے فرمايا: پهر اُسى سے نباہ كر- " (صحيح سنن ابو داود: ١٨٠٤)

دوسرا مرحلہ

اگر كوئى شخص اپنى بيوى كوواضح طور پر گناہ ميں ملوث پائے اور انتظامى اقدامات سے بيوى كو كنٹرول كرنے كى قدرت نہ ركهے تو ايسى صورت ميں برائى كى روك تهام كے لئے لعان كا راستہ موجود ہے- چنانچہ حضرت عويمر نے اسى مخمصے كانبى كريم كے سامنے اظہار كيا

"اگر وہ بات كرتا ہے تو يہ بہت بڑا الزام ہے اورآپ لوگ اسے (ثابت نہ كرنے پرقذف كى) سزا ديں گے اور اگر خاموش رہے توگويا وہ وہ ايك سنگين معاملہ كو نظر انداز كررہا ہے كيا وہ اس آدمى كو قتل كردے؟ " (صحيح مسلم: ٣٧٢٦ اور صحيح سنن ابو داود: ١٩٧٣)

بعض لوگوں كا خيال ہے كہ شریعت نے ا س سلسلے ميں لعان كا راستہ دكها كر گويا اس كا ايك مكمل حل پيش كردياہے، ليكن يہ واضح رہنا چاہئے كہ اوّل تو'لعان' صرف مياں بيوى كے درميان ہوسكتا ہے، جبكہ غيرت كے جرائم صرف مياں بيوى كے مابين ہى نہيں ہوتے بلكہ بهائى بهى اپنى بہن يا باپ بهى بيٹى پر غيرت كہا سكتا ہے - شوہر تو طلاق دے كر اپنا تعلق توڑ سكتا ہے، ليكن بهائى اور باپ اس تعلق كو ختم كرنے پر بهى قادر نہيں، اس لئے بعض صورتوں ميں يہ شوہر كے بجائے دوسرے محرم رشتہ داروں كے لئے زيادہ سنگين مسئلہ بن جاتاہے-

ثانياً؛ 'لعان' كى صورت ميں بهى عورت چونكہ سزا سے بچ جاتى ہے اور اُلٹا اس مرد كى عزت جس نے بيوى كو اپنى آنكھوں سے زنا ميں ملوث پايا ہے، معاشرے ميں اُچھلتى ہے كيونكہ كسى خاندان كى عزت كا تصور عورت كى بجائے مرد سے وابستہ ہوتا ہے- بيوى كو چهوڑنے كا جو حق اسے طلاق كى صورت پہلے میسر تها، اس ميں بهى كوئى اضافہ نہيں ہوتا- پهرحق مہر كى واپسى كا مطالبہ بهى شوہر نہيں كرسكتا- اس لئے 'لعان' تو صرف ايك رستہ ہے اس حمل يا اس بچہ كى ذمہ دارى سے بچنے كا جو اس كے ذمے پڑ رہا ہے وگرنہ 'لعان' اس تمام تر مسئلے كا مكمل حل نہيں ہے-

دورِ نبوى ميں بهى لعان كے ايك واقعہ ميں عورت كازنا بالكل واضح ہو گيا تها ا ور نبى كريم نے فرمايا كہ " اگر ميں نے گواہ كے بغير كسى كو سزا ديناہوتى تواس عورت كو ديتا-"ليكن چونكہ اس عورت نے اپنے قبيلہ كو رسوائى سے بچانے كى خاطر قسميں اُٹهاليں، اس ليے اُس سے يہ سزاے رجم رفع ہو گئى- بعد كے ادوار ميں جب نيكى اور صداقت كا وہ معيار نہ رہا تو عملاًلعان پر عمل بہت كم ہو گيا،يہى وجہ ہے كہ اسلام كى عدالتى تاريخ ميں لعان كے واقعات شاذ و نادر ہى ملتے ہيں حتىٰ كے 'خلفا راشدين كے فيصلوں پر مبنى كتاب' ميں عنوان قائم كرنے كے بعد اس كتاب كا موٴلف لعان كا ايك واقعہ بهى پيش نہيں كر سكا- (ديكهئے:ص ٢٥٩) اور موجودہ حالات ميں اب نہ تو اسلامى عدالتيں رہيں اور نہ نيكى اور تقوىٰ كا وہ معيار باقى رہا- اس ليے ہميں اس امر سے اتفاق نہيں كہ لعان ہى اس مسئلہ كا موزوں اور مكمل حل ہے- پاكستانى عدالتيں بهى لعان كى تائيد اسى لئے كرتى ہيں كہ اس سے عورت سے سزا رفع ہوجاتى ہے-

تيسرا مرحلہ دورانِ بدكارى

اس صورت كا تعلق بدكارى كے وقوعہ كے دوران سے ہے، جب بدكارى كا فعل ہورہا ہو تو اس صورت ميں كيا كرنا چاہئے- مصر كے معروف اسلامى ماہر قانون جسٹس عبد القادر عودہ شہيد نے ايسى برائى كو روكنے كى دوصورتوں پيش كى ہيں، اس سلسلے ميں تفصيلى بحث كے لئے ان كى كتاب التشریع الجنائي الإسلامي كا اُردو ترجمہ 'اسلام كا فوجدارى قانون' (جلد اوّل، صفحہ ٥٦٥ تا ٦٠٨) كا مطالعہ مفيد ہوگا-

حملہ آور سے دفاع : مختلف قرائن سے اس امر كا پتہ چلے كہ عورت اس فعل بد كے لئے راضى نہيں تهى بلكہ اس كى كمزورى كا فائدہ اُٹهايا گياہے- ايسى صورت ميں عورت كاخود اپنى ذات كا دفاع كرنا يا شوہر پر اپنى بيوى كا دفاع كرنا دونوں شريعت كى رو سے واجب ہيں-اس دفاع كے دوران اگر عورت يا شوہر كے ہاتهوں زنا بالجبر كا مرتكب حملہ آور قتل بهى ہوجائے تو اس كا خون رائيگاں جائے گا- ايسے حملہ آور كے قاتل كا يہ فرض ہے كہ وہ اپنے دفاعى اقدام كو ثابت كرے-

اس كى شرط يہ ہے كہ يہ دورانِ بدكارى يا بعض اوقات اس سے عین قبل اس كو روكنے كے لئے اُٹهايا جاتا ہے، نہ كہ بدكارى كا وقوعہ ہوجانے كے بعد- ايسے ہى برائى كو روكتے يا دفاع كرتے ہوئے حملہ آور كو بعض اوقات سنگين ترين نقصان سے بهى دوچار ہونا پڑتا ہے-ليكن روكنے كى كوشش ميں مقتول كے معصوم نہ ہونے كى بنا پر اس كا خون كلى رائيگاں جاتا ہے- قتل غيرت ميں بعض اوقات جارح مرد كے قتل ہوجانے كا تعلق اسى صورت سے ہے-

برائى كوروكنے كا يہ طريقہ صرف غيرت كے قتل كے بارے ميں ہى نہيں بلكہ ديگر جرائم كے بارے ميں بهى ہے- اس صورت ميں يہ بات بهى عائد نہيں ہوتى كہ قاتل نے قانون كو ہاتھ ميں كيوں ليا ہے، كيوں كہ قانون كو ہاتھ ميں لينے كى بجائے يہاں اصل مسئلہ برائى كو انجام پانے سے روكنا ہے- نبى كريم ﷺ كا فرمان ہے :

«من قتل دون ماله فهو شهيد،من قتل دون أهله فهو شهيد»

"جوانسان اپنے مال كى حفاظت ميں مارا گيا يا اپنى عزت كى حفاظت كرتے ہوئے مارا گيا، وہ شہيد ہے-" (ترمذى:١٤٢١)

اور 'اہل'كى حفاظت ميں اسكے تمام حقوق كى حفاظت شامل ہے-

مزيد برآں نبى كريم ﷺ كا فرمان ہے:

«الدار حرم فمن دخل على حرمك فاقتله » (مسند احمد:٢٢٢٦٦)

"گهر حرم ہے جو شخص تمہارے حرم ميں داخل ہو، اس كو قتل كردو-"

ڈاكٹر وہبہ زحيلى اپنى كتاب الفقہ الإسلامي وأدلتہ (٥/٧٥٩ ) ميں لكهتے ہيں:

"فقہاء ِاربعہ (حنفيہ، شافعيہ، مالكيہ اور حنابلہ ) كا اس امر پر اتفاق ہے كہ كوئى شخص اپنى جان مال آبرو كى حفاظت كے لئے قتل تك كردے تو مقتول كا خون رائيگاں جائے گا-" (حاشيہ ابن عابدين: ٦/٥٤٦،المغنى: ١٠/٣٥١ تا ٣٥٣، مغنى المحتاج: ٤/١٩٤)

برائى سے دفاع نہي عن المنكر: اگر بدكارى ميں دونوں فريقين راضى ہوں تو يہ امر بهى ان كو عوامى روك ٹوك سے حفاظت عطا نہيں كرتا- چنانچہ بيوى يا عورت كى رضا مندى كى صورت ميں ہونے والى بدكارى كو روكنا بهى ہرمسلمان پر نہي عن المنكركى رو سے لازمى ہے-نہى عن المنكرايك طرف عدالت يا حكومت كى بجائے ہر مسلمان كا فرض ہے تو دوسرى طرف اس كے تين مراحل (ہاتہ،زبان اور دل) بهى احاديث ميں بيان ہوئے ہيں-چنانچہ بعض علما نے اس روكنے ميں تدريج كا بهى لحاظ كيا ہے كہ پہلے پہل اس كو شور شرابے سے روكنا چاہيے، پهر مارپيٹ سے حتىٰ كہ پهر بهى اگر وہ جرم سے باز نہ آئے اور قتل تك بهى نوبت پہنچ جائے تواس سے دريغ نہ كرے - اس سلسلے ميں حنفى فقہا كا موقف يہ ہے كہ

«رأى رجلا يزني بامرأته أو بامرأة رجل آخر وهو محصن فصاح به ولم يهرب ولم يمتنع من الزنا حل لهٰذا الرجل قتله وإن قتله فلا قصاص عليه»

"كوئى شادى شدہ شخص اس كى يا دوسرے كى بيوى سے زنا كررہا ہے اور آدمى كى چيخ پكار كے باوجود نہ تو زنا سے باز آتا ہے اور نہ بهاگتا ہے تو اس آدمى كے لئے ايسے شخص كو قتل كرنا جائز ہے، اگر وہ اسے قتل كردے تو اس پر كوئى قصاص نہيں-" ( البحر الرائق شرح كنز الدقائق ٥/٤٤)

يہى موقف شافعى فقہ كى مغني المحتاج ميں مصنف نے اختيار كيا ہے- (٥/٥٣٠)

ہر مسلمان پر ايسى برائى كو روكنا فرض ہے - حنفى فقہ كى كتاب 'كنز الدقائق' ميں ہے

«وفي المجتبٰى: الأصل في كل شخص إذا رأى مسلما يزني أن يحل له قتله وإنما يمتنع خوفًا أن يقتله ولا يصدق في أنه زنٰى وعلىٰ هذا القياس المكابرة بالظلم وقطاع الطريق ... لكل مسلم إقامته حال مباشرة المعصية وأما بعد الفراغ منها فليس ذلك لغير الحاكم ... إن عزّره بعد الفراغ منها فيه إشارة إلى أنه لو عزَّره حال كونه مشغولا بالفاحشة فله ذلك وإنه حسن لأن ذلك نهي عن المنكر وكل واحد مأمور به وبعد الفراغ ليس بنهي عن المنكر لأن النهي عما مضٰى» (كنز الدقائق:٥/٤٥)

"اُصولى بات يہى ہے كہ بدكارى كرتے ہوئے مسلمان كو قتل كرنا ہر شخص كے لئے جائز ہے، البتہ اگر اسے اس امر كا اندیشہ ہو كہ وہ اس بدكارى كا ثبوت پيش نہيں كرسكے گا تو ايسى صورت ميں اس كے لئے (مصلحتاً) يہ قتل ممنوع ہے ... اس طرح كا معاملہ جرا ت سے ظلم كرنے والوں اور راہزنوں وغيرہ سے بهى كيا جاسكتا ہے...ہرمسلمان كا فرض ہے كہ وہ معصیت كے وقت اسے روكنے كى ہرممكن كوشش كرے ، البتہ وقوعہ كے بعد اس (كى سزا) كا اختيار صرف حاكم وقت كے پاس ہے كيونكہ اگر تو كوئى شخص مجرم كو بوقت ِجرم روكنے كے لئے انتہائى اقدام كرتا ہے تو اس وقت تو يہ درست ہے اور نہى عن المنكركى بنا پر نيكى كا كام شمار ہوگا، ليكن وقوعہ كے بعد نہى منكر كا معاملہ تو ختم ہوگيا-"

جسٹس عبد القادر عودہ شھيد لكھتے ہيں:

"مال كى مدافعت كو بيشتر فقہا جائز كہتے ہيں، البتہ عزت پر حملے كى صورت ميں تمام فقہاكے نزديك مدافعت فرض ہے-مثلاً اگر كوئى شخص كسى عورت كى عزت پامال كرنا چاہے اور وہ عورت اس شخص كو قتل كركے اپنا دفاع كرسكتى ہو تواگر اس كے لئے ممكن ہے تو اس پر اس شخص كا قتل كرنا فرض ہے- كيونكہ اپنے اوپر دوسرے كو قدرت دينا اس عورت كے لئے حرام ہے-

اسى طرح اگر كوئى شخص دیكھے كہ كوئى آدمى زنا كررہا ہے يا زنا كى كوشش كررہا ہے اور وہ شخص اس كو قتل كئے بغير باز نہيں ركھ سكتا تو اگر اس كے لئے اسے قتل كردينا ممكن ہو تو اس كے لئے ايسا كرنا جائز ہے-" (اسلام كا فوجدارى قانون: ج١/ص ٥٦٦)

نہى عن المنكر كى حيثيت اسلامى معاشرے ميں مستحب يا فرضِ كفايہ كى بجائے

"ايك قرض كى ہے، جس كى ادائيگى بہر صورت ضرور ى ہے ... جمہور فقہا كے مطابق نہى منكر تمام افرادِ معاشرہ كے لئے لازمى ہے... بقول جمہور فقہا:اس كام كے لئے حاكم كى اجازت يا تعيناتى بهى ضرورى نہيں-" (اسلام كا فوجدارى قانون: ١/٥٨٨،٥٩٠، ٥٩٥)

شيعہ كا ايك معتدل فرقہ'زيديہ' كہلاتا ہے جن كى بڑى تعداد يمن ميںآ باد ہے-'ہادويہ' اسى فرقہ كى ايك شاخ ہے- ان كے نزديك

«وعند الهادوية أنه يجوز للرجل أن يقتل من وجده مع زوجته وأمته وولده حال الفعل وأما بعده فيقاد به إن كان بكرا» (نيل الاوطار:٦/٣١٩)

" جب كوئى شخص دورانِ بدكارى اپنى بيوى يا لونڈى كو رنگے ہاتهوں پكڑ لے تو ايسى صورت ميں اس كے لئے قتل كرنا جائز ہے،ليكن بدكارى كے وقوعہ كے بعد اگر وہ ايسا كرے تومقتول كے كنوارا ہونے كى صورت ميں اس كو تاوان ادا كرنا ہوگا-"

'كنز الدقائق' ميں ہى ہے كہ ہندوانى سے ايسے شخص كے بارے ميں سوال كيا گيا جو اپنى بيوى كے ساتھ كسى غيرمرد كو ملوث ديكھتا ہے كہ شوہر كے لئے اس آدمى كوقتل كرنا جائز ہے؟ تو اُنہوں نے جواب ديا :

«إن كان يعلم أنه ينزجر بالصياح والضرب بما دون السلاح لا وإن كان يعلم أنه لاينزجر إلا بالقتل حل له القتل وإن طاوعه المرأة حل له قتلها أيضًا وفي المنية رأىٰ رجلا مع امرأته وهو يزني بها أو مع محرمه وهما مطاوعتان قتل الرجل والمراة جميعًا» (كنز الدقائق:٥/٤٥)

"اگر وہ يہ سمجھتا ہے كہ چيخ و پكار يا اسلحہ كے بغير مارپيٹ سے مجرم بهاگ جائے گا تو اس صورت ميں قتل كرناجائز نہيں ہے- البتہ ايسے مجرم كے باز آجانے كا امكان نہ ہو تو تب اسى كو قتل كرناجائز ہے اور اگر عورت بهى خوشى سے اس مجرم كے ساتھ شريك تهى تو مرد كا اس عورت كو بهى قتل كرنا درست ہے- اورحنفى فقہ كى مشہور كتاب منیة المصلی ميں ہے كہ ايك شخص نے اپنى بيوى يا اپنى محرم عورت كے ساتھ كسى آدمى كو گناہ كرتے ہوئے ديكها اور وہ دونوں اس بدكارى ميں برضا ورغبت شريك تهے تو اس مرد نے زانى اور زانيہ دونوں كوقتل كرديا- "

ڈاكٹر وہبہ زحيلى فقہا كے تمام مذاہب كا خلاصہ لكھتے ہيں :

«لا قصاص ولا دية في المذاهب الأربعة على من وجد رجلا يزني بامراته فقتله لما روي عن عمر» (الفقہ الاسلامي: ص٥/ ٧٥٩)

"مسالك ِاربعہ كا اس امر پر اتفاق ہے كہ بيوى سے زنا كرنے والے كو قتل كرنے پر قاتل سے كوئى قصاص و ديت نہيں جيسا كہ اس كى دلیل حضرت عمر كا واقعہ ہے -" جو آگے آرہا ہے

ان فقہى اقتباسات سے پتہ چلتا ہے كہ اس تغيير منكر كے نہ صرف بيوى اور شوہر بلكہ تمام مسلمان مخاطب ہيں- جب بيوى مجبور ہو تو يہ اقدام دفاع كى قبيل سے اور جب بيوى راضى ہو تو يہ اقدام نہي عن المنكركى قبيل سے ہو گا- (اسلام كا فوجدارى قانون :١/٦٠٧)

بعض لوگ يہ كہتے ہيں كہ عورت كى رضامندى كى صورت ميں جارح مرد كا گهر ميں داخل ہونا حرم ميں زيادتى نہيں بنتاكيونكہ اس كى بنياد تو گهر والى كى رضامندى ہے- ليكن يہ بات درست نہيں كيونكہ اسلام كى رو سے گهر ميں كسى آدمى كو داخلہ كى اجازت دينا صرف مرد كا حق ہے اور عورت يہ حق اس كى مرضى اور تابعدارى ميں ہى استعمال كرنے كى مجازہے- اس سلسلے ميں امّ المومنين حضرت اُمّ حبيبہ بنت ِابى سفيان كا مشہور واقعہ دليل ہے جس ميں اُمّ المومنين نے اپنے باپ ابو سفيان كى آمد پر ، ان كے نبى كريم ﷺ كے بستر پر بیٹھتے ہوئے بستر لپيٹ ليا اوركها كہ ميں نبى ﷺ كے بستر پر كسى مشرك كا بیٹھنا گوارا نہيں كرتى- جب اُمّ المومنين نے يہ واقعہ نبى كو آنے پر بتلايا تو آپ نے جواباً كچھ نہ كہا- (سيرة ابن ہشام: ٤/٥٥)

ايسے ہى نبى كريم ﷺ كا فرمان ہے :

«ولكم عليهن أن لا يوطئن فُرُشكم أحدًا تكرهونه» (صحيح مسلم)

"اُن (بيويوں پر) پرتمہارا يہ حق ہے كہ وہ تمہارے گهرميں ان لوگوں كو نہ آنے ديں جن كو تم ناپسند كرتے ہو..."

دفاع اور نہى عن المنكركے سلسلے ميں جسٹس عبد القادر عودہ شہيد نے متعدد بحثيں كى ہيں جن ميں سے اہم نكات حسب ِذيل ہيں :

دفاع كے لئے يہى ضرورى ہے كہ حملہ كا تصور ظن غالب كے درجے ميں ہو، نہ كہ وہ زيادتى بالفعل موجود ہو- ( صفحہ ٥٧٣)

دفاع كے تقاضے ميں كئے گئے افعال مباح ہيں،ان پر كوئى سزانہيں-(صفحہ:١/ ٥٨٠)

حملہ آور كے دفاع كيلئے كوئى اور ممكن وسیلہ موجود نہ ہو- بالفرض حملہ آور كو چيخ وپكار كركے روكا جاسكتاہے توايسى صورت ميں اسے قتل كرنا درست نہيں- (حاشيہ ابن عابدين: ٥/٤٨٢) مدافعت اسى قدر قوت سے ہو، جس قدر قوت زيادتى كوروكنے كيلئے ناگزير ہے-(صفحہ٥٧٥)

"اگر مدافعت لاٹهى سے ممكن تهى مگر اس نے ہاتھ پير كاٹ ديا تو تاوان لازم آئے گا-" (٥٧٦)

"جارحيت اور دفاع باہم مربوط ہيں- جارحيت كے خاتمے كے بعد دفاعى قدم كا كوئى تصور نہيں اور اس پر وہ مسئول ہوگا، البتہ اگر كوئى چور مال لے كر بهاگ جائے تو دفاع كرنے والے تعاقب كركے اس سے مال واپس چھین سكتا ہے، جس كے لئے اسے قتل بهى كرنا پڑے تو جائز ہوگا-" (ايضاً ، ص: ٥٨٠ بحوالہ حاشيہ ابن عابدين: ٥/٢٧٤)

محرم عورت كى جبراً يا اس كى رضامندى سے عصمت درى كركے بهاگ جانے والے شخص كو قتل كرنا اس بدكارى كو واپس تو نہيں لاتا، البتہ اس ميں سماجى سطح پر مرد كى ناموس كوقدرے بہتر مقام حاصل ہوجاتا ہے، ليكن اس سے بهى اصل بدكارى ميں كوئى كمى واقع نہيں ہوتى- اس لئے ايسے جارح كو قتل كرنا حد سے بڑهے جذبہ غيرت كى بنا پرہے جس كى شرع ميں حمايت نہيں پائى جاتى- ہمارے ہاں ايسے جرائم كى وجہ دراصل يہ ہے كہ غيراسلامى قانون كى بنا پر مجرم كو قرار واقعى سزا ملنے يا جلدى مقدمہ نمٹنے كے امكانات بہت كم ہوتے ہيں- ايسى حالت ميں ايسا جارح مرد نہ صرف متاثرين كے لئے ايك چيلنج بلكہ برائى كا ايك اشتہاربهى بنا رہتا ہے-

دفاع اور نہی عن المنكركے تصورات بالكل جداگانہ نہيں بلكہ اپنى ذات سے دفاع كے تصور ميں بهى بيوى ياشوہر كا يہ نظريہ شامل ہے كہ چونكہ يہ برائى ہے، اس لئے اس كو انجام پانے سے روكا جائے گويا يہ برائى سے دفاع ہے- دورِ صحابہ ميں ايسے كئى واقعات پيش آئے اور انہوں نے بهى يہى فيصلے كيے، چنانچہ مذكورہ فقہى موقفوں كى بنياد يہى واقعات ہيں-

دفاع يا نہى عن المنكرميں قتل كرنے كى كئى صورتيں ہيں:

(1)عورت كا اپنے دفاع ميں حملہ آور كو قتل كردينا :

خلفائے اربعہكے دو رميں ايسے بعض واقعات پيش آئے اور انہوں نے مقتول كا خون رائيگاں قرار ديا- يہ واقعات حسب ِذيل ہيں:

(1) عبداللہ بن عمير سے مروى ہے كہ "ايك شخص نے قبيلہ ہذيل كے كچھ لوگوں كى دعوت كى اوراپنى باندى كو لكڑياں كاٹنے كے لئے بهيجا- مہمانوں ميں سے ايك مہمان كو وہ پسند آگئى اور وہ اس كے پیچھے چل پڑا اور اس كى عصمت لوٹنے كا طلب گار ہوا، ليكن اس باندى نے انكار كرديا- تهوڑى دير ان ميں كشمكش ہوتى رہى پهر وہ اپنے آپ كو چهڑانے ميں كامياب ہوگئى اور اس نے ايك پتهر اُٹهاكر اس شخص كے پيٹ پر مارا ديا جس سے اس كا جگر پهٹ گيا اور وہ مرگيا- پهر وه اپنے گهر والوں كے پاس پہنچى اور انہيں سارا واقعہ سنايا، اس كے گهر والے اسے حضرت عمر كے پاس لے كر گئے اور آپ سے سارا واقعہ بيان كيا- حضرت عمر نے معاملہ كى تحقیق كے لئے كچھ لوگوں كو بهيجا اور انہوں نے موقع پر ايسے آثار دیكھے جس سے دونوں ميں كشمكش كا ثبوت ملتا تها، تب حضرت عمر نے فرمايا: اللہ نے جسے مارا ہے، اس كى ديت نہيں دى جاسكتى-" (مصنف عبدالرزاق: ٩/٤٣٥، المحلى:٨/٢٥، سنن بيہقى: ٧/٣٣٧ وأقضية الخلفاء الراشدين:١/٥٧٨، فقہ عمر:٢١٣)

(2)ليث بن سعد بتاتے ہيں كہ ايك روز حضرت عمر كے پاس ايك مردہ اَمرد(بھیگى مسوں والا) لڑكا لايا گيا جو راستے كے ايك طرف مرا ہوا پايا گيا تها- ايك سال تك حضرت عمر اس مقتول كے قاتل كا پتہ لگاتے اور اللہ سے دعا كرتے رہے حتىٰ كہ اُسى مقام پر سال بعد ايك نومولود پڑ ا ہوا ملا تو حضرت عمر كو شك پيدا ہوا- تحقيقات كے بعد پتہ چلاكہ ايك انصارى صحابى كى بيٹى اس كى ماں ہے- آپ نے اس عورت سے تفتيش كى تو اس نے بتايا كہ دهوكے سے وہ مقتول لڑكا ميرى عزت پر حملہ آور ہوا تو ميں نے موقع پر ہى اس كو قتل كرديا، اسى كا يہ بچہ ہے جو ميں نے مقتول كى جگہ پر پھینكا ہے- حضرت عمر نے اس عورت كى تعريف كى اور اس كے باپ كے سامنے بيٹى كى نيكى اور صداقت كى گواہى دى اور واپس چلے آئے- (مختصراً)

(مسندالفاروق:٢/٤٥٦، الطرق الحكميہ: ص٤٠ و تاريخ عمر: ص ٩٧)

ڈاكٹر وہبہ زحيلى اس بارے ميں لكھتے ہيں:

"اس امر پر سب فقہا كا اتفاق ہے كہ عورت كو اپنا دفاع ضرور كرنا چاہئے ،كيونكہ ايك غيرمرد كے ہاتھ چڑھنا اس كے لئے حرام ہے- ولها قتل الرجل المكره ولو قتله كان دمه هدراً پهرعورت زبردستى كرنيوالے كو قتل بهى كرسكتى ہے ، اور يہ قتل رائيگاں جائے گا-" (الفقہ الاسلامى وادلتہ: ٥/٧٥٩ بحوالہ الدر المختار: ٣/١٩٧، بدايہ المجتہد: ٢/٣١٩ وغيرہ)

(2) شوہر كا اپنى بيوى كا دفاع كرنا:

شوہر اگر اپنى بيوى كے ساتھ كسى كو شريك ِبدكارى ديكہے اوراسے قرائن سے زيادتى كا اندازہ ہوجائے تو شوہر پر اس كا دفا ع كرنا واجب ہے-

 حضرت زبير بن عوام ايك لشكر كے ساتھ جارہے تهے كہ كسى وجہ سے لشكر كے پیچھے رہ گئے، راستے ميں انہيں دو آدمى ملے اور ان سے كهانے كومانگا- حضرت زبير نے جو كچھ تها، اُنہيں دے ديا، اس كے بعد وہ كہنے لگے: لونڈى ہمارے حوالے كردو- يہ سن كر حضرت زبير نے اُنہيں تلوار مارى اور دو ٹكڑے كرديا- (المغنى:١١/٤٦٢) ڈاكٹر وہبہ زحيلى لكھتے ہيں :

"ولو بالقتل إن أمكنه الدفاع ولم يخف على نفسه شوہر كا فرض ہے كہ اپنى بيوى كے دفاع كى ہرممكن كوشش كرے جس كيلئے اس كو قتل بهى كرنا پڑے تو دريغ نہ كرے-"

(الفقہ الاسلامى وادلتہ: ٥/٧٥٩ بحوالہ الدر المختار: ٣/١٩٧، بدايہ المجتہد: ٢/٣١٩ وغيرہ)

اگر بيوى بهى اس جرم ميں شريك ہو تب بهى شوہر كے ليے عزت كا دفاع كرنا مشروع ہے- اگر شوہر اپنے حرم اورنطفہ ميں اختلاط وشبہ كو بچانے كے ليے وقوعہ كے دوران اس فعل سے روكنے كى ہر ممكن كوشش كرتا ہے اوراس كے ليے قتل كى نوبت آتى ہے تو شوہر كا يہ فعل شریعت كى نظر ميں گوارا ہے- كويت كے فقہى انسا ئيكلوپيڈيا ميں ہے :

«وإنما شرعت الغيرة لحفظ الأنساب وهو من مقاصد الشريعة ولو تسامح الناس بذلك لاختلطت الأنساب لذا قيل: كل أمة وضعت الغيرة في رجالها ... ومن لا يغار على أهله ومحارمه يسمى ديوثا والدياثة من الرذائل التي ورد فيها وعيد شديد ... (ثلاثة لا ينظر الله إليهم يوم القيامة: والديوث)» (الموسوعة الفقہية : ٣١/٣٤١)

"شريعت ِاسلاميہ ميں نسل ونسب كى حفاظت كے لئے غيرت كو ايك مقام ديا گيا ہے- اگر لوگ اس ميں كوتاہى كرنے لگيں تو ولديتيں مشتبہ ہوجائيں- اسى بنا پر كها گيا ہے كہ ہر اُمت كے مردوں ميں غيرت پائى جاتى ہے اور جو شخص اپنے اہل وعيال او رمحرم رشتہ داروں كے بارے ميں غيرت نہيں كرتا 'ديوث' كہلاتا ہے- ديوثيت ايك بد ترين خصلت ہے جس كے بارے ميں ايك اثر ميں شديد وعيد آئى ہے: تين لوگوں كى طرف روزِ قيامت اللہ تعالىٰ نظر تك نہ اٹهائيں گے اور ان ميں ايك ديوث ہے-"

 اس سلسلے كا اہم ترين واقعہ ابراہيم نخعى سے مروى ہے

" ايك روز حضرت عمر كهانا كها رہے تهے كہ ايك شخص آيا، اس كے ہاتھ ميں خون آلود ننگى تلوار تهى- وه آكر حضرت عمر كے ساتھ بیٹھ گيا اور كهانے ميں شريك ہوگيا- پیچھےپیچھے كچھ لوگ آئے اور انہوں نے كہا: يا اميرا لمومنين! اسى شخص نے ہمارے آدمى كو اپنى بيوى كے ساتھ ديكھ كر دونوں كو قتل كرديا- حضرت عمر نے فرمايا: يہ لوگ كيا كہہ رہے ہيں؟ ايك اور شخص بولا: اس آدمى نے اپنى بيوى كى رانوں پر تلوار مارى- اگر درميان ميں كوئى تها تو اسے قتل كرديا- اس پر حضرت عمر نے ان لوگوں سے پهر پوچها كہ يہ كيا كہتا ہے؟ اُنہوں نے كہا كہ اس نے اپنى بيوى كى رانوں پر تلوار مارى جو اس شخص كى كمر پر لگى اور اس كے دو ٹكڑے ہوگئے- اس پر حضرت عمر نے قاتل سے كہا: اگر دوبارہ بهى كوئى ايسے كرے تو يہى حال كرنا-"

(أقضية الخلفاء الرشداين:١/٥٨٣ ، فقہ عمر : ص٢١٤ ، سنن سعيد بن منصور)

(3) مسلمانوں كا دفاع ميں شريك ہونا :

نبى كريم ﷺ كافرمان ہے:

«اُنصر أخاك ظالما أو مظلوما» (بخارى:٢٤٤٣)

"اپنے بهائى كى مدد كرو چاہے وہ ظالم ہو يا مظلوم- اگر ظالم ہے تو اس كا ہاتھ روك كر-"

 ابو مغيرہ سے مروى ہے كہ كچھ لوگ اكٹھے ہوكر كسى قبيلہ كى ايك عورت كے پاس آئے قبيلہ كے كچھ لوگوں كو اس كا پتہ چلا تو انہوں نے جاكر اُن لوگوں كو قتل كرديا- اگلے دن ان كے جنازے حضرت على كے پاس پيش كئے گئے تو آپ نے پوچها: يہ سب لوگ ايك عورت كے گهر ميں رات كو اكٹھے ہوكر كيا كرنے گئے تهے؟ واقعہ كى تفصيلات سننے كے بعد آپ نے ان لوگوں كا خون رائيگاں قرار دے ديا- (الام از شافعى:٧/١٨٢ واقضية الخلفاء الراشدين:ص٥٨٢)

نہى عن المنكر كى مشروعيت كے تمام دلائل اس امر كى بنياد ہيں كہ مسلمانوں كو جبراً ہونے والى زيادتى ميں اپنے مسلمان بهائى كى مدد كرنا چاہئے ، جہاں تك خوشدلى سے ہونے والے جرم كا تعلق ہے تب بهى مسلمانوں كا فرض ہے كہ اس كو انجام پانے سے روكيں-

(4) دفاع كرتے ہوئے جرم سے بهى بڑى سزا تك پہنچ جانا:

يہاں يہ سوال پيدا ہوتاہے كہ بعض اوقات دفاع كرتے ہوئے مقتول كو وہ سزا مل جاتى ہے جو اس كى اصل سزا نہيں-نبى كريم كے سامنے ايسا ہى ايك واقعہ پيش آيا جس ميں ايك شخص نے دوسرے كا ہاتھ اپنے دانتوں ميں دبا ليا ، ہاتھ كو چهڑانے كى غرض سے اس نے زور سے كھینچا توزيادتى كرنے والے كے دانت ٹوٹ گئے- نبى كريم نے دانت ٹوٹنے كو رائيگاں قرارديااور دوسرے پر دانت توڑنے كا قصاص يا كوئى تعزيرى سزا عائد نہ كى- آپ نے ہاتھ چبانے والے سے فرمايا :

«فيدع يده في فيك تقضمها كما يقضم الفحل؟» (مسند احمد:١٧٤٨٩)

"كيا وہ تيرے منہ ميں اپنا ہاتھ باقى رہنے ديتا تاكہ تو اسے سانڈ كى طرح چباتا رہتا-"

 حضرت عبدالله بن عمر كے گهر ميں ايك مرتبہ چور گھس آيا تو آپ تلوار لے كر اس كى طرف لپكے- عينى شاہدوں كا كہنا ہے كہ اگر ہم آپ كو پكڑ نہ ليتے تو لازمى تها كہ آپ تلوار سے (چور كى گردن) مار ديتے-

 چورى كا مال چور سيبچاتے ہوئے اگر چور مارا جائے تو اس كا خون رائيگا ں ہوگا :

«رأى رجلا يسرق ماله فصاح به أو ينقب حائطه أو حائط غيره وهو معروف بالسرقة فصاح ولم يهرب حلَّ قتله» (كنز الدقائق: ٥/٤٥)

"كسى چور نے مال چورى كرنے كى غرض سے اس كى يا دوسرے كى ديوار ميں نقب زنى كى اور يہ چورى واضح تهى ، اس آدمى نے چيخ كر اس كو بهگانا چاہا اور وہ نہ بهاگا تو اس كيلئے چور كوقتل كرنا جائز ہے-" مزيد ديكهئے: الموسوعةالفقهية،مادّه صيال اور الام للشافعى،كتاب الحدود

اس سے يہ پتہ چلتا ہے جب كسى كنوارے مرد يا عورت كو زناكارى سے روكا جائے يا كوئى كنوارا شخص كسى آدمى كى بہن سے جبراً بدكارى كا ارتكاب كررہا ہو تو ايسى صورت ميں اس برائى سے روكتے روكتے اگر نوبت قتل تك جا پہنچے تو ايسى صورت ميں كنوارے مرد كا قتل رائيگاں ہوگا كيونكہ يہاں مقصد سزا دينا تو ہے ہى نہيں، بلكہ مجرم كا جرم پر اصرار اور دفاع كرنے والے كا جرم كوانجام پانے سے روكنا مقصود ہے-

اسلامى شريعت اور جديد قانون؛ چند شبہات

جرم كے بارے ميں يہ تصور كرنا كہ اس كى روك تهام صرف حكومت كى ذمہ دارى ہے، درست نہيں- اسلام ميں جرم كى روك تهام كے لئے ايك مرحلہ دورانِ جرم كا بهى ہے- دورانِ جرم مجرم كو روكنا متاثرہ مسلمان كے لئے خصوصاً اور عام مسلمانوں كے لئے عموماً فرض ہے-البتہ جرم كے بعد اس كى ذمہ دارى صرف حكمران كا فرض ہے-حملہ آور كے دفاع ميں اپنى جان، مال اور عزت كا تحفظ كا مسئلہ درپيش ہوتا ہے جبكہ نہى عن المنكر ميں دوسرے مسلمان بهائى كے ان حقوق كا تحفظ اور ديگر جرائم كى روك تهام بهى شامل ہے- بقول جسٹس عودہ شہيد 

"جديد قانون ميں بهى دورانِ فعل روكنے كا يہ تصور موجود ہے ليكن مصرى اور فرانسیسى قوانين نے بیسیوں صدى ميں آكر اس تصور اورانہى شرائط كواختيار كيا جو اسلامى فقہانے كئى صدياں قبل بيان كر دى تهيں- (١/٥٦٩ ،٥٨٢)

جبكہ نہى منكر كا تصورجديد قانون ميں صرف بعض حالات مثلاً بغاوت يا تخريب كارى وغيرہ كى صورت تك محدود ركها گياہے ليكن اسلام ميں يہ اُصول تمام جرائم كيلئے موجود ہے-" (١/٦٠٩)

دفاع كے اس اسلامى وقانونى تصور ...جس پر خلفاے راشدين نے فيصلے ديے ہيں اور فقہا كرام نے شرعى موقف كے طورپر اسے اختيار كيا ہے ... كو اگر نبى كريم كے حضرت سعد بن عبادہ كے مكالمے كے ساتھ ملا كر ديكها جائے تو بظاہر ان ميں تضاد نظر آتا ہے- كيونكہ نبى ﷺ نے بهى سعد بن عبادہ كودورانِ فعل ہى اس بدكارى كے لئے قتل كرنے سے منع كيا تها- اس ظاہرى تضادكے خاتمے كى كئى صورتيں ہيں :

(1)اس كى ايك توجیہ تو بعض فقہا نے يہ قرار دى ہے كہ جب قاتل كے لئے اس بدكارى كو ثابت كرنا ممكن نہ ہو تو ايسى صورت ميں اسے اس فعل سے باز رہنا چاہئے- يہى وجہ ہے كہ جب نبى كريم سے سعد نے پوچها كہ پهر ميں كيا گواہ تلاش كروں ؟ تو آپ نے ہاں ميں جوا ب ديا- گويا يہ قتل ايسى صورت ميں ہى جائز ہے جب اس كا ثبوت قانونى طور پر پيش كيا جاناممكن ہو ورنہ صرف قاتل كے كہنے پر اس كو بدكارى نہيں مانا جائے گا- اس سلسلے ميں تمام فقہا ثبوت كو اسى لئے ضرورى قرار ديتے ہيں جس كے لئے آگے ثبوت كى بحث ملاحظہ فرمائيں-

(2)ايك توجیہ يہ بهى ہے كہ نبى كريم نے اُنہيں سيدها قتل كرنے سے تو منع كياليكن اُنہيں اس برائى سے دفاع كا حق تو ديگر صريح احاديث كى بنا پر موجود ہے- قرآنِ كريم ميں بهى ہے

﴿فَمَنِ اعتَدىٰ عَلَيكُم فَاعتَدوا عَلَيهِ بِمِثلِ مَا اعتَدىٰ عَلَيكُم...١٩٤﴾... سورة البقرة

"جو تم پر زيادتى كا مرتكب ہو تو بهى اس كا بدلہ دو جيسى اس نے تم زيادتى كى ہے-"

اس توجيہ سے يہ پتہ چلا كہ دفاع يا نہى عن المنكر كى صورت كى خصوصيت يہ ہے كہ اس ميں قتل تك جا پہنچنا تدريجا ً يا اُس انداز پر ہوتا ہے جب اس كے سوا كوئى چارہ نہ رہے- ايسے جارح مرد وعورت كو پہلے ہلے ميں ہى قتل كردينا درست نہيں- بلكہ اس ميں تدريج كے ساتھ ساتھ ضرورت كو ملحوظ ركهنا چاہئے-گويا اس ميں قتل كى بجائے برائى كوروكنا اصل مقصود ہے-

بعض لوگ عورت پر جبر كى صورت ميں تو جارح مرد كو قتل تك كرنے كى اجازت ديتے ہيں، البتہ عورت كى بدكارى ميں رضامندى كى صورت ميں مرد يا عام مسلمانوں كو مردوزَن كو روكنے كا حق نہيں دينا چاہتے- جبكہ نبى كريم سے حضرت سعد نے قتل كى اجازت مرد كے بارے ميں ہى مانگى تهى، حديث ميں أفاقتلہ ميں 'ہ' ضمیر سے يہى پتہ چلتا ہے جبكہ مرد تو ہر صورت ميں جارح ہى ہوتا ہے- جس كا مطلب يہ ہے كہ يہ حديث مرد كوقتل نہ كرنے ميں تو صريح ہے اور عورت كى رضا مندى يا عدم رضامندى كا ا س ميں سوال ہى درپيش نہيں-اس سے ايسا موقف اپنانے والوں كى غلطى كا پتہ چلتا ہے كہ اس ميں رضامندى كے ہونے يا نہ ہونے سے كوئى فرق نہيں پڑتا، نكاح كے بغير جنسى تعلقات زنا ہى ہيں-

دراصل ايسا سوال حقوقِ نسواں كے موجودہ نعروں كى وجہ سے پيدا ہوتا ہے جس كى رو سے عورت كے حق عزت كى حفاظت تو مرد پر ہونى چاہئے ليكن مرد كے حق عزت ... جس كو رضامند بيوى داغ دار كر رہى ہے ... كى حفاظت كا نہ تومرد كو حق حاصل ہے اور نہ ہى اس كے مسلمان بهائيوں كو- اس تصور كى اہم وجہ يہ ہے كہ جديد تہذيبوں ميں رضامندى كى صورت ميں بدكارى كو جرم ہى نہيں سمجھا جاتا- ايسے خيالات سے متاثر لوگ مرد وعورت كى رضامندى كى صورت ميں اسے عصمت درى كے بجائے صرف 'آزادانہ جنسى تعلقات' سے تعبير كرتے ہيں-

قانون دان حلقوں ميں مذكورہ بالا تصورِ دفاع اجنبى ہونے كى دووجوہات ہيں:

پہلى وجہ تو يہ ہے كہ جديد قانون ميں اپنے دفاع كا يا دوسرے شخص كے دفاع ميں مدد كرنے كا تصور تو موجود ہے ليكن نہى عن المنكركو جديد قانون ميں صرف حكومتى مقاصد ميں دخل اندازى كے وقت جائز قرار ديا گيا ہے يعنى بغاوت او رتخريب كارى جيسے جرائم ميں- جب كہ اسلام ميں برائى ہر صورت برائى ہى ہے، عام مسلمانوں كا فرض ہے كہ راضى بزنا مردوزن كو اس سے روكيں-نہى عن منكر كا تصور جديد قانون ميں تو نہيں ليكن اسلام ميں صريح موجود ہے-

دوسرى وجہ يہ ہے كہ زنا كو اس قدر سنگين جرم نہيں سمجھا جاتا جس كى بنا پر قتل تك كى سزا دينا گوارا ہو جائے-جبكہ اسلام ميں مسلمان كى عزت كو غير معمولى اہميت حاصل ہے اور بدكارى كو غيرمعمولى طورپر شنيع فعل قرار ديا گيا ہے حتىٰ كہ شادى شدہ مردو عورت كا بدكارى ميں ملوث ہونا ان كے خون سے عصمت ِدم ( پاكيزگى) كوزائل كرديتا ہے جوہرمسلمان كو اسلام كى حالت ميں حاصل رہتى ہے- يہى وجہ ہے كہ جسٹس عبد القادر عودہ نے ان صورتوں ميں جب مسلمان كا خون رائيگاں جاتا ہے 'شادى شدہ شخص كى بدكارى' كو بهى شامل كيا ہے. (ديكهئے :ج١/ص٦٣٨)

چوتها مرحلہ قتلِ غيرت كى سزا

اسلام ميں قانون كوہاتھ ميں لينے كى اجازت نہيں اور وقوعہ ہوجانے كے بعد اب يہ حاكم كا كام ہے كہ وہ ان كو سزا دے- جو شخص قانون كو خود ہاتھ ميں ليتا ہے ، وہ مجرم ہے-اور اسے اس كى اجازت نہيں كہ بدكارى كے مجرمين كو خود قتل كردے ليكن اگر كوئى شخص اس جرم كا ارتكاب كرلے تو ايسى صورت ميں اس كو سزا كيا دى جائے-يہ مرحلہ جرم وسزا سے متعلق ہے اور اس ميں اسى كے تصورات كے حوالے سے بحث ہوگى-دورِ نبوى اور دورِ صحابہ كرام ميں ايسے كئى واقعات پيش آئے- آيئے ديكهتے ہيں كہ انہيں كيا سزا دى گئى-

دورِ نبوى كے واقعات

 پہلا واقعہ تو بدكارى كے بجائے صرف غيرت كهانے پر قتل كرنے كا ہے اور لازمى نہيں كہ انسان صرف بدكارى پر ہى غيرت كهائے بلكہ اس كا اظہار مختلف پس منظروں ميں ہوسكتا ہے- اس سلسلے ميں حضرت عمر كا وہ مشہور تاريخى واقعہ ہے جس ميں دو آدميوں كے جھگڑے كا ذكر ہے-دربارِ نبوت سے جس (بظاہر) مسلمان كے خلاف فيصلہ ہوا، اس نے اُس فيصلہ كو دل سے قبول نہ كيا اور اپنا فيصلہ پہلے حضرت ابو بكر پهر حضرت عمر كے پاس پيش كرديا-

جب دونوں فريق حضرت عمر كے پاس آئے اور حضرت عمر نے ان سے نبى كريم ﷺ كے فيصلہ كى تصديق كرلى تو آپ اندر گئے اور باہر آكر دوبارہ فيصلہ كا تقاضا كرنے والے شخص كو اپنى تلوار سے قتل كرديا- نبى كريم ﷺ كو جب يہ اطلاع پہنچائى گئى تو آپ كو حضرت عمر كا يہ فعل ناگوار محسوس ہوا، ليكن اللہ تعالىٰ نے حضرت عمر كى بريت پر يہ آيات نازل كرديں كہ

"تيرے ربّ كى قسم! يہ لوگ كبهى مسلمان نہيں ہوسكتے حتىٰ كہ وہ اپنے جهگڑوں ميں آپ كو فيصل نہ مان ليں- بعد ميں اس فيصلہ پر ان كے دل ميں كوئى تنگى بهى پيدا نہ ہو اور اس كو دل وجان سے تسليم كريں-" (النساء:٦٥)

چنانچہ اس آدمى كا يہ خون رائيگاں گيا اور حضرت عمر اس قتل سے برى ہوگئے- (تفسير ابن كثير:ج١/ص٧٨٩)

ابن ابى حاتم نے اپنى تفسير ميں( ٣/٩٩٤) اور ديگر اہل علم نے اس حديث كو ابن لہيعہ كے طريق سے روايت كيا ہے ،ليكن يہ طريق ضعيف ہے- البتہ ابومغیرہ اور شعيب بن شعيب كے طرق سے بهى يہ روايت مروى ہے- لہٰذا حافظ ابن كثير نے ان شواہد كى بنا پر اس روايت كو قوى شمار كيا ہے- (مسند الفاروق:٢/٨٧٦ بحوالہ اقضية الخلفاء الراشدين:٢/١١٨٨)

بعض لوگ اس واقعہ كو توہين رسالت كى سزا كے ضمن ميں لاتے ہيں ليكن درحقيقت نبى كريم ﷺ كے فيصلہ كو قبول نہ كرنا توہين رسالت سے كمتر درجہ كى بات ہے، باوجود اس كے كہ اس ميں توہين كا يك گو نہ پہلو بهى پايا جاتا ہے، ليكن اس نوعیت كى توہين كو مستوجب ِسزائے قتل قرار دينا مشكل ہے- ہمارى نظر ميں يہ قتل دراصل حضرت عمر كى غيرت كانتيجہ ہے- يوں بهى توہين رسالت كى صورت ميں قانون كوہاتھ ميں لينا كونسا اتفاقى مسئلہ ہے-

اگر يہ غيرت كا نتيجہ نہ ہوتا بلكہ توہين رسالت كى سزا ہوتى تو حضرت ابوبكر صديق بهى ان سے يہى سلوك كرتے جيسا كہ اس روايت كے بعض طرق ميں ان لوگوں كا پہلے حضرت ابوبكر صديق  كے پاس آنے كا تذكرہ بهى ملتا ہے-

 اسى نوعیت كا ايك واقعہ غزوئہ بنى قینقاع كے پس منظر ميں بهى بيان كيا جاتا ہے- اس غزوہ كے اسباب ميں سے ايك سبب وہ واقعہ بهى تها جو كتب ِسيرت ميں يوں بيان ہوا ہے :

"بنو قینقاع كے بازار ميں ايك يہودى نے اپنى دكان ميں كسى مسلمان عورت كا كپڑا اس غرض سے باندھ ديا كہ جب وہ اُٹهے تو اس كا ستر كهل جائے، چنانچہ ايسے ہى ہوا- اس عورت نے بدلہ كے لئے مسلمانوں كو پكارا- ايك مسلم نوجوان نے غيرت ميں آكر اس يہودى كو قتل كرديا جس كے نتيجے ميں يہود اس پر پل پڑے اور انہوں نے بهى اس مسلم نوجوان كو قتل كرديا- اس واقعہ سے يہود اور مسلم كے مابين جنگ چهڑ گئى-" (السيرة النبوية في ضوء مصادرہا الأصلية : ص٣٧٠)

اس واقعہ كا تعلق بهى غيرت كے ساتھ ہے- اگر غيرت كے نام پر قتل كرنے والا مسلمان بهى ويسى ہى سزا كا مستحق تها جو ايك عام قاتل پر عائد ہوتى ہے تو اس قاتل مسلمان كے بدلے مسلمانوں كو يہود سے لڑائى كرنے كى كيا ضرورت تهى-

يہ دونوں واقعات دورِ نبوى ميں پيش آئے اور قاتل نے غيرت پرزد پڑنے كى وجہ سے قانون كو ہاتھ ميں ليا، ليكن واقعہ ثابت ہونے پر آپ نے قاتل كو سزا نہيں دى يادرہے كہ يہ بهى عمداً قتل ہى تها-پہلے واقعہ ميں آپ كو حضرت عمر كا يہ فعل لاقانونيت كى وجہ سے ناگوار گزرا، ليكن اس بظاہر مسلمان كے ارتداد كى بنا پر حضرت عمر كورعايت ملى كيونكہ مرتد بذات خود اسلامى قانون كى نظر ميں قابل گردن زدنى ہے- اوردوسرے واقعہ ميں آپ نے اس مسلم نوجوان كے خون كے دفاع ميں يہودكے ساتھ جنگ كى اور اس قضيہ فيصلہ جنگ نے ہى كيا-

دورِ صحابہ كرام كے فيصلے

صحابہ كرام كے دور ميں اس سے زيادہ واضح واقعات ملتے ہيں جس ميں غيرت كے نام پر قتل كرنے والے قاتل كو سزاے موت يا قصاصاً قتل نہيں كيا گيا :

(1)عبداللہ بن عبید اللہ سے مروى ہے كہ ايك شخص جہاد كے لئے روانہ ہونے لگا تو ايك يہودى كو اپنى بيوى كى ديكھ بهال كے لئے كہہ گيا- ايك روز ايك مسلمان صبح كى نماز كے لئے جارہا تها كہ اس نے يہودى كو يہ اشعار پڑهتے ہوئے سنا :

"وہ پراگندہ حال شخص جسے اسلام نے ميرے بارے ميں دهوكہ ميں ركها (اور وہ اپنى بيوى كو ميرے پاس چهوڑ گيا) ميں ايك ايسى رات ميں جب چاند پورى طرح روشن تها، اس كى بيوى كے ساتھ خلوت ميں رہا- ميں اس كى بيوى كے ساتھ رنگ رلياں منا رہاہوں اور وہ (بيوقوف مجاہد) گهوڑے كى ننگى پیٹھ پر صبح شام كررہا ہے- اس كے كو لہوں كے مقام اتصال كو ديكھ كر ايسا لگتا ہے كہ گويا دولشكر ايك دوسرے پر حملہ آور ہورہے ہوں-"

وہ مسلمان تلوار لے كر گيا اور اس يہودى كو قتل كرديا- يہود اس كے خون كا مطالبہ لے كر آئے- جب حضرت عمر كو اصل واقعہ سے آگاہ كيا گيا تو آپ نے اس كا خون رائيگاں قرار دے ديا-" (أقضية الخلفاء الراشدين:١/٥٨٣ و فقہ عمر:٢١١)

اسى سے ملتے جلتے مزيد تين واقعات أقضية الخلفاء الراشدين ميں بيان كئے گئے ہيں- ان تمام واقعات كى تخريج بهى وہيں ملاحظہ كى جاسكتى ہے- (ديكهئے: ص٥٨٤، ٥٨٥)

(2)حسن بصرى سے مروى ہے كہ ايك شخص نے اپنى بيوى كے ساتھ ايك شخص كو ملوث پايا تو اس كو قتل كرديا- مقتول كے ورثا يہ معاملہ حضرت عثمان بن عفان كے پاس لے گئے تو اُنہوں نے اس خون كو باطل اور رائيگاں قرار ديا- (المحلّٰى :٨/٢٥٢)

ان واقعات ميں خلفاء راشدين نے قتل غيرت كے مجرم كو سزا نہيں دى بلكہ مقتول كاجرم ثابت ہونے پر اس كے خون كو رائيگاں قرار ديا- اس سے پتہ چلتاہے كہ اسلام ايسے قتل كے بارے ميں جوغيرت كى بنياد پر ہوا ہے، مجرم كو رعايت ديتاہے- اسلام ايسے مجرم سے جس امر كا مطالبہ كرتا ہے وہ يہ ہے كہ اس بدكارى كا ثبوت لائے اور اگر ثبوت نہ ملے تب وہ سزاوارہے- فقہانے اس مسئلہ پر ثبوت كے حوالہ سے ہى بحث كى ہے اور اس امر ميں سب كا اتفاق ہے كہ اگر وہ ثبوت بہم پہنچا دے تواس كو قتل كا مجرم نہيں سمجھا جائے گا-يہ بهى عجب بات ہے كہ ثبوت عام طورپر سزا كے عائد كرنے كے لئے ہوتا ہے، ليكن يہاں ثبوت مكمل ہونے سے مجرم سے سزا موقوف كرنا مقصود ہے، اس كى وجہ يہ ہے كہ مجرم كى طرف سے اس ثبوت كا مہيا كرنا گويا مقتولين كو جرم ميں ملوث ثابت كرنا ہے اور ان كا جرم ميں ملوث ہونا اس كے لئے گنجائش پيدا كرديتا ہے-كيونكہ يہ قتل دراصل ايك اور جرم كا ردّ عمل ہے-

البتہ جہاں ثبوت موجود نہ ہوں وہاں مرد كا فرض ہے كہ وہ شك وشبہ كى بنياد پر غيرت كهانے كى بجائے مختلف انتظامى اختيارات سے اس كو كنٹرول كرنے كى كوشش كرے- چنانچہ اسى سلسلے كا ايك واقعہ ابتدا ميں گزر چكا ہے جب نبى كريم نے ايك صحابى كو شك وشبہ كى بنا پر اپنى بيوى كو ركهنے كا مشوره دياتها- دیكھیں صفحہ نمبر٣٥

ہمارے ہاں غيرت كے نام پر قتل كے اكثر واقعات ثبوت كى بجائے شك وشبہ كى بنا پر ہوتے ہيں، اور شك وشبہ كى بناپر اسلام قاتل كو كوئى رعايت نہيں ديتا- آشنا كے ساتھ لڑكى كے فرار ہونے كے واقعات ميں بهى اگر قانون كى نظر ميں بدكارى ثابت ہوجائے تب تو قاتل كوسزا ميں كوئى رعايت مل سكتى ہے، وگرنہ صرف يارى دوستى كى بنا پر كوئى عورت يا مرد قتل كا حق دار نہيں بن جاتا- سزا ميں رعايت كے لئے علما نے جہاں ثبوت كى بحث كى ہے، وہاں يہ بهى ضرورى ٹھہرايا ہے كہ مقتولہ يا مقتول كا جرم واقعتا اسى درجہ سنگين ہونا چاہيے- حتىٰ كہ اگر كنوارا مرد يا كنوارى عورت بدكارى ميں مارے جائيں تو ايسى صورت ميں بهى عائد ہونے والى سزا سے زيادہ دينے پر قاتل كو تاوان /جرمانہ ادا كرنا ہوگا- امام شافعى لكھتے ہيں:

«والرجل ثيب والمرأة غير ثيب فلا شي ءفي الرجل وعليه القود في المرأة ولو كان الرجل غيرثيب والمرأة ثيبًا كان عليه في الرجل القود ولا شي ءفي المرأة» (الامّ از امام شافعى:٦/٢٦)

"مفہوم: لازمى ہے كہ ايسا مقتول شادى شدہ ہو- مجرم يا مجرمہ كے كنوارا ہونے كى صورت ميں قاتل كو تاوان ادا كرنا ہوگا-"

اگر مقتول مرد يا عورت بدكارى سے معصوم ہوں تو ايسى صورت ميں قاتل كو قصاص ادا كرنا ہوگا- يا عورت پر جبر كيا گيا ہو تو تب بهى اس كو قتل كرنے پر قاتل قصاص كاسزاوار ٹھہرے گا- علامہ ابن قدامہ مقدسى فرماتے ہيں :

"وإذا وجد رجلاً يزني بامرأته فقتله فلا قصاص عليه ولا دية لما روي أن عمر يتغدى يوما ... وإذا كانت المرأة مطاوعة فلا كان عليه فيها وإن كانت مكرهة فعليها القصاص... الخ" (المغنى:٨/٣٢٢)

"جب كوئى شخص كسى آدمى كو اپنى بيوى سے بدكارى ميں مشغول پائے اور اس كو قتل كردے تو ايسى صورت ميں قاتل پر كوئى قصاص يا ديت نہيں جيسا كہ حضرت عمر كا واقعہ اسى پر دلالت كرتاہے جب آپ بیٹھے كهانا كها رہے تهے كہ ايك شخص خون ميں لت پت تلوار لے كر آيا اور اس نے كہا كہ ميں نے اپنى بيوى كى رانوں كے درميان جو ديكها اُسے تلوار ماردى تو حضرت عمر نے ا س كا خون رائيگاں قرار ديا-

مزيد برآں اگر عورت برضا و رغبت بدكارى ميں شريك تهى تو شوہر پر اس كے قتل ہوجانے پر كوئى تاوان نہيں- بالفرض وہ عورت مجبور تهى تو شوہر پر قصاص عائد ہوگا-"

ثبوت نہ دينے كى صورت ميں سزا

غيرت كے نام پر جس قتل كے بارے ميں قاتل ثبوت نہ دے سكے تو اس كے بارے ميں صحابہ كرام كے فيصلے درج ذيل ہيں :

(1)حضرت على سے مروى ہے كہ ملك شام ميں ابن خيبرى نامى ايك شخص نے اپنى بيوى كے ساتھ ايك آدمى كو ديكها تو اس نے موقع پانے پر اُنہيں قتل كرديا- جب يہ قصہ حضرت معاويہ كى خدمت ميں پيش ہوا تو انہيں اس كے فيصلے ميں دقت پيش آئى- چنانچہ انہوں نے ابوموسىٰ كو لكها كہ حضرت على سے يہ فيصلہ كروا ديں تو حضرت على نے فرمايا:

"يہ واقعہ ہمارى سرزمين ميں پيش نہيں آيا، مجهے اس كى پورى تفصيلات بتاوٴ- تفصيلات كا علم ہونے پر حضرت على نے فرمايا: اگر يہ قاتل چا رگواہ نہ لائے تو اُسے پورى سزاملے گى-"

(موطأ:٢/٧٣٧،٧٣٨ و سنن كبرىٰ بيہقى:٨/٢٣١، ٣٣٧ و مصنف عبدالرزاق:٩/٤٣٣)

اس حديث كى سند صحيح ہے اور امام شافعى نے بهى اس كو دليل بنايا ہے- (الامّ:٧/١٨٢)

(2) ابن حزم كہتے ہيں كہ ميں نے عطا سے پوچها كہ آپ كا اس آدمى كے بارے ميں كياخيال ہے جو اپنى بيوى كے ساتھ كسى شخص كو ملوث پائے، پهر قتل كردے، كيا مقتول كا قتل رائيگاں جائے گا؟ تو عطا نے كہا : اس صورت ميں ہى جب ثبوت مل جائيں، وگرنہ نہيں-"

اگلى حديث ميں ايسى ہى بات مجاہد سے بهى منقول ہے-(مصنف عبدالرزاق:٩/٤٣٣)

(3)حكم سے مروى ہے كہ عبد ِقيس كا ايك آدمى ايك عورت كے پاس آياكرتا تها- عورت كے خاوند نے اس آدمى كوبارہا روكا اور لوگوں كو اس روك ٹوك پرگواہ بهى بنايا (ليكن وہ باز نہ آيا) ايك روز وہ شخص آيا ہوا تها كہ شوہر نے اسے ديكھ ليا اور قتل كرديا- يہ معاملہ حضرت مصعب بن زبير كے پاس لے جايا گيا تو انہوں نے كہا:اگر حضرت عمر نے اسے ديت نہ دلوائى ہوتى تو ميں بهى ديت نہ دلواتا- چنانچہ اُنہوں نے شوہر سے اُس آدمى كى ديت٭ دلوائى-

(4) ہانى بن حزام كى روايت ہے كہ ايك شخص نے اپنى بيوى كے ساتھ ايك آدمى كو پايا تو اس نے دونوں كو قتل كرديا تو حضرت عمر نے اس آدمى كو قيد ميں ڈالنے اور مقتولين كى ديت ادا كرنے كا حكم ديا- (مصنف عبدالرزاق:٩/٤٣٥،٤٣٦) مسند احمد كى روايت ميں صرف آدمى كو قتل كرنے كا ذكر ہے-(العلل ومعرفة الرجال روايت عبداللہ بن احمد: ١٣٧٢) جبكہ مصنف ابن ابى شيبہ (٥/٤٥٠)ميں مرد عورت دونوں كے قتل كا تذكرہ ہے-

اسلام قانونى ثبوت كے بغيرقتل كے مجرم كو سزا سے كوئى رعايت نہيں ديتا چنانچہ ابن عبدالبر نے "ايسے شخص كوقتل كى سزا دينے پر اجماع كا دعوىٰ كيا ہے جو بدكاروں كو قتل توكردے، ليكن اسكے گواہ يا ثبوت لے كرنہ آئے- يہ مسالك ِاربعہ كا متفقہ موقف ہے-" (التمہيد:٢١/٢٦٠)

سزا كے بارے ميں فقہا كا موقف

 نيل الاوطار ميں امام شوكانى  نے اس سلسلے ميں فقہا كے مختلف موقف جمع كرديے ہيں جس كى رو سے جمہور علما كے نزديك اگر بدكارى ثابت ہوجائے تو قتل غيرت كے ملزم كو قصاص ميں قتل نہ كيا جائے- البتہ وقوعہ كے ثبوت كے بارے ميں ان ميں اختلاف ہے : امام احمد بن حنبل اور اسحق بن راہويہ كے نزديك دو گواہ لانے كافى ہيں جبكہ جمہور فقہا كے مطابق چار گواہ- بعض فقہا نے اس ميں مقتول كے شادى شدہ ہونے كى شرط بهى لگائى ہے- (٦/٢٢٦)

 علامہ ابن قيم جوزى اس سلسلے ميں ائمہ فقہا كاموقف بيان كرتے ہيں :

"امام شافعى اور ابوثور كے مطابق اگر مقتول شادى شدہ ہو اور وقوعہ ثابت ہوجائے تو مقتول كا خون رائيگاں جائے گا،كيونكہ يہ حد كے قائم مقام ہوجائے گا...امام احمد بن حنبل اور اسحق بن راہويہ كے مطابق اگر قاتل وقوعہ كے دو گواہ لے آئے تو مقتول كا خون رائيگاں جائے گا ... امام مالك سے اس سلسلہ ميں دو قول ہيں: ان كے شاگرد ابن حبيب كے مطابق اگر مقتول شادى شدہ ہو اور وقوعہ ثابت ہوجائے تو مقتول كا خون رائيگاں جائے گا،ان كے دوسرے شاگرد ابن قاسم كے مطابق مقتول كا خون رائيگاں جانے كے لئے صرف وقوعہ كا ثبوت ہى كافى ہے- شادى شدہ اور غير شادى شدہ ہونے سے كوئى فرق نہيں پڑتا- البتہ كنوارے كے قتل كى صورت ميں ديت دينا بہتر ہے- " (زاد المعاد:٥/٤٠٧)

واقعہ كا مستند ثبوت كيسے ؟

(1)مقتولين كا دورانِ فعل قتل ہوجانا خود اس امر كا ثبوت ہے كہ وہ اس گناہ كے مرتكب تهے جيساكہ نبى كريم كا فرمان ہے :

«كفى بالسيف 'شا') يريد أن يقول شاهدا... الخ» (كنز العمال: ١٣٦١٣)

"تلوار بطورِ'گواہ' كافى ہے آپ گواہ كہنا چاہتے تهے- (یعنى دونوں برا كام كرتے ہوئے مارے گئے تو ان كا موقعہ پر مارا جانا ہى ان كے جرم كى شہادت ہے) "

ايسے ہى حضرت عمر كے پاس آنے والا واقعہ جب قاتل نے دورانِ بدكارى دورانوں كے درميان تلوار ماركر قتل كرديا تها-(ديكهئے صفحہ نمبر٤٤)

(2)اس كے دلائل گواہان كى بجائے ثانوى شہادت /قرائن سے حاصل ہوجائيں جيسا كہ قبیلہ ہذيل كے مہمان نے لونڈى سے برى نيت كى اور اس نے پتهر مار كر اس كا جگرپہاڑ ديا تو حضرت عمر نے تفتيش كرنے كے بعد لونڈى كى بات كو درست مانا او رچهوڑ ديا-(صفحہ نمبر٤٢)

ايسے ہى انصارى بزرگ كى بيٹى نے اَمرد(داڑهى آنے سے قبل بالغ) لڑكے كو قتل كركے پہلے اسے پهر اس كے نومولود بچے كو راستے ميں پهینك ديا اور حضرت عمر نے بذاتِ خود جاكر تحقيق كى اورعورت كو مجبور قرار ديا-

(3) اس كا خود اعتراف مقتول كے مرنے سے قبل يا مقتولہ كے اوليا سے حاصل ہوجائے- فقہ ِمقارن كى كتاب'المغنى' ميں ہے :

«وإن اعتر ف الولي بذلك فلا قصاص عليه ولا دية لما روي عن عمر»

"اگر مقتولہ كا ولى خود جرم زنا كا اعتراف كرلے توقاتل پر نہ قصاص ہوگا اور نہ ہى ديت، جس كى دليل حضرت عمر كا واقعہ ہى ہے-"( ١١/٤٦١ و٦٤٢)

او راگر ولى انكار كردے تو تب مجرم كو گواہ ہى لانا ہوں گے- المغنى (٨/٣٢٢) ميں ہے :

«وإذا قتل رجلا وادعٰى أنه وجده مع امرأته فانكر وليها فالقول قول الولي»

(4)بعض فقہا كے مطابق اس كے لئے دو گواہ كافى ہيں، اور يہ حنابلہ كا موقف ہے- چنانچہ الموسوعة الفقہية ميں ہے :

«عند الحنابلة أنه يكفى شاهدان وإن البينة تشهد على وجود الرجل على المرأة وليس على الزنا» (الموسوعة الفقهية: ٢٨/١١٠)

"حنابلہ كے نزديك دو گواہ كافى ہيں، كيونكہ گواہى تواس امر كى مطلوب ہے كہ يہ وقوعہ ہوا تها نہ كہ زنا كى گواہى... "

فقہ حنبلى كى ايك او ركتاب كشاف القناع ميں اس سے زيادہ صراحت ہے كہ

«والبينة شاهدان لأن البينة تشهد على وجوده مع المرأة وهذا يثبت بشاهدين وإنما الذي يحتاج إلى أربعة الزنا وهذا لايحتاج إلى إثبات الزنا»

"دو گواہ سے ثبوت حاصل ہوتاہے، كيونكہ ثبوت اسى امر كامطلوب ہے كہ مقتول عورت كے ساتھ موجودتها اور يہ ثبوت دو سے بهى حاصل ہوسكتا ہے- جن لوگوں نے ٤ كى گواہى ضرورى قرار دى ہے وہ زنا كى گواہى ميں اُلجھ گئے ہيں-" (٦/١٥٦)

(5)اكثر فقہا كا خيال ہے كہ چار كى گواہى سے ہى واقعہ كا ثبوت حاصل ہوگا، كيونكہ نبى كريم نے حضرت سعد سے چار گواہ لانے كا پوچها تو آپ نے 'ہاں' فرمايا - ديكهئے صفحہ ٣٠

علاوہ ازيں حضرت على نے بهى چار گواه طلب كئے تهے ، وگرنہ انہوں نے كہا تها كہ ميں پورى پورى سزا دوں گا- ديكهئے صفحہ نمبر٥٢

تجزيہ وتبصرہ

كسى مسئلہ كاشرعى حكم او رچيز ہے اور اس كى شرعى اور قانونى سزا اورچيز؛كيونكہ كسى معاملے كے حكم اور اُصولى فيصلہ ميں گويا انتظامى طور پر اس گناہ كو روكنے كے طريقی بهى شامل ہوتے ہيں جبكہ اس كى سزا ميں انصاف كے تقاضوں كے مطابق مجرم كو جائز سزا ہى دى جاتى ہے- ايسا ہى فرق عام مسئلہ اور فتوىٰ كے بارے ميں بهى ہے كہ مسئلہ تو ٹهوس اور جامع بيان كيا جاتاہے ليكن جب واقعہ پيش آجاتا تو اس سلسلے ميں جائز رعايت سائل كا حق بنتى ہے-

چونكہ غيرت كے نام پر قتل كرنا بهى جرم ہے، اس لئے شریعت ميں اس امر كى كوئى گنجائش نہيں كہ چند دنوں كے بعد زنا كاروں كو قتل كرنے كى باقاعدہ منصوبہ بندى كى جائے- جہاں تك اس آدمى كى سزا كاسوال ہے جو ايسے قتل كا ارتكاب كر لے تونبى ﷺ كا انتظامى حكم تو بالكل واضح ہے اور ہمارا اس معاملہ كو 'سزا سے تعبیر' كرنے كا مطلب ہى اس كو جرم قبول كرنا ہے-يہ كہنا درست نہيں كہ اسلام نے قتل غيرت كى گنجائش دى ہے، البتہ سزا كى حد تك ملزم سے پورا پورا انصاف كيا جانا چاہئے اور اس كے جرم كى سنگينى كے مطابق ہى اس كو سزا دى جانا چاہئے-

اس جرم كى نوعيت كو سمجھنے كے لئے ايك آسان مثال ليجئے كہ ايك شخص (سليم) نے دوسرے شخص (جاويد) كى ٹانگ كاٹ دى، جاويد كوبهى چند ماہ بعد موقع ملا اور اس نے بهى جواباً سليم كى ٹانگ كاٹ دى- اس صورت ميں كيا بعد ميں ٹانگ كاٹنے والے (جاويد) كو ٹانگ كاٹنے كا مجرم سمجھا جائے يا صرف اس جرم كاكہ اس نے اپنا قصاص خود وصول كيوں كيا، جبكہ قصاص عدالت كے ذريعے ہى وصول كرنااس كے لئے جائز تها-

اس كا فيصلہ اس امر سے ہوگا كہ جاويد كو كيا سزا دى جاتى ہے، اگر تو اس كى سزا يہ ہے كہ اس ٹانگ كاٹنے كے بدلے قصاصاً اس كى دوسرى ٹانگ بهى كاٹ دى جائے تو پتہ چلا كہ يہ شخص قصاص كا مجرم ہے ،ليكن يہ فيصلہ كوئى جج نہيں دے گا بلكہ عدالت ايك ماہ بعد ٹانگ كاٹنے والے جاويدسے صرف يہ تقاضا كرے گى كہ وہ ثابت كرے كہ سليم نے ہى اس كى بهى ٹانگ كاٹى تهى-اس كے بعد ان دونوں كے قصاص كا معاملہ تو آپس ميں صاف ہوگيا-

قصاص كى صورت ميں يہ امر بهى واضح رہنا چاہيے كہ مجرم سے قصاص لينا اصل ميں مظلوم كا ہى حق ہے جو ظلم كى صورت ميں اسے ظالم كے خلاف حاصل ہوا ہے- مظلوم كا حق ہونے كى دلیل يہ ہے كہ اُسے ہى قاتل كو معاف كرنے كا حق حاصل ہوتا ہے-(اسلام كا قانونِ فوجدارى : ٢/١٧١،٣٤٢) اور يہ بهى وارث (ولى دم) كا حق ہے كہ وہ عدالت ميں قاتل كوخود قتل كرے- (ايضاً: ١/٥٦٣، ٢/١٥٠) عدالت كا تعلق يہاں صرف اس قدر ہے كہ اس نے جہاں اس حق كو وصول كرنے ميں مظلوم كى مدد كرنا ہے، وہاں عدل وانصاف كے تقاضوں كى تكميل اور نظم وضبط برقرار ركهنے كے ليے ظالم كے جرم كا تعین بهى اُسے ہى كرنا ہے- جرم كے تعین كا مرحلہ اگر بدلہ لينے كے بعد بهى حاصل ہو جائے اور مظلوم كو بدلہ لينے ميں عدالت كى معاونت كى ضرورت بهى نہ رہے تو ايسى صورت ميں عدالت كى حيثيت صرف نظم وضبط برقرار ركهنے كے ايك ادارہ كى بن جاتى ہے-ليكن ايسى صورتحال تمام جرائم ميں نہيں ہوتى بلكہ بعض صورتوں ميں ظالم عام معاشرے كے خلاف يا اللہ كى كى حدوں كو توڑنے كا مجرم ہوتا ہے،ايسى صورتحال ميں عدالتوں كا كردار اور ضرورت قصاص كے واقعہ سے كہيں زيادہ ہوتى ہے-

جہاں تك اس انتظامى / عدالتى حق كا تعلق ہے تو اس شخص نے ايك انتظامى جرم يہ كياہے كہ قانون كوہاتھ ميں لے كر اپنا فيصلہ خود كيوں كيا؟ عدالت اُسے اس انتظامى جرم كى كوئى بهى تعزيرى سزا دے سكتى ہے يا چاہے تو معاف بهى كرسكتى ہے جيسا كہ سابقہ فيصلوں ميں حكامِ وقت نے اس انتظامى جرم كے بدلے اس كو كوئى تعزيرى سزا نہيں دى- ايسے ہى باقى تمام فيصلوں ميں جہاں سزا كا عنديہ بهى ظاہر كيا گيا، وہ صرف ثبوت مہيا كرنے تك ہے، ورنہ نہيں جس كا مطلب يہ ہے كہ ان عدالتوں نے اپنا تعزيرى حق چهوڑ ديا-

چنانچہ قواعد ِفقہيہ كى مشہور كتاب الأشباہ والنظائر ميں 'كن گناہوں پر تعزير كى سزا نہ دى جائے؟ 'سے بعض مسائل كو مستثنىٰ كيا گيا ہے

الرابعة: إذا رأى من يزني بزوجته وهو محصن فقتله في تلك الحالة فلا تعزير عليه لأجل الحمية والغيظ (ص: ٤٩٠)

" چوتهى (مستثنىٰ) صورت يہ ہے كہ كوئى انسان اپنى بيوى كے ساتھ كسى كو زناكرتا پالے اور وہ زانى شادى شدہ ہو تو اس كو قتل كردے تو ايسى حالت ميں اسے حميت وغيرت او رغصہ كى وجہ سے (معذور سمجھ كر)كوئى تعزير نہ دى جائے- "

غيرت كے نام پر قتل كى مثال بهى ايسے ہى ہے كہ ايك شخص نے دوسرے كے حرم(عزت) پر ہاتھ ڈالا، يا اس كى بيوى نے اپنے علاوہ اپنے شوہر كى عزت بهى پامال كى- شوہر كا فرض يہ تها كہ وہ اس معاملہ كوعدالت ميں لے جاتا، ليكن اس نے يہ معاملہ خود نمٹا ديا جو اس كا انتظامى جرم ہے- ايسى صورت ميں شوہر كو كيا قصاصاً قتل كيا جائے يا اس كو اپنے ساتھ مذكورہ زيادتى ثابت كرنے پر ہى چهوڑ ديا جائے اور ضرورى ہو تو انتظامى سزا (تعزير) عائد كى جائے-

اسلامى ماہر قانون جسٹس عبد القادر عودہ اپنى كتاب ميں لكھتے ہيں:

"قتل كے سزا وار شخص كو خود قتل كرنا حكومت كے اختيارات پر دست درازى ہے، اس لئے قاتل كو باعتبار قاتل تو سزا نہيں ملے گى، البتہ قانون كوہاتھ ميں لينے كى سزا ضرور ملے گى، يہى مسالك ِاربعہ كى راجح رائے ہے-" (اسلام كا فوجدارى قانون: ٢/١٩٣)

شادى شدہ زانى كى سزا رجم يعنى قتل ہے-اگر كوئى شخص اسے قتل كردے تو قاتل پر قتل كى سزا نہيں بشرطيكہ قاتل قانونى طور پر ان كا اثباتِ جرم كردے اور اگر نہ كرسكے تووہ قتل كى سزا پائے گا- پہلى صورت ميں قانون كو ہاتھ ميں لينے پر تعزيرى سزا دى جائے گى- (٢/١٩٦)

غيرت كے نام پر ہونے والے قتل ميں قاتل كے انتظامى جرم كا تذكرہ اوپر گزر چكا ہے اور اس كے بارے ميں مسلم عدالتوں كے رجحانات بهى ذكر ہوچكے ہيں-غيرت كے نام پر اس قتل كے جرم ميں دوسرا جو تصور زير بحث آرہا ہے، وہ يہ ہے كہ مقتول معصوم الدم (پاكيزہ خون) نہيں- قاتل كو اپنے گناہ كى بهرپور سزا اس وقت ملتى ہے جب مقتول معصوم ہو- اگر كسى مقتول نے سنگين جرم كا ارتكاب كيا ہو توگويا وہ اسلامى معاشرے كا بهى مجرم ہوتا ہے، ايسى حالت ميں بهى قاتل كو رعايت ملتى ہے-اس كى مثال ايسى ہى ہے كہ كوئى انسان كسى قاتل كو موقع ملنے پر قتل كردے، حالانكہ اس قاتل كا قتل اس كا فرض نہ تها بلكہ عدالت كى ذمہ دارى تهى-

"جن لوگوں كے خون حلال ہيں(یعنى وہ معصوم الدم Protectedنہيں)، اگر كوئى شخص اُنہيں قتل كردے تو وہ قاتل متصور نہيں ہوگا-كيونكہ رائيگاں خون كا قتل باعتبار فعل قتل، جرم متصور نہيں ہوتا-چونكہ بذاتِ خود يہ فعل(قتل) جائز تها-ليكن چونكہ ان افراد كا قتل رياست اور اقتدارِ عامہ كى ذمہ دارى تهى، اس لئے ايسے غير معصوم الدم افراد كو قتل كرنا اقتدارِ عامہ پر دست دراز ى ہے، اسى لئے ايسے قاتل كو باعتبار قاتل تو سزا نہيں دى جائے گى، البتہ انتظامى جرم كى سزا اُنہيں ضرور ملے گى- اور يہى مسالك ِاربعہ كى رائے ہے-" (اسلام كا فوجدارى قانون: ٢/١٩٣)

اسى اُصول كى بنا پر اگر قاتل كنوارى عورت كو بدكارى كى پاداش ميں بعد از بدكارى قتل كردے توچونكہ كنوارى عورت كى سزا رجم نہيں بلكہ ١٠٠كوڑے ہے، اس ليے قانوناً قاتل پر قصاص لاگوہونا چاہيے- ليكن اس سے قصاص نہيں ليا جائے گا،كيونكہ مقتولہ عورت سنگين گناہ كى مرتكب ہوكر معصوم نہيں رہى- اس كے گناہ گار ہونے كا فائدہ قاتل كو يوں ملے گا كہ اس پر ديت يا تاوان عائد ہوگا- البتہ مجبور عورت كو قتل كرنے والے سے قصاص ہى ليا جائے گا كيونكہ وہ عورت معصوم الدم ہے-جب ايسى رعايت يا شبہ پيدا ہوجائے تو اسلامى شریعت ميں قتل كى سزا قصاص سے كم ہوكر ديت تك آجاتى ہے- گذشتہ فيصلہ جات ميں كنوارے يا مشتبہ مقتولين كے قاتل پر ديت عائد كرنے كى يہى وجہ ہے-

اس تمام صورتحال ميں زيادہ سنگینى اس وقت پيدا ہوتى ہے جب ملك ميں عدل وانصاف بہت مشكل ہو يا اس كا دورانيہ طويل ہو، يا عام آدمى كى دسترس سے باہر ہو-بالخصوص ان حالات ميں جب عدالتيں اسلامى نظام كے بجائے غيراسلامى قوانين سے فيصلے كرتى ہوں تو ايك مسلمان ان سے فيصلہ كروانے ميں ويسے ہى ہچكچاتا ہے-جيسا كہ نكاح ميں والدين كو نظر انداز كرنے كى لگاتار عدالتى روش سے تنگ آكر لوگوں نے يہ فيصلے عدالتوں كے بجائے خود ہى نمٹانا شروع كرديے ہيں-

ايسى صورتحال ميں عامى شخص اس عدالتى جھنجٹ ميں پڑنے كى بجائے قانون كو خود ہاتھ ميں لينے پر مجبور ہوجاتا ہے- جو لوگ پاكستانى معاشرے كو قانون كى پابندى اور امير كى اطاعت كا درس ديتے ہيں، انہيں يہ بهى ديكهنے كى زحمت گوارا كرنا چاہئے كہ نہ يہ قانون اسلامى ہے اور نہ يہ اميرالمومنين كى خلافت ہے-اس ملك ميں عدالتوں ميں لے جانے والے جھگڑوں سے جس طرح ايك مسلمان كى عزت سربازار رسوا كى جاتى ہے اوراخبارات ميں نمك مرچ لگا كر جهوٹے سچے قصے بيان كئے جاتے ہيں اور فيصلے ليتے زندگياں بيت جاتى ہيں، اس سے عوام الناس كو قانون ہاتھ ميں لينے كى ہى حوصلہ افزائى ہوتى ہے-جسٹس عودہ كى رائے يہ ہے :

"امام مالك، ابوحنیفہ اور احمد اس امر پرمتفق ہيں كہ شادى شدہ زانى كے قاتل پر قصاص وديت نہيں ہے-كيونكہ اس كا قتل بوجہ زنا كے جائز ہوگيا-اب چونكہ سزائے زنا 'حد' كى قبیل سے ہے اور حدود ميں نہ تو تاخير ہوسكتى ہے اور نہ انہيں حكومت معاف كرسكتى ہے، اس لئے ايسے زانى كا قتل واجب ہے جو گناہ كو ختم كرنے اور حدود اللہ كو نافذ كرنے كيلئے ناگزير ہے-

شادى شدہ زانى كا قاتل مستوجب ِسزاتو نہيں ، البتہ نظامِ حكومت كو مجروح كرنے كى بنا پر اس پر گرفت ہوگى- بشرطیكہ اقتدار اس فرض كو ادا كررہا ہو، اگر اقتدار نے اس فرض كو چهوڑا ہواہے يا اس سے گريز كررہا ہے تو جو شخص اس فرض كو ادا كرے، اسے اس بنياد پر پكڑا نہيں جاسكتا كہ اس نے نظامِ حكومت كو مجروح كيا ہے-" (ايضاً: ١/٦٤٠)

الغرض غيرت كے نام پر ہونے والے قتل كے مجرم كو وقوعہ ثابت ہوجانے پر قصاص كى سزانہيں دى جائے گى بلكہ وہ صرف انتظامى جرم كى سزا كا مستحق ہے، جس كى سزا تعزيرى ہے كيونكہ مقتول كو معصوم تصور نہيں كيا جانا چاہئے- البتہ جہاں ثبوت نہ ملے اور مجرم معصوم ہو، وہاں قاتل كو بعض صورتوں ميں قصاص اور بعض صورتوں ميں ديت دينا ہوگى-

ياد رہے كہ دورانِ بدكارى دفاع يا نہى منكر كى صورت ميں تمام فقہا كا اتفاق ہے سوائے امام شافعى كے ايك قول كے جس كى رو سے وہ اسى دفاع ميں قتل كرنا جائز سمجھتے ہيں جب دخول عملاً حاصل ہوچكا ہو-ايسے ہى اس امر ميں اجماع ہے كہ وقوعہ كے بعد قتل كرنے والا اگر ثبوت نہيں دے پاتا تو اس كو قصاصاً قتل كيا جائے گا، اگر ثبوت ِواقعہ مل جاتا ہے تو ايسى صورت ميں بهى تمام فقہا كا اتفاق ہے كہ اُسے قانون كو ہاتھ ميں لينے كا مجرم سمجھا جائے- گويا يہ تينوں مسائل فقہا ميں اتفاقى ہيں-بدكارى كے مرتكبین كى ايسى سزا كے بارے ميں حنابلہ كاموقف بهى يہى ہے ليكن اس كى وجہ وہ دفاع كے تصور كى بجائے اس كى يہى سزا ہونا بتاتے ہيں- يعنى ان كا اختلاف اس قتل كى توجيہ كے بارے ميں تو ہے، نتيجہ پر سب فقہا متفق ہيں-

حنابلہ اور علامہ ابن تیمیہ كا موقف

اب تك كى بحث ميں دو موقف سامنے آئے ہيں ايك تو دورانِ بدكارى دفاع اور نہى منكر كى قبیل سے، جس ميں دفاع كرتے كرتے قتل كى نوبت بهى آسكتى ہے- اور دوسرا موقف وقوعہ بدكارى كے بعد مرتكبين كو قتلكرنے كا ہے- ایسیقاتل كو ثبوت مل جانے كى صورت ميں قانون ہاتھ ميں لينے كا مجرم قرار دے كر سزا دى جائے گى، بصورتِ ديگر اس سے قصاص ليا جائے گا-

يہاں ايك تيسرا موقف بهى ہے جس ميں دورانِ بدكارى يا اس كے بعد كا فرق كرنے كى بجائے كسى كى عزت كى دخل اندازى كو سنگين ترين جرم تصو ركرتے ہوئے اس كى سزا ہى يہ قرار دى گئى ہے كہ ايسے شخص كو قتل كرديا جائے كيونكہ ايسے آدمى كا يہى انجام ہونا چاہئے- نہ تو دورانِ فعل روكنے والے كو تدريج سے روكنے كى كوئى ضرورت ہے او رنہ بعد از فعل اس كو قتل كرنے والا انتظامى سزا كا حق دار ہوگا-البتہ يہ ضرور ہے كہ اسے اس وقوعہ كے قانونى طريقہ پر ثابت كرنا ہوگا- يہ موقف حنبلى علما نے اختيار كيا ہے- ايسے ہى علامہ ابن تيميہ اس مسئلہ كو اس جرم كى سزا كے باب سے قرار ديتے ہيں اور آپ كا يہ موقف غيرمعمولى اہميت ركهتا اور آپ كى گهرى فقاہت كا آئينہ دار ہے- فرماتے ہيں :

«ليس هذا من باب دفع الصائل بل من باب عقوبة المعتدي الموٴذي وعلى هذا فيجوز له فيما بينه وبين الله تعالى قتل من اعتدىٰ على حريمه سواء كان محصنًا أو غير محصن معروفا بذلك أو غير معروف كما دلّ عليه كلام الأصحاب وفتاوٰى الصحابة» (زاد المعاد: ٥/٤٠٦)

" اس مسئلہ كا تعلق حملہ آور كے دفاع كى قبیل سے نہيں،بلكہ اللہ كى حد سے بڑهنے والے اور مسلمان كى عزت ميں دخل دينے والے ظالم مجرم كى سزا سے ہے- ايسے شخص كے لئے اپنى بيوى سے بدكارى كرنے والے كو قتل كرنا حلال ہے اور يہى اس كى سزا ہے جس ميں شادى شدہ يا غير شادى ہونے كا كوئى فرق نہيں، نہ ہى اس امر كا كہ وہ (زانى شخص) اس فعل بد كى شہرت ركهتا ہے يا نہيں، جيسا كہ ہمارے حنابلہ كا كلام اور صحابہ كے فتاوىٰ اسى پر دلالت كرتے ہيں- "

حنابلہ اور علامہ ابن تيميہ كے اس موقف كے دلائل بڑے قوى ہيں، ان كے شاگردوں نے بهى اسى كواختيار كيا ہے-حنابلہ كا يہ كہنااسى موقف كى بنا پر ہے كہ ايسى صورت ميں ثبوتِ واقعہ كے لئے صرف دو اشخا ص كافى ہيں،كيونكہ مسئلہ زنا كى سزا كا نہيں بلكہ صرف وقوعہ كے ثبوت كا ہے جس كے لئے دو گواہ بهى كافى ہوتے ہيں-اسى موقف كى رو سے مجرم كے شادى شدہ يا غير شادى شدہ ہونے كى تفصيل بهى غيرضرورى ہے، ايسے ہى مجرم كو روكنے ميں تدريج اختيار كرنا بهى لازمى نہيں كيونكہ ايسے جرم كى يہ ايك مستقل سزا ہے-

علامہ ابن تیمیہ سے پوچها گيا كہ اگر كوئى شخص اپنى بيوى كے پاس اجنبى شخص كو پائے اور اس بنا پر اسكو قتل كردے تو كيا ايسى صورت ميں اس پر بيوى كى ديت عائد ہوتى ہے؟ تو فرمايا:

«إن كان قد وجدهما يفعلان الفاحشة وقتلهما فلا شيء عليه في الباطن في أظهر قولي العلماء وهو أظهر القولين في مذهب أحمد وإن كان يمكنه دفعه عن وطئها بالكلام كما ثبت في الصحيحين عن النبيﷺ أنه قال لو أن رجل اطَّلع في بيتك  ففقأت عينه ما كان عليك شيء ونظر رجل مرة في بيته فجعل يتبع عينه بمدرى لوأصابته لقلعت عينه وقال إنما جعل الاسيتذان من أجل النظر وقد كان يمكن دفعه بالكلام وجاء رجل إلى عمر بن الخطاب وبيده سيف متلطخ بدم قد قتل امرأته فجاء أهلها يشكون عليه فقال الرجل: إني قد وجدت لكاعًا قد تفخدها فضربت ما هنا لك بالسيف فأخذ السيف فهزه ثم أعاده إليه فقال: إن عاد فعُد.

ومن العلماء من قال يسقط القود عنه إذا كان الزاني محصناً سواء كان القاتل هوزوج المرأة أوغيره كما يقوله طائفة من أصحاب الشافعي وأحمد

والقول الأول إنما مأخذه أنه جنٰى على حرمته فهو كفقء عين الناظر وكالذي انتزع يده من فهم العاض حتى سقطت ثناياه فأهدر النبي دمه وقال: يدع يده في فيك فتقضمها كما يقضم الفحل؟ وهذا الحديث الأوّل القول به مذهب الشافعي وأحمد.

ومن العلماء من لم يأخذ به قال: لأن دفع الصائل يكون بالسهل والنص يقدم على هذا القول وهذا القول فيه نزاع بين السلف والخلف فقد دخل اللص على عبدالله بن عمر فأصلت له السيف قالوا: فلولا أنا نهيناه عنه لضربه وقد استدل أحمد بن حنبل لفعل ابن عمر هذا مع ما تقدم من الحديثين وأخذ بذلك.

وأما إن كان الرجل لم يفعل بعد فاحشة ولكن وصل لأجل ذلك فهٰذا فيه نزاع، والأحوط لهٰذا أن يتوب من القتل من مثل هذه الصورة وفي وجوب الكفارة عليه نزاع، فإذا كفّر فعد فعل الأحوط فإن الكفارة تجب في قتل الخطإ وأما قتل العمد فلا كفارة فيه عند الجمهور: كمالك وأبي حنيفة وأحمد في المشهور عنه،وعليه الكفارة عند الشافعي وأحمد في الرواية الأخرىٰ» (مجموع فتاوىٰ ابن تيميہ :٣٤/١٦٨،١٦٩)

"حمد و ثنا كے بعد! اگر تو اُس آدمى نے ان دونوں كو بدكارى كى حالت ميں ديكھ ليا اور اس امر كے باوجود كہ وہ شخص(قاتل) ان دونوں كو بات چيت كے ذريعے اس فعل بد سے روكنے پر قادر ہو، اُس نے اپنى بيوى كو قتل كرديا تو ايسى صورت ميں اكثر علما كے خيال ميں عنداللہ اس پر كوئى ديت (يا تاوان وغيرہ) عائد نہيں ہوتى- حنابلہ كا مشہور ترين موقف بهى يہى ہے جس كى دلیل صحیحین ميں نبى كريم ﷺ كا يہ فرمان ہے كہ اگر كوئى شخص تيرے گهر ميں جهانكے اور تو (اس كى پاداش ميں) اسكى آنكھ پهوڑ دے تو تجھ پر كوئى تاوان عائد نہيں ہوتا- (بخارى ومسلم)

(2)اسى سے ملتا جلتا نبى كريم ﷺ كا واقعہ ہے كہ "نبى كريم ﷺ كے گهر ميں ايك شخص نے جهانكا تو آپ نے چبھنے والى كسى شے سے اس كى آنكھ پهوڑنے كى كوشش كى،اگر وہ اس كو لگ جاتى تو لازماً اس كى آنكھ ضائع ہوجاتى-اور آپ نے فرمايا : "اجازت لينے كا مقصد يہى ہے كہ جهانكنے سے باز رہا جائے-" (بخارى و مسلم) ياد رہے كہ نبى كريم ﷺ اس شخص كو كلام كے ذريعے (اس جهانكنے سے) روك سكتے تهے، ليكن آپ نے ايسا نہ كيا-

(3)ايسا ہى واقعہ حضرت عمر بن خطاب كے دور ميں پيش آيا كہ ايك شخص عمر بن خطاب كے پاس اس حال ميں پہنچا كہ اس كے ہاتھ ميں خون آلود تلوار تهى جس سے اس نے اپنى بيوى كو قتل كيا تها، اس كے (پیچھے پیچھے بيوى كے) اہل خانہ اس كى شكايت لے كر آپہنچے تو اس آدمى نے كہا: ميں نے ايك پستہ قد آدمى كو اس عورت كى رانوں پر ديكها- چنانچہ ميں نے وہيں پر تلوار سے اسے ضرب لگائى- حضرت عمر نے اس سے تلوار لى ، اُسے لہرايا ، پهر واپس لوٹاتے ہوئے فرمايا: اگر وہ دوبارہ ايسے كريں تو ايسا ہى كرنا"

يہاں بعض علما كى رائے ہے كہ قاتل سے يہ سزا اس صورت ميں ہى ساقط ہوگى جب زانى شخص شادى شدہ ہو اور قاتل كے لئے مقتولہ كا خاوند ہونا يا نہ ہونا كوئى ضرورى نہيں-يہ موقف امام شافعى اور امام احمد بن حنبل كے ساتهيوں نے اختيار كيا ہے-

(ميرے) اس موقف كى بنياد دراصل يہ ہے كہ اس آدمى نے اس شخص(قاتل) كى عزت وحرمت پر دست درازى كى تهى- چنانچہ اسكے ساتھ غلط جگہ ديكهنے والے كى آنكھ كا سا سلوك ہونا چاہئے يا

(4)اس آدمى جيسا سلوك جس نے اپنا ہاتھ كاٹ كهانے والے كے منہ سے كھینچا تو كاٹنے والے كے دو اگلے دانت ٹوٹ گئے تو نبى كريم ﷺ نے ان دانتوں كا قصاص رائيگاں قرار ديا اور فرمايا: "كيا وه تيرے منہ ميں اپنا ہاتھ باقى رہنے ديتا تاكہ تو اسے سانڈ كى طرح چباتا رہتا-" يہ امام احمد بن حنبل اور امام شافعىكے موقف (دفاع ) والوں كى پہلى دليل ہے-

جن علما نے اس موقف كو اختيار نہيں كيا، ان كا خيال ہے كہ دفاع ديگر آسان اقدامات سے بهى ہوسكتاہے اور اس سلسلے ميں نص كا لحاظ ركهنا چاہئے ليكن اس نص كے مفہوم ميں جديد وقديم علما ميں اختلاف ہے- ايك مرتبہ حضرت عبداللہ بن عمر كے گهر ميں چور آ داخل ہوا تو آپ تلوار لے كر اس كى طرف لپكے اور عينى شاہدوں كا كہنا ہے كہ اگر ہم آپ كو پكڑ نہ ليتے تو لازمى تها كہ آپ تلوار سے (چوركى گردن) مار ديتے- امام احمد بن حنبل نے سابقہ احاديث كے ساتھ اس واقعہ كو بهى اپنے موقف كى دليل بنايا ہے-

 جہاں تك اس سوال كا تعلق ہے كہ مضروب شخص نے عملى طور پر بدكارى كا ارتكاب كيا ہو ليكن وہ داخل اس نيت سے ہوا ہو تو ايسى صورت ميں بهى علما كے مختلف موقف ہيں جن ميں سے محتاط ترين موقف يہى ہے كہ ايسے قتل كى صورت ميں قاتل اللہ سے ہى توبہ كرلے-

جہاں تك ايسے قتل كى ديت ادا كرنے كا تعلق ہے تو اس كا ديت ادا كرنا زيادہ محتاط رويہ ہے- ياد رہے كہ ديت قتل خطا ميں عائد ہوتى ہے- جہاں تك قتل عمد كا تعلق ہے تو جمہور علما (مثلاً امام مالك، ابوحنيفہ اور امام احمد كے مشہور موقف) كے مطابق اس قتل پر ديت نہيں دى جاسكتى، البتہ امام شافعى اور امام احمد كے دوسرے موقف كے مطابق ديت ادا كرنے كى گنجائش موجود ہے-"

اس موقف كى تشريح

علامہ ابن تيميہ نے اپنے اس موقف كى دليل ميں وہ واقعات اور فرامين ذكر كيے ہيں جب ايك شخص نے نبى كريم كے گهر ميں جهانكا تو آپ نے اسے آنكھ پهوڑنے كى سزا دينے كى كوشش كى- جبكہ گهر ميں دیكھنا اس قد رسنگين امر نہيں بلكہ آنكھ پهوڑنے والنے نے جهانكنے والے پر ايسے ردّ عمل كا ارتكاب كيا ہے جو باعث ِقصاص ہے-ليكن چونكہ يہ ايك مسلمان كى حرمت وعزت ميں دخل اندازى كا مسئلہ ہے، اسلئے اس ميں شريعت نے اتنى سنگين سزا مقرر كى ہے -

عزت ميں دخل اندازى كى اہميت كا اس امر سے بهى اندازہ ہوتا ہے كہ كسى آدمى كا ستر ديكهنے پر بهى اتنى سنگين سزا نہيں جتنى مسلمان كے گهر اور اس كى عزت ميں جهانكنے پر- اسلام نے ايسے معاملات كو غير معمولى اہميت دى ہے-چنانچہ كسى كے حرم ميں بدكارى كا فعل كيا جائے تو اس كى سزا بهى اتنى ہى سنگين ہوگى چہ جائيكہ وہ سزا قتل تك بهى پہنچ جائے- علامہ اس موقف پر حضرت عمر كے واقعہ سے استدلال كرتے ہوئے يہ اشارہ ديتے ہيں كہ حضرت عمر نے قاتل كو يہ بهى كہا كہ اگرآئندہ ايسے ہو توپهر يہى كرنا - گويا يہ امير المومنين كى طرف سے اُسے اجازت نامہ ہے كہ اس جرم كى آئندہ يہى سزا پهر دينا- اس لئے اس ميں قاتل كو زبان سے روكنے يا بھگانے كى بهى ضرورت نہيں كيونكہ اس كى سزا ہى يہ ہے- او ريہ سزا دينے والا كسى جرم كا ارتكاب نہيں كرتا-

اس موقف پر سب سے بڑا جواعتراض وارد ہوتا ہے وہ نبى كريم كا فرمان يعنى حضرت سعد كواس فعل سے منع كرنے كا ہے- علامہ ابن تيميہ كے نامور شاگرد حافظ ابن قیم بهى علامہ والے موقف كے ہى قائل ہيں اور اپنى كتاب ميں اس اعتراض كا جواب ديتے ہوئے سعد بن عبادہ كى چاروں احاديث جن ميں نبى كريم كى زبانى 'لا'،' نعم' اور غيرت كى تعريف كے جملے آئے ہيں( دیكھیں صفحہ نمبر٣٠ ) بيان كركے لكهتے ہيں كہ جو شخص اس بات پر اعتراض كرتا ہے كہ پهر نبى كريم نے كيوں ايسے قتل سے منع كيا تو ا س كا جواب يہ ہے كہ

" اس حديث (سعد بن عبادہ )كو اكٹھا ملا كر پڑھیں توسارى بات كهل جاتى ہے- نبى كريم نے پہلے پہل اس سے منع كيا، ليكن جب سعد بن عبادہ نے شديد غيرت كا اظہار كركے اپنے عزم قتل كو دہرايا تو آپ نے قسم كہا كر اس كى غيرت كى تعريف كى- آپ كا يہ قسم كہا كر اس كى غيرت كى تعريف كرنا اس امر كى دليل ہے كہ اگر وہ قتل كرلے تو اس پر كوئى تاوان يا سزا نہيں وآخر الحديث دليل «على أنه لو قتله لم يُقدَ به... ولقال لو قَتَلْتَه قُتِلْتَ به» وگرنہ آپ يہ جواباً فرماتے كہ اگر تم نے بيوى كو قتل كيا تو تمہیں جواباً قتل كيا جائے گا-(آپ كا ان كے عزمِ قتل كو سن كر ان كى غيرت كى تعريف كرنے كا مطلب ہى يہ ہے كہ آپ نے تقريراً اُس كوگواراكيا) ... مزيد فرماتے ہيں:

"ولم ينكر عليه ولا نهاه عن قتله لأن قولهﷺحكم ملزم وكذلك فتواه حكم عام للأمة فلوأذن في قتله لكان ذلك حكمًا منه بأن دمه هدر في ظاهر الشرع وباطنه ووقعت الفساد التي درأها الله بالقصاص وتهالك الناس في قتل من يريدون قتله في دورهم ويدعون أنهم كانوا يرونهم على حريمهم فسدَّ الذريعة وحمى المفسدة ... الخ (زاد المعاد: ٥/٤٠٨)

"نبى كريم نے ان كے عزم كا انكار نہيں كيا ، نہ ہى ان كو قتل كے عزم سے روكا، كيونكہ آپ (اگر صريح الفاظ سے اجازت فرما ديتے تو آپ) كا حكم ماننا سب كے لئے لازمى ہوجاتا، ايسے ہى آپ كا يہ فرمان عامة المسلمين كے لئے حكم كا درجہ ركهتا، اگر آپ قتل كى اجازت ديتے توگويا يہ آپ كى طرف سے واضح حكم صادر ہوجاتا كہ مقتول كا خون ظاہر شرع (حكم وقانون) اور اللہ كے ہاں رائيگاں ہے- اس طرح وہ عظيم تر فساد (قتل وغارت) رونما ہوجاتا جسے اللہ تعالىٰ نے قصاص كے ذريعے روكا تها(یعنى قصاص ميں تمہارے لئے زندگى ہے)- اس طرح لوگ من مانے قتلوں كے لئے ہلاكت خيزى برپا كرتے اور اس دعوىٰ كى بنا پر چهوٹ جاتے كہ ميں نے اپنى بيوى كے ساتھ فلاں مرد كو ديكها تها-سدذريعہ كے طورپر، فساد كى روك تهام كے لئے او رخون كے تحفظ كے لئے آپ نے ايسا نہ كيا- (اور خاموش رہے)

حضرت سعد كى دوسرى حديث ميں اس امر كى بهى دليل ہے كہ(وقوعہ كے بارے ميں) قاتل كى بات پر يقين كرنے كے بجائے شريعت كے تقاضوں كو پورا كيا جائے گا- جب حضرت سعد نے يہ كہا (ديكهئے:تيسرى حديث) كہ وہ گواہوں كا انتظار كئے بنا قتل كردے گا تو نبى كريم نے سعد كى غيرت پر تعجب كا اظہار كيااور انہيں كہا كہ ان كى غيرت بجا ليكن نبى كريم ان سے زيادہ غيرت ركهتے ہيں اور اللہ سب سے زيادہ غيرت مند ہيں- اس آخرى جملے كے دونوں مطلب ہوسكتے ہيں :

(1)سعد كے حلف پرنبى كريم كا خاموش رہنے كامطلب يہ كہ انہوں نے اللہ اور بندے كے مابين توا س كو جائز قرار ديا ،ليكن ظاہرى قانونى شرعى تقاضوں كے پيش نظر قتل سے منع كيا- اس طرح ا س حديث كا آخر اپنے شروع سے متضاد نہيں رہتا-

(2)دوسرا مطلب يہ ہے كہ نبى كريم نے سعد كے اس عزم كو برا جانا اور صحابہ سے كہا : تم اپنے سردار كو ديكهتے نہيں كہ ميں اسے روكتا ہوں اور يہ اصرار كيے جارہا ہے-ميں غيرت ميں اس سے كم تر نہيں اور اللہ كى غيرت مجھ سے بهى بڑھ كر ہے-چنانچہ نبى كريم نے چار گواہ لانے كا انہيں پابند كيا، آپ كا يہ حكم حكمت ومصلحت اور اُمت كے لئے رحمت واحسان سے بهرپور ہے- كيونكہ اللہ تعالىٰ اپنى شديد غيرت كے باوجود اپنے بندوں كى مصلحتوں كو خوب سمجھتا ہے- اس كلام كے دونوں مفہوم ہى مراد ہيں، اور دونوں ہى مناسب ِحال ہيں-"

حافظ ابن قیم  نے يہاں ايك اور قانونى نكتہ پيش كيا ہے كہ قاتل كا يہ فعل اللہ اور انسان كے باہمى تعلق كے پس منظر ميں برىٴ الذمہ ہے،ليكن انسانوں كے اُمور كى مصلحت اور شریعت كے ظاہرى پہلو كى رو سے اس كو سزا دلوانے كے قانونى تقاضے پورے كرنا ضرورى ہيں- اس لحاظ سے حديث كى ابتدا ميں روكنا اور آخر ميں غيرت پر تعريف كرنادونوں ميں مطابقت ہو جاتى ہے-

قتل غيرت كے بارے ميں عصرى قانون كا نكتہ نظر

سابقہ اوراق ميں اس مسئلہ كے بارے ميں اسلامى نقطہ نظر بڑى تفصیل سے بيان ہوا ہے جس ميں اس كى سزا پر شرعى آرا بهى شامل ہيں، البتہ اس مسئلہ ميں مختلف ممالك كے معاصر قوانين ميں ايك اور پہلو كوپيش نظر ركها گيا ہے- ليكن دلچسپ امر ہے كہ مغرب ومشرق اور اسلامى ممالك كے جديد قوانين حتىٰ كہ پاكستانى قانون ميں بهى قتل غيرت كو عام قتل قرار نہيں ديا جاتا-اسلامى ممالك كے وضعى قوانين كى روسے اسے قتل ِخطا قرار دے كر مجرم كو سزا ميں رعايت كا حقدار بتايا گياہے-جس كى وجہ يہ ہے كہ جديد قانون اسے اشتعال كے تحت ہونے والے جرائم كے تحت لاتا ہے اور ايسا اشتعال جس ميں انسان كے ہوش وحواس قابو ميں نہ رہيں، يا جس ميں انسان كے جذبات كو شديد ٹھیس پہنچے اور وہ بے قابو ہوكر كوئى اقدام كر بیٹھے تو ايسى صورت ميں جديد قوانين اسے قتل خطا قرار دے كر رعايت عطا كرتے ہيں-

جہاں تك اس مسئلہ كے بعض ديگر پہلووں كا تعلق ہے تو اس سلسلہ ميں ماہنامہ محدث ميں چند برس قبل (جون ١٩٩٩ء) قتل غيرت كے موضوع پر شائع ہونے والے مقالے ميں جسے محمدعطاء اللہ صديقى نے تحرير كيا تها، معاصر اسلامى ممالك كے قوانين كى مكمل تفصیل دى گئى ہے- اس مقالہ ميں مغرب ميں فورى اشتعال كے تحت ہونے والے قتلوں كو حاصل ہونے والى رعايت پر مبنى واقعات كا تذكرہ بهى موجودہے-پاكستان كى عدالتيں بهى اسى كے مطابق اپنے فيصلے ديتى رہى ہيں بلكہ اِنہى سالوں ميں بهى ايسے كئى فيصلے ديے گئے ہيں جن ميں قتل غيرت كے مجرم كو سزا ميں رعايت دى گئى ہے- اسى موضوع پر ايك اہم مقالہ محترمہ مسز ثريا علوى كا ہے جو ان كى كتاب 'جديد تحريك ِنسواں اور اسلام'ميں مطبوع ہے-محمد عطاء اللہ صديقى لكهتے ہيں :

"اُردن كے مجموعہ تعزيرات١٩٦٠ء كے آرٹيكل ٣٤٠ كے الفاظ يہ ہيں : (i) كوئى شخص جو اپنى بيوى يا محرمات ميں سے كسى ايك كو كسى دوسرے شخص كے ساتھ بدكارى (زنا) كرتے ہوئے اچانك پكڑ لے اور وہ ايك يا دونوں كو قتل، زخمى يا مجروح كر دے تو وہ ہر طرح كى سزا سے مستثنىٰ ہے- " ايسے ہى (ii)كوئى شخص جو اپنى بيوى يا ماں، دادى ميں سے كسى ايك كو يا پهر بيٹى پوتى جيسے وارثين ميں سے كسى ايك كو يا اپنى بہن كو كسى دوسرے شخص كے ساتھ بستر ميں ناجائز حالت ميں اچانك پكڑے اور اسے قتل، مضروب يا مجروح كردے تو وہ سزا ميں كمى كى رعايت (فائدہ) كا مستحق ہوگا-" (Islam and Feminism, By Lama Abu Odeh)

بعض مسلم ماہرين قانون نے مندرجہ بالا آرٹيكل كے عمل درآمد كے لئے تين شرائط كى تكميل كو بهى ضرورى قرار ديا ہے مثلاً

(i) ملزم كا مقتولہ سے رشتہ (خاوند، بهائى، بيٹا )

(ii) عورت كا بدكارى كرتے ہوئے اچانك رنگے ہاتهوں پكڑا جانا-

(iii) قتل كا اقدام بدكارى ديكهنے كے فوراً بعد اور فورى اشتعال كا نتيجہ ہو-

پاكستان كے مجموعہ تعزيرات كے مطابق بهى عزت كے قتل اور فورى اشتعال كے نتيجہ ميں كئے جانے والے قتل كو 'قتل عمد' كى بجائے 'قتل خطا' سے تعبیر كيا جاتا ہے- ١٨٦٠ء سے لے كر اب تك ان قوانين كى تعبیر و تشريح او راطلاق ميں تسلسل پايا جاتا ہے- پاكستان كى اعلىٰ عدالتوں كے سينكڑوں فيصلہ جات ريكارڈ پر ہيں جس ميں غيرت كے قتل كو 'قتل عمد' نہيں سمجھا گيا- ان فيصلہ جات ميں سے ايك فيصلہ جو ٢٦ /نومبر ١٩٩٧ء كے اخبارات ميں رپورٹ ہوا ... "

پهر مصنف نے پاكستان ،مصر، امريكہ اور يورپى عدالتوں كے متعدد ايسے فيصلوں كى نشاندہى كى ہے جس ميں فورى اشتعال كے تحت يا بے قابو ہونے كے سبب مجرم كو رعايت دى گئى ہے- تفصيلات كے شائقين اصل مضمون كا مطالعہ كريں-

البتہ جيسا كہ شرعى موقف كى وضاحت ميں ہم ديكھ چكے ہيں كہ اسلام صرف ثبوتِ واقعہ سے بحث كرتا ہے- جديد قانون كا يہ تصور كہ يہ حق صرف بهائى ، باپ اور شوہر كو ديا جانا چاہئے، كيونكہ ايسا غيرت بهرا اقدام انہى قريبى رشتہ داروں سے ممكن ہے اور وہى اس ميں رعايت كے مستحق ہيں، ليكن اسلام ميں ايسے اقدامات ملى غيرت كے نام پر بهى وجود ميں آئے اور ان كا اعتبار كيا گيا جيسا كہ بنو قينقاع سے چھڑ جانے والى جنگ كے پس منظر ميں مسلمان كا يہودى كو قتل كرنا، نبى كريم كا فيصلہ نہ ماننے پر حضرت عمر كا يہودى كو قتل كرنا اور جہاد پر جانے والے مجاہد كى بيوى سے زنا كرنيوالے يہودى كو مسلمان كے قتل كرنے كا واقعہ ( ديكهئے صفحہ نمبر ٤٨،٥٠)

ايسے ہى اسلام فورى اشتعال كے سبب اس جرم ميں رعايت دينے كى بجائے اس موقع پر اس جرم كو روكنے كے نقطہ نظر سے بحث كرتا ہے چاہے وہ دفاع كى قبیل سے ہو ،اپنى عزت كى حفاظت كے نكتہ نظر سے يا نہى عن المنكركى تعمیل ميں-اگر اسلام ميں فورى اشتعال كى كوئى اہميت ہوتى تو اس بنا پر بيوى كى نارضامندى كے باوجود اسے قتل كرنيوالے پر قصاص عائد نہ كيا جاتا-

ان تمام اسلامى و قانونى تشريحات اور عالمى قوانين وفيصلہ جات كے باوجود صرف مادر پدر آزاد تہذيب كے فروغ كے لئے غيرت كے مجرم كو نشانِ عبرت بنادينے كى خواہش اور اس كے لئے سنگين ترين سزا پر مبنى قانون سازى كا مطالبہ اين جى اوز كا عجب رويہ ہے جس ميں ہمارى قبائلى روايات كى اصلاح سے بڑھ كر مغربى تہذيب كا لپكا اور آزادانہ جنسى معاشرہ كے قيام كى خواہش كارفرما ہے- ان مغرب زدہ خواتين كے نزديك نہ صرف يہ كہ نكاح ايك ناپسنديدہ بندھن ہے بلكہ يہ اسے قيد ِغلامى كى يادگار قرار ديتى ہيں-نكاح كے ادارہ كى جگہ صرف باہمى رضامندى كو دے كر يہ لوگ ايك آزاد رو معاشرہ قائم كرنا چاہتے ہيں-جوكوئى اس حكمت كو نظر انداز كركے ان كے بظاہر خوبصورت موقف كى تائيد كرتا ہے، اسے اس كے مضمرات پر ضرور غور كرلينا چاہئے- يہ خواتين نہ صرف يہ كہ نكاح سے قبل جنسى تعلقات كوعورت كا حق قرار ديتى ہيں، بلكہ طوائف كو جنسى كاركن قرار دلوانے كا بهى مطالبہ ركھتى ہيں- ان كے نزديك زنا كے جائز ہونے كى واحدشرط نكاح سے قبل لڑكا لڑكى كى وقتى رضامندى ہے- ايسے ہى نكاح كے بعد مرد كے ساتھ بيوى كى وقتى نارضامندى كے سبب ہونے والے ازواجى تعلق كو يہ خواتين 'ازدواجى زنا بالجبر' سے تعبیر كركے اس كے لئے بهى سنگين سزا كا مطالبہ كرتى ہيں- گويا نكاح كے مقدس بندھن كا مقام اُنہوں نے باہمى رضامندى كوہى دے ركها ہے-

غيرت كے نام پر ہونے والے جرائم سے اُنہيں خوف اسى لئے آتا ہے كہ اس سے اس تہذيب كو خطرہ درپيش ہے جس ميں جنسى بے راہ روى كوئى ناپسنديدہ فعل نہيں بلكہ خالصتاً عورت كا حق ہے-حكومت كوبهى بيجنگ پلس فائيو كانفرنس پر دستخط كے ذريعے يو اين او كے زيرنگرانى اسى كى ذمہ دارى سونپى گئى ہے-عدالت اورمقننہ كوچاہئے كہ اس سلسلے ميں نبى كريم نے جس طرح كثير المقاصد جملوں كے ذريعے ايك طرف قتل وغارت كا دروازہ بند كيا ہے، دوسرى طرف غيرت كے جرائم كى بهى حوصلہ شكنى كى ہے، ايسے ہى بعد ميں فقہا نے اس جرم كى سزا كو انصاف كى ميزان ميں پورا پورا تول كرہردوفريق كو جائز حق دياہے، ان اسلامى روايات كى پاسدارى كريں اور ايسى كسى بهى قانون سازى سے گريز كيا جائے جس كا نتيجہ آخر كار ملك سے غيرت كے خاتمہ كى صورت ميں نكلے،بے راہ روى كا شكار مرد وعورت عوامى غیظ وغضب سے بے پرواہ ہوكر جنسى عياشى كريں اور اس ملك خدادا ميں بهى مغربى تہذيب اپنا ننگا ناچ شروع كردے-

قومى اسمبلى ميں جو ترميم ان دنوں پاس ہوئى ہے، اس سے تو يہ نقشہ اُبهرتا ہے كہ عشق و فجور اور بے راہ روى اختيار كرنے والے تو معصوم تصور ہوں اور ان كو روكنے والے كسى تفصیل ميں جائے بغير سيدها قانون كى گرفت ميں- اس قانون كا طرفہ تماشا ديكهئے كہ زنا كا كيس ايس پى (اور وہ بهى عدالت كى اجازت سے) ہى درج كرسكے گا گويا زنا كو تحفظ اس طرح عطا كيا گيا ہے كہ جرم كا اندراج ناممكن بنا ديا گيا، دوسرى طرف عوام الناس اور خاندان كے مردوں كو قانون كى دهمكى كے ذريعے اس سے منع كرنے كى قانون سازى ہے- اس سے پاكستانى معاشرہ كیسى صورتِ حال سے دوچار ہوگا اور حالات ہميں كدهرلے جائيں گے، اس كا اندازہ ہر ذى شعور كرسكتا ہے-

پاكستانى معاشرہ جس المیہ سے اس وقت دوچار ہے وہ يہ ہے كہ تمام ذرائع ابلاغ عشق ومحبت كو ايك مقدس قدر كے طور پر پيش كر رہے ہيں،تعلیمى ادارے اس تصور كى تجربہ گاہ اور عدالتيں انسانى آزادى كے نام پر اس كى ضامن ومحافظ ہيں- سارا زور آخر كار غيرت كے نام پر جرائم ميں نكلتا ہے، جس سے تهوڑا بہت خوف باقى ہے-مقننہ اين جى اوزكے ساتھ مل كر اس آخرى ديوار كو بهى گرانا چاہتى ہيں جس كے بعد معاشرتى سطح پر يا خاندان كے افراد كى طرف سے ركاوٹ كا كوئى اِمكان باقى نہ رہے اور جوايسا كرے وہ المناك سزا كا مستحق كيونكہ يہ اس كا جرم ہے جو ان آزاد رو مرد وزن كے عشق ومحبت ميں فتور ڈالتاہے-

غيرت كے نام پران جرائم كو صرف قانونى نقطہ نظر سے روكنے يا جائزہ لينے كى بجائے اس سے پہلے ان تمام مراحل كو كنٹرول كرنا ضرورى ہے اور معاشرے كے اس نازك موڑ پر ہميں يہى فيصلہ كرنا ہے- دو راستوں ميں سے ايك كا انتخاب اور اس كے لوازم اور نتائج وعواقب كے ليے خودكو تيار كرنا-معاشرے ميں ہر طرف اس دو رخى سے الميے جنم لے رہے ہيں- پاركوں، كلبوں ميں دن رات محبت كے نام پر عصمت درى كا جرم ہو رہا ہے اور گلیوں محلوں ميں قتل وغارت- عدالتيں ايسے مسائل سے بهرى پڑى ہيں اور حكومتيں ان كى روك تهام كى بجائے آخرى بندھن بهى توڑ دينا چاہتى ہيں-

ايسى صورتحال ميں ہميں ٹھنڈے دل ودماغ سے ان مسائل پر سوچنا چاہئے اور معاشرے كو درست سمت ميں لے جانے كے لئے مناسب اور موزوں قانون سازى اور عوامى رويے اپنانے چاہئيں- نہ قانون شكنى اس مسئلہ كا حل ہے اور نہ غيرت جيسے جائز جذبہ سے دستبردارى نبى كريم كے فرامين سے بهى يہى بات ثابت ہوتى ہے - وما علينا إلا البلاغ