میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

اُستاد اپنی بات اپنے شاگردوں تک اسی زبان میں پہنچاتا ہے جس کو وہ بخوبی سمجھ سکیں۔ اگر متعلّم اپنے اُستاد کی بات ہی کونہ سمجھ سکے تو تعلیمی عمل زوال کا شکار ہوکر رہ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کو جب کسی قوم کی طرف مبعوث کیا تو وہ ان سے ان کی زبان میں ہی گفتگو کرتا تھا۔ قرآنِ پاک میں ارشاد ہے:

﴿وَما أَر‌سَلنا مِن رَ‌سولٍ إِلّا بِلِسانِ قَومِهِ لِيُبَيِّنَ لَهُم...٤﴾... سورة ابراهيم

''ہم نے اپنا پیغام دینے کے لیے جب کوئی بھی رسول بھیجا تو اس نے اپنی قوم کی زبان میں ہی پیغام دیا تاکہ وہ اُنہیں اچھی طرح کھول کر بات سمجھا سکے۔''

پھر اللہ تعالیٰ نے اُمت ِمسلمہ پر ایک خاص احسان و انعام کا ذکر فرمایا:

﴿لَقَد مَنَّ اللَّهُ عَلَى المُؤمِنينَ إِذ بَعَثَ فيهِم رَ‌سولًا مِن أَنفُسِهِم يَتلوا عَلَيهِم ءايـٰتِهِ وَيُزَكّيهِم وَيُعَلِّمُهُمُ الكِتـٰبَ وَالحِكمَةَ...١٦٤﴾... سورة آل عمران

''اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان پربڑا احسان کیا ہے کہ ان کے درمیان خود انہی میں سے ایک ایسا پیغمبر اُٹھایا جو اس کی آیات اُنہیں سناتا ہے۔ ان کی زندگیوں کو سنوارتا ہے اور ان کوکتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔''

مگر ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ۶۲ سال سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود ہم ایک غیر ملکی زبان یعنی انگریزی کے جال سے باہر نہیں نکل سکے۔ نہ جانے کیا وجہ ہے کہ ہر میدان اور ہر شعبہ میں انگریزی کو ہمارے سروں پر زبردستی مسلط کیا جارہا ہے۔ ہمارے نظامِ تعلیم کا حال پہلے ہی بہت پتلا ہے اور اب حکومت کا ایک تازہ شوشہ سامنے آیا ہے کہ

''حکومت ِپنجاب نے اپریل ۲۰۱۰ء سے شروع ہونے والے تعلیمی سیشن میں پرائمری اور سیکنڈری سکولوں کے لیے انگریزی کو ذریعہ تعلیم بنانے کا نوٹیفیکیشن جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اگلے سیشن میں سرکاری سکولوں میں کوئی کلاس اُردو میں نہ ہوگی۔'' [نوائے وقت، لاہور]

آخر ایک غیر ملکی زبان کو اتنی اہمیت کیوں دی جارہی ہے اور اُردو کو اس کے جائز حق سے محروم کیوں رکھا جارہا ہے ۔ اُردو پاکستان کی قومی اور سرکاری زبان ہے۔ اُردو زبان نے نظریۂ پاکستان کے فروغ میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ علامہ اقبال اس زبان کوبہت اہم سمجھتے تھے۔ اس کو برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کی وحدت کا ذریعہ سمجھتے تھے۔ خود محمد علی جناح نے قیامِ پاکستان کے فوراً بعد ڈھاکہ میں ایک جلسہ عام میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ

''جہاں تک آپ کی بنگالی زبان کا تعلق ہے، اس افواہ میں کوئی صداقت نہیں کہ آپ کے بارے میں کوئی پریشان کن فیصلہ ہونے والا ہے۔ بالآخر اِس صوبے کے لوگوں کو ہی یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ فیصلہ کریں کہ اس صوبہ کی زبان کیا ہوگی؟ مگر میں یہ بات آپ کو واضح طور پر بتا دینا چاہتا ہوں کہ پاکستان کی سرکاری زبان اُردو اور صرف اُردو ہوگی۔ اُردو کے سوا اور کوئی زبان نہیں ہوسکتی۔ جو کوئی آپ کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے وہ پاکستان کا دشمن ہے۔ کوئی قوم واحد سرکاری زبان کے بغیر متحد نہیں ہوسکتی اور نہ ہی سرکاری فرائض بحسن و خوبی انجام دیئے جاسکتے ہیں۔'' (۲۱؍ مارچ ۱۹۴۸ئ)

اس طرح محمد علی جناح نے واضح کردیا کہ اُردو ہی پاکستانی قوم کی اساس ہے اور یہی اس کی قومی ترقی کی ضامن ہے۔ پاکستان کی نسل نو ویسے تو بڑی ذہین ہے، لیکن رہنماؤں سے یہ غلطی ہوئی کہ کبھی ڈھنگ کی قومی تعلیمی پالیسی نہ بنائی جاسکی۔ بن بھی گئی تو اس پرپوری طرح صدقِ نیت سے عمل درآمد نہ ہوا۔جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایک طرف وہ نظریۂ پاکستان کی اہمیت سے واقف نہ ہوسکے۔ قیامِ پاکستان کی ضرورت اور شہدا کی قربانیوں کاادراک نہ کرسکے۔ اپنی تہذیب و ثقافت اور اپنے ملک اور اپنی زبان کی اہمیت ان کے دلوں میں نہ پیدا ہوسکی۔ دوسری طرف ہندو اور مغرب کی جارحانہ ثقافتی یلغار نے ان کو اپنے دام میں پھانس لیا۔ ذرائع ابلاغ نے بھی ہندو اور مغربی تہوار بڑے اہتمام اورجوش و خروش سے ان کے ذہن و قلب میں راسخ کئے۔ تیسری طرف مغربی تعلیم یافتہ لوگ خصوصاً انگلش میڈیم طبقہ اپنے آپ کو کوئی بالاتر مخلوق سمجھنے لگے۔ پاکستان کے بجائے لندن، واشنگٹن اور پیرس ان کی خوابوں کا مرکز قرار پائے۔ یہاں کے وسائل استعمال کر کے مہنگی مغربی تعلیم حاصل کی اور پھر انہی کی سرزمین پر جابسے۔ وہ اپنی ذہانت، قابلیت اور صلاحیتوں سے اہل مغرب کی یونیورسٹیاں، کارخانے اور ہسپتال سنوارتے رہے اور خود اہل وطن ان کی صلاحیتوں سے محروم رہے۔ یوں ذہانت کا وطن عزیز سے فرار جاری رہا۔

ملک میں مغربی تعلیم یافتہ حکمرانوں نے سنجیدگی سے کبھی بھی پاکستانی نقطہ نظر سے اپنے مسائل کو حل کرنے کی کوشش ہی نہ کی بلکہ مغرب کی دی ہوئی پالیسیوں کے مطابق پاکستانی حکمران مغرب کے دیئے ہوئے اہداف کو پورا کرتے رہے اور پاکستان کو مغربی آقاؤں کے لیے نرم چراگاہ بنانے میں لگے رہے۔ وطن عزیز میں انہی کی روایات، تہذیب اور ثقافت بے حیائی کی صورت فروغ دینے میں مصروف رہے۔ صرف وہ لوگ اس مغربی ثقافت سے بچ سکے جن کو گھروں میں دینی ماحول ملا اور ان کے اپنے بزرگ ان کو ملک و ملت کی اہمیت سے آگاہ کرتے رہے۔

ہمارے تعلیمی نظام پر مسلسل اہل مغرب کی یلغار کا تازہ شاخسانہ یہ ہے کہ ہمارے بچوں کو ابتدا سے ہی انگلش میڈیم میں پڑھایا جائے۔ اس غرض کے لیے گزشتہ تین چاہ ماہ سے سرکاری سکولوں کے اساتذہ خصوصاً پرائمری ٹیچرز کو ٹریننگ دینے کے لیے ریفریشر کورسز کروائے گئے۔ ان ریفریشر کورسز میں ان کو یہ سکھایا گیا کہ ابتدا سے بچوں کو کس طرح انگریزی میں پڑھانا ہے۔اُنہوں نے دورانِ ٹریننگ اس اقدام کی وجہ یہ بیان کی کہ لوگ عموماً اپنے بچوں کو انگلش میڈیم سکولوں میں پڑھانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ سرکاری سکولوں کی طرف عوام کا رجحان کم ہورہا ہے ۔لہٰذا سرکاری سکولوں کو اپنی ساکھ برقرار رکھنے کے لیے مجبوراً یہ قدم اٹھانا پڑا ہے تاکہ یہ سکول برقرار رہ سکیں۔اس پر یہی تبصرہ کیا جاسکتا ہے کہ: ''خوئے بد را بہانہ بسیار''

سوال یہ پیداہوتا ہے کہ ہمارے اربابِ اختیار کو ایسی کون سی مجبوری ہے جس کے باعث وہ اب تک اُردو زبان کو وطن عزیز میںاس کا جائز مقام نہیں دے سکے، سرکاری زبان نہ بناسکے، ذریعہ تعلیم قرار نہ دے سکے اور اب اس حد تک مجبور ہوگئے کہ ننھے منے پھول سے بچوں کواُردو میں سانس لینے کی بھی اجازت دینے کو تیار نہیں۔ تین سالہ بچہ سکول میں جاتے ہی انگریزی کی نذر کردیا جائے اور سکول میں اُردو بولنا، پڑھنا اور سیکھنا اس کے لیے شجر ممنوعہ قرارپائے۔

محسوس یوں ہوتا ہے کہ ہمارے پڑھے لکھے حکمران طبقے کو انگریزی فوبیا ہوگیا ہے۔ وہ اس حقیقت سے کیوں بے خبر ہیں کہ جب سے قوم کو انگریزی کا بخار چڑھا دیا گیاہے ، اس وقت سے پاکستان میں کوئی دانشور اور اعلیٰ پایہ کا مخلص رہنما قوم کو دستیاب نہیں ہوسکا۔ پوری پاکستانی قوم قیادت کے بحران کا شکار ہے۔ قومی فکر پر جمود طاری ہے۔ قوم کے قویٰ ٹھٹھر گئے ہیں۔ ہرشعبے میں ترقی معکوس کا عمل جاری و ساری ہے۔اب مزید کیوں نسل نو کی صلاحیتوں کا گلا گھونٹا جارہا ہے؟ کیا کسی قوم نے کبھی غیر ملکی زبان کو ذریعہ تدریس بنا کر ترقی کی ہے؟ کاش اربابِ حل عقد اس پر غور فرمائیں!

ہر زندہ قوم اپنے نظامِ تعلیم کو اپنے ہاتھ میں رکھتی ہے۔ وہ اپنے تدریسی عمل کو اپنے نظریے، عقیدے، وژن اور ضرورت کے مطابق ڈھالتی ہے۔ اپنی زبان پر فخر کرتی ہے اور اپنی تعلیمی روایات کواپنی زبان میں اپنی اگلی نسل تک منتقل کرتی ہے۔ غیر زبان میں نسل نو اپنے اُستاد کی بات کو کیسے سمجھے گی، غیر زبان میں اپنا سبق رٹنے سے بچوں کی تخلیقی و فکری کاوشیں بالکل کند نہ ہو جائیں۔ان کو اپنا اندوختہ کیسے سمجھ میں آئے گا اور وہ اس کے مطابق عمل کیسے کریں گے؟

یہ لمحہ فکریہ ہے، ہمیں پوری دیانتداری سے غوروفکر کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم یونہی انگریزی زبان کی اندھا دھند ترویج میںمصروف رہے تو مغربی ثقافتی اثرات بھی ساتھ آرہے ہیں اور پھر مزید یہ اثرات بڑھتے جائیں گے جو آہستہ آہستہ ہمارے نظریے،ہماری آزادی اور ہمارے دین سب کو تباہ کردیں گے جبکہ ہمارے نظریات کا تحفظ، دین کا استحکام اور وطن کی بقا تو اُردو زبان کی ترویج اور اس کی بقا ہی سے وابستہ ہے۔

اُردو زبان پورے برصغیر میں اور دنیا کے بیشتر حصوں میں سمجھی جانے والی زبان ہے۔عالمی لسانی سروے کے مطابق دنیا کی تیسری بڑی اور سب سے زیادہ بولی اور سمجھی جانے والی زبان ہے۔ حیرت ہے کہ پاکستان میں اس کے نفاذ میں کیوں رکاوٹیں ڈالی جارہی ہیں۔ حالانکہ اگر ہمارے ہاں انگریزی لازمی کی پابندی ختم کردی جائے تو ہمارے ہاں ایک دم شرح خواندگی کا تناسب بہت زیادہ بڑھ جائے اور قوم کی صلاحیتیں تیزی سے نشوونما پانے لگیں۔ اس وقت تو انگریزی زبان نے ہماری قومی صلاحیتوں کی نشوونما پر ایک بہت بڑا بند باندھ رکھا ہے۔ قوم کو انگریزی کا طوق گلے سے اُتارنا ہوگا تاکہ اس کو اپنی استعداد اور صلاحیتوں کے مطابق آگے بڑھنے کا موقع مل سکے۔ نیز اس سے صوبائی تعصب کا خاتمہ ہوگا اور چاروں صوبوں کے عوام یکجہتی کی لڑی میں پروئے جاسکیں گے۔ مسلمانوں کے اندر اتحاد پیدا کرنے کے لیے عربی زبان کو دوسرے نمبر پر لازمی قرار دینا چاہئے۔ جبکہ انگریزی زبان کامقام ہمارے نظام میں تیسرے نمبر پر ہونا چاہئے۔

ہمارے تین چوتھائی مسائل صرف انگریزی کی بالادستی کی وجہ سے پیدا ہورہے ہیں۔ مقابلے کے امتحانات، دفتری خط و کتابت، عدالتی معاملات، تجارت اور کاروباری معاملات اور دیگر روزمرہ کے امور کو اُردو کے سانچے میں ڈھال لیا جائے تو ہمارا بہت سا وقت اور پیسہ محفوط رہ سکتا ہے۔ قوم اسی وقت اپنے آپ کو آزاد محسوس کرے گی جب اپنی زبان میں اپنے روزمرہ کے تمام کام انجام دے گی۔

ہمارے تعلیم آخر اُردو میں کیوں نہیں ہوسکتی؟ یہ زبان عربی اور فارسی اور سنسکرت کے ملاپ سے وجود میں آئی ہے۔ عربی اور فارسی اپنے اپنے دامن میں بڑی علمی و ادبی ورثہ رکھتی ہیں۔ اس زبان نے ہر زبان کی خوبیاں اپنے اندر سموئی ہیں۔اس زبان میںانتہا درجہ کی بلاغت ہے۔ اس میں جو شیرینی اور مٹھاس ہے شاید کسی اور زبان میں نہ ہو۔ اس کی ضرب الامثال اور کہاوتیں دل افروز ہیں۔ اس کا زندگی بخش ادب اور اخلاقِ فاضلہ سکھانے والی حکایات بہت لذیذ ہیں۔ ہمارا سارا دینی سرمایہ اس زبان میں موجود ہے۔ اس کی پرورش میں ہمارے آباؤ اجداد کا خون شامل ہے۔ حقیقتاً اُردو زبان ہمارا قومی سرمایہ ہے جو ہمارے دینی، ملی، ثقافتی اور تہذیب اقدار کی وارث ہے۔

اُردو زبان کی انہی خوبیوں کے پیش نظر خود ہندوستان میں کئی یونیورسٹیوں میں ڈگری کی سطح پر اُردو میڈیم کی سہولت موجود ہے۔ عثمانیہ یونیورسٹی حیدر آباد نے تو ابتدا ہی سے اُردو زبان کو ذریعہ تدریس قرار دے رکھا ہے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ، مولانا آزاد نیشنل یونیورسٹی اور کئی دیگر یونیورسٹیوں میں اُردو زبان کو ذریعہ تدریس قرار دیا گیا ہے۔ وجہ یہی ہے کہ ہندوؤں کے تعصب کے باوجود وہ اُردو زبان کی ذاتی خصوصیت کے پیش نظر اس کو ذریعہ تعلیم قرار دینے پر مجبور ہیں۔ تو پھر ہمیں سوچنا پڑے گا کہ اُردو جو ہمارا قومی ورثہ ہے، جسے بانیانِ پاکستان نے پاکستان کی سرکاری زبان قرار دیا،جو زبان ہماری دینی و تہذیبی روایات کی امین ہے، جسے پاکستان کے ہر حصے میں ہر بڑا چھوٹا اور بچہ تک جانتا ہے، اس کو ہم کیوں نظر انداز کررہے ہیں؟ کیا محض انگریز آقاؤں کی چاکری کے لئے۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں جس دن پاکستانی قوم نے انگریزی زبان کا طو ق گلے سے اتار دیا، اُسی دن وہ صحیح معنوں میںہم سے آزاد ہوجائے گی اور حیرت یہ ہے کہ ہم خود بھی یہ سب کچھ جانتے ہیں۔ پھر کیوں ہمارے دانشور طبقے بھی اس غلامی کے طوق کو اپنے ہاں جاری وساری رکھنے پر مصر ہیں۔

یہ افسوس اس وقت دوچند ہو جاتا ہے جب ماہرین تعلیم جنہیں فروغِ تعلیم کے سلسلے میں اَساسی قدروں کی آبیاری کے لیے سرگرم عمل ہونا چاہیے۔اپنے تحت چلنے والے سکولوں اور اداروں میں انگریزی ہی کو ذریعہ تعلیم بناتے اورCo-educationکو ترقی کاپہلا زینہ قرار دیتے نظر آتے ہیں حالانکہ یہ انہی کی ذمہ داری تھی کہ وہ لڑکے/لڑکیوں کے لیے الگ الگ کیمپس بناتے،لیکن مرعوبیت کا شکار یہ طبقہ بھی اسی دوڑ میں شامل ہو چکا ہے اور پھر یہ افسوس مایوسی میں اس وقت بدلتا نظر آتا ہے جب ہم دینی ومذہبی جماعتوں کی سرپرستی میں چلنے والے سکولوں اور اِداروں میں انگریزی کا جنون غالب آنا دیکھتے ہیں،حالانکہ یہی لوگ اور جماعتیں ہی ہیں جو دین وملت کی اَساسات کی پاسبان سمجھی جاتی ہیں۔

بہرحال سوچنے کا مقام ہے کہ اتنے بڑے فیصلے کے لیے کیا پوری قوم کو اعتماد میںلیاگیا ہے؟ کیا عوامی نمائندوں سے صلاح مشورہ ہوا ہے؟ کیا ماہرین تعلیم کی رائے لی گئی ہے؟ ملک کی ابتر صورتِ حال سب کے سامنے ہے، ان حالات میں غیر ملکی مشیرانِ گرامی قدر کی تخریبی سرگرمیوں کو ملک میںپذیرائی حاصل ہوجانا انتہائی افسوسناک ہے۔ اُنہیں شاید یہ غلط فہمی ہے کہ قوم اور اربابِ حکومت کو اپنی اپنی پڑی ہے، ملک میںہر طرف آگ لگی ہوئی ہے۔ اس نازک موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ تعلیم کے ارباب بست و کشاد سے خاطر خواہ فیصلے نافذ کروا لیں گے۔

اس موقع پر بڑی تحریک برپا کرنے کی ضرورت ہے۔ اپنی بقا، سلامتی، ترقی، خوشحالی اور استحکام سب کا تعلق اس بات سے ہے کہ ہم اپنی نسل نو کو اُجڑنے سے بچالیں۔ ان کی صلاحیتوں کو اپنی قومی زبان کے ذریعے محفوظ کرلیں، انگریزی کی بالادستی سے ان کو بچالیں۔ تحریک نفاذِ اُردو وقت کی بہت بڑی ضرورت ہے۔

واضح رہے کہ مسلمان کسی غیر ملکی زبان کی تدریس کا مخالف نہیں ہے۔مگر انگریزی زبان جس جارحانہ انداز میں پاکستان کو غلام بنا رہی ہے، ہم یہ بات قطعاً برداشت نہیںکرسکتے۔ اپنی قومی زبان کی قیمت پر اور اپنے بچوں کی صلاحیتوں کے زیاں پر ہم راضی ہوجائیں۔ہماری گذارش یہی ہے انگریزی زبان کو ایک اختیاری مضمون کے طو رپر بیشک پڑھایا جائے، ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں۔ مگر اس کو میٹرک اور دیگر اعلیٰ تعلیم میںلازمی قرار دینا یہ ہمارے لیے بہت نقصان دہ ہے اور اب ابتدائی کلاسوں سے تعلیم کو انگریزی میڈیم بنا دینا؟کوئی زندہ قوم بقائمی ہوش و حواس ایسا فیصلہ کبھی نہیںکرسکتی اوراپنی تعلیمی موت کے پروانے پر دستخط نہیں کرسکتی۔

ہم اربابِ بست و کشاد سے اور خصوصاً وزیراعلیٰ پنجاب سے گذارش کرتے ہیں کہ وہ ایسا نوٹیفیکیشن فی الفور واپس لے لیں اور اپنی نسل نو اورپاکستان کے مستقبل معماروں کو تباہ و برباد ہونے سے بچانے میں اپنا فرض ادا کریں۔

٭٭٭٭٭