نُزولِ قرآن کے تناظر میں


فاضل مضمون نگار نے ۱۹۱۴ء میں ندوۃ العلما، لکھنؤ سے سند ِفراغت حاصل کی، دارالمصنّفین کے جریدے 'معارف' کی مجلس ادارت کے رکن رہے اور متعدد موضوعات پر تحقیق کی۔ آپ قدیم زبانوں کے عالم تھے جن میں عبرانی، سریانی، حمیری، سبائی قابل ذکر ہیں۔ متداول علوم اسلامیہ کے علاوہ توارۃ وانجیل پر بھی عبور حاصل کیا۔۱۹۸۴ء میں کراچی میں وفات پائی۔زیر نظر مضمون ان کی کتاب 'ربوٰ، زکوٰۃ اور ٹیکس'کے صفحات ۶۵تا۹۶سے ماخوذہے جسے بعض ضروری مقامات بالخصوص ترجمہ سورۃ الہمزۃ اور آئین میراث کی ضروری اصلاح کے بعد شائع کیا جارہا ہے۔(ادارہ)

قرآنی سورتوں کی ترتیب ِنزولی

قرآن کی وہ آیات، جن کا کچھ بھی مالیات سے واسطہ ہے، قرآنِ کریم کے نزول کی ترتیب سے اُنہیں ملاحظہ فرمائیے۔ رباسے متعلق قدیم تر آیت سورۃ روم میں ہے جوغزوئہ بدر سے سات برس پہلے ۶ق ھ یا ۵ ق ھ میں نازل ہوئی۔ ان آیات کو پیش کرنے سے مقصو د یہ بھی ہے کہ تحریم ربا سے پہلی اللہ نے اور کیا کیا اُمور حرام قرار دیئے تھے۔

قرآن کریم ۱۱۴ سورتوں کا مجموعہ ہے۔۲۷ سورتوں میں صرف مدنی آیتیں ہیں۔ ۵ سورتوں میں مکی دور کے آخری اور مدنی دور کے ابتدائی زمانہ کی آیتیں ہیں جب کہ ۶۰ سورتوں میں ایسی مکی آیات ہیں جن کی اندرونی شہادتیں یا ان سے متعلق مستند روایتیں بتاتی ہیں کہ کچھ لوگوں کے قبولِ اسلام کے بعد سے لے کر آپﷺ کے قیامِ مکہ کے آخری دن کے عرصہ کے دوران نازل ہوئیں۔ ۲۲سورتیں ایسی ہیں جن کی بابت نہ توکوئی روایت بتاتی اور نہ ان کی اندرونی شہادت سے ظاہر ہوتا کہ وہ کچھ لوگوں کے اسلام کے بعد اُتریں۔ ان ۲۲ سورتوں میں سے ۱۳ سورتیں ایسی ہیں جن کی اندرونی شہادت یا ان سے متعلق روایتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ کافروں کی کسی نہ کسی بات کے جواب میں اُتریں۔سورہ القدر،سورہ الفاتحہ،سورہ نوح،سورہ العادیات سورہ التکاثر،سورہ القارعہ،سورہ الفیل،سورہ القریش کسی کے سوال یا اعتراض کا جواب نہیں ہے۔ان ۹ سورتوں سے پہلے سورہ العلق ۱تا ۵ کو بھی رکھ لیجئے کیوں کہ قرآن کے نزول کا سلسلہ اِنہی سے شروع ہوا۔

ان ۹ سورتوں میںسے سورئہ قدر کے اندر نزولِ قرآن کی پہلی رات کو خطرہ کیہر بات سے مامون بتایا گیا ہے۔فاتحہ کا ذکر سورۃ حجر میں سبعًا من المثاني کے لقب سے وارد ہے۔یہ بات امام بخاریؒ کی حدیث کے مطابق حضرت ابو سعد بن معلیؓ کو خود رسول اللہ1 نے بتائی تھی۔ سورہ نوح اورعادیات کے علاوہ جتنی سورتوں میں حیات بعد ممات سے متعلق آیتیں ہیں،ان سب میں یا تو کفار کی تکذیب کا ذکر ہے یا ان کے تردیدی اَقوال منقول ہیں، اس لیے علق: آیات ۱ تا۵ ، قدر ، فاتحہ، نوح، اور عادیات قطعی طور پر قرآنِ مجید کی قدیم ترین آیتیں ہیں۔ہمزہ، تکاثر ، فیل ، قریش اور قارعہ کو بھی اِنہی ایام کی سورتیں قرار دیا جا سکتا ہے۔

حب ِمال

یہ امر قارئین کے لئے باعث ِحیرت ہوگا کہ توحید و رسالت پر ایمان کے مطالبہ سے پہلے اللہ نے اہل مکہ کی توجہ مبذول کی تو اس امر کی طرف کہ مال کی محبت مستوجب ِعذاب ہوتی ہے۔ جن لوگوں کی نظر ایامِ جاہلیت کے عربی اشعار پر ہے، ان کو معلوم ہو گا کہ عرب کے نزدیک سب سے بڑا عیب مال کا حریص ہونا تھا،ہر عرب کو مال و دولت سے نہایت بے پروا ہونے کا اِدّعا تو تھا، مگر ان کی اقتصادی زندگی کا ہر مرسوم یہ خبر دیتا تھا کہ یہ قوم مال کی بے حد حریص تھی۔ ایک قبیلہ دوسرے قبیلہ کو بڑی بے مروّتی سے لوٹ لیا کرتا تھا اور قبیلہ کا شاعر بڑے فخر سے اپنے غارت گرانہ کمالات پر ناز کرتا تھا۔

سورئہ عادیات

سورئہ عادیات میں اللہ نے ان کی غارت گری کی تصویر کھینچ کر اس تصویر سے یہ ثابت کیا کہ الانسان مال و دولت کا بے حد حریص ہوتا ہے، عرب کی سب سے زیادہ دکھتی رگ یہی تھی کہ اس کو مال کا حریص کہا جائے۔لہٰذا اللہ نے عربوں کی اقتصادی اِصلاح کی غرض سے سب سے پہلے اس دکھتی رگ پر اُنگلی گاڑی اور فرمایا:

﴿وَالعـٰدِيـٰتِ ضَبحًا ١ فَالمورِ‌يـٰتِ قَدحًا ٢ فَالمُغير‌ٰ‌تِ صُبحًا ٣ فَأَثَر‌نَ بِهِ نَقعًا ٤ فَوَسَطنَ بِهِ جَمعًا ٥ إِنَّ الإِنسـٰنَ لِرَ‌بِّهِ لَكَنودٌ ٦ وَإِنَّهُ عَلىٰ ذ‌ٰلِكَ لَشَهيدٌ ٧ وَإِنَّهُ لِحُبِّ الخَيرِ‌ لَشَديدٌ ٨﴾... سورة العاديات

''شاہد ہیں ٹولیاں جو ہانپتے گھوڑے دوڑاتی ہیں پھر چقماق رگڑ کر آگ روشن کرتی ہیں پھر صبح کے وقت چھاپہ مارتی ہیں، پھر اسی صبح میں گرد اُڑاتی ہیں، پھر اسی صبح میں ایک اجتماع کے بیچ میں گھس جاتی ہیں۔ یقینا انسان اپنے ربّ کا احسان فراموش ہے او ریقینا وہ اس حقیقت کا خود گواہ ہے اور یقینا وہ مال کی محبت میں بہت سخت ہے۔''

عرب کے سب مشرکوں کا نہیں تو اکثر مشرکوں کا یہ گمان تھا کہ اللہ سِرّ ونجویٰ کو نہیں سنا کرتا (الزخرف:۸۰) انسان کے بہت سے اعمال کی اس کو خبر نہیں ہوتی ( حم ٓ السجدۃ:۲۲) اس لیے ان آیتوں میں الانسان کو مال ودولت کا بے حد حریص ثابت کرنے کے بعد اللہ نے فرمایا:

﴿أَفَلا يَعلَمُ إِذا بُعثِرَ‌ ما فِى القُبورِ‌ ٩وَحُصِّلَ ما فِى الصُّدورِ‌ ١٠ إِنَّ رَ‌بَّهُم بِهِم يَومَئِذٍ لَخَبيرٌ‌ ١١﴾... سورة العاديات

''تو کیا اسے علم نہیں کہ جب بر آمد کیا جائے گاجو کچھ قبر میں ہے اور حاصل کیا جائے گا جو سینوں میں ہے، بے شک اس دن تو ان کا ربّ ان کی خبر لے کے رہے گا۔''

چوری، ڈاکہ، فریب، دھوکہ، دغا بازی، حق تلفی، بہانہ بازی، غصب، سود خوری غرض ایک لمبی فہرست جرائم کی گنائی جا سکتی ہے جس کی بنیاد حب مال ہے۔اس لیے سب سے پہلے انسان کے جس روحانی مرض کی طرف وحی الٰہی نے اشارہ کیا وہ یہی ہے۔ہمیں غور کرنا چاہیے کہ ہمارے پاکستانی معاشرہ کو جو گھن چاٹ رہی ہیں ان میں حبِ مال بھی توشامل نہیں ہے۔ مجھے تو ایسا نظر آتا ہے کہ ہمارے روحانی امراض میں اس مرض کو نمایاں حیثیت حاصل ہے،دنیاداروں کو کیا کہیے، مرشدوں کو نذر ونیاز چاہیے، خطیبوں کو خطبوں کا دام چاہئے۔ اماموں کو نماز کی قیمت چاہیے إِنْ اَجْرِيَ إِلَّا عَلٰی اﷲ کہنے والا شاید ہی کہیں نظر آئے:

مال کی محبت روز بروز دن دوگنی رات چوگنی ہوتی جاتی ہے۔ مال ودولت کی محبت کو بالکل مٹایا تو نہیں جا سکتا، لیکن اسے قابو میں لانا ضروری ہے،آپ پو چھیں گے کہ وہ کیسے ؟پوچھئے نہیں بلکہ سوچئے حضور 1کو یہ بتایا کہ لوگوں کے لئے حب ِشہوات کو دلکش بنا دیا گیا ہے۔ اللہ تعالے نے فرمایا:

﴿قُل أَؤُنَبِّئُكُم بِخَيرٍ‌ مِن ذ‌ٰلِكُم...١٥﴾... سورة آل عمران

''کہہ دیجیے کیا میں تمہیں خبر دوں ان سب سے بہت بہتر کا۔''

قرآن مجید سے اور اَحادیث سے اور قدماے مسلمین سے اس بہتر کا سراغ لگایئے، اہل علم کو بتائیں کہ حبِ مال کو کس طرح حبِ آخرت پر مبدل کیا جا سکتا ہے۔ میرا مقصود صرف اس قدر بتانا تھا کہ اِصلاحِ معاش کے لئے سب سے پہلے اللہ نے مال کی محبت کو مستوجب ِعذاب قرار دیا۔ہمارا یہ عقیدہ ہی نہیں رہا اور اگر ہے تو بہت کمزور ہے کہ حبِ مال ایک ایسا جرم ہے جس کی آخرت میں ہم کو سزا دی جائے گی۔

سورئہ تکاثر

سورہ عادیات اور سورہ تکاثر دونوں بالکل ابتدائی سورتیں ہیں۔ حبِ مال جب تک ایک فرد کے دل میں رہتا ہے تب تک وہ حبِ مال ہے، لیکن جب وہ ایک ایک فرد کے دل پر قبضہ جما لیتا ہے تو وہ 'تکاثر' بن جاتا ہے۔تکاثر کے معنی ہیں دولت مندی میں ایک دوسرے سے بڑھ جانے اور ایک دوسرے کو زک دینے کے لئے مقابلہ ومسابقت ۔حب ِمال کی تقبیح کے بعد اللہ نے تکاثر کی تقبیح فرمائی اور ارشاد فرمایا:

﴿أَلهىٰكُمُ التَّكاثُرُ‌ ١ حَتّىٰ زُر‌تُمُ المَقابِرَ‌ ٢ كَلّا سَوفَ تَعلَمونَ ٣ ثُمَّ كَلّا سَوفَ تَعلَمونَ ٤ كَلّا لَو تَعلَمونَ عِلمَ اليَقينِ ٥ لَتَرَ‌وُنَّ الجَحيمَ ٦ ثُمَّ لَتَرَ‌وُنَّها عَينَ اليَقينِ ٧ ثُمَّ لَتُسـَٔلُنَّ يَومَئِذٍ عَنِ النَّعيمِ ٨﴾... سورة التكاثر

''غفلت میں رکھتا ہے تم کو تکاثر یہاں تک کہ تم (اپنی اپنی) قبریں دیکھتے ہو، پھر زنہار وقت آتا ہے جب تم جان لوگے یقینا تم لوگ دوزخ کو دیکھو گے ، پھر تم اسے ضررو دیکھو گے بالیقین دیکھنا، پھر تم سے اس دن (اب کی) خوش حالی کی باز پرس ہوگی۔''

ہمارے آج کے جدید ماہرین معاشیات جس اقتصادی نظام کے پیش نظر اسلامی شریعت کی جراحی کر کے اس کے مادّۂ فاسد کو مغربی ڈاکٹروں کے مشورہ سے نکال پھینکنے کے لئے تیار ہیں اور ہم کو تیار کرنا چاہتے ہیں، اس کا تار پود 'تکاثرکا جواز' ہے۔ تکاثر کے جواز پر پابندی لگتے ہی اس نظام کے پرزے پرزے بکھر جائیں گے جس طرح اس سورہ نے عربی اقتصادیات کی جان نکال دی اور اس کی جگہ ایک ایسا نظامِ زندگی وجود میں آیا کہ ایک مدت تک مسلمانوں میں زکوٰۃ قبول کر سکنے والا بہت تلاش کے بعد مشکل سے ملتا تھا۔

سورئہ ہمزہ او رجمع مال

اِنہی ابتدائی ایام کی سورتوں میں سے ایک سورۃ ہمزہ ہے۔ حب ِ مال ترقی کر کے جب تکاثر بن جاتا ہے تو ہر شخص کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ اگر واقعی دولت مند ہے تو سچ مچ عالم بیداری میں، ورنہ خواب یا تمنائوں کے عالم میں دولت پر دولت کا انبار لگاتا ہے اور گنتا رہتا ہے: ایک، پھر دو، پھر چار، پھر آٹھ۔ عرب میں ایسے بھی تھے جو تجوریوں میں مال پر مال اکٹھے کرتے تھے اور ایسے بھی تھے جن کی جیبیں خالی تھیں مگر ان کی تمنائوں کا صندوق گنجینۂ قارون سے کم نہ تھا، اس لیے اللہ نے فرمایا:

﴿وَيلٌ لِكُلِّ هُمَزَةٍ لُمَزَةٍ ١ الَّذى جَمَعَ مالًا وَعَدَّدَهُ ٢ يَحسَبُ أَنَّ مالَهُ أَخلَدَهُ ٣ كَلّا ۖ لَيُنبَذَنَّ فِى الحُطَمَةِ ٤ وَما أَدر‌ىٰكَ مَا الحُطَمَةُ ٥ نارُ‌ اللَّهِ الموقَدَةُ ٦ الَّتى تَطَّلِعُ عَلَى الأَفـِٔدَةِ ٧ إِنَّها عَلَيهِم مُؤصَدَةٌ ٨ فى عَمَدٍ مُمَدَّدَةٍ ٩﴾... سورة الهمزة

''خرابی ہے ہر ایسے کے لئے جو طعنہ دیتا ہے عیب لگاتا ہے جو کہ مال کو یکجا کرتا اور (ایک ،دو، چار ) گنتا رہتا ہے ، خیال رکھتا ہے کہ اپنے مال کو ہمیشہ رکھے گا( اس کو )۔ نہیں زنہار، نہیں اسے تو جھونکا جائے گا توڑ دینے والی میں اور تو کیا جانے کہ توڑ دینے والی کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی آگ ہے بھڑکائی جانے والی جو کہ جھانک لیا کرتی ہے دلوں کو ان پر اسے گھیر دیا جائے لمبے لمبے ستونوں (کی صورت ) میں۔''

مدنی سورہ توبہ میں چاندی سونے کے کنز کی برائی اور اس کا مستوجب ِعذاب ہونا بیان کیا گیا ہے۔ اَحادیث میں احتکار کی برائی کا بھی بیان ملے گا، میں نے اپنے مضمون کو قرآن تک محدود رکھا ہے۔ بعض اصحاب کہیں گے کہ جمع مال یا کنز سے مراد دولت کو تجوریوں میں قید کر کے بے مصرف بنا دینا ہے، لیکن ایسا نہیں ہے ۔عدَّدہ کا مطلب ہے ایک پھر دو پھر چار پھر آٹھ کہہ کر لینا۔ جن لوگوں کی تفہیم کے لئے یہ سورہ اُتری وہ اپنا مال تجوریوں میں بند کر کے نہیں رکھتے تھے بلکہ بیوپار یا بیوہار میں چالو رکھتے تھے۔

بینکنگ کو لوگ خیال کرتے ہیں کہ نئی چیزہے مگر عراق میںیہودیوں کے ایسے تمسکات مل چکے ہیں جن سے پانچویں اور چھٹی صدی قبل مسیح سے بینکنگ کے رواج کا پتہ چلتا ہے۔ حضرت عباسؓ خود ایک ساہوکا ر بینکر تھے۔ اہل مکہ حضرت رسول اللہ ﷺکے پاس اپنا مال امانت رکھا کرتے تھے، لیکن آپ حفظ ِامانت کی اُجرت نہیں لیتے تھے اور امانت کا مال کاروبار میں نہیں لگاتے تھے۔ حضرت عباس ؓامانت کی رقم کاروبار میں لگاتے تھے، اس لیے سود دیتے اور سود لیتے تھے جسے بعد میں چل کرنا جائز قرار دیا گیا ہے۔

سورئہ نوح اور معیارِ توقیر

حبِ مال،تکاثر اور جمع مال کی رِیت نے دولت کو معیارِ توقیر بنا دیا تھا۔ جو شخص جتنا زیادہ دولت مند ہوتا تھا، اتنا ہی زیادہ مؤقر اور معزز ہوتا تھا۔ اس لیے ایک دولت مند دوسرے کے مقابلہ میں ناز کیا کرتا تھا کہ ﴿أَنا۠ أَكثَرُ‌ مِنكَ مالًا وَأَعَزُّ نَفَرً‌ا ٣٤﴾... سورة الكهف" یعنی میں تجھ سے زیادہ مال دار اورتجھ سے زیادہ (کما سُت)افراد خاندان والا ہوں۔چونکہ دولت معیارِ توقیر تھی،اس لیے عرب کے لوگ قومی قیادت اور سرداری کا حق دار بھی دولت مند ہی کو باور کرتے تھے۔حب ِمال، تکاثر اور جمع مال کی تقبیح کے بعد اللہ نے عربی معیارِ توقیر کے بدلنے کی طرف توجہ دی۔سورہ نوح میں جو کہ کسی کے قبولِ اسلام اورکفار کے بحث وجدال کاسلسلہ چھیڑنے سے پہلے اُتری ۔قصہ نوح ؑکے سلسلے میں فرمایا:

﴿قالَ نوحٌ رَ‌بِّ إِنَّهُم عَصَونى وَاتَّبَعوا مَن لَم يَزِدهُ مالُهُ وَوَلَدُهُ إِلّا خَسارً‌ا ٢١﴾... سورة نوح

''نوحؑ نے کہا: اے میرے ربّ! ان لوگوں نے میرا کہا نہیں مانا بلکہ ایسے کی بات مانی جس کے مال اور اولاد نے اس کے خسارے کو بڑھایا۔''

قومِ نوح کا معیار توقیربھی مال دار ہونا تھا، اس لیے وہ مال دار ہی کو اپنا رہنما اور اپنا حاکم ماننا چاہتے تھے۔ نوح ؑ کا مد مقابل ایک دولت مند رئیس تھا۔ قوم نے دولت کی بات مانی، نوحؑ کی بات نہیں مانی۔ بنی اسرائیل میں بھی حضرت طالوتؑ کے زمانہ تک دولت ہی معیارِ توقیر تھی اور حکومت کا حق بھی دولت مند کو تھا۔چنانچہ جب اُنہوں نے اپنے زمانہ کے نبی ؑکے ذریعہ سے مانگ کر طالوت پایا تو کہنے لگا:

﴿قالوا أَنّىٰ يَكونُ لَهُ المُلكُ عَلَينا وَنَحنُ أَحَقُّ بِالمُلكِ مِنهُ وَلَم يُؤتَ سَعَةً مِنَ المالِ...٢٤٧﴾... سورة البقرة

''ہم پر حکومت کا حق اسے کہاں سے مل گیا۔ حالانکہ حاکم ہونے کے حق دار اس سے زیادہ ہم ہیں اور اسے مالی وسعت نہیں دی گئی۔''

قریش کا بھی معیار توقیر مال تھا۔ سورۃ القلم:۱۰تا ۱۴ پڑھو۔ ایک شخص کا نام لیے بغیر اخلاقی حلیہ بیان کیا گیا ہے۔ ہمیں اس کے نام کی جستجو نہ کرنی چاہیے۔ نہایت بد اَطوار ہونے کے باوجود وہ شخص مقتداے قوم تھا، اللہ نے ایسے بد اَطوار کی اطاعت سے منع کیا ہے۔ وہ صرف اس لیے قوم کا مقتدا تھا : ﴿أَن كانَ ذا مالٍ وَبَنينَ ١٤﴾... سورة القلم

''وہ مال اور اولاد والا تھا۔''

قرآنِ کریم میں کہیں آیت اس مضمون کی تو نہیں ہے کہ دولت مند کسی صورت میں مستحق توقیر نہیں ہوتا، لیکن دولت کو معیارِ توقیر بنانے کے خلاف جا بجا اِشارے ملتے ہیں۔ سورۃ العلق میں فرمایا:﴿كَلّا إِنَّ الإِنسـٰنَ لَيَطغىٰ ٦ أَن رَ‌ءاهُ استَغنىٰ ٧﴾... سورة العلق

'' زنہار! کیونکہ انسان سرکش ہو جایا کرتا ہے جب کہ خود کو دیکھ لیتا ہے کہ غنی ہو گیا ہے۔''

قرآنِ کریم کی چار آتیوں زخرف :۲۳،سبا:۳۴، مؤمنون :۶۴ ، اور اسرائیل :۱۶ میں گناہ گاروں کی ایک قسم کا ذکر مُترفین کے نام سے آتا ہے۔یہ لفظ ترف سے مشتق ہے ، عبرانی لفظ ترافیم اسی سے بنا ہے۔گھریلو بتوں کو، جو لکڑی کے ہوتے تھے اور ان پر سونے چاندی کی خول چڑھی ہوتی تھی، ترافیم کہتے تھے۔ ترف کے معنی عبرانی میں ناز ونعمت اور آرام میں پلنا ہے۔اصلی مفہوم سونے چاندی میں منڈھا ہونا۔عربی میں ترفۃ کے معنی ہیں: چہرہ کی چمک دمک بوجہ خوشحالی۔ اِتراف کے معنی ہیں: ناز ونعمت میں پالنا۔ مترف کے معنی ہیں: وہ جسے ناز ونعمت سے پالا گیا ہو۔ اپنے دست و بازو سے کما کے دولت مند ہونے والے کو مترف نہیں کہتے تھے۔ مترف وہ دولت مند ہے جو دولت میں پلا ہو۔زخرف :۲۳ اور سبا:۳۴ میں بتایا گیا ہے کہ انبیا کرام کی مخالفت ہمیشہ مترفین نے کی۔ مؤمنون:۶۴ میں مترفین کے مستحق عذاب ہونے کا ذکر ہے۔ سورۃ بنی اسرائیل میں جو کہ ان پانچ سورتوں میں سے ہے جن میں مکی اور مدنی عہد کی آیتیں ہیں۔ اللہ عزوجل نے فرمایا:

﴿وَإِذا أَرَ‌دنا أَن نُهلِكَ قَر‌يَةً أَمَر‌نا مُترَ‌فيها فَفَسَقوا فيها فَحَقَّ عَلَيهَا القَولُ فَدَمَّر‌نـٰها تَدميرً‌ا ١٦﴾... سورة الاسراء

''اورجب بھی ہم نے کسی بستی کو ہلاک کرناچاہا تواس بستی کے ناز پر وردہ لوگوں کو حکم دیاتو اُنہوں نے اس میں فسق و فجور سے کام لیا۔ تب اس پر بات حق ہو گئی۔ پھر ہم نے اسے تباہ وبرباد کر دیا۔''

خوش حال وناز پروردہ ہونا اور بہت مال دار ہونا انسان کو فسق وفجور میں مبتلا کر دیتا ہے۔ اس لیے آپ نے دیکھاکہ بالکل ابتدائی دنوں میں اللہ کی توحید کی طرف،ملائکہ پر ایمان کی طرف،کتب ِسماویہ کی اتباع کی طرف اور رسولوں کی اطاعت کی طرف دعوت دینے سے پہلے مگر حیات بعد ممات اور عذاب آخرت کے اثبات کے ساتھ اللہ جل جلالہ نے حب ِمال، تکاثر، جمع مال اور مالداری کو معیارِ توقیر قرار دینے کی مخالفت کی۔

موجودہ اقتصادی نظام ان چاروں جرائم کا روادار ہے۔پاکستان میں بھی معیارِ توقیر مال داری ہے اور حکومت وقیادت کا حق بھی مال دار ہی کو ہے۔ آئین ساز جماعتوں کا رکن ہونے کے لئے زرِ ضمانت جمع کرانا، اُمیدوار کو تھوڑی مگر کچھ رقم انتخاب کے لئے جدو جہد میں صرف کرنے کی اجازت دینا، سیاسی جماعتوں کی سربراہی کے لیے دولت مندوں کو تاکنا،بڑی تنخواہ والے نوکر کو چھوٹی تنخواہ والے سے زیادہ معزز سمجھنا، ایک متقی امام مسجد کے مقابلے میں ایک غیر متقی دولت مند کو زیادہ عزت دینا۔ ایک شخص کے وقار کو آنے، پائی اور روپیہ کے ترازو پر تولنا یہ سب اسی اقتصادی نظام کی برکتیں ہیں۔پاکستانیوں ہی کا نہیں دنیا بھر کے مسلمانوں کا اخلاق ناگفتہ بہ ہو گیا ہے۔حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ اگر زندہ ہو کر آجائیں تو وہ شاید اپنی اولاد کو ان کی صورتیں اور سیرتیں دیکھ کر ابوجہل اور ابو لہب سے بھی برے لوگ سمجھیں گے اور ہمارے تجدد پسند اَکابران کو ڈنڈے لے کر دوڑائیں گے کہ یہ کٹھ ملّا ہمارے دیس میں کیوں آگئے؟

ہم میں اسلام سے فرار پایا جاتا ہے، اس کی بنیادی وجہوں میں سے ایک یہ ہے کہ مدتوں سے ہما ری قیادت پر مترفین کا قبضہ ہے۔ جب تک ہم دولت کو اپنا معیارِ توقیر بنائے رکھیں گے، تب تک تقویٰ اورعلم دین کے بجائے ذو مال اور مترف ہونے کو وقار اور قیادت اور حکمرانی کی وجہ استحقاق سمجھتے رہیں گے۔ اللہ کا ناطق فیصلہ ہے کہ ہم اس کے قہر وغضب ہی کے حقدار ہوں گے۔ لیکن اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ نفس دولت مند ہونا کسی کو معزز یا مستحق قیادت ہونے سے محروم کر دیتا ہے بلکہ مقصود صرف یہ بتانا ہے کہ ذو مال،اور مترف ہونے کو معیارِ توقیر نہ ہونا چاہیے۔ مترفین سے ہمیشہ ہوشیار رہنا چاہیے۔چونکہ میرا مضمون صرف مالیات تک محدود ہے، اس لیے اس کی تفصیل میں نہیں جانا چاہتا کہ ہمارا معیارِ توقیر کیا ہو نا چاہیے؟

سورہ القیامہ، النسائ، النازعات، الانفطار، الاعلیٰ، الغاشیہ،الشمس،الضحیٰ، الکوثر،الکافرون، الاخلاص،الرحمن اور الحاقہ یہ تیرہ سورتیں لوگوں کے اعتراضوں یا سوالات کے جواب میں اُتریں، ان میں سے الضحیٰ، اور الحاقہ میں مالیات سے متعلق آیتیں ہیں۔سورۃ الرحمن میں بھی ایک آیت ہے جس میں میزان درست رکھنے کا حکم ہے۔ مگر ایسی آیتوں کے ساتھ ہے کہ اس کا کچھ اور مطلب بھی ہو سکتا ہے جس کا تعلق کائنات سے ہو سکتا ہے۔

سورۃ الضحیٰ اوریتیم وسائل کی توقیر

چونکہ عرب کا معیارِ تو قیر خوش حالی اور دولت تھی، حضورﷺیتیم پیداہوئے اس لیے ایک زمانہ آپ پر تنگ دستی کا گذرا۔ خوش حالی کے دنوں میں بھی آپ نے مسکین کی سی زندگی بسر کی کیونکہ اپنی کمائی محتاجوں پر صرف کرتے تھے اور فیاضی کی نمائش نہ کرتے تھے، اس لیے لوگوں نے طعنہ دیا کہ ودعہ ربہ وقلا یعنی اسے اس کے ربّ نے چھوڑ دیا اور اسے رخصت کر دیا ہے۔ ایسا طعنہ کسی اور وجہ سے حضرت داؤد کو بھی دیا گیا تھا ۔چنانچہ وہؑ فرماتے ہیں کہ

''میرے دشمن میری بابت باتیں کرتے ہیں،اور میر ی طرف تاکتے ہوئے باہم مشورہ کرتے وہ کہتے ہیں کہ اللہ نے اسے چھوڑ دیا ہے، اس کا پیچھا کر کے اسے پکڑ لو،کیونکہ کوئی نہیں جو اسے چھڑائے ۔'' (زبور۷۱:۱۰،۱۱)

تو ہی اے الٰہ! میری توانائی ہے، تو نے مجھے کیوں ترک کر دیا ہے۔ (زبور۴۳:۲)

کفار نے جب حضورﷺکے خلاف یہی بات کہیں جو کبھی حضرت داؤد ؑ کی بابت کہی گئی تھی تو اللہ نے وحی نازل فرمائی:

﴿وَالضُّحىٰ ١ وَالَّيلِ إِذا سَجىٰ ٢ ما وَدَّعَكَ رَ‌بُّكَ وَما قَلىٰ ٣ وَلَلءاخِرَ‌ةُ خَيرٌ‌ لَكَ مِنَ الأولىٰ ٤ وَلَسَوفَ يُعطيكَ رَ‌بُّكَ فَتَر‌ضىٰ ٥ أَلَم يَجِدكَ يَتيمًا فَـٔاوىٰ ٦ وَوَجَدَكَ ضالًّا فَهَدىٰ ٧ وَوَجَدَكَ عائِلًا فَأَغنىٰ ٨ فَأَمَّا اليَتيمَ فَلا تَقهَر‌ ٩ وَأَمَّا السّائِلَ فَلا تَنهَر‌ ١٠ وَأَمّا بِنِعمَةِ رَ‌بِّكَ فَحَدِّث ١١﴾... سورة الضحىٰ

''دن کی روشنی شاہد ہے اور رات جب کہ تاریک ہو جاتی ہے۔ تیرے ربّ نے نہ تو تجھے چھوڑ دیا ہے اور نہ وہ ناراض ہے اور تیرا مستقبل تیرے ماضی سے بہتر ہو گا اور تجھے تیرا ربّ دے گا تو خوش ہو جائے گا۔ کیا اس نے تجھے یتیم نہ پایا پھر پناہ دی اور تجھے ناکام پایا پھر راہ کامیابی دکھائی اور تجھے تنگ دست پایا اور غنی بنا دیا؟ اس لیے یتیم پر سختی نہ کرنا اورمانگنے والے کو نہ جھڑکنا اور اپنے ربّ کی نعمت کا تذکرہ کر۔''

ہر زبان میں بعض الفاظ متعدد معانی پر دلالت کرتے ہیں۔ جملے کے دیگر الفاظ کی مدد سے کثیر المعانی لفظ کے معنی میں سے ایک کی ترجیح ہوتی ہے۔ ضلال کے متعدد معانی ہیں:

أبرهة الأشرم کے کتبے میں...ضللن (ضلالنا)ہماری دوستی کے معنی میں آیا۔

ضلال عربی میں 'عشق ناکام' کو بھی کہتے ہیں۔ ﴿تَاللَّهِ إِنَّكَ لَفى ضَلـٰلِكَ القَديمِ ٩٥﴾... سورة يوسف" میں ضلال بے جا محبت کے معنی میں آیا۔

ضلّ سعیهم کے معنی ہیں: ان کی کوشش ناکام رہی۔

سورۃ القلم میں ہے کہ أصحاب الجنۃ نے اپنے باغ کی تباہی دیکھ کر کہا:﴿إِنّا لَضالّونَ ٢٦ بَل نَحنُ مَحر‌ومونَ ٢٧﴾... سورة القلم" یعنی ہم نامراد بلکہ محروم ہو گئے۔

ضلال گمراہی کو کہتے ہیں۔ اس معنی میں بکثرت قرآن میں یہ لفظ آیا ہے ۔ راستے کی تلاش کو بھی کہتے ہیں مگر قرآن میں اس معنی میں یہ لفظ نہیں آیا ہے۔ ضلال کی ضد 'ابتدا' اور اضلال کی ضد 'ہدایت' ہے۔

اب سورہ پر غور کرو۔تین دعووں کی ترتیب سے تین دلیلیں اور دلیلوں کی ترتیب سے تین نصیحتیں ہیں:آیت نمبر۳، نمبر۶ اورنمبر۹ بالترتیب دعویٰ، دلیل اور حکم ہیں، دعویٰ یہ ہے کہ تیرے ربّ نے تجھے چھوڑ نہیں دیا ہے ، دلیل یہ ہے کہ تو یتیم تھا، اس نے تجھے پالا پوسا، حکم یہ ہے کہ یتیم کی توقیر کرتے رہنا، اسے ستانا نہیں۔

آیت نمبر۵، نمبر۸اور نمبر۱۱ دعویٰ دلیل اورحکم ہیں۔ دعویٰ یہ ہے کہ تجھے تیرا ربّ دے گا تو خوش ہو جائے گا۔ دلیل یہ ہے کہ توتنگ دست تھا، اس نے غنی کر دیا، حکم یہ ہے کہ اللہ نے جو کچھ دیا ہے، اس کا تذکرہ کر۔

اسی طرح نمبر۴، نمبر۷ اور نمبر۱۰، دعویٰ، دلیل اور حکم ہیں۔ ساری آیتیں مالی حالت سے تعلق رکھتی ہیں۔ دعویٰ یہ ہے کہ تیرا مستقبل تیرے ماضی سے بہتر ہو گا، دلیل یہ ہے کہ تو ضال تھا(تیری کوششیں رائیگاں جاتی تھیں) اس نے راہِ فلاح بتائی۔ حکم یہ کہ مانگنے والے کو نہ جھڑکنا، سورہ کے لف ونشر کو اور ضل سعیهم کو خیال میں نہ رکھنے کی وجہ سے اور اُردو میں ترجمہ کرنے والوں کے ایک لفظ پر اصرار نے سورہ کے فہم میں دشواریاں پیدا کر دی ہیں۔

یہ سورۃ الفرقان :۳۲،۳۳ کے مطابق حضرت رسول اللہﷺکی تشفی کے لئے اُتری مگر اس سے ہم کوحسب ِذیل مسائل معلوم ہوئے جن کو ہماری اقتصادی نظام کا جزو ہونا چاہیے۔

1. یتیم کی توقیر واجب ہے، اس پر سختی نہ کرنی چاہیے۔

2. سائل کی توہین نہیں کرنی چاہیے۔

3. اللہ نے بندے پر جو نوازش کی ہے اس کو ظاہر کرنا چاہیے، خصوصاً خدامِ دین کو ۔

ہم نے دیکھا ہے ایک وکیل جس کی آمدنی زیادہ ترقانون کی کمزوریوں سے مجرموں کے حق میں استفادہ کا اجرہوتی ہے، قانون کے بجائے قانون شکن کی حمایت کی مزدوری ہوتی ہے۔وہ جب خدمت ِخلق کا مدعی بن کر آتا ہے تو لوگ اس سے نہیں پوچھتے کہ تیری آمدنی حلال ہے یا حرام؟ لیکن جب ایک متقی آدمی سامنے آتا ہے تو لوگ طرح طرح کے شبے ظاہر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہو نہ ہو اسے فلاں ادارہ کچھ دیتا ہے ، فلاں حکومت کچھ دیتی ہے۔ شیطان اس طرح اتقیا کی عزت پر دھبے لگایا کرتا ہے اور فساق کی عزت بڑھایا کرتا ہے۔

رسول اللہﷺکی تحدیثِ نعمت کا اس لیے حکم ہوا تھا کہ لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ ان کا ہادی کسی کا دست نگر نہیں ہے۔ جب کبھی عوام کو شبہ ہو جاتا ہے کہ ان کو اس کی تعلیم دینے والا محتاج اور کسی نہ کسی کا دست نگر ہے، تو پھر اس کی باتوں میں کوئی اثر نہیں رہتا۔

٭٭٭٭٭