هو الذي ارسل رسوله بالهدى ودين الحق ليظهره على الدين كله ولو كره المشركين (التوبہ) (کتنی بلند و بالا ہے وہ ذات جس نے اپنے پیغمبر کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا کہ وہ اسے زندگی کے تمام نظاموں پر غالب کر دے خواہ اس کا یہ کام نظامِ حق کے منکروں کو کتنا ہی ناگوار گزرے اس آیتِ مبارکہ سے یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ آپ ﷺ کی رسالت کا مقصد صرف کسی ایک شعبہ میں اصلاح کرنا نہ تھا بلکہ زندگی کے تمام شعبوں کی تعمیر خدائی ہدایت کے مطابق کرنا تھا۔ چنانچہ عہد رسالت کی تاریخ کا مطالعہ صاف صاف وضح کرتا ہے کہ آپ نے افکار و نظریات، اعتقادات و عبادات اخلاق و معاملات، معیشت و سیاست، تہذیب و معاشرت الغرض زندگی کے ہر شعبہ اور ہر حصہ میں انقلابی اور اصلاحی تبدیلیاں کیں ۱۵، ۲۰ سال کی مختصر مدت میں مٹھی بھر جاں نثاروں کے پُر خلوص تعاون سے ایک چھوٹی سی اسلامی ریاست جس کی آبادی بمشکل چھ سات ہزار ہو گی پورے عرب کو چیلنج کرتی ہے۔ ہر قسم کی جاہلیت کے مقابلے میں ایک پاکیزہ معاشرہ ابھرتا ہے اور انسانی تہذیب و تمدن کا نمونہ تیار ہو کر سامنے آجاتا ہے۔ جس کی بنیادیں خدا خوفی، ایثار و قربانی، خلوص و محبت، پاکیزگی اور شرافت پر رکھی گئی ہیں۔

لوگ نہ صرف سیاسی نظام کے تابع ہوئے بلکہ ذہنی اور نظریاتی طور پر تبدیل ہوئے۔ جمی ہوئی جاہلانہ قدریں تیزی سے اکھڑنا شروع ہو گئیں۔ اخلاق بدل گئے، جذبات میں اعتدال، اعتقادات میں خلوص و پاکیزگی سیاست میں عدل و انصاف اور معیشت میں توازن پیدا ہو گیا۔

جاہل، اجڈ اور منتشر مخلوقِ خدا رسالت کے جھنڈے تلے جمع ہوئی اور علم و شعور او ایمان و ایقان کی دولت سے بہرہ ور ہو کر بے مقصد اور فضول زندگی چھوڑ کر با مقصد اور مفید زندگی سے بہرہ ور ہوئی اور ان میں بحیثیت مجموعی سوچنے کا ایک نیا انداز پیدا ہوا۔ ان کی صدیوں کی عداوتیں باہمی محبتوں میں تبدیل ہو گئیں۔ اگرچہ عرصہائے عرصہ کی طوائف الملوکی ختم کر کے انہیں ایک سیاسی نظام کے تحت لے آنا کوئی چھوٹا کارنامہ نہ تھا مگر اس سے بھی ہزاروں درجہ زیادہ وقیع کارنامہ وہ فکری، اخلاقی اور تہذیبی و تمدنی انقلاب تھا جس کی مثال تاریخ عالم میں ملنا ممکن نہیں۔ آپ کا دیا ہوا ضابطۂ حیات انسانی فطرت کے اس قدر مناسب ثابت ہوا کہ اس کی برکت سے انتشار و افتراق اور طوائف الملوکی اپنی موت آپ مر گئی۔ آپ کی سیاسی بصیرت نے ایک چھوٹی سی مدنی سلطنت کو اتنا وسیع کریا اور پھر اس میں اتنا استحکام پیدا کر دیا کہ روم و ایران کی متمدن اور مضبوط ترین قومیں اسے خراج دینے پر مجبور ہو گئیں۔ ابھی ایک صدی بھی نہ گزری تھی کہ خلیفہ ولید بن عبد الملک کے عہد میں اسلامی سلطنت مغرب میں سرحدِ فرانس سے نکل کر خلیج بسکے تک پھیل گئی اور مشرق میں اس کی حدود ماوراء النہر سے آگے سرحد چین تک، سارا وسطی ایشیا اور شمالی افریقہ ایک خلیفہ کے زیرِ انتظام و زیرِ انصرام آگیا۔ تاریخ انسانیت میں ایسی بے مثال و وسیع و عریض مملکت برطانیہ کو اپنے عروجِ اقبال کے اس دور میں بھی میسر نہ ہوئی جبکہ یہ مقولہ زبان زد عام تھا کہ برطانیہ کی سرزمین میں سورج غروب نہیں ہوتا۔

یہ رسالت مآب ہی کی برکت تھی کہ دنیا بھر کی تہذیب و تمدن کی باگ دوڑ مسلمانوں کے ہاتھ میں آگئی۔ جس کا اثر اتنا گہرا ہوا کہ عراق، شام، فلسطین، مراکش، مراکو، ٹیونس اور الجزائر کی اپنی مادری زبانیں تک تبدیل ہو کر عربی بن گئیں۔ پوری تاریخ انسانیت ایسی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔ دنیا کا کوئی انقلاب اس قدر گہرے نقوش ثبت نہ کر سکا کہ مختلف ممالک کی اپنی مادری زبانیں بھی تبدیل کر کے رکھ دے۔

علوم و فنون:


محمد مصطفےٰ ﷺ نے جس تحریک کی بنیاد رکھی اس کی بنیادیں عقل و شعور پر مبنی تھیں جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ دینی و سائنسی اور نقلی و عقلی علوم پروان چڑھنے لگے۔

جس دور میں پورا یورپ اور عصرِ حاضر کی مہذّب مغربی دنیا سائنسی ترقی علم و فن کے نام تک سے آگاہ نہ تھی اس وقت سپین کے مسلم اطباء علمِ طبّ میں ترقی کی اس انتہا کو پہنچ چکے تھے کہ انسان کا دل باہر نکال کر کامیاب اپریشن کر لیتے۔ اور بعید ترین سیاروں کا فاصلہ اور ان کی رفتار معلوم کر لی تھی اور یہ وہ حقائق ہیں جن کا اعتراف خود مستشرقین نے حیرت و استعجاب کے عالم میں کیا ہے۔ ملاحظہ ہو جارج سارٹن کی تصنیف (سائنسی تاریخ کا ایک تعارف)

ہر قوم کا عروج و زوال اس کے اصولوں پر پختہ یقین اور ان پر کار بند رہنے میں ہوتا ہے۔ اہلِ مغرب کی دنیاوی ترقی کا یہی راز ہے لیکن مسلمان جنہیں اعلیٰ ضابطوں اور ایمان کی بدولت دارین کی فوز و فلاح کا ضامن ٹھہرایا گیا تھا وہ بے یقینی اور بے عملی کی حالت میں ذلیل و خوار ہو گئے۔ آج بھی اس نعمتِ گم گشتہ کو واپس لانے کا ایک ہی طریقہ ہے اور وہ ہے دینِ رسالتِ مآب ﷺ سے تمسک و اعتصام، جس کی بنیاد ''کاشانۂ ختم الرسل سے محبت و وابستگی اور تعلق و دارفتگی'' پر ہے۔ چنانچہ دشمنانِ اسلام ہمارے اس تعلق کو منقطع کرانے کے لئے مشرق و مغرب میں ہمہ تن مصروف ہیں کبھی وہ مسلمانوں کو پھاڑنے کے لئے نئی نبوت کا فتنہ کھڑا کر کے اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور کبھی سوشلزم اور کمیونزم کا سرخ جال بچھاتے ہیں کبھی منکرینِ حدیث اور اہلِ قرآن کی شکل میں مسند آرا ہوتے ہیں اور کبھی مسلمانوں کی سلطنتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے مٹا دینے کے منصوبے بنا رہے ہوتے ہیں۔ کیونکہ تمام باطل قوتیں ملّتِ واحدہ ہیں اور انہیں شدید خطرہ ہے کہ اگر مسلمان دینِ اسلام پر استقلال و استقامت سے جم گئے تو ہماری جڑیں تک کھود ڈالیں گے۔ اور قابلِ افسوس تو یہ بات ہے کہ نادان مسلمان کفار کی سازشوں کو سمجھنے کے بجائے ان کا شکار ہو رہا ہے جسے ڈاکٹر اقبال نے یوں بیان کیا ہے: ؎

چاک کر دی ترکِ ناداں نے خلافت کی قبا

سادگی مسلم کی دیکھ اوروں کی عیاری بھی دیکھ

اور نئی نبوت کی یوں نقاب کشائی کی:

محکوم کے الہام سے اللہ بچائے

غارت گرِ اقوام ہے یہ صورتِ چنگیز

اور مغربی تہذیب کے دلدادہ مسلمانوں کو یہ حقیقت سمجھائی کہ: ؎

کی ترقی جو مسلماں نے فرنگی ہو کر

یہ فرنگی کی ترقی ہے مسلماں کی نہیں

اور اسلام کے ساتھ سوشلزم کا پیوند لگانے والے منافقانہ رویہ رکھنے والوں کو یوں نصیحت کی: ؎

باطل دوئی پسند ہے حق لا شریک ہے

شرکت میانۂ حق و باطل نہ کر قبول

یہ حقیقت ہے کہ جس کی محبت دل میں گھر کر جائے اس کی یاد دل میں مستقل طور پر جاگزیں ہو جاتی ہے۔ رسولِ پاک ﷺ سے محبت کا دعویٰ ہو اور پھر ان کا اسوۂِ حسنہ نظر انداز کر دیا جائے یہ دونوں متضاد چیزیں ہیں۔ اگر آپ ﷺ سے محبت ہے تو پھر آپ ﷺ کا ہر حکم اور ہر فعل زندگی کا جزو بننا لازمی ہے۔ جتنی محبتِ رسول ﷺ کم ہو گی اتنا ہی آپ ﷺ کے ارشادات پر عمل کرنا دشوار ہو گا۔ اذان کی آواز سن کر مسجد میں نہ جانا، رزقِ حلال کی بجائے حرام کو للچائی ہوئی نظروں سے دیکھنا، رسولِ پاک ﷺ کی واضح ہدایت کے باوجود شراب اور زنا کاری میں مبتلا ہو کر دین و دنیا برباد کرنا۔ مسلمان عورتوں کا شریعت کی حدود توڑ کر غیروں کی نظر میں محبوب ہونے کے لئے نیم عریاں ہونے سے گریز نہ کرنا۔ سودی کاروبار اور جھوٹ و فریب کو ہوشیاری سمجھنا، سبھی کچھ آپ ﷺ سے دوری اور دشمنی کے اظہار کے مختلف رُوپ ہیں۔ جنہیں دیکھ کر شیطان اور اس کے چیلے خوش ہوتے ہیں اور مزید حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔

افسوس مسلمان اس حدیث کو بھول گیا کہ شرم اور ایمان کبھی علیحدہ نہیں ہو سکتے۔

اور محمد مصطفےٰﷺ سے محبت کے بغیر ایمان مکمل نہیں ہو سکتا۔ برے اخلاق میں عبادات ضائع ہو جاتی ہے۔ اور دکھاوے کی ہر نیکی برباد ہو جاتی ہے۔ اور رزق حرام کے ساتھ عبادت قبول نہیں ہوتی۔ یہ تمام فراموشیاں شیاطین مغرب کی پیدا کردہ ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ مسلمان کبھی ذلیل اور مغلوب نہیں ہو سکتا۔ جب تک کہ اس کا تعلق حضرت محمد مصطفےٰﷺ اور آپ کے اسوۂ حسنہ سے ہے اور وہ اس پاکیزہ تعلق کو ختم کرنے کے لئے ہمہ تن مصروف ہیں۔ اور ان کا مطمعِ نظریہ ہے ؎

یہ فاقہ کش جو موت سے ڈرتا نہیں ذرا

روحِ محمد ﷺ اس کے بدن سے نکال دو

فکرِ عرب کو دے کے فرنگی تخیّلات

اسلام کو حجاز و یمن سے نکال دو

آج باطل قوتوں کی سازشوں کو سمجھنے اور اپنی نیتوں کو درست کرنے اور محمد مصطفےٰ ﷺ سے محبت کی بنیاد پر اپنی زندگی ان کے اسوۂ حسنہ کے مطابق ڈھالنے اور نئی نسل کو محمد ﷺ عربی کی تعلیم دینے اور باہمی اتفاق و اتحاد کی ضرورت ہے۔ جس کے بعد انشاء اللہ وہ دن دور نہ ہو گا کہ یہی راندے ہوئے مسلمان اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کا مستحق بنا لیں گے۔ اور مشرق و مغرب کی قیادت مسلمانوں کے ہاتھ میں آجائے گی۔ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے۔ وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ اگر تم ایماندار ہو تو دنیا بھر میں غالب تم رہو گے۔ واٰخر دعوانا أن الحمد للہ رب العالمین۔