اذانِ سحری میں کہا جائے یا اذانِ فجر میں؟

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ پچھلے دِنوں ''صحیفہ اہل حدیث'' کراچی اور ہفت روزہ ''اہلحدیث'' لاہور میں صبح کی دو اذانوں کے متعلق مضامین شائع ہوتے رہے ہیں۔ ماہنامہ ''محدث'' لاہور نے بھی مولانا عبد القادر صاحب حصاری کا تعاقب تلخیص سے شائع کیا تھا۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ «اَلصَّلوٰةُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ» دو اذانوں میں س پہلی اذان میں کہا جائے یا دوسری میں؟ نیز اگر ہو سکے تو اس مسئلہ کی بھی وضاحت کر دیں کہ پہلی اذان آپ ﷺ کے زمانہ میں کس غرض سے ہوتی تھی؟

امید ہے کہ مسئلہ کی عمومیت اور اہمیت کے پیش نظر اسے جلد ''محدث'' میں شائع فرمائیں گے۔ بینوا توجروا۔

حافظ عبد الخبیر اویسیؔ حفید مولانا عبد التواب ملتانی رحمۃ اللہ علیہ

الجواب بعون الوھاب:

اس مسئلہ کا دارومدار اس بات پر ہے کہ «اَلصَّلوٰةُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ» کا مقصد کیا ہے اور یہ مقصد دو اذانوں میں سے کس اذان سے حاصل ہوتا ہے؟ نیز دونوں اذانوں کا علیحدہ علیحدہ مقصد متعین کیا جائے۔'' چنانچہ میں اس مسئلہ پر بحث سے پہلے دوسری شق کی وضاحت ضروری سمجھتا ہوں کیونکہ ''محدث'' برائے مارچ ۱۹۷۱؁ء میں اس دوسر حصہ پر ایک جانب کے دلائل بھی شائع ہو چکے ہیں لہٰذا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ مسئلہ کی تنقید کر کے دلائل سے اس کی وضاحت کر دی جائے ۔ لہٰذا میں پہلے دونوں اذانوں کے مقصد پر کچھ عرض کرتا ہوں:

صبح کی دو اذانیں تسلیم کرنے والوں میں دوسری اذان کے متعلق کسی کا اختلاف نہیں، دونوں اس پر متفق ہیں کہ دوسری اذان نماز کا وقت بتلانے اور سامعین کو نماز کے لئے بلانے کے لئے ہے لیکن پہلی اذان کے متعلق اختلاف ہے کہ آیا وہ سحری کھانے کے لئے ہے اور رمضان کے ساتھ مخصوص ہے یا وہ نماز فجر کی تیاری کے لئے ہے اور وہ سال بھر کے لئے مسنون ہے؟

فریق اول کے دلائل کا خلاصہ حسب ذیل ہے:

1. وہ احادیث جن میں اذان کا ذکر سحری کھانے کے ساتھ آیا ہے۔ مثلاً:

«عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ: إذَا أَذَّنَ بِلَالٌ فَکُلُوْا وَاشْرَبُوْا حَتّٰی یُؤَذِّنَ ابْنُ اُمِّ مَکْتُوْمٍ، قَالَتْ: وَلَمْ یَکُنْ بَیْنَھُمَا إِلَّا یَنْزِلُ هٰذَا وَیَصْعَدُ هٰذَا» (النسائی ۱: ۷۴)

یعنی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب بلالؓ اذان کہے تو تم کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ ابن ام مکتومؓ اذان دے تو پھر رک جاؤ۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ نے دونوں اذانوں کے درمیانی وقفہ کا اندازہ بیان فرمایا کہ ایک موذن اذان کہہ کر منبر سے اترتا تھا تو اس کے بعد دوسرا موذن چڑھ جاتا تھا۔ اس حدیث میں الفاظ «إِذَا أذَّنَ بِلَالٌ» سے ظاہر ہے کہ سحری اذان کے بعد کھانی چاہئے کیونکہ یہ جملہ شرطیہ ہے اور جزا اس کی جملہ «فَکُلُوْا وَاشْرَبُوْا »ہے جس کی غایت اذان ابن مکتومؓ میں بیان کی گئی ہے۔ الخ


2. وہ احادیث جن میں مؤذن کو سحری اور نماز پر امین کہا گیا ہے، مثلاً بیہقی میں ہے۔

«عَنْ اَبِیْ مَحْذُوْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ (ﷺ): أمَنَاءُ الْمُسْلِمیْنَ عَلٰی صَلٰوتِھِمْ وَسُحُوْرِھِمْ الْمُؤَذِّنُوْنَ» (السنن الکبریٰ ۱: ۴۲۶)

یعنی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مسلمانوں کے امین ان کی نماز اور سحری پر مؤذن لوگ ہیں۔ اس سے ظاہر ہوا کہ جیسے نماز کے وقت پر مؤذن مقرر ہوتا ہے اور وہ وقت ہونے پر اذان کہہ دیتا ہے ایسے ہی سحری پر مؤذن مقرر ہوتا ہے جو سحری ہونے پر اذان کہہ دیتا ہے۔ الخ

3. بطور تائید اقوالِ علماء اور بعض کتب احادیث کے ابواب مثلاً مؤطا میں امام مالکؒ نے یوں باب باندھا ہے: «قَدْرُ السَّحُوْرِ مِنَ النِّدَاءِ» (بامحاورہ ترجمہ از مولوی وحید الزمان) اذان کا سحری کے وقت ہونا۔ لفظی ترجمہ یہ ہے: سحری کی اذان کے وقت کا اندازہ۔ اسی طرح مسند احمد حسب تبویب الفتح الربانی میں« لَا یَمْنَعَنَّکُمْ مِنْ سُحُوْرِکُمْ أذَانُ بِلَالٍ»۔ الحدیث پر یوں باب منعقد کیا گیا ہے۔: «بَابُ وَقْتِ السُّحُوْرِ وَاسْتِحْبَابُ تَاخِیْرِہ»۔ یعنی سحری کے وقت اور اس کو دیر کر کے کھانے پر استحباب کا بیان۔

فریق ثانی کے دلائل کا خلاصہ حسب ذیل ہے:

1. فریق اول کی پیش کردہ احادیث میں لِلسُّحُوْرِ کا لفظ موجود نہیں۔ بعض احادیث میں صرف رات کے وقت اذان ہونے کا ذِکر ہے اور جن میں کھانے کا ذِکر ہے وہاں سحری کا لفظ ذکر نہیں۔ لہٰذا یہ اذان سحری کے لئے نہ ہوئی۔

2. جن احادیث میں مؤذنوں کے نماز اور سحری پر امین ہونے کا ذِکر ہے ان سے مراد اذان سے نماز کا وقت شروع ہونے اور سحری کا وقت ختم ہو جانے پر مؤذنوں کی امانت کا ذِکر ہے۔

3. کوفہ اور حجاز کے چند علماء کے علاوہ سب اس کے اذان فجر ہونے کے قائل ہیں اور چند علمائے احناف نے اسے سحری کی اذان کہا ہے۔

حاصل یہ ہے کہ دونوں اذانیں فجر کے لئے ہیں اس لئے دونوں کے درمیان چند منٹ کا فاصلہ ہے بقول حافظ ابن حجرؒ صبح کی نماز کو باقی نمازوں کے درمیان سے اذان اول وقت میں دینے کے ساتھ اس لئے مخصوص کیا گیا کہ اول وقت میں نماز پڑھنے کی ترغیب دی گئی ہے اور صبح غالباً نیند کے بعد واقع ہوتی ہے۔ اس واسطے ایسے آدمی کا تقرر مناسب ہوا ہے کہ وہ لوگوں کو وقت کے داخل ہونے سے پہلے آگاہ کرے تاکہ وہ تیار ہو جائیں اور اول وقت کی فضیلت کو پا لیں۔ (فتح الباری ۲: ۸۳)

میں کہتا ہوں کہ جہاں تک ''اذانِ سحری'' یا ''اذانِ فجر'' کے نام کا تعلق ہے، کسی حدیث میں للسحور یا للفجر کا لفظ موجود نہیں ہے۔ البتہ حدیث میں اس اذان کے مقصد اور وقت کا ذِکر ہے۔ اس لئے جب فریقین بالاتفاق یہ تسلیم کرتے ہیں کہ اذان وقتِ فجر سے قبل رات میں یا سحری کے وقت میں ہوتی تھی جو احادیث سے واضح ہے تو پھر اس کا نام سحری کی اذان یا فجر کی پہلی اذان دونوں طرح ٹھیک ہے جیسا کہ بعض ائمہ نے اس کا نام اذانِ سحور لیا ہے (محلی / ۲: ۸۵ طبع جدید، میں) امام ابن حزمؒ اذان ہذا کو صلوٰۃ الصبح کے لئے (قبل از وقت نماز) ذکر کر کے فرماتے ہیں۔ «لِأَنَّه اَذَانُ سُحُوْرٍ لَّا أَذَانٌ لِّلصَّلٰوة»ِ۔ یعنی یہ اذان سحری ہے وقتِ نماز کی اذان نہیں۔ ہاں پہلی اذان کے صحیح مقصد اور مسنون وقت کا فیصلہ ہونا چاہیے تاکہ سنت کے مطابق اس پر عمل کیا جا سکے۔ نبی ﷺ کا فرمان اس سلسلہ میں حسب ذیل ہے:

«قَالَ: إنَّ بِلَالًا یُّؤَذِّنُ بِلَیْلٍ لِّیُوْقِطَ نَائِمَکُمْ وَلِیُرْجِعَ قَائِمَکُمْ وَلِیُرْجِعَ قَائِمَکُمْ رَوَاہُ الْجَمَاعَةُ اِلَّا التِّرْمِذِي»

آپ نے فرمایا: بلال رات (سحری کے وقت اذان دیتا ہے تاکہ سوئے ہوئے کو جائے اور قیام کرنے والے (تہجد پڑھنے والے) کو لوٹائے۔ معانی الآثار للطحاوی کی ایک روایت میں ہے لِیَرْجِعَ غَائِبَکُمٌ (قضائے حاجت وغیرہ کے لئے جانے والے کو لوٹائے۔)

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اس اذان کا مقصد غفلت سے بیدار کر کے یا مختلف مصروفیتوں سے فارغ کر کے کسی اہم مطلوب کی تیاری ہے۔ اس مطلوب کے لئے حدیث میں نماز وغیرہ کا لفظ تو موجود نہیں لیکن دوسرے ایسے دلائل موجود ہیں جو یہ واضح کر رہے ہیں کہ اس اذان کا تعلق نماز سے ہے اور یہ اذان اس لئے مقرر کی گئی ہے کہ نیند سے بیداری کے بعد تیاری کر کے نماز باجماعت اول وقت ادا کی جا سکے۔

الف۔ فریقین کے نزدیک یہ تسلیم شدہ امر ہے کہ یہ اذان شرعی الفاظ کے ساتھ تھی۔ جس میں حَي عَلٰی الصَّلٰوۃِ (نماز پر متوجہ ہو) کے الفاظ بھی ہیں، اس طرح کی اذان نماز ہی سے متعلق ہو سکتی ہے۔

ب۔ حدیث ہذا میں اس اذان کے ذریعہ سے جن چیزوں سے فراغت مقصد بیان ہوا ہے ان کا تعلق اہمیت کے ساتھ نماز ہی سے ہے۔ ویسے تو فراغت کے بعد ہر کام ہی کیا جا سکتا ہے۔ لیکن ظاہر یہی ہے کہ قضاء حاجت سے فراغت نماز کے لئے ہی ہوتی ہے۔ اسی طرح تہجد پڑھنے والا تھوڑی دیر سستا کر نماز کے لئے تازہ دم ہو جائے گا نیز اگر یہ اذان سحری کے لئے ہوتی تو ان چیزوں کا اتنی اہمیت کے ساتھ ذکر نہ ہوتا بلکہ سحری جو مقصود اصلی تھا وہی ذکر کر دیا جاتا۔ اسے چھوڑ کر ان چیزوں کے واسطہ کی کیا مجبوری تھی؟ لیکن حدیث میں ان چیزوں سے فراغت بطور مقصود اصلی ذکر ہوئی ہے جس کا مفہوم تیاری نماز ہی ہے جس کا وقت جلد ہی بعد میں ہو رہا ہے۔

پہلی اذان کے مقصد میں نماز کا صراحت کے ساتھ ذکر اس لئے نہ کیا کہ اس کے لئے دوسری اذان موجود ہے اور پہلی اذان صبح صادق سے قبل ہونے کی وجہ سے نماز کا وقت بتلانے کی غرض سے نہ ہو سکتی تھی اس لئے ایسی اشیاء کا ذکر کیا جن سے فراغت کا نماز کے اول وقت (جماعت کے ساتھ) ادا کرنے کا تعلق ہے۔ اس س حدیث میں پہلی اذان کے ساتھ اس کے صبح صادق سے قبل ہونے کی وجہ سے بھی بیان ہو گئی۔

حاصل یہ ہے کہ حدیث میں بیان شدہ اشیاء بطور مقصود اصلی ذکر ہوئی ہیں۔ سحری مقصود اصلی نہیں ورنہ اس کا ذِکر ہوتا۔

ج۔ پہلی اذان نماز فجر کے وقت سے قریب ہی ہوتی تھی جیسا کہ احادیث میں اس کا وقت فجر کاذب آیا ہے اور صحابہؓ نے بھی دونوں اذانوں کا وقفہ قلیل بیان کیا ہے۔ جیسا کہ حضرت عائشہؓ نے فرمایا«وَلَمْ یَکُنْ بَیْنَھُمَا إِلَّا یَنْزِلُ هٰذَا وَیَصْعَُ هٰذَا» یعنی دونوں اذانوں کے درمیان اتنا وقفہ تھا کہ ایک مؤذن اذان کہہ کر اترتا تو دوسرا اذان کے لئے چڑھ جاتا۔ اگرچہ اس وقفے کا بیان یہاں مبالغتہً ہے لیکن اس مبالغے کا مقصد اذانوں کے درمیانی وقفہ کا تھوڑا ہونا ہے۔ اس سے ملوم ہوتا ہے کہ پہلی اذان کا تعلق بھی فجر ہی کے ساتھ ہے۔

جن احادیث میں پہلی اذان کے ساتھ سحری کھانے کا ذکر ہے ان سے یہ حاصل نہیں ہوتا کہ اس اذان کا مقصد ہی سحری ہے۔ ان احادیث سے زیادہ سے زیادہ یہ بات حاصل ہوتی ہے کہ صحابہ کے سحری کھانے اور اذان کا وقت ایک تھا۔ حدیث کے الفاظ «اِذَا أذَّنَ بِلَالٌ فَکُلُوْا وَاشْرَبُوا» سے اگر سحری کے لئے اذان کا ہونا شرط قرار دے دیا جائے تو کئی خرابیاں لازم آئیں گی۔ مثلاً لازم آئے گا کہ اگر اذان اول نہ ہو تو سحری کھانا ہی جائز نہ ہو کیونکہ«اِذَا فَاتَ الشَّرْطُ فَاتَ الْمَشْرُوْطُ» (جب شرط نہ رہے تو مشروط نہیں رہتا) یا اگر اذان کہی جائے تو سحری کھانا ضروری ہو جائے حالانکہ ان دونوں باتوں کا کوئی بھی قائل نہیں۔ در حقیقت سب احادیث کو اگر دیکھا جائے تو حاصل یہ ہوتا ہے کہ اذان شرعی سے بعض صحابہ کو تشویش لاحق ہونے کا خطرہ ہوا کیونکہ عام طور پر اذان نماز کا وقت شروع ہونے پر ہوتی ہے۔ اس تشویش کو دور کرنے کے لئے رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کو اس وقت سحری کھانے کی اجازت دی اور فرمایا« لَا یَمْنَعَنَّکُمْ مِنْ سُحُوْرِکُمْ أذَانُ بِلَالٍ وَّلَا الْفَجْرُ الْمُسْتَطِیْلُ» (الحدیث ) یعنی تمہیں سحری سے اذان بلال اور صبح کاذب نہ روکے۔

علمائے سلف میں سے مالکؒ، شافعیؒ، احمدؒ وغیرہ اس کے اذان فجر ہونے کے قائل ہیں اور نماز کے لئے اسی کو کافی سمجھتے ہیں۔ صرف اہل الرائے اس کے سحری کے لئے ہونے کے قائل ہیں لیکن اسے اذان کی بجائے دوسرے الفاظ سے ''اعلان'' بتاتے ہیں جیسا کہ علامہ سروجیؒ نے تاویل کی ہے۔ تیسرا مسلک یہ ہے کہ یہ پہلی اذان فجر کے وقت سے قبل تیاری فجر کے لئے ہے، جس کے بعد وسری اذان صبح صادق کے وقت دی جائے گی۔ ابن حزمؒ اور اہل حدیث کا یہی مسلک ہے۔

محدثین نے کتب احادیث میں ان احادیث پر جو باب منعقد کئے ہیں ان کا یہ مقصد نہیں کہ وہ پہلی اذان کو سحری کے لئے سمجھتے ہیں بلکہ ان کا مقصد پہلی اذان (اذانِ بلال) سے سحری کا وقت بتانا ہے کہ سحری کا وقت بلال کی اذان کی بجائے ابن ام مکتوم کی اذان تک ہے۔ جن متاخرین نے اس سے تاخیر سحری کا استحباب سمجھا ہے مثلًا مسند احمد کا باب «بَابُ وَقْتِ السُّحُوْرِ وَاسْتِحْبَابُ تَأخِیْرِه » وہ اس لئے کہ صحابہ کرامؓ عموماً اس وقت سحری کھاتے تھے۔ علاوہ ازیں تاخیر سحری کا استحباب دیگر احادیث سے ثابت ہے۔

اب رہا یہ مسئلہ اذان اول رمضان کے ساتھ خاص ہے یا سارا سال ہوتی تھی، سو اس کے متعلق عرض یہ ہے کہ اس کے رمضان سے مختص ہونے کی کوئی دلیل نہیں کیونکہ اول تو احادیث سے اس کی عمومیت ثابت ہے۔ دوسرے صحابہ کرامؓ رمضان کے علاوہ بھی روزے رکھا کرتے تھے ۔ خواہ اس کا سحری کے لئے ہونا بھی تسلیم کر لیا جائے پھر بھی رمضان کے ساتھ مختص ہونے کیو جہ نہیں۔ خود اہل رائے جو اس کے فقط اعلان بالفاظ دیگر، سحری کے لئے ہونے کے قائل ہیں جب اس اذان شرعی کی عمومیت یا اسے رمضان کے علاوہ بھی احادیث میں پاتے ہیں تو اس کی تاویل اس طرح کرتے ہیں کہ صحابہ نفلی روزے سارا سال رکھا کرتے تھے اس لئے یہ سارا سال ہوتی تھی۔ چنانچہ علامہ عینیؒ نے اس کی یہی توجیہ پیش کی ہے۔ حاصل یہ ہے کہ یہ اذان تقریباً سارا سال ہی ہوتی تھی۔

ألصَّلٰوۃُ خَیْر من النَّوْم پہلی اذان میں ہے یا دوسری میں؟

الصلٰوة خیر من النوم کے ترجمہ سے اس کا مقصد واضح ہے کہ یہ نماز کے لئے نیند سے جگانے کیلئے کہا جاتا ہے۔ اوپر بیان ہو چکا ہے کہ پہلی اذان صبح کی نماز کے اول وقت پڑھنے کے لئے صبح صادق سے پہلے کہی جاتی ہے تاکہ نیند سے اُٹھ کر ضروری جملہ اُمور سے فارغ ہو جائے اور پھر اذان ثانی کے سنتے ہی نماز کی طرف چلا آئے ۔ اس مناسبت سے الصلوة خیر من النوم پہلی اذان میں ہے جس وقت وہ کہی جاتی ہو اور اگر ایک ہی اذان کہی جائے کیونکہ اسی سے یہ مقصد (نیند سے جگانا) بھی حاصل کرنا ہوتا ہے۔

الصلوة خیر من النوم کا پہلی اذان میں ہونے کا ثبوت احادیث سے ملاحظہ فرمائیں:

(1) ابو داؤد مع عون المعبود (۱۹۱:۱) میں ہے:

«عَنْ أبِیْ مَحْذُوْرَة عَنِ النَّبِیِّ ﷺ نَحْوَ هٰذَا الْخَبَرِ وَفِیْهِ الصَّلٰوةُ خَیْرٌ مِّنْ النَّوْمِ الصَّلٰوةُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ فِی الْأوْلٰی مِنَ الصُّبْح»

''یعنی رسول اللہ ﷺ سے ہے کہ «الصَّلٰوةُ خَیْرٌ مِّنْ النَّوْمِ الصَّلٰوةُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ» صبح کی پہلی اذان میں ہے

(2) نسائی (۷۴:۱) میں ہے:

«عَنْ أبِیْ مَحْذُوْرَةَ قَالَ ۔۔۔۔ قَالَ ۔۔۔۔ حَیَّ عَلٰی الْفَلَاحِ الصَّلٰوةُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ  الصَّلٰوةُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ فِیْ الْأوْلٰی مِنَ الصُّبْحِ» ۔

یعنی ابو محذورہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے مجھے اذان سکھائی جس طرح کہ تم آج کل دیتے ہو۔ پھر اذان کے کلمات کہتے ہوئے کہا۔ الصلوة خیر من النوم صبح کی پہلی اذان میں ہے۔ الحدیث نیز نسائی (۱:۷۵) میں ہے۔

«عَنْ أبِیْ مَحْذُوْرَۃَ قَالَ: کُنْتُ أؤَذِّنُ لِرَسُوْلِ اللہِ ﷺ وَکُنْتُ أَقُوْلُ فِی أذَانِ الْفَجْرِ الْأوَّلِ حَیَّ عَلٰی الْفَلَاحِ الصَّلٰوةُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ» الحدیث

یعنی ابو مخدورہ رسول اللہ ﷺ کے لئے اذان کہتے تھے اور پہلی اذان فجر میں« الصلٰوةخیر من النوم» کہا کرتے تھے۔ الحدیث

(3) دارقطنی (۲۳۴:۱) میں ہے:

«عَنْ أبِیْ مَحْذُوْرَةَ قَالَ:۔۔۔۔ الصَّلٰوةُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ فِی الْأوْلٰی مِنَ الصُّبْحُِ» الحدیث۔

یعنی الصلٰوة خیر من النوم صبح کی پہلی اذان میں ہے:

نیز دار قطنی (۲۳۵:۱) میں ہے:

«فَإِذَا أذَّنْتَ بِالْأوْلٰی مِنَ الصُّبْحِ فَقُلْ اَلصَّلٰوةُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ مَرَّتَیْنِ۔ الحدیث»

یعنی رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ جب تو صبح کی پہلی اذان دے تو دو مرتبہ الصلوة خیر من النوم کہہ۔ (اس حدیث میں فعل کی بجائے امر موجود ہے)۔

فی الحال ان پانچ احادیث پر اکتفاء کرتا ہوں اور بطور تائید علامہ امیر الصنعانی کی سبل السلام شرح بلوغ المرام سے بحث نقل کرتا ہوں تاکہ مسئلہ کی مزید وضاحت ہو جائے۔

سبل السلام (۱۲۰:۱) میں ہے:

ترجمہ: نسائی کی روایت میں ہے۔ «الصَّلٰوةُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ الصَّلٰوةُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ فِی الْأذَانِ الأوَّلِ مِنَ الصُّبْحِ»یعنی الصَّلٰوةُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ صبح کی پہلی اذان میں ہے۔ اس حدیث سے صبح کی مطلق اذانیں (جن میں اس کلمہ کا کہنا آیا ہے) مقید ہو گئی ہیں کہ مراد پہلی اذان فجر ہے۔ ابن ارسلانؒ کہتے ہیں: اس روایت کو ابن خزیمہ نے صحیح کہا ہے۔ صاحب البدر التمام علامہ مغربی فرماتے ہیں: تثویب (الصلوة خیر من النوم) فجر کی پہلی اذان میں ہے کیونکہ وہ سونے والے کو جگانے کے لئے ہے اور اذان ثانی نماز کے وقت ہونے کا اعلان اور نماز کی طرف بلانے کے لئے۔ نسائی کے لفظ اس کی سنن کبریٰ میں ابو جعفر کے طریق سے یوں ہیں: «کُنْتُ اُؤَذِّنُ ل،رَسُوْلِ اللہِ ﷺ، فَکُنْتُ أقُوْلُ فِى أذَانِ الْفَجْرِ الْاَوَّلِ حَیَّ َعلٰی الصَّلوٰةِ، حَیَّ عَلٰی الْفَلَاحِ، الصَّلٰوةُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ، الصَّلٰوةُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ» علامہ ابن حزمؒ کہتے ہیں: اس حدیث کی سند صحیح ہے (ماخوذ من تخریج الزرکشی لاحاديث الرافعي) اسی کی مانند السنن الکبری  للبیہقی میں ابومحذورہ سے حدیث ہے:«إنه كَانَ يُثَوِّبُ في الأذانِ الأولِ  مِنَ الصُّبْحِ بِأمْرِہ» ﷺ یعنی ابو محذورہ صبح کی پہلی اذان میں نبی ﷺ کے حکم سے تثویب کہتے تھے۔

واضح رہے کہ سل السلام کی یہ عبارت کہ اس سے مطلق احادیث صبح مقید ہو گئی ہیں۔ اور اذانِ صبح کا مطلب اذان اول ہے ابو محدوزہ کی احادیث کے متعلق صحیح ہے۔ جن میں سے بعض میں صرف اذانِ فجر کا ذکر ہے اور بعض روایتوں میں اذان فجر اول کا ذِکر ہے اس لئے مطلق احادیث ابی محذورہ مقید احادیث پر محمول ہوں گی۔ باقی وہ احادیث جن میں اس کلمہ کا اذانِ فجر میں کہنا آیا ہے یہ اس صورت میں ہے جب صرف صبح کی ایک اذان کہی گئی ہو۔ ھذا ما عندی واللہ أعلم۔


حوالہ جات

ہفت روزہ اہل حدیث لاہور مجریہ ۴ دسمبر ۱۹۷۰ء میں مفتی صاحب نے سحری کے لئے لاؤڈ سپیکر پر اعلان کو امر بالمعروف قرار دیا تھا جسے فریق ثانی نے بدعت قرار دیا حالانکہ سحری پکانے کا سبب نبی ﷺ کے زمانہ میں عرب میں نہ تھا۔ فتأمل

اس کی نظیر (جمعہ کی پہلی اذان ہے جو ظہر کے وقت سے قبل) تیاری جمعہ کے لئے حضرت عثمانؓ نے مقرر فرمائی۔ اگرچہ صحابہ شارع نہیں ہوتا لیکن فجر کی تیاری کے لئے فجر سے قبل اذان کی مشروعیت نبی ﷺ سے ثابت تھی، اس لئے ان کا یہ فعل مدعت نہ ہوا۔ لہٰذا صحابہ کرام کا اس پر اجماع ہوا اور اس پر عمل رائج ہوا۔

البخاری / ۱: ۸۴، ابو داؤد مع العون / ۲: ۲۷۵ وغیرہ۔ شرح معانی الآثار للطحاوی / ۱: ۸۴ میں ہے: لِبَلَالٍ : اِنَّکَ تُؤَذِّنُ اِذَا کَانَ الْفَجْرُ سَاطِعًا۔۔۔ الحدیث

حدیث میں کُلُوْا وَاشْرَبُوْا امر اجازت کے لئے ہے جیسا کہ قرآن مجید میں آیا ہے۔ ''وَاِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُوْ''

مسند احمد، مسلم وغیرہ

تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو ہدایۃ المجتہد /۱۰۷:۱
بْنِ الْمُسَیَّبِ مُرْسَلًا: اَنَّ بِلَالًا یُؤَذِّنُ بِلَیْلٍ فَمَنْ اَرَادَ الصَّوْمَ فَلَا یَمْنَعْه اَذَانُ بِلَالٌ حَتّٰی یُؤَذِّنْك

ابْنُ اُمِّ مَکْتُوْمٍ (کنز العمال /۱۱۳:۴)

اس سنت کو چھوڑ کر ہمارے ہاں صبح کی اذان اور نماز کا وقفہ زیادہ رکھا گیا ہے۔ خصوصاً مدارس میں جہاں طلبہ بھی مقیم ہوتے ہیں، اس کی اشد ضرورت ہوتی ہے لیکن اگر اس سنت کا سارا سال احیاء کیا جائے تو وقفہ زیادہ رکھنے کی ضرورت نہیں۔ حدیث میں اذان اور نماز کے وقفے کے سلسلہ میں صبح کا باقی نمازوں سے کوئی فرق نہیں آیا اس طرح سے یہ امتیاز بھی ختم ہو جائے گا۔

الفاظ کی شرح عون المعبود (۱۹۱:۱) میں یوں ہے (ألصَّلٰوة خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ فِي الْأوْلٰی) أي فِي الْأذَانِ لِلصَّلٰوۃِ الْاُوْلٰی (مِنَ الصُّبْحِ) بَیَانٌ لِلّاُوْلٰی۔ تلخیص الجیر (۲۰۲:۱) میں اس حدیث پر یوں تبصرہ ہے: وَصَحَّحَه ابْنُ خُزَیْمَة مِنْ حَدِیْثِ ابْنِ جُریْجٍ الخ۔ یعنی ابن جریج والی حدیث کو امام ابن خزیمہ نے صحیح کہا ہے۔

حاشیہ نسائی میں ہے: فِي الْأُوْلٰی مِنَ الصُّبْحِ اَي فِي الْمُنَادَاةِ وَفِي نُسْخَة فِي الْاَوَّلِ اَي في النِّدَاءِ الْاَوَّلِ وَالْمُرَادُ الْاَذَانُ دُوْنَ الْاِقَامَة وَاللہُ تَعَالٰی أعْلَمُ۔ ۱۲ س

اس حدیث کے بعد امام نسائی فرماتے ہیں: وَلَیْسَ بِاَبِي ضَعْفَرٍ الْفَرأَءِ یعنی راویوں میں ابو جعفر سے مراد الفراء نہیں ہے بلکہ دوسرا ہے۔ واضح رہے کہ یہ ابو جعفر مجہول ہے لیکن حدیث پر کوئی اثر نہیں پڑتا کیوں کہ دوسری صحیح احادیث اس کی شاہد ہیں۔ نیز تلخیص الجیر (۲۰۲:۱) میں ہے: وَصَحَّحَه ابْنُ حَزْمٍ یعنی ابو جعفر والی حدیث کو ابن حزم نے صحیح کہا ہے۔

تلخیص الحبیر (۲۰۲:۱) میں اس حدیث کے متعلق یوں ہے: قال الرافعی: ثبت یعنی امام رافعیؒ نے کہا کہ یہ حدیث ثابت شدہ ہے۔