ڈاکٹر عبداللہ دامانوی کے مضمون کا ایک ناقدانہ جائزہ

ماہنامہ 'محدث' لاہور، شمارہ جنوری۲۰۱۰ء میں ڈاکٹر ابوجابر عبداللہ دامانوی کا مضمون ''کیا یزید بن معاویہ لشکر مغفور لہم کے سالار ہیں؟'' کے عنوان سے شائع ہواہے۔ اس مضمون کے حوالے سے چند گزارشات پیش خدمت ہیں:

یزید بن معاویہ کے بارے میں شیخ الاسلام ابن تیمیہ ؒکا یہ فیصلہ مبنی برانصاف واِعتدال ہے۔ آپ لکھتے ہیں:

"لا یُخَص بمحبة ولا یُلعَن ومع ھٰذا فإن کان فاسقًا أو ظالمًا فاﷲُ یغفِر للفاسق والظالم،لا سیما إذا أتٰی بحسناتٍ عظیمة،فالواجب الاقتصاد في ذلك والإعراض عن ذکر یزید بن معاویة وامتحان المسلمین به، فإن ھٰذا من البدع المخالفة لأھل السنة والجماعة" (مجموع الفتاویٰ:۳؍۴۱۳)

''یزید کو نہ محبت کے ساتھ خاص کیا جائے اور نہ اس پر لعنت کی جائے۔اس کے باوجود اگر وہ فاسق یا ظالم ہے تو اللہ تعالیٰ فاسق اور ظالم کی بھی مغفرت فرماتا ہے، خصوصاً جب اس نے بڑی بڑی نیکیاں بھی کی ہوں۔ لہٰذا اس بارے میں راہِ اعتدال اختیار کرنا واجب ہے، اس طرح یزید بن معاویہ کے تذکرے سے اور مسلمانوں کو اس کے ذریعے سے امتحان میں ڈالنے سے اِعراض کرنا واجب ہے، کیونکہ یہ ایسی بدعتوں میں سے ہے جن کی اہل السنۃ والجماعۃ نے مخالفت کی ہے۔''

1.دامانوی صاحب نے صحیح بخاری کی حدیث:«أوّل جیش من أمتي یغزون مدینة قیصر مغفورلھم» (صحیح بخاری:۲۹۲۴)''میری اُمت میں سے سب سے پہلا لشکر جو قیصر کے شہر پر حملہ کرے گا، ان کی مغفرت ہوگی۔'' کو درج کرنے کے بعد لکھا ہے:

''منکرین حدیث میں سے محمود احمد عباسی اور اس کے ہم نوا ناصبی حضرات نے اس حدیث کا مصداق یزید بن معاویہ کو قرار دیا ہے۔'' (محدث،ص۴۹)

دامانوی صاحب کی یہ بات درست نہیں ہے بلکہ محمود احمد عباسی سے بہت پہلے مہلب بن احمد،شیخ الاسلا م ابن تیمیہ، حافظ ابن کثیر،حافظ ابن حجر اور علامہ قسطلانی رحمہم اللہوغیرہ نے بھی اس حدیث کا مصداق یزید بن معاویہ کو قرار دیا ہے۔جیسا کہ اس کا اعتراف خود دامانوی صاحب نے مطبوعہ مضمون کے صفحہ نمبر۵۴،۵۵ پر بھی کیا ہے۔

2.آگے چل کر دامانوی صاحب لکھتے ہیں:''قسطنطنیہ پرپہلا حملہ سیدنامعاویہؓ نے کیا تھا۔'' اور دلیل کے طورپر حافظ ابن کثیرؒ کا یہ قول نقل کرتے ہیں۔

''اور ۳۲ ہجری میں سیدنا معاویہ نے بلادِ روم پر چڑھائی کی،یہاں تک کہ وہ خلیج قسطنطنیہ تک پہنچ گئے۔'' (البدایۃ والنھایۃ:۷؍۱۵۹،محدث،ص۵۹)

پہلی بات تو یہ ہے کہ حافظ ابن کثیرؒ کی یہ بات بلاسند ہے اور دامانوی صاحب کے بقول ''بے سند روایت کا وجود اور عدم برابر ہے۔'' دوسری بات یہ ہے کہ یہاں پر دعویٰ خاص ہے اور دلیل عام۔ یعنی دعویٰ قسطنطنیہ پرحملہ اور دلیل میں بلادِ روم پر چڑھائی کا ذکر کیاگیاہے۔ چنانچہ ذکر ِعام سے خاص کا ثبوت کیسے ہوتا ہے؟

3. پھر حافظ زبیر علی زئی کے حوالے سے جناب دامانوی لکھتے ہیں کہ'' یہ حملہ ۳۲ ھ بمطابق ۶۵۲ئ، ۶۵۳ء میں ہوا تھا۔'' اور دلیل میں بے سند، منقطع اور ناقابل حجت تاریخی روایات ذکر کرتے ہیں جو اِن کے اپنے فیصلے کے مطابق بھی دلیل نہیں بن سکتیں۔دلیل کی قوت کا تو یہ حال ہے،لیکن اس دلیل کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ'' صرف اس ایک دلیل سے ہی روزِ روشن کی طرح ثابت ہوتا ہے کہ اوّل جیش والی حدیث مبارکہ تو یزید پر فٹ کرنا صحیح نہیں ہے۔'' لیکن دلیل کیسی ہے:بے سند اور منقطع تاریخی روایت جو کہ مدعا پر واضح بھی نہیں۔

4.مزید لکھتے ہیں:

''یہ حملہ قسطنطنیہ پر مضیق القسطنطینیۃ کی طرف سے ہوا تھا،یہ مقام اس شہر سے قریب ہے۔''جیسا کہ حافظ ذہبیؒ لکھتے ہیں:''فیها کانت وقعة المضیق بالقرب من قسطنطینیة وأمیرھا معاویة'' (تاریخ اسلام از ذہبی، عہد خلفائے راشدین،ص۳۷۱)

''اس سن میں مضیق کا واقعہ ہوا جو کہ قسطنطنیہ کے قریب ہے اور اس کے امیر معاویہؓ تھے،لہٰذا یہ حملہ بھی قسطنطنیہ پر ہی تھا۔'' (محدث،ص۵۹،۶۰)

واضح رہے کہ حافظ ذہبی کے اس کلام میں اپنی طرف سے ان الفاظ کی پیوند کاری کی گئی ہے:'' لہٰذا یہ حملہ بھی قسطنطنیہ پر ہی تھا۔''

اس استدلال میں اہل بدعت کے طرزِ استدلال سے مشابہت نمایاں ہے۔کیا یہ حضرات بتا سکتے ہیں کہ مضیق قسطنطنیہ (جہاں پر حملہ ہوا تھا) کے درمیان اور قسطنطنیہ کے درمیان کتنا فاصلہ ہے۔ مضیق قسطنطنیہ اور قسطنطنیہ دو الگ الگ مقامات ہیں اور ایک پر حملہ سے دوسرے پرحملہ لازم نہیں آتا۔

5. آگے چل کر دامانوی صاحب لکھتے ہیں:

سیدنا معاویہؓ کا قسطنطنیہ پر دوسرا حملہ: اس کے تحت امام بخاری کی تاریخ صغیر و تاریخ کبیر سے ایک روایت ذکر کرتے ہیں۔ جسے ہم ا ن کے ترجمے کے ساتھ نقل کرتے ہیں:

«حدثنا عبد اﷲ بن صالح حدثني معاویة عن عبد الرحمن بن جبیر بن نفیر عن أبیه عن أبي ثعلبة الخشني قال سمعتُه في خلافة معاویة بالقسطنطینیة وکان معاویة غزا الناس بالقسطنطینیة: إن اﷲ لا یعجز ھذه الأمة من نصف یوم»

''سیدنا ثعلبہ خشنی بیان کرتے ہیں کہ میں نے معاویہؓ کو ان کے دورِ خلافت میں قسطنطنیہ میں یہ فرماتے ہوئے سنا جبکہ وہ لوگوں کو قسطنطنیہ پرچڑھائی کے لیے روانہ کررہے تھے کہ بے شک اللہ تعالیٰ اس اُمت کو آدھے دن کے بقدر بھی عاجز نہیں کرے گا۔'' (محدث،ص۶۰)

ایک مبتدی طالب علم جس نے کسی مدرسے میںباقاعدہ ماہرین فن سے پڑھا ہو، اگر وہ بھی اس عبارت پر غورکرے گاتو مترجم کی کوتاہی اور قواعد ِفن سے بے خبری اس پر واضح ہوجائے گی۔درحقیقت جبیر بن نفیر، یہ بات ابوثعلبہ خشنی کے بارے میں بیان کررہے ہیں۔ یعنی وہ کہتے ہیں کہ میں نے معاویہ کی خلافت کے زمانے میں ابوثعلبہ خشنی سے قسطنطنیہ میں سنا اور معاویہ نے لوگوں کو قسطنطنیہ پر حملہ کرنے کے لیے بھیجا تھا...

اگردامانوی صاحب اس حدیث کے ترجمے پر غور کرتے، تو کبھی بھی ایسی جہالت کا اِرتکاب نہ کرتے۔چنانچہ دامانوی صاحب نے اس جملہ کو صحیح قائل کی طرف منسوب کرنے میں غلطی کھائی ہے۔

6. مزید برآں مسنداحمد کی متابعت والی روایت کا ترجمہ بھی درست نہیں کیا گیا۔ صاحب مضمون درج ذیل عبارت کا ترجمہ یوں کرتے ہیں:

''إذا رأیت الشام مائدة رجل واحد وأھل بیته''

''جب تو شام میں ایک شخص اور اس کے گھر والوں کے لیے ایک دسترخوان دیکھے۔'' (محدث، ص ۶۱)

حالانکہ اس کا درست ترجمہ یوں ہے :

''جب تو (ملک) شام کو ایک آدمی اور اس کے اہل بیت کے لیے دستر خوان دیکھے۔'' یعنی ملک شام ایک آدمی اور اس کے خاندان کے زیرتسلط ہوجائے۔

دونوں میں فرق یہ ہے کہ پہلے ترجمہ میں ملک شام کے اندر ایک شخص اور اس کے اہل خانہ کے ایک دستر خوان کا ذکر ہے، جبکہ صحیح ترجمہ کی رو سے ملک شام کو ہی ایک شخص اور اس کے اہل خانہ کے لئے بطور ایک دسترخوان ذکر کیا گیا ہے۔

7. دامانوی صاحب 'سیدنا معاویہؓ کا قسطنطنیہ پر تیسرا حملہ' کے ضمن میں لکھتے ہیں:

"إن أبا أیوب خالد بن زید الذي کان رسول اﷲ ! نزل في داره،غزا أرض الروم فمَرَّ علی معاویة فجفاه معاویة ثم رجع من غزوته فجفاه"

''بے شک ابوایوب انصاری خالد بن زید وہ ہیں کہ جن کے ہاں ان کے گھر پر رسول اللہ1 اُترے تھے (اور اُنہوں نے نبی1 کی کئی دن تک میزبانی فرمائی تھی)۔ اُنہوں نے ارضِ روم میں جنگ کی، پس معاویہ ان پرگزرے...'' (محدث،ص۶۲)

یوں تو باقی الفاظ کا ترجمہ بھی کوئی علمی اورپسندیدہ نہیں، لیکن اس لفظ کا ترجمہ تو بالکل غلط ہے:فمرَّ علی معاویة ''معاویہ ان پر گزرے''، حالانکہ اس کا ترجمہ یوں بنتا ہے کہ وہ (یعنی ابو ایوب انصاریؓ ) معاویہ پر گزرے، یعنی ''معاویہؓ کے ہاں سے گزرے۔''

پھر اسی روایت سے نتیجہ اَخذ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

''اس روایت سے واضح ہورہا ہے کہ سیدنا ابوایوب انصاریؓ، سیدنا معاویہؓ کے ساتھ بھی قسطنطنیہ کے جہاد میں شریک ہوئے تھے اور پھر اس جہاد میں حصہ لے کر وہ معاویہؓ کے ساتھ واپس بھی آگئے۔'' (ص۶۲)

حالانکہ نہ تو اس روایت سے ابوایوب انصاریؓ کا معاویہؓ کے ہمراہ جانا اور آنا ثابت ہوتا ہے اورنہ ہی معاویہؓ کا جانا ثابت ہوتا ہے بلکہ اس سے تویہ ثابت ہورہا ہے کہ معاویہؓ نہیں گئے تھے اور ابوایوب انصاریؓ ارضِ روم میں جہاد کرنے کے لیے گئے تھے۔ جاتے وقت بھی مستقر معاویہ میں وہ معاویہؓ سے ملے اور واپسی پر بھی۔

8.اور حملہ یہاں پر بھی ارضِ روم پر ہے، قسطنطنیہ کا ذکر ہی نہیں۔ اس وقت سیدنا علیؓ بھی زندہ تھے اور اسی بے رخی کی وجہ سے ابوایوب انصاریؓ، سیدنا علیؓ کی جانب سے بصرہ پر مقرر کردہ عامل عبداللہ ابن عباسؓ سے جاملے تھے۔

9. دامانوی صاحب قسطنطنیہ پر چوتھا حملہ سیدنا عبدالرحمن بن خالد بن الولید کے زیرامارت ہونا بیان کرتے ہوئے اس کے تحت سنن ابو داؤد کی اسلم ابوعمران والی روایت ذکر کرتے ہیں، جس میں ہے : ''وعلی الجماعة عبد الرحمٰن بن خالد بن الولید''

''جماعت پر عبدالرحمن بن خالد بن الولید امیر تھے۔''

اسی روایت میں ابوعمران یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ

«فلم یَزل أبو أیوب یجاھد في سبیل اﷲ حتی دُفن بالقسطنطینیة »

''پس ابوایوب مسلسل (بغیر کسی انقطاع کے) اللہ کے راستے میں جہاد کرتے رہے یہاںتک قسطنطنیہ میں دفن ہوئے۔''

اس روایت سے یہ پتہ چل رہا ہے کہ عبدالرحمن بن خالد جب جماعت پرامیر تھے، یہ غزوہ جاری رہا اور ابوایوب انصاریؓ اس میں وفات پاگئے۔ جبکہ صحیح بخاری کی محمود بن ربیع والی روایت کے الفاظ یہ ہیں:

«فحدثتھا قومًا فیھم أبو أیوب صاحب رسول اﷲ ! في غزوته التي تُوفي فیها ویزید بن معاویة علیهم بأرض الروم» (صحیح بخاری:۱؍۱۵۸)

''پس میں نے یہ حدیث ایسے لوگوں کوبیان کی جن میں رسول اللہﷺکے صحابی ابوایوب بھی تھے۔ اس غزوہ میں جن میں وہ وفات پاگئے اور یزید بن معاویہ ان پر امیر تھے۔''

یہاں پر یہ بات قابل غور ہے کہ اسلم ابوعمران کی روایت میں بھی ابوایوب کی وفات کا ذکر ہے اور اس حدیث ِمحمود بن ربیع میں بھی ان کی وفات کا ذکر ہے۔عبدالرحمن بن خالد کی اِمارت والے غزوہ میں ان کی عدم واپسی اور مسلسل جہاد اور پھر وفات ثابت ہے اور اس حدیث میں بھی۔ لہٰذا یہ دونوں روایات ایک ہی غزوے یا واقعے کے متعلق ہیں۔ اَب رہ گئی یہ بات کہ عبدالرحمن بن خالد بھی امیر ہیں اور یزید بن معاویہ بھی تو اس میں منافات نہیں بلکہ تطبیق ممکن ہے۔چونکہ یہ نہایت اہم غزوہ ہے، اس بنا پر سیدنا معاویہؓ نے اس کے لیے بہت بڑا لشکر بھیجا تھا اور اہل مصر کی جماعت پر عقبہ بن عامر امیر تھے، اہل شام کی جماعت پر فضالہ بن عبید اور مدینہ سے آنیوالی جماعت پر عبدالرحمن بن خالد امیر تھے جبکہ تمام لوگوں پر یزید بن معاویہ امیرتھے۔

اس تطبیق سے اس اشکال کا حل بھی نکل آتا ہے کہ جامع ترمذی کی روایت میں وعلی الجماعة فضالة بن عبید ''جماعت پر فضالہ بن عبید امیر تھے۔'' کے الفاظ آئے ہیں اور دامانوی صاحب یا ان کے اُستاذ صاحب نے ان الفاظ کو وہم قرار دیاہے، کیونکہ وعلی الجماعة فضالة بن عبید اور وعلی أھل الشام فضالۃ بن عبید میں کوئی فرق نہیں ہے،کیونکہ الجماعۃ سے مراد اہل شام ہی کی جماعت ہے اور عبدالرحمن بن خالد بھی الجماعۃ پر امیر تھے، لیکن وہ الجماعۃ جو مدینہ سے نکلی تھی جیسا کہ اسلم ابوعمران کے الفاظ اس کی تائید کرتے ہیں۔

غزونا من المدینة نرید القسطنطینیة سے پتہ چلا کہ ہم مدینہ سے جہاد کے لیے قسطنطنیہ کی طرف روانہ ہوئے اور الجماعۃ پر عبدالرحمن بن خالد امیر تھے، یعنی وہ جماعت جو مدینہ سے نکلی تھی۔ یہی بات دکتور صلابی نے اپنی کتاب میں لکھی ہے:

''یعنی الجماعة الذین غزوا من المدینة یعنی وہ جماعت جو مدینے سے جہاد کے لیے نکلی تھی، جبکہ قائد ِعام یزید بن معاویہ ہی تھے۔'' (الدولۃ الأمویۃ:۲؍۳۶)

دامانوی صاحب ''اس وضاحت سے کئی باتیں ثابت ہوئیں'' کا عنوان قائم کرکے لکھتے ہیں:

''قسطنطنیہ پر ان حملوں کے دوران پوری جماعت پر عبدالرحمن بن خالد امیر تھے۔''(ص۷۰)

حالانکہ اس کی اُنہوں نے کوئی صریح دلیل پیش نہیں کی۔پھر لکھتے ہیں:

''شروع کے حملوں میں یا اوّل جیش میں یزید بن معاویہ شامل نہ تھے،کیونکہ یہ واقعات ۴۴ھ۴۵ھ۴۶ھ کے دوران پیش آئے تھے اور یہ حملے یزید بن معاویہ کے ۴۹ھ کے حملے سے پہلے ہوئے تھے۔ '' (ص۷۱)

تو عرض یہ ہے کہ دامانوی صاحب اپنے ان دعووں پرکوئی قابل اعتبار صحیح اور متصل سند والی کوئی روایت پیش کریں، کیونکہ ان کے بقول ''بے سند روایت کا وجود اور عدمِ وجود برابر ہے۔''

بہرحال کچھ مزید غلطیاں بھی ان کی تحریر میںموجود ہیں، لیکن ہم اسی پر اکتفا کرتے ہیں۔ یاد رہے کہ جو تطبیق ہم نے بیان کی ہے، اگر کسی کو اس سے اتفاق نہ ہو تو نہ کرے۔ اگر وہ کسی کو جنتی نہیںمانتے تو نہ مانیں، لیکن کسی کو بزور جہنمی ثابت کرنے کی بھی کوشش نہ کریں۔ ہم تو ان تمام کے بارے میں یہی کہتے ہیں کہ

﴿تِلكَ أُمَّةٌ قَد خَلَت ۖ لَها ما كَسَبَت وَلَكُم ما كَسَبتُم ۖ وَلا تُسـَٔلونَ عَمّا كانوا يَعمَلونَ ١٤١﴾... سورة البقرة

''یہ امت ہے جوگزر چکی جو انہوں نے کیا ان کے لیے ہے اور جو تم نے کیا تمہارے لیے،تم ان کے اعمال کے بارے میں سوال نہ کیے جائو گے۔''

اورحضرت عیسیٰ ﷤ کا قول جو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ذکرکیا ہے:

﴿إِن تُعَذِّبهُم فَإِنَّهُم عِبادُكَ ۖ وَإِن تَغفِر‌ لَهُم فَإِنَّكَ أَنتَ العَزيزُ الحَكيمُ ١١٨﴾... سورة المائدة

'' اگر تو ان کوسزا دے تو وہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو ان کومعاف فرما دے تو تو غالب ہے حکمت والا ہے۔''

٭٭٭٭٭