پیکرِ لازوال عبدیت     آپ ہی ہیں کمالِ عبدیّت
آپ ہی کے ظہور سے قائم     آبروئے جمالِ عبدیّت
آپ کے دم سے بن گئی ہے گہر     بے حقیقت سفالِ عبدیّت
ہو گئی آپ کے توسل سے     عرشِ پیما، جمالِ عبدیّت
بن گئے آپ عرش کی زینت     اللہ اللہ! کمالِ عبدیت
تربیت کی خدا نے کچھ ایسی     بن گئے آپ حال عبدیّت
آپ ہی نے اسے سنبھال لیا     ہو رہی تھی نڈھال، عبدیّت
بن کے رحمت طا ہوئی ہم کو     آپ ہی کی بے مثال عبدیّت
آپ ہی تو ہیں سرورِ کونین     ہاں بفیضِ جال عبدیت
آپ ہی ہیں فقط خدا کی قسم      منتہائے کمالِ عبدیّت
ہوتا شامل نہ آپ کا جو کرم      تھا دگر گوں مآلِ عبدیّت
آپ کے فیضِ خلق سے طاہرؔ
ہو گئی خوش خصال عبدیّت