[اور حسد کرنے والے کے شر سے،جب وہ حسد کرنے لگے]

اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے انسانی طبائع کو جہاں گونا گوں صفاتِ عالیہ سے نوازا ہے وہاں اُس میں کچھ کوتاہیاں بھی رکھ دی ہیں،جو اُس کے بشر ہونے پر دلیل ہیں۔خوش قسمتی کی بات یہ ہے کہ اللہ نے انسان کو ان خامیوں کے اِدراک کی صلاحیت بھی بخشی ہے اور دور کرنے کا سلیقہ بھی عطا کیاہے۔اِنسانی شعور ان کو محسوس کرسکتا ہے اور اسباب و علل کو تلاش کرکے علاج بھی کرسکتا ہے۔یہ خامیاں جسمانی، روحانی قسم کی ہیں جو نفسیات واخلاق سے تعلق رکھتی ہیں۔ان میں سے کچھ وقت گزرنے کے ساتھ ختم ہوجاتی ہیں، کچھ کو بدلنا انسان کے اختیار میں نہیں، کچھ پر کم وقت اور کم محنت صرف ہوتی ہے اور کچھ اَخلاقی بیماریاں ایسی ہوتی ہیں جو خود بخود ختم نہیں ہوتیںبلکہ باقاعدہ محنت کرکے ہی ان کی بیخ کنی کی جاسکتی ہے۔یہ مشقت طلب بھی ہے اور صبرآزما بھی۔انہی میں سے ایک 'حسد'بھی ہے۔

حسد کی تعریف

حسد کا مطلب ہے کہ ''کسی دوسرے کی خوش حالی پر جلنا اور تمنا کرنا کہ اس کی نعمت اور خوش حالی دور ہوکر اسے مل جائے۔''

حاسد وہ ہے جو دوسروں کی نعمتوں پر جلنے والا ہو۔ وہ یہ نہ برداشت کرسکے کہ اللہ نے کسی کو مال، علم، دین، حسن ودیگر نعمتوں سے نوازا ہے۔ بسا اوقات یہ کیفیت دل تک رہتی ہے اور بعض اَوقات بڑھتے بڑھتے اس مقام تک آپہنچتی ہے کہ حاسد (حسد کرنے والا) محسود (جس سے حسد کیا جائے) کے خلاف کچھ عملی قدم اٹھانے پہ آ جاتاہے۔ اس کی کیفیات کا اظہار کبھی اس کی باتوں سے ہوتا ہے اور کبھی اس کا عمل اندرونی جذبات و اِحساسات کی عکاسی کرتا ہے۔حسد کی کیفیت جب تک حاسد کے دل ودماغ تک محدود رہے ، محسود کے لیے خطرہ کا باعث نہیں بنتی بلکہ وہ سراسر حاسد کے لیے ہی وبالِ جان بنا رہتاہے اور یوں وہ اپنی ذات کا خود ہی بڑا دشمن بن بیٹھتاہے، لیکن جب وہ اپنی جلن کو کھلم کھلا ظاہر کرنے لگے تو یہی وہ مقام ہے جس سے پناہ مانگنے کے لیے خالق ارض و سماء نے ہمیں یہ دعا سکھائی ہے:

﴿وَمِن شَرِّ‌ حاسِدٍ إِذا حَسَدَ ٥﴾... سورة الفلق

''(میں اللہ سے پناہ مانگتا ہوں) حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرنے لگیـ۔''

اس آیت مبارکہ میں یہ نہیں سکھایا گیا کہ ''حاسد کے شر سے پناہ مانگو'' بلکہ اس بات کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ ''حاسد کے شر سے پناہ مانگو جب وہ حسد کرنے لگے'' کیونکہ جب تک اس کا حسد ظاہر نہیں ہوتا تب تک وہ ایک قلبی وفکری بیماری ہے جس کا تعلق حاسد کی ذات سے ہے اور یہ درجہ محسود کے حق میں نقصان دہ نہیں ہے۔

قرآن میں مختلف مقامات پر آیات وارد ہوئی ہیں جن میں اللہ تبارک تعالیٰ نے حسد کا ذکر کیا ہے۔ ان آیات سے حسد کا معنی اور زیادہ واضح ہوجائے گا۔

1. ﴿حَسَدًا مِن عِندِ أَنفُسِهِم...١٠٩﴾... سورة البقرة ''اپنے دلوں میں حسد کی وجہ سے۔''

2. ﴿أَم يَحسُدونَ النّاسَ عَلىٰ ما ءاتىٰهُمُ اللَّهُ مِن فَضلِهِ...٥٤﴾... سورة النساء

''کیا وہ لوگوں سے حسد کرتے ہیں اس پر جو اللہ نے ان کواپنے فضل سے عطا کیا ہے۔''

3. ﴿فَسَيَقولونَ بَل تَحسُدونَنا...١٥﴾... سورة الفتح

''پس عنقریب وہ کہیں گے بلکہ تم ہم سے حسد کرتے ہو۔''

مذکورہ بالا آیات میں حسد کی بات کی گئی ہے جو دلوں تک محدود رہتا ہے اور کینہ وبغض کی شکل اختیار کر چکا ہوتا ہے،لیکن سورہ فلق میں إذا حسد کے الفاظ سے واضح ہوتاہے کہ جب وہ حسد کا عملی مظاہرہ کرنے لگے۔

حسد کی مذمت میں نبی اکرم 1سے مختلف اَحادیث مروی ہیں، مثلاً

1. ''کسی بندے کے دل میں ایمان اور حسد جمع نہیں ہوسکتے۔'' (سنن نسائی:۲۹۱۲)

2. ''تمہاری طرف پچھلی قوموں کی برائیاں حسد اور بغض سرایت کر آئیں گی جو مونڈ ڈالیں گی میں نہیں کہتاکہ یہ بالوں کومونڈ دیں گی بلکہ یہ دین کو مونڈ دیں گی۔''(سنن ترمذی:۲۵۱۰)

اَقسام حسد

اس کی دو قسمیں ہیں:

٭ پہلی قسم: یہ کہ حاسد دوسرے کی نعمت چھن جانے کی خواہش کرے خواہ وہ اس کو ملے یا نہ ملے یہ مذموم ترین قسم ہے کہ انسان اپنے لیے بھی اللہ سبحان و تعالیٰ کے انعام و فضل کا خواہش مند نہیں ہوتا اور وہ اپنے بھائی کے نقصان کا متمنی ہوتا ہے۔

٭ دوسری قسم: یہ ہے کہ حاسد چاہتا ہے کہ نعمت، صاحب نعمت سے چھن کر مجھے مل جائے،یہ کیفیت ایمان کی کمزوری کو ظاہر کرتی ہے۔ اللہ بڑے فضل اور وسعت والا ہے۔ 'نعمت' صاحب نعمت سے چھن کر مجھے مل جائے'' اس کی بجائے حاسد اگراللہ سے یہ دعا کرے کہ ''یااللہ! یہ نعمت مجھے بھی مل جائے'' تواللہ کی قدرتِ کاملہ سے کیا بعیدہے کہ وہ اس کو صاحب نعمت سے بڑھ کر مالا مال کردے یہ اللہ پر ایمان اور سوچ کا فرق ہے۔

٭ اگر انسان کسی دوسرے پر اللہ کا فضل و کرم دیکھے اور پھر اللہ سے اپنے لیے بھی وہی کچھ یا اس سے بڑھ کر طلب کرے تو یہ رشک کہلاتاہے اور جائز ہے،کیونکہ اُس نے دوسرے انسان یا صاحب نعمت کی نعمت کا زوال نہیں چاہا، نہ چھن جانے کی تمنا کی۔ حسد کی بُرائی ہی یہ ہے کہ اس میں مبتلا ہوکر ایک بھائی دوسرے بھائی کی خوشیوں اور نعمتوں کے زوال کی یا چھن جانے کی آرزو کرتا ہے۔سورۃ القصص کے رکوع نمبر ۸ میں اللہ تعالیٰ نے قارون کا واقعہ بیان کیا ہے وہ صاحب نعمت تھا۔ بے تحاشا مالدار تھا، لیکن اپنے مال کو اللہ کی راہ میں یا لوگوں کی خیرخواہی میں خرچ کرنے کی بجائے بخیل بن بیٹھا۔ متکبر بن گیا اور اپنے مال کو لوگوں کے لیے آزمائش بنا دیا۔ اس کے مال پر دنیا پر ست افراد نے رشک کیا اور اہل علم نے پناہ مانگی تو صاحب نعمت جب نعمت کو صرف دنیا حاصل کرنے کے لیے استعمال کرے اور اس کو فخر و ریا کا ذریعہ بنالے تو ایسی نعمت کو حاصل کرنے کے لیے اہل علم کے لیے رشک جائز نہیں ہے۔ رشک صرف دو صورتوں میں جائز ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عمرؓ کہتے ہیں۔ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ

''دو آدمیوں پر رشک کرنا جائز ہے۔ایک وہ جس کو اللہ نے قرآن دیا ہو اور وہ راتوں کو بھی اس کی تلاوت کرتا اور اس پر عمل کرتا ہو اور دوسرا وہ شخص جسے اللہ نے مال دیا ہو اور وہ دن رات اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہو۔'' (صحیح بخاری:۵۰۲۵)

اَسباب حسد

٭تفوق کی خواہش:انسان کا نفس بنیادی طورپردوسروں سے بلند وبرتر رہنا چاہتا ہے۔جب وہ کسی کو اپنے سے بہتر حال و مقام پر دیکھتا ہے تو یہ چیز اس پر گراں گزرتی ہے ۔ لہٰذا وہ چاہتا ہے کہ یہ نعمت اس سے چھن جائے تاکہ ہم دونوں برابر ہوجائیں۔یہ حسد کی بنیادی علت ہے۔

حسد عموماً ہمسر اور ہم پلہ اَفراد میں ہوتا ہے۔ مثلاً بہن بھائیوں میں، دوستوں میں، افسران میں،تاجر تاجر سے حسد کرے گا،سیاستدان سیاستدان سے حسد کرے گا، طالب علم طالب علم سے اور اہل قلم اہل قلم سے حسد کریں گے اور حسد کی جڑ اس فانی دنیا کی محبت ہے۔ اس کے اور بھی بہت سے اَسباب ہیں۔ ایمان کی کمزوری بھی حسد کا باعث بنتی ہے۔حاسد اللہ کی تقسیم پر راضی نہیں ہوتا، وہ سمجھتا ہے کہ یہ نعمت جو دوسرے کو عطا کی گئی ہے اس کا اصل حق دار میں ہوں۔ وہ اپنے قول و عمل سے یہ اظہار کرتا ہے کہ اللہ نے کیسی ناانصافی کی ہے اور اپنے فضل و کرم کے لیے غلط انسان کا انتخاب کیا ہے۔ یہ تصورات و خیالات اس کے ایمان کو متزلزل کردیتے ہیں اور اس کے اللہ کے ساتھ تعلق کو کمزور کردیتے ہیں۔ اسی سوچ کی وجہ سے ابلیس ملعون و مردود قرارپایا تھا۔ ایسا کردار و مزاج رکھنا در حقیقت ابلیس کے نقش قدم پر چلنا ہے جس کا انجام نامرادی کے سوا کچھ بھی نہیں، کیونکہ حاسد کا حسد اللہ کے فیصلے کونہیں بدل سکتا۔

ہر انسان کچھ خوبیوں اور کچھ خامیوں کامجموعہ ہے۔ اپنے کردار و مزاج کی خامیوں کو سمجھتے ہوئے ان کی اصلاح کی کوشش کرنا مثبت و تعمیری سرگرمی ہے، لیکن اگر اپنی خامیوں کی اِصلاح کی بجائے دوسروں کی صلاحیتوں اور خوبیوں پر انسان جلنا کڑھنا شروع کردے تویہ حسد کا پیش خیمہ بن جاتاہے۔ایسا انسان احساس کمتری میںمبتلا ہوجاتا ہے اور اپنی اور دوسروں کی زندگی اجیرن کرلیتا ہے۔اپنی صلاحیتوں اور خوبیوں پر اس کی نظر نہیںجاتی۔وہ ہر وقت دوسروں پر نظر رکھتا ہے۔ اللہ سے شکوہ کناں رہتا ہے اور حاسد بن جاتا ہے۔

٭تنگ دلی: دل کی تنگی بھی اَسباب حسد میں سے ہے۔ بعض اوقات نہ تو انسان میں تکبر ہوتا ہے اور نہ وہ احساس کمتری میں مبتلا ہوتاہے،لیکن جب اس کے سامنے کسی پر اللہ کے انعام یا احسان کا تذکرہ کیا جائے تو اسے یہ بات بری معلوم ہوتی ہے اورجب کسی شخص کی بدحالی یا مصیبت کا تذکرہ کیا جائے تو اُسے خوشی محسوس ہوتی ہے۔ لوگوں کی بدحالی اُسے بھلی لگتی ہے اور خوشحالی اُسے غمگین کردیتی ہے وہ بندوں پراللہ کی نعمتوں کا بخل کرتا ہے حالانکہ اس کی کوئی وجہ نہیں ہوتی اور اس کے اس موجود نعمتوں میںکچھ کمی بھی نہیں ہورہی ہوتی تویہ نفس کی خباثت اور شرانگیزیاں ہیںجو انسان کو اس بُرے کردار و عمل کی طرف لے جاتی ہیں اور نفس کا پہلے پہل یہی کام ہوتا ہے کہ وہ انسان کو بُرائی پر اکساتا ہے۔

٭اِجارہ داری کا خبط:غرور و تکبر میں مبتلا شخص ہر چیز پراپنی اجارہ داری سمجھتا ہے۔ خود پسندی میں مبتلا ہوتا ہے اور اگر کوئی اور انسان اس کے برابر آجائے تو وہ ڈرتا ہے کہ کہیں وہ مجھ سے بڑا نہ ہوجائے یا اگر اُس سے کم حیثیت کا شخص اس کے برابر آجائے یا اس سے آگے بڑھ جائے تو وہ اس کی بلندی کو برداشت نہیں کرپاتا اور حسد میں مبتلا ہوجاتا ہے ۔ اُسے اپنی حیثیت و مقام کھو جانے کا خو ف لاحق ہوجاتا ہے۔ مشرکین مکہ کا رسول اللہ1 سے حسد اسی نوعیت کا تھا۔

٭ علم وفن میں برتری کی خواہش:بعض اَوقات انسان اپنے فن، علم، حیثیت، عہدے، دین اور صلاحیتوں میں ممتاز ہوتا ہے، یگانۂ روز گار ہوتا ہے اور جب اُسے معلوم ہوتا ہے کہ کسی اور علاقے یا جگہ میں اس کی طرح کا ایک اور انسان موجود ہے تو اس کے دل میں حاسدانہ جذبات نمو پانے لگتے ہیں۔یا اس کا دل تنگ ہونے لگتا ہے اور وہ اُس فرد کے مرجانے یا اس کی نعمت کے زائل ہوجانے کی تمنا کرنے لگتا ہے اور یہ جذبات حسد کا شاخسانہ ثابت ہوتے ہیں۔

٭بغض وعناد:بغض و عداوت بھی حسد کی وجہ بن جاتے ہیں۔ انسان کسی کے خلاف دل میں غصہ یادشمنی پال لے اور اس کو ختم کرنے پر آمادہ نہ ہو تو وہ کینہ بن جاتا ہے۔اس سے انتقام کا جذبہ جنم لیتاہے اور حضرت انسان کو اپنے دشمن کا نقصان اور مصیبت اچھی لگتی ہے اور دشمن کو ملنے والی نعمت یابھلائی اُسے بری لگتی ہے اور وہ اس کے ختم ہوجانے کی آرزو کرتا ہے اور یہی تو حسد ہے۔ گویا عداوت، کینہ اور حسد لازم و ملزوم ہیں اور جس نے حسد کی بیماری کا علاج کیا ہے اُسے عداوت اور بغض کا علاج بھی کرنا ہوگا، کیونکہ اگر اسباب باقی رہے تو بیماری کبھی بھی پلٹ کر حملہ آور ہوسکتی ہے۔حسد کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے اَسباب کا خاتمہ ضروری ہے۔

مثالیں:حسد ایک ایسی برائی ہے جو آغاز کائنات سے چلی آرہی ہے۔تاریخی مطالعہ سے ہمیں حسد کی کچھ مثالیں ملتی ہیں جن کا ذکر قرآن مجید میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے کیا ہے۔

1.اِبلیس کا انسان سے حسد

آسمان میں سب سے پہلا جو گناہ سرزد ہوا وہ حسد تھا، جو ابلیس نے سیدنا آدم علیہ السلام سے محسوس کیا تھا۔ جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سمیت ابلیس کو آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے کا حکم دیا تو اس نے اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے کہا۔ قرآن کے الفاظ یہ ہیں:

﴿قالَ أَنا۠ خَيرٌ‌ مِنهُ ۖ خَلَقتَنى مِن نارٍ‌ وَخَلَقتَهُ مِن طينٍ ٧٦﴾... سورة ص

''کہا میں اس سے بہتر ہوں تو نے مجھے آگ سے پیدا کیاہے اور اس کو مٹی سے تخلیق کیا ہے۔''

اس نے سوچا کہ جو مقام سیدنا آدم علیہ السلام کو عطا کیا گیا ہے وہ اصل میں تو میرا حق تھا۔ میں اعلیٰ عنصر یعنی آگ سے تخلیق کیا گیا ہوں اور آدم ؑ کو ادنیٰ عنصر یعنی مٹی سے بنایا گیا ہے تو تخلیقی اعتبار سے اور عبادت و ریاضت کے لحاظ سے میںاس مرتبہ کا حقدار تھا جس پر آدمؑ کو فائز کیا گیا ہے۔مجھ سے کمتر مخلوق کو مجھ پر برتری دی گئی ہے۔ اس نے تکبر بھی کیا اور احساس کمتری میں بھی مبتلا ہوا۔ لہٰذا حسد میںمبتلا ہوکر اس نے خالق بشر کو چیلنج کردیا کہ میں تیری اس مخلوق کو راہ راست سے بھٹکا کر رہوں گا جس صفت کی بنیاد پر آدم ؑ کو مجھ پربرتری دی گئی ہے اس کی اُسی صفت کو میں تیری نافرمانی میں استعمال کرواؤں گا۔

سیدنا آدم﷤کو سجدہ نہ کرنے کے جرم میں اللہ نے ابلیس لعین کو جنت سے نکل جانے کا حکم دیا۔چنانچہ دنیا کے سب سے پہلے حاسد نے آدم ؑ و بنی آدم کو اُسی جنت سے نکالنے کا ہدف طے کیا تھا اور آج تک وہ یکسوئی کے ساتھ اپنے ہدف کو حاصل کرنے میںمصروف عمل ہے۔ قرآن کریم میںکئی مقامات پر یہ واقعہ بیان کیاگیا ہے۔ آج جو بھی مبتلائے حسد ہے وہ اوّلین حاسد ابلیس کے نقش قدم پر چل رہا ہے اور ابلیس کی طرح وہ بھی اللہ سے شکوہ کناں ہوتا ہے کہ نوازے جانے کا حق دار تو میں تھا تونے دوسرے کو یہ فضیلت کیوں عطا کی؟فضیلت اور برتری کے خواہش مند ابلیس کے حسد نے اُسے کس انجام بد سے دوچار کیا تھا؟یقینا اس بر ے انجام سے انسان کو ڈرنا چاہیے۔

قابیل کا ہابیل سے حسد

زمین پربھی سب سے پہلا گناہ حسد کی وجہ سے ہوا۔ جس کے نتیجے میں قابیل نے اپنے سگے بھائی ہابیل کو قتل کردیا گویا پہلا قتل حسد کا نتیجہ تھا۔کتب تفاسیر میں آتا ہے کہ قابیل اور ہابیل دونوں نے اللہ کی بارگاہ میںقربانی پیش کی۔ ہابیل کی قربانی عمدہ اور قابیل کی ردّی اور بے کار تھی۔ دونوں نے قربانیوں کومیدان میں رکھا تو ہابیل کی قربانی کو آسمانی آگ نے جلا دیا جو کہ قبولیت کی علامت تھی جبکہ قابیل کی قربانی کو آسمانی آگ نے نہیں جلایا۔چنانچہ اسی حسد میں کہ ''ہابیل کی قربانی کیوں قبول ہوئی ہے؟'' قابیل نے ہابیل کو قتل کردیا حالانکہ کرنے کا کام یہ تھا کہ وہ اپنی غلطی کی اِصلاح کرلیتا۔ سورہ مائدہ میں اللہ نے اس واقعہ کا تفصیلی ذکر کیا ہے:

﴿وَاتلُ عَلَيهِم نَبَأَ ابنَى ءادَمَ بِالحَقِّ إِذ قَرَّ‌با قُر‌بانًا فَتُقُبِّلَ مِن أَحَدِهِما وَلَم يُتَقَبَّل مِنَ الءاخَرِ‌ قالَ لَأَقتُلَنَّكَ ۖ قالَ إِنَّما يَتَقَبَّلُ اللَّهُ مِنَ المُتَّقينَ ﴿٢٧﴾... سورة المائدة

''اور ان کو آدم کے بیٹوں کا قصہ ٹھیک ٹھیک پڑھ کر سنائیے جب دونوں نے قربانی پیش کی تو ان دونوں میں سے ایک کی قبول ہوئی اور دوسرے کی قبول نہیں ہوئی۔ اُس (قابیل) نے کہا۔ میں ضرور تمہیں قتل کردوں گا۔ اُس (ہابیل) نے کہا اللہ پرہیزگاروں سے قبول کرتا ہے۔''

قابیل کو یہ حسد محسوس ہوا کہ ہابیل کا درجہ و قبولیت بارگاہ الٰہی میں بڑھ گیا ہے حالانکہ ہابیل نے اس کی وجہ بیان کردی تھی کہ ''اللہ پرہیزگاروں سے قبول کرتا ہے۔'' ہابیل کی عمدہ قربانی اور خالص نیت نے اُسے بارگاہ اِیزدی میں قرب و شرف عطا کیا تھا۔پیچھے رہ جانے اور ناکامی کے احساس نے قابیل کو ہابیل کے قتل پراُکسایا۔ حالانکہ کرنے کا کام یہ تھا کہ وہ اپنی غلطی کی اِصلاح کرلیتا۔ حسد کی یہ قسم ہمارے معاشرے میں اُس جگہ پائی جاتی ہے جہاں افراد کسی بااختیار ہستی کی نظر میں بلند مقام،قرب و شرف کے متلاشی ہوتے ہیں۔خواہ وہ کلاس روم ہو،دفترہو،ادارہ ہویاگھر ہواورقابیل کی طرح وہ اپنے ساتھی کو ترقی کرتا دیکھ کر احساس ناکامی و نامرادی میں گھر کر اُسے نقصان پہنچانے کے درپے ہوجاتے ہیں۔

برادرانِ یوسف کا یوسف ؑسے حسد

تاریخ سے حسد کی ایک اور بڑی مثال برادرانِ یوسف کی ملتی ہے۔ حضرت یوسفؑ اپنی بہترین عادات،اعلیٰ کردار اور معصوم وبے مثال حُسن کی وجہ سے اپنے والد حضرت یعقوبؑ کی آنکھ کا تارا تھے۔ بھائیوں کو اپنے والد کی یوسف ؑسے بے پناہ محبت ناگوار گزرتی تھی اور انہوں نے یوسف ؑ کے قتل کا ارادہ کیا جو بعد میں بڑے بھائی کے مشورے پر بدل دیا اور انہوں نے یوسف ؑ کو کنویں میں پھینکنے پر اکتفا کیا۔ سورہ یوسف میں اللہ تعالیٰ بیان فرماتے ہیں:

﴿اقتُلوا يوسُفَ أَوِ اطرَ‌حوهُ أَر‌ضًا يَخلُ لَكُم وَجهُ أَبيكُم وَتَكونوا مِن بَعدِهِ قَومًا صـٰلِحينَ ٩﴾... سورة يوسف

''مار ڈالو یوسف کو یا کہیں پھینک آؤ تا کہ تمہارے باپ کی توجہ تمہاری طرف ہو یوسف کے بعد تم لوگ اچھے رہو گے۔''

مگر اس سب کے باوجود نہ تو وہ والد کی آنکھ کا تارا بن سکے نہ یوسف ؑ کے مقام کو پہنچ سکے۔ ان کا کچھ نہ بگاڑسکے بلکہ اللہ نے انہی اسباب سے یوسف ؑ کو پیغمبری اور بادشاہی سے سرفراز کیا۔

یہود و نصاریٰ کا اسلام اور اہل اِسلام سے حسد

یہود ونصاریٰ اسلام،اہل اسلام،نبی معظم اور قرآن سے دلی طور پر بغض وحسد رکھتے ہیں اور ان کا یہ خبث باطن اللہ تعالیٰ نے قرآن میں کئی جگہ بیان فرمایا ہے۔ علمائے یہود منتظر تھے کہ آخری نبی ہم میں یعنی بنی اسحق میں مبعوث ہوگا۔ مگرجب اللہ نے اپنی حکمت بالغہ کے تحت آخری نبی بنی اسماعیل میں مبعوث فرمایا تو یہود بنی اِسماعیل کی برتری برداشت نہ کرسکے۔ وہ اپنی سرداری اور برتری کے زعم میں مبتلا تھے، لہٰذا نبی مرسل ﷺ پر ایمان لانے کی بجائے حسد کرنے لگے۔ قرآن اس کیفیت کو یوں بیان کرتا ہے۔

﴿وَإِذا خَلَوا عَضّوا عَلَيكُمُ الأَنامِلَ مِنَ الغَيظِ ۚ قُل موتوا بِغَيظِكُم...١١٩﴾... سورة آل عمران

''اور جب وہ اکیلے ہوتے ہیں تو غصہ کے مارے تم پراپنی انگلیاں کاٹتے ہیں۔ آپ کہو کہ تم اپنے غصہ میں جل مرو۔'ـ'

اسی حسد کی وجہ سے یہود نے نبی اکرم ﷺ پر کئی قاتلانہ حملے بھی کئے، جادو کیا۔ قرآن کو وحی ماننے سے انکار کیا، دین اسلام پراعتراضات کئے، شکوک و شبہات پیدا کرنے کی کوشش کی اور اہل اسلام کے ساتھ ظالمانہ سلوک روا رکھا۔اہل کتاب آج تک اس حسد میں جل رہے ہیں اورجلتے رہیں گے۔ فضیلت اور برتری کا خود ساختہ زعم انہیں لے ڈوبا ہے۔

مشرکین مکہ کا قرآن اور اہل قرآن سے حسد

مشرکین مکہ بھی اپنی سرداری اور برتری کے زعم میں گرفتار تھے وہ اپنے سوا یا اپنے قبیلے کے کسی آدمی کے سوا کسی دوسرے شخص کا چراغ جلتا نہیں دیکھ سکتے تھے۔اسی لیے جب نبی 1 نے اعلان نبوت کیا تو وہ بنوہاشم کی برتری برداشت نہ کرسکے۔ابوجہل رسول اللہﷺکی مخالفت کی وجہ خود بیان کرتا ہے کہ

''ہمارا اور بنی عبدمناف کا باہم مقابلہ تھا۔ انہوں نے کھانے کھلائے توہم نے بھی کھلائے، انہوں نے لوگوں کو سواریاں دیں تو ہم نے بھی دیں، انہوں نے عطیے دیئے توہم نے بھی دیئے،یہاں تک کہ وہ اور ہم جب عزت و شرف میں برابر کی ٹکر ہوگئے تو اب وہ کہتے ہیں کہ ہم میں ایک نبی ہے جس پر آسمان سے وحی آتی ہے۔بھلا اس میدان میں ہم کیسے ان کا مقابلہ کرسکتے ہیں؟ خدا کی قسم ...! ہم ہرگز نہ اس کو مانیں گے اور نہ اس کی تصدیق کریں گے۔'' (ابن ہشام:جلد۱وّل)

اس پر کفارِ مکہ نے اسلام اور مسلمانوں کی مخالفت میں حد کردی۔نبیﷺکے قتل کے منصوبے بنائے۔شعب ابی طالب میں محصور کیا۔ مسلمانوں پر مکہ کی سرزمین تنگ کردی۔ قرآن کا انکار کیا اور جنگیں لڑیں۔ ان سب افعال کا محرک 'حسد' تھا۔

مفاسد حسد

حسد مفرد بیماری نہیں ہے بلکہ بہت سی روحانی بیماریاں مل کر حسد کی شکل میں ظاہر ہوتی ہیں، لہٰذا اس کے نقصانات بھی بہت سارے ہیں اور یہ ہمارے دین، دنیا و آخرت، شخصیت اور معاشرے پربری طرح اثر انداز ہوتے ہیں۔ذیل میں ہم ان کا جائزہ لیتے ہیں۔

دینی واُخروی نقصانات

٭ حاسد کا ایمان خطرے میں ہوتا ہے۔ ارشاد نبو ی ﷺ ہے:

''کسی بندے کے دل میں ایمان اور حسد جمع نہیں ہوسکتے۔'' (سنن نسائی:۲۹۱۲)

''تمہاری طرف پچھلی قوموں کی برائیاں حسد اور بغض سرایت کرآئیں گی جو مونڈ ڈالیں گی۔ میں نہ کہتا کہ یہ بالوں کو مونڈیں گی بلکہ یہ دین کو مونڈ دیں گی۔'' (سنن ترمذی:۲۵۱۰)

آج ہم دیکھتے ہیں کہ علمااور دیندار لوگوں میں ایک دوسرے کے لیے حسد پایاجاتا ہے حالانکہ اپنے علم و دین کی وجہ سے ان کے اَخلاق اعلیٰ اور ظرف کشادہ ہونے چاہئیں۔انہیں ایک دوسرے کی نیکیوں پر رشک کرنا چاہیے اور نیکیوں میں مسابقت کا جذبہ پیدا کرناچاہیے نہ کہ ایک دوسرے کی جڑیں کاٹنے کا ۔ علماے حق آج بھی ایک دوسرے سے حسد نہیں کرتے، کیونکہ ان کامقصد حب الٰہی ورضائے الٰہی کا حصول ہوتا ہے اس لیے وہ کسی کو اپنے سے آگے بڑھتا دیکھیں توخوش ہوتے ہیں،اس کی جڑیں کھوکھلی کرنے کی بجائے دست و بازو بن جاتے ہیں۔

٭ انسان کا ایمان ودین اس کے تقویٰ، اخلاص و کردار سے جانا جاتا ہے اور حاسد میں یہ خوبیاں نہیں ہوتیں۔

é اِرشاد نبوی 1 ہے:

''اس وقت تک لوگ خیر سے رہیں گے جب تک ایک دوسرے سے حسد نہ کریں گے ۔'' (الترغیب والترہیب:۳؍۵۴۷)

٭ جاود کی ایک بڑی وجہ حسد ہے۔جادوکفر اور جادوگر کافر ہے۔اس کی سزا قتل ہے۔ گویا حسد میں مبتلا ہوکر اٹھایا جانے والا قدم حاسد کو دائرہ ایمان سے بھی خارج کرسکتا ہے۔

٭ حاسد اپنے رب سے بدگمان ہوجاتا ہے۔تعلق باللہ میں بھی کمی واقع ہوجاتی ہے او یہ بہت بڑا نقصان ہے اور جو شخص اللہ رب العزت جیسی ہستی سے بدگمان ہوسکتا ہے اس کا انسانوں کے ساتھ کیسا معاملہ ہوگا۔

دنیاوی نقصانات

٭ حاسدکے تعلقات کسی کے ساتھ بھی خوشگوار نہیں رہ سکتے وہ ہرایک سے بدگمان ہونے لگتا ہے۔

٭ حاسد دوسرے کا احترام نہیں کرسکتا نتیجتاً اُسے بھی احترام نہیں ملتا۔

٭ حاسددوسروں کے لیے باعث عذاب ہوتا ہے ایسے لوگ خود مسکرانا جانتے ہیں نہ دوسروں کو مسکراتا دیکھ سکتے ہیں۔

٭ حاسد خود پر اللہ کے فضل کو محسوس نہیں کرسکتا لہٰذا خوش نہیں ہوتا اور دوسروں پر اللہ کا فضل بھی برداشت نہیں کرسکتا اور ناشکرا بن جاتا ہے۔

٭ حسد کی وجہ سے قطع رحمی جیسی شنیع قباحت پیدا ہوجاتی ہے۔

٭ حاسد کی نظر کسی کوبھی لگ سکتی ہے۔ انسان کی نگاہ کی شعاعیں اثر میں سب سے زیادہ تیز ہیں۔ الٹرا ساؤنڈ مشین کی شعاعیں اندر تک کی رپورٹ لاسکتی ہیں، لیزر شعاعیں اندر سے مرض کی جڑ کو ختم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں توانسان کی نگاہ کی شعاعیں تاثیر میں ان سے بڑھ کر ہیں۔

٭ حسد کی وجہ سے دو افراد کا باہمی اعتماد ختم ہوجاتاہے۔

٭ حسد سے بداخلاقی، الزام تراشی اور بہتان جنم لیتے ہیں۔

٭ حاسدسے کسی کی جان، مال، عزت و آبرو محفوظ نہیں ہوتی۔ حسد کی آگ حاسد کو محسود کے قتل پرآمادہ کرسکتی ہے۔

٭ عداوت و بغض حسد کا اور حسد عداوت و بغض کا باعث بنتا ہے۔ دونوں لازم و ملزوم ہیں۔

٭ خاندان تباہ اور گھر ٹوٹ جاتے ہیں۔

٭ جسمانی امراض لاحق ہوجاتے ہیں۔

اسی لیے اہل جنت کے دلوں سے اللہ تعالیٰ کینے نکال دیں گے تاکہ وہ خوشیوں کا حقیقی لطف اٹھا سکیں۔نعمتوں پر حقیقی خوشی اور لذت جنت میں ہی محسوس ہوگی،کیونکہ وہاں کوئی حاسد نہیں ہوگا۔

اِنفرادی و معاشرتی نقصانات

حاسد، محسود کے خلاف جب نقصان پہنچانے کی سازشیں کرتا ہے،اور اس کی شخصیت کو مجروح کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کے نتائج صرف محسود کے حق میں برے نہیں ہوتے بلکہ حاسد کے لیے بھی یہ کیفیت انتہائی تباہ کن ہوتی ہے اس کے اثرات اِنفرادی اور معاشرتی سطح پر رونما ہوتے ہیں،چونکہ معاشرہ افراد سے تشکیل پاتاہے لہٰذا ایک فرد کا بگاڑ پورے معاشرے کے بگاڑ کا باعث بنتا ہے اور جس معاشرے کے اَفرادباہم حسد کرنے لگیں تو ان کے ذاتی نقصان کے ساتھ ساتھ معاشرے میں ترقی کا عمل زوال پذیر ہونے لگتا ہے۔سب ایک دوسرے کواوندھے منہ گرانے کی کوشش میں ملک و قوم کے مفاد کو فراموش کردیتے ہیں۔ ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی اندھی لگن مقصد سے غافل کردیتی ہے اور تمام تعمیری صلاحیتیں تخریبی قوتوں میں بدل جاتی ہیں۔

٭ صلاحیتیں کند ہوکر ضائع ہوجاتی ہیں۔ ایسے افراد مثبت سوچ اور تعمیری فکر سے محروم ہوجاتے ہیں۔وہ اپنے حال ومستقبل کو بہتر سے بہترین کی طرف لے جانے کی بجائے موجودہ حالت سے بھی کئی گنا پیچھے چلے جاتے ہیں۔

٭ ذہن انتشار کا شکار ہوجاتا ہے جس کے نتیجے میں کبھی مایوسی اور کبھی ڈیپریشن غلبہ پالیتا ہے۔

٭ شخصیت عدم توازن کا شکار ہوکر ٹوٹ پھوٹ جاتی ہے۔

حسد سے بچاؤ کی تدابیر

اگر کوئی آپ سے حسد کرے تو ...!

اللہ پر مکمل بھروسہ رکھیں اور گھبراہٹ کا مظاہرہ نہ کریں۔ عقیدہ توحید پر ثابت قدم رہیں۔

ارشادِ نبویؐ ہے:جب تک اللہ نہ چاہے کوئی آپ سے کچھ نہیں چھین سکتا۔

«اللھم لامانع لما أعطیت ولا معطي لما منعت» (صحیح بخاری:۶۶۱۵)

''اے اللہ!اُس چیز کو کوئی نہیں روک سکتا جو تو دے، اور کوئی نہیں اس کو دے سکتا جسے تو روک لے۔''

٭ اشتعال میں نہ آئیں اور انتقام کے منصوبے نہ بنائیں۔ آپ کا صبر ہی حسد کو ختم کرے گا۔

٭ حاسد کو معاف کردیں اس سے اس کے حسد میں کمی ہوگی۔

٭ اللہ سے تعلق مضبوط کرنے کے لیے نماز کی پابندی ضرور کریں۔

٭ صبح و شام کے اَذکار پڑھیں۔

٭ صبح و شام دم کریں۔ نظر بد سے بچاؤ کی دعائیں پڑھیں اوراپنے آپ کو اللہ کی پناہ میں دے دیں،کیونکہ اللہ کی پناہ کے علاوہ حاسد سے بچنے کا اور کوئی چارا نہیں ہے۔ حسد سے بچاؤ کا سب سے مضبوط قلعہ اللہ کی پناہ میں آنا ہے۔

٭ حاسد نے جو کچھ آپ کے ساتھ کیا وہ اس کے علم اور ظرف کے مطابق تھا۔ آپ اپنے علم اور ظرف کے مطابق جوابی رد عمل ظاہر کردیں۔ خیر خواہی کے علاوہ کچھ نہ چاہیں۔

٭ حسد کی وجہ تلاش کرنے کی کوشش کریں۔ پھر حکمت کے ساتھ حاسد کا سامنا کریں۔

٭ حاسد سے کم کم ملیں۔

٭ حاسد کی ہدایت کے لیے دعائے خیر کریں۔

٭ خوف ِ خدا اور تقویٰ کی روش پر قائم رہیں۔

٭ جب کبھی موقع ملے تو حاسد کے ساتھ احسان یا بھلائی کا معاملہ کریں۔ قطع نظر اس کے کہ اس سے حاسد کے حسد میں کمی ہورہی ہے یا نہیں؟

٭کچھ معاملات میں رازداری سے کام لیں۔ کام کرنے سے پہلے اس کا ڈھنڈورا نہ پیٹنا شروع کردیں۔

٭حسد کے جواب میں حسد کرنا یا غیر شرعی طریقے اختیار کرنا جائز نہیں ہے۔ رسول اللہﷺسے کچھ دعائیں ثابت ہیں جو حسد سے اور نظر ِ بد سے بچاؤ کے لیے ہر مسلمان کو پڑھنی چاہئیں۔ مثلاً :

1. معوذتین پڑھیں:

عبداللہ بن عابس الجہنی کی روایت نسائی، بیہقی، بغوی اور ابن سعد نے نقل کی ہے کہ حضورﷺ نے مجھ سے فرمایا: ''ابن عابس، کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ پناہ مانگنے والوں نے جتنی چیزوں کے ذریعے سے اللہ کی پناہ مانگی ہے ان میں سب سے افضل کون سی چیزیں ہیں؟میں نے عرض کیا ضرور یارسول اللہﷺ! فرمایا:﴿قُل أَعوذُ بِرَ‌بِّ الفَلَقِ ١ ﴾... سورة الفلق" اور ﴿قُل أَعوذُ بِرَ‌بِّ النّاسِ ١﴾... سورة الناس"یہ دونوں سورتیں۔'' (سنن نسائی:۸۶۳)

2. ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ نبیﷺ حضرت حسن ؓ اور حضرت حسین ؓ پر یہ دُعا پڑھتے تھے۔

«أعیذکما بکلمات اﷲ التامة من کل شیطان وھامة ومن کل عین لامة»

''میں تم کو اللہ کے بے عیب کلمات کی پناہ میں دیتا ہوں ہر شیطان اور موذی سے اور ہر نظر بد سے۔'' (صحیح بخاری:۳۳۷۱)

3. مسلم میں ابوسعید خدریؓ کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ نبیﷺ بیمار ہوئے تو جبریل ؑ نے آکر پوچھا: ''اے محمدؐ! کیا آپ بیمار ہوگئے؟ آپؐ نے فرمایا: ہاں! انہوں نے کہا:

«باسم اﷲ أرقیك من کل شيء یؤذیك من شر کل نفس أو عین حاسد اﷲ یشفیك باسم اﷲ أرقیك» (رقم الحدیث:۲۱۸۶)

''میں اللہ کے نام پر آپ کو جھاڑتا ہوں ہر اُس چیز سے جو آپ کو اذیت دے اور ہر نفس اور حاسد کی نظر کے شر سے، اللہ آپ کو شفا دے، میں اُس کے نام پر آپ کو جھاڑتا ہوں۔''

4. ایک اور دعا یہ ہے:

«بسم اﷲ یبریك ومن کل داء یشفیك ومن شر حاسد إذا حسد ومن شر کل ذي عین» (صحیح مسلم:۲۱۸۵)

''اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ، وہ تجھے برکت دے، وہ تجھے ہربیماری سے شفا دے گا اور ہر حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرے اور ہرنظر بد کے شر سے۔''

ذاتی محاسبہ

جس طرح حسد کا علاج ضروری ہے اُسی طرح خود حسد کرنے سے بچانا بھی از حد ضروری ہے۔ اگر کوئی آپ سے حسد کرتا ہے تو اس کو روکنا آپ کے اختیار میں نہیں ہے مگر اپنے نفس کو حسد میں مبتلا ہونے سے روکنا اختیار میں ہوتا ہے۔ پس ہر ایک کو اپنا جائزہ ضرور لینا چاہیے کہ ''یہ بیماری میرے اندر تو نہیں ہے؟'' ہر شخص کے اندر تھوڑی یا زیادہ ، یہ بیماری پائی جاتی ہے۔ البتہ عقل مندہیں وہ انسان،جواس کا اِدراک کرکے اس پر قابو پالیتے ہیں اور تعمیری سرگرمیوں میں مصروف عمل ہوجائے ہیں۔ ان مواقع پر اپنا جائزہ لیں۔

٭ جب آپ کسی کو حالت نعمت یا خوشی میں دیکھتے ہیں تو ...!

٭ کیا آپ خوش ہوتے ہیں؟

اگر ہاں تو، الحمدﷲ یہ مؤمنانہ صفت ہے۔

٭ کیا آپ مایوس اور غمگین ہوجاتے ہیں؟

جلتے کڑھتے ہیں؟ ڈیپریشن ہونے لگتا ہے؟

اُس سے نعمت چھن جانے کی آرزو کرتے ہیں؟

اس کو ذلیل کرنے کی کوشش کرتے ہیں؟

اگر ان سوالوں کے جواب 'ہاں' میں ہیں تو یہ خطرہ کی گھنٹی ہے۔کسی ایک سوال کا جواب بھی ہاں میں ہے تو آج سے اور ابھی سے اصلاح کا آغاز کردیجئے،کیونکہ حسد کے بیج موجود ہیں۔ ان کو پھیلنے پھولنے سے روک لیں۔

جائزہ کے بعد اگر معلوم ہو کہ یہ بیماری میرے اندر بھی ہے تو پھربیماری کا علاج شروع کردیجئے،جب مرض کا علاج نہ کیا جائے وہ پھر بڑھتا ہی چلا جاتا ہے۔ فوراً استغفار کریں۔ محسود کے لیے دعائے خیر کریں۔

حاسد کی پہچان کاطریقہ

اپنی بیماری کی کھوج لگانی ہو یا کسی اور کوپہچاننا ہو، علامات کم و بیش یکساں ہوں گی۔

٭ حسد کرنے والے کی مسکراہٹ پھیکی اور طنزیہ ہوتی ہے۔

٭ ہنسی تمسخرانہ ہوتی ہے اور آنکھوں میں بھی ایک خاص کیفیت ہوتی ہے۔

٭ حاسد کسی کی تعریف کے موقع پراپنی تعریف شروع کردیتا ہے۔اپنے کارنامے یاد کرنے لگتا ہے۔ دوسروں کی کامیابی یا خوشی کاموقع ہوتا ہے مگر وہ اپنی تعریف کیے جاتا ہے۔

٭گفتگو کا رُخ بدل دیتا ہے۔ موقع محل سے عاری گفتگو کرنے لگتا ہے۔

٭ جو کسی شخص کی برائیاں اور غیبت شروع کر دیتا ہے اور اس کے عیب لوگوں میں بیان کرنے لگتا ہے۔

٭ موڈ بدلنے لگتا ہے۔ایک دم بجھ سا جاتاہے۔ماحول سے بے زار نظر آنے لگتا ہے۔

حسد کو ختم کرنے والے اَسباب

1. یہ جان لیں کہ حسد سے سراسر اپنا ہی نقصان ہے، دین کا بھی اور دنیا کا بھی۔حاسد تو خود اپنا دشمن ہے۔ محسود مظلوم کے درجے میںہے اور حاسد ظالم کے درجے میں۔ اس لیے محسود تو فائدے میں ہے جب کہ حاسد کانقصان دنیا میں بھی ہے اور آخرت میں بھی اس کے لیے عذاب تیار ہے۔جسمانی بیماریوں کی طرح روحانی بیماریوں کا علاج بھی ضروری ہے وگرنہ روح کی موت واقع ہوجاتی ہے۔

2. اللہ سے دعا کریں۔ دلی کیفیات میں بعض اوقات انسان خود بھی بے بس ہوجاتا ہے اس کے لیے اللہ کی مدد بہت ضروری ہے۔

3. سوچ کو بدلیں۔منفی کے بجائے مثبت اندازِ فکر اپنایا جائے۔

4. کسی اچھی چیز کو دیکھ کر ماشاء اللہ پڑھیں۔ اس سے نظر نہیں لگے گی۔

5. اپنی نعمتوں پرنظر رکھیں۔ دوسروں کی نعمتوں پرنظر نہ رکھیں۔

6. حسد کو رشک میں تبدیل کردیں مگر یہ یاد رہے کہ رشک صرف دو صورتوں میں جائز ہے۔

7. اچھا مطالعہ کریں۔ وسعت فکر سے وسعت ظرف بھی پیدا ہوگا اور وسعتِ قلب بھی نصیب ہوگا۔

8. اچھے دوستوں کا انتخاب کریں جو آپ کو اللہ سے قریب کرنے والے ہوں۔ آپ کے ایمان کے محافظ ہوں اور آپ کی خامیوں کی اصلاح کرنے والے ہوں۔

9. تذکیر کے لیے اچھی مجالس و محافل میں شرکت کریں۔

10. صاحب نعمت کے حق میں ضرور دعا کریں بلکہ اسی موقع پر اس کو دعائیہ کلمات سے نوازیں۔

11. نفس کے شر سے اللہ کی پناہ مانگیں۔ «أعوذ باﷲ من شرور أنفسنا ومن سیئات أعمالنا»

12. نفس کی رذیل خواہشات کو کچلنے کی عادت پیدا کریں وگرنہ نفس اَمارہ تو بُرائی پہ ہی اُکساتا ہے اور اگر نفس ہم پر غلبہ پالے تو پھر معاذ اللہ۔

13. حسد دل کی بہت بڑی بیماریوں میں سے ہے اور اَمراض قلوب کا علاج علم و عمل سے ہوتا ہے۔

14. اپنی نعمتوں اور صلاحیتوں پر اللہ کا شکر اَدا کریں۔ان کو محسوس کریں اور جو فضیلت اور برتری اللہ نے کسی اور کو عطا کی ہے، اس کا اعتراف کریں۔

15. ہرنعمت اور صلاحیت کی تمنا مت کریں۔ اللہ کا ارشاد ہے:

﴿وَلا تَتَمَنَّوا ما فَضَّلَ اللَّهُ بِهِ بَعضَكُم عَلىٰ بَعضٍ...﴿٣٢﴾... سورة النساء

16. جب کبھی کسی کے خلاف حاسدانہ جذبات پرورش پانے لگیں تو اس کو شیطان کا وسوسہ سمجھ کر استغفار کریں۔ رجوع الی اللہ کریں۔ اس سے محفوظ رہنے کے لیے اللہ سے دعا کریں۔

دین دار طبقہ اور مرضِ حسد

éمرد کے مقابلے میں عورت میں حسد کا جذبہ نسبتاً زیادہ موجود ہوتا ہے۔ حب ِجاہ اور حب ِ مال مردوں میں حسد کا بنیادی محرک ہیں۔ ان کے درمیان معاشرتی حیثیت، عہدوں کا تفاوت اور کاروبار کی نوعیت باعث رقابت بن جاتی ہے۔ کاروباری افراد ہوں یا دفتری و سرکاری ملازم، ذرائع آمدن، آمدنی، معاشرتی حیثیت، افسر اعلیٰ کی نظروں میں حاصل ہونے والا مقام، خاندان میں ملنے والی حیثیت، بنگلہ و گاڑی، تعلیم، فنی مہارت اورحسن و وجاہت عموماً حسد کاشاخسانہ ثابت ہوتے ہیں۔خواتین مال، اولاد، معاشرتی حیثیت،ملازمت، آمدنی، سامان معیشت، مکان، زیور،آرائش و زیبائش اورحسن و جمال جیسی باتوں پر حسد میں مبتلا ہوجاتی ہیں۔ خاوند کی طرف سے ملنے والی توجہ، سسرال میں مقام و حیثیت وغیرہ بھی جذبۂ رقابت کو جنم دیتے ہیں۔ اس سے گھریلو سیاست جنم لیتی ہے اور گھروں کے ماحول کشیدہ اور بوجھل ہوجاتے ہیں۔ تعلقات میں بگاڑ آتا ہے۔ خواتین کے ڈیپریشن اور ٹینشن کی تہہ میں اکثر یہی عنصر کارفرما ہوتا ہے۔

٭زمانۂ طالب علمی میں حسد کے محرکات کچھ اور ہوتے ہیں۔ مثلاً ذہانت، علمی مقام، حاصل کردہ نمبر اور پوزیشن، غیر نصابی سرگرمیوں کی کارکردگی وغیرہ۔بعض دفعہ استاد اگر کسی شاگرد کو اس کی قابلیت وصلاحیت، علمی یاطبعی ضرورت کی بنیاد پرکچھ خصوصی توجہ سے نوازتے ہیں (جوکہ شاگرد کی ضرورت یا حق ہوتا ہے) تو یہ بات بھی وجہ نزاع بن جاتی ہے۔ کسی کی اچھے نوٹس لینے کی صلاحیت، حسن تحریر یا خوبی تقریر بھی دوسروں کو حسد میں مبتلا کردیتی ہے۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ دنیا دار طبقہ تو اس لعنت میں گرفتار ہے ہی، دیندار طبقہ اور اہل علم بھی ا س سے محفوظ نہیں ہیں۔ ہرمسلک، ہر امام اور ہر عالم اپنی برتری چاہتا ہے اور دوسرے کوکمتر ثابت کرنے پرتلا ہوا ہے۔ اپنے مدرسے،اپنے نصاب اور طریقۂ تدریس کو دین اور معاشرے کی فلاح و بہبود کا ضامن سمجھے ہوئے ہیں۔ کس کے طالب علم زیادہ ہیں، کس کا حلقہ درس زیادہ وسیع ہے اور کس کے اجتماع میں زیادہ حاضری تھی؟ بس یہی حساب و کتاب جاری ہوگیا ہے اور دین کو اِخلاص و خیرخواہی کے ساتھ لوگوں تک پہنچانا ثانوی درجہ اختیار کرگیا ہے۔ شہرت کی حرص کو میڈیا نے دو چند کردیا ہے۔

سابقوں،لاحقوں کے ساتھ عظیم اور بھاری بھر کم القابات کا استعمال ایک رواج بن چکا ہے۔کوئی بھی خود کو شیخ الاسلام یا شیخ الحدیث سے کم سمجھنے کو تیار نہیں ہے اور کوئی مدرسہ بھی جامعہ سے کم نہیں ہے۔ جہاں بھی دین کا کام ہورہا ہے، جماعت یامسلک کا نام سب سے پہلے نظر آئے گا۔جماعت اپنا حلقہ قائم کرے گی پھر دین کا کام شروع ہوگا۔اگر کہیں حلقہ قائم نہ ہوسکے اور جماعت کا نام پس پردہ چلا جائے تو کام رُک جاتا ہے۔مقاصد اور تربیت کا کام بہت پیچھے چلا گیاہے۔

آج جتنی کوششیں علماء اپنے مسلک، جماعت، مسجد و مدرسے کو برتر ثابت کرنے کے لیے کررہے ہیں، اپنی علمی برتری کو کل عالم سے منوانا چاہتے ہیں اور اس کے لیے بے دریغ پیسہ خرچ کررہے ہیں، ان کوششوں کا ادنیٰ حصہ بھی اگر وہ دین اسلام کو غالب کرنے کے لیے اور اخلاص وخیرخواہی کے ساتھ لوگوں تک صحیح دین پہنچانے کے لیے صرف کریں تومعاشرہ میں مثبت تبدیلی آسکتی ہے۔پھر ہر طرف جماعتیں اور مکاتب فکر نہیں، دین کا غلبہ ہوگا اور یہی اصل میں دین اسلام کی خدمت ہے۔ اپنے مدرسے،حلقے اور اجتماع میں زیادہ حاضری چاہنا، اس کو وسیع تر کرنے کے لیے تگ و دو کرنا اور پھر اس کو دین کی خدمت کا ذریعہ قرار دینا فی نفسہٖ اپنی روح میں دین کی خدمت نہیں بلکہ اپنی برتری کا سکہ کل معاشرے پر جمانے کی کوشش کرنا ہے۔یہی مقابلہ بازی بڑھتے بڑھتے اصل مقصد کو کھو کر منفی جذبات میں ڈھل جاتی ہے اور اندر ہی اندر حسد کے بیج اُگنے لگتے ہیں۔ آج عصری ادارے ہوں یا مذہبی ادارے ہمیں دین کا نام لے کر دین کا کام کرتے ہوئے اس کیفیت اور حاسدانہ جذبات سے بچنا بہت ضروری ہے۔ وگرنہ نیکیوں کی فصل کو جل کر راکھ کے ڈھیر میں بدلنے میں لمحہ بھی نہیں لگے گا اور محاسبہ کڑا اور پکڑ سخت تر ہوگی۔

٭٭٭٭٭