ڈاونلوڈ

آن لائن مطالعہ

آن لائن مطالعہ
  • اپریل
2010
ثریا بتول علوی
اُستاد اپنی بات اپنے شاگردوں تک اسی زبان میں پہنچاتا ہے جس کو وہ بخوبی سمجھ سکیں۔ اگر متعلّم اپنے اُستاد کی بات ہی کونہ سمجھ سکے تو تعلیمی عمل زوال کا شکار ہوکر رہ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کو جب کسی قوم کی طرف مبعوث کیا تو وہ ان سے ان کی زبان میں ہی گفتگو کرتا تھا۔ قرآنِ پاک میں ارشاد ہے:
  • اپریل
2010
محمد عمران صدیقی
ہرتہذیب و نظریہ جہاں مختلف اَہداف ومقاصدکا حامل ہوتا ہے، وہاں ان مقاصد کے لئے اپنے نعروں اور لائحۂ عمل کو خوشنما اور دیدہ زیب نام بھی دیتا ہے۔ ان اصطلاحات اور نعروں میں ظاہری اشتراک کے باوجود دونوں کے مفہوم ومدعا اور معنویت میں وہ فرق پوری تاثیر سے موجود ہوتا ہے جو ہر دو نظریات میں درحقیقت پایا جاتا ہے۔
  • اپریل
2010
ابو الجلال ندوی
فاضل مضمون نگار نے ۱۹۱۴ء میں ندوۃ العلما، لکھنؤ سے سند ِفراغت حاصل کی، دارالمصنّفین کے جریدے 'معارف' کی مجلس ادارت کے رکن رہے اور متعدد موضوعات پر تحقیق کی۔ آپ قدیم زبانوں کے عالم تھے جن میں عبرانی، سریانی، حمیری، سبائی قابل ذکر ہیں۔ متداول علوم اسلامیہ کے علاوہ توارۃ وانجیل پر بھی عبور حاصل کیا۔۱۹۸۴ء میں کراچی میں وفات پائی۔
  • اپریل
2010
ذوالفقار علی
بعض اوقات انسان غور وفکر کے بغیر بیع کر لیتا ہے مگر اسے جلد ہی یہ احساس ہو جاتاہے کہ مجھ سے غلطی ہوگئی،یا اسے کسی ماہر سے مشورہ کرنے اور چیز کی جانچ پڑتال کے لیے وقت درکار ہوتا ہے، یا بیع کی شرائط پوری نہ ہونے،یا چیزاورقیمت کے متعلق مکمل معلومات نہ ہونے، یادھوکے اور فراڈکی وجہ سے نقصان اُٹھانا پڑتاہے،اسلامی شریعت نے اس کا حل قانونِ خیار کی شکل میں متعارف کرایا ہے ۔خیار کا معنی ہے :
  • اپریل
2010
عبدالولی حقانی
ڈاکٹر عبداللہ دامانوی کے مضمون کا ایک ناقدانہ جائزہ

ماہنامہ 'محدث' لاہور، شمارہ جنوری۲۰۱۰ء میں ڈاکٹر ابوجابر عبداللہ دامانوی کا مضمون ''کیا یزید بن معاویہ لشکر مغفور لہم کے سالار ہیں؟'' کے عنوان سے شائع ہواہے۔ اس مضمون کے حوالے سے چند گزارشات پیش خدمت ہیں:
  • اپریل
2010
مریم جمیلہ علوی
اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے انسانی طبائع کو جہاں گونا گوں صفاتِ عالیہ سے نوازا ہے وہاں اُس میں کچھ کوتاہیاں بھی رکھ دی ہیں،جو اُس کے بشر ہونے پر دلیل ہیں۔خوش قسمتی کی بات یہ ہے کہ اللہ نے انسان کو ان خامیوں کے اِدراک کی صلاحیت بھی بخشی ہے اور دور کرنے کا سلیقہ بھی عطا کیاہے۔اِنسانی شعور ان کو محسوس کرسکتا ہے اور اسباب و علل کو تلاش کرکے علاج بھی کرسکتا ہے۔
  • اپریل
2010
عبدالرشید عراقی
پروفیسر رشیداحمد صدیقی اپنی کتاب 'گنج ہائے گراں مایہ' میں لکھتے ہیں کہ ''موت سے کسی کو مفر نہیں، لیکن جو لوگ ملی مقاصد کی تائید وحصول میں تادمِ آخر کام کرتے رہتے ہیں، وہ کتنی ہی طویل عمر کیوں نہ پائیں، ان کی وفات قبل از وقت اور تکلیف دہ محسوس ہوتی ہے۔''

شیخ الحدیث مولانا محمد علی جانبازؒ پر یہ جملہ مکمل طور پر صادق آتاہے جو ۱۳؍ دسمبر۲۰۰۸ء مطابق ۱۴؍ذی الحجہ ۱۴۲۹ھ بروز ہفتہ رات آٹھ بجے سیالکوٹ میں اس دنیاے فانی سے رحلت فرماگئے۔ إنا ﷲ وإنا الیه راجعون!